Skip to main content

Full text of "توضیح المسائل آیة الله حافظ بشیر حسین نجفی"

See other formats


یه کتاب 
اپنے بچوں کے لیے 0 کی بیرون ملک مقیم ھیں 
مو منین بھی اس سے استفادہ حاصل کرسکتے ھیں۔ 








یونٹ نمبر ۸ لطیف آباد حیدرآباد پاکستان 





- 
تد انت 
7 یت . 
یر ڈیرٹ لیٹنٹنٹئیت اۓ 

ی نے ہر سیت 


٦‏ 00وا یرت رف 





١۵ط‎ ۲٥۱٥۸1٢90 0۷ 


۱.۱۰۲۴ 





26+252۰: 900 7 7 094:91 00936070۸80 


٤ 
: 
6 
3 
6 
ّ 
٦ 


7 









پمصا سرت 


زیر وم ردحوز) علی۔ بب اٹ رف رق تی رخجان اہ 


...کی الل تیآ قائی حا فظ شی ین پئی ول 


ماب 
..ت. کے 
م رکزی وضتز بآیے ادف العفحیآقائی عافظ شی رین فی م رم" 
سا شی گر رد گر تہ ےن ور 
ڈکاضہ ہہ می رٹل مان 


: گے 
ون : 6278672ء 7225309 یں : 7611727 


کرس ا مریشن کے اریصالی ٹواب کے لیے ا سکتا بکو انا جاہیں کت ١‏ 
ال رز لاہورفون :6687512 :ْ 


740.521091948 اواب یا نا ولچاچکوا و وسوت وت :ا'5ان6را: 4با ودولچوماونت ماتوجوب وا'کاووپی” وت وانٴي' 





ہت یی گے . 





7 








“""ە" یس 20 ای 


7 ا 
تچ لیخ پا راہ نات گ ر حقب راد 0 زور 


ڈاکقانہچادمیرراں پا تا 


ان : 3235309,6279072 ۳ 78411727 








کڈ 


پاسنے مدکی لے صلی نواب کے لے ض 





رات ۷ 


ارات کو لیک یں اوک مت راپ گ می 


ون :667512 








تزتر تن ا زخروایں 


حسم ران ارک ال ری 
الله تعال عای نان وا ستمزم علی نکر آ لص راہای 
ای )رھ میں عدعای آ لم الرہ انرام رالاض کی ١‏ ورام لہ مر 
ام ہن حینا 
قد اقتمیت الضروی ایر بَية و صلی المائظ 
غم اع سن رلؤنین رھساماد دنق لم ما شف 
۰ من المنَاو'ی رفالاء زرل ماع إالبھا عامذ اشن 
عمن لت مستقل بسیل تناولم دیو ارم ہش۸۸.ڈ 


پسہبرون نے زیڈ 


کن 


یع مم ری ععدات ال 
ر(متیع خالل اي سسمت ہم مایق السا 

١اخ‏ 5 یة زنیہ انعخظیٰ السید رالاس ۔ ڈھای 
اللہ محامسے حبیث جات پت تم البھ 
۱ کون من وس ٹل تبیہ سے غیت رأمَانت 
دادقعت خسہا ١فتضت‏ الظرور نأمتم الات 
ہعو نہ تخا فی موا مَقا لمُتوانا رز صفرت و گرعاء 
العررۃ الال عای طبق صذم الیالڈ الیرنے وبکرون 
د ٹانۓ, مر اید ر ری تسا سپ دانتراد 


نستاء الف تا ی وجوم سای رن ا ان 
العٹراٹ وان جطح ذأً لی نَاتمّیي در ' ا٣وت‏ 
سم 
1س ا 





رھ 





ترحیجالسان 


بسمزشرڑلمرعم و رمیم٭ 


الحمد لله تعالٰی علی نعمائہ واستعنیه علی شگر الائه واصلی علی ئیە محمد و 
سای أُله الہرۃ الگرام واللعنة علی |ملٹھم القجرة السلام وبعد :٭ 
وین ضرورت اور مصلحت عاممنہ نے اس بات کا نا ضا گیا ج بک مومستطن ٣‏ ارام 

دسا ص٥لماٹی‏ طرف سے اصرار زیادہ ہواکہ میں اس ام رکا ادا مکرو جو ان امام اور ری 

کو وا کر نی نکی رف عام مکلدین فتاع ؤں اور ہے انرا ا یقاب پ کی صورت بن 
ہو کہ جس ک عاصل کرنا( ہر حخصس کے لے ) آسان اور صل ہو اور دہ تاب ان سے .لے 
آرائفسش دیضبہ کے اوالر نے کے کے لئے اڑڈی جع ہو: یی ات شور 
کہ پٹ مر ) میں نے استار 1 تم یر ابرالقا“ فی اع الد مقامہ کی اس ”شیع 
ااسائل "کی طرف رجو کیا شے انموں نے خوو قلیف فرایا تھلہ اس لل ےکہ و تاب 'ھضجم 
الرائل* "ایت ققام سال شرعیہ پر مشقتل ہے ش نکی طرف مکلفے ین احقیاغع رکنے ہیں۔ 

بیس نے ضب ضروریت ا “وش السائل'' کے مض اکامات ہیس تید ی کی ہے اس طرح 
نا 7470 الہ تال کی بدد سے ہارے فی کے مطابق ہوگئی ق اس رسالد مل پر اٹل 
اعلام کے لے عم لکرنا جائز ہے اور اس کے مطابق گل مکل فکو ام شرع سے بری 
از گر و ے گا اود ای پر مکلیف کا عم یکرنا زی ہو گا اور اجر و نواٹ کاء غتضی ہو گا 
میں اش تدلی سے امیر رکتا ہو ںک۔ وہ اخزشات سے معالی کے ساقے اسان قریاے گا اور 
اس چچزکر + ہے لے ایاج کے دن کے لے زقیرہ قرار رے گا 











: : 
مو ارحہ ا لرحمین ٭ 





عاراتی 


تر دی نک لیت 
یر 

9۔ اجکام تیر 
10 اہام ضارت 
رر مطلق وضاف پل 
۔ 7 بقل 
در یل پل 
4 جار یپ 
5ا یارشی کاپال 
6 "نویک 
ہز پا کےاغام 


جا بت الفلاء کے انام 


0 


52 





نبرخار عران 

وز۔ امراء 

0 رفح حاجت کے مستبات اور 
مروعات 

21۔ ناج 

2۔ تاب اوراغانہ 

3 می 

4۔ ار 

25۔ خُْن 

6۔ سکااورسر 

7 کازر 

8ہ طرب 

ضا(ھگ راب) 

0۔ خحاست عابت ہولےے کے رظ 

31۔ س کیے ہوکی پچ 

2۔ اٹ, 

-:23 

04 پل 

5۔ زٹن 

"۹۔ سرع 

7۔ احالہ 

طز انقلاب 


49 


44 


ین ناس ےکاوورہوتا 
امت ,کان وانے خوان 
کا ار 

ملا نکا اپ ہو چانا 

مو کے مطابن (زجہ کے) 
ون کا یی جانا 

برتوں کے کے متحلق امام 

وضو 

وضراری 


دعائیں۔ ش نکاوضصوکرتے وتت 


پڑھنا تب ہے 

وضورے شراطا 

فص کے امام 
رتزیںن ہے وض وکرنا 
چا ہے 

مبتذالات وو 
سن :کے امام 
واج ب ئل 


جنا ت کے امام 





دہ پیزیں جھ مب پر ھام ہیں 
دہ یس تھ ھب رود 


78 


78 


00 
00 
04 
104 
106 


106 


9۔ 


67۔ 


68۔ 


80۔ 


تق جنیت 
تی نل 
ارتا ی ضل 
نیل کے امام 


اتقاضہ کے اکام 

قش 

ع ئن کے اام 

حا شک تھیں 

وقت اور عر دک عارا لت رکھے 
والی عورت 


وق تک عارت ر ت وائی تورے. 


عددکی عارت رکے والی عورت 


محتضر کے اام 

مرنے کے بعد کے اجّام 
میت کے لکش 'زازارر 
وأ کاواجپ ہونا 

یت کے تس لک کت 


07 
108 
08 


009 


4 


45 


2م 


0۔ 
101۔ 
2۔ 


3۔ 


یش تر 
مب ضل 
2 
یھی دوسری صورت 
ھی تیسری صورت 
می چ تھی صورت 
جراچ یں صورت 
نا کی چھٹی صورت 
نت کی ساقیں صورت 
و یں جن پر مکنا کے 
وضو اننس کے بے تم 
کر ےکا طریقہ 
نم کے انام 
اکام نماز 
واتپ نمازیی 
روزا نکی واجب نمازیی 


4۔ 
105۔ 
6۔ 
7۔ 
28۔ 


9]۔ 





9۔ 


مار تھی نما زکارتت 
ہی نماز 

مغرب اور عشا عءکی نما زکاوقت 
کی نما زکارقت 

ہما کے واقت کے اکام 

دہ نممازیں جو ترطیب سے پڑ مل 
اتیل 

مب نمازیں 

روزانہ نافلہ نمازو ںکاوقت 
ٹمازغفیله 

کیل کے اکا 

مازمی بد نکاڈمابنا 

مازپے ھن والے ک ےکا یکی 
را 

جن صورنوں میں نماز یڑ جن رالے 
کبرن او را پگ :نا 
فردری نی 

وہ زی جو نماز پڑ ھن رانے 
کے لاس میں تب ہیں 

دہ زی جو نماز یڑ ھن رالے 
کے لاس می ںکمدوہیں 

نمازی نے والےکی جج ران 
فماز یڑ نکی جلہ) 


0 - ووعقابات جماں نماز پک 


05 


203 


07 


207 





ا2ر۔ 








بے 


رد مقامات جیاں نما زہڑستا 


2 حٍ 


مسپر کے اعکام 

آزان اور اقامت 

ازان اور ا اص تکا رہم 
ما کے وانیات 


تر٠‎ 


کی الام 
تام نی یکھڑاہونا 


سور 

وہ یں جنپ دک رنا کچ ہے 
جردے مات او رگروعات 
72 لن کے واجب چرے 


۴- 
نم زکاسلام 

و 

مو الات (اصاسل متام رکھنا) 
قوت 

ما زکارم 

سور رکاترجمہ 


سد رخ اخڑاح کا رجہ 


20 


25[ 


43 ہکوج ججوداوران کے پور کے 
تب ازکا رکا ہمد 

44۔ تقو تکاترعمم 

5۔ تسیحاتار لہ امہ 

6۔ تقداو رسلا مکائ لکا مہ 

7۔ تعقیبناڑ 

8ز راک رم سو 

9۔ مبطلات ناز 

0ا- تیم نمازماں دو ہیں 

ا5اہ ودصور یں جن گل واجدب 
نمازیںتڑی جا یں 

2ی۔ کلیت 

3 وو ئک جو ہمازکو اع ل کرت ہیں 

4۔ وو ئگ بی ہوا می ںکرا چا 

د5ا اس ٹل میس شیک ٹس کاموق 
مز رگیا 

6 سلام کے بعد شک کرنا 

57ا۔ ‏ وقت کے لود نٹ ککرنا 

58ز کٹرا تکف(جھ فص زیار اک 
گراہر) 


59ا۔ لام اورمامو مکاشنک 
0۔ مہ تحبی نمازمیں شک 
1922-07 


62 نمازاعقاطا یڑ کا طریتہ 


63۔ خی رک 

4۔ میدہ وکا طظریق 

65۔ بھوئے ہونے سیرے اور تر 
کی تنا 

6۔ نما کے اجزاء اور شر اکوکم 
یازیادہکرا 

67 مسافری نماز 

68۔ مخلفسائل 

169۔ انار 


0۔ پا پکی قضانماززیں جو بڑے بی 


171۔ نمازماعت 

2-۔ لام ما نک شرائ 

3 نماز اعت ہی ںام اورمفتری 
کے فرائش 

4 نمازقماعت کےنظروعہات 

5۔ نماز آبات 

6۔ نما زآیات پا جن کا طریتہ 

7۔ معید فمطرد قیا نک نماز 

8۔ نازایارہ 

9۔ روزڑہ 

0۔ روزے کے اکام 

[18۔ خیت 


2۔ ووپچیڑی جو روز ےکوپاطل 


206 


208 


9 


3۔ 
4۔ 
85۔ 


86۔ 


93۔ 


4۔ 


95۔ 


6۔ 


97۔ 
8۔ 


99۔ 


گر یں 

کھانااورچنا 

ماع 

ھتاہ 

خداتالی اور تفہرے بھوئی 
زضو پکرا 

با رکو علق تک پہنپاا 

کو پا یش ڈیونا 


نی صاوق تک جنابت جیٹ اور 


نفا سکی حمالت مں رہنا 

حت لین 

ت ےکا 

ان چوں کے متلق امام جر 
روز ےکو ہا لکرتی میں 

دہ پیج ردزددار کے لے 
گررریں 

ایے موائع شن می روز کی تھا 
اورکغارہ راب ہوجاتے ہیں 
روڑے ا لفارہ 

وو صوز فیس شن می فظ روڑے 
گی تقاواحبۓ 

ناروزے کے اکام 


ماف رکے روزوں کے اعکام 
وہ اشخاس تن پر روزہ رگنا 


5338 


36 


33 


36 





0۔ 


201۔ 
2۔ 


73۔ 


واجپ ثیں 


می ےکی بی نار عایت ہونے 
کاطریق 

تام او روہ روڑے 

یت وو و 

وو صو رقیں جن مل مبطلات 
ردزہ سے پرہی زجب سے 
ائا 

یت 

روڑہ 

مردت 

مان 

اہازت 

یت 


شاف کے چتد او اظام 
ون 

خی کے انام 
مخفععتکسپ(کارد: رکال ع) 


معدین(ننش) 


یی وید 


: دو علال جو ترام مال زین لوط 


:٭ جاۓ 


. خحواصی سے عاصل ریے ہوۓے 


تواجرات 


38 


370 


371 


30 


381 


33 


9۔ 
0۔ 


221۔ 
چرو۔ 
3۔ 


4۔ 


ا یمت 

وو بل جو زی کاف کی ملمان 
سے تھریرے 

فف سکامرفن 

ات 

زا کے اح ام 

زکزۃ اجب ہو کی شرائز 


25۔ گند م چو چو راو ریششل 


6۔ 
7۔ 
8۔ 
9۔ 
0۔ 
231۔ 

2۔ 
3۔ 
54۔ 
5-۔ 
6-۔ 
7۔ 
8۔ 
09۔ 
0۔ 


کی زکوۃ 

سو ےکانصاب 

چاندک یکانصاب 

اوٹ گا او رکوسفن ہکی ک7 
اوٹ کے لصا 

گا کے نصاب 
انیپ 

زکو کا مرف 

تین زک وی شراز 

کا کی نیت 

زکو کے تق مسائل 
زط 

زکوۃ خر کے مصرف 
زکوۃفطر کے متفرق مسائل 
3 

کے اظام 


0وہ ابراا روف دض الگ 
2وت امہاررف دتی ار 

ہ ک ےررجلت 

203 محریف امورمشی(اٹھی چیں) 
14د مگرامورجمی(ری چڑیں) 
وہو۔ ظ 

6 شراگیزی 

7 ۔ خریروقروشت کے اعام 
8۔ شرووذروضشت کے “تاب 
249۔ گر معالات 

0۔ تام معللات 

251 یی وانےاور خیدار یی 
تر 

32و جن اوراسں کے عو کی شرانا 
53۔ ریروڈروخ تکامظہ 
. 4۔ میوو ںکی تیرووشت 
5۔ نئزراورارھار 

6۔ معالمہ مس کی شراا 

57و موالہ علف کے اکام 

8۔ سونے چاند یکوسونے چانری 

کے عوض جیا 

9 معاللہ ٹج یے جا کی صورتیں 
60۔ توق مسائل 

261 شرک تک احام 


426 


428 
430 
3 


1 


4 
434 
44 
435 
45 
435 


46 


441 


3 


اھ 


4 
445 
446 
446 
448 


49 


40 
451 
455 
456 


62۔ 
63۔ 


64۔ 


کے امام 

اجار (کرای) کے اظام 
کرائے پیر رے جان× .یہ ما لکی 
را 


اروپ رے جاندالے ال ے 


اتفار ہی شرائا 


: اجار:زکراے) کے مخ مسائل 
۲ جعالہ کے اعّام 

مزارحہ ھی کی بائی کے اظام 
۔ سافات اور مفارس کے امام 


دداشخائص تن کے لئے اپنے مال 


ین اھر کرکا رت 
وکالت کے احکام 
رس کے اکام 

حوالہ رین کے انام 


رین کے اظام 
2 ضاعن ہورنے کے اظکام 
2۔ کفاات کے انام 
2۔ ورتو اانت کے اعّام 


مار کے احکام 

عمق ناش (ازدداخ) 
عق کے احکام 

عق ہا جن کے امام 
عق دکی ش رانا 


49 


462 


464 


4670 


2 


لف 
یہ 


وجھ”ٴ 


3۔ 


4۔ 


دہ یوب ج نکی دجہ سے عقد 
کیا جاسکماے 

دہ حور قیں جن ے ازرواح 
عراے ' 

دای عقر کے احکام 

(ازرراح موشت) 

ناو ڈا لے کے امام 

ازدواج کے محخلف مال 
دددھ پلائے کے اکم 

دددھ پلان کی دہ شرائاجھ تحرم 
ین ےکاسبب ڈقی ہیں 


روڑھ پلائے کے آراپ 


2 رودھ پلانے کے ملف مال 


طلاقی کے امام 

لا کاعرہ 

وہ عورت جم یکاشو پہرمرجاۓے 
طلاق پائ ار طلاق ری 
رتو خکرے کے امام 
لاق خغ 

لاق مبارات 

طلاقی کے ناف انام 
غمصب کے انام 

اس مل کے سام ہکس پڑا 
ووال جا-؛ 


504 


540 


ج٦‎ 


-303 


304 


305۔ 
6۔ 


17۔ 


28۔ 


9۔ 


30۔ 
311- 
32۔ 
313- 
4۔ 
35۔ 
36۔ 
7۔ 
8۔ 


9۔ 


30۔ 
21۔ 


حیواعات کے کا رکرے اور 
ز خر نے کے اح ام 
صیوانا تتکوز کرت ےکا طریڑ 
جیوان ز خکرن ےک شرگا 
اون ٹکو خ کر ےکا طریقہ 
جیوانا تکوز کر نے کے 

جات 

تیواجا تکوز کرنے یا خر 
کرمے کےکردہات 
ہتھیااروں سے کا رکرنے کے 
اظم 

شمکاری کتے سے شک رکرنا 
بی اور نڑ یکاشکار 
ککھانے پٹ کی یں کے احکام 
کھا اکھانے کے آراب 
پاپ کے آراب 
نذراورعیدر کے احّام 
مکھانے کےاقام 

ولف کے اکام 

ومیت کے اام 

ارٹ نی تک کی تیم کے 
ا06 

گر دوک مراٹ 
دوس ےگردوکی خراٹ 


54 
545 
6 
7 


58 


2۔ 


3.۔ 


34۔ 


5۔ 


6۔ 


7۔ 


8 


9۔ 
0۔ 
331۔ 
2۔ 
3۔ 
4۔ 
5۔ 
6۔ 
7۔ 
8۔ 
9۔ 
0۔ 
341۔ 
42۔ 
3۔ 
4۔ 


تس گر ددکی مراٹ 

بیوبی اور شوہ ری میراٹ 

میراٹ کے ملف ماتل 
ضکناہو ںکیلے مت نک کی 
عد رگ مزا 

ریت کے امام 

لف سائل 

مہ پروقوٹ کے اکام 

دکان وغیر وک یکچلڑی کے اسکام 
یہ کے اظام 

صراذہ اور یک 

ال ی۔لی رآ فکرژمد 
بی کک یکذات 

سی رت 

رای اور نغارگی ڈراْٹ 
بنڈی کے اظام 

خارئیکرن کی خیدوفروخت 
کرٹ اکاونٹ 

بنڈری کون 

بین ککاکارہار 

لی آف ایج یادالہ 
امٹورشسں پاب 

گی 

قعدو اترام کے لچض فروعات 


585 
587 
90 


59 
593 
9 
602 


لت 


60 
609 
609" 
61 
602 
63 
63 
5ا6 
606 
606 
67 
609 
69 
600 
62 
603 


کٛ 


1 سث ارم کے امام 
ابرنش ن کے اظام 


3ہ مسنوگی زرلی اوٗلپر 


علومیں کی عام رکوں کے اکم 
نمازاورروڑد کے چا یڑ انل 
اٹڑی(قمت آزائی) کے کر 


نذوارت 


ہ اور اور اسٹا ا خل 
: و رآ دگردچھڑااور:و] 
ال یااپرٹ 


اتا 


سوئے کے رات 


واڑھیکامنڑرانا 
دو شو ہجو اپنی زوجہ قامان و 


تہ رے 


64 


توضیع المسائل 


اام زما:۔ ہیل الد فرجہ الٹریف گی ولاوت پاصعاارت کے مو تح 7 
آبیت اللہ ام_عفنی عافظ انی رین برع لہ العال 
ک علامکرام : ذاکرری عظام کے ام پغام 


ہنم الله الرحمٰن الرحیم ہ الحمد للّه رب العالمین ہ وصلی الله علی محمد وآله 
الطاھرین وئعہة الله الد ائمة علی شانھم من الاولین والآخرین ٭ 

عیرے خطیب اور معزز و محتزم بھاتیھ ! می وٹ ار الائعشم جحضرت امام زانہ علیہ 
۱ الو والسلا مکی ولارت پاسنغارت کے تیم مرقعہ بر سب سے پل سید الانمیاء رسول خر 
ْ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم اور آ2 اطماد ےلم السلا مکی خدمت میں مبارک بد می یکر ہول 
اور اس کے بعد آپ حفرا کو مبارک و ٹپ یکرت ہوں اور ابد بل سجعانہ سے امیدکرنا 
ہو ںکہ وہ خمیں بیشہ انی فزفق خر سے نوازے اور تماری پشت پنای فراے۔ صعزز علاء 
کرام آ پکو بہ معلوم ہوا چا ےکہ ایک مکی زمہ داری ایک فقیہ سے ابھیت کے اتقبار 
س ےکم میں بب بلہ اکر ى کھا جا ۓےکہ خطباء رین کے شی مکی کی ریڑ ھک بڈڑی اور زی 
سترن یں و اس جج ج سکوئی مبلفہ میں ہو ماک کہ خطباء بی فتماء اور جمتدی نکیا ذبن ہیں 
مہ شرییت اساامم کی زبان ہی ںکیوکلہ خغ اعلا مکی سب سے لی ذصہ داری کا بوچھ بٹس 
نے ایا تھا وہ رسول اعلم صلی الل علیہ وآلہ وسلم تھے۔ ان کے کے بعد و تمہ میم 
السلام نے اس ذمہ وار یکو چھایا اور آرج تم لیک ہو جو ولی ایش ائش مکی ڈاوں کا حور و 
عرکز ہ و کر لہ نمارا فربیضہ تلئغ کو اواکرنا ور عقیقت امام زانہ علیہ السلا مکی بت بڑی بدد 
سے تم بی اسم کے مغ ہو کیوکمہ تعلیمات کے تشرکی وجہ سے بی لوکوں کے ولوں مس 

اعلا مکی گبت ہر ہوٹی ے اور ان ور راوں میں عقاتد اسلام رارق ہوتے ہیں۔ 
میرے محزم فیا ہکرام ! آ بکو عم ہونا چا کہ قو مکی دین و دنک بھلائ یآ 


ك۷ 


ا 
7ج ح۰ -سھْ 2 22ل کت تہ ھت تس ستدتسست تد مینست 





توضی‌المسائل 


تممارے پتوں یس ہے۔ آ کی معمول ى یکو نی او اس ویفہکی ادائگی میں صستی ایک 
ای خیات ہے جس سے بڑ ھک رکوی دو ری خیات نہیں ہو علق رای کن افرفز 
یش تممادری زمتوں“ کاوشوں اور خظیم ات سے پا ہوں اور الل تا آ پک یکویششو کو 
قول فرائۓ اور رین الام اور شریعت سیرال ملین سے کے دفاع کا فرییضہ اداھرننے پر تکہیں اچر 
جزیل عطا فیا اور اللہ تال تمس مزید قوف عطا فیا ےکم تم دع و تحت اور محبت 
ایل یت کی نرد اشاعت کے لے انی طانت او رکو شش کو برویۓ کار لاس کی کیہ لوگوں 
کے دل جھ ہیں دہ ای چ کے پیاسے ہیں۔ یش الل تال سے امی کر ہو ں کہ ول اللر لعشم 
گی ولاوت کے موتع پھ ہیں انی رعت سے نوازے اور ہہیں ای نفسوں کا خوو مل ہکرنا 
چا جے اور اپے ارارو کو مزید شک مکرن چاہنے۔ میرؤ رما ہ ےک اش تایآ پکو تیام امور 
می موق عطا فیا ۓےکیو کل دی فق کا مالک ے۔ 


مرع تید آیت اللہ می 
آقای حافط ٗی رین تی لہ الال یکا قوم کے نام پیم 


بسم الله الرحمٰن الرحیم ٭ الحمد للَه رب العلمین ہ وصلی الله علں سیذالرس 
محمد و علی آله البررة الگرام و لعنة الله علی اعدائھم اجمعین ٭ 
: اللہ قعا کی عطاکردہ فزٹق کے ساتقہ علاء اعلام و با عظلام و جملہ موسنین 
پلاٹس اور قرام سلبین پالموم ج کہ میرے وشن عزب: پاکتان مم موجور ہیں سے الب 
یں : 
علماء کے نام : یس ارض ع زی شجف اشرف ج ھک علم رین کا عرکز ہے سے قاطب 
ہوں ناکہ اپنے ہم وطنوں کی خدمت میں چند بای پنیاسکوں ہن میں مرا شوق و محبت ۱ 
شال ہے اور ہیر ی کوشنل ہہ ہے کہ مندرجہ ذیل سطور میس چند واجیانت: بج ک۔ مرے 
ےت" 
کی 








5 7 200 





مرانض میں سے ہیں جنل یمم کر مگوں۔ 

انے علا مکرام و اسماحذہ پل امہ جنموں نے انی زندگی ططبا کی زہنی ترمیت کے 
لے رف کر رکھی ۔ بت آ پکی جدوعمد بند کی نناروں کے ساتنے موجود ہے۔ اگرچہ ش 
اظاہ آپ سے وور ہوں گر آپ کے مشاخل میم محنت اقہ اور پر رانہ عاطشت لیے طلہاء 
پر کہ امید امت ہیں نشنی جن کے پاتعوں میں تق ل کی اگ ڈور ہے۔ ہے جو آپٴ 
مس جدوص دکر رہے ہیں آپ کے اس چماد طوی لکی نشانی ہے ج کہ آپ نے ابتداء جوا 
:و کر ہےر 
ردان سے اپ وی عظیم ایام زا جل اللہ فرجہ الشریف ارواضا کے سیہ عاطقت مل 
سوا و مامون رے۔۔ 


مظلباء کے جم ٭. اے میری اولا ! میرے گر کے ککڑے لام !جن پر ہم امیر رہ 
ہرپے ہیں۔ عم و شاذ ت کی نو و نما اور اعلائ یکردا رکی اشاعت پاکستان میں آپ بر موتوف 
.- یں آپ سے اعد لگائے ہوئے ہو کہ آپ کے ازپان سے ہہ بات نہ نگل جا ۓےک۔ 
بب گا یہ و بلندل جو اللہ تھالی نے عریمت فراتی ہے وہ ىہ ہے کہ یسا معموم سے 
روایت ےک : 

ایا :نہ اب معلم کے پاوں کے بیج یئ بر جات ہیں ' 

اے میرنے مزبزد !ىر بات این طرودڑی جک بآ پکو معلوم و وکہ عم چ ر مکی 
تیالی انا ہے اک آپ اس سے اھ عاصمل یکر کھیں اور آ پکوہ بھی معلوم ہوک من 
شع. خلا فس وغیر: اس طالب معلم کے لے جائز خمیں ہے جو انی دی فوجہ عم رین کے 
ول کے .کے صرف. نکرے اور ہہ مخ ےکم مم فقط قواعد و ضوابا کے حز کرنے کا نام 





نیس سے مہ بب اللہ کا مر ہے جس کے وں مس چاہتا ہے ڈال دنا ہے۔ ہہ ایک مقدرس لہ 
خ اط ال ان فو یکر وی اکر سے جو صفی' ہداس ڈرنے وانے اور اندعیری راول 
می خوف خدا سے آفسو ہہانے وانے ہیں اور میں امی رک ربا ہو کہ انل تعاٹی مھ اس دن 


5 رو واج ر کے رر 2 رن رج ستو ںک تم علام نترام ب یکر رشمتوں سے (07 1 





٠ 








ترضیم‌المسائل 
رنا کر رے ہولں۔ ١‏ 
اے جتھملہ ائٹل اسلام ! بن کنا چاتا ہو لں لہ ہ رخوم کا :وم یں بات پر بب مہ 
ا ور وو جملہ امور کچ راستہ پ رگامزژن ہول پر علاء اور پرار“ اضتمے رون مت یں 
ا اور ہے اس وت کک من خی ںکہ جب کک مومتین عظام علاء اعدم سک ےگردو یی ای 
اد وس خی زرل لے ا ات 
اے موی ن کرام ! گآ علاء اور پرارں زیزیہ کے دفاغ جم یں ھی تفع مکی وہای ا 7 
تر واج کی لد و علمام کا ضائ ۃکرنا سے اور سے بات ولی اللہ الائشم ا امم زمانہ 
ارواتنا نقرمہ افداءکی حمایت سے تماری رو کا بب ے۔ 
ایک ضروری ببت نت سکی ناکید یس اس ملاقات م ںکرن خپاہتا ہوں وہ ہمہ کہ 
واعد کی ین ا مین حا تکریں اور ان لوگوں سے دور رہیں جو وعرت اسلا علائ یکو مر 
واریت کے ساتھ بہار رہے ہیں۔ یہ ایک داعد طریقہ ہے جس سے ون زی پاکستان کی 
وورت اور لیت کفوظا رہ گی اور پُروہ و39 جو فرتہ واںت ٢ا‏ تج إویا ےَ اور “کماتول 
یں فتنہ و فساد یلان چاہتا ہے دہ پاکتانی کے روپ مس پاکتان کی لیت کا وشن ستاص لو 
آپ بر واجب ہس ےکہ اس دش نکی عقیقت اور مقاص کو واش حکریں اور ا نکو ان کے زٹُل 
مقاصد سے ہرطور روکیئ۔ 
میں ار تعاٹی ے دعاکرتا ہو ں کہ 2 میری عنلیم قو مک مان یں حواوعات زان 


أ ۰ 


سے پناہ وے اور ا نکی وعرت کلمۃ الد وا رسے اور دہ امت قدم ہیں اور تر کی راہ 


بر امن ریں۔ 


انە ولی الصالحین 
والسلام عليکم وحمة الله و برکانہ 











توضیعالسائل_ : : ۱ ٢+)‏ ا 


١صول‏ دجن 
خقل وزبن 


اسان اشرف الفلوقات ہج ہہ فضیلت اسے عق لکی بدوات خقل کے ذریے عاصل ےد وہ 
مور وگ م۳ انا ہے اور اپے خخلف مسا ل کو خ لکرن ےک یکومش کرتے ہہوئے تت کی را ہیں ماش کرت 
ہے۔ زان کے زریے وہ اپنے متخرات' مغابرات اور قریات ضل ور ال شتقل کر رجا ے۔ 
ددسرے جاندار ان صلاتیتوں سے عحردم ہیں اور ای زندگی یں جات کے مطاب نگگزارتے ہیں جو ذطرت 
نے انی ودل ت کی ے۔ 


لا دذبانا 

اسان رو چڑوں می پان اور رورغ ے مرک ے۔ جب تک ان ووتوں کا پاتی تق رترار 
رہتا ہے انمان زندہ کھلاا ہے اور سوج بچار اور ل١ل‏ و کت کے قابل ہوا ہے لیکن اس رشتے کے 
مختقطع ہر جانے پر جمد انسانی بے حس و ہت ہو جا ا سے اور ا کی ملف توخیں تظاہری طور پر زااتل 
ہو جاتی ہیں۔ 


نوشگوار زندگی 


انما نکو دنیاش خظگوار زندگیگزارۓے اور زا کال پ سر گامزن ہوٹ کی بن اور رورخّ روا یں گی 
ترتی اور گھہراش ت کی ضرورت ہے۔ گر اس کا بن یا رر گج رلۓے ے پھلک امیس تر بای اور 
نامرادی اس کا مقدر من جائتی تے۔ چوک انان فطری طور پر اپنا فائدہ اور بای چاہتا تے لزا وہ اپ 








توضیچالمسائل ) 0ح ا 
لیے جح راسنہ ماش کرنے کا می ربتا سے اور اس مقصدد کے تو لکی خاط تل کا سمارا تا ے۔ 
لی مارسای 

اس کے پوجور چیی تک عقل انان کا تلق ہے اس کا دائر٤‏ تل مور ہے اور وہ ان تام 
جمالی اور روعالی سائ لک عل لکرنے پر تاور غنیں جو انسا نکو وق“ فو“ بپیی آتے ہیں۔ شا انال 
گزیریوں ار موریول کو برنظررکتے ہو اتا نز مجہ عتی ےککہ اس کانتات اور خود انسان کاکوئی 
خالق و مالک ہے۔ لیکن دوککون ہے اس کاچ ادرک اس کے مہ کی بات نیں۔ بے اس لیے 
بھ یکہ وہ کہ مو ںکی خوگر سے اور خالقی عخلقی دیکھی جانے والی چز مییں۔ "مہ ہے ہو.ا سے کہ وہ ۱ 
یی ے سی فا مال ضرا برا کے مریب دای نۓے وت ماش ریب رآ 
ہے۔ چنائچہ ازمنہ ریم سے کمیں سور کی برسل ہوٹی ددی ہے او رکمیں پان اور متارو کو جا جانا 
را ہے ۔کمیں خج کو مود ماناگیا ہےٴ نھکہیں مک کے آ گے سر جھک ایا ہیجہ۔ انسان نے اپنے سے 
زیادہ طاقذر اور جابر انسا نکو اپنا رب لی مکیا ہے۔ اپنے اتھوں سے پچ رکی مورتیاں تاٹی ہیں اور چھر 
ان کے آگے سرہجود ہوا ہے۔ ہے سب ا لکی محدود اور تافص عق لکی کارستانیال ہیں۔ 


بی اور سعارت انال 


تق ل کی ان قما مکونایوں کے اتور مزب انان چوکمہ فطریی طور پر سعاوت کا آرزومند سے 
اور ڈقاٌل؟ یرہ اغارتی اور عرل واآصاف کو بعا“ پندکرنا ہے لہنزا اسے ایک ایے وا اور لی 
ضرورت موس ہوتی سے جو اسے انچ اور برے“ػع اور خالط می تی رکرنا سکیا اور ا کی رہمائی 
اس خاق میق کی طر فکرے ج سک انسا نک تیشہ سے حلاش ہے۔ نہ بھی ازم ہے کہ وہ جوا اور 
ملع علم و ففل میں یا اور پر عیب سے پاک ہ وکیوگگ بصورت ور وہ مور اصلاع کا تتارخ ہو گا اور 
لوکو ںکی رجمائی کا فریضہ اداکرنے کا ایل میں رے گا۔ 


می اورم 


ىہ بھی ضروری ج ےکہ وہ مغ ایک اڑسی جتیکی جاب سے ہا ور ہو جو دانا و یتاٴ پر عاحت سے 
ہے نیاز اور قادر و تدم ہو۔ جو خود یم و خی ہو اور اپی فرستادہ سم جکو ان قمام علوم و رموز سے پاخمر 











جح سان 7 الیل 


کر ےشن سے اضالی >بوو اور اصلاح اور عدل و انصا کی راہ بھوار ہوگی ہو۔ عقل شمادت دنن پٍ 
۹3 حور جج کہ الی وا ور اب سوائے اس ذزات اک ک ہکوئی میں ہو عق جیے ہم اللہ ندال ک کر 


رق رق ئل ہے نس نے کالما تکو چیا کیا لور انی تمام عحوق میں سے انمان کو اننل 
مریا۔ اس نے انا ن کو فقوت عمل دی اور اس کے لیے گوگوں نعتیں تخلیق فرامیں لہ ان سے 
ااتفاد:کرتے ہوئ وہ ای سعادیت اور تر کی راہ جوا رککرے۔ اس نے ہہ اسان کی قرایا کہ انسالٰی 
لکو راہ رات وکھانے کے لیے خود قوائین عدل وضع فرائے اور دہ قوائین انیاء اور مین کے 
ذریے لوکوں تنک بشائے کہ وہ ان کے مطابق عم لکر کے دنا اور خر ت گی فلاح د ببوو حاض یکر 


نیں۔ اتی توائی یکو مل مور بر وی نیکسا جانا ے۔ 7 





اٹل "شور عقل کچ انا س کہ وہ ال ہزرگک و برق تی کے وترر کا صرثی رل سے اقرا رکر 
ہےہ.۔ ا ی کی فمتوں کا شر آداککرے اور اس کے اعکام ہیا لاے نی اس دینج کو انت کر جو ای 
قمائی نے اپنے رمولوں کی معرفت ریا میں یپا ہے۔ عقل سیمم اس با تکو بھی تتلیم کک تی بے کہ ایک ٴ 
ایی من تا شر لزار یہ ہون اور اس کے اعکام سے روگردا یکرنا جو ہ رکمہ و سہ کا خاق اور ار رسای 
ہے اس کے غینط و غحغس ب کو دعوت دنا ہے جس کا منعحتی تہ عزاٹب جخم ہے چوککہ عقل عذاب ست 
بنا جاہتی ہے اور ان د سکون کا نقاضاکرتی سے اس لیے اذہ تمالی کا شک رکزار ہوا انسا نکی سعاوت کے 


لازم ولاہر 7ج 


معرفت خالق : : : 
ىہ ام بھی عقل کی رو سے وائع ہے کہ فوتوں کا شر اواککرا ای صورت ٹِں ن سے جپ 
ٌ۰ نع مکی معریفت معاصل ہو۔ جیساکہ اوہ بیان ہوا انان بیشہ سے اپنے خالق و ال ککو پاٹ کا نٹی را 
بے اور انا ۓے کرام نے جس دی ن گی تیم دی ہے اس کا خیادی کک بی معرفت اڑی ہے چنانچہ جس اک 


تی ےہ ےک ےت جتورے ےٹک ےہ ۔۔ ےے ے‫ تچ 





توضیحالعسائل ) 4 اہ 


حفت ام علی علیہ الام نے فلا ہے وین کی یدلہ تا کی معرت سے اور کل مت اس کی ۱ 
عٗ تقمدیق سے اور کال تقمدبق ا ںکو وعدہ اشریک انا ے۔ آپ کے اس قول سے واٹعغ ےکہ انل 
تو کی سرت بی اسا لوحیر ے۔ ۱ 
خالقی کانمات کے وجود پر اعتقار نطرت انسالی کا اولین تقاضا سے ج س کی یا اس ناقائل رد ٰ 
یقت پر ہب ےکہ ناش کے لیر خقش اور عا کی بغی مل روما ہد ہی میں سکیا ہہ اقار او ٹج ے. 
حائصل ہو سلتا ہے۔ اللہ تعالی سور شوری آیت ۵۱۳ میں فراناے ؛ 
سنریھم ایتنا فی الافاق وفی انضھم0 ۱ 
*م ا نکو آفاق گور ان کے اپنے نفسوں میں ابی نشانیاں دکنامیں گے_" 
چنانچہ جو ہنس بھی کاننات کے نخیرات اور ا ں کی روشن نشانوں ملا آسانٴ ردشنی' نارکی' پاڑ 
ادر بارل اور ان چیوں کی بنارٹ اور صن کا مخاہرہکرے اور پھر ود اپتی ذات اور ا کی حرت اگیز 
خلقت پر غو رکرے تاس نقی نکی عاصل ہو گاکہ ہہ سب کیٹھ ایک پااختیار 7 نت وف 
اس ۱٢۴‏ لام چلاتی ے۔ چنانچہ الد تالی سورة ابرائیم آیت امیس را اے : 
افی الله ڈک فاطر السمٰوات والارض ٥‏ 
”کیا اس اد میں شک ہے جو آسانوں اور زشی نکو پر اکرے والا ے۔' 
یماں مہ بات بھی یاد ھن ی چا ےکہ اللہ تا کی نشانو ںکی جانب متوجہکرتنے کا مقعید عام لوگونی 
کی لیم اور اصلاح ہے۔ جماں کک اس کے خاس اور برگزیدہ بندوں کا تلق ہے ان کا اس ذات ان 
سے ایک مندس رابطہ قائم ہپ ہے اور وہ ا ںکی معرت کے بارے میں کی دی لکی رد باکسی ننائی 
سے استدلالی کے عتاع 8ں ہوتے۔ 


رین تق 
اب سوال بس بیدا ہوا ہی ےکہ ونا میس رای من شتلف اریان میں سے کونسا رین اما نکو انتا کر 
جاہے۔ اس لے میں عقل سی مگوای دیق ہےکہ فتطا اس دی نکی جرد یکن چاجے جر ہراندے ٠‏ 
م اور انان کی دنودی اور اقردی ببور اور جات کا موجب ہو اور اور ایا مل ئن نتا اسلام سج رر 
ال ات اور تل کی گراری خوراشد قال سے بل ے۔ یی گا دہ دن ےت ن سی 2 سی علق 


تحت چحے ٹ ‏ ہوغعڈخ ےکژے ےج ّػجے ‏ و ے۳ 





توضیع‌المسائل_ 1 ے..] 


این مضسوخ قرار ہا اور ٹس کا کہ یدوم قیامت کک باری دساری رہے گا۔ جو نس اوہ تال کی 
وورت* حضرت مر صلی اننہ علیہ وآلہ وسل مکی رسالت اور لوم قیامت کا اقرا رکر لے دہ اس تقد دی 
ٹس راشل ہو جا ے۔ 
دی نکی تم 

رین اسلام مساوات'ٗ محبت اور عدل و انصاف کا دین ہے۔ ہہ ا قوائینی 4 مل ےَ جر انال 
توق کے عحزظے کی طمانت ریت ہیں۔ انضشائی ارکان اور محاشرتی روا ا کو مضبو طکھرتے ہیں اور اس ضس 
ٹن فرد اور ضاعت کے موق کا بط رھت ہیں۔د 

اسلام ملف محللات میں مناسب عد بندیا کر ہے اور عدل و انصا فکی دعوت رتا ےے۔ ہے 
ین ہراٹھی بات کا عم دنا ہے ادد ہر بری بات سے راتا ہے۔ والدین سے سن سلوکف' قرایت 
داریں سے صلہ رم عامتہ الناں سے اینائۓ عیر اور باچھی تعلقات میں معمالی ہمد ددگی اور دم کی 
تلق نکر ہے۔ لوگ ںکو ابات دادری کا پارن کر ہے۔ ابیشے افلاق اور علم“ قشع“ عبر استقامت اور 
ارام نخس بی اسان خویو ں کو اگ کر سے اور بری خصلتوں ملا بر حر خیاعت “لم بنھور* 
شراب ٹوش سودغوری اور اقصال سے جپے کا عم دنا ہے۔ 

الام وہ کل رین سے جو قمام قافو عرحطوں میں عرالت کے تقاضو ںکو وط رکتنا ہے اور قوای 
کی پامند یکرنے وائو ں کو خوشگوار زندگی کی انت میا کر ہے۔ اس آفاتی دین کے اعم پر دور میں 
رما ہونے وا ےگوبالوں مسا لکو تی جنش طور بر ح لک رن ےکی علاحیت رھت ہیں۔ 
اسلام کی عظرت 

قدرل طور بر ہہ سوال پیا ہوا ےکلہ جب دین اسلام ہر عیب سے مبرا ادر جرخائی اور ٹس 
سے پک ہے تاس کے چو لشنی عامنہ ام سلمین خواری اور زبوٹی می ںکیوں بتلا ہیں۔ ا کی وچ صاف 
اہر اور وو کہ ملمبائیں نے اسلای قوانین اور تما کو گی طور بر ریا کیہ درکھا ے۔ دہ دن 
ارر وا ٹں بازن تم رکن ےکی جاۓ ارہ بسک مم مجنا ہو گے ہیں۔ ان کے اس روش کو اپنانے میں 
ان اعلام وشن تویں کے بروپنڑے ما بھی بدا عمل وخل ہے جو اسلام اور ا کے عاولان نظا مک دنا 








توضیح‌المسائل )(ر۔..] 


ہی نافذ وت نمیں دیکنا چائیں۔ اس اسلام دشنی میں باھوم مفلی طاقیس بیٹی یٹ ہیں جو ملرانوں 
بہ اپ تذیب اور انا اتقصای فظام مل کر چانقی ہیں۔ اہم قانون قدرت ہہ ہ کہ من بالاخھ ح نکی 
دی ہے۔ چنانچھ یہ امرا بی سے عق ی خی ںکہ ابی مغرب اپی خووساشت تنزیب کے بوجھ سے کراہ 
رہے ہیں۔ ریہ داربی* بے راپردی اور لی تصب کے بت پاش پا ہو رہے ہیں اور ماری دنا کی 
ہیں اسلا مکی جانب اھ ری ہیں۔ خود ملمان بھی رف رف خواب غفلت سے بیدار ہو رہے ہیں اور 
خی خی زبائی عو ں کو چھو ڑکر می طور یہ دین م کو انان ےک یکوششل میس مروف ہوں۔ 
اصول و فو 

دق اتا مکو اعنقار اور عمل کے اط سے رو تموں لان اصول رین اور فوع رین میں تقی کیا 
کیا ہے۔ جمار: تک اصول دین کا تعلقی ہے ہر ملمان کے لیے ان کا ایی ول سے جانا لام ہے جس 
سے علم ون حاصل ہو۔ عح گمان نا آفلی کی بنا یہ ان اصول کا انا لی نییں۔ البظہ فورح ین کی 
سعرفت اکر علم یا رٹیل سے نہ بھی ہو نز ایک زندہ مدسن عاقل با ور عاول مجنت کی تخلید کان 
ہے۔ مزید براں اگ ر کوگی شنصس ٹھل ”بھی روخ دین ک پان نہ ہو (یا دہ انام ج یکو سب ائل اسلام دین کا 
رگن ھت ہوں ان کا) مگر ہو اور ا کا انار ری اسلام کو تعللانے کے متراوف ہو ٹر وم لان 
میں راد 


اصول وین یر اعتقار واہپ سے اور دہ تنداد م پاچ ہیں۔لینی 


۱ ویر نم عرل 
2 بوت ۴ے ہت 
۵... امت ىَُ 


ان یش سے جن اصول شی توحی“ جوت اور قیامت اصول دین یا اصول اسم کھلاتے ہیں اور 
ان سی ےی ای لک اکا ر کنا کذ رکا وجب ے۔ ععل اور ایا کو اعول رہب ٦‏ اەرول اما ن گا 
جانا ہے اور اشانشری حیعہ ہونے کے لیے ان پر اعنقارلازلی ے۔ 





توضیحالمسائل 0 ا 


فوحھید 


حر سے مراد خالق کانمات کے وجود اور ال کے وعدہ لاشریک ہوتے کا اختقاو ے۔ 

جیساکہ اور بیان ہوا فطرت انسالٰی خالقی کاننات کے وجود بر اعققا کی تقاضی ہجے۔ جب انان 
کات اور اس میں موجود حخلف النوم ملوقا تکو دکتا ہے اور ا کی ہو تلمونی اور نشم و ضط کا مشاہرہ 
ربا ہے تر وہ اس جا کو ع یم کرنے پر بور ہو جانا ےک ہہ بے نظبرادر وسج و عریض کارغادہ 
قدرت اپنے آپ بی وجود میں میں آیا کہ ا کی صائع اور ختشم ایک ایی داد نا ستی ہے جو پرچز 
بے قادر ہے۔ اللہ تعالی نے خقل انسالی کے ای فطری نی کی جانب اشارہکرتے ہوئے فرایا ے۔ 

ان فی خلق السمٰوات والارض واختلاق اللیں واڈّنھار لایت لاولی الالباب ت 

نی آسان اور زین کی خلقت اور دن اور رات کے تیرو بل می مع ند دوگوں کے لیے 

کت ىی نشائیاِ ہیں۔ (سورة آل عران ۴۰) ۱ 

اب سوال پیا ہوا ہےکہ ای ام رکیکیادٹل ہ کہ خالق و مالک کانا تکی تی واجد و ملا 
ہے او رگوئی دو مرا اس کا شریک کار نیس ؟ اشات نوحید کے بارے میں بت سی ولیلیں دک یکئی ہیں ملا 


دلیل قاع اض 

ائات تحید کے سلل میں ظ مککام کے مابرین نے جن دلانُل بے جھ روس ہکمیا ہے ان میس سے آیک 
ول ہہ ہ کہ خدا اگ رکئی الیک ہوں قو ان میش سے چرایک کا کل طور پر تقادر ہونا ضروری ہے کہ 
نانان ہ ےک کوئی ةستی یک دقت پوری قوت اور طاقت بھی رکھتی ہو او کور بھی ہو نیقی کل 








توضیحالمسائل ڑل .ا 


ہوتے ہوئۓ ناقصس بھی ہو۔ لور ہونے کے معن ہی بجی ہی ںکہ دہ تق انی تدرت کے نقاضوں کے ٰ 
وجب محکنات و لوقت میں پر طرح کا تر فکرن کی ال ہو او ری دوسر ےکو ہہ اختیار نہ ہ وکہ ۱ 
ا س کی مرضی کے خاف مگ لک ے۔ دوسرے ففنطوں می وہ ذات کائل فظام کات اور ع موتووات 
کے پر مرلے میں خودعقار ہو اور دوسرے اس کے ساسنے جافھس مجبور اور بے ا بہوں۔۔ وہ بے نیاز ہو ٦‏ 
اور دوسرے اس کے متاح ہوں۔ چنانچہ اکر خیدا دو ہوں اور ان میں کی امرش اشتلاف ہو جاے اور 
دوٹویں میں سے کم ی کی خوائش بھی ری نہ ہو نو دونوں کا جھز ازم آئۓ گا جبلہ خالق اور واجب الوتور 
کے بارے میں تاد رمضلق ہونے کے ساتھ ساھ عاجز ہوتے کا تصور تاقفضش ہے۔ اس کے برککس مر ان 
بس سے ای کف کی خوائش پوری ہو جائے اور دوسر ےکی نہ ہو تو ان میں سے ایک کا عائز ہونا حابہت ہو 
جانا ہے اور یہ بھی تاقش ہ ےکیوککہ پسلہ رونو ںکو تاور مطلق صلی مکیا جاپکا ہے۔ ۱ 
تسری صورت یہ ہج ےکلہ دوفول کے ارارے کل ہہوں اور خلقت دوئوں کے ارارے کے مطالق 
وتود میں آکی ہو۔ ہہ امرجھاے خود عحال ہے کیوکمہ دو نقیضوں کا ایک ہو جانا کن ہی نہیں بھلا نے 
کیسے ہو سکم کہ ایک ہی ہے کے کی دجود ہوں؟ ایک وقت میں ایک فائل د اق کے ارارے سے 
ایک من کے وجود کا امن تر ہے لکن ىہ بت مال اور بے می ہےکمہ ایک ہی نکی غالق دو 
چدرمطلق ہیں ہولں اور روٹول اس ھی تخلیق کا ارادہ بیک وت کریں اور ان کے ارارے میں سرمو 
تتایت نہ ہو اور اگ رکسی مک نکی خیق صرف ایک ارارے سے ہو اور تخلیق کے وقیتں دوصسرے کے 
ار ےکو اس مل می سکوئی دخمل نہ ہو قز دوسرا اس کافائل و خلق کے ہوگ؟ 
حفیقت ےپ ا جب دو تاور علق اور واجب الوتور جتتیاں کار فرا ہوں و ان کے اراروں ٹن 
انل طور پر اتلاف ہو گا جس کا تہ بالارستی کے لیے تصارم اور فسارکی صورت می لے گا۔ رولول 
یس سے چرایک اپنے ارار ےکوتانزالعل کرنا اور دوسرے کے ارار ےکو بے اٹ بننا اہ گا اور جج گل 
وانب الوجود کے ارارے کے اغی رکوئی یز وحود ڑم ہو ہی نمی عق اس ۔لیے ان دوفو کی بابی مکش 
کی بنا بر موجووات کا موم ہی پل ہ کر رہ جائۓ گا۔ چتانچہ قرکن بجی کی متددد آتوں مس اس کت کی 
جانب اشارہ ہےکہ اکر زین اور آسمان میں کئی دا ہوتے تو دونوں چاو ہو جاتے تے لوان فیھما 
الهة الاالله لضدتا اس کے برعس ہم دی ہی ںکہ مننات میں نظم دض اور اکام بردجہ اتم 
موجود ہے اور ىہ ال ام رکی دیمل ہ ےکہ غداوند عالم دعدہ لاشریک ہے۔ 


سمسمسممسصوحٔسوبجو‌وسسعمےمجچس- 











توضیح‌المسائل رےےے ا 8 


لی ریپ 


زہنی مفایم کی وجود خاری کے انار سے جن نمیں ہیں۔ 

ا واجب الوتوو ہنی وہ زات جو خُر سے بے یاڑ او رکل مطلق ہو اور ہے زات ٹراونر عم 
عمزدئل شان کی ہے۔ ۱ 

۳ے مین الوور لی وو زات نج کا وتوو روسرے کا عرمون مخت ہو۔ 
۱ ۳... متتنع الو ود لڑنی وہ زات تح کا وتور غاررج ٹل مال ہو- 

پلنرضش اگ کی خیدا مان لین جامیں ق واجب الوجود نددد ہوں گے۔ پچ ران یں اتیاز پر ااکرنے 
ور نکی اہی حییت می نکرنے کے لی کی شردرت ہوگی ور ایک ری صخت کا لکنا بھی 
لازم آئے گاج انیس ایک دومرے سے مت کر ےک وککہ بصورت در الکئی' ہونے کا مطلب بی ہتھ 
شر رے گان ا ن گی خمداؤ ںکو اتیاز ری اور ال فککرنے والا اکر لان کے ال وجور ے باوراء اور چرا ہو 
2 ”واجب الوٹوو'“ مربپ جاۓے گا۔ مال تک مرک ب کا سوال ہے وہ ا اجزام کا اع سے اور 
تاج بویا لح نکی سفت ہے کدکہ مکن الموجود فی نضیہ مرکب ہوا ہے او رکوئی چیز خود اپے 
لیے علت بن جائے ہے محال ہے۔ مزیدبراں احتاج شس اور عیب ہے اور نشس اور عیب واب الوتور 
کی میں جگمہ مک نکی صفت ہے۔ راب الوجوو فو غمیرسے بے ناز او رکال ملق کا مالک ہو ہے۔ 
الد تھا یکی صنات 

جس طرح الہ تق نات می واعد ہے ای طرح مفات میں بھی کا ہے۔ اس کی سی سفت 
می ںکوئی اس کے برابر میں جو صفت یا صفلت وجور کے بعد ادر وجود کے نع ہوں وہ خحکن کے لیے 
نی ہیں جریں نتک واجب الوجو رکا تل ہے ا سکی صفات مین وجود ہوگی ہیں اور اس کا وجود اور الس 
کی حید ایک می خے ہے۔ امام علی علیہ الام نے اس گت کی طرف اشار ہکرت ہو فرایا ہے 
0 

کی قح ھکال ہہ کہ اس سے مف تک ل یی ہا" 

یہاں مفات کی لئی سے عراد اللہ تعال کی ذات سے زائد عفات کی نفی ہے۔ انسا نکی صفات 


توضیح‌المسائل و لات ما 


ںی ذات ے زاتر ۳ یں اور اثر قالی صفلت اور وتور نال اور گن زات ہیں" ارح و زار 
بس0 ہیںس ای مع میں وارر ہوا ےکہ مداوند عال مکی نات کل کی کل وتوب کل گی کل ثدرت “گل 
عم ود یک کی خرف 


الہ تل کی عفا تکی دو اتسام ہیں نشی صفات شبوکے اور فات لے 


٦‏ فات زاتے : تع 5“ قررت اور علم اور عم کے مقلقات ت کے تع بر 
[7- ۱ 

۲- صفات غلہ : یہ ھت سی صمفقں ہیں جیہ ارارو“ تکم' صدرق' رہمت اور نمفان۔ اشمیں 
عفات فعلہ کے کا مطلب ہہ ہےکہ ہے مفات ین فنل ہیں جھ غارع از ذات ہیں۔ اس بنا یر راو 
عا مکی زات اس سے کفوظ اور باند ہے 


یہ صفات آٹھ ہیں۔ 
غداونہ عاللم کاکوئی شریک نمییں۔ 
ای رہ مرک می 
٣ا‏ وو سم میں 
و رہ گین میں ۰ 
..- دہ مکی نییں۔ شی دنیا اور آخرت میں آگھموں سے دکعائی نہیں رے سا) 
٦ہ‏ ک دعحاع ئیں۔ 
ےب و ئل حوارث میں بھی اس پر تیر فوب ند مفات اور جسمالی عوارض جیے لت“ ال 
یا روز مدڈ پر! ہونے والے عوارش) طاری میں ہوتے۔ 
۸ غواوند عالم میں مفات زاحد نمیں بڑنی ال و عالات د عفات اس می جائم نہیں۔ لا 





توضیحالسائلںےے ہے ج1ا 


دہ تار عالم اور تی سے لین اس کاىہ مطلب نمی ںکہ قدرتٴ علم اور حیات اس مم تام 
یں۔ وہ زائد مفات سے بے نیاز ہے کبولمہ واجتب الوجودگی غّان ہے کہ وہ پالذات پر 
ے سے بے ماز ہو۔ عوارض و حوارث کا تاج واجب الوجور خی پللہ گن الوجور ہو 
ا 

دراصسل صفات لب دو مفات ہیں جو نقائس ہیں اور ال ات 7 
قا مکمالات کا ماک ے۔ 





توضیح‌المسائل _ 22 5 


مداونر عالم عادل ہے۔ ران مجر میں ارشار ڈرایا ے کہ ؛ 
ومارہک بظلام للعبید ٥‏ 
تسار بکی پر ظلم خی ں کر“ (مور٤‏ وش ) 
یریدالله بکمالیسرو لا پریبکمالسر () 
”اللہ ت کو اسالی دنا چاہتا ہے تی میں بتلا خمی ںکرا چاہتا۔'' (سورہ البقرہ آیت - ۸۵) 
جب ہم ککتے ہی ںکہ زات بای تال عاول ہے تر اس کا مطلب ہے ہ ےکہ ود ہ رطرع کے نخس ر 
سے اک ہے۔ علم دجور اس کے لیے ناردا ے۔ جو اس کے لائن نہ ہو اس کا عم شی دنا اور 
جس کاکرنا ضردری ہو اسے ترک نی کر ا ںکی دلمل ىہ کہ دہ ہر نز کے ھن دش لور بھلائی و 
برائی کا عالم ہے۔ دہ غفنی بالزات ہے لزا جیساکہ صفات صلی یں بیان ہو کا ہے ا کا عاہدمت منر ہونا 
ال ہے اور چکمہ دہ داب الوتود اور عیم ہے اس لیے اشیا کی عقیقت جانا ہے اور ملوقا کو کال 
تین نقامت اور اجمکام سے پید اکر ہے۔ جو زات کو جا بگنہ اسے مصمی نکرنے والی ہو اس سے 
نل تع کا صدور معال ہے۔ جو ذات کی برائی سے باخم ہو دہ اس کا ارطیاب ىا تہ ابی عاعت اور 
ددرت کی باب کی ہے اور با فشفی خاطرکے می ےکی ۔چہ اور نیہ دوفیں بای خداے بارگ و پرنر 
کی زات کے لیے مال ہیں۔ 
ایس لیے میں ہے سوال پیا ہو تا ہ ےک کیا صن وب اشیاو بت ی یز ہے لی نکیا عقل انسا ی کسی 
کی اچھائی با برائی کا فیصل ہکرنے بے قادر ہے؟ اس کاجواب بدبی طور یر انت مر ہ ےکیوککہ ہم اکٹرد : 
بپیشھر ہریت کے صن و کو درف تکرتے اور کھت ہیں اور اس ٹیہ پر کن کے لیج شرع اور نون 





توصیحالمسائل ) جد) 


کی ضوبرت ہسوس نی ںکرتے۔ اس بنا بر وہ لوگ بھی جو شرب تکو میں جافے پا اس بر اختقاد شمیں 
ریل اشیام کے سن دج کے انل ہیں اور فطری طور بر ظ مکو نابند اور عدل و اسا نکو پن دگرتے 
ہیں تک ہکن ےی اس کا شور رھت ہیں۔ 
بفروں کے افعال 

بندوں کے افعال .بھی انیاری ہوتے ہیں او رکبھی خیراتقیاری ۔ لا رعشہ کے مرش کے پد ن کا 
تح رقرلا ایک غیراختیاری ٹل ہے۔ مض افل بلا ارارہ سرزد ہوتے ہیں جیے ای شف س کی حرکات جو 

۱ خائل ہو پا سور ہو الہ مض افعال ایے بح ہیں جو انسان کے ارادہ اور اخقیار سے انجام پاتے میں جے 

ام عالات میں عام آ دی کے افدل لا کھاا نا سونا* نماز ہنا وخیرو- 

انان کے قمام اننیاری افعال خواہ وہ شاک ہوں با خیرات“ نیقی طور بر اس یکی طرف موب 
ہدتے ہیں۔ القہ تعالی کا ان سے براہ راس تکوئی تلق خیس ہوا اور شہ ہی وہ انان کو ان افعال کے 
انام ریے پر جو رکر] ہے عالائمہ دہکوگی وکاوٹ پیداکر کے بند ےکو روک تا ے۔ البتد تمام انال 
اور ا مال کے اسباب الہ تی ہی کہ قضہ ذدردت مس ہیں۔ دی بنربے مس قدرت چد اکر ہے اور 
اسے افقیار رینا ہے۔ پھر اس برایت کا رام ناک ال پر لن کا عم دا ہے او رای کے راسنے کی 
ند یکر کے اس تہ نین کا طریقہ جا ے.. قرآن مجید میں ارشار ہوا ہ ےکہ : 

انا هد یناہ النجد ین نّّ) 7 

اور م نے اسے دونوں راستوں سے پاش کر وا ہے۔'' (سورۃ بلد اعت )٣‏ 

انا هد یناہ السبیں اما شاکرا واما گنوران 

اور م نے راع وکھا پاڑے“ اب چاے انان (یّگ ھن کس کے) شکگزار بے یا گناہ کا 
مہرب ہوکر) ماش رگزار۔" (سورہ دھ رآیت ۳) 

اپ نے بنرے کے لیے ہ ےکلہ دہ اچ کا مکرے پا برائی کا راست ابنائے۔ اگمر وو اجشہ کا مکرے 

۰ گ۴ ىہ اس کا سن انخاب ہو گا اور اللہ تال کی برلیت اور قوط اس کا ساتھ دے گی اور اکر وہ برائی 

می بل ہو گان ہے اس کا خلط اتقاب ہو گا اس کے مقابے می داوندعالم نے اس پر جت قائ مکر دی 


ہے نشی اسے مقوبت اور عزاب سے پا کر دی ہے۔ 


او کے 





توضیجحالعسائل .. 48 _ا 


و انان 71 ریف اور زمت 


قاب اور عزاب کا تلق نظ اس کے ان افعال سے ہے جو دہ اپنے ارارے اور انار ےکر 
بب ش اکھنا پا چنا چر'نماز ھن وفیہ ابیے اقدال ہیں جنمیں عقل بلاضرورت رٰیل اسائی ف لکھتی 
ہے اور ال طرح کے کا مکرنے والو ںکی تحریف پا غذمص تک رکی ہے ۔ کسی عمل سس جلاازیار صادر ہونے 
بر متعلقہ شخ س کی تتریف یا بزمت کا حتار نیس تھب نذا اکر بنروں کے ققام انال بلاافضیار ہوتے تر 
مع د قح کاکوئی جراز بالی شہ رجتا حالاکہ عفن لوکوں کا نحریف با مم تکرنا داتجع ہیں 

اللہ تعلی کا بنروں سے جزا و مزا کا وعدہ بھی اس ام رکی مم ریل ہے ک. وہ اپ اش اقبال 
می خودعتار ہیں اور یبور میں ہیں۔ اشی اسان افعال کے پش نظکر دا ہرگ و برتر نے رعول 
تیج کنائیں جازل کیس اور بنرو پکو اجیجھہ کاموں کا عم وی اور برے کاموں سے مین ےکی ہرایت فرائی۔ 
اب اگکر انما کو قطی طور بر مجبور ارر ہے انقیار قسو رکر ایا جائے تق انبیاء کا جنبنا او رکتابوں کا ناز لکرنا 
مبث قرار پائے گا اور بندوں پر غداوندعالم کا اب جع ہو گا۔ خقل کا فیعد ہے الہ ج بات صسی نے 
افقیار سے باہر ہو اس پر اسے مزا رینا تچ ہے۔ اڑیی مزا لم کی بدقرین حم ۔ب اور ظلم رج سے 
قداونھ عا مکی زات بست بلندر ہے۔ 


این 2-2 اوصاف اور ا نکی ضرورت 

جیساکہ اوپر ذکر آکا ہے اللہ تعاٹی نے اپنے بندو ںکی برای تکی خاطررسل تیئے ۔ کباہیں نازل 
فراتمیں اور انی ان کے اتال کی جزا و مزا سے بدا رکیا ہے۔ بلفاظ در ان کے امکان اور طاتت کے 
مطابق انی ای امور کا پین کیا ہے جن میں ا نکی بمتری ہو اور امیے کاموں سے روکا ہے جن میں شود 
ان کا متصان ہو۔ ان پاہنریو ںکو شرتی اسطاع میں ”ملیف “کھ جانا جج اور نس شنفس پر ان پابندیوں 
کا اطلاق ہو وو مکلف اتا ہے ” لیف وجب ہے اور ایی ذیاد لاح“ فلح اور مامت پ 
ہے کی دجہ ےکم ال کے بفیردٹی اور دنیادی فوائد کا تسول من نھیں_ 

خدائے عزوئل نے انسا ن کو اشرف افلوقات کا رعہ بنا ے۔ ا کی تخلیق کا یہ مقصد ہرگز 
یی کہ دہ فسالٰی خواہشمات اور لفف اندوز کی خاطرقمام اخلاتی پابندیوں سے آزاد مشاء قزرت سے ہے 
یاز ہو جائے اور خورد و نوش اور اہو و لخب میں ند لگزار رے۔ دراصل خدراوند عالم نے اسے کمالات 





توضیچالمسائل__ [1موئھ,)( 


پی جو اور زنگی کی انائی باندیوں کک پرواز کے لیے پ ایا ہے۔ اس مقص کی یل اسی وقت کن 
سے جب وہ جات لور اک بجتی سے ابھ رکرعل مکی بی سأ آجاے۔ بھلئی اود بہئی یں تی کر 
سکاب اور کیک افال ے زر ہے ود اپنے اور مواشرے کے لیے بوشگوار مادول پداکھر کے سعاوت وا ری 
کا و رک ۱ 

بھلائی اور برائی میں قی کر نے کے لیے اھ تعائی نے انسان کو عقل عطا فراتی ہے۔ نام مل 
ای کا وا مل مرود سے اور وہ صلاح' لاج اور سعاوت کے مضموم کاحماحقہ“ اورک می کر ححق۔ 
انا خداونرعالم نے قود ای شرکی قوائین واشع فراۓ ہیں ج نکی ایند یکرنے اور جن کے مطابق عمل 
کرنے سے انان معیاری زندگ یگزار سنا ہے۔ اضی قوائیں کی پابندی تصول ثاب کا موب سے اور 
آفخرت میں کرات کی ضزلی کک کے کا اق قاقی چداکرتی سے گور بی وہ ضزلی سے جس کک رسای 
تخلیق انان کا اصل متصر ے۔ 

یف "( شری ببندیاں ) خدائۓ بزرگ و بر کی طرف سے اس کاللف ہے۔ اصل مت 
ای کا تقاضا می ہے ےک ملیف واجب ہو۔ فعوزباہ اس کا مطلب پرکز نمی ںکہ غیرغدانے سے بات 
"( سے لہ اس کا مقصید یہ سےکہ انسان جوگمہ مھا“ افسالی خواہشات ت' سرکٹی غلم 
زمادتی' بدبی اور گناۃدوں کی جاب میلان رکتا سے اور اطاعت پپند نیں اس لیے اس کے براگی سے 
اناب برتے کے ۔لیئ وچ ھیو ہوک تل مدع سے اور تع مل 
قال قدح ہے مہ اسے افعال بد سے باز رکھےہ کے لیے خوف اور مزا کا عنص ربھی ازی ہے۔ 

عاراہ روزم: کا مخاہرہ ہس ےک گر انسان اتی پک ڈور ڑم یکر دوے اور خواہشات فسالی اور لەو 
داب میں جنلا ہو جاۓ نے بچھردہ انی کسی عاد ت کو حض ای برای کی دجہ سے تر ککرنے پر تمادہ میں 
ہو نا نین اکر اس بر کوئی ایا منص مل کر وا جاے جو اکے ائال ب رکڑی نظ ررکتا ہو اور ضی انب 
سے اسے مزا کا خوف بھی ہو فو پچھروہ برے کاموں سے ہاز رہ ےک یکوشت شکرا ہے۔ جزا و مزا کا اصاں 
اما نکو اتھائو ںکی رف ما لکرا ہے اور برائیوں سے رما ہبے۔ یی وجہ ےکہ انا نک دورد 
فوانین بانا ضردری ہے اور زات میم کے للف و مت کے تقاضہ کے مین مطابق سے چنانچہ فداولد 
: 5570ھ ٭؛و نس و امام وش عکمرے اور بی اکا رستور ہے۔ 








توضیح‌المسائل ۱ ل[_ ٤3_ا۔‏ 


فیوت 


یا رعل وہ انان ہے شے خداوندعالم اں متمر سے شب کا ےکم وو ای کے بثروں لہ 
ان امو کی خھردرے جن کا اسے عم دیاگیا ہو۔ ان امور کا عم ب یک کی بشرکے واسطہ سے نہیں بگمہ 
ج انیل کے واسلہ سے مایا ہنا ہے۔ 

جیساکہ ہم پل ذک رک گے ہیں بندو ںکو مکلف ترار دیتا ادر ان کے لیے سی شرع تکی یاد 
قام کرنا ردری سے جس پر گل کرنے سے دہ سعادت عاصل کریں اور جس کے ذرہیجے ان کے 
معاشرے کی اصلاع ہو۔ اس متصد کے حول کے لی کسی ذہ کسی رسول کا یی مازی ہے کہ دہ 
ازسانیں میں اعام شریج تکی تلپغکرے اور اٹمیں ان امو رکی بچیا نکرائے جو ان کی اصلارع و بہوو اور 
دا و آخرت گی سعارت اور ان کے لوس گی کیل کا بب ہؤں۔ دہ ان میں نول کو روا وے' 
اطاعت پر جن کی بثارت دے اور نافرائی پر عزاب جم ے ڈراۓے۔ اکر انیاء و مرسلین ذہ بیجے جاے 
دو ںکو مکلف ترار دسیے اور شیع ت کی بیاد رن کی غرض د غایت بوری نہ ہوتی۔ چوک نقل 
انساٰی ان تمام یو ںکو درک نمی ںکر عتی جن می اچھائی ادر سعادت مندی مفمر ہے کہ شریعت ان 
قام امور کا اعاط کری ہے ہنا عکمت و عدالت کا تقاضا ےک کی ای شخ سس کو ہھیچا جا جو لوگو ںکو 
شرلیجت کے ضوابذ و رموز سے آگ کر کے۔ چتانچہ امیا کرام کا بح ثکرا بھی ارہ تال کے للف ؛ 
ححمت کے بین مطالق ے۔ 


می کے لیے ضردری ہ ےک وہ قام فضانئل اور مفات دکمالات مش جائح ادر اپے ال زبانہ سے 
ال ہو اور عحمت کے وعف سے مصف ہوں محعمت آیک اقسالی چی ہے چو * مو مکو للف و لڑلتی 
ابی سے عاصل ۳ سے۔ ایس کے ذریجے معحوم اپ اخترار اور ارارہ سے پ رگزاہ اور ہرفمل بج کے 








توضی ال عسائلےےےے ‏ ں سے سس کت ہے کی جح ۳“ 4 


میں تھی اور اس کے علدوہ عالات میں کی معسوم ہونا ضردری ہجے۔ ای 
7 5 7 نت کو وحر را“ 






یل و بزول ہون برمھس د جذام کے عرض میں تا ہوا بدکاری سے پیدا ہونا د کی وی نا برکار ہونا 
وفیر: رخیئو) ے بھی مراد ضزہ ہونا ضردری ہے۔ 





نے گان ےت ط - . 
مہ ہی کی شر تما روم خی اعبار سے عمابت اور وا ےت ال او ین سای 


نی فرش و خامت پت 7 سے کم وه ۳ و ضف بخاۓ۔ وا٭پ اور رام کے 








و ۸ 
مزید یر ٠ں‏ اکر وو مخ نٹ اوہ در مالات مر ںی خلف ااوحٔ انابوں اور قاص و :وب سے 








۱ : : ام خی ار و 
دو اور۔ امام شراعت اور .نکر موضو جات میں طا و کو سے پاگ نہ :و تب شس حخ لے رقت ایںی 
رت کی بس ہیی کیک و ریب خی ہو گا 





ہم دجدالی لور بر جانے ہیں۔ ار لیک عم دین ! 





ار اقرال و ااعال 
شی اور ا ]غائع افعال صرزو ہو یا میس بد مال تقال اور ا ں گی 
اقی ہیں نر اوڑکوں کی انکروں میں ا س کی قدر و ضوات پائی ٹنیس درہتی اور ای سے 
رڈ وا ینان سب ہو جانا ے۔ جب ایک فی نی کے بارے میں ہہ صورت ہہت بی صورت ایک بی 








کی تی ٰ جو 
فناش رہہراور اصاخ و ببور کے امور مر ان کا سکم اور ان 
تح من گر قیا سے جن سے جسن وش کو غ ازمان یں تھ 
۳ 


اوران سے خقل از اور باصرت۔ 





0 9 





اقوال ر اتعال - 


فور ى تھی ناو“ خطا اور ہو و نیانں میں ای طرح نا ہو نی طررحع رڑصرے لاک ۴ط ہہ تے 


“سی ج کد تو مر یر ید 
پت 5 کی یر ہے کو لی َ شت 
ت4“ ئج خی ںکہ وہ خوع بشرہے سے خعدا کی ؟ 








توخ‌السال ے۔ ) عد ا 


بجی گے ۔ کیو جب نی میس او ان لوگوں میس جن کی ہرایت کے لین اسے تھی اکیا سے ہہ ۶ وب و 
لئ مرک ہوں کے کوئی زی لی نی رہ ےگا ج کی جا یہ سے بی بی دوضرے لوگوں پر تجت ہو“ 
لزا اسے بی تار دینا قش خرش ار حمت اٹھی کے خلاف ہوگ۔ بنابریں ىہ در ی ہ کہ می انی تام 
زندگی میں اپنے قام عالات اور اطوار میں متصوم ہو اور تمام فضال دکمللات سے ھزین ہو کہ اس 
کی بعنت کا قد عانل ہو یے۔ اسے ایک الیی پر ک دپاگیزہ نت ہونا چایے جس کے ساسمے فوع بثر 
سرتلیم ن مکرسے اور اس کے قول و فنل سے ققام اکم وکمالات ائ ذکرنے۔ عزاج می اس سے ازکار 
گج سج کہ وہ آن اعد کے لیے کسی عالت میں بھی غی عضوم ہو اور ان تام دب ے ٣ز‏ وبرا در 
ہو جن سے لوگ نر تککرتے ہیں کیوککہ لوگوں کی نے اور عرم اطاعت اس کے رعول بناکر کی 
جائے اور لوٗوں پر ثت خخدا ہونے کے مقصید کے منائی ے۔ 

بی کا اپنے زانے کے لوکوں سے فضانئل ومالات مس اض , پت ہونا بھی لازم ہے کیو گل 
فداے داناو یم کے لیے ہہ تچ ےک وہ مخضم لو فاضل کا صردار اور رنیس ترار رے۔ قرآن مجید 
ارشاو۔ : 

افس یھد ی ال الحق احق ان یتبع امن لایھد ی الا ان یھد ی فمالکم کیف 

”کیا دس ×٭ ب نکی طرف برای کرت ہے زیادہ مقار سی کہ ال کی اجا کی جاتے ا وہ جو 
اس وت شف برایت نہیں کر کا جب تکف اسے ہدایت نہ گی جائے۔ ہیں تی ں کیا ہو گیا ہہ تم 


کیا تم وت ہو (مورم یش آیت ۳۵) 


ہوں ۶ امہ امالی ے نے بی نوغ انان گی برابمت جے 72 ات تا نیا گرام و محوث آرایا ان 
قرآن می نے یچس اخیاء کا جمزکرہ ان کے 2 کے ساس کیا تب 7 میں نخرت آرم علیہ السلام : 
تحرت فوح' مععفرت ہورگ جطرت سا“ جفت ابرایم' رت انتیل' حر ان 
ضرت لاقوب' رت اوسرف' حرت اب جرے شیب سر موی عرت زرانفل' ہے 
داؤو نخرت سلمان* رت الیائن' حضرت اع رت راس“ دمرت زکریا/ حقرت گی مضرے 
نی مم اسازم اور جار نی رت مر صلی اللہ علیہ وآلہ 7 شال جر ۔ قمام انبا ء گرام ان ین 








نومیمانسائوے۔ے ےے ہے ےہ و کل رک کا ما 


معفت فوع حرت اپرائیں ححضرت موی حقرت کل اور معن مر مصعلی صل از عی 
یں میس سے بی حعخرت مھ صلی اف علیہ ول وسلم سب سنہ اأخل اور حم 





نت 
نت 


لہ انی م کرام خنلف مالک اور اقوا مکی برایت کے نے مبعوٹ ہوت رت 


ا بی ابق عاے والاو مل کو اہ توالی نے قیامت تک کے 





ٹزو و وروی کر ای و کی کن کم ھھەھ4+48+' میں زان 


ہے 


آ پ کی نبوت کا اقرا رکرنا اور آ پ کی اا غ کرنا جم سب پر واجپ ستے۔ 


2 


آپ کے وائر ہز رآرار کا 2 نے عرات اور والرغ کرائی کا للا خریف تفلرر۔ں 


دجب ہجے۔ آ پگ یکنیت ابو القاہم تتجت۔ 





ہے ٭د مباادی ) میں عا ربٌخ الاول و ںا 





قول کے مطاین آ پ کی ولادت پا“عادت ۴ا رب الدو لک ہوتی.۔ مجن پھلا قول زیادہ جن ۓج۔ 


. 






کی نا۶2۵ رج بکو حرث پرحالاتن ہو اور پک 
: 7 ۲ : :_ 

گر میں لزارے اور پھر ید منورہ گی 
نثرت فراً ۔ وہاں آپ دی سال رے اور پھر ۸ح صف رتو رق ال کی طرف رعات فرای۔ وفات 
نے دنت آ پکی عم مبارک ترلہجھ سال تی۔ 








ارم لی اك ا 
کے مق مرا اما کہ جاب مرا سے ےگ 


اب ہخرت ہو1 ت فکوکی بھی برکار اور ماف ر نمی تھا۔ 





نزو ایور وییل نہوت 


امیا یمم السلا حم کی نبوت کے واانل میں ان کے مسج ت گی ہوتے ہیں۔ “ رو اں خارتی اور 


ناف دادت نل کو کت ہیں نس کا ممور قوت بشری سے خارع ہو اور شت خداون نالیم ان بی کی سان 





تروس العسالیےے کے ہے ی1 وا 


کے لیے ایج دکرے۔ بیز جزہ کے لیے ضردری ہ ےکہ اس کا مور دکوٹی حوت کے ساتہ سات ہو اور 
دہ نوم بش رکو چم ر ےکر فبوت کے دعوٹی کے دقت صارر ہو۔ لپں معلوم ہواکمہ سئجزہ کا ہی کی دعوئی 
وت کے ساتھہ ساتقہ ظمور پڈ موا می کے نوت میں صادق ہونے کے براہیں نقا مہ اور ولاگل 
یقینید مل سے ہے اود ال ام ری ولالل کر ہ ‏ کہ خداوند عالم نے اسے اپنے بی کی تی می کے 
لیے اہر فرایا ے۔ 

فداوخزعالم کے لیے محال ہ کہ وہ جھونے شخ کی بائیھکرے اور اس کے پان میس مجر ڈار 
دے کی وگگہ ہے امم متا“ فی ہے اور دراو ندعالم سے فنل شع کا صاور ہوا ممال ہے۔ 

جم نے زوش مہ شرھطا قرار دی ہ کہ دہ دکوئی بوت کے سا سانقھ ہو اک ہ کرات کا مفروم 
اں سے غارج ہو جا ےکیوگہ کرات مدق وت کے عادہ ولیہ اور صاخ مومین کے اتموں بر بھی 
ماق نے 

سجمزہ کا رکویی نبوت کے مطابق ہونا بھی ضردری ہے ناک وت کا جوا دعوٹی اس سے فارع ہو 
جاے۔ شلا سیا ۔ کذاب کے متعلق منقول ہ ےکہ جب اس نے مہوت کا دعوئ یکیا ف اس ےک ما اک 
مھ صلی نہ علیہ لہ وللم نے ایک یگ ہنس کے ین دعاکی تھی تہ اہ تعای نے ا سکی کنل 
درس کر دی تھی۔ چنانچہ مسیلہ نے بھی ایک بی مس کے لیے دعاکی جس کے نٹ میں ا سکی مجح 
کے بی جاتی ری۔ 

یہ بھی مازبی جج کہ سٹجزہ کے معارض کی طاقت و یثرمیں نہ ہو کہ جادو اور شعیرہ بای گی 
ال د افلی اس سے فارج ہو جائیں کیوگمہ ان کا مقابلہ یا معارضہ انان کے لیے نحکن ہے لین 
مر بینی اس فمل کا جوا ب میس سے نبوت ایت ہولی سے انسان کے ہیں کی جات نہیں۔ 


جخرت مھ صلی القد علیہ وآلہ و سلم کے ہزات 


رسول اگرم ئل اتد علیہ وآلہ سض مکی نبو تکی ولحل آپ سے ان مجحزا ت کیہ کا نمور سے ہو 

تھے کی مکورہ پالاکسوئی بے پورے اترتے ہیں کیونکہ اس میں شک می ںکہ آپ نے ہوک فراا اور 

پ کا رگ یی سشجزہ کے ساتھھ تھا اور مخجزہ وعوے کے مطاق تھا۔ ان سجحزات میں قرآن یر اور ناس 
شرلات اسلابی سرفرست ہیں۔ 











: قرآن یر اس وت نازل ہوا جب عرب فصادت در اخ ت گی ھن تھے۔ تم ای ام 7 
کو خشوں کے پاوجود وہ ال ےے مق لیے سے عاتز رے۔ اورے قرآن یر کا الہ اور حعارف۔ 2 و لیا 
کرتے وہ ا یکی ایک آیت کا اب بھی نہ لاگے۔ اہ تعاٹی نے انمیں اپنے اس ارشار کے ساخہ تچ 
کیاکہ گر جن اور انسان جع ہو جایں تب بھی دہ ای رن کا مل نہیں لاب 

قں لان اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمش منا القرآت لایاتون بمٹله 
ولوکان بعضھم لبعض ظھیرا 0 

ین اے رسول اکم دوکہ مر جن اور انیان اس تقرآ نکی نشل لانے کے .لیے تن ہو جامیں 
روہ اس کی مشل و نظیر میں لاکھت۔ ارچ وو یف ورضرہے لک یقت ناو اود بغددگاز دی دن کین 
جامیں۔' تقسیل کے لیے تغیالہیان کا مطالد فراتیں۔ 


2 


یز یہ بھی ارشار فرایا کہ دہ اس بی دس عورتیں پا نچھرایک می سورة تاد کر ہے لے آئیںی 
لگن وہ ابیا بھی نکر ے۔ چنانہ جب انیس قرآن یر کے مقاللہ و معارضہ می تنا فی اعد نہ دنا پڑالڑ 
مر 07 بر تی گے آنرکار داون الم نے لو 

و فر مال سے جن۔دا کیا کور رتو کو مخلوب و مخمو رات آپ کا امربوت ظاہر ہ ااور 
لم پر کی ڑا قرآن یر ض ائۓ علیم و خی رکی جاب سے نازل دہ اک ایی برا داگی او 


کی" رر رک 
۴۲- خراجت اسای 

شریعت اسلائی لیک عمل ضابلہ حیات ے۔ مہ قوانئین کا ایک ایا بے نظی تموصہ ہے جو انان گی 
زندگی کے تام دبتی اور دنیادی پلوں کا اعاطہ کین ہوۓے ہے۔ چنامچہ اس میں دہ تام اظام اور 
موجود ہیں جن کی روز ازبان کو عدازت کور خوش نی کے تصول کے لیے قدم قدم پر پڑلی ے۔ 
ا شراص تکی ذیار سرامر عدالت اور حمت پر ے 


نوغ بثر شرنعت اسلای ؟ یے قوانین وض خکرنے سے تاصرے۔ ا لکی وج ہہ ےکہ محددد عقل 





توضیچالسائل__۔_ ا تا 


اٹل لاغرور مال نا اورک ین کک عق اور ئہ بی ان کا پراوا ماش یکر کی ہے۔ چابر م زیت میں 
کہ ناف ممائ ف کی امہلیوں اور پارلمندوں میں مض ایک مودہ عانون بر مینوں بحت و تی اور 
جایچ پڑتال کے بعد قانو نکہ آخری شکل دی جاتی ہے و اس مم سکوکی نہ کوتی حم رہ تی جانا ے۔ 
شرعت اسلائی کے آغاز کا زبانہ رسول اگرم ضٰ الہ علیہ وآلہ یس مکی مدلی ذزندگی کا دس سال ک۷ 
زنانہ ہبے۔ ہش کے بع دی زندگی کے جیرہ سمالوں میں آ پکو حوصت ہ ریاست عاصل نہیں شی نان 
قوائین اور شربیت کے نغاۃ کا سوال بی پیدا نیس ب وت تھا۔ دس سا لکی منتمر یرت میس می ائی صلی اللہ 
علیہ وآلہ و سلم کا اییتہ جائع اور ہمہ گی قوائین عاولہ وش غکرنا لور لن ہہ عمالد رآیدکرانا اس ام کی تطمی 
در نی ولیلی ج کہ شراو تکی ایس ر تقی تیم ا کی رین مت ہے چنانجہ ىہ بات اظمرمن الٹمس 
ےکہ قرن ‏ قر نگزر جانے کے بعد بھی زنیا کے وہ تقانون دان یں انی تیب د رن اور یت پ 
تاز سے شریات اسلای کی خوشہ ہنی پر محبور ہیں اور اس کے بوجو اىیت جائع خوائین وضع ھرنے سے 
تاصر یں جو انسالی معاشرے کی اصلا اور سعاوت کے ضان ہوں۔ 
قرآن مید اور شرلعت اسلائی کے عااوہ آتفضرت صلی ان علیہ وآلہ وسلم بس بت سے مچجزات 


صارر ہو کے شی تو سے چنر کیک رح نل یں۔ 

۔ 2 + یھ دہ ْ 
اہ اپ کے فرق ارس پر اب رکاسا کرنا 

جب بت سے گے آپ نے عحخرت خد یکا مال ارت نے کر لک شام کا سف رکیا و ان کا لام 
مرو بھی آپ کے ساتھ تل ان دفوں جھراؤں می شدی رگری تھی۔ جنانہ میددہ نے دیکھاکہ ایک ابر 
آپ کے کر لی گی ربتا تھاد جب آپ لے تق وو بھی چا اور دب آپ رک جاتے و وہ بھی رک 
جانالہ ال ا رکی دج سے ترارت آطلب آپ کک خی تی تھی۔ 

ہمہ مم کی ۹٦‏ 
آپکی الییوں سے پائی جاری ہونا 
۱ اگ راع آپ ایک نزدہ کے سے میں تشریف نے جارس مے اور ڈیڑھ نزار کا اکر آپ کے 
راو ھا راتے میں پا شحم وید لوگ پیا کی شدت سے بےے جن تھے۔ آپ نے ایک برتن مگوایا 
جس میں تھوڈا سا پالی تھل۔ آپ نے اپ وت مبارک اس برتی می ڈال دی متا“ آپ کی مج ما 








توضیچالمسائل __.. _ )( دجد ا 


انگییں سے پالی جاری ہو گیا۔ اس وقت آپ نے اپنے ایک _الی جا یڑک مخاطب کر کے فربایا ا ے 
جار ! اکر ہم ایک لاکھ ہوتے تب بھی یہ پان کان ہو]۔'" 

سس ےم 0 ٠‏ ۰ گاہدےاے 

آ ےکا فی لکینۓ ے فا یکن کو سی کنا 

اس سئجرے کا ٹمور آپ ے تمدد مع ہوا۔ ایک موتح وہ تھا جب آپ نے دعوت 
خوائل ےب دی تھی۔ تحصیل اس واقع کی بییں ہ کہ آپ نے بی اْشھم کے ادس افرا ن مان ےکی 
رعوت دی اور جناب امیر علیہ السا مک وکھانے کی تیاری کة عم دا جناب ای کرے کی ایک ران اور 
رورت کا اک پالہ لاے۔ بی کھاتا بھی نے کھایا فیلن اس می ںکو یں واٹع نہ ہوئی جک عرف کھعانے 
والیں کی انگیوں کے نشان نظ رآ 


۴ آ کے پاتھ یہ مگگریزو ںکا نیج خدا کم 


جناب اہوز مفاریٌ مان کرتے ہی ں کہ کور عامری نے رسول اکرم صی انل لپ وہ ول کی 
فرمت میں حاضر ہوک رکھاکہ آ پکائی رٹیل وجچے ٹس سے چان جات ےک.. آپ اللہ کے رسول ہیں۔ 
یں آپ' نے زمین سے سا ت"تنگریاں اٹھنیں اور انمیں آپ کے اھ بر ضوع خداپاھت خاکیا۔ 
ان کے علادہ آپ کے اور بھی بمت سے مججزات ہیں جو متحلقہکمابوں مین فمکور ہیں ان میں آپ 
کی دعاؤں کا مقبول ودنہ وقت ججت خار ٹور میں آپ کے نقش پ کا عنی رہنا اور ای غاد کے دہانے پہ 
ککڑی کا جالا بن دینا ادر آپ کا فی بکی خریں دینا شائل ہیں جن میں سے ند ہہ ہیں۔ 
(..۔ آپانے عار یااسے فرلیاکہ ( اے ماد ! میں ایک پافیمگردہ تی کرے گا" 
ا آ پا نے عرت علیٗ سے زایا کہ" اے عی !میں تاقہ صاخ کی کو یں فان وانے 
فیس سے مشاہ ایک معون نس شمی رکرے گا۔" 
...۔ آپ نے جاب فالہ زہراڑ سے ڈیا کہ رت سے سب سے پل تم 
کت : 
8.۵ آ نے انی ازداج سے فرااکہ ” افری اس بر جو تم مم سے اونٹ پر سوار ہگ 
و تر ےر رتس وس 





توضیچالمسائل __ 


سے ارب ارب ما کت 

۵ ۔.۔ آپانے بی ام یہ کی سلطن تکی تردی۔ 

آپ نے ام نین علیہ الام کی شا تکی ججردی۔ 

0 ... -سمحخت عبداللہ این ععائ کی ولاوت کے وقت آپ نے ائیں ” اے پارشاہوں کے 
پک کر نی عبا ںکی علوس ت کی خجردیی۔ 

۵ .۔ آ با نے ىہ فبرد یکہ تنقریب میری امت خر فرقں میں بث جا ےگی۔ 

8 آپ؟ نے ہہ غ دی کہ امیا ن کی عومت جلد شحم ہو جائۓے گی اور اس کے ہرگ روم 
کی علومت عطویل عرصہ کک باتی رہ ےگی۔ 

۵ ... آبانے اپنے پا عخرت عہاں بن عبدا مل بکو غزدہ بدر کے موق پر اس مال کی شر 
دی جو وہ اپی بیوی ام ااقل کے پاس رکھ آئے تے۔ 


٥ 


تتصیل اس واقعہ کی یوں ہے کہ جب مت عاس دہ در میں قید ہو گے تر رسول اکرم صلی 
اللہ علیہ ول وسلم نے فرایاکہ آپ انا اور اپنے جتوں مقیل' ٹو٘ل اور ود کا فیریے اوا کرہی۔ 
جحفرت عیاں نے جواب دیا کہ میں تو پل سے بی مسلرین ہوں۔ اس وقت نضور صلی اللہ علیہ و لہ 
دسلم نے فرایاکہ غداوندعالم آپ کے اسلا مکو بت جانا ہے لگن بظاہرذ آپ ہم سے متقال ہکرنے آئے 
تے۔ بی م یکر ععخرت عباں کن ک کہ می رنے ہا نز مل ہی نیس ہبے۔ اس بر آحخضرت صلی اڈ 
علیہ وآلہ وم نے فا یاکہ وہ مال کس کا ہے جو آپ ام الفضل کے پااس رھ آئے ہیں اور اسے بر ایت 
کی ہ کہ اکر میں مارا جاؤں نز ىہ مال فضل' عبدالشہ اور فن کو رے وین ہہ م یکر معضرت عباس کے 
گھے۔ لتتکم سنہ اس ذات پا ک کی جس نے آپأکو عق کے ساتھ صحوت برسال تکیا ہے یہ بات میرے 
اور ام اافضل چھے علادہ کس یکو معلوم نز یں اں ے بعد انھوں نے انا اپننے وونیں یو اوہ قٹم 
کا دی اواگیکل 


فرآن ید اور نیس شریعت کے سوا جن مبجزات کا اریہ وک رکیانکیا سے ان کے صدور کا عم پواتز 
ہو کے ذر بیج عاصل ہوا ہے للفرامیہ مخجزات آ پک نبویت پر ولالمت کرت ہیں- 

اق سے مرا کسی نے پا امر کے متعلق کسی ای گرد مکش رکا خی دینا ہے جس میں شخائل افرار کا 
عفل اور عادت کی رو سے جھ وٹ پر انفاق کر لیا عحال ہو۔ نوا کی دو مشمیں ہیں۔ () ات افذلي (۶) 





ترضیچالمسائل_ ( 25..] 


تا سی 


وپ کرو وا اپی شرمیس شلق لف ہوں تر سے نات فذغی کت ہیں۔ لا اکر نام خر 
رین والے متفقہ طور پر شمرکمہ کے وجو کی خمردیں تے اس شمر کے وجو رکا جو علم عاصل ہو گا وہ پڑاتز 
فی کی زمرنے بیس آئے قد جب بر دی دالے اپی خی لق لف نہ ہیں لہ سی کے لا سے 
آیف ہی بات کہیں ق3 اسے ات مہنوی کت میں شا خر ریے دالے کہ لوگ بی کھی ںکہ طلبا زیر سے 
ولا ت کر رہے تے اور یھ لوگ ب ہکن یکہ چند اشما زید کے پا تیم عاص لکرنے جاتے ہیں اور 
اش یں لن نے ای ات گھی ہے تب سب فبیں زید کے وائشند ہونے ہدام ہکرتی ہیں۔ 








توضیح‌العسائل [ 26 ا 


اما مت 


امت رین اور وا کی اس موی رہہ یکو کھت ہیں جو رسول لک رم صلی انہ علیہ وآلہ وس مکی 
اٹ مس ایک فی یکو واصل بوتی سے اکہ رہ شرو کی طعتکرے۔ حضوہ نات ایی سل الہ 
علے وآلہ کر مت سر تار سی سا انی ئے چند فرقوں کے 
٥‏ و“ ب امام کا وجوب ضف گی ے۔ 

ہم ریہ کمہ پچ ہی ںکہ بش رک رین اور کیف "کی طرف دو یں رن الف سے اور 
فداعاگم بر واغب ہے یا ٹس طرحع لوگوں کی صلاع و فلاع گا اہتمام رن اوہ ر فما رکا فقو 
کے لیے ایک می کا دیٹ برا ضروری سے پل بی طرح میک انام وگ پلیاے۔ اسلای 
عدور قائمککرنے۔ دین الام کی حطال تکرنے۔ لوگوں میں عدل برقمار رگےے۔ لن کے درسیان خی د 
ناف کے مطابق پیل کرنے اور انمیں عبادات “ معللات اور سیاسیات کے اّاخ نے کے لیے ایک 
ام کا برنا بی ضروری ہے۔ اس سے مار ہواکہ ایام بھی اک لفف ہے اور لف سادب الطاف بر 
داب ہے۔ لونراجص طرح میک مبعو ٹکرن خداوندعالم یر وه جب سے پاقل اسی طرح یا م کو نیب 
کرنابھی اس پر وجب ہے۔ ہیں بات کسی بٹری عکوتت اعم نمی تج پگ اک ائی طحسبہ ہے 
جو حکمت ال کی اسماس بر قائم یں 

حطرت سیر الرسلین صلی النہ علیہ ولیہ لم کی جاننی لیک بھت بی عائی نصب ہے اور ای 
منص کی زمہ داریوں سےکماظہ عمدہ برآں ہونے کے کیہ دم کا لض خصوس اوصاف سے تف 
ہوا ضروری ے۔ چنانجہ نس طرع دوٹ کے لیے مععمت شرط ہے سے اسی رح امامت کے لیے بھی 
عحرت ششرے ہے اور اس کے لیت دلیل ہعینہ دی ہے جھ یھ کے برے میں مان کی 











رج سال نے رڈ )[_ ٤٤ا‏ 


4 س کیم مر ام مم اور مہ صفقت موصوف نہ ہو ال پر 7 اور بھروسہ نی رہ گا اور 
لک ال کی اطاعت نی ںکریں گے۔ نتحنا ای کے فص بکرنے کی خغرض لتق ات شرییت بھی 
عاصل نمی ہوگی۔ ام کا متعوم اور نان و عیوب سے ضز ہون اس لیے بھی ضردری ہ ےکہ لوگ 
اں ے شر ہول' درنہ وہ اس کے اوامرو فوائ یکو قول خی ںکریں مے_ اس کا اپنے زا کے قم 
اڑکوں سے انفل وناگھی ضروری ہے کروکہ مفذر لکو انل پر مقد مکرنا عتذا“ فج ہے اور شراے 
۱ جرگ و بر کی زات نے نل تج کا صرور ال سے۔ 

جیساکہ ایر جیان ہوا امام کا ضعب ایک اٹی منصپ ے اور وہ لوگول کا یا ہوا یا شتْپ کیا ہوا 
میں ہوا جھہ موس من اللہ ہوہا ہے۔ تام ملمان غوبت الام کے دوران میں اسلائی علومت تائم 
کرنے کے از یں لن ىہ کٹ ہمارے موجودہ موضوع سے مارح ہے اور اس سلطہ میں رومری متا 
کتایوں سے اتقار کیا ہکا کت 

ہار یمان ےہ رسول اگرم صلی ایفہ علیہ وآلہ وسلم کے بارہ جانین ہیں جو سب لمام برتؾ 
ئیں۔ ان میں سب سے پل امام جناب ام رالمومین عرت علی علیہ السلام ہیں۔ آ پکی مامت پر بے 
شر دلال ہیں جن میس سے چند درخ ذیی ہیں۔ 


ا-۔ حدمش‌رار 


تبے آبت ازل بل۔ وائنر عشیرتگ الاقربین ٥‏ 
"اور ا رشع را ر ار راو ٢‏ وھ اء۔ آیت ۲۴) 
قر رسول ارم صلی ال علیہ وتآلہ وسلم نے ہام لی علیہ السلامکو عم دیاکہ بی پشم کے لیے 

انت کا ابقامکریں اس موقع برا حنور صلی اللہ علیہ وقلہ وسلم نے ححفرت عی کے متخلق ارشار 
رایا۔ 

ھنا ای و وصیی و خلیغتی بعدی و وارٹی فاسمعوا لە واطیموا 0 

یی '' ما بای ہے۔ ہہ مر دصی ہے۔ میرے بعد مرا خلیفہ ہے اور مرا دارٹ ہے۔ تم 
لوف ا ںکی بافیں سلو اود ا کی اطاع تکرو۔" 





توضیبرالمسائل : .ا 28 لہ 


۲- جردنثاغدر 

ترام لرانوں کا اس بات پر الفاقی ہے کہ جع الوداع سے والی بر رسول رم لی اللہ علیہ ول 
وسلم نے مدرم کے مقام بر صلمانوں کے اجتاع سے اطب ہ ھکر فیا 

الست اولٰی من انفضحکم 

لین ”کیا می تمماری جانوں سے بھی بمتراور اوٹی تا ہوں ؟ 

اں >> لوگوں تے جواب وی ' بلٰی "ین بے کک آپ ہماری جانوں سے بھی بتراور ادلی جیں۔ 
تب آپ نے آرایا۔ 

من گنت مولاہ فھنا علی مولاہ 

بی جس کا میں موی ہوں اس کا ىہ لی بھی موی ہے۔' 

اس حریٹ می آقحضرت ص لی اللہ علیہ وکلہ وسلم نے لوکیں سے اقرار “اکلہ آپ الن گی 
نجانیں سے بھتراور لوٹی ہیں اور پچ ر رت علی علیہ السلام کو مولایت میں اپنے برابر قرار دیا۔ ال سے 
ایت ہو ےکہ حدیت میں لف مولا سے مراد ای بی ہے زا رت می مومنو ںکی جئوں اور" نہیں 
سے اولی میں اور بی مصب ااہت ے۔ 
۳- جرعث طا/ 

اس حدبیٹ می رعیل ارم صلی لہ لیہ لہ وسلم نے اہ تعائی سے دعا ماگ یک ” اے اللہ ! 
آپنے موب رین بر ےکو میری طرف جھج کہ رہ میرے ساتہ م لک سی مندہ کھا ےم ال وشت 
رت عل یں بے اور تضور رقاب صلی ا علیہ وآلہ د لم کے سا اس بررے کاگوشت 
کھانے میں شریک ہوئے۔ سے میٹ حزت علی کی افخلیت بر ولال تکرتی ہے کرونکہ مداوند عائم 
و ا ای ا دع یں دی چانیتی۔ 


۲- وریث مزلت : 


اں ریت می رسو لکریم صلی اذہ علیہ وبملہ نے ارشاد فرایاے : 








توضیح‌المسائل__ 91ہ ا 


انت منی ہمنزلة ھارون من موسٰی الا انه لا تبی بعدی 
نا ” اے عی !تم میرے ودک ایی ہو یس بارون' موی کے نزویک تھے گر کہ میرے 
بی دکائی ئی میں ہے" 
رداعت قام رولتول مل واج اشوت اور جغ السند ہے۔ چنائہہ شیعہ سی ابر علائے زریٹ 
نے اس بلت کا افتا ف کیا ےک جب رسول اگرم صلی اللہ علیہ وآلہ دسلم غزوہ تک کے موق پ 
حعفرت میک او پرینہ منورہ میں غلیفہ مقر فراکر گے اس وقت ہے بوریٹ ا ارشاد فمائی۔ آپ نے الس 
عدیث کا اعادہکئی دی موائع پر بھی آرایا۔ 
قرآن ید او رکتب زار سے ىہ بت عبت ہےکہ رت پارون رت موی علیہ السلام کے 
”ھائی۔ شریک وت ت اور فلخ و رات میں ان کے وز تے_۔ خداؤزندعالم نے ححخرت پارو نکو حر 
موی علیہ لیم الام کے لین قوت بازو جیا تھا اور اکر وہ محرت مو کے بدد زندہ رہیے تر ان کے غلیف 
اور ام داب الاطاعت ہوتے_ رسول اکرم صلی اللہ علیہ ولہ وسلم نے یماں جحرت نی" کے لیے دہ 
قام زی ثایت کہ دی ہیں جن پہ عخرت پلردن'فائز جھے اور سوائے خیوت کے کی سے مت میں 
کیا۔ لیفرا منصب لیاصت آپ کے سی بدی طور بر عامت ہے۔ 


۵ آیت ولایت 


اللہ ثالیٰ نے ارشار نرلی ے۔ انما ولیے الد رون والنین آمنوا النین یقیمون 
الصلٰوۃ ویؤتون الزکوٰۃ وهم راکمون ت۱ طر) ارہ آت ۵۵) 


سے أیعت مبارکہ ای وت نازل وی جب عخرت عی نے کو کی عالت میں ایک سائل کو 
انی عطا فرائی چان موی نے اور بی بن ات اواعد یپوی نے اسباب النزول میں اس ام رکا 
ا گرا ٹکیا ے کہ ند فدادند عاکم نے ولای کو انی ذات اور رسول اگرم صلی اللہ علیہ وآلہ وم اور کو 
او و2 یی ج ٹر سس یت 
علیہ وآلہ وٴ کک اعت کے سکیل کے یں لو کہ عخرت مک ایت یل لو لی 
نعلمتی مرعارت سے ضبز و 


تفرت می علیہ اسلام کے فضائی کے بارے شس دلائ ل کی ایک طول ذرمت ہے۔ آپ عم د 











ترضیح‌المسائل ٍ ( 38ا 


علم' شھاعت و سخاوت' عبات و عرالت' نصاحت و بات زیر و تقئی' سیاستہ' جماد آدد اسلام میں 
سبقت وی کے اقبار سے تمام حابہ کرام میں افضل ہیں اور کہ انخل پر یراق ل کو مقرم “ :2 
خلا“ ٹج ہے انا آپ سب پر مقدم ہیں۔ 

حرت علی؟ کے علم و وانشش کے بارے می رسول آلرم صلی انفہ علیہ ولہ دسلم نے راد فرایا۔ 
اقضا تم علی یی لت لوگوں مم سب سے مر فیصل ہکرنے وائے لی ہیں۔'' او 

انا مدینة العلم و علی بابھا فمن ارادالمدینة فلیات الباب 

ینی ہ میں شمرعلم ہوں اور علی اس کا دردازہ ہیں لیی جو شمر میں داشل ون جچاہےے رر ورای 


ے۰ 


مو ا 

ہکرام وشن خی خرف ری کر لکن حدنی لی نے کیل 
کی طرف رجوع میں کیں وریٹ شنکین بھی حرت مل اور آ پ کی اولاد کے سب سے زیادہ 
ہوتنے کی ٹین ولمل ے۔ آپ قوت ورس اور زکاوت میں کی غمام صا کرام میں متاز نین کرت 
رکھتے ے۔ آپ نے کی ایک نی خر ںکی بی گوئی بھی فرائی۔ شا آپ نے فود انی اور ہخرت 'ام 
مین علی السلام کی شمارت کی بی گوئی فرائی اور ضروان میں ہونے رانے واقعا کی نکی بردہی۔ 
آپ بیش رسول اکرم صلی ال علیہ وآلٰہ وسلم کے ساتھ رےۓ اور تضور صلی اڈ علیہ وآل أ یا 
وش مبلرک میں پردرش پائی۔ آپ نے آفحضرت صلی اہ علیہ وتلہ و لم سے رہ نموم مال گے ٭ 
کی دوسرے کے نے میں میں آے۔ 

حضرت ری میدان کار زار کے کے میم تین شصوار میں اور آپ گی بہادری اور خباعت طرب 
الال ہے۔ نمزدات بررہ اعد۔ اقزاب اور ین کے واقعات آ پ کی جاں شاری اور انضلیت کے ڈاہ 
ہیں۔ آپ 702 میران من نیں دکھاتی او رکوئی بڑے سے بدا آزمودہ کار جش گی 
.2 کے مال میں نہیں حھم سیکا آپ کا احم مارک دلادری اور فدآقاری اور غ و نشی ت کی لات 
ھا باتاے۔ 





ار خوای کہ روڑ رذم وشن زی ا 
ین بر بے خود یم علی لین لی غاب 








توضیچالمسائل__ دا 





جناب امی علیہ السلا مکی ساوت میں برتزری پر آیت یوفون بائنذ ر اہر ے۔ آپ نے اپنے 
نخس پر سائ ل کو تج دی چنانچہ خود بھوکے رہے او رکھانا سا لکو دے دا۔ آپ تے اپنے پان کی 
کالئی سے عاص ل کرو الک یگ ہزار غلام اک بس تا ےرعن 
امیا ای لیے معاویہ تک نے آپ کے بارمے می ںکماکہ : 
ال کے ا ا اق چرس ار تق ا اوک یت نے 
پگ راہ خدامش رے .۰۸ 
کت جوٹی بر سواے آپ کے می نے مل میں کی عفرت یکا زبر و عبایت آپ کی 
یسک رتو کرت بسن زی وی ف راف ۶ے گر 
میرے سواکسی او رکو وه وکا رے_ '" 
آپ شب و روز نماز میں مشغول رت تے یہاں ت ککہ آ پک پان بر زم پڑگیا تھا 
اس تر ف وو کھھو چو و وٹ 
میا لن آ پک خر ہوگی۔ جو دعاھیں آپ سے نقل ہہوئی ہیں وہ آ پکی عبار تک یکر تکی شا ہیں 
کہ امام لی این ؛نصین علیہ السلام جمنمی ں کرت عیاد ت کی من یہ زین العابرین اور سید الساجدینی کے 
القاب لہ اپ جد بارگرار کی عبات کے ٭قالے می انی معبار تکو کچ کھت تے۔ لوکوں نے نماز شب 
اور آوائل بھا لانا آپ بی سے کیھا۔ 
آ پک غذا.۔ بعد سادہ اور قینل جوتی تھی۔ آپ جوکی رو ماول ڈراتے تھے جس کے ساتھ 
ما مہ ہوا تھا 
تی ذات میں سے گر رر خیال نقر و فان کر 
کہ جیں میں ین شر پر ہے ار قوت حور 


آپ کال با بھی بے حد سادہ ہوم تھا چنانچہ خود ارشار فماتے تےکہ می نے اپتی قیض میں اس 
7۰ بود لائے لہ ج- سو لان سے ض ھوں ہونے گگی۔ عالانگ آپ کن شمام کے عااوہ 
ام علاقیں سے بے نخار مال آنا تھا لگن آپ يہ مال لوکوں میں تیم ذرا ری تتے۔ خور آب کاکٹش 
اور 25 گوار لٹ ما کا ہو تھا اور نب آپ نے جام شمارت وش نیا ٌ ورے سيکوگی مل میں 








توضیحالمسائل بصں7-9 0 رج 


چھوڑا۔ ۱ 

حرت علی' ماب ہکرام یس سب سے زیادہ عم تھے اور بیشہ عخو و درگزر سے کام لیے تک 
اپنے بررزین وشنو ںکو بھی معاف فرا دی تھے۔ آپ نے جنگ مل میں مرواں اور این زی کر ما 
کر وا ای طرح آپ نے جنگ مین میں عرو ین حا اور بسرین ارطاۃ سے اس دقت د رگزد ڈرا 
چکہ آپ کو ان بر کھل تا ایل ہو چکا قد جنگ من میں بی جب ریا کاکحعاٹ معاوب من 
ابوسٹیان کے قضے میں آیا ق اس نے آپ کے لفکر بر پلی بن رکر یا لیکن جب بد می ںکحھاٹ پر آپ ؟ 
قط ہوگیان آپ نے معاو کی لگ پ پالی بند ض سکیا 

کپ ان زانے کے بھتین قاضی تھے اور عدل و انساف آ پکی فارت می ںگو کوٹ گہ با 
ہوا تھا آپ جو مال 7ا اسے لوگوں میں برا بر تیم ڈراتے اور خودراس میں سے آ یک قرو کے برابر گ٤‏ <×ص 
ات چپ ات کے بھاگی جناب عقیل نے کچھ زیادہ طل بکیا نز آپ نے تواب می جو پچھہ ارشار ڈیا 
وہ مور ے۔ 

جناب ام رعلیہ السلام کی فصاحت اور جات قٍ اظ مر می امیس ے۔ آپ میم ے لام اور 
نام کے سردار پر . لوگیں نے کمابت اور خطابت آپ سے تگھی۔ قش میں ول آکرم صلی اد یر 
وآلہ وس٥لم‏ کے بعد نصاحت و بباغت کے طرییقہ آپ ہی نے بلاے۔ بج البدوفہ جھ آپ کے خلبات 
اور توبات کا مجھوعہ سے آپ کے افیح الناس ہونے کا ین خبوت ہے حضرت سد صن خی کے بارس 
مس این ای الیدید فراتے ہیں۔ 

٭ ضرے ر2 ج- انااق' نات ول اور ٣‏ مزای غرب اش غ ارچ آپ ٤‏ رن 
اس جا کو عی بگررانۓ تے۔“ 


آ پکی قوت رائے د تج بھی بے مال تھی۔ بی وجہ ہے کہ رسول ؛گرم “فی الہ علیہ وتلر 
ورسلم جگوں اور دنر ما تکی سیادت آپ کے سرد فراتے تے۔ آپ می نے حضرت کو مشورد درا 
تقاکہ دہ جنگ روم و رص میں خود شریک نہ ہو ںکیوگہ اکر خلیفہ ب رکوئی زد بزی فو شوکت اسلام مکی 
فرقی آ نے گا۔ اسلابی س نکو ججرت سے شرو کرت ےکی راتے بھی آپ ہی نے دی آپ نے تعغرت 
عثان کو بھی فرایت مغیر مشورے دبے اور اگر وہ ان بر عم لکرتے قو وہ واقعات پیل نہ 











توضییالمسائل__ : کات ھا 


باررغ میں خوظ ہیں اور ین تع ان الی العدید نکی ے۔ 
رت ۴ک سی بھی روز روش ن کی طرع واج ہے۔ آپ نے لوکوں میں عدل و 

7 کیل اخیں گی سے تریب اور بدری سے وو رگیا۔ آپ نے طا بن لوگوں کی اپ ہیں > ال 
ھ آپ نے ا لاعت لق ٍ اطاعت و کو کسی عال میں مقدم ۶ می کیا لود ددسرے 0-242 
یں کے برککس انی علومت مضبوطاکرنے کے لی بھی لہ بازی سے ماس میں لیا آسب ‏ نے ڈرایا 
ےک آم دین اور تتوکی ہائل نہ یی وپ کب ےلاک یت ران ہو 

ال تیف حعفرت علی کے سب سے یکم ابیان ررۓ کے مک کا تمان سج قام روایات ای 
بت پ مصلمن ہی ںگکہ آپ مووں ہیں مس م ادل یں۔ آپ نے خور رایالہ رحول آرم الشر لے 
لہ وم دو شنہ کو مبحوث برسالت ہو اور یں نے سہ شفب کو اسلام قب لکبا۔ آپ سن بح ینعی 
بت کو مبدہ خمیں آیا۔ آپ کے ہے ار اوصاف تو آپ گی انی بر دلیل ہس لف نتابوں میں 
مفصا؛” ررن ہیں 

طرت علی عاپے السلہ مکی طرح باتیگیارہ ان کمی برجی اور نصوص مین الہ ہیں۔ محضرت خی 
نے حضرت لام حن علیہ السلام کی مامت پر اور نخرت ایام خسن نے ححقرت ایامم نیشن علیہ السلا مکی 
امت پر نس 2 فرگی۔ اس کے بعد چرام نے ودوہرے ام کی لات پ نض قائم کی اور ي بات 
شیعہ مہب میں پلتواظہ مابت تتے۔ 

اور مان گیا جا چکا ےک وتوبپ لصب لام مسلرانوں کے بائینی 7 بت اور اکلہ آیت 
مارگ لاینال عھدی الظاممین <.) (صورۃ القرۃ )٢‏ سے مابت ہوا سے ایا ست 


شط ہے نہ امربھی بدیی ہج کہ محضرت علیٗ اور ا ن کی اولاد کے سوانصسی تے ریت تارق می کیا 





نلاوہ اتی ”عو ٹیس وزاان کے سواکوتی ما بھی یں جو سا 
شر رھ ام ضس لے ا1١‏ ا و کو و تم نا رض ڑا کر 
ان ناو شش نا وص من انقد ہونا بی ایک احادیت نبوی' سے میس مابت مت مض مرسول میم 
7 اي نے والہ و سم نے ارشار قرنایا نے 


آئی تارگ فیکم الثقلین تاب الله و عترتی اھل بیتی وانھما لن ینتر قاحتی 








توضیحالمسائل__ 1 34د 


یردا علی الحوض' فلا تقد موھما فتھلکوا' ولا تقصروا عنھا فتھلکوا' ولا تعلمومم 
فائھم اعلم منکم۔ 

رسول امرم صلی الف علیہ وآلہ وسم نے امام بین علیہ السلام کے متحلق فرایا۔ ”میرا ہہ بنا لام 
ہے ام کا فرزن' امام کا بھاگی اور خوااموں کا بپ ےی" 

آفضرت صلی اللہ علیہ وکلز وسلم نے فرایا۔ 'میرے بعد پارہ خلقاء ہوں کے اور وہ سب کے 
و وت یہ عدیث صحاحع ستہ میں موجور ےے۔ 

فہان وی ے- ”من مات ولم یعرف امام زمانه مات میتة جاھلیظ 

یبنی "* جو مس ال عالت میں مرجائ کہ اپنے زہانے کے ما م کو ضہ پبپاتا ہو دہ حالیت کی 
مہوت مراے۔" 

ىہ عدیث اس ام رپ ,یل ہے کہ ہر زانے مم ایک ایام کا ہو ضردری ہے اور چوک سابق 
حدی ث کی رر سے اتھ کی تعرار پارہ ے اور ال اعرار کا اطلاتی رو روے قب ناغاء 7 یی ٤ري‏ لزا 
ائم۔ اشائش کی امامت مابت ے۔ 

سیرت ائمہ کا مطالہکرنے والوں سے ہے بت پشیدہ خی ںکہ تام ائمہ میم اسلام اپنے اپ 
زانے میں مغات ککالی.. و ں... بہ کے انقبار سے انا روزگار تے۔ وو عم' عبارت' سخادت' زیر تنوگی 
قوت راۓے اور بیرت وغیر میں سب سے افضل تے۔ انموں نے کی علوم ایجاد فیا اور ان کے 
اکاب نے ان چا ئل ہی ہمار سے زان کمائیں میں" گییں۔ ان میں ے 


ار سو کمایں مشمور ہیں ہننییں اصول ار .مال کے نام سے بادکیا جاتا ہے۔ صرف ابان بن آخلب نے 
حطرت ام عفر صاوق علیہ السلام سے خمیں ہزار اعادیت نفشل کی ہیں۔ جن بین وم جو ہریت اہام لی 
رضا علیہ السلام کے انعاب میں سے تھے کت ہی ںکہ میں نے سو رکوفہ یش نو سو شوخ سے ملاقات کی 
ھن میں سے پر ایک بب کتاھاکہ جھ سے ہہ حدیث حعقرت منفرین مر نے میان ذبائی ہے۔ 
اں سے واشع طور بر ایت ہوا ہ ےک ائمہ لثائمش عم سام کے افضل اور لم برق ہوتے 
می سی شف و شب کی منیانش مییں۔ 








توضیچالمسائل__ -- ۳ ید ] 


ارام کے کے فا ہو جانے کے بعد ائی اجرا نام کے ددہبارہ وجود میں آنے ن کو معاد کت ہیں۔ قیامت می 
خداوند عالم اتسا کو دوبارہ زندہ کرے گا کہ تیاوکارو کو ا نکی بک ی کی جزا اور برکارو کو ا ن کی بدی 
کی سز دی جائے۔ 

نداوند عالم نے بنددںل پر شری لیف راج ب کی ہیں اور اشیس اواصرد فواہی نا ابد کیا ہے اس 
نے اطاعت پر اب اور “سیت پر عذاب کا وعدہ فرایا سے دنا میس بے خار تظالم ہوتے ہیں جن کا 
انصماف یں ہو پاتا اور انان بت سے ای ے گناہ کرپا ہے جن کی مزا اہ اس زندگی میں نمی گتی۔ 
ابی طرع اطاعت کا ڑا ود لگ کی بزاحی اون رنیا فی حاضی جن ودقی اڑا مزا زا اگوی اجممام 
نر ہو نز ملیف عبث ترا رد ای تے اور لم کی شل افتیا رک لیتق س کیو کل ا *عاوشہ ہیف یٹ 
بت علاوہ ازیں اس صورت میس غداونھ عا مکی وعدہ خاولی ازم آلی ہے عالاگمہ اس ذات اود سے کہ 
تی لم اور وہ غلدق مان ہے اور نہ اس کاکوئی فنل عبث ہو لے ے۔ لینرا لمت الیکا قاشابی ے 
5 ا بھی ہو جب لوگو ں کو مشو ر کیا جاے الہ 7 سے مظلوم کا تن لیا جاۓ اور 
انکر ان کے اجک اعما ل کی جزا اور برکارو ںکو ان کے افعال شنیع کی عڑا دی جانۓ اسی دن کو 
) نایم وو ہو وع نب آۓ ا اس کا 





اوہ 
مر سرف ایل تال یکو ے۔ 
ات کے برقن ہونے کی ایک ولیل بے بھی کہ غداوند عالم نے انسان شس عاقبت اندقی کی 
ضاصیت ودلوت فرائی تے ہی سے خاہت ہوا ےکہ خاقیت واقنی ایک جتتقی جز سے گر عاقبت کاکرئی ٤‏ 
٣×‏ رعود نہ *و نا انسال زین میں اس کا اصاس پیداکرنے کی ضردرت بی نہ شھی۔ اس صورت میں انان 
گر و اند ہہ سے بے نیاز با م کی طرح کھا یکر پا بڑعتا اور پلاآخر مرجات لیکن اس کی ایی بے مقصد 
زی نبث ار پالی اور لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ن آیف ما٣‏ ض ہار 





توضیچ‌المسائل_ ) مد.] 


کہ خمداۓ وان و نو اتا مبث اور ہے متصر اثعال سے اگ و پاکیزہ ہے لزا ثابت ہوا ےک قیاصت کا 
ہپا دنا تحلیق انین کے مقص دی ححبل کے لیے لازی ے۔ 

اب بے عوال بل رہ جات ےک کیاگل سٹرکر خاک اور غیت و خابود شمدہ انسان اجسام کا اپنی 
اضل شل و ورت ڈُل ررارہ وتور پذم ہون کن ے ؟ ا کا جراب انل ام ےکلہ وہ مد اور 
عالم بر زیر قور ہے نذا اس کا انان کو رود لی بش میں من سے نلچ قرآن جید مِ ارثاہ بدا 
ہے لے : ٰ 

وضرب لنا مثلاً ونسی خلقہ قال من یحی العظام وھی رمیم قں یحییھا النی 
انشاھا اول مرة وھو بگں خلق علیم( و رة تن :۸ے -۹ء )۔ 

"ین جاری ذجت بای بیانے اگ ور اپی لق ت کی عال کو بول گیا اورک کہ جب ہے 
ڈیاں گل م کر اک ہو جامیں گی ق بر بھلاکون ددبارہ زندہ کر سنا ہے۔ انے رسول کہ د وکہ ودی 
خداونھ زندہ کریا بجی نے جب تم یھ دہ تھے میں پکی مرعبہ زند کر دکھایا۔ دہ ہر طرحع کی پندالٹی 
ے واتف ہے 

قلامت پر ایمان رکھنا ہر مان کے لیے ضردری سے اور ونیاو آفر تکی عادت کا بائوٹ بھی 
ےکو کہ ہے گقیرم ر نے والاگناہوں نک از کے کی کو می زا تے اور اماعت کی طرف رانمب ہوا 
ہے دہ عدل و انصا فکی راہ بر چا ہے دوسروں کے جو قکی رغای کر ہے۔ اخلاق محیدہ ے ”صف 
ہو ناج مم ہے زریچے مال کے حول ک یکو ش کر سے اور تن االامکان فآ سو رذانئل سس پک 
رکڑاے۔ 

سے جات قرآن می کی متعدد آمات' بے شار اعاریث اور ڈذْراان رین کے اقوال سے وا اور 
رین مر کی مخردریات میں سے ےکم نس طرح قیامصت پر ایمان رکھنا ضردری سے ای رع ان تام 
اوں کا انتا تھی لازم ہت جو رسول اگرم س٦ل‏ ا علے وآاہ وم نے مات بعد از عمات اور قیامت کے 
سط میں ان فی میں فا ماب تال یں کا بات مں تھا امضاے نال بای کراب 
حشر صرال میزان ' شفاعت' جنت ؛ حوض جم وغیرہ ان سب منازل کی تفصیل مععلقہ دی کتابوں میں 


درح ےے۔ 








علچ دجں کی ا(جھیت 


بسم الله الرحمئن الرحیم () والعصر () ان الانسان لغی خسر ٥‏ الا الئیں امنوا 
وعملوا الصالحات وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر (ر7ا()۔ 

لم ہے مع رک یک انان کھاے میں ہے گگر وہ لوگ جو ایمان لا اور اڈ کا کرت ر سے 
اور ایک دوسرےکو مجن اور مھ رکی ری تکرتے رے۔" 

ہتارے نزدیک جن سے ہج کہ غداوند عالم نے ان تکیرانہ افعا یکوکسی خر د نایت کے یش اھر 
انام دیا بے اور انان چ ھکمہ عالم سف کی اشرف امفاوقات میں سے سے اس.. .لیے اس کی لق ت کی بھی 
و رش قد بے اور دہ خرش انسان کے لیے کوئی معنرچ زبھی نہیں ہو عت یک کہ معخر کم ہل یا 
تاج ىی سے صادر ہو متا ہے اور خداوند عالم ان چیزوں سے بالات سے لبذا دہ غفر ضکوئی مفید چز ول 
چا نیز یہ خوش غدادند عا مکی طرف عانہ میں ہو سح کیوکمہ دہ زات اقرس تام اخراض سے مستخنی 
بے اڑا لاکالہ ایق توق کی یہ فرش بندوں کی طرف عائد ہ ھی اور جوکمہ چند او سی 
سوا رنیدی فطیتی اخراض نہیں ہو یں اس لیے تخلیق لوت کی خرض بنیدی بھی نمیں ہو عق اور 
جاکہ بی غرض قام مقاصد سے معفلیم تر اور قمام فھتوں سے نیس تر ہے ہوبزا اس کا سول چر ایک کی 
سس میں نہیں ہبہ دی اسے عاص لک جتے ہیں جو اس کے سفق ہوں او رکوئی نس بنی مل ٤‏ 
ےکی کا سقن میں ہو مکنا اور مل کے لیے ضردری ہ ےککہ وو علم فقہ جانا ہو ہنا علم فقہ کی 

میں سب سے زیادہ ضرورت ہے (معالم الاصول)۔ +٠.‏ 

رت امام مھ پاقرعلیہ الساام نے فرایا اعم رین حاصل کرنے“ میبت پر صی رکرنے اور معائی 

می سیادہ روی انقیا رکرنے میں گال نام ہے'۔ 





توضیچالمسائل__ ا 2.3 ا 


حفت کام مھ باقر علیہ السلام نے جار سے فرایا ”اے جابراکیا صرف ب ہکھناکہ ہم ال بیت سے 
عبت رکھتے ہیں دعوئی شعبت کے لیے کانی سے ؟ غداکی تم جب م ککوئی شخس اشد سے نہ ڈرے اور 
ا کی اطاعت نہ کرے جار شیعہ میں ہو سکتا اور اے جابر ہہ فذاضع و فشوع' اوائۓ ابانت “کرت 
ذکر خدا روزہ* نمازٴ والرین سے بی ہساایں“ فقیوں>“ صکینوںٴ مقروضوں اور قیموں سے صن سلوگ“ 
قبل میں صدات' قرآ نکی عطاوت' لوگوں کے بارے می بی کے سوا سھ شہ کینے اور اپنے تال کی 
اشیا میں امین ہونے کے بخی رنمیں ہو ککتا۔ 

جابر ن ےکھا ” یابن رسول اش اس زانے می ایا آدی تکوگی نظ رنہیں ۲ 
اے جا !فاہب باطلہ ت مکو غرہب جن سے نہ بای ۔کیا ایک مس کے لیے می ےکنا کائی جک ہش 
علی کو درست رکتا ہوں اور رسول؟ عی سے بترمہیں؟ اگکر اس کے بعد رسول کی سیت کی چڑی شہ 
کر ے اور ا نکی سنت پر حل نہ ہو تو ضر کی محبت اس رھ فائدہ ط رےئد ااڈے رو ازرم 
ع ل کرو جو پل دا مترول ہو کی منص اور دا کے درمیان قرایت میں ہے خدا کے نزدیک سب 
سے زیارہ حبوب و رم دہ سے جو سب سے ذزیادہ بر نیز گار ہے اور مل ا سں کی زیارہ اطاعع ت کرنے والا 


آپ نے پرایا 


ہے۔ 


اے جابر ! اطاعت کے لغ رکوئی ممداکا مقرب خی ین سکتانہ اس کے بی راس کا جمارے ساتھھ ہونا 
بھی نہیں پرراشت میں اور نہ غدایرکوئی مجت ہے۔ جو ار کا نع سے وہ مارا روست سے تو انل کا 
گار ہے دہ جارا وشن سے عمل اور گار ی کے بفیہحاری ولای تک وکوئی نمیں پا کت" (اصول کال 
جار ُم۷“ مھ ورمٹ ۳) 

ععرت لام تعفر صاوق' نے فرایا ” جب دای بنرے سے گی کا ارارہ فیا سے پو اےے مم 
رین عطاکر ہے۔'' (اصول کی جلد فر ص۰ف سے عدعث )٣‏ ۱ 

عفیت لام تارق نے خر ”می ا بات کو پت کر ہو ںکہ میرے الب کے عرول پ 
کوڑے مارے جامیں کہ وو عم ین حاص لکرمیں۔'' (اصول کائی جلر فراص ۳٣‏ عدیٹ ۸) 

حخت اہام تنفرصاوق' نے فرالا ” عول و عرام کے بارے مس ایک جج نس سے یک حدیث 
من لینا دنا کے قام سونے چاندی سے بھترہے۔' (الھائسن )۔ 





ترم اما ہی [ 38 ا 


حطر لام شنفر صارق علیہ افسلام سے سی نے و کیاکہ میرا ایک اڑکا سے اور میں خوائش 
رکتا ہو ںکہ وہ آپ سے علال و عرام کے پارے میس پ جک اور نس ہزکی ضرورت ن جو ودنہ بت 
آپ نے فرایا۔ 'لکیا یں سے عام اور علال سے بھت بھی می چیہ کے بارے سوال ککیا ا ے؟" 
(ماہن) 

حفرت ایام تنفرصاوق علیہ السلام نے فرایا ” تمارے ویر عم وین ما لک ازم ہے اور تم 
کے سے رر وت ورد ان رو زقامت نظر 
رححت یہ کرے گا او رکوئی نفل اس کے فزدیک پاکگیزہ نہ ہو گا“ 

راو یکنتا ‏ کہ میں نے حخرت امام جمفرصاوق علیہ السلام سے عر کیاکہ مج ان ڈرائنسش کے 
بارس میں با دج جھ بندوں پر واجب ہیں آپ نے ةھایا۔ ”اللہ الاائلہ مر رسول اللہ ایل کی وی 
ماز چ گار کایام۔ زی ادائگی۔ نج ' رمضان کے روڑے اور ولابیت پیل تو مس ان ال پ 
لکنا ہت برائیوں سے باز درہتا سے تو ںکو افقا رکر ہج اور پرنشہ آور تن سے بی زکرم ہے وہ 
رای جنت ہو گا“ (ا دنقہ وا لھائن) 

الی اس !ہام پنفر صارق علیہ السلام سے روایت کرت ہی ںکہ آپ نے فرایا۔ تتوی* 
پہعیزگاری اور رین می ںکوشش پچ جا تکس الات اراکرنا سن غخلق' پڑ وی سے نکی اور نہ صرف زبان 
سے مہ ا مل سے لوکو ں کو رین کی طرف دعوت دا اپنے ایر لازم کرو۔ اپ آتھمہ کے لیے 
زیت جو اور ان کے لے باعث فک نہ یو۔ اپے روغ اور ججو رکو طول رو۔ جب تم انیس طول رت 
ہو حیطان تمارے تی سے کتا ہے لمات اس نے اطع ت کی اور میں نے نافرالی کی ای نے سرہ 
کیا اور میں نے سبرہ سے انکا ہکیا۔'' (اصول کی جلد غ٣‏ صفہ ےے عدیث ۹) 

جد مس یکو پپند ادر بر یکو ناپند کر ہے وہ مومن ہے اور اگ رکوئی حخس بدبی کا مرگب 
ہو ہے اور بعد می اسے نداہت ہوکی سے لو یہ فوبہ سے اور فو بہکرنے والا شفاعت اور مذخفرت ما تن 
ہے اور جو عنفس بد یکو بپیند نمی سک رآ دہ مومن نیس ہے اور جب وہ مومن نیس ہے نو پچھروہ سی 
شفاعت بھی نہیں ے۔ 

لی جصی رکنتا ےہ میں معفرت ایام خنفرصاوق علیہ اللا مکی شمادت پر ام تیدہ کے پا تحزیت 








توفزوالسائےے ہے ۱ ۰ را اتا 


کے لی کیا تو دہ روھیں ان کے رونے پر می بھی رویا۔ بچھراندو ںکھا ''اے ابو ! اکر ق نے اب عبدالڈہ 
کی شماوت کے موق پر اننیں دیکھا ہو ے ایک جیب چنز دنا امام نے انی میں کھولیش اور فرایا 
میرے خام اقار بکو شع کروں چنانچہ جم نے س بکو ش کیا نے ا نکی طرف ڈگ ہکر کے ذرایا ”ہماری 
شفاعت نماز میں کاپلی کرنے وانےکو ٹمیں یی ھگی۔*" (وسائل اشھ طجلر ۳ف ك۵١)۔‏ 








ترفیچالسائلےے ل[_ 41 ا 


تج 


ہسم الله الرحمٰن الرحیم ( الحمد لله رب العالمین' والصلٰوة والسلام علٰی اشرف 
الانبیاء والمرسلین ن محمد وآله الطیبین الطاھرین ٥‏ واللعنة الدائمة علٰی اعدائھم 
اجمعین من الأن ال قیام یومالدین )٥‏ 

حعفیت ام صن" ککری کا ارشمارے : 

عم کے لیے ضردری ےک فقما نی ایام شربیی کو تفیل ر تین کے ساتھ چانۓ وااوں 
یل سے ہجو مس ا ین کی طاظق تکرنے والا ہو؛ انی ففسالی خواہشات کا ان دہ ہو اور ا را اور 
رسول کا یضار ہو ا کی تقلی رکریں۔' 

اام زان عضرت مت علیہ السلام کا زان سے ٠‏ 

زانہ بت کبرکی میں پٹ آنے دالے عالات کے ممسلش جماری حدیشوں کو بیا نکرنے 
وانے علاء گی طرف رجو کر دک وکگمہ وہ میری طرف سے تم پہ مت ہیں اور میس ان' کی جانب سے آپ 
پ ثت ہوں۔'' 

مندرجہ بلا احایٹ مبارکہ کے پیش نظران نقام لوکوں پر جھ درجہ اتاد پر فائز نیس ہیں جائع 
الشرائیا جن کی تقل کر واج ہے اس کے بغیر ا نکی عبادات اور الیے قام اعمال جن میں تفظیر 
ضرددری ہے پل ہوں گے۔ ٰ 

شرعت کے فردی اعکام قاعدو ںکو تفصیلی دلیلوں سے جانے ک ہام اجار ہے اور تقد کے بنائے 
ہو اکا مکو بغیر ول کے جاتا اور بذی مل معلو مکرنا تذیر ہے۔ جو نیس رحبہ اجتار عاص لکرچکا 
ہو ا کیل لیر جانز ٹمیں اور جھ خود بجتتر نہ ہو اس پر تفر واجب ہے۔ اجتتار اور تیر کے علاوہ 











توشَيدائسنائل ۱ 2ه ا 


ایک ری صورت بھی محکن ہے نشی اعقیطا یر عم لکیا جا _یین ىہ برایک کے ہ ں کی بات تیں۔ 
اعشاط بر ودی نس مم ل کر سکتا ہے جو اختکانی سائل میں قاع تدین کے اعکام سے پودی طرع با 
ہو اور ایا طریقہ مل انتا رکر کے جس میں کال جسعیت پان جاتی ہو۔ نظاہر ہے کہ ىہ کام بھی تقربا 
اتتار بی کی طرح دشوار اور مکل ہے میں دددی صورتیں باتی دہ جاتی ہیں شی ایک اجار اور دوسری 
ھی 


پہرملمان کے سلیے ازم ہج ےکہ دہ اصول دین یر بر بنائے دیل انتتقار رکتا ذو اصول دین مل 
تفلید نہیں کر سکتا نینی ویل دریافت سے بی کسی ک یکبی ہوگی جا تکو قو لکرنا جانز خئیں۔ اہم جماں 
تک اعکام رین کا تلق سے ضروری مور قطبی اسور کے علاوہ جو مسائل پا ہو یت ہیں کسی نخس کے 
لیے ان سے عمدہ بآ ہون ےکی تین صورتیں ہیں۔ 
مل ١‏ ڈ گر تد ہو تق بر بیاۓ وٹیل مہ ےکر ےکہ زم نظ ر لہ کے بارنے میں شی عم کیا 
ے : 
مہ ٠ ٢‏ مھت کی تل رکرے نی ریل طلب کیے بفیراس کے فنڑے پر مم لکرے۔ 
مل ۳ ازراہ اعقیط انا فربیضہ یں اداکر ےکہ اسے ٹین ہو جا ۓےکہ اس نے اپنی ذمہ داری 
پر ی کر دی سے غلا اکر چند ند کسی عم لیکو عرام قرار دی اور چند ددسروں کاکمنا ہ وک عرام نمیں 
سے اس عحل سے باز رہے اور اگ رکی مم ل کو بحض بد وابنب اور لب تح بگروائیں تے اے یا 
لاے۔ ابززا جو اشخا نہ نز تد ہوں اور نہ بی اضیاط بر مل برا ہو گیں ان کے لین اجب ہے کہ 
کی تق رکریں۔ 
سمل ٣‏ : ڈ ام دن کے ارے میں تق کا مطلب یہ ہے ک ہنی بجقھ کے فویٰ پر گل کیا 
جلۓ۔ ضردربی کہ نس مھت دک تقلی د کی جاۓ دہ مرد۔ با“ ماطل'غ خیعہ اشائشری' طال زار“ زیرہ 
اور عاول ہو۔ عاول وہ شنس سے جو ان تر قام اما لکو بھا لائے جو اس سر وانب ہیں اور ان پا ںکو ترک 





توضییالمسائل____ ) جهھ] 


کر رے جو اس پر ام ہیں۔ اور اس کے دل میں ایمان ہما درسول وخوف دا اس طرح را ہو جو 
کہ ا یکو تییوں پر اکسہاۓ اور برائیوں سے دور رھے۔ عاول ہون ےکی نثائی ىہ ہ ےکہ وہ بظاہر ایک 
اما نس ہو اور اکر اس کے ال مہ یا ہمسایوں یا ان لوکوں سے اس کے بارے میس وریافت ہکیا جاۓے 
اس سے عمل بول گے ہوں لے وہ ا کیاکی قمدی قکریں۔ 

گر درپیٹی مسائل کے بارے میں ج0“ معلوم ہوکہ وین کے فڑے ان کے متحلق ای 
دوسرے سے ملف ہیں فو ضردری ہے |. اس مھت دکی تقلی کی جا جو اعلم ہو لشنی اپنے زانے کے 
ددسرے ہمتتدوں کے متقالے میں ا٥کام‏ اپ یکو ج نکی مت رصلاحیت رکتا ہو۔ 
مہ ھ۵ ٠‏ مت اور اش مکی ببپان من ظریقوں سے ہو علق ہے۔ اول یہک ایک مخصس ور 
صاب علم ہو اور تد اور اعم کو پان کی صلاحیت رکتا ہو۔ روم ہ کہ دو اشقاص جو عالم اور عاول 
ہوں اور جنتد اور اع مکہ پان کالہ رکھتے ہو ں کسی کے تد یا اعلم ہون ےکی تمدی نکر بش یہ دو 
اور عالم اور عاول اشفائس ا نکی تردید ن ہککرییں اور بظاہ کسی کا جنتد یا اعم ہونا ایک ایل اختار شس کے 
قول سے بھی مابت بد جانا ے۔ سوم ہ ےک کچھ ایل علم جو تقد اور اع مکو پان ےکی صلاعیت رت 
ہو کی کے تقد یا اعلم ہون ےکی تقصدب نککریں اور ا نکی تقمدتق سے انان معن ہو جاۓ۔ 
مل :٦‏ اکر جیتروں کے فپڑے مطلف ہونے کا ملا“ علم ہو اور اعلم کا شیاش کر بھی مشکل ہو 
اعقیا کے ملابق عم لکرنا ضردری ہے اور اکر ایالط تن نہ ہو تو اس شف س کی تلید لازم ہے جس 
کے بارے میں اعلم ہونے کاگمان ہو چگہ اکر ضیف سا ال بھی اس ام رکا ہوک ایک من اعم سے 
اور روسرا اس کے مقاسپلے میں اطم نمیں ہے نو ا سکی تی دکرنی چاے۔ 
مستلہ سے :می بھتد کا فی حاص لکرنے کے چار طریلق ہیں۔ کول خود تد سے (اس کا فڑی) 
نا دوم ایی و عاول نشخاس سے سنا جو جننھ کا فی با نکریں۔ سوم (جتد کا فو کسی ای نس 
سے سنا جس کے قول پر انان ہو اور چمارم اس فی کا تد کی مسائل کے پارے میں تر ےکردہ 
اب میں بڑھنا پش ریہ ا سکاب کے درسٹ ہونے کے بارے میں ا ینان ہو_ 
متلمہ ۸ : جب نفک انا نکو ہہ نین نہ ہو جا ےکہ بل کا فی تبدیل ہو کا ہے دوتاب میں 
کیہ ہریۓ فڑئی بر عمل کر سکم ہے اور گگر فوئی کے برئے جانے کا اعل بد قذ چان ین ضروری 





توضیحالمسائل 7 ۱ )| 44 9 


میں۔ 
مل .- مر مجیتد اع مکوئی فقوئی رے فو اس کا مقلد اس مہ کے پارے ہیں کسی دوصرے بد ۰ 
کے فو بر میں نی ںکر ککتا۔ نام آمر وہ (یشن مجبتد اسکم) فنوی نہ رے مہ مہ فا ےکہ اط ای 
ا میں ہ ےکہ ہیں ش لکیا جاۓ شفا ىہ فیا ےکہ اعقالط اس میں ہ ےکہ نما زکی کی اور دوسری رکعت 
یس سورہ مھ کے بعد ایک اور پھری سور پڑھھ تق عقل کو چا ےکہ یا اس اط پر (ے امتاط 
داب کت ہیں) خم لکرے۔ بای ایی دوسرے تن کے فتےئی رگ لکرے ج کی ید چائز ہو۔ 
پی اکر وو زین دوسرا بھتد) فا سورہ مرکو کانی کھت ہو قر دوسرا سورۂ تر ک کیا جا کنا ہے۔ اکر تد 
اع مکی مہ کے بارے میں ىہ فیا ےکہ گل نل یا کل شال سے تر اس کابھی بی مم ہے۔ 
مل ٭ : گر جد اعل مکی مہ کے بارے میں فتوئی دیے کے بعد یا اس سے پل ایا طھرے 
طخلا یہ ذرا ےکہ خجس برتن اییے پالی می من سکی مقداد ای کر کے برابر ہو ایک مرجبہ دھونے سے پگ 
جو جانا ہے اگرچہ اعضاط اس مس سہ کہ ین مرحبہ دہوے تو مقلد اس ام رکا بیاز ہجےکمہ اعقیال کو ترگ 
کر رے۔ ا شع مکی اق کو ایاط مب ککتے ہیں۔ 
مل ١۱‏ : گر عرقع تید فوت ہو جائۓ و اس کے مقلد پر واتب بب ےک فا زنرہ تہ ال مکی 
تظی رکرے خواہ وہ نت مردہ نتر کے معلم میں برابر ہو ناکم ہو یا زیادہ ہو 
متلہ ۱١‏ : جن سائئل سے انسا نکو عو سابقہ پڑ پا سے ان کا یا رکر ینا داب ہے۔ 
میلہ ۰۱۳ ا رکی خ سک وکوئی ایا منلہ یٹی ہے جس اعم اسے معلوم شہ ہو تو لازم تج 
کہ اق طکرے یا ان شرائا کے مطابن تخلی رکرے جن کا وکر اویر م کا سے لیکن آمر اسے ام لور یر 
اع مکی آرا کے ملف ہونے کا جمھلا'علم ہو اور ما کو ڑب یکرنا اور اتیالط ینعم لکرن بھی من نہ 
ہو اور اعم تک رسای بھی نہ ہو کے نے غیراظ مکی تقلیر جائز ہے۔ : 
مّذ “٢‏ ؟ اگ رکوئی مخ س کسی مجبن رک فو یکی دوسرے شف کو جاے لیکن مجن نے اپا سابق 
فی برل دیا ہو تز اس کے لیے دذمرے شن ں کو فی کی تب بی کی اطلاع دینا ضروری نیں۔ لان گر 
فزیی جانے کے بعد ہہ وس ہوکہ (فزیٰ چاے میں) شض ہوگنی سے نو یں نف غکن ہو اس خلشی ک۷ 





توفیچالسائلےےے ). کھه ] 


ازالہ توری ے۔ 

مسکتلہ ۱۵ ؟ آئ کی مکاف ایک مردت کک بفی کس یکی تحید ییے اعمال با لا رس لن پور 
جس بی بھت کی تل کر نے اس صورت میں اگر جنتد اس کے مگزشمہ مال کے بارے می عم 
ا کہ دہ کچ میں نز وہ جج تصور ہوں کے ورنہ پاظل شار ہوں گے 


امام ارت 
۔ ملق اور مضاف پالی ۱ 


مہ ۰۱١‏ پلی إ معلق ہوا سے با عضاف' مضاف پائی دہ ہو ہے ےکی ہز سے حا لکیا 
جاۓ مشلا تربوز کا پائی یا گاب کا عرق/ اس بل یکو بھی مضاف کت ہیں ج وی ددسری چڑ ے لا ہوا ہو 
شا دہ پالی جو ای عد تا می دفیرد سے ا ہوا ہوکہ پچھراسے پالی نہ کھا جا کے جیسے سیچڑوغیرہ ان کے 
علادہ جو پالی ہو اسے آب ملق کت ہیں اور ا س کی پاچ تیں ہیں۔ اول آج بک مجن دہ پاٰی خس گی 
عقرار ای فکر کے برابر ہوں روم آب قکیل (لجنی تھوڑا لی“ سوم جاری پا چمادم بارش ک پان اور جم ٠‏ 
کنویں کا پلی۔ 

٢۔‏ کر جتامال 

مستلہ م١ ١‏ ہج لی ایک ایے برق یکو بھروے جن سک اسبائی چو ڑائی او مرائی ساڑھے تین بالشت 
ہو ا یکی مقدار ای کک کے پرابر گی اتی ہے۔ ات پانی کا وزن تقیبا ٣‏ ٭٭ کی وگرام ہواے۔ 
لہ ۱۸ ١‏ ال رد یز مین فُس ہو خلا غاب پا غون یا دہ زج جس ہگ ہو جی ےکہ ٹس 
ابا ایے پالی می گر جاۓے ج سکی مقدار لی کر کے برابہ ہو اور ای کے نیج میں خجاس تک ہو رگ 
! ذاکقہ پالی مس سرای: کر جائۓ تو پالٰی ٹس ہو جائۓ گا گن اکر اڑ یکوئی تبدٹی واتع نہ ہو تو جس 
نہیں ہو گان 


مل ۱۹ : اکر ا بے پالی کی یو رتک یا زالمقہ نس کی مقدار ای کر کے برابر ہو مجاست کے علاوہ 








ترضیح‌المسائل سے ےس سمل جا نا 


کسی اور یز سے تبدیل ہو جائے فو دہ پالی خجس نہیں ہو گا۔ 

مستلہ ۲٢‏ : اگ رکوئی زج میں خس ہو شا خون ابیے پانی مم سگمرے جن کی مفدار ای فکر ست 
زیادہ ہو اور اس کی بہوٴ رنگ یا ذاکقہ تبدی لک وے تے اس صورت میں آگر باٰی کے اس طح کی مقدار 
نس م ںکوئی جب یی واقع نیں ہوکی ای ف کر س ےکم ہو ت سادا انی خس ہو جائے گا نر اس کی 
قدار ای کر یاای سے زیدہ ہو صرف وہ حصہ جس متمور ہو گاج کیب نگ پا اکقہ دی موا 
ے۔ 

مل ٠ ١٣‏ گر فزارے کا پانی (زمنن وہ پانی جو جوش مار کر فمارے کی شل میس انجل) امت 
دوسرے پانی سے مکل ہو ج سک مقدار ای کر کے برابر ہو قذ فوارے کاپانٰی شس پا یکو پا کک دا ہے 
ین اکر ٹس پالی بر فارے کے پالی کا ایک ایک قط وگمرے تو اسے پلک می کرت الیتہ اکر فوارے کے 
سام ےکوئی یز رکہ دی جائے نس کے تنج میں اس ک پائی تطرہ تطرد ہونے سے پل ٹس انی سے مل 
ہو جائے تو خس پا یکو پا کک رتا ہے اور بھرہ ‏ ےک فوارے کاپانی فجس پالی سے ملوط ہو جاۓ۔ 
مستلہ ۴٢‏ :۰ آگ رکی خس کو ایک ایے خضل کے نے دہوسیں جو ایی ( پک ) پان سے لا ہوا 
ہو ن کی مقدار ایک کر کے با ہو اور اس نکی رحدون اس پانی سے مل ہو جائے جن سک کی مقدار 
کر کے برابر ہو فو وہ دعوون پاک ب گی بشرطیلہ اس میں ماس تک ہو رن یا زاکتہ پدانہ ہو اور نہ تی 
ای میں مین نجاہ تک ایل ہو۔ 

مکل2د ٣٢‏ ۰ اگر آب کر (یننی دہ پالٰی جج سک یکم ا زکم مقدار کر ہو ) کا یھ حصہ جم یھ جرف من 
جائے او جو تصہ پا ی کی شل میں باتی رہے سے ا س کی مقداء ای ک کر ےکم ہو و وأ ں کوئی خرامت ای 

ا یکو پھون گی دہ خجس ہو جاۓ گا۔ اور برف مان پر جو پالی بے گا دہ بی خس ہو گا 

لہ ۲٢‏ : گر پل کی مقدار ای ککر کے برابر ہو اور بعد میس تک ہ و کہ آیا اب بھ یکر سے 
امہ سے ما یس تق ا کی حیثیت ای ک کر پالی ی کی ہو گی شی دہ مجامت کو بھی پا کفکرے گا اور 
خلت کے اتصال سے خس بھی میں ہوگا۔ اس کے برنس جو پالی ایک کر س ےکم تھا گھر اس نے 
معحلق کیک ہوکہ اب ا سکی مقدار ای کر کے پرابر ہو گی ہے با نی تو اے زی کک ےکی تا 








توفیچالسائل___ےے_ (. تھا 
جائے گا 
مل ۲۵ بی کا ای ککر کے برابر ہونا وو طریقوں سے خابت ہو سکتا ہے۔ اول ب کہ انسا نکو 
خود اس پارے میں لین ہو اود دوم ہ کہ ذو عاول عرد اس بارے میں خبردی یکہ پا کی مقدار ای فک 
کے برابر ہے مہ ایک عرد عاول پاکسی مال اختار شس ک اکنا بھی کائی ہے۔ 
٠.‏ مضیل انی 
مہ ۳۷ ٠‏ آب کیل طینی تھوڑا پان دہ پانی ہے جو زین سے نہ اللہ اور جن سس کی مقدار ای ککر 
ےکم ہو۔ ۱ 
متلہ بے ٠ ٢‏ جب آب فی لکی خی چنزیبےکرے ناکوئی خس زاس بآ نگمرے تو لی خس 
ہو جائے گا۔ البتہ آگر پالی خس زیر زور ےگرے تر اس کا بقتا حصہ اس خس نز سے مل جائے فا خس 
ہو جائے گا لان باتی یک ہو گا 
مل و.-- و آب ٘یل کی جز بر مین خجامت دو رکرنے کے لیے ڈالا جا وہ مجاہت سے یی 
بدا ہونے کے بعد ڈس ہو جانا ہے لیکن وہ آب تقبل جو مین خجامت کے انگ ہو جانے کے بعد ٹن 
کو ہا ککر. نے کے لیے اس پر ڈالا جائے اس سے جا ہو جانے کے بعد دہ بھی خجس ہو گا 
متلہ ۲۹ : مس پالم سے غاب ىا اغانر کے غارع ہونے کے مقات دوئے جایں دوککرنے 
والا لی 25 ےج - عار]”' یم پہ رہ جانے والے نطرلت اور رطویہت پگ ہے۔ 
۴ جاری پا ی 
جاری پا دہ ہے جو زین سے ال اور ہت ہو بش ریہ اس کے تچ کم ا زم ای فک کی مقدار 

لی یش زنر" رے۔ فا جیٹے ک پان یا کاریۃ کا پلی- 

1 متلہ8 ٣‏ ؟ گر خلت جاری ای سے آلے زا کی اتی مقدار نس کی ہو رتک یا اہ 
خیاس تکی دجہ سے بدل جائے ٹس ہے۔ البتہ اس پائی کاوہ حصہ جو جٹے سے متعمل ہو پک سے نوا 
ا کی مقدا ھکر ۔: ککم نی کیوں نہ ہو دی کی ددھری طرف ک پان کر ای ککر جتتا ہو یا اس پالی کے 





ترضیںالمسائل 7 ِ_ ُ۶ 


ذریے نس می ںکوئی تتبدیی ود رٹک نا ذا کے کی) داٹع نمی +وئی جش ےکی طرف کے پالی سے سا ہوا ہو 
اک ہے ودنہ خس ے- ۱ 

مہ ٣‏ : ری جنے کا نی عادی نہ ہو لکن صورت یہ ہ کہ اکر ای میں سے پائی ہل لیس 
ق ددبارہ اس کا پالی انل با ہو تو وہ ھی جاری پانی کے عم میں ا سے جن کر فلت اس بت 
جب تک اس نحاس تکی وجہ سے ا لک ہو رنگ یا ذاکقہ برل نہ جائے پگ ہے۔ 

مکل ۳٣‏ ؟ نری یا ض رک ےکنارے کا پانی جو ساکن ہو اور جاری پائی سے مل ہو ال وقت کاب 
خس نمیں ہو جب کک کسی خجامت کے آ سمل نکی دجہ سے ا سک بوگ نگ با کہ تبدنی ظہ ٢‏ 


جاۓ۔ 


مل ۴۳٣٣۳٣‏ مر ایک اییاچشمہ ہو شال کے طور پر مردی میں انل پان ہو" نان سردی ١‏ از زی 
(ہ دنیں فی محسوس ہوتی ہے ) می اس کا جوش شحم ہو جاا ہو ودای وقت ناد بی پالی کے تم میں 
آ نے گا جب اس کا پالی ال پٹ ہو۔ 

مستلہ ۳٣۴‏ :۰ اگ ری عام کے چوے کا بای ای کک سکم ہو لکن وہ پان کہ الیک ابی زغیرے 
سے قسل ہو جس کا پانی حوض کے پانی سے لک ای فک بن جانا ہو فو جب کک نحاصت کے مل جانے 
سے ا سک بو رگ اور زالتہ تبدیل شہ ہو جا وہ خُس میں 

مل ۵× مام اور ئمارات ھ2 نکگوں کا پالی جھ ٹونیوں اور شماور کے ذر یھ متا ہے اکر ای 
حوسشضس٭ کے پانی سے مل کر جر ان نکھیں سے حتھل ہو ای ک کر کے براء سو جاۓ ب نکھیں کا پالی بھی 7 
کے باب پالی کے عم میں شال ہو گا 

لسر ہھ انی نین بر بس را ہو لن زین سے ن لت ہو لمر دہ ای کر ےگ ہو اور 
اس میس مامت مل جائے فو وہ فس ہو جائے گا ان اکر وہ پالی جزی سے بس دبا ءو اور شال کے طور پر 
گر جات اس کے کے تد گے تو اس کا اویر ال حصہ شس میں ہو ہو 


۵- پارش کایالی 


مہ سے ۳ ٠‏ جو زٹس ہو اور مین خجابت اس مس نہ ہو اس پر جماں .آءاں پاری ہو جائے 





۔سسمہ ح6 





ترضیچااحسائل )٤4ا‏ 


اگ ہو جائی ےت اور فرش اور ماس وظیرہ کا نمچ ڑنا بھی ضردری میں بے۔ لین پا ا کے وو تی 
: شر ال یں پک اتی اش موی ےک لوک کی کی و کن 

مہ۸ :گر پر کاپ میس خس پر سے اوہ رو دنر جگ۔ مھ پیں لین مین 
جامت اس میں شال نہ ہو اور اس کی ہو رگ یا ذاحقہ بھی اس مس پیدا نہ ہوا ہو تو دہ پاٹی پگ 
ہے۔ ہس لک بارش کا بای عون پر : سے سے پھیلٹے و اور ان میس خون کے ذدات شائل ہول یا ین 
کی ہو نف یا ذاکقہ پدا ہو گیا ہد تو دہ پالی جس ہو گال 

ہل ٣٣‏ : ہر مان کی ُا ا ہلائی تپ ین مات موجور ہو پو بارنل کے دوران تو پالی 
غائرت تو عوکر گی ہد 1 ات کر ا کن : سے نام کخم جا لے اور 
آ کہ اب و پا یگ را سے د وی ٹس یکو چچھ کر آ را ہے تو دہ بای خجس ہو گا۔ 
مل ۴٣‏ : جس جس زشن پر بارش بر جات یاگ ہو جاتی سے او ر لک پا انی زین پر 
7 سو و سی + مود طیلہ ابھی 
پاش ہو رنں ہوب 

مل ۴۱ ۰ جو غس می بارش کے ذریے یی شکل اتقیا رکر لے دہباک ہو جاتی ہے۔ بش رط 
اس مس جن خجاست موتورۓ وہ 

متلہ ۴۳ ٠:‏ ار بارش کا بای ایک تہ جح ہو جاۓے خولہ ا یکی مقدار ای مر ےکم و یکیوں شہ 
ہو اور بارش برتے میں کوگی ٹس یراس میں دعوئی جا اور پاٹی مجاس ت کی ہو دنک یا ذا تہ قول نہ 
کیہ فو وہ جس چتزیاک ہہ جائگی۔ 

مس ٣۳٣‏ : آلر فس زین بر گے ہوئے پاک فرش بر بارش برسے اود اس کا پانی ٹس زھین یہ 
پنہ گیہ ق فرش بھی غس خی ہو ما اور زشین بھی بک ہو جائۓےگی۔ 


٦س‏ کنویں کا پا ی 


سل ٣٢۳‏ : ایک ای کنوسں کا پالی جو زین سے ایا ہو مرچہ مقدار میں ایک کر سے کم ہو 





توضیح‌العسائل 5 [_54_ ا 


خیامت پڑنے سے اس وقت کک جس میں ہو گا جب کک اس خحات سے ا لک ہوٴ رگ پا ڈاکتہ 
دی ن ہو جاۓ لان صخب یہ ےکمہ محض خجاستوں کے گرنے بر کنویں سے اتی مقدار من پالی 
ثول میں جو مفص ل کمابوں میں درع ے۔ 

مستلہ ۵ ۴ ڈ ا رکئی مجلس تکویں مم گر جا اور اس کے پا کی ہو رک یا زاس کو تبدیی 
کہ رے قوج ب کنویں کے پالی مں چدا شدہ مہ تد پی تح ہو جا گی پانی اک ہو جائے گا اور ضروری 
کہ سے پل یکنو سن کے سو تے سے اننہ وائلے پالی میں فلوط ہو جاے۔ 

متلہ ۴٣‏ : گر رش ک پانی ای کگڑھے میں جع ہو جائۓ اور ا کی مقدار ای کر سی ےکم ہو نز 
بارش تن ہے بعد خجاس تکی آمیزش سے جس ہو جاۓ گا 


لک اعم 


متلہ سے ۴" : مضاف پا یی خفس کو پک خیی ںک اود ضہ سی ایے پالی سے وضو اور تس لکرنا 
کس ۱ 

مہ ۴۸ : ضف پل یکی مقدار خواہ کتتی بی زیادہکیوں نہ ہو گر اس میں نجامت کا ایک ذدہ 
بھی پٹ جائۓ نز خُس ہو جانا ہے۔ البتہ اکر ایا پا کسی فُس جز بر دھار کی صورت می سعمرے آڑ اس کا 
با لی جس جز سے مل ہو گا جس ہو جاۓ گا اور جو مل نیں ہو گا وہ اک ہو ما خلا آمر ہرقی 
گلا بک گلا بران سے خٌٗس اتھ بر چھٹرکا جاے نو اس کا تنا حصہ اف ھ کو گے کافس ہو گا اور جو یں 
گے گا وہ یک ہو گا۔ 


مہ ۹ ٠‏ اکر وہ مضاف پانی جو جس ہو ای کر کے باب پان با جادی پان سے میں مل جا ےکہ 
چھراسے مضاف پائی نہ کما جا گے نو وہ پک ہو جاے گال 


لہ *ھ ٠‏ اکر ایک پانی علق تھا اور بعد میں اس کے بارے میں ہہ معلوم نہ ہوکہ مضاف ٭ 
جانے کی حعد تک تنا ہے یا میں تو وہ ملق انی اور ہو گا نی جس جچ کو یا ککرے گا اور اس سے 
وو اور یں کر بجی 2 ہو گا اور اکر لی مضیاف تھا اور ہے معلوم لہ ہوکہ وہ معلق تھا یا نمی وو 








ترضیحالمسائل ات 


سز اق فور گا کش ق سی 7 ج کو پاک ممی ںکرے گا فور ای سے وضو اور تق لکرہ بھی تج 
پت 

مستلہ ۵۱ :کیا انی ض کے ارے میں معلوم نہ ہوک ملق ت پا شاف حا ت کو یگ 
4 سو و مت میں جوض یکوگی خجاست ائیے بای سے 1 لق ہے وہ 
نس ہو با ہے خواہ ا کی مقدار آی فک یا اس ستے زیادہ تی کیوں نہ ٭- 

تل ۴ھ ڈ .کیا پال نی میس خون پا شاب تی عیں حجاست آ بڑسے ادر 0 0 دی 
زائقہ ہپ لک رے خس ہو بانا سے خواہ دو . عقدا کر یا جاری پالی ب یکیوں نہ ہو۔ تم لہ اس پا کیا 
ہو رک پا زاکتہ ۶ ی خات ہے ضر ا ماپ با ری 


او ین اس کیہ نلیھانت وہ پالی نس خی ہوگ۔ 





سل ۵۳ : وہ انی جس میں نین خجامت شل نون یا یخا بگہ جاے اور ای گی ہو' دنگ یا 
زائیقہ تہ لکردوے۔ ارہ تہارکر ا جاری پالی سے مل ہو جائے ما بات ک پاٹ اس پ بر جاۓ ىا 
ہوا پارشش کا پالٰی ای پ 7 گمرائے یا بارش کا پالی اس ررران ٹل < ا سنہ پڑ ہا تو نان سے اس پ4 
گھرے اور ان تام ضورتوں میس اس میں واتح شدہ یی زانل ہو جاتے تو ایا انی پگ ہو جا سے 
نان ات صتق بکی جا نز اہ ٢ہ‏ بارش کا نی .متا ہکر پل یا جاری پائی اس میں فاوط :ہ باے- 


سیل ۱ن ؛ پر کی جس ہزک .متا دک پل ا جادی پالی میں پا ک کیا جانے نو دہ پالی جھ 





سیل ۹ن تتت سور اور کاف رکا جوٹھا یس ہچ ہے اود ای کاکھانا اور یا عامج تر تا مگوشت 
ہاندروں کا جوٹھا پک سے اور گی کے علاوہ ایی ” تم کے کے باتی تمام جاندروں کے جوڑھے بن کا کداتا اور بنا پناکروہ 


1 


توضیحالمسائل ).. تہ ا 
بیت الام کے اکام 


مل ےہ : انان پر واجب ہے کہ پشاب اور پاغادر چھرتے وقت اور ددسرے موائحع پر انی 
شر گاہوں کو ان لوکوں. سے جو بالغ وں خواہ دہ ماں اور بھ نکی طرح اس کے رم ہی کیوں شہ ہول 
اور ای طرح باگل افرار اور ان بہوں ے جو ایتے برک ےکی تین رھت ہوں چ اکر رے۔ لیکن بیوی اور 
شور کے لیے اور ان لوگوں کے لیے جو جیوبی اور شو ہر کے عھم میں آتے ہوں شلاکییراور اس کے کک 
کے لیے اپی شردگاہو ںکو ایک دوسرے سے چھان لازم خمیں۔ 

مہ ۸ھ : نی شرمگاہو ںکو کی مخنصوس ہز سے رانا لازم نیس لا اکر ات سے بھی 
ڈھاپ لیا جاۓ آآکالی ے۔ ٠‏ 

مل ۵١‏ : پیثاب ما پاغائہ کرت وقت بدن کا گلا حصہ اتی پیٹ اور سید نہ رو بنتبلہ ہونا 
جا اور شہ پش .تید 

متلہ ٠۰‏ ؟ ار پغاب ما اخانہ کرتے وق ت کی نخس کے پرن کا الا حصر رو بقل با پشت 
بقل اور وہ اتی شم رگا کو تی طرف سے موڑنے فو مہ کالی نہیں ہے اور اگمر اس کے پرن کا آگلا 
حصے رورهله پا شت ہفبلە کہ ہو ل9 اعیاط واجب ے ےکلہ شرمگاء کو روبقبلہ یا رت بقبلهہ لہ 


مووے۔ 
مل ١‏ اس بات میں اعقاط سب ہہ ہ کہ استبرام کے موںع پر جس کے ادکام بعد ہس بیان 
یی جامیں کے اور شاب اور پاخانہ خارع ہونے کے مقلاتکو پا ککرتے وقت پرن کا اگلا حصہ رو 
بقل اور پت بقبلہ تہ ہو۔ 
مل ٣‏ آلر اس لی کہ نا حرم اسے نہ دیکے رو لہ یا پشت بقل شی پر جور ہو از می 

: جائے۔ اسی طرح اگ ر سی اور ود سے روبقبلہ ىا یشت بقہلہ ٹن پر مور ہو ق مھ کوئی حرح نھیں۔ - 
مل ٣پ‏ اعقط داب ہہ ہے کہ چے کو رخح عاعحت کے لیے روبقبلہ یا پشت بقبلہ نہ 
بٹیھاے۔ پل ار پچ خودبی اس طرح یھ جائئے فو روکنا واجب نمیں_ 





توضیالمسائل___ _ إ[_53) 


مل ٦٢‏ . نجار تجھوں پر رح عاعت عرام ہےے- 

...١‏ بب گوں ض ج بکہ صاجا نکوچہ نے ا لک اجازت نہ دی ہو- 

×..۔ می من سک زین می ج بکہ اس نے دٹع عاد تکی اجازت نہ دی ہو۔ 

لم من تگھوں می جو چند نخحصوس جماعتوں کے لیے وتف ہوں شا بض بررے۔ 

٭...۔ موخ نکی قروں کے پاس جب کہ اس فل سے ا نکی بے حرمت ہوٹی ہو 

بی صورت پر ای تمہ کی ہے جں رع عادت وین یا نرہ بک کسی مقدس چک 

اون کا موجب ہو 

تہ ٦٦‏ : تن صوروں میں باخانہ خارع ہوئے کا مقام (مقعد ) فظ پالٰ سے پاک ہو ے۔ 

ا پاھانے کے ساخ ‏ کوگئی اور مجامت خلا (خون ) باہ رآکی ہو۔ 

۴... کوک مد خجاست بانانے کے مخ بر نک گی ہو۔ 

۳... پاھمانے کے مرج کے اطراف معمول سے زیادہ تآلودہ ہو گے ہوں- 

.من من صورتوں کے علادہ پاھانے کے حرج کو ىا نز پالی سے دہویا جاسکتا ہے اور یا ال 
طریےے کے عطابق جو بعد یں بیا نکیا جا گاکپڑے با چھروقیر: سے بھی صا فکیا جا کتاٴ 
ہے آکرچہ پالی سے دہوہ مترہے۔ 

متلہ ٠ ٦٦‏ غاب کا مر بانی کے علاد کسی نز سے پاک میں ہو۔ گر پالی ہہ منقدا رک کے ہو 

پا جاری ہو قزر غاب آنا شحم ہونے کے بعد ایک وفعہ دہون کانی سے لیگن آب تقیل سے دو مرح رھونا 

وادب ہے اور ریہ بج ےکم ین ھرتبہ دھوتیں۔ 


مہ 


۳ تہ ے ۹ ٠‏ ار مع دک بای سے دعویا جاۓے ذ ضردری ہ ےکہ پاخانے کاکوگی ذرہ بات ند دسے 
الب رگ یا بو باقی رہ جاے فکوئی حرع خمیں اور گر بی بار ہی دہ مقام یں دعل جائ ےکہ پاغائے کا 
کوئی ذرہ 7 نہ رے ا ووپارہ رگونا لازم نت 

لہ .ے ہر دھیلامکپڑا یا اتی خی ددسری نزیس اگر تک اور یک ہوں نو ان سے پاغانہ 
مارق ہونے کے مقا کو و ک کیا جا سنا سے اور ان میس صعموی نی بھی ہو جو پاغانہ خارع ہونے کے 





ےم 











تت کے زایاں پالوک نا مھ “ 


ڑرے۔ 

+۷۸ رم مادت 0 ک 20ھ 

ری زع وحااب تق علاوہ آ یف 
وہ ہے جیچ 


کم ارر راس 
1 کت 
ان ور امہ 


2 یس پاوں یر 






پا بکر روہ ج۔ 
مر بین کے لی ےبمل طورر مرہو ۶7م 


مع ۲ 1۸۸ ری گا نس ہیں گہی۔ 
)٢(‏ ثاب )٢(‏ پاغانہ 


یح سی ںی ۱ رہ۶ ا ۱ 
اڈ (۴) آرار 
(۵) خرن )٦(‏ کا 
2ب مو )(۸) کائر 
(۹) ٹراپ (۳) فا (خمرشرا ج وی شراب ) 


إ۔ہ ٢‏ پیٹاپ اورپاغائر 


مل ۵ یناب اور باغاد نہ انان کا اود ہرال حوان کاٹس کاگوشت جرام ہو اور اس کا خون 
رکں میں رتا ہو (شق آکر ا کی رگ می جائے فو ٹون اع ل کر لہ فس ہے) لیکن ان حیوانوں کا 
شاب اور پغانہ پاکگ سے جن کاگرشت عرام ہے۔ گر ان کا ٹون مرگوں میں فیس ہوا۔ (شلا رہ لی 
س اگ اشت قرام .)اور ال طر عکوشت نہ رکئے دائے چھوئےے حیوانوں ملا نچھ راو کسی کا فضلہ 


جو 
متلہ 7۳ مج پندوں ککاگوشت عرام ہے ان کا غاب اور فضلہ پک ہے۔ لین اس ے 
ہریز پر ہے۔ 


مل ۸٤۷‏ : خجلت فور عیوان کااور اس جھڑک بورم اور اق شس نے سورلی کا دودھ پا ہو 
یس ہے۔ ای طرع اس خیوان کا شاب اور پاخانہ بھی خس ہے جس س کسی انان نے بدنل ی کی ہو۔ 
٣‏ می 
مل ۸۸ء ال نکی اود رای چاو ری می فیس ہے جس ک خون رکوں می راہ ردنا 
ہدتے وقت ا کی . ٭۔ رگ ے) لے۔ 
۴۔- فعروار 
کے لہ ۸۹ : انسا نکی اود رکویں میں خون رکھے والے ہر میوا نکی لا فُس ہے خواہ دہ (ت ری 
۰ طور پر غود ما ہو با نوا ن گی صورت میں) شرع کے مقر رکرو طریتتے کے علا ہی ری سے ز کیا 
7 میا ہو بھی نگم ؛گوں میں خون میں دکھتی اس لیے پالی ہش بھی مرجائے تو یک ہے۔ 











جس و یا 


جا سا )( ٭ہ ا 
ترضیں‌المسائلِ ہے 


٦-ے۔-‏ تاور سور 


مل ٦‏ : 508 ٘ ْ 
اور رت بجی فیس ہیں الہ درا الد سد اک یں 
۸-کثر 
مل ے ۸ا : رق و خس جو را رسول ن۸م کاو ارر امت ٣‏ تر ہو اک یکوخدا 
تما ٢‏ ری ںگرداتا ود غمس سے ورای طرح ظة رشن اگ جو ضص معم السلام میں ےک یکو 
اہی ما یھی لکہ ۸ر وس ایام میں ساگیا سے اور مار اود گا لین وو ارک جو امہ سے دشنفی 
کاظا رگ) بھی خس ہں۔ 
ا تاپ ( دی اور حیساگی) بگ و حضیت نائم الانیاء مر زین عبرالہ یڑپ مکی رسالت کا افرار 

می ںککرتے مشور روا ت گا 3 بر ٹس ہیں اوران ےک بیزلائم ہے اور ب یکطفیت ہس 7 

ے جو نبوت ا ضروراأت رین کت لن چزرں رش نما اور ررزء) کا مگر ہو جا ہیں مسلان رین 
یں او ا 
ری )۸< ؛ فک تام بن تمہ ا کے : ون اور یں بھی ھا 
ستلہ 0مم گکر بإغ ے کے ماں پا رای واوا خر ہوں نو وہ کچ بی جس ہے۔ (یگ زاس 
سور کہ مق زرکتا ہو اور اسلا ما اظار کر مو) اور آلز ان مض ے (لآن یں پاپ وادی داداشل 
ے) 1یک بھی مسلمان بد تو کچ یا ہے۔ 
سیل ١‏ : ۰ رت 
لن اس بر اعلام کے وسرے اقم کا اطلاقی نمی ہگ شا ن بی ور ملمان عورت سے شا یکر سا 
ہ ےکور یی اے ہلاتوں کے قرستان میں ون نکا چاج۔ 


ما ۱۱۱ : 7و . .تا 


- :سس س----حدسجکت--تیپ'" 


توذیالمسائل_____ ) دی ا 


لہ ٦٦‏ ۰ چار جھوں پ رح عادت تام ے۔ 

....١‏ بن گگیوں میں ج بکہ صاحبا نکوچہ نے ا سک اجازت شہ دی ہو- 

۲... می مخ سک زین می ج بکہ اس نے رفحع عاد تک اجازت نہ دی ہو- 

×× من نھوں مس جو چند تخصوس بمائتوں کے لیے وقف ہوں شا حض بررے۔ 

۴ موم نکی قروں کے اس ج بکہ اس فل سے ا نکی بے حرمتی ہوگی ہو۔ 

بی صورت ہراس جگہ کی سے جماں رح عادت دین یا نرہ بک ی لی مقدی چ ڑکا 

اون کا موجب ہو۔ 

مل ٦۵‏ :جن صورقں میں پاغاہ خارج ہونے کامقام ( مقعد ) فظط بای سے پک ہو ےے۔ 

...ا پاغاے کے سات ھکوگی اور خجاعت شا (خون ) باہ رآگی ہو۔ 

ط کوئی یردٹی حامت باغانے کے مرخ بر ن کگئی ہو۔ 

۳... پاغخانے کے مرج کے اطراف مممول سے زیادہ آودہ ہو گئ ہوں۔ 

.من ین صورىیں کے علادہ پاخانے کے حر کو یا تو پانی سے دہویا جاسکتا ہے اور یا اس 
طریق کے عطبق جو بعد مس بیا نکیا جائۓے گاکپڑے یا پھر وغیر: سے بھی صا ف کیا جا کت 
سے آکرچہ پل سے دعون مترہے۔ 


مستلہ ٠ ٦٦‏ غاب کا مرج پالی کے علاد ہی نز سے پاک ضیں ہوہ۔ اکر پالی بہ مقدا کر کے ہو 
ا باری ہو قز شاب آ نا خقم ہونے کے بعد ایک رفعہ رہونا کائی ہے لیکن آب بل سے دو مرتبہ ون 
واجب سے اور بھرے ہب کہ مین مرعبہ عونیں۔ 

متلہ سے ٦‏ : گر مقعد ک پان سے دعوبا جائۓ و ضردری ہےکہ پاخانے کاکوگی ذدہ جال شہ رہ 
لت رنگ با ہو باقی رو جائۓ ن کوئی حرحع خیں اور آلر لی بار ہی دہ عقام یں رعل جائۓےکہ پاخائے کا 
کوئی زرہ الد رے 7 دوبارہ رونا لازم خی 

نل ۹۸ ٠‏ پر ڑھیاا ڑا یا انی سی دوسری چزیں اکر پک اور اک ہوں تو ان سے پاغانہ 
خارخ ہونے کے مقام کو پک کیا جا کت سے اور ان میں معموی نی بھی ہو جو پاغانہ مارح ہونے کے 








توضیح‌المسائل : )(| و5 1 


عقام تک نہ بیچے ‏ کوئی حع نیں۔ 

مہ ١ ٦۹‏ احقاط وجب ہہ ےکہ پھر ڈھیلا یاکڑانصس سے پاقانہ صا ف کیا جاے اس کے تین 
گلرے ہوں اور اکر تین گگڑوں سے صاف نہ ہو قو ا مزید گگڑوں کا اضافنہ کا اٹ کہ پاغانہ ارح 
ہونے کا مقام بالقل صاف ہو جاۓ البت امر ات چھوےے زرے باتی دہ بای جو نظ شہ کنھیں (کوئی 
تع خی ہے۔ 

مل * سڈ پافانے کے مر کو ای ہیں سے پا ک رحاس سے جن کا ازام لازم ہو خلا ایا 
کان نس بر ایند تعالی' انمیاء اور محصوبین شٹیحم السلام کے نام کہ کے کے پڑی پاگوبر سے 
اک ہونے میں اشکال ے۔ 

متلہ ا ؟ گر ایک شخ سکو کک ہوکہ غاد خارج ہونے کا متام پا کیا ہے یا نہیں ق اس پ 
لازم ہے کہ اسے پا ککرے اگرچہ چخاب ما پاغانہکرنے کے بعد وہ ہیشہ متعحلقہ مقا مکو فور پا ک کر 


در۔ 


متلہ کے ۔ اگ ری مس کو از کے بعد تک کزر ےککہ آیا نماز ست پچ یغاب با پافادہ 
خارج ہونے کا مقام پا کگکیا تھا یا نہیں فو اس صورت میں جب اقال ہو کہ نفماز شرو ںکرنے سے لے 
( مار ت کی جانب) ملقفت تھا اس نے جو نماز ادا کی نے وہ بیج موی کن آمند: نمازوں کے لیے ات 
(متاقہ مقابا تکو) یا ککرنا جا 


استبراء 
مل ۳ے : تی و سے 
دی ہی ںکہ اس ام رکا نین ہو جا ےکہ اب شاب پل میں باتی فمی را ال کی کی قکہتیں ہیں جن 
ہے وت جس ہوگیا ہو قر پل ات 
پا کیا جا اور ال کے بعد جن دفعہ ہامیں اھ کی درمیان والی انگ کے سا مقعد سے نےکر فو 
تاس لکی جڑ کک سوتت اور اس کے بعد اگو ٹکو عفد ناسل کے اوبر اور اگو بے کے ساتتھ والی ای 











توضیجالمسائل _ ا8ہ ا 


کو اس کے یچ ر کے اور یی ار خت نکی تا کک سو نت اور ھرخین وف نشن کو ڈور 0+921 


مل سے ٠‏ وہ پا جو بح بھی عورت سے للا عبت یا می نا قکرنے کے بعد انان کے بدن 
سے خارع ہوا ہے اسے فی کت ہیں۔ اور وہ پاگ سے علادہ ازیں وہ پائی جو بھی بھی می کے بعد 
مار اح شے ود کا جا سح او لس لوت ولب ک سد پور دا تب وو ود یکعلاا سے 
انا بشرطیگہ اس میس تاب کی آمیزل د ہو اور جب انسانع نے پذاب کے بعد اترام کیا ہوا اور 
اس کے بعد تی خارج ہو جس کے بارے مس شک راب ا ال لت 
کوئی ایک ہو تق دہ بھی پک ہے۔ ' 


سیل لے ؟ أگ رکی ن یکو نک ہوک استبراءکیا سے ما خی اور اس کے بدن سے رطویت 
مارخ ہو جس کے پارے می وہ نہ جات ہوکہ پک سے پا خی فو وہ خس سے اور اگہ دہ وش کر کا دو 
وو بھی پا ہو لکن اکر اسے اس پارے میں تک ہوکہ جو استبراء اس نے کیا تھا دہ یچ ھا با نمیں 
اور اں ووران رطویت ال کے برن ے تخارخ ہو اور وہ نہ جانا ہوک وہ رطوبت اک سے با نی وو 


پک ہو گی اور ای سے وضو بھی ال نہ ہو گال 


مل او ا ال رکوتی مخنس یغاب کے بعد ایم کر کے وضو کر نے اور اس کے بعد رویت 
فارج ہوم - و ْ00۲"ھ0 ناب سے پا می ر اس پر واجہب بج کہ انقاطا“ 
کک نے اکن کر نے لے ا کین ےل وضو نکیا ہو وض وکر لیناکاٹی سے 

مل سے :أ۰ رتی شضس نے اہ نیا اور یا بکرلے کے یع لی وقت رر جانے 
گی وج سے اسے مین ہ وکہ تاب نال یں باتی خیش ٌ میس ریا تھا اور اس ووران رطوبت شارر رع ہو اور اسے 
شنک + کہ اک ہے یا یں تو دہ عبت پاک ہ وی اور اس سے وضو بھی ٹل ٭ نہیں ہو گا۔ 

سیل ہے : عورت کے لم پاب کے بعد استبراء نہیں سے پیش اگ رکوئی رعوبت خارع ہو 
اور شیک ہ وکہ یہ شاب ہے ما خمیں تق وہ رقویت پاک ہو گی اور وضو اور تس لک بھی پاشل خی ںکرے 








27 عاجمت کے صحرلت و تح ات 


مل ۹ے : پرمجس کے لیے سب ہے کہ جب دہ رفع عادت کے لیے جائے تر الی ۰۶ 
ٹیٹھے جہاں اسے کوئی نہ دبھے۔ بیت الام مس رت ۰7 
دت چک دایاں پاؤں باہر رے۔ ہے بھی جب ہ کہ رع عادت کے وقت مر ڈحان پک رک اور 
دن کا ۷ جھ پامیں پاوں پر ڈائے۔ 


مل ۸۰ : رٹح مایت اف اک ا ا سے لیکن گر 
اتی شرد کا کو کسی طرح ڈھاپ نے قزحردہ ٹیس ہے۔ علاوہ این رح عاجت کے لیے ہوا کے ربخ کے 
النقائل اور گی کرچوں اور راستوں میں اور کان کے وروا ازے کے ساسح اور میوم وار ورشت کے 
یھنا بھی گرم ہے۔ اس عاات مج ںکولی چنکھانا یا زیارہ وت گان یا دای پاچھ سے طمار تک نا بھی تروں 
ہے اور بی صورت با یکرن ےکی بھی سے لیکن اکر جبوری ہو با ذکر خداکرے فوکوئی جرح نہیں۔ 
متلہ ۸۱ ۰ کیرے کر شاب کر لود مت نشنپ یا ری کے وں میں ا پا 
فصو سان پان مم اب نارود ے۔ 

مل رپ- پیخاب اور پافالہ ردکناککردہ ہے اور مر بدن کے لیے کل طور پر معخر ہو نز حرام 


سکات 


مل ۸۳۴ : ڈ از سے پل سونے سے پل مباشر تکرنے سے پلہ اور می کے اناج کے بعر 
انسان کے لیے شاب کرنا جب ہے۔ 


لہ ٠:‏ ۸۳ : دس بزییں خس ہیں تن _ 
)١(‏ بیٹاب )٢(‏ مان 








توفیچالسائلےےے اہ ٠‏ ۱ ),| بدا 


)٢۲)‏ نی )٢(‏ ھرار 

(ھ) خرن (9۷) کا 

(ھ) عور (۸) کانر 

(۹) شراب (۱) فا (غمر شع راج دی شرب ) 


ا-۲- بمشاب اورباغاد 


مل ۵ ناب اور اغادر اہ انان کا اور ہراس حیوان کا جن کیاگوشت عرام ہو اور اس کا ون 
رکوں میں را ہو (نشنی مر اس کی رگ بای جائے ق خون ام ل کر لہ جس ہے) لین ان جوائو ں کا 
پاب اور پافانہ اگ ہے جن کاگوشت عرام ہے۔ گر ان کا خون رگوں مم نمی ہوڑ۔ ٹل وہ کی 
نس کاگوشت عرام ۔ے) اور اس طر حعگوشت نہ رکنے وا لے چھوے یوانوں شلا چم راو رک کا فضلہ 


یپاک ے۔ 
مل 1“ ین پر ندوں کاگکوشت عم ہے ان کا یجاب اور فضلہ پک ہے۔ لیکن اس سے 
رز مترے۔ 


متلہ ے‌“ مجاست خور حوان کا اور ال بھڑا ددم اور قد شس نے سورلی کا دوب پیا ہو 
فیس ہے۔ ای طخ اس حیدان کا تاب اور پخانہ بھی جس ہے جس سے صسی انان نے بدأھ کی ہو۔ 


۳ می 

مل ۸ : اسان کی اود ہراس جانو کی منی خس ہے جس کا خین رگوں میں رہتا ہو (ذنخ 
ہوتے دقت ا لکی ۔ رگ ے) تھے 

۴۔- رار 

مل ۹ اسان گی اود رکوں می خون رکنے دالے ہر موا ن کی لاش فُس ہے غواہ دہ (تدرتی 
لور پہ خود مرا ود یا تزدا نکی صورت میں) شر کے مقر رکردہ یق کے علاو کسی طرییقہ سے ون کیا 
ما ود۔ لی چوک کو مس خون نی رکھتی اس لیے پالی جس بھی مرجائے قز پک ہے۔ 








١ 58 5 : 5 ِ توضیحالعسائل‎ 


مستلہ ۹۰ ٠‏ روش کے وہ اوذا جن مس جان نی ہوقی پک ہیں (شلاشم' ل' بپڈیاں ارر رانت)۔ 
متلہ ۹۱ ٠‏ جب می انان ا رکویں میں خون رھت واٹے سی حیوان کے مدن سے ا کی زندگل 
کے دوران می ںگگوشت ىاکوئی دو ایا حصہ جل می بان و دا گر لیا جا ڑ وخ ے۔ 

مستلہ ۹۲ : مر ہونیں پا کی دوسری تہ سے تی کول ( پٹری ) اکیٹرل جاے نز دہ پان 
ہے۔ 


مل ۹۳ : رق یک نے کا کہ مر اس نا چھلکا قت مہ کیا ہو فو یاکک سے لیکن 


مستلہ م۹ : آُگ بھیریاککری کا بیہ برنے کے جال ہونے سے پل مرج فو دہ تی راہ جو ای 
کے شیردان میں ہوا سے پک سے لان اسے باہر سے دھو لین ساےہ 

مہ ۹۵ ٠‏ ہے والی دوائییں؛ عطر' روشن (تیل *تھی؟ جو ں کی پائش اور صابن نہیں باہر سنہ 
در آع ھکیا جانا سے ار ا نکی نجاست کے کے جارے میس نین نہ جو قو اک ہیں۔ 

مہ ۹۷ : گوشت' جرل اور ڑا جس کے بارے میں اتال ہوک عسی ایت جافور کا سے شا 
الغام شرغ کے مطابق زع کیاکیا ہے پک ہے لیکن اکر ہہ یں کسی کافر سے می گی ہد کسی ای 
ملمان سے ل گنی ہوں نس نے کافر سے کی ہوں اور خحقن نہ کی و دکمہ آیا کسی امیسے جافو کی ہیں 
سے اعظام شرغ کے مطابق ز جع کیاگیا سے ما میں تو ایکوش اور جرلی کا کھانا عرام ہے اور لیے 
چپڑے پر نمماز جائر میں ے۔ الد تہ گر ہہ چزیں ملمائوں کے ازار سے ىا کسی سلمان سے کل جانیں اور 
يہ معلوم نہ ہورکہ اس سے پیل کسی مافر سے حاضص لکی گی میں با اتال اس بات کا ہو کہ خحق کرک 
گئی سے ىو فواہ کافر سے ہی پی جاتھیں اس چڑے پ نماز بڑھنا اور ا سگوشت اور ری کاکھانا بھی جانز 


۵۔ خون 


تہ سے ۹ ؟ انان کا اور ہراس حوان کا غون ہو میں میں خون رکون ہو خس ہے مہ ای 





كً 





ہاندروں (شما مپلی اور نچھر) کا خون : تھ رکوں میں خوین خی ر و وت 


لہ ۹۸ ذ٠‏ جن جانوروں کاکوشت علول سے اگر انہیں شرغع کے مقر کردہ توانر کے کے ماق : 2 
کیا جائے اور صعول کے مطلق رر تو کت ا ئ2 
مر (فارج ہونے وال) خون جاندر کے سائس کیہ سے یا اس کا سربلند مہ بے ہون ےکی وج سے بدا 
میں لٹ جائے آڑ ود خفینع ئن ہوگل 


مل ۹۹ : 2-7 انڑے میں خون کا زرم ہو ال ے اما( واجہ کی با را 





چان ین اکر خون زردی میں ہو فو جب تک اس کا نزک بردو پیٹ : نہ جاۓ صفیدی ‏ پا چو سے 


مل ٭تھ ‏ وة نون جو مض اوقات رودھ دوج ہو نظر .5 ہے میں سے اور دووں کو تہ ں گر 


2 نت 


مل ۹۱ کر واتو کی ریقوں سے لک وا خون لعاب دنن سے فاوط ہو جانے پر ضح ہو جاۓ 


او اما دنن ت ئر: پرایزلازمٴ کیل تد 


مل ۳ یوون ور وٹ نچ مرجاے اگمر اں کی ۶ط ل اڑی ہو 





خون نہیں نز اک اور آگمر فو نکہیں و خجس ہو گا ا شا یں مہ نان یا کھال 
میس سوراغ ہو جاۓ اکر غون کا ڈکلنا اور وضو ما تس ل کی فاطراس مقام کا ا کف کرت وت طلب ہو" 


مر ینا چان 


سیل ۳ : از کیم کو ےط چک کال کے ین خون عرکیاتے یا جوٹ گ کی وج 


تو یں و ۲ 
سے گوشت نے ای شکل انتا رکر ! ی سے و وہ پا ے۔ 


تہ ۴٭ا ؟. اگ رکھاا ات ہوئے خون کا ایک ذرہ بھی اس می ںگر بائے نز سمارے کا ساراکھانا 
اور برتی تُس ہو جاۓ گا۔ اہل' ارت اور ل١‏ ٹیس پک می کر گج۔ 


مل ٠۵‏ : جو زدد مادہ تم گی عالت ھت رہونے بر ام لک چاروں طف پدا ہو جا]۔ سے ار ایں 
کے متحلق ‏ معلوم نہ ہوکہ اس یں خون ملا ہوا سی تو دہ پگ ہو گا* 





0 ۱ ۱ل ٥٥6ا‏ 


۷ے کمااور سور 


مستلہ ۱۰۳ ٠‏ و ںکتا اور سور جھ خی میں رہجے ہیں خجس ہیں ت کہ ان کے بل' پڈیاں ‏ پئے اشن 
اور رطوتتیں بھی خجس ہیں البع دا یکا اور سور پگ ہیں۔ 
۸۔ کاثر 
مل ٤ء‏ اف لین وہ شضس جو مرا رسول اکرم تق اور قیامت کا مر ہو اس یکو خدا 
ال ٹری کگرواح ہو خس سے اور ای طرح فلا (ششی دہ لوگ جو ارہ صیعم السلام میں سے کس یکو 
داکہیں با بھی ںکہ مدافلاں امام میس ساگیا سے اور خاری اور تاصی شی وہ او جوائمہ سے شی 
کا انا رکری) بھی خس یں۔ 

انل کاب (>ودی اور یساتی) بھی جو مخرتں نام الاغیاء حر ان عراش ٹل کی رسالت کا اقرار 
می ںکرتے مممور ردایا تکی ہن بر خس ہیں اود ان سے بھی بجی ازم ہے۔ اور بک یکیفیت اس شس 
11 ہے جو نبوت پا ضردویات دین دن ان چزروں رض ماز اور روز۷) کا مگر ہو جائے میں ہن 27 
اسلام کا تز وت ہیں خلہ وہ جانا ب کہ سے یں ضرودیات دین یش سے ہیں۔ 
مستیلہ ۱۰۸ : ماف رکا تام بونج کہ اس کے پل' ناشن اور رطوہتیں بھی خجس ہیں۔ 
مسیل۔ ۹ * گر ابا ۓّ ج2 اں پاپ“ راری“ رارا کاثر ہوں لو وم ین - ہے۔ (مم ای 
صورت ک ےکلہ یر رکتا ٴ۶ اور اعلام کا انظما کرت گی) اور اھر ان یں ے ری اں باپ وارگی وارا یل 
ے) ایک بھی ملمان وو ‏ پہ اگ ے۔ 


سیل : گ ری منص سے ملق ہہ علم نہ ہوکہ مسلران ہے با شھیں ق وہ پک مور ہوگا 
لن اس یر اسلام کے دوسرے انام کااطلوق میں ہو گا مشل نہ ہی وہ مان عورت سے شا یکر سنا 
ہے اور نہ ہی اسے ملمانوں کے قرستان میں دن نکرنا چا تہ 


مل ۱۷۷۱ ؛: جو مخفس بارہ اموں میں سے کی ای ککو بھی وشن کی بناسہ گال دلے وہ ٹس تہ 





توضیچ‌المسائل__ ).|| اہ ]ا 


شراب 

مل ١‏ : شراب اور نشہ آذر نیز فُس ہے اور اس بنا پر پردہ چز بھی جو انسا نکو مت کر ورے 
اود خودنود پش والی ہو جس ہے اور کر جن والی نہ ہو (شل پگ اور جس ) تو پک ہے خواہ اس میں 
ای چزرڈال دیں جو بس دالی ہو۔ لین ہش مکی منشیات کاکھانا یا اور استعل ن کیہ رام ہے۔ 


مل ٣۳٣‏ پیٹ می ایل ( جو دروازے میڑیں 'کرسیاں وظ رہ رج کے لی استعال ہوئی 


ہے )کی قام یں فس ہیںں 
مل ۳۴ مر اگور اور انگور کا رس خود ہود یا پچانے پر انل جچاہیں نو خس ہیں اور ان کاکھا! نا 
ما یی 


متلہ ۱۵ ۰ کور عت یمنش اور ان کا شیرہ خواہ غی رابل جائے فو بھی پک ہیں اور ان کاکھاا 
ے6 سے پشہ پا ہو تک نس اور مرام ہیں۔ 

۴ فقاع(ت کی شراب) 

مل اد۰ ناخ جو کہ جو سے تار ہوکی ہے اور اسے آب جو کت ہیں فس سے اور غیرنتاع لا 
دہ پل جھ لب کے قاعدے کے مطاق جھ سے عاص لکیا جانا ہے اور ماء ااشع رکھلات] سے پک ہے۔ 
مل لا ك> جز ٹس نل عرام سے حدب ہوا ہو اس کا بیعہ پک ہے اور عالت خی می رمضئن 
البارک کے دفو میں توئ ات مححب تک رما بھی عم سے جنب ہوتے کا عم رتا ہے۔ 


مستلہ 1۸ ٠‏ خجا ت کھانے والے اونث کا بین اور پر اس حوان کا پیینہ جے افمالی خجاست 
کھا ےکی عارت ہو اک ہے۔ 


جات ثابت ہونے کے نے 


مستلہ ۹ پر ہنزکی مجاعت جن طربیتوں سے خابت ہوکی ہے ۔ 
ایل ٠‏ ہ کہ خود اامان کو لین ہوک سس را اہ 








توضی‌المسائل رس ات 





کہ یس سے و اس سے ہبی زکرن لازم خھیں۔ زا قوہ خانوں اور ہوموں میں ماں لاہوا 
لوگ اور ائیے اشفا سکھاتے بے ہیں جو محجاست اور طمارت ت کا لھان ٠ہیں‏ کرت کعانا کھھاتے 
کی صورت یی کہ جب تک انسا کو ین نہ ہوک جوکھانا اس کے لیے لایاگیا سنہ دہ 
2 ہے اسے اتال کرنے می کوئی رع میں ہے۔ 

رم : جس من ےق کب وو کے بارے میں کے کہ خنس 
ہے کسی شف س کی مد یکو فکر یا طازص کہ بر ناوئی دس نی بر و ا یکی انقیار 
ین ہے ین بب ۱ 

وم : اق و ا ا وی 
اک تال اعتار شخس جو خواہ عاول نہ بھی ہو کسی جن کے بارے میں جی کہ جس سے قو اس 
چنزے ابقناب برتا جاجے۔ 


مل 


مسنلہ ۳٣‏ : اگ رکوئی مس مک ے یرم واقیت ! جا نہ ان پا ےکہ اک چس سے ا 
ک خ سے ىہ علم نہ ہوکہ چو ےکی ھی پک ہے ما نیں تا چا کہ ملہ یچ نے۔ مجن 
مر متلہ جانا ہو او کسی نز کے بارے میں اس یک ہ کہ پک سے یا نمی شلا اس شک ہو کہ دہ 
نز خین سے پا فمیں پا نہ نہ جات ہ کہ مھ رکا خون سے یا انسان کاتھ دہ پک :۱ گی اور ای ک پادرت 
میس بچھان می ن کر ما چنا مازم نیں۔- 

سس ۳ کی تن ا کات جن شتآ کہ بعد میں پاک ہوٹی ہج یا یں تو دو بی 
ہے۔ اگ ھی اک جنز کے بارنے میں نک ہو کہ بعد می ٹس ہوگئی سے پا ٤‏ 
ت2 'ھ'ھهھپ-] کے معلق پی پلا بھی سنا ہو تر تن ضردری ڈئیں ت۔ 





لہ ٠ ۱۳۳٣‏ ڈگ رکوئی مخصس جانا ہ ھکہ جو دو برتن یا دو لپڑے دہ اتد یکر سے ان میں سن 
ایک غس ہو گیا ے لیکن دے ہہ علم نہ ہ وکہ لن میس سے کون عا تس ہوا تو اسے رووا سن 
ایقنا بکرنا چا جئے اور ال کے طور بر گر یہ نہ جانا ہوکہ خود اس کاکیاخجس ہوا ای دورے کا 
جو ایں کے زی انتمل میں ہے نو ری ووسرے مم ںکی لیت ہے تو يہ ضروری مم یکہ اسیتے 
کپرڑے سے اہتنا بکھرے۔ ۱ 








توطیچ‌الفسائل___ ا3ا 


پگ چٹ س کے ہوقی ہے 


مل ٢٢‏ : مہ ایک بک نے ایک فس چز سے تل ہد جا اود دوٹیں می سے ایک اس قزر 
مٌمس ری ہس پت یھ 
کے سای فیری جن کے ساتہ نگ جاۓ تر اے بھی خ سک رق ہے۔ (مشل) کر دیاں نت 
تاب سے جس ہو جاے اور رہہ تر اھ بائیں پاتھ سے مس ہو جائے نو بایاں باج ہو 
اور بیاں اھ کی اور نز سے گے اور تڑی مل ہو جائے فو اس چن کو خ س کر رے گا۔ لیکن اکر تڑی 
اقم ٤‏ کہ دوسی بت کو نہ گے نے پک پچ خس میس ہوکی خواہ دو مین سکو ب یکیوں شہ گی ہو۔ 
متلہ ٣۴‏ ۰ ا رکئی پیک چن کسی خس جچ رکا لگ جائئ اود ان دوٹوں یاکسی ایک کے تر ہوئے 
کے متحلق یف ہو تو رگ ننس نیس ہوتی۔ 

مل ۲۵ : گر دو یں کے بارے میں ہہ علم نہ ہوکہ ان میس سک ےکوضی پک ہے او رکونی 
ٹس اور ان بی سے سی ایک کے ساتھ ایک پاک اور ظز جن چھو جائے فو وہ خُس ہیں ہوگی۔ 

لہ ٦ ۱٢١‏ امہ زین اورکپڑ یا اتی جصی اور جےزیں تر ہوں نو ان کے جس جھ کو خجامت گے 
گی دہ خس ہو جا کا اور بای حصہ پک رہے گن 

ستلیہ سے ٠ ٢‏ :دب شیرے' تل کھی ما سی جی کی اور چچ کی صورت اڑىی ہوکہ اکر ا کی کب 
مقدار شال کی جاۓ ڈ ا ںکی تہ ای نہ رس نز ہوں بی وہ زرہ بھر بھی جس ہو گا سارے کا سارا جس 
ہو جاے گا لیکن اکر ا کی صورت مد ہونےکی دج سے ایی ہ وکہ ثالے کے مقام پر کہ خالی رے 
(لکر چہ بعد می پر می ہو جاے) تو صرف دی حصہ خس ہو گا سے مامت گی ہے لوندا آمر جو ہے کی 
مکی اس می ںہ جا. جماں دہ یگ نگمری ہے وو تجگہ خس ہے اتی مقدار جز ول لیے کے بعد بای سب 


وا سد 
ج 0 


مل ۲۸ : بھی يا ایا یقکوئی اور جانرار کیک ڑی 7 27 بے 2 جس ہو اور إجرازال 





توضیحاامسائل لہ سا 


ایک ت پک چب جا ٹیے اور ىہ علم ہو جال ےکہ اس جاندار کے ساتھ غجلاست شس قذ پک جنزخجس ہو 
جات گی اور اکر علم شہ ہو فو پک رہ گید 

اللہ ٢۹‏ : اکر بون کے کی صے بر پییعہ ہو اور وہ حص جس ہو جا اود پھر یی بب ہکم برن 
کے دوسرے عموں کک پلا جاے قز جماں جماں پییشہ سے کا برن کے وہ صے جس ہو جامیں گے نان 
اکر پینہ آگے نہ سے ن باتی دن یک رے گا۔ 


مل ۰ا : جھ افوط پک ىا گے سے ارح ہوگی ہیں اکر ان میں خون ہو تو وہ مقام جماں ون 
ہو گا خُس اور بات حصہ پاک ہو گا لنرا کر سے افلاط خاک یا ہونژں کے باہرنف جانمیں تو بدن کے بی 
مقام کے باقی مس تنک ہ کہ وہل (افوط ک) خجاعت والا حصہ ناما بے یا یں دہ پگ ہو گا۔ 

مہ ۱۳۱ ٠‏ گر ایک اییالوٹاجس کے پیرے میں سوراغ ہو جس زین پر رھ دیا جات اور ان 
پان بنا بند ہو جائۓ اور جو پالی اس کے نے جع ہوگیا ہو دو اس کے اندر دائے پالی سے م گر سان 
ہو جاۓ ق لو کاپالی قس ہو جایگا ٹین اکر لونے کا پالی تا رہے تو ٹس نہیں ہو گل 

تہ ۱۳۳ : اگ رکوتی نز رن میں رافل ہو کر خجاہت سے جا لے لکن بدن سے باہ رآنے پہ 
جات سے آلودہ شہ ہو تو دہ یپاک ہے۔ چتانچہ اکر انا کا سامان یا اس کا پالٰی پاخاہ کے فرح میس داخل 
کیا جا یا سوئی' اق اکوتی اور ای جیز رن میں چچھ جائے اور باہر لکن پر خاسدت سے آلووہ شر ہو 7 
یس میں ے۔ اگر تھ وک اور ماک ک پائی ش مکی اندر خون سے جا لے لان باہہ نلنے بر خون تلود نہ 
ہو فو ا يکی صورت بھی ایی بی ہ گی۔ 


اام حاہات 


مستلہ ۳۳ ؛: تقرآن جی کی تر یکو ٹ س کر بلاشیہ حر ہے لور لمر خس ہو جائے نز فوراپالٰی سنہ 
رم واحب ے۔ 2 کے علادہ قرآن کاکوگی حصہ شش ہو جائے تو احقیاط واجب :کی بنا یر کلام پاک کا 
پا گکرنا واغب ب- 


مستلہ ۳۶۴ ٠‏ ار قرآن می دی جلد خ٘س ہو جائۓ اور اس سے رن مجی کی لیے ح ری ہو وع 





توفیڈالسائل --٭ )|| 5ه ]ا 





7 7 نے دعونا جات 





لہ ۱۳۵ ٠‏ قرآن بجی کو شی خین خجاعت فلا خون ما مردار یر رونا اسے ج یکر 
نت ولاو وم ہی جات نک بی لیوں نہ ہو۔ 

مل ٦‏ رن میر و نس روشائی سے لکنا خوام ایا حرف تی کوں د جو اج کن رك 
ام رکا سے ار مسا جا کا :و اے پانی سے د۶ ڈاتا ات یا تی ل کر منا ڈالنا پان ۔ 

ملس ے۱۳ ٠‏ گر فان کو رن ید دینا بے ھرمصتی کا سوب ہو و عرام ہے اور ایی سے قرکن 
کے نے لیتا راے کرے 

تہ ۱۳۸ ۰ الہ قآن می کا درق پاکوئی اڑی ہیزج کا اترام ضردری ہہ مل کان جس بر ان 


تالی ٢‏ طبر ما )اہ ٤م‏ لا ہی) اط گر جات او ا کا باہر کنا اور اس وھو واپ لت 





8 پلیہ وپ لور کہ ۱ژ کا اہر نکالنا ۶ نت ہو ایل وع کے ا کی 
ین نہ ہو جات کہ وو ل کر شتم ہو گا ے۔ ای 





مل ۴۱ ٠‏ ہر یک 





انج ات ین و و 2 


مل ٠۳٣‏ ہر“ 











توضیح‌المسائل ۱ ۳ س۶ ۹۰ھ۶ "9ء 


ک رن مپاس پا گاگی اور جیز تی کے ساتھ جس تمہ سے جا فی بت اور مان ہوک حواست لھانے پٹیّہ 





بی تن ان مزا کر نے گی ان لوگو ںکو ا پارے میں آگا کور دنا ضروری ے۔ 


متلہ ۱۴۳ ٠ر‏ میزا نک و کھا ا کھانے کے ووران پت کہ نخس ہق اس کے مت 
وت 0-0 سی رم ۲ 
ضروری ےکلہ ممانوںکو اس کے متعلق گا کر رے ان آر ہماتوں میں سے می کو اں بات 2 
ہو جاے ڑ اس کے رن روسرو ںکو جانا ضروری خہیں۔ الہتہ آگمر وو ان کے سا بیو ں کل م یکر ربا ہو 
کہ اس پات کا امّان ہوکہ ان لوگوں کے ین ” 0 وج سے وہ خور بھی یس ہو جاۓ گا ڑاے 


چان ےک ککاتاکھا ین کے بعد انم ں اطا ہے رے۔ 
سیل ۷۳ : مر شض سے ون طور پر ٹی ہوئی 
کک تی سک ا پ ٠‏ 7 [إ اج 
میس اتال گر ما ہو نشن میں ام س کا اک ہونا ضردری (ا, ابی ء 
مر کات ضر 
نے ےک الف کو و کے و ا سے اقاق پر نان ا رای 


کی مہو اس کے ٹس ہون ےکی اعطلاع مان کفکو :ینا ضردری میس خواد ی عم کییں نہ 


بس مو جاے اور اخ نا اک اے ایت تاموں 





ہو کعاٹے سے میس اسقعمال ہو 











توضیحائەس ائل .جج -- ا [م'".")"( 





یں مین ات تا زانل ہو جانا 
.. تعاس تٹکھانے وانے موان کا ایام 
اس “سلمان تا غاب ہو ہانا 

وو وی رم 


کین لے مور کے جع بے اکر تس گن ون کا لکل جاا۔ 'ن مطرات کے پارے 


۰ تل ا ام وم ما م 


میں ںا 
ا کی اس 
ں می مان بت پ۲ 











اس جا پل ات ت کی او رف ا امہ موتور یہ ہو۔ 





لہ سس 





تل نی یک کر ےکم پا سے پا گکرن ےکی بچھ اور شرازیا بھی ہیں مین کا زکر بعد می ںکیا 


ارہ 





ا ۸ نس برت یکو آب قلیل سے قین بار دہونا چاجے لان ای کک کے برابرپالی با جاری 
پانی سے ایک مرج حون کنی سے لکن جس برتن سے کت نے پائی یا کوئی اور جن والی نز بی ب٭ اس مں 
نے ےےے۔ح یت 
چا ہے پھراس بر پالٰی ڈالنا اج تاکہ مل خارج ہو جائے۔ اس کی بعد ای کک کے راب پالی با جادی پاٹ 
سے ایک دفعہ یا آب قکیل سے دو لہ دجو جا جے۔ 


اکر ھت نے نی برت یکو انا ہو تر اط داد بکی بنا بر اسے دہونے سے پل پائگھھ لینا 








چاتے۔ البت مر کت کے منہ تک بل یی برتن میں گر جائے و سی سے انا ضروری نمی ٗتے۔ 


مستلہ ۴۴۹ ٠:‏ ضس برتی میں کت نے منہ ڈالا سے گر اس کا مہ تک ہو تاس میں مئی اور 


٦ -‏ 7 پ 0 :2 ۶م 7 
مناسب مقدار می مالی ڈال کر وب بلامیں ناک می سار ی برتن کے اندر لگ جائے' اس کے بعر ات 





7 کا اط رخف در 
مطابق رعوییں شس کا کر اویر ہو چا جات 


مل ۰ص ۸ بی جرت ن کو سور جا یا ا میس سکوکی ب بش دای نز پی لے اس برتی میں 
تٹھی چڑھا مر ہو ات آب قلیل ما ایک کر کے باب پاٹی ما جاری پالی سے سات مرتب رعونا چاجنے 
ال مع 


کر 


و 
ا ھی ے اکنا ضوری جس ے۔ 


مل ۱۵١‏ : > کت 





ہیں 
عئل ۱۵۳ج آر ان کے رت رو 7 می سے تار ہواہو پا نس میں جس پالنی انی تک رگیا 


ادہی پاٹی یس ڈال دا جات نو جماں ہماں وہ پا 
کی اتزا کو بھی یا کفکرنا مقصور ہو اق ا گر 












ترفیچالسائل ےے سے ...5903ا 


پلی ما جادئی لی میں ڈال دی جات 

مستلہ ۱۵۳ : ٹس برت یکر آب اققیل سے دہ طرح دہوا عاسکنا ہے۔ ایک طریقہ قب ہے کہ 
برشن کو شین رفعہ بچھرا جا اور ہر وفعہ ا یکر دی جاۓ اور دو مر! طرید تع کی خی ینف 
مناسب مقدار میں پاٰی ڈالیس ادر جر دفعہ پالٰیکو یوں گھماتی ںکہ دہ تمام خجس مقلات تک گن جاۓ اور چھر 


ع 


ال ےگر دیی۔ 


لہ ۵۳۴ا ؟ اہ ایک بڑا برتی شا تک ما کا خس ہو جائے تو خین دفعہ پالٰی سے بھرنے اور ہر 
بفعہ خا یکر دسینے کے بعد پک ہو جانا ہتے۔ ای طرع اگر اس میں تین دفعہ ارب سے اس طرع پالی ڈایں 
کہ ا یکی قمام اطراف تک تی جائے ادر ہردفعہ ا کی تمہ می جو پای شع ہو جائے ات نال دی تو 
جرتن پگ ۶ہ جا گا۔ اور ہہ بھی واجہب س کہ دو ری اور تیسری بار ٹس برتن کے ذر یچ پالی جا ہر ڈکلا 


جا ا در ھولیا جاۓ۔ 


مہ ھا : اُر خر اے ویو کو یھکر ماز سے دعو لیا جاے تا کا ظاہری حص رک + 
انت پل : 2 ری ح٠‏ 
جاۓ گا ٠‏ 


متلہ ۱۵٦‏ ۰ امہ خور پیثاب سے جس ہو جائے اور اس می اوبہ سے موں پٹ ڈالا جا ۓٌلہ ال 
کی قام اطراف کک تج جائے اور ہے مل رو وفع کیا جاے ت3 تور پاگ ہو جاے گل اور اگر تور تاب 
ھ گے غازدگی اور ر نے یی جو ہو نے مجامت وو ر گمرے کے پور کور طرن کے مطان این رأے 
پالی ڈالنا لی ے۔ اور کحترىیہ جک تو کی تمہ می ای کٹگڑھاکھود لیا جات ٹس میں پالی ہم ہو گہ- 
برا پل یکو نکال میا جا او رکڑ مگ کو پک مئی سے برک دیا جائے۔ 


مل ے۵ا : اھ کی خس چ اکر کے براہ پان یا جادی پالی می ایک رد وں ڈلا دی جا ےگہ 
پللی اس کے تام فیس مقامات تک تیچ جاے فو وہ جزیاک ہو جائ گی اور فرش اور یا دخ ہکو ماک 
نا ال 0,7 3 سرچ یا ال 3 

کرنے کے لیے اسے نون اور ای طرح سے نا با پاوں سے رگڑنا بھی ضردری ہے۔ اور آکر مہاس یرہ 


شاب ہے 2- ہوگیا ہو تو ا گر برا پانی میں رو وفع وعون لازم ے۔ 


ساٹ 





نل2 ۵۸ا ! اکر کی ابی جک جو یغاب سے نس پوگئی ہو آب قینل سے وہونا مقصور ہو تو 


توضیجالمسائل - عتا کات کا 


اس بر ایک ود بای ڈالیں جو ہہ جا اور یجاب بھی اس نہ مس باقی نہ ہرس نز نر دوسری ول پا 
ڈالے پر وہ نزک ہو جائۓگی جن جداں کک با ' فرش اور ان سے مق جلتی چیزڑوں کا تی 

ایس ہرد پی ی ڈائے کے بعد نچ ڑن جات کہ نسالہ (دعوون) ان میں سے پئل جاۓ (غسالہ ٍ 
کو کے ہیں جو کی عوئی جانے والی جن سے وحلقہ کے دوران یا وعل نے کے بعد نود نود یا مھ ڑنے 


ے تھا ے) : 


مل ۹ا رج جاک شیرخوار سے کے یجاب سے (فص نے دودھ کی علادہکوئی نذا کال 
شروع نکی ہو) خجس ہوا جا ق اس بر ایک وفع اس طرع پالی ڈال جا کہ تام فُس مقمات پر کچ 
جاۓے۔ موں پانی ڈانے سے وہ نز اک ہو جا ۓگی لن اط سحخحب ہی جج کہ مزی ایک بد اس پ پالی 
ڈالا جاے۔ لاس اور فرش وغی کو مو ڑا ضردری نیش۔ 

مستلہ ۱۹۶ ١‏ ا کی7 


یر ایل ریہ ای لی ڈا لے سے کہ اس نز کے کے قام ا غُس مقامات شف گج جات اور پھر 4ہ 


شاب کے عاوم کی جات سے سکس ہو جاۓ او وہ نجاست دو رکھرے 





جات پک × با سے الب لپال اور ای سے تی کل ں7۴ بوڑ لینا جات تاکہ ان کا موون نل 


فابتاھ 


مل ا اک اک ری ایر کی بنا یکو اک کرت محصود ہو جو دآکوں سے کی ہو ” طرع بھی م٠ن‏ 
ہو اس کا نو ڑا ضروری بے ( خواہ اس می پاوں ىیکیوں ن چلانے پڑیں )اگ اس کا دھرون الگ ہو 


حاے۔ 


مل ۳٢‏ ام ندم چاول' ساین وطیرہ کا اور والا <صہ ٹس ہو جائے تز دہکر باب پالی ما جاری 
مالی میں ڈہونے سے یاگ ہ٭ جائۓ گا لیکن گر ان کا اندروئی حصہ جس ہو جائۓ و اس پا ک کر کادی 
طریقہ سے جو ٹس شدہو مٹی کا برتن پا ککرنے کا ہےے۔ 

ستلہ ۱۹۳٢‏ : اگر کسی من ںکو اس بارے میں شک ہ وکہ خس پالی صاین کے اندروئی ضعنہ تک 
سرانتی تک رککیات با نمی تو وو حصہ پگ ہو گا 


مستلہ ۹۴ا ٠‏ مر پپلول ماگوشت با السی ہی کسی جن کا ظاہری حصہ ٹس ہو جا ةز پائے نا ای 





تومی‌العسائل : 





سے مت کسی نے میں رک کر میں بنعہ اس بی پل یگرانے اور پھر ینک دسنے کے بعد دہ جنز اک ہو بای 
2 بص مغ 2 فو ای 0 

سے اور وہ برتی بھی پیک رتا سے لن اکر فیا اکی دوسری ایی بت کو برقی مم ڈا گر پا کر 

متقصور ہو نس کا مو ڑا دازم سب تز نشنی بر اس پر پل گرا جاے اسے نچو ڑا چا ہے اود بت یکو ٹیڑھاکرنا 


چان کہ جو (جعوون اس میں ع ہو گیا ہو دو بصہ جاۓے۔ 


مستلہ ۱۹۵ ٠‏ اگ کی خس دبا کو جھ نیل یا اس می سی اور چز سے نکیا ہو کہ برا ال یا 


جادربی پانی ہیں بویا جا ا آب ٘ینل سے دھویا جائے اور نمچ ڑنے بر اس مس سے ضاف پائی نہ ےت 


وہ مال پاک ہو جا تے۔ 


لہ ۱۷۴ ۰ آ رکپڑےگوکر باب پانی ىا جاری پالی میں دھوا جا اور شال کے طور پر بعر می 
تر ہوکی مت ی پڑت من نظ رآ باے اور نے ال ہ وک اس٢‏ ید سے پا یکپرڑے ا نشج 





مستلہ سے٦‏ ا ٠:‏ مر ٹیس بس سے مق ہلت جن کے رہونے کے بعد مض کا ریہ ذ انان اس جںش 





رآ ڑ وہ اک ہے مجن اکر یس پانی مٹی یا اشتان می سرای تک رگیا ہو تو نی اور اشان ٴا او دالا 
کے ن اور ای تا نر رولی تیب نی ہو گا۔ 

(فوت ) اشتان اک و ہے ج و کپڑ ےکو این کی طرحع دع ھکر صا کر تی تج 

مل ۷۰۸ :! ب بن جاست تی غس جز سے انگ ھ ہو وو اک نمی گی لین مر ہو یا 
رک اس می باتی رہ جائۓ و کوئی حرج میں ہنا امہ خون ماس پر سے جشا دیا جا اور لہا دھو لیا 
جاتے اور خون کا رتک با پر باقی بھی رو جائے قے ماس پک ہو گا لان آگمر ہو یا نف کی دج سے ہے 
ین ا ال پرا ہوکہ ماہت کے زرے اس ٹس اتی رہ گے ہیں 7وہ 2 ہوگی۔ 

مہ ۱۹۹ ٠‏ کر برا پالی ىا ہادی لی میں بد نکی فجاست دو رک ٹی جائے تر بد پک ہہ جانا 
اور پا سے قلل آنے کے بعد دوہارہ اس ڈیں داشل ہونا ضروری نہیں۔ مر تس نذا راشو ں کی 
ریقوں میں رہ جاے۔ اور پالی نہ مم بھ رکر ہیں گھایا جا ےکم قام شس نذا جم گی ہاے ق وہ نذا 


پان ہو جال ہے۔ 


موھعظو ییحی ہچوک مرریگطااتے تل 
مل ےا : گر سر چرے کے پنو ںکو آب تلیل سے دہویا جاۓ نو ان سے غسالہ (دموون) 
پداک نے کے یی این نمیا دی جیں۔ں 

متلہ ےا : اکر دن یا لپاس کاکوئی حصہ آب ققیل سے دھویا جائۓ ت, نس متام کے پک ہوتے 
سے اس مقام سے تل وہ چس می پاک ہر جامی ں گی جن کک دہوتے رف ھ۰ا پالی یع جانا ے 
ا کا مطلب سے ہ ےک ارھر ارھر کے متقابا ت کو یرہ رونا ضروری میں بلہ وہ مقلات اور وہ کل جر 
خس سے دہوتنے سے اکییہ پک ہو جاتے ہیں اور آ لہ ایک پک جن ایک خُس چ کے برابر رہ دیں اور 
دوٹوں پر پالٰی ڈالیس ن: ا کی بھی بی صورت ہے للندا گر ایک خس انگ یکو پا کککرنے کے لیے سب 
یں پ لی لیس از فیس پٹی سب الو کک پچ جاے تخس پٹ یکہ پک ونے پ ام ایال 
اک ہہ جا یگی۔ 

مصتلہ ھا ٠‏ جرگوشت ال نس ہو جائے ودسری کی شرع پل سے دعوی نکی ے۔ 
سی صورت اس بون یا مپا یکی ہے جس بر تھوڑی بست نکی ہو جھ پا یکو بدن یا میاس تک مین سے 
نہ روہے۔ 

تہ سم طھا : کُر بر ما بدن خس ہو جاۓ اور بعد یں اتا کچکنا ہو جا کہ پالی اس تف نہ گی 
کے اور برتن ىا پر ن کو پا کگکرنا متصور ہو تر یل نی رد رکرلی جاۓے ۰77 پل ان کک می برتین یا 
پدن تف) ہج گے۔ 

مل ا : جو خ لک برابر از سے مفل ہو ودکر برابر پالی کا عم رکتا جے۔ 


متلہ ھا :اگ رککی چزکا رھ جاۓ اور نشین ہو جائ کہ پأک ہوگنی ہے لان بعد میس تک 
2 5 َ‫ ہے : 

لزر کہ مین نجاست اس سے دوہ ہوگی سے پا میں و ضروری ے کہ اسے ددبارہ پل سے رھبا 
جاے اور شی نکر لیا جات ےک شین جاست دور ہو گی جے۔ 

متللہ ٦ا ٠‏ وہ زین جس می پانی جذب ہو جانا ہو شا اڑسی زشن من کیک ریت یا ہی پہ 
مشقل ہو ار س ہو جاۓ تر آب ققیل سے اک ہو جاتی ہے۔ لکن اس سے غسالہ الگ ہو جائے 


ورنہ اس کا صرف ظاہری <ص اک ہو گا۔ 


مواسا یی ہے ہے ]3دا 
مہ سےا ٤‏ ار وہ زین جس کا فرش پچھرا انتوں کا ہو یا دوسری خت زشن جس میں پالی جذب 
وت ہو فیس ہو جاۓ ‏ آب کیل سے پاک ہو عق ہے لکن ضددری ہےکہ اس پر اتاپ یگریا 
جا ےکہ جن گے لان اس کا غسالہ خجس ہو گا لا بھتریہ کہ آب ماد یا آب کش رکو اعقعا ی کیا 


انت 
متملہ مھا : خر پاڑی نفک ما بی جم یکوئی اور چتزاربہ سے خجس ہو جائۓ ‏ آب قبل سے 
پگ ہو گی ہے۔ 


مسلہ چا : مر پچھلی ہہوئی خس شح رکی قد (مصری) بالیس اور اس کر بر پالٰی یا جادی پا مل 
ڈال دیں تو وہ پاک نہیں 7 


مل ۱۸۰ : زین پاوں کے تھے اور جوگی کے مہ جی کو جو فُس ہوگیا ہو تین شرطوں سے 
پا کی ایل نے نشین پا ہو- روغ یا لک ہو اور وع ےکہ لگر میں خس شلا خون اور 
یغاب ا منسحس جن ےکہ منسحس می پاؤں کے وے یا جوتی کے مہ صے میں گی ہو ا راستد 
نے سے با اوں زین پر رکڑنے سے ددر ہو جائے۔ فرش' پڑائی ىا بزے پر لے سے پاؤں کا نجس توایا 
جوتی کا نیس یلا حص باک میں ہونا۔ 

لہ ۱۸۳ ١‏ اکر پپؤں کا نوا یا جوتی کا لا حصہ غس ہو تے وامری یا گگڑی کا فرش کی ہوئی زین 
پہ نہ سے پک ہونا کل اشکال ے۔ 

مل ۱۸۳ ١‏ پاوں کے نکوے با جوتی کے نل بک پا ککرنے کے لیے مسر ےکہ یندرہ بات یا 
ای سے زادہ فاصلہ زین پر پیے خواہ پندرہ پاتھ سے کم مین ما انا زشن پر رکڑنے سے نیاست دور ہو 


و 

یق ۔ 

مل ۳پ اک ہونے کے لیے پاوں یا ہوتی کے جس موے کا ت ہونا ضروری میں کہ نگ 
نے تی 


.ے.٘.٘.>ے.-۔ چ۔حسےرہچجہ 











توقیمامسائل_ ےے اتا 


ہیں ہوا۔ 

میتلہ ٠: ٣٢٢‏ کہ بے اگوروں کے فو میں یہ کے اور بھی ہوں اور جو یرہ اس خوئے سے 
نیاہا اسے لوگ انکور کاشیرہ نہ کت ہوں اور اس میں جوشں آہجائۓ قز اس ک چنا طال ے۔ 
متلہے ۲۰۳٢‏ ۰ گر اگور کا ایک وانہ کسی الی نز م سگر جا جو آگ پر جو شيکھا ری ہو اور وہ 
بھی جو شکھانے گے مان اس یز جس عل نہ ہو ق فظطا اس رانے کاکھانا عرام ہے۔ 

مل ۲۰٢۳‏ : آر چنر ر یں می شیرہ پا جاۓ ةذ جو چیہ جوش میں آئی ہوک دنک میں یت 
ہو ار اس کو ایر ڈیف یی 7 جا ضا سن ول ھ۴ا رو رگ فُس ہو جا ےگی۔ 


مل ۲۰۵ : اپ و کےا بے نین ہہ معلوم ضہ کہ دہ ( خورہ ہے یا اگ )کے آگوریں 


رس ہے یا گے انگودوں کا خٌیر: اس میں آلر جوشل بھی آ جائے قو عمال تے۔ 
-٦‏ اتل 


مل ۰٢۷‏ : ہر انان کا خون یا مرگوں میں خون رت رالے موان کا خون ( شی ایے حران کا 


نین را اتی رہ وک 89 ےا کی دو ریا 
بھاستوں | کے ہاد نے جںل ھی بی عم بے و انا ن ہوک چو کی تے گے وہ جونک کا خی 
کیہ انان کا خو ن کھلن نا ے ١‏ سن مد 


مل ے٢۲‏ : ا رکوکی نس اپنے بدن بر ٹیٹھہ ہو کچھ رکو مار رے اور اسے ہے لم شہ ہوکہ جو 
طون کچھ کے بن سے کا ہے وہ دی خون سے و چھرنے ا يکی بدن سے چوس یا خود مھ رکا نون ہے 
ہیی مر اے معلوم ہوکہ ہہ نون دہی بج جو تچھرنے اس کے بدن سے چو سا ہے 
اب مم رکا مین ار ہوا سے تب بھی صورت دی سے لت 27 خون پک ہے) من گر گر پھر ے 


۰ 0 
ران و سا اور پارت جا کے ورمیال واطہ 





تر انان ٢‏ نون یىی سا 











ے۔- الام 


متملہ ۲۹۸ ٠‏ ا رکوئی کافر" شمارقن " چھ لے مین سی بھی ذان میں لقہ کی رعدانیت اور ام 
الا ٘یاء کزکڑ کل وت گیمگواتی دے رے سلمان ہو جا ےت اور لان ہو کے بد ال تا 
پرن“ تھوک' نُک کا پائی اور ینہ یگ ہو جات سے لیٹن لان ہونے کے وقت .اس کے بدن پر وی 
ین حجامت ہو تو اسے دو رکرن چایجے اور اس متا مکو پاٹی سے دعونا چا بے لہ آمر ملمان ہونے سے 
پل می عین محجامت دور ہو ہی ہو تب بھی اعقیاط واجب ہہ ہج کہ اس مقا مو لی سے دم ڈاے۔ 
لہ ٣۹۹‏ اک کافر کے ملران ہونے سے بط لگ اس کا لہا تربی .لے ساتھ ا یکی بدن 
سے پچ وگیا ہو اور اس کے ملمان ہوتے کے وقت اس کے بدن پر نہ ہو تو وہ ابا ٹس نے لہ گر 
ملمان ہوئے کے دقت وہ لال اس کے بدرن بر ہو تب تھی انضاط وا ہہب کی ونا یب اس سے انتناپ ٠‏ 
چا 

میلہ ۴ی ر کافر شمارقین بے نے اور ہہ معلوم نر ہو کہ دو رل سے ”سان ہوا تت یا و 
قر وہ پک متصور ہو گا اور اکر ىر علم ہوکہ وہ ول سے ملمان نمی جوا لان اڑ یکوئی بات اس سے 
ظاہردہ ہوگی ہو جو نوحید و رساا ت کی شمادت کے مائی ہو و صورت دن ے۔ (لئی وہ 7ر2 مور ہو 


(۲ 


۸-۔- مت 


مل ٢۷‏ 2 نبعبت کا مطلب یہ ہج کہ گوئی جن زی دوسری جنر کے پک ہون ےکی وج ستہ 
پک ہو جاے۔ 





ہو جائے تو احقیاط واہنب ہے ہ کہ شراب کے رہ ہو جانے کے بعد اس بشت سس بی زکیاجائۓے۔ 


مہ ٣۳‏ ؛ ماف رک بیہ زرجہ ححرت دو صورتوں میں بک ہو جانا تد 








ترم سا ری ہے ہے ۔ اتا 
لہ با ٠‏ آلر دہ زین جس کا فرش پچھریا ایٹوں کا ہہ یا ددسری خت زین جس میں پل جذب 
نہ ہوا ہو ٹس ہو جائے ق آب یل سے پاک ہو عق ہے لین ضروری ہ ےکہ اس پر متا پا گرا 
جان کہ بھے گے من اس کا ضلہ فٹس وو گا لن تر ہ کہ آب تجاری یآ ب کی کو اسقدا کیا 
جاۓ۔- 

مہ ۸ے۱ ۰ ام ر پیاڑی خک با بی مھ یکوئی اور یز اور سے غس ہو جائۓ نے آب قیل ے 
پگ ہو عق سے 

لہ ۹ےا : اکر کی ہوئی ٹس شگ کی تق (معری) بیلیش اور اس ےکر باب پالی ا جادکی پالی ‏ 
ڈال دی تو دہ بالگ نہیں ہوگی۔ 


٢‏ زین 
مل ۳۶ زین پائوں کے کوے اور جوتی کے مہ جی کو جو خجس ہوگیا ہو ٹین شرطوں سے 
پا ک کرتی بت اول را زین پاکگ ×- روم 7و نگ ہو اور وم م کہ اگر میں خس خلا پور اور 
جیطاب ما مضنجس نز می کہ منسحس می پاوں کے تکوسے یا جوتی کے مہ ج میں گی ہوقز راستد 
چہ سے با اوں زشن پر رگڑنے سے دور ہو جائے۔ فرشل' جڑائی ما سرے پر لن سے پاؤں کا خس موایا 

جوتی کاخُس ملا حص یک میں ہو]۔ 

مہ ۱۸۷۸ ۰ ار پوں کا وا یا جوتی کاخ حصہ خس ہو ق ڈامرب یا گکڑی ک فرش بھی ہوئی زشن 
پہ گن سے پک ہونا مکل اشکال ہے۔ 

مہ ۱۸۳ ۰ اؤں کے توے یا جوتی کے لے کو ہا گکرنے کے لیے تر ےکہ نددہ پان یا 
ای سے زیادہ اصلہ زشین بر چے خواہ پندرہ پاتھ س ےکم لن ما اؤں زشن پر رگڑنے سے مجاست دور ہو 
کی وت 

تل ۱۸۳ ۰ اک ہونے کے لیے پاوں یا جوتی کے خس وے کا تر ہونا ضردری نہیں بگلہ خنگ 


بھی ہوں تو زشن پر ےہ سے پاک ہو جات ہیں۔ 





توفیحالسائزں۔۔ے۔ سًُْٗ سڈ ا756 


متلہ ۱۸۴ : جب پاوں یا جو کا خس لوا زین پر مہ سے پک ہد جائے نو ا سکی اطراف کے 


وم ضمے ٭ جنییں خھوا یڑ وفی رک جانا ہے اک ہو جاتے ہیں۔ 


سیل ۱۸۵ ٠‏ ہگ رسس بی مخس کے پہ کی تقبل ا گنا خجس ہو جامیں جو ہاتھوں او رگڈنوں 
کے مل پت ہو تر اس کا راس لیے سے ا سکی تقیل با ھٹک پک ہر جناتل ال ہے بی صورت 
شی اور ممنوی پانک کے نے حصہ جا ےکی نل موزہ گاڑیوں اور دوسری ماڑییں کے پہیویں کی 


ےہ 
7 


کے جج آلر زین بر جیے کے بعد ناس تک ہو یا رنک یا ین ذرے :و رقہ ہیں پا یا 
کے موے سے گے رہ جاھیں نکوئی حرج خی امرجہ انقاط جب ہہ سج کہ زین بھ انل فدر 
یت کل ہو جاشیں۔ 


متلہ ے۱۸ ۰ ہوتے کا اندورلی حصد زین ص-- 0000+ 


مورے کے مہ جض کا پک ہوا بھی مکل انال بت 

۳- سحورح 

لہ ۱۸۸ : عوریخ' زیین/ نھاوت اور ان یو ں کا جو کان میں سب ہوں (شلا دروا رٹ اور 

گیزگیاں) اور ا نکلو ںکو تو دیواروں میں ٹھوگ ی گی ہہوں با شرائط سے پا ککرات۔ 

الیل : و و تر ہو اڑا گر فلل ہر ڑاے نے سد سورغع کے 
زرہیجے نل ہو۔ 

مم ہہ کہ اگر اس نز می میں خجامت ہو قز اس نز کے سور ج کی دموپ سے نگ ہونے 
سے پیل ایس محاسی کو رو رکر لیا جاتے۔ 

-۔ کہ گل جورع کی رموپ 5 رکاؤٹ شہ ڑالے پں گر روپ ہرے' پل ىا 

٠‏ ابی دی نی جن کے ہے سے غس زی بڑے اور اس نگ کر دسے ق3 دہ جاک میں 
ہوگی البع مر بارل متا کا ہو کہ دجو پکو نہ دوک کوئی قرع ئیں۔ ٠‏ 





ولا الاجا ا 


پارم گے ای ا وع کین کو فلگ کرے بزا نل ے کے طور پے گر سی چر ہوا اور 
وپ سے اخنگ ہو نو پک پ شش ہوگی۔ پی آگمر ہوا اتی بی ہوکہ ہے نہ کھا جا کہ خ 
یکو خل ککرنے مس اس نے مھ یکوی مددکی ہے و پچ رکوگی رع نیں۔ 

تلم سے کہ فیاد اور بھارت کے جس صے میں خجامت سرای تک ر گی ہے سورج اسے ایک 
ىی مربہ نکر رے۔ ٹین آمر ایک وفع دہوپ خس زین اور مارت پر چگہ اور ای کا 
سات والا لھ فل گکرے اور دوسری دفعہ ےہ جی کو یل گکرے تو اس کا سماۓ والا حصہ 
پک ہو گا اور ملا حصہ شس رے گا۔ 

مہ ۱۸۹ ۰ سر کی دموپ سے خس چٹائی کا پک ہون گل اشال سے لیکن درشت او رگھایں 

ال سے ہاگ ہو جات ہیں۔ 

مل ۹۰ا : اکر سور کی دہوپ خس زین پر بڑے اور بعد جن مہ کک پا ہو کہ وھوپ ہانے 

سے وقت زین تر شی پا ”می ما تری دہوپ کے زذریے خلگ ہوئی ما خی نز دہ زین خس ہوگی اور آگر 

پرا ہو کہ دعوپ پانے سے چیہ ین حجامت زین پر سے ہناد گنی ھی یا یس یا ےک ہکوئی لچ 

اہو پک ماع شی یا یں ت پھر بھی ددی صورت ہو گی (نشنی زین خجس رہ گی )۔ ۱ 

متلہ ٠: ١۸‏ ار سور نکی دھوپ ٹس داوارکی ایک طرف بڑے اور اس کے ذر لے واوارگی وہ 

جانب بھی فنگ وو جائۓے جس پر دہوپ میں بڑی ق بعیر نی ں کہ واوار روڈیں طرف سے پاک ہو 


شاک 
-٣‏ ا الہ 
مہ ۱۹۳۴ ٠‏ أمر سی فس چیک نس میں بدل جا ےکہ ایک پاک چ کی شل انتا رکر لے تو وہ 
اک ہو جاتی ہے۔ ال کے طور بر جس گلڑی ب لکر راھ ہو جائۓ ما کنا نک زار می یگ رکر نک بین 
جاے۔ مین گر اس ج کی جس ند برنے شا ٹس گیسوں کا 7ٹ ہیں میا جائے ما ددئی بای جائے او وہ 
اک میں ہوگی۔ 


مہہ ۱۹۳ ٠‏ لی کا لوٹا اور دوسری ایی یں جو خس می سے بنائی جامیں او رک مہ جھ جس 





گلڑی سے تا رکیاجائے خُس ہیں۔ 


مسنلہ ۹۳۴ج دی غس رص سے ملق عم نر ہوکہ یا اس کا انتملہ ہوا یا خمیں شی جس 
بد ہے ما خیں) خس ے۔ 

۵- الاب 

مسکلہ ۴۵ ٠‏ خر شراب خود بور یا کسی جنز لا سرکہ اور نک لانے سے سرکمہ بن جائے تو پاپ 
ہو عالی ے۔ 

مل 7٦‏ وەہ رات ہو ٹس اتور دغیردرے تار ہو اھ ایک پک برقی میں ڈال دی جا کر 
بعد یش سرکہ بن جاے ق پاک ہو جاتی ہی اس طرح ا رکوئی ادر غجامت برت کو گے بفیر شراب سے مل 
جائے اور اس میں حعل ہو جاے تو سرکہ من جانے کے بعد پک جھ جال ےگی۔ 

مل ے۹ ا جو سرکہ انور اور غجس مشش اور خُس مجور سے تا رکیا جا دہ جس تٍ۔ 


مل 0)۸ ؛ ہر رو ہوجنوھ کے ساتھ ہوں اور ان سے م رہ 

ا کیا جاے تکوئی رخ نہیں جہ اسی برتی میں گیرے اور یکن دغیرہ ڈالے میں بھ یکوئی خرالی میں 

دووب 4 وو فو تم 

ہوا کو۔ 

مہ ۹۹ ؛ گر شور کے شیرے میں اج بر رک سے یا خود بخود جو کہا تو وہ حرام ہو جا 
تث اور آلر اسے آگ پر اتا لپلا جائ ےک وت نے نی اس کارو ال حص کم ہو جائے اور 


اک قائی مق رہ جاے تر طاں ہو جاتاے۔ اور اگور تا یرہ ا ا ا نع وا 

بل مض مر انور کے شیرے کا دو تمالی بغیر جوش میں آت ےکم ہو جائے اور جو بای چچے انی 
میں جوش آ جائے و وہ مرام ے۔ 

سنہ ۲۷۲ : مر گور کے شیرے کے متلق ىر معلوم یہ ہو کہ جوش میں آیا ہے یا خی تر دہ 
علال تے لین کر جوش میں 7 جا اور سے معلوم نہ ہوکہ اس کا دو تا یکم ہوا ہے پا نمی تو وہ طال 








رو السلرہےےےے۔ 2 اتا 


میں برا 
مل ۸:۰٢‏ جے اگوروں کے فو میں سک کے لگو ر بھی ہوں اور جو یر اس ہو سے 
لعوت اہ سقو ہی س2 آجائۓ لاس کا چنا عطال ے۔ 

مل مو اگ انور کا ایک ران کسی اڑبی زم ںگر جاۓ جو آگ بر جو شکھا ری ہو اور وہ 
بھی جو شکھانے گے لکن اس جیزمس حل نہ ہو قز فا اس رانے کاکھانا عرام ہے۔ 


مہہ ٠ ٣٢۳‏ ال جن دیں میں یرہ پیا جاۓ نز ہبہ جوش مس آکی ہدئی دکیک می ڈالا جا چکا 
ہو اہ ان یکو اڑیی ویک می ڈالا جائۓے جس میں جوش نہ آیا ہو قز وہ سیک ٹس ہو جا ۓگی۔ 





مل ٠:٥۵‏ نیس ہے کے ارت مین سی ععلرم ہوکہ وہ ( رہ ہے یا اکور می ) کے گوروں 
3٦‏ بچڑھ رس اون کا ان یں گر بوخ بھی آ جاے ۃ طال سی 


-٦‏ اتل 


لہ ۴٢۷‏ ئ آ انان خا خون نا رگوں میں نون رنہ والے میوان کا خون ( انی ابیے میوان کا 
نون نس کا خون رک کاے سے پا ہج )کسی ایی میوان کے بدن میں پچلا جائے جو رکو میں خون 
میں رکتا اور اسی میوان کا خون ار ہوۓ گے اک ہو جا سے اور اسے اتقال کے یں ددع ری 
عاستوں کے پارت میں بھی بی عم ہے میکس انسان کا جو نون ہوتک جوستی ہے چوکمہ وہ دوک کا خی 
انان کا خو نکماان ہے اس لیے جس ہے۔ 

مستلہ ے٢٣‏ : آ رکوتی مس اپنے بدن پر ٹیش ہوۓ کچھ رکو مار دے اور اسے ہہ عم شہ ہوکہ جو 
رکے بدن ت ایز ۓ وہ ری خون مت جو یھر نے ا کی بن ے چوسا یا ٹور نور بھ رکا ون ے 





وہ خون اک سے اور اھر اے ے معلوم ہوکہ سے خون دی بے جو تچھر نے اس کے بن سے چو سا ے 





مان اب مع م کا 





شمار ہوا سج تب گی صورت وی نے (یشمی وہ خون پان ے) ین گر چم کے 


لویل ای خرن تو انان تا خرن کی کی اے 


ران رن اور مار جات تک وزصیان واف ران مر ہو 





علوم نوک او ان م۴ شی گن کت ا ان٢‏ 











3-- اسلاغ 


سیل ٠ ٣۰۸‏ ا رکوتی کافر ‏ شمارتین " چھہ لے نیشن نی بھی زین می ان کی وعدامیت اور اخ 
اما تا کی رت الا ےرہ سان ہو جاا اوران دونے کے ون کا 
بن؟ تھوک' جاک کا پانی اور پییہ پک ہو جاتا ہے لیکن صلمان ہہونے کے وقت .اس کے بدن کول 
عین خجامت ہو قڑ اسے رو رکرن چاہے اور اس سقا مک پالی سے دعون چا یی بلہ آمر مسلمان ہونے تہ 
پل می فلت وور ہو یہو تب ھی انا دب سے کہ ا ما مک ای سے دو ڈالےہ۔ 
مہ ٣١۹‏ : اچک کافر کے ملین ہونے سے بلط لف اس کالمپاس تی .کے ساتتھ ا گی بدن 
سے چھوگیا ہو اور اس کے مسلمان ہونے کے وقت اس کے بدن یر : يہ ہو قز وو لپای فیس سے پآ 
ملمان ہونے کے وت دہ مپای اس کے بدن یر :و تب بی انشاط واجب گی 
چاج۔ 

مل ۲٢‏ : ار کاذر شمارتیی بے نے اور ہے معلوم تہ ہوک ردرل سے “ ملمان ہوا ہے ما خمیں 
نو وم اک متمور ہو ہل اور اگر یہ عم ہ وک و ول سے مدان میس ہوا نان ای کوگی جات ای ے 





ماہریہ ہوتی ہو جو قح و رسال ت کی شمادت کے منالی ہو تو صورت وی ےد (ڑی وو اک متمور ہو 
۴( 

۸- تحت 

مہ ۲۷ ٠‏ نت کا مطلب پہ ‏ ےک کوئی جن تن شی دوسری فن کے پگ ہو نکی وجہ ست 
پگ ہو جاے۔ 


منلہ ۳۳ : گر شراب سرکہ ہو جا قو اس کا برتی بھی ا نیل نف اگ ہو جانا مت ہیں 
تک شراب جو شکھاکر کی ہو اور اھر کوئ یکپ کید رک یرجھ مل نی شاب بر گیا جال 
ہو اور اس سے خس ہو گا لی ہو تق و بھی اک ہو جاڑ ست <“ یکن اکر برترن 
ہو جاے ق اقاط داب بے کہ شراب کے مرکہ ہو جانے کے بعد اس بشت نے 





متلہ ٣۱۳‏ 2 ماف کا بی یہ بزرنجہ عبت رو صورتوں میں یاک ہو جا ےہ 








توضیعالمسائل___ ِِ 1 ) 82 1 


اس کے بدن سے ممول کے مطابق خرن غارج ہو جائے تو جو خوین اس کے بدن کے اندر بای رہ جائے 
رو اك ےد 

لہ ۲۳۸ ٠‏ زکورہ عم اس جاور سے مخصوص ہے جس کاگوشت عدال ہو۔ ہس ہاو رکاکوشت 
عرام ہو اس پ ىہ عم جاری نمیں ہو کنا مہ اتیلط صخ بک جناہ اس کا اطلاق علا لگوشت والے 
انور کے ان اعضاء بر بھی میں ہو سکتا جو رام ہیں۔ 


برنتوں کے متحلق ایام 


ستلہ ۲٢۹‏ : بج برتی کے سور ما مروار کے چھڑے سے بنا جائے اس میں کسی ج کا کان بی 
پیک تری اس کی حجاست کا موجب بی ہو مرام بے اور ال ہت یکو وضو اؤ تاور انت دو ہے 
عاموں میں استعول نمی ںکرا چاہے۔ جضیں اک جز سے انام وین ضروری ہو اور انقیاط تب بے سح 
کہ کت سور اور مردار کے چڑ ےکو خواہ وہ ہن کا شل میں نہ بھی ہو اتال نکیا جاۓے۔ 

لہ ٠ ۴۳٣۴‏ نے اور چاندی کے برتوں میں کھاا بین حرام بت مہ ایا وادب کی بنا ان ٢‏ 
تی طرع استما لکرنا بی عرام سے نین ان ےرہ وفیر: سیانے یا انیس اپنے قیضے میس رن مج کوک ی 
3 ون و ان اک کو را اط تےت۔ سونے اور چاندی کے برتن بنانے اور حباوٹ یا نے می 

۲ رنہ کے ممینے ا نکی تید و فروض تکرنے کے نے بھی بی عم ہے۔ 

ستلہ |۲۳ : مر جا کے لیے استعل ہونے والے گاوس کے اس کل پکو جو سونے ا چاندی 
سے جنایا جانا تب۔ گلاں سے معیعد کر لین کے بعد بھی برتن ب یکما جاے قو اس کا استعال خواہ تما ہو یا 
چا کے گووس کے ساتجھ ہو عرام بے اور امر اسے کپ کو) برتن نہ کھا جائے نو اس کے استعال میں 
موی قرع ینیج 

مل ٢۲٢۳۲٢‏ اب برجویں کے استعلل می ںکوئی رع میں جن پر چچاندری ما سونے کا بی بڑھایاگیا 


ہو 


مل ٣۳ص۲۳‏ : 0 جس کو ری پا سونے ٹں لوط کرکے تن بناے امن اور شہت 0 








توضیجالسائل_ ١٥٥ا‏ 


ددم ڈ بےکہ اسے علم ہوکہ ا کا بدن یالپای خس چیز سے تُ کگیاے۔ ۰ 

موم میک گل مس اسے اس چ کو ایے کلم میس استعیل کرتے ہوئے دیھے جس ہیں ایس 
کا پک ہونا ضردری ہو لا اسے اس مان کے ساتھ نماز پڑت ہوئے دھے۔ 

پچماەم ! ہے لہ اں پات کا اعال ہوکہ وہ صلمان جو کم اس بر کے سمائل کک رما یج اون کے 
پارے میں اسے خلم ہودہکہ ال پچ ہکا پک ہونا ضردری ہے انال کے طور یر وو مسلران نے 
نیس جاناکہ نماز بن والے کالہاس پاک ہونا چاہے اور خس شندہ مپاں کے سائقہ بی نماز* 
پڑھ رہا ہے ق ای کے لیا یکو پاک نمیں تھا جا سا 

مد کہ اس بات کا اشل ہو کہ اس ملاع نے اس جس دہ جج کہ رھ ہو گا ایزا گر 
ین ہورکہ ای نے اس چ زکو نیس دھوی اس ہج زکو پک میں تمچھا جا متا علاوہ ازی 
ای ما نکی نظھر یں خس مور پک چییں برا ہوں ادد ان ج سکوئی فرق ہی نہ ہو تاس 
رکو پک میں مھا جاے۔۔ 


قا 


كت : م کہ دو مسلمان بالغ ہو یا لمارت اور امت میں تین کرنے کی صلاعیت رکتا ہو - 

مل ۲۲٢‏ : گر بسی نس کوا بین ہو کہ جھ جز پلہ غجس تھی اب پک ہو گنی ہے یا دو عاول 
اشفاس اس کے اک ہونے کے جردیں تو دہ جن اک ہے آمکوئی ایا نس جس کے تق می ںکوئی خس 
ہو بے جےکہ وہ پیک ہو کی ہے پا لیک ملمان نے ایک غس کو رمیا و وو معلوم نہ ہوکہ ای 
نے اسے ھیک طرح دا یا نی تا کی بھی دی صورت ہے نین دہ چڑزیں وک متمور ہو ںگی) اور 
بعید می ںکہ ایک عاول یا مم شف سک یگواہی بھی اس جن کے پگ ہونے کے پارے میں کائی ہو 
مل ۵ اگ سی نے ایک منص کا مباں دہوتے کی ذمہ دادی لی ہو اور کے کم میں نے 
اس دجو دا ہے اور ال من سکو اس کے ہے کتے سے تی ہو جا تر دہ لپاس اک ے۔ 

منیلہ ٦‏ اگ ری سک ہہ عالت ہو جا ےہ اس کسی خس ہز کے رہوئے جانے کا لقن ٠‏ 1 
بی نہ آے تر اسے جات نےکہ گان پر التقامرے_ 

۳ معمول کے مطالق (ذبچہ کے ) خون کا ہمہ جانا 

مہ ے٢۲ ٠‏ بیساکہ جیا گیا ہے کہ کی جفور کے شری طریٹے کے مطلق زرع ہونے کے پور 





توضیمالمسائل 0ھ 

صورت دیگر دو خجس ہو جامیں گی۔ 

مل ہو ہونؤں اور آکھ کی پیگوں کے وہ ححہ جو بن کرت وقت اف ووصرے سے تس 

جات ہیں اور بدن کے دہ مقابات جن کے بارے میں معلم نہ ہوک آیا انیس اندردنی جھ مھا جاائے یا 

ید آکر خس ہو جامیں ق انی پالی سے دع لیا جاہے۔ 

مہ ۲٣‏ ۰ نگ خ گر یا خا فکپڑے اور فرش یا یی ى کی اود چنیب نم جامیں مو رکپٹڑے 

وی کو میں جھاڑا جا کہ خ سعگرد اور ناک اس سے انف ہو جائیں تے اس کے بعد آ رکوئی تر یز 

کپڑے دفیر: سے م سکرےگی تو وہ ٹس نمیں ہوگیہ 

٭ا۔- حجاس ٹکھانے وانے حیوان کا استیراءِ 

مسکلہ ٠ ٣٢٢‏ جس جوا نکو انسالی فان ھا ےکی عادت گی ہو ا کا شاب اور پاخانہ خُس نت 

اور گر اسے پک فور اس یرد مم تا ہے 

ذیں اور پک نا 22 تیکہ اتی رت۴ لزر جا ےکلہ پراڑے سح ماس ت گھانے والا کھاہا۔ گے اور انتا 

واج ب کی بنا بر نحجاست کھانے وائے اوۂ کو الیم ں دن حتف٠‏ گا کو تمیں دن نف' گھیٹرکو وی بن 

تک مرف یکو سات یا بای دن تک اور پالتر مرٹ یکو خین ون تک مجاس تہ کھانے سے باز رکھا جائۓ اور 

مر اتی بر تگکزرنے کے بعد بھی لوک انمیں ماس تکھانے وال نہیں و اس وقت تک انمیں مامت 

کھانے سے باز رکھنا جات جب تک لوگ يہ ن ہیی ںکہ اب ہہ حجاس تکھانے وا۔ لہ نہیں ہیں۔ 
ملمان کاطائب ہو چاا 


متیلہ ٠ ۲٢۳‏ گر کسی مسلان کا بدن یا لباس یا بت اور فرش شں دوس جز جو اس کے بت 

می ہو خس ہو جاے اور پچھروہ مسلمان نائب ہو جائے نو مہ زی جج شرائط کے بعر پاک متمور جوں 

ایل ؛ ہی کہ نس نے اس ملین کے لاس کو مخ ں کیا ہے اسے دہ نس کھت ہو۔ لزا 
اکر شال کے طور بر اس کا مبانں تر ہو اور کاف رکی بدن سے چچھوگیا ہو اور نوہ اسے کس نہ 
تا ہو تر اس کے اتب ہونے کے بعد اس لمبا کو اک نہیں مھا انتا ہے۔ 








توضیچالعسائل ۷3وہ ا 


ا جو کفر لان ہو جاۓ اس کا پیہ ای اوز طمارت میں اس کے نع سے اور چے کے 
رارا' میں ا داری مان ہو جایں تب بھی بی صورت ے۔ 

5- ایک کافر جے کو کسی ملمان نے اس رکر لیا ہو اور ای پچ کا پاپ پا اجدار (دارا یا نا 
وفیرو) میس سے کوئی ایک اس کے جراہ نہ ہو۔ اس صورت میں ئے کے تبعی تکی بنا یہ ہاگ 
نأ کی شا ےبد شیا رکا کے 


مل ٣٦‏ و جح ما چھرنص بر می کو فسل دا جا اور دہکپڑا نس سے می تکی شرمگاہ 
اعابی جا یزاس فص کے اھ جو می کو ٹسل رے۔ پہ تام چییں جہ میت کے ساتھ دعوئی جاتی 
جس مل کھمل ہونے کے بعد اک ہو جائی ہیں۔ 


صتلہ ٢۵‏ ۰ ار کوئی مخ س کی چک پالی سے دہوے تر اس نز کے اک ہونے بر اس شنخصس کا 
دہ مانتھ بھی اک ہو جا] سے جم سے دہ اس چ کر دو ے۔ 


سنہ ۲٣۴‏ : الہ دیس با ای خی ی کی ج کو آب قنل سے دھویا جائے اور اتا ور دیا جا بنا 


پر دا جا 
ند وا رس ا و 
مستلہ ےا٢‏ : جب خس برت یکو آب قیل سے دہویا جا تذ جو پالی اس کے پا کگکرنے کے لیے 


اس پر ڑالا جاےَ ا گمرا وین کے بعد جو “مو پالٰی اس میں باتی رہ جائے دہ پک ہیج۔ 


حین نات کارور ہونا 


لہ ۴۸ ۰ نی میوان کا برن مین خامت ( شا نون ) ا غس ہوئی جو ہز (شلا تس پلی) 
نچ وذ وو پا جب وم مات ت دور و جاۓے جیوان کا برن پک ہو کل ھ٠ٴ("‏ 
دن کے اندرول میں ثال کے طور بر نہ ما مک کے اندر وا کے نسوں کی ے شا اگ وانتوں کی 
زین تن نع رط او ھت وع ان کک 2و جا و منہ کا اندروئی حصہ پالی سے دعونا ضردری 
خیں لیکن ار من یں *صنوئی رانت ہوں اور وہ جس ہو جاھیں تو انیس احقیاطا“ دھو ینا چا ے- 


دے 7 2 7 7 کت 37 0 
سلہ )٤۹‏ ار دانوں کی رگوں میں غز کے ریڑے وہ جایں اور پھر مل ھ اور ون چل 


: : را ہیں 5 7 70 ۴ 
ا اور “ومن ہو ون ار وو تی ایا سو وو اک وم نے مات ون کے 
3 1 3 نہک بے ج‫ 








توضیحالمسائل_ ۱ 3 ا 


زیارہ ظرا زج کہ ا وتیک وا دع کا تی نکی مس کے اش یکول مرا 
ھی 

مل ٠ ٣۳۶۴‏ اگ رکوئی خذاسونے یا چاندی کے برن میں ردکھی ہو او رکوگی شنصس اس ارارے سے 
کے چم ۔ عوغئے چاندی کے برتوں می ںکھانا بنا عرام ہے اسے دوسرے برتن میس انڈیل نے اور ای پے 
ہونے چاندری کے پرنن ا تما ل کر نے کا الا نہ ساس میں کول اع کی سے 

سنتلہ ۲۳۵م ستھت کا پوکیر( چم کا سوراخوں والا انا ) گوار با چھری اق کا سیان اور قرآن مجید 
رکھنے کا وہ آگمر سونے باندی سے بے ہوں و کوقی حرج میں نام اقیاط ‏ ححب اس میس ہج کہ سنے 
چاند ی کی تی ہوئی عطر دای سر۔ دای اور نسوار دای استعال نکی جائیں۔ 

مستلہ ۲۳۷ ٠‏ مور یىی عاات میں سونے چاندی کے برتوں میں ان اکھانے بے می یکوگی جع 
نہیں جس سے ضرورت رٹع ہو جاے لگن اس مقدار سے زیاد ہهکھانا بنا انز خیں- 

مستلہ ے ٣۳‏ :میا برض انتما لکرنے می ںکوئی حرج نہیں نس کے بارے میں ہہ معلوم نہ ہوک 
بہ سونے ما چاندی کا ہے باکسی اور یکا بنا ہوا تتے۔ شرا بکی تیاری میں اہتعال ہونے گدر پنے کے کم 
نے والے مخصوص برتجوں سے بھی بطور انقاط دنو ابتنا بکیا جات- 








۰ 


وصو 


متلہ. ۲۳٢۸‏ : وضو می وایدب ‏ جےکہ ہہ اور دوٹوں پت دہوتے چانیں اور سر کے الہ جح اور 
رودنوں پاؤں کے سان والے جحت کا کیا جاے۔ 

مستلہ ۲۳۷ ٠‏ ہر ے کو ہباتی می مانی ضےاوبر اس تج سے لے کر جہاں سر کے بال اکھے ہیں 
چھوڑی کے آ تح کنارے تتف دحونا چاۓ اور چو ڑائی میں ی ےکی انی اور او مھ کے بد یلاز میس بن جج 
ار نے زع انت لان داز راہ بی بت نے رض اط برلفزانے تن 
کرنے کے لگ کہ متا ضروری حصہ مورا رع لگا تھو ڑا تو ڑا اھر اھر سے کی دو ینا چاچے۔ 


متلہ ۲۴۰۴ ٠‏ نأ رکی نس کے تہ یا رہ عام لوکو ںکی بر فبدت بڑسے یا بچھولئے ہوں تو اسے 














توضیچالعسائل )| 4ہ ] 


دیکنا چا کہ عام لو گکاں کک انا چرہ دعوتے ہیں اور دہ بھی اتا ہی دجو ڈانے۔ علاوہ ازیں اگر 
ا لک یثالی بر بل اگ ہوئے ہوں با سرکے اہ جھ پر بل نہ ہوں تاس چا ےکہ عم انرازے 
کے مطبق انی رم ڈائے_ 
مل |۲۴ ء: اکر ان بات ک اشل کسی شف کی بھووں' اھ کے کوشوں اور ہیں پر 
مل ناکوگی دو ری جز ہے جو پل کے ان تک ٹچ می مال ہے اور اس کاب ال لوگیں کی میں میں 
درست ہو و اسے وضو سے پطے تق نکر نی چاپے او اک ہکوئی ایی ہو تر اسے دو کرنا جا ۓ۔ 
مملہ ۲٢۲‏ گر پر ےکی جلد باوں کے یئ سے نط تی ہو ق انی جلد تک پا چایے اور گر 
ظرر کی ہو تو یاوں کا دعب کانی ہے اور ان کے سے تک پالی پننا ضوری میں 
مہ ۲۷۴۳ کسی شف صکو لف ہوک با ای کے چھرےکی جلد پلیں کے یچ سے نظ ہی 
ہے پا مین قاط اب کی اہ اسے اہی کہ پلو نک دھوئے اور پالی جلد تک بھی ہئچاے۔ 
مل ٣۳‏ ٘] جاک کے اندرد جے اور ہونژں اور آگھوں کے ان عمموں کا یتو ان کے بر 
کرنے پ نر میں آتے دھونا ریب یں سے مان ہے نق نکرنے کے لی کہ ہن جوں کا عو 
خردری ہے لن میں سے کوئی بل یی وق راعب ‏ ے کہ ان احضاء کی بجر مقدار گی دصعولی جائۓ۔ 
۰ اور جس شف سکو ہہ عم نہ ہوکہ اتی مقدا کا دمونا ودرک سے آگر وہ نہ چاتا ہوکہ جو رش کر پا 
ہے اس می بے ھے دعوئے ہیں نا یس قز اس نے اس وضو سے جو نماز ھی ہے گر اس کا وت ابی 
پائی ہو تق اے چا کہ ایک ار پھر دض کرسے اور وہ نماز ددارہ پھے الہ جن نمازوں کا وق گزر پکا 
ہو ان کی تضا وا١بجپ‏ ین سیت ۱ 
مل ۲٢۵٢‏ گرے اور پاتھوں کو اھ سے یت کی لرف دعون جاہجے۔ آگر یی سے اویر کی 
7 طرف دہوءے جائھیں تو وضو باطل ہو مر 
متلہ أر با پل سے تکر کے چرس اود تی بر بر جائے اود ات یں اتی تی پ 
ہوک اس چھیرۓ سے چرے ادر اتھوں پر پا ی کی کچھ مْرار جک تکرنے گے تو کائی ہے ۶ 


مل 2 چو دج نے کے بعد پل دایاں بازد اود پھر بیاں از ۲نی سے انگیوں کے سروں 





توضیوالسائل___۔_ے ۱ .851ا 


تک ر۶٣٤‏ چا جے۔ 
لہ ۲۴۸ ٠:‏ اس بات کا شی نکنے کے لی ےک کی پور کی پدی دح لگکئی سے اس سے اوپہ 
والا نص بھی حون چا بے 


مہ ۲۴۹ : جس نس نے رو رہونے سے لہ اپنے بادوں کی کلاگی کے جوڑ کک دھویا ہو 
اے چا ےک ہ وض وکرتے وقت اٹگیوں ے نہیں رمرے آارو صرف لاٹ ی کے جو حتف رہوئے 
ما اس کا وضو پاطل ہوگا۔ 


لہ ٢۵۴‏ ؛ وضو ہیں چچرے اور اون کا پل وقعہ رعوا واجٔپ۔ دوسری وفعہ دعو تخب اور 
سی رن یا اں سے زیادہ پار رعونا ام ہے۔ جماں تک اس ام رکا سوال ےک۷ ہکونسا دعونا پسلاٴ دو مرا“ 
تیر مھا جاے اس کا دار و برار وضو کرنے واٹے کی نیت پر ہے۔ بنا ار مشیل کے طور پر کی وفعہ 
دہونے کی نیت سے کوئی شنس دس بار بای چرے پر ڈائے ےکوی حرج میں اور وہ اس کا لی وفع عون 
بی متصور ہوگا۔ لان اکر ین رفعہ دعونے کی غیت سے خن بر پل ڈائے تو سی باد پل ڈالنا حرام ہرگ 
اور وضسو پل ہوگال 

مستلہ ۲۵۱ ؟ روفیں بازو دہونے کے بعد سر کے ا لے یے کا سح وضو کے اس پل کی تر ی سے 
کرنا چاپے جو پاتھو کو کی دو گنی ہو۔ اعقیط داب ہے ہج ےکہ جع دائیں پان سے کیا جائے اور سج 
اھ سے کی طرف ہو 

مستلہ ۲۵۲ : سر کے پار توں مس سے بغائی سے ما ہوا ایک حصہ دہ متقام ہے جم سم کرنا 
جا پنے اس جضے میں جاں بھی اور نس اندازے سے بھی _ حعکریں کانی ہے۔ لیکن امقیط جب پ ہے 
کہ طول میں ایک انگ کی مبائی کے لگ بتک اور عرش میں تن کی ہوئی الگیوں کے تک نک جگہ یر 
کیا جاے۔ 


مل ۲۵۳ ۰ ضردری خی ںکہ ع رکا نج جلد کیا جا بکمہ سر کے اگ لے یہ کے بپلوں پر 
رن بھی درست سے مجن اگ ر کی میں کے سر کے کے کے پل سے لیے ہو ںکہ شنا گ کی 
کھرنے تو اس کے چرے بر آگمرمیں ما سر کے کی دوسرے صحے تک جا ہیں تو اسے چا تچ کہ لو ں کی 





توضیچالمسائل_ _ ۔ ھی ا 


جڑوں بر س حکرے یا انگ نم لک سرک جلد بر حکرے اور آکر چرے بر آگرنے والے ما سرک 
ووسرے حصوں تک کے وائے پلو ںکو آ ےکی طرف تش کرکے ان پر حکرے مایا رک دوسرے 
تصوں کے پاوں بر جو آ سم کو بڑھ آئے ہوں شس عککرے گا تو دہ سج پا ہدگا۔ 


مہ ۲۵۳ : س کے ن8 کے بعد وضو کے پا کی اس تر ی سے جو پاتھوں میں باتی ہو پاؤں کی 
کی یک اپگی سے لے کر پاؤں کے اویہ والے جے کے ابھار تک س کرنا چایے اور ایاظ وجب ہے 
ہےکہ پپوں کے جوڑ تک مم کیا جائۓے۔ ای طرح قاط واجب سے ہ کہ داھیں چک دامیں باج سے 
اود پاگمیں چک پامیں اھ سے سم کیا جاے۔ 

مستلہر ۲۵۵ ٠‏ پنوں بر ح کا عرض جتتا ھی ہو کی سے لیکن حر ےکہ ٹین جڑی دئی الگلیوں کی 
چوڑائی کے برابر ہو اور ای سے بھی بتریہ ےکم پاذں کے پودسے اوبر والے ح کا سح ری کیل 


سے کیا جائۓے۔ 


مہ ۲۵٢۳‏ ۰ اط واجب ہہ س ےک پانوں کا ض حکرتے وقت پامھ الگیوں کے سروں پر رگھے اور 
چھرانؤں کے ابھارکی جان ب کیچ یا نہ پاوں کے جوڑ پر رک ھکر انگیوں کے مرو ں کی طر ف کیچ ے 
درعت می سک پودا اھ پاؤں بر کے اور تھوڑا سا کین ۔ 

متلہ ے۲۵ ٠‏ اک خخ سک چا کہ مزراور پؤں کا عکرتے وت پاجتھ لن بر کئینچ لین پان کو 
عرکمت رے اور ا ات ہ اکن رر کے اور مس یا پاو ںکو اس بر چلاے تق وضو پاطل ہو جانا ہے لین 
اق یی کے وقت سراور پاؤں مع وی عم تکریں نوکوئی عرع میں۔ 

لہ ۲۵۸ : ۱جس مہ کا نض ج کر ہو وہ لگ ہونی چاہے۔ اکر دہ اس قد بر ہوک بل کی 
تی اس بر اث نر کرے قو سج پاطل ہوگلہ لیکن اکر ا بر تبی ات یکم ہوکہ جو قری سج کے بعد نظھر 
جآ اس کے متعلق ‏ یےکھا جا س ےکہ دہ فقطا نل یکی تی سے پھ رکوکی حمع نمیں۔ 

مل ۲۵۹ : اھر 8 جکرنے کے لیے کی پر تری بقی ض دی ہو اسے دوسرے پالی سے 
نی ںکیا جا مکنا لہ ای صورت میں انی ڈاڑھ کی تری لب ےکر اس سے س عکرنا جاے اور ڈاڑھی کے 
علاوہ او ری تہ سے تزبی ل ےک رس حکرنا مل اشبال سے۔ 





ترتواسا ‏ ا_ 87_ا 


مئلہ ۷۴ ٠‏ مر تقی کی نی صرف سرکے سح کے لیے کن ہو تس رکا سج اس ری ےکر 
چان اور پاؤں کے سح کے لیے انی ڈاڑھی سے تزی عاص لکرنی جاة۔- 

صتلہ ٠ ٣۷٣‏ موزے اور جوتے بر ش عکرنا جائز نیں ہاں اکر خت ممردی کی وج سے یا چور یا 
درنرے ویر کے غوف سے جوتے پا موزے نہ اارے جا میں تو سح مکرنا چائۓۓ اور تقیہ کی صورت 
میں موزے اور ہوتے بر سر کرنے کے علاوہ یھ اکر چاتے۔ 

سا ۲۷۳٢‏ : اکر پاؤں کالب ولا حصہ خُٗس ہو اور س جکرنے کے لیے اس دھویا بھی یہ چا سکتا 
ہو نت مکرا چاسیے۔ 


ار ای وضو 
سیل ٠ ٣۷۹۳‏ اراس وضو يہ ہ جےکہ انسان چچرے اور بازوؤ ںکو وضو کی نیت سس پالی میں ڈوو 
(ڑہث۔- 
مل ۲۷۰۳٢‏ : ارقماسی وضو میں بھی پچرہ اور بازد اد سے می کی جانب دہونے بچائیں۔ ایا جب 
کوئی مخنس دض وکی نیت سے نرہ اور بازد لی مل ڈبوئے قزر اسے ات ےکم چچرو چیا ی کی طرف سے اور 
از کیو ںکی طرف سے ڈبوے۔ لن وض وکی غیت چچرے اور پاتھو ںکو پالی می ڈبونے کے بعد باہر 
کیہ مز 
ستے رفت سعت 
ستلہ89 ۷۷۵ ٠‏ اگ رکوتی مخس ض اتنام کا وضو ارتائی طرییقے سے اور مض کا غیرارقای (منی 
تھی ) طرییقہ ہس ےکرے فو اس می ںکوئی حم خیں۔ 


' زاس من نکاوض کرت وقشت زڑھنا جب ہے 


میل ۲۷۴۷ ٠‏ یہ نس رضوکرے گے اس کے لیے تب ہےکہ جب ا سک تعھربالی بر پڑے 
آے بناپڑے ہسم الله و بالله والحمد لله الٹی جس الماء طھورا ولم یحمله نجسا۔ 





توضیحالمسائل )(| 8ھ ] 


جب وضو سے پل اپنے پاتھ دجو تر یہ دا پڑت اللھم اجعلنی من التوابین واجعلتی 


من المتطھرین 
مفنہ شش تی کرتے وتت ے منا ڑے اللھم لقٹی حجتی یوم القاک واطلق لسانی 
ینکرک 


اق ہین جاک میں پالی ڈالۓ رقت ہے رما پڑھے اللھم لاتحرم علی ریح الجنة 
واجعلنی ممن یشم زیحھا ور وحھا وطیبھا۔ ُ 

چرہ رہوتے وقت نے رعا پڑے اللھم بیض وجھی یوم تسود الوجوہ ولا تسود وجھی 
یوم تبیض الوجوھ 

دایاں پاتھ رموتے وقت ىہ رعا پا اللھم اعطنی کتابی بیمینی والخلد فی الجنان 
بیساری وحاسہنی حسابا یسیراد۔ 

یایں پاتھ گے وقت ہے رعا پڑے اللھم لاتعطنی کتابی بشمالی ولا من وراء ظھری 
ولا تجملھا مغلولة الی عنقی واعوذبگ من مقطعات النیران 

رکا حکرتے وقت ىہ رما ڑے اللھم غشنی برحمتتک و برکاتک و مفوک 

پاوں کا سج کرتے وقت سے رما پڑے اللھم ثبتنی علی الصراط یوم تزل فی الاقدام 
واجھل سعی فی مای رضیدگ عنی یا ڈائلجلال وللاکرام 


وضوکی سا 
وضو کے کچ ہوٹ ےکی چند شرائا ہیں۔ 
لات لی شرط س ےک وضو کا بای پگ ہو۔ 
نی دو ری بہ ےککہ وہ پالی صعلقی ہو 
مہ ے٦۲ ٠‏ خس یا مفاف پالی سے وخ ھکر درعت یں خواہ وضوکرنے والا منیس اس کے 


"ٹس یا مضاف ہونے کے ہارے می لم نہ رکتا ہو یا بھول گیا ہوکہ ہے فجس ىا مضاف سے اوزا ا رہ 
ایے پالی سے وض کرک نماز پڑھ چکا ہے و چا ےکہ جع وض وکرکے ددبرر نماز بڑے_ 





توضیالسائل ____ [_ ھا 





متلہ ۲۹۸ : مر ایک مس کے اس می لے ہو مضاف پائی کے علادہ او ہکوئی ای وضو کے . 
لیے نہ ہو اے چا کہ گر خازکا وت نگ ہو تر ٹھ مکرنے (اور نماز پڑھھے) لین اگر وت لگ ٠...‏ 
نہ ہو لی کے صاف ہونے کا انظھا رکرے اور جب صاف ہو جائے فو اس سے وض وکر نے۔ ١‏ 
ج..۔ تھی شد یہ ےکہ دض وک پالی سب ہو۔ 


مل ۲٦۹‏ : ایے پانی سے وض وکرنا عرام اور باکل سے جو غمص بکیاگیا ہو یا ٹس کے پارے جم 
بے علم نہ ہوکہ اس کا مالک اس کے استعال پر رضامند ہے یا خشییں۔ 

لہ ۴ے٢ ٠‏ سی ررسے کے ای حوض سے وضوکرنے می ںکوئی مزع شیں جس کے پارے 
می مہ علم نہ ہوکہ آیا دہ قام لوکوں کے لین وق فکیاگیا سے پا عرف بررسے کے ططہا کے لیے وتف 
ہے۔ لین شرط یہ ہےکہ عامقہ الناس عو] اس حوض سے وض وکرتے ہوں۔ 


مستلہ ا٢‏ : أ رکوئی نس ایک مر میں ناز پڑھنا نہ چاہتا ہو اور ہہ بھی نہ جامتا ہ وکہ آیا ای 
مسج کا حوض تھی لوگون کے لیے وقف سے پا صرف ان لوگوں کے لیے جو اس مد میس نخباز پڑ ھت ہیں 
قٍ اس کے لیے اس حوض سے وضو کر ررست میں لین گر عمو] وہ لوگ بھی اس حوض ے وضو * 
کرتے ہوں جو اس سور میں نماز نہ پہنا جات ہوں ت وہ نس بھی اس حوض سے وض وکر سکتا ہے۔ 
ان لوکوں کے لیے ج سی مرا با مسافر خانہ وغیرو میس متیم نہ ہوں اس سرائے یا سافر ماشہ کے حوضس 
سے وضوکرنا ای صورت میس درست سے جب موا ایے لوگ بھی جو وہاں مٹیم شہ ہول اس حوض سے 
وض وکرتے ہوں_۔ 


مستلہر ۴ے ٠: ٢‏ ایک مخس کے لی بدی ہروں سے وض وکرنے می ںکوئی حرحع نمی الرچہ وہ یہ نہ 
جانا ہوکہ ان کا مالک رضا مند سے پا خہیں۔ مین ار ان ضروں کا مالک وضوکرنے سے تم حککرے یا 
معلوم ہوکہ وہ ان سے وضصوکرنے پر رضا مند ٹم یا دہ نابالغ ا ال ہو یا دہ خمری کی غاصب کے قضہ 
میں ہوں تو ان خمام صورقوں مس ان ضروں کے پالٴ سے وض کر ناجائز سے الہتہ دیمات یا یمات جیڑے 
علاقو ں کی روں سے اگر لوگ عام طور پر اتفارھکرتے ہوں فو ان سے وضوکرنے ناکسی اور طرح کا 
اتتفادہکرنے می ںکوئی حرج نمیں خواہ لن کا مالک خاالغ یا پاگل ى یکیوں نہ ہو۔ نیزاڑی خریں کے مال کک 








ترضیح‌المسائل اّو)] 


بن نہیں ماک دہ لوگو ںکو ان سے استفادہکرنے سے مت کرے۔ 
مستلہ ٢۱ے ٠ ٢‏ اگ رکوئی خس بعول جا ےک پانی حس ب کیا ہوا سے اور اس سے وض وک ر لے 
اس کا وضو تچ سے ین اک کسی شخنس نے خودرانٰی خص بکیا ہوا ہو اور بعد میں جعول جاس ےکہ اس نے 
ہہ پالی ححس بکیا ہوا ہے اور اس سے وض وکر لے ق اس کا وضو پاٹل ہوگل 
ل..۔ ہو شی شر ىہ ہب ےکہ وضو کا برتی ماع ہوں 
۵ ا چریں شرط ہہ ہے کہ نس برق سے وضو کے لیے پانی استعال کیا جاے دہ اتاظ 
واح بک بنا بر سونے یا چاندی کا بنا ہوا شر ہو۔ . 
متلہ ۴ے : اگ رکی مخس کے اس وضو کے لئے دہ پانی ہو جو غصب کے ہوئے (یا سونے 
چاندی سے بے ہوئے ) برتن میں ہو اور اس کے پاش اس کے علادہ او رکوئی پا شہ ہو تار وہ ا پا 
کو شری طریلق سے دوسرے برتی میں انڑل سکتا ہو فو ای کے لیے ضردوی سب کہ اس لی دو سرے 
بی میں انل نے اور پچھرای سے وضو ککرے اور اکر ایا کرنا آسان نہ ہو تق تع مکرے اور أگر الی 
قر پاش ال کے علاوہ ددم پالی موجود ہو تو ضردری ےکہ ای ے وض وکرے اور گر ووثولں دورتولں 
می گناہ کا مرگب ہوتے ہوئے اتھ یا اس کے مامند کی یز سے پالی وضو کے امضاء پر لے تر اس اکا 
وضو ضچئ ہو گا مور ا یکیفیت کے ساتھ أکمر سونے چاندی کے بے ہوئے بی سے وضو کرے و اس کا 
وضو کیچ ہے۔ خواہ ال کے پاں اس پالی کے علادہۃکوتی پالیٰ موجود ہو پا شہ ہو اور اگمر مصب گے ہوۓ ۱ 
برق سے ارای وض وکرے نے وہ وضو باٹل ہو گا۔ قبع نظراس سےکہ اس کےہ پا پائی کے لاد ہکوئی 
پالی موجود ہو یا نہ ہو اور اھر سونے پاندی سے بے ہوئے برقی سے ارقمای و وکرے تو وضو کے کم 
ہونے میں اشقال ے۔ 
متلہ ٢۵‏ : اگ رکی حوض میں شژل کے طور نحص ب کی ہوئی ایک ایینٹ پا ایک چھرلگا ہو اور 
عرف عام میں اس حوض میں سے پائی انا اس امنٹ با پچھر یر تصرف نہ تھا جائے ت (یالی لیے میں )کوک 
مرج خیں لن اکر تصرف تھا جاۓ ت پل کا لن حرام لین اس سے دض وکرنا جج ہگ ج 
مہ ۷ئ۲ ٠|‏ اکر ائمہ طاہرین' یا ان کی اولاد کے صن می جو پلہ قبرتان تھاکوئی حوضس با ضر 
کھودی جا اور یہ علم نہ ہ کہ مک نکی زین قبرستان کے لیے ونف ہو بی سے و اس حوض با خرن ک 








ام 


شال سائل : )( جوا 


9 شی شر ىہ ےکر وضو کے اعضاء رحوتے وقت اور سم جکرتے وقت پا ہوں۔ 

متلہ ے٢‏ ۰ أگز وضو کل ہونے سے پےلہ وہ قام شس ہو جائے سے دعویا جاپکا ہے یا جس کا 
کیا جا چا ہے نز وضو سج ہو گاگ 

مل ۸ے گلر اععضاۓ وضو کے علاوہ بن کاکوئی حصہ خس ہو تقو وضو کیج سے لیکن اگر 
پاخانے ما یغاب کے مقا مک پک نکیا ہو تو پھر اط تخب ہ کہ پیل انی پل گکرے اود پچھروضو 


گت نے 


متلہ ۹ے٣‏ ؛ امر وضو کے اضام میں سے کوئی فو ٹس ہو اور وضوکر گے کے پور متماظہ 
شح س کو می لگزر ےکہ کیا وض وکرنے سے لہ اس حفصوکو دہویا تھایا نہیں فو اس کی صورت بے ہے 
کہ کر وضو کے وقت اس نے پاک با خس بون ےکی جااب قوج شییں دی۔ تو وضو باصل ہے اور اگر 
اسے علم ہوکہ ازج دی تھی باتک ہوکہ تہ دی تھی ما میں قے وضو کچع ہے لسن ہر صورت میں اے 
جس مقا مکو دہو لین جچاجۓ۔ 

متلہ ۲۸۴ : اف رصی مس کے برے یا ہاتھوں پ رکوئی ای خراش ما زم ہونس سے ون نہ َ 
جے اور پل اس کے لیے معرنہ ہو اسے پا نےکہ اس عضو کے جن حسوں پر زم وظیرو ہیں اٹمییں 
ریب دار رہونے کے بعد زئم یا خراش دالے ‏ ےک وکر براب پالی جا جادبی پالی یں ڈیو دے اور اسے ال 
قدد دا ےکہ غون بنر ہو جا اور پانٰی کے اندہ ہی اپ الگی زم یا خراش پر رھک اویے سے یچ کیا 
طر ف کیچ کہ اس پر (شن) خراش ما زم بر بای جاری ہو جاے اور اس کا وضو حجج ہے۔ 

پا۔. ماویں رط ىی ین وض وکرنے اور نماز یڑج 2 لیے وت کانی ہو۔ 

مستلہ ۲۸۳ :۰ مر رت اتا نگ بوکہ متعاقہ محخصس وضکرے فو مار یکی مادری نماز یا اس کا پھ 
حصہ وت کے بعد پڑھتا پڑے آے اسے پا کہ جم کر نے لین اگر جم اور وضو کے لیے تقیبا 
جیہاں وقت ور کار ہو قٍ پھر وض وکرے۔ 








ترضیح‌المسائل ۱ زا۲دو] 


قریت ہاکسی سب کام خلا قرآن جید پڑ من کے لیے وضوکرے و اس کا وغمو سخ سے لیکن اکر ستلد 

جا ہوۓ جان بوج ھکر اسی نماز کے لیے وضوکرے قے اس کا وضو بال ہے۔ 

.. آنھویں شید یہ ہے کہ وضو رحدد قیت ھی اللہ قالی کا عم سرانبام دنین کے کیا " 
جاے۔ اکر اپنے آ پکو نرک بپجچانے بای اور نیت سے کیا جائے فز ان ہوگا۔ ۱ 


سنہ ۲۸۳ ۰ رض وی میت زان سے یا ول مم سکرنا ضردری شی لہ اکر ایک مخ وضو کے 

تام افعال اللہ توالی کے عم بر عم لکرن ےکی میت سے الا تو کی ہے۔ 

۵ ... میں شر يہ ےکہ وضو ایں تعیب سے کیا جاتے جس کا در ادیر ہو چکا ہے نشی پل 
چر؛ اور اس کے بعد دایاں اور پھر پایاں پازو دجما جاے۔ ال کے بعد مھ رکا اور پچھرپاؤل کا 
کیا جاے۔ بر بنائے اط وہب پائیں پؤں کا سحع دامیں پاوں کے بع یا جائۓ۔ گر 
وضو اس ترتیب سے ش کیا جائے و باضل ہوگا۔ : 

...9 ہیں شر مہ ےکہ وضو کے اعرال سراخجام وین میں فاصلہ ثہ ہو۔ 

مسلہ ۴ گں۔مر وضو کے افیل سرانجام رسینے می اتا ناصلہ ہو جا کہ جب وظ وکرنے والا 

شس کسی عص کو دعونا اہ یا اس کا حعکرنا چاہے نو اس اثاء میس ان مقابا تکی ترکی جنیں دہ پینھر 

ذجھ چک ہو یا جن کاض کر کا ہو لگ ہو جاے نز وضو پاٹ ہوگلہ لین اگمر جس حفس یکو دعونا ہے یا سم 
کرنا ہے صرف اس سے پطہ رہورئۓے ہوئے یاحج کی ہوۓے عم وکی تری فنک ہ وگئی ہو خلا جب 
پیاں ہارد دھوتے وقت دانھیں پاز کی ری لک ہو کی ہو لگن چچرہ تر ہو تو وضو کچ ہوگگ 

ضز لہ ۱۲۸۵ : ا۰ رکوئی مخصس وضو سے انل با ناصلہ انجام رے لین ہوا کی گی نا بدن گی 
تار تکی زیادتی بای اور الڑی بی وجہ سے بی مو ںکی تری (مژنی ان مو ںکی تری نہیں دہ پل 

دعھ چکا ہو ما جن کا_ کر چک ہو ) نگ ہو جائۓے تر وضو جج ہے۔ 

متلہ ۲۸۷ ٠‏ وضو کے دوران چلےہ پھرنے می سکوئی حرج میں لوا اگ رکوئی مس چر اور پازو 

دوئے کے بعد چند قذیم لے اور پھر صراور پاوں کا کرے فو اس کا وضسو سخ ہوگا۔ 

ہ.. میادرعیں شر ہہ سےکہ انان انا چرہ اور پازد دہوئ اور سر اور پاوں کا سج خوو ہی 

کرے۔ اگ رکوئی دو ا اس وض وکرائے ما اس کے چرے ما بازوں پر پان ڈالے ىا مراور 





توضیحالمسائل ._ ) 93 أ 


پایں کا جکرنے میں ا یک مد دکرے تے اس کا وضو پاٹل ہوگل : 
امت ے۲۸ ٠‏ اگ رکوی منص خور وضو نکر سکتا ہو ا اسے چا ےک کی دوس رےکو انا ہاب 
بنا جو اسے وضو کرا رے۔ اور گمر وو ٹنیس اجرت ماکے تر اٹ ےکہ اسے ادائکرمے بشرطیکہ ا کی 
ادائگی پر اور ہو اور ای اکرنا اس کے عالا تکی روشنی مم اس کے لیے نتصان دہ نہ ہو لیکن پچ ربھی 
اسے چا ےکہ وض کی غیت خورکرے اور ح بھی خود اپنے پاتھول سے کرمے اور ار خور اپ پاتھوں 
سے نج نکر مکنا ہو تر اس کا ناب اس کا اھ پڑے اور اس کے کحع کے ملات بر کیچ اور آمر ہے 
از کی پر ران کا رززے و ال کر ران با سو ان 
کا کک حا 
صٌل ۲۷۸۸ : وضھ کے جو افل بھی انسان بذات خود اخجام رے متا ہو ان کے پارے میں اے 
درو کی مدد ٹی بی جاتے۔ : ۱ 
0 باوعویی شھط سے سے کہ وضو کرنے والے کے لیج پالی کے اسقعال میں کوئی رکاوٹ نہ 
متلہ ۲۸۹ : جس مخ سکو خوف ہوکہ وض وکرنے سے بیار ہو جائے گا یا کہ آگر پا وضو کے 
ٹیے اسقعا کر نے گا نز اس رہ جاے کا اس چا کہ وضو نہکرے۔ لین اکر اسے اس بت کا علم نہ 
ہو کہ پالی اس کے لیے مر ہے اور وضوکر نے تر خواہ اس بعد میں عم بھی ہو جا ےکہ پل یی کے 
لیے مھنم تھا اس کا وضو درست ہو گا بش رطیہ اتا ضرر نہ پنیا یا ہو جتنا شرعا' “ام ہے۔ 
متلہ *۲۹ ۰ ار پرے اور پازوؤ ں کوککم ازم اتے پالی سے دعونا نس سے وضو کیچ ہو چاتا ہو 
ضرد رساں شہ ہو ٹڈ ای مقدار سے بی وض وکرنا چاجۓ۔ 
9 تی رای : ےکہ وضو کے اعضاء تک پائی کی مم شکوئی رکاوٹ ئہ ہو۔ 
مہ ۲)۲ ٠‏ اگ ررکسی مخ کو معلوم ہوکہ اس کے وضو کے اعضاء سے کوئی جنزز گی ہوئی سے 
کن اس بارے مس اے تک تک ہو تیادہ جزپالی کے کے ان اعضاء تک کے میں ماع ہے با نمیں تو اے 
چا کہ یا ق اس چ زکو ہنادے یا بای اس کے نے کک ہئیاے۔ 





توضیجالمسائل ل[94_!۔ 


سمل ۲۹٢‏ : ؟ گر ياضن کے یج میل ہو قو وضو درست ہے لین آمر ناشن کاٹ کا جائۓے تو وضو کے 
لیے میل کا رو رکرن بھی ضردری ہے علادہ از اگر باشن م مول سے زیادہ بڑھ ایل بنا حصہ ممبل 
سے زیادہ بڑھا ہوا ہو اس کے یی سے مل نال دی چا 


سیل ۲۹۳۴ : اگ رکی مس کے چرے“ ازوں' سر کے الہ حلہ یا پاؤں کے اوبر والےے جم پر 
جل جانے سے بای اور وجہ سے ورم ہو جائۓ تو اے دجو لین اور اس پر شس کر لیناکائی ہے ور اکر 
اس مم سورااغ ہو جاے تق پالی جلر کے نے پنچنا ضردری فیس بج اکر جلد کا ایک حصہ اکمٹرجاے تب 
بھی بی عردری می ںکہ جو حصہ نہیں اکھڑا اس کے یئ کک پان پنیا جاے مین جب اھڑی ہوکی جلہ 
تن ےک پا فی کو ای ا و ما ےب یا ان کے یئ بای 
بنا جاجۓ۔ 


تل ۲۹۳ ٠‏ اگ کی مخ سکو نیک ہوکہ آیا اس کے وضو کے اعضاء .م ےکوئی جن گی ہوی تج 
۱ ۹۶۶۷ھ 0 
ہوک مارااس کے امہ سے گا رہ گیا ہے یا خیں تو اسے چا ےکلہ خحتی نکر نے یا پا کو اتا کیہ 
افمینان ہو جام ےک گر اس پر گارا لگا روگیا تھا ردر ہو گیا ہے یا پالٰی اس کے یچ گیا ہے۔ 
مل ۲۹۵ : نس تمہ کو دہونا ہو یا اس کا س جح کر ہو اگر اس پر یل ہو لن دہ کیل پالی کے 
جلد تک کے میں رکاوٹ یہ ڈائے تو اس کاکوئی مع نمیں۔ ای طرع گر پستروغی کا کا مکرینے کے 
بعد سفیدری اھ بر گی رہ جائے جو پا یکو جلد کک کے سے نہ روک ق, اس نک بھ یکوئی ضرع میس لن 
گر میک ہو کہ ان چزوں کی موجودی پانی کے بدن تک کے میں ماع سے یا نہیں تو انی دو کرنا 
چاجے۔ ۱ 
متلہ ۲۹۳ : اگ رکوئی مخس وضوکرنے سے پ لہ جانا ہوکہ وضو کے محض اعضاء پر ای ہے 
موجور سے جو ان تک پانی کے میں بائع ہے اور وضو کے بعد کی فکر کہ آیا وض وکرتے وقت پالی ان 
اعضاء تک بپشیا سے ما خی اور اخال اس جات کا ہوکہ وضو کرت وقت وہ اس ام رکی جائنب موب تھا 
ا کا وضو جج ے۔ 








ےھ 


توضیبچ‌المسائل 3-۳ (ڑ یو ] 


مل ۲۹8 : مر وضو کے متض اعضاء می ںکوئی کوٹ ہو جس کے یئ پا یکبھی ف تود ود چلا 
جانا لپ اورکبھی نہ بنچتا ہو اور انان وضو کے بعد فکرےکہ آیا پالی اس کے نے پنیا ہے یا نہیں 
بگہ وہ جانا ہوکہ وضو کے وقت وہ اس رکاوٹ کے یچچ پائی کے کی میانب موجہ نہ تھا اقاط ولاب 
ٍ ےک روپارہ وخ وگزے- 

مل ۲۹۸ : رکوئی نس وض وکرنے کے بعد وضو کے اعضاء برکوئی ابی جز ریہ جو پالی کے 
بن تک کے سے ملع ہو اور اسے ہہ معلوم نہ ہوکہ وضو کے وقت ہہ جز موجود تی یا بعد شی ہوا 
ہوئی بر اس کا وضو تج سے لیکن اگر وو جانا ہ وکہ وضوکرتے وقت وہ اس رکاو ٹ کی جاب موجہ نہ تھا 
اطاط واجب ہے ے ووپارہ وخ وگرے- 

مستلہ ٠ ٢۷۹۴‏ ا کسی مس کو وضو کے بعد شتک ہوکہ جو جن پانی کے سے الع ہو عق سے وضر 
کے اعضاء بر تھی با میں اور امکان اس بات کا وکہ وضوکرتے وقت وہ اس ام رکی جنب موجہ تھا 


کا دض کچ ے۔ 
وضو کے امام 


ضیّل 2 آئ رکوئی جخس وضو کے اتعال اور شرائئط شلا بای کے پک ہہونے اور مباجح ہونے 


سک ات ہین بت زیادہ تی فکرے' اس کا شک وسوس ہی عد تک بے جا ے تو اسے جات کہ رہ اپنے 


گُ کک ہدا پر 


مل ۳٣|‏ : پ سی جن ں کو موک اس کا وضو ال ہوا ہے یا نہیں و اے تا 
کہ اس کا وضو بای ہے لیکن گر اس نے ا بکرنے کے بعد استبراء نکیا ہو اور وضو کر لیا ہو اور 
وضو کے بعد اس کے. برن سے رطوبت غارع ہو نس کے پارے شں وہ ہے نہ جات ہ وکہ تاب ہے پا 
کوئی اور از اس کا وضو پل ہو گا 


متا ۳٣۷٣۶۳۲‏ . آ کی من سکو کیک ہوکہ اس نے وض وکیا ہت ما شمیں ذو اسے چا ےکم وضوکر 





توضیحالمسائل : ا 6 
نان 


سز مرو جس شف ںکو معلوم ہوک اس نے وض وکیا ہے اور ای سے عدث ھی واتع ہ گیا 
ہے شا اس نے جیا ب کیا ہے لن اسے ىہ معلوم نہ ہوک کوننی بات پعلہ وا ہوئی ہے اور ے 
صورت نماز سے پل بی آئے تو اسے چا ےکہ وضوکرے اور اکر نماز کے دوران پیٹی آئے قر نماز 
وڈ رے اود وضوکرے اور گر نماز کے بعد پٹ آے تر جھ نماز دہ پڑھ چکا ہے دہ سج ے۔ الب 
دو ری نمازوں کے لیے اسے سے سرے سے وضوکرنا چاہینا۔ 

مستلہ ٠ ۳٣۰۴‏ اگ رکی نس کو وضو کے بعد یا اس کے ددران میں لقن ہو جا ےک اس نے 
ححض بیس نہیں دہومیں یا ان کا سج نمی کیا اور جن اخضاءکو چس دخویا و یا ان کا سج کیا ہد ان کی 
تی زیادہ دق گزر جانے کی دج سے نگ ہو گی ہو 3 اسے پا ےکہ ددبارو وضوکرے لیکن اگر وو 
قری فک نہ ہوئی ہو یا ہوا گرب یاکسی اود ای دجہ سے خنگ ہوگنی ہو قر اسے چا کہ جن نگوں 
کے بارے میس بھو گیا ہو اننیں اور ان کے بعد آنے والی جو ںکو دہوے یا ان کا لج ککرے۔ اور گر 
: وضو کے دوران می کسی عفمو کے دہونے یا کرنے کے بارسے میں شح فکرے تو چان کہ ابی عم 
پگ لکرے۔ 

مہ ۳٣۵‏ ۰ اگ رکی جن سک فاز اھ ین کے بعد شک ہوکہ اس نے وض وکیا تھا ا میں اور 
ال اس بات کا ہ کہ نماز شرف کرتے دقت وہ اپی عالت کی جانب متوحہ تھاق ا کی نماز نیج سے 
ین اسے چا کہ آعدہ نمازوں کے لیے وض وکرے۔ 

ہل ہیر اگ کسی خ سک مار کے روران تک ہوک آیا اس نے وض وکیا تھایا خی ڑا 
کی ماز باکل ہے۔ اسے چا ےکہ وض ھکرے اور نماز دوبارہ پڑھے_ 

بسڑرے و اگ کی ھن سک نماز کے بعد شتک ہوک آیا اس کا وضو خماز سے پل پل ہوا تا 
با بعد می ق ھ نماذ بڑھ چکا ہے دہج ہے۔ 


لہ ٣۸‏ : اگ رکوئی منص ای مرض میں جا ہوکہ اسے پاب طرہ قد ہ کر کن ہو یا 
پافانہ روک پر اور نہ ہو ق گر اسے نین ہوکہ نماز کے اول وقت سے لےکر آخر وقت کیک اتے اتا 











.رض مان کے نے ما یک کے ا ری می فا 2اا 


وقل مل جا گاکہ فا اور وضو کر کے نماز بڑھ کے فو اسے چا نےکہ اس ون کے دوران میں نماز 
پھے اور اکر اس صرف اتی معلت لے جو نماز کے واجیات ادا ککرنے کے .لیے کانی ہو ت اسے ھا ہے 
مہ اس دوران میں صرف نماز کے واضبات با لا اور تب افعال نعل ازان' اققاست اور کون کو 
ا آزرےنے 


سیل ۳٣۹‏ ۰ اکر کی نس کو (بیار یکی وج ے) وضو اور نما زکی مات نہ تی ہو اور نماز کے 
دوران میں کی وقعہ ال کا پثاب اور پاغائر خارع ہوا ہو اور اگمر پرونعہ (یثاب پا پانانہ آے کے پور) 
وضو کرنا ا کے مین دشوار نہ ہو تو انقیاط اس یں سح کہ پالی کا بن قریب رک اور جب بھی یخاب 
ا پافاند غارع ہو فور وضو کرے اور ہاقی اندہ نماز یڑ ھھ اگمرچہ انظریہ ہج کہ اکر دہ نماز لیک وضو ے 


وھ لے ور میں کال ے۔ 





وف کرما اس کے کی دشار پر2 ار کی بر ملز کے لئے با اشل ایک وضو کالی سے جج ائے 2 
7 72 
2 ی ئل ہے ماسوا اس ک ےکلہ شت ا ا 





٦ 


لیے ایک ہار وض وکرے مر ن تنا شض کیرے اور تخس اور نماز ا قاط کے گے 





درراوضو ضروری یس ستص 

مستلہ ۳۷ ۰ گر کی مخس کا غاب ما پاخادد بے در بے خارج ہو ہو اس کے لیے ضروری 
می ں کہ وضو کے بعد فور فاز جو می امرچہ بحترس ج کہ نھاز بڑھے یں جلد ی کرے۔ 

لہ ۳۷۴۳ ۰ اگ ری نس کا غاب ما اغانہ بے در بے خارع ہوا ہو ا وض وکرنے کے بود لگر 
دہ نما زکی مماات :بیس نہ ہو تب بھی اس کے لیے قرآن بجی کے الفا کو چچھونا جائز ہیں 

مستلہ ۳٣۳‏ .ا رکسی من س کو تطرہ تطرہ غاب آ رہتا ہو قزر اس چا ےکہ ماز کے لیے اپنے 
آپ گر تک ای کی کے در یے سیت کون کر لے جس میں ردگی ۶ی ۶ وو" رقاب 
دو ری بالوں 22 سے ے روک اور انام واعب ے 9 چر نماز سے ث ثاب خارح ہوتنے 
کے یس دہ متقا مک درہونے۔ علاوہ ازیں جو شخص پاغانہ روکئ پر مار غ ہوا اسے چا ےک جماں تک 


تروا سے ات ہ لہ8٭۔۔۔ 


مین ہو نماز پڑھے ین اخجانے کو دو ہل جھوں سک لے سے روکے اور اصٔاط واچپ پ ہے آلر 
باع(ث زہمت نہ ہو قٍ پر نماز کے لی پخانہ خارحع ہونے کے مقاممکو رہوئے۔ 


لہ ٠ ۳٣۷۴‏ جو خص یغاب اور پاخان ےکو روکنے بر قدرت نہ رکتا ہو فو جال کک کن ہو نماز 
شاب اور پاخانے کو روکے چاہے اس رجہ خر کرنا وھ کہ اس کا عرض اگر آسائی سے دور 
ہو سا ہو ىز اپنا لا عکراۓ۔ 

منتلہ9 ۳٣۵‏ : جو عحخص انا تاب اور اغانہ روک پر تاور ضہ ہو اں کے لیے مت باب ہونے_ 
کے بعد ہہ ضردری خی ںکہ جو نمازیں اں نے عرضس کے دوران میں اپنے وطیفہ کے مطاق بھی تھیں 
ان کی ققناکرے لین اکر اس کا مر نماز بڑھتے ہو دور ہو جائے نو چاتی کہ جو نما اس دت پاڑی 
ہر اسے زوبارہ بڑھے۔ 


مل ۳٣۷۴۷‏ : اگ کسی مخ سکوی عارض ہوکہ ریا روکن پ تقادر نہ ہو اسے چا کہ ان لوکں 


کے رظیفہ کے *٭طاقی گم لکرے جو یجاب اور پاغانہ روک پر ذذرت شہ رک ہوںں 
۰ 000 .+ سرد 
دہ یں مین لیا وضضوکرنا ہے 


مت تمہ چریں کے سے وض وکر واج ے۔ 

ایل وادب نمازو ںکیلیے سواۓ نماز میت اور تب نمازوں می وضو شرطا صحت ے۔ 

مس ضس سرے اور تہ کے لیے جو ایک مخس بھول کیا ہو جلہ ان کے اور مماز کے 
درسیانکوئی عرث اس سے رود ہوا ہو للا اس نے یغاب کیا ہو لین سر سو کے 
وض وکرا واوؤب ین 

7٦‏ خانکعبہ کے واجب طواف کے لےے۔ 

چارم وضوک رن ےکی ذو انی ہو یا حدکیا ہو یا ش مکھائی ؛٭- 

مم سم نے مذر انی موکہ اپنے بد ن کاکوگی حص قرآ نکی تم سے م سکرمے گال 


تیم : سن خرہ قرآن مجر کو دہونے کے لیے یا بمبیت اظاء ویو سے بے کے تا 





توضیچالسائكں__رے ے ۱ ڑ9 ا 





کہ متعلتہ فص بر ہ کر اس مقر کے لیے انا ات یا بدن کاکوی اود تصہ قرآن یر کے 
الفاط تم س کرت یکن جو وقت وض وکرنے میں گلا ہو آگ. قرآن مجی رکو دہوتے یا اڑے 
بیت الفلاء سے نکا لے میں اتی ناخیر سے کاام ال کی بات وی ہے نے اس شف ںکو بے کہ 
وضو مگیے بی قرآن می رک بیت الام وغیرو سے باہر فیال نے پا کر خس ہ گیا ہو نو اسے دھو 
ڈڑانے۔ 
مستطہ | ۳۷۸ ٠‏ جس نس نے وضو کر رکھا ہو اس کے لیے قرآن مر کے الفا کو م سک ناشن 
اپنے بدن کاکوئی حص قرآن ید کے لفاظ سے لگانا عرام ہے یکن اکر قرآن جید قاکسی اور زان می 
ترام کیا کیا ہو فو اسے چھونا ترام نئیں۔ 


متلہ ۷ ۰ یچ اور پائل خ س کو قرآن یر کے الفاط کو سکرنے سے روکنا واجدب نہیں لیکن 
گل ان کے مم ںکرنے سے قرآن جی کی نین ہہوتی ہو ق انمیں روکنا چا جے اور اسی طر ح سی تچ یا 
پاگ لکہ بغیر وضو قرآن یر کے الفاظ کو ح صکرنے کے نے یو رکرنا جائز فمیں ںل -تا۔ہ 





مل ٢٢٣و‏ خس پارضو رر ہو اس کے لیے اہ تال مر کے ذاتی نام اور ان عناتی امو ں کو 
مونا دو صرف ایس رک لت خصوسص ہیں خواہ وہ ھی زان میں ک ہی بی ےئ 
آفضرت صلی اق علی وتلہ دم اور آتمہ طاہرین اور عخرت فاعلمہ زہرا علہما السلام کے اساتے مہا رکہ 


بچھ ےمم : 
2/7 یھی نہ چو نشین 0 ے27 کی لازم آئے تو مرکم سد 


مل ۰ ۳۲ : رکوئی شس نماز کے وقت سے پسہ با مارت ہدنے کے ارارے سے وضمو پا سن 
رت قے چچچ ہے اور نماز کے وقت ھی اکر ماز کے لیے تیار ہون ےکی میت مت وضسوکرے فوکوگی جرخ 


مل 7۳۷ج ری کی س کو نین ہو کہ (خمازکا) وت راشل ہو تا اور وائپ نو یت 
کو ای پگ راگن ربے راف لآ میں ہوا ھا و اس ا وضو گج ے۔ 
تل8 ۳۲۳ ٠‏ سی تی ناز کے لیے ایل تو ری زیارت کے لیے سر یا آتھہ جم اللام کے 
مم می جانے کے لیے قرآن ید ساتقھ رھنے۔ اسے نے" کن اور اس کا عاشیہ ح سيککرنے کے لیے 





توضیحالمسائل چچچشن, ہر _._..1_ ۱1٥١‏ 


ابر سونے کے لیے وضو کر صتقب سے اور اگ کی خی کا وضو ہو قز دوارہ وضوکرا مب ہے اور 
مرکورہ پلا کاموں میں سے کی ایک کے لیے وضوکرے تو رکا جو پاوضو ہو کرنا چڑے کر کتا ہے۔ لا 
اس وضو کے ساتچ ماز چڑھ کا ے۔ 
مبطلات وضو 
تل ۳۲۳ ۰ سات بیز وضم وکو باط لگ دبتی ہیں۔ 
ا تاب ۔ 
کاو پاھائہ ۔ 
۳...ں معدے اور آنو ںکی ہوا جو پامانے کے مرح سے خارحع ہوگی ہے۔ 
29000 وب سے شہ گگھ کھج اور ن ملن من تھیں یکن آگلر مم گھ نر دنن ہر 
اور کان من رس ہوں تو وضو باعل نہیں ہو۔ 
۵ ای بیزیں جن سے عقل زان ہو جاتی ہو خلا ددداگی' تق ا بے ہوی۔ 
_..٦‏ عورنوں کا انتحاضہ جن کازکر بعر میں آے گا۔ 


ھ.. جات جگکہ بنا بر ااطم صتحب ہردہ کم نس کے لیے تس لکنا جاے۔ 


جبیرەکےاحکام 


وہ تو ڑگ بت زنم ا فی ہوئی پڈڑی اعدم عاتی سے اور دہ دوائی جو زشم ىا اڑی جی کی جز> 
ال بے سپ کال سی 


متلہ ۳۲۵ ۰ گر وضو سے اعضاء میں سے می بر زظم ما پھوڑا ہو ما بی ٹول بوئی ہو اور اس کا 


منہ کا ہو اور ای اس کے لیے معفرنہ ہو نو ایی بی وضو کر چا ہجے جیت عام طور بر کیا جانا ہے۔ 


مستلہ ۳۲۹ : آ کی نس کے چرے اور باوؤں بر زنم ما پھوڑا ہو ىا ا نکی بی ٹوٹ وگ ہو 
اور اس کا من گا ہو اور اس پر پالی ڈالنا نقصان دہ ہو تر ابیے زشم یا چھوڑے کے تقس پا کا حصہ اس 





“ 


توفیچالمسائل____ [.303ت.] 


سی لو دہونا جا :زیماکہ وضو کے پارھے می جا کیا سے ر ریہ سج کہ اگ ایس بر تر 
و نا نتان روہ ہو تو 2 2 لے 0 ڈال دے اور گلا پان 
ان نے الب اکر ڈڑی نول ہوئی ہو تر رکا لازم ہے۔ 





متللہ ے۳۲ ٠‏ اکر زم با چو ڑا یا ٹول ہوئی پڑ کی نس کے سرکے اگلہ جح با پاں پر ہو اور 
اس کا تھلا ہو اور وہ اس پر جج کر مکنا ہو یا زش مض کی بودی مجکمہ پر چھیلا ہوا ہو یا کی کہ کا 
جو تہ ػئججخ و عاگم ہو اس پر حکرنابھی ا ں کی قدرت سے پاہر ہو تو ای صورت می ضردری ‏ کہ 
ھکر اور اعقاط کی ججا بر وضو بھی کرے اور پل ککپڑا شم دیو بر رٴ ھے اور وضو کے پا ی کی تی 
سے جو تھوں بر گی ہو کپڑے بر ا سںکرےں 

مل ۳٣۲٣۲۸‏ : الہ چھوڑے ما زم ما ٹوٹی ہوئی پڑی کا من کی نز سے بث ہو اور اس کا کھولنا من 
ہو اور پی نی ام کے مین معریہ ہو ڑا ےکھو للکر وض وکرنا چا ہے خولہ زم وغیرہ چچرے اور پاڑوؤں 
بر ہو اور ن ناج سر کے اگ جئلے ‏ اور پاوں کے اور والے تحص پر ہو۔ 

متلہ ۲9۹ ٠‏ اگ بی نس کا زغم ما پھوڑا ما ٹوٹی ہوئی بڑی جوکسی جن س بندھی ہوگی ہو اس 
کے چرے ما پازووں پر ہو اور اس کاکھولنا اور اس پ پالی ڈالنا ممضر ہو تو اسے چا ےکہ تق اس کے جتت 
1 7 ا ا ا ا ا 

مل سر زم کا مہ یہ کھل تا ہو لین خور زم اور جھ نز اس پر لال ی گنی ہو باک ہو 
اور زنم تتف پالی پپئینا من ہو اور حنربھی نہ ہو تے متعلقہ ٹن سیکو چا ےکہ پل یکو زم کے منہ بے اویر 
سے نچ گیا طرف جیا اور اگر زشم با ایں کے ۷وب لال گئی جن خس ہو اور اس کا رون اور زشم کے 
نہ کک پالی پنیا کن ہو تو اس پاٹ ے کہ اسے دھوۓ اور وض وکرتت دقت پائی زم تک بجچاے۔ اور 
اکر پز لن تا ارک ین زم کے مہ کک پا پپچپلا نمکن نہ ہو یا زشم خس ہو اور اے 
دعویا غ جا سکنا ہو تر جا ےک" کیج 

مل ٣٣|‏ : گر حبرہ پورے چچرے پا ایگ پورے بازہ یا بورے ددول باڑوڑوں پر لا ہوا 
ہو ا اق مس کر جا کہ بنا بر اطیاط تح کے اور ووئے حبیرد بھی آرے اور اھر جہیرہ 


توضیم‌المسائل ).82د ا 
پرے ریا ١‏ رے ووڈوں پیروں پر پھیلا ہوا ہو ڈٍ صرف مکرنا ضروری ہے۔ 
مستلہ ٦ ۳٣٣‏ ہہ ضردری می ںکہ جببرہ لن چیزوں میں سے ہو جن کے ساتقھ خماز پڑھنا نے 
درعت ہے بللہ اگلر وو ریشم یا ان “حیداعات کے اجتزاء سے بھی ہو جن مناگوشت کھانا جائنز نہیں تو ان پر 
اح کر جات ہے۔ اشرطکیہ دہ خس نہ ہو ٹس ہونے کے صورت میں پا ککپڑا رک ھکر اس پہ شس 
یی ۱ 
مل سسہموء جس مخ س کی تتیل اور انگیوں یر حبیرہ ہو اور وش وکرتے وقت اس نے 7 
ا اس کیٹا ہو اسے چا ےکہ ماود پاؤں کا ضس اسی تی سےکمرے۔ 
مل مہم ار کی مخیص کے پاؤں کے اویر دالے پور صے پر جبرہ ہو لیکن پر حصہ 
انیزن کی طرف سے اور چجھ حصصہ پا ل کی ابر والی طرف سے کا ہو تر اسے چا ےکہ جو گی ںکھلی 
ہیں دہاں پاوں کے اوب والے صے پر اور جن جھوں پر جببرہ ہے وپالی حبیر٥‏ یر مم غکرے- 
مل ٣٣۳٣۵‏ : مر رے پا بازووں بر کی ایک تیرے ہہوں فو ان کا درمیالی حصہ دعونا چاہۓ 
اور ار ما پاکں کے اوبر دالئے صے پر حبیرے ہوںل فو ان کے درمیالی صے کا نے حکرنا جا گے اور 
ہماں حبب_ے ۶ل بہال جہیرے کے بارے میں اظام پ گ لک٤‏ پلے۔ 
مہ ۳۹ 2 گر حبیرہ زم کے کس پا کے حصو ں کو صعول سے زیادہ گھیرے ہوۓ ہو 
اور ا کو ڑا بھی لکن نہ ہو معلقہ شف سکو پاٹ کہ رکرے پگزایں سےکہ جببنرہ جم کی 
جھوں پر ہو کیدگگہ اس صورت میں روریی سے کہ وضو بھی کرے اور حجھم بھی کرے اور رونوں 
صورقوں مین اگر رہ ک بنانا گن ہو ق اسے جنا دے۔ لیں اکر زم چرے پا او پر ہو اس کے 
کس پا ںکی چو ںکو دو اور اگ مرا پوں کے اوہ وائے ےپ ہو آ اس کے کس پا سک جو 
کا کرے اود زٹ مکی جچہ کے لے حببرہ سے متحلق اجکام کے مطابق عم لکرے۔ 

' .مل .۱/4!_ ۳۴۳ : مر وضو کے اعضابیر زئم یا جراحت د ہو یا ا نکی بڑی نہ ٹول ہوئی ہو لکن نپ 
تی دوسری دجہ سے پا ان کے لیے معنرہوت بھ کا چہے۔ 


مستلہ ۳۳۸ ذ٠‏ اگر وضو کے اخضاکی کی رگ سے خون ئل آیا ہو اور اسے رہوت شنکن ن, ہو یا ٰ 


تعججججپپیکہےہجرت 








توضیچالسائل__ ___ے ڑ۱ حمدا 
ای اس کے لیے مہو تر جح کر لازم ہے۔ 

مستلہ ۳۳9 ٠‏ مر وضو یا شض ل کی جک بر کونی لی جز چیک چیک کنیع جس کا اکرا خکن ‏ تہ ہو یا 
ناقوئل برواشت تکلیف اٹھاکر جزائی جا حتی ہو تو متملق ش سک چا کہ مکرے۔ ہاں جو ہز گی 
بوئی ہے اکر و هکوتی دوائی ہو حبرہ کے عم میں آتی ے۔ 


مہ ۳۴٣۴‏ ذ لمت کے علادہ قام مم کے ففوں میں ت٠سل‏ جہیرہ وضوئۓ حبیر گی 
الد ہے لیکن مععاتہ شخ سک چا ری ےکہ ضحل تن یکرے (ارقای نکر ے) اور زیادہ دانع ہے سے کہ 
امہ بدن پر زشم یا چو پھوڑا جو ایر اس پر حبیرہ ہو قے تل واجب ہے اور احقیطاٴ وو رہپ لج بی 
کرے اود گر زشم پا پھوڑا کا من کل ہو تر انار ے پاے قس لکرے پا کرت ال ای کے 
انتا کر ہے تر ایال سخجب یہ ےک زم ما پھدڑے پر پا کپڑا رگے۔ اود ا ںی کپڑے کے اوی سج 

کرے اور اگمر بدن کاکوگی مفدو ٹونا ہوا ہو چاس ۓےکہ ف٠س‏ لکرے اور اعقیاطا“ حبب ,کے لوپ بھی سح 
کرے اود اھر حببرہ پر ک عکرنا ملین نہ جھ یا جو مجکہ ٹول ہوئی ہے دہ کھلی ہو تو لازم ہے کہ مم 
کات 


مستلہ ۳۴۱ ٠‏ ا رکسی یے شنسىی جس ک وخیفہ جم ہو بک مکی لاض مچموں پر زئم یا چھوڑا ہو 

با ڈڑی ٹول ہوکی جو اسے چان ےکہ دضوے جببرہ کے اظام کے مطبق جم جبسرہکرے۔ 

مستلہ ۴۲ : جس من کو وضویۓ حبیرہ یا تشل جبی دک کے نماز پڑھنی ہو اگر سے علم 

ہوکہ مماز کے آخ وت تک اس کا عذر دور فیس ہوگا تو دہ اول وقت میں نھاڑ پڑھ کنا ہے لیکن گر 

اسے امیر ہ وہ آخر وقت تک اس کاعذر ددر ہو جائے گا اس کے لیے متربہ ہے کہ انظا رکھرے اور 

گر اس کا عذرر دور شہ ہو ق آتر وت می وضموۓے سج حببرہ کے ساتھھ ماز ا اگھرے 

کن ال اول وت میں نماز پڑھہ لے اور آخر وت تک اس کا عزر دور ہو جائے و اس کے لیے لام 

ہےکہ وضو یا شس لکرے اور تن مسرے سے نماز بڑ ھھےں 

سئلہ ۳٣۳‏ 782 ,۔گئ0800 
لگ مکھرے۔ 





ترسیے سوا ہے [_104_ا۔ 


مل ۴۴سد ا ری شف سکو ىہ علم نہ ہوکہ ہم ا کاویفہ تر ہے یا وضدئے چبیدہڈ 
اطیاط راج ب کی نا پ اے یھ اور وغوۓ :حببہ روآول عجالاے چائیں۔ 

مستلہ ۵ ۴| :۰ گر آ خر وتتہ کک کسی مخ کا مزر باتی رسے نز جو نمازیں اس نے وشموۓے 
حببر سے بھی ہوں دہ ہیں اور وو ای وضو کے ساتھ آعند وک نمازیں بھی بڑھ تا ہے۔ 


واجب تل 


وب ٹسل ممیت ہیں لو سل جنایت' دوسا تسل تی * تیزا فسل فنقاس' چوتھاتکسل 
استقا* پنیروں تل مس می چنا ٹسل میت' اور سزاں وہ مل جو نذر یا تم دی کی وجہ سے 


واحب ہو جاۓ۔ 
جنابت کے اعام 


مہ ۳۴۷ پ رو چزوں ے انان حنب ہو جا ے۔ 

او تا ے ۔ 

۴... یئ ارم کے ہونے سے خواہ وہ نید کی عاات میں ہو ما بیراری کی عالت مل ہوم ہو 
زا ا شموت کے ساتھھ کل یا بنیر شموت کے اور اس کا لنا متعاقہ شس کے انتیار میں ہو 


5 
شر ہو۔!۔ 


مننلہ ے ۴ : اگ رککی مخ کے برن ےکوئی رطویت خارج ہو اور وہ ىہ نہ جانتا ہو کہ می 
ہے با غاب ماکوئی اور جنز اور اکر وہ رطویت شموت کے ساتھ اورا گل کر پگی ہو اور اس کے نے کے 
بعد برن ست ہوگیا ہو تڑ وم رطویت مضی کا عم رکھتی ہے۔ لین اکلہ ان خن علادات بس سے سماد کی 
سادی با چھہ موجوونہ ہوں نے وو رطویت می کے عم میں نہیں آٌت کی ا نم اکر متعلقہ منص زار ہو 
پھر ضروری میں کہ دہ رطوبت اہ ل کر نکی ہو بلہ اگمر شموت کے ساتتھ کہ اور اس کے نلنہ کے 
وت برن ست ہو جائے وو می کے عم میں ہوگی۔ 





توضیح‌المسائل ا حفمد) 
تل ۴۸ :۰ ۰ ری ایے نس کے برن سے جو بیار ضہ ب ھکوگی ایا بای خارع ہو جس میں ان 
3 علامات بس سے مجن کا وک اور والے متلہ می سکیاگمیا سے ایک علاصت موجور ہو اور اسے ہہ علم نہ 
ہ کہ بائی علالات بھی اس میں موجود ہیں یا نمی فو گر اس پالی کے خارج ہونے سے پل اس نے وضو 
کیا ہوا ہذ تو چا ےک ای وض کو کانی بے اور آمر وضو خہیں کر رکھاتھا و صرف وض وکرناکانی ہے۔ ال 
کے لیے فسل ضردری نہیں۔ 

مستلہ ٣۹‏ ؛ سم خارح ہونے کے بعد انبان کے لیے پا بکرن شب سے اور ار یجاب تہ 
نکرے اور ٠ل‏ کے بعد اس کے برن سے رطویت ارح ہو شس کے بارے می وہ شہ جانا ہوکہ می 
ہے باکوئی اور رطوبت ہے فو وہ رطوبت می کا عم رکھتی ہے۔ . 
ملس ۵۴ ٠‏ أ رکوئی نس عورت سے جا خصکرے اور عفمو ناسل خقے کی مقدارگک پا اس 
زیارہ عورت کے بدن می داشل ہو جائے تو خواہ ہے طول گی جانب سے ہو یا بچچلی جانب سے اور 
فواد وہ پالغ ہوں یا عم اور خواء شی خارح عہ ہوگی ہو پھ ری وولوں حنب ہو جات ہیں۔ 

متا ۳۵ : ا رک سکو چیک ہکہ عضو جسل نکی مقدار تک داخل ہوا ہے یا نمی و اس پے 
نی وو ین رود , 

متلہ8 ۳۵۲ ۰ .نوز بانہ اگ رکوئی محخصس کسی حوان کے ساتھ وی لڑی نوف وضع فطری فحل 
نمرے اور مشی اس کے بدن سے ارح ہو فے صرف ٦س‏ لکرے اور ار می خحارع شہ ہو اور ال نے 
دی ککرنے سے پل وض وکیا ہوا ہو تب بھی صرف بل کالی سے اور اگر وضو نہ کررکھا ہو نو اقیاط 
وادب ہہ ےک ع٠‏ سکرے اور وضو تج یکرے اور مرد یا لڑکے سے وی کرنے کی صورت میں تسل 


جنابت واعحب ہوگل 


مسنلہد ۳۵۳ ٠‏ مر می ابی کہ سے مک تکرے لکن بدن سے غارع نہ ہو یا انس نکو تک ہو 
کہ می اس کے بدن سے خارج ہوئی ہے ما خیں فو اس پر ٹسل واجب میں ہے۔ 


متیلہ ۵۱× جو فص ضسل ‏ کر کے لین حھ رکر سکتا ہو وہ نما ز کا وت واخل ہوتے کے بعر 
انی بیدی سے جما کر سا ہے 














توضیم‌المسائل ...1 386ا 


لہ ۳۵۵ ۰ اگ رکوئی شس اپنے میں میں می دییے اور جانا ہ کہ ا کی اتی می ہے اور 
اس نے اس می کے لیے تل نکیا ہھ تو اسے اہی ےکہ تس لکرے اور تن نمازوں کے بارے ممل 
سے نقین ہوکہ وہ اس نے می خارج ہونے کے بعد پڑھی میں ا نکی تناکرنے لن ان نمازوں کی 
تقنا ضردری نی جن کے بارے می ال ہوکہ وہ اس نے می ادج ہونے سے چ لے پڑھی یں با 


بن 


دہ بچڑیں جو مجنب پر ام ہیں 
لہ ۳۵٣‏ ۰ باج بزیں مجنب پر عام ہیں۔ 


ایل : 


نم 


سم 


یکی 


2 


-< 


ییساکہ وضو کے بیان میں زکر ہو چا سے اپنے بدن کاکوگی حص قرآن یر کے الفاظ یا 
ال تعالی کے ہام سے غواہ دہدکسی بھی زین می ہو مس کرنا اور بتریہ ہے کہ لویل 
لاموں اور عخرت زہرا ششععم اللام کے ناموں سے بھی اپابدن مس ش نر3 ےم سککرن ےکی 
صورت میں ابات ازم آے و قرام ہے۔ 

مج لفرم ادر سر نبڑبی میں جانا خواہ ایک زروازے سے وائل ہو کر ووسرے 
دروازے سے لنل آئے۔ 

دوسری ( می صور الأرام اور سر نبدبی کے علادہ) ممیروں میں ٹھریا اور اط وب 
کی جنا بر تمہ کے مم میں ٹھرن ین امہ ان سیروں میں سے می سیدکے ایگ وروازے 
سے واشل ہوک ددسرے ددوازے سے پاہرفل جاے ن کوکی تع یں 


: سی مود و سکوی نز نے یاکوگی جن اٹھانے کے لیے اس میں داشل ہونا۔ 


ان ات میں ےکی یت ۴ پا جن کہ پڑھ سد داب بد جا سے ود 
وہ آعقیں چار سورتیں می ہیں۔ ا قرآن مجیدکی ۳٣۴‏ یں سورۃ ( الم خزیل ٢٣۔٣‏ دیںی 
سو ر7 (م سحبرو) ۔ ھ۵ دییں سورۃ (الھم) ۴ ۹ ریں سورۃ (خلق)۔ 


دہ زی جو منب کے لیے کرذوزوں 


مل ے۳۵ : نو پیزیں مسحنب ہونے وائے مخ کے لیے کرد ہیں۔ 








ترفیعالسائلےےے_ ے [ +مرح] 


ایل ایر روم ھپ ادر یلکن اکر وض ھکر لے با اھ دہولے تکردہ نیں ہے۔ 

سم قرآن ید کی مات سے زیادہالی ات پڑھناشن میس سبرہ وجب نہ ہو۔ 

چارم : اپنے بدن کا کوئی حصہ قرآن جید کی جل۔ عاشیہ ىا الفاظ کی درمیالی مہ سے یس 
0 

حم قرآن مجید اپنے سا رکنا۔ 

شمیم × سو الہت گر وضو کر لے یا پالی نہ ہونے کی وجہ سے سل کے پرلے تج کر نے تو 

پھر مو ناکردہ نیل ہےں 

تلم ممندی یااس سے طحق لی جنر سے نضا بکرن۔ 

2 : دن بقل ند 

مم باظلام کے بعد یثنی سوتے میں می طارع ہونے کے بعد جا کریا۔ 


تس جنابت 
ملہ ۲۳۵۸ ہل جات بجاۓ خور جب سے اور نماڑ واجب اور ای دوسرکی عباوات کے 
میے واجب ہو جات سے نین غاز عیت اور رہ شگر اور قرآن بجر کے واج سروں کے لیے تل : 
جنابت ضردری نمی ی۔ 
متلہ ۳۵۹ :سی مخفس کے لیے ىہ ضردری خی ںکہ شسل کے وقت خی تکرےکہ واجب پا 
“جب فسل کر را ہوں لہ فا تقر بن“ الی اللہ یشنی اور تعالی کا عم بپالانے کے ارارے سے مفسل 
کرے آکائی ہے۔ 
مہ ٠ ۳۷٣۴‏ نماز کے وت کے راخل ہونے سے پے یا بعد ہیں واج ب کی میت سے شس لکرنا 
کت 
متلہ |۷۷ ج مس خواہ واجب ہو خوام شب وو رون ہے الام دا جا کا ہے۔ تی در 
ارتایں۔ 





ترضیج‌المسائل_ با...1[ 3988ا 


یئن 

مل ٠٢۳۷۴٠‏ یں شف سک چا ےک نل تزرتی میس پل مراو رگ دن اور بعد مس بدن دھوتۓے 
اور ٹر نیہ کہ بد نک پل دامیں طرف سے اور بعد یں ہانمیں طرف سے رہوۓ اور آگر وہ نیس 
جان بوجھ کر یا بحو ل کر یا لہ نہ جان کی وجہ سے بر نکو سر سے پل دہوتۓ نو اس کا تقسل پاشل 
وت 

سیل ٣۳‏ : ۔ اگ رکوئی مخفصس اس بات کا نین کرنا چا کہ اس نے صراو رگردن اور تم کا 
رایاں بایاں حد معمل طور بر دعولیا سے تو اس پا کہ نس ح کو دہوئے اس کے ساد پچھھ مقدار 
دوسرے صصح کی بھی دع نے۔ 

مل یج کا ال ری مخ سکو نل کے بعد پتۃ ےہ کے بدن کا ہہ صہ دملنے سے روما 
لین ہہ عم نہ ہوکہ و وکونسا حصہ سے تو مرکا روپارہ وھونا ردری میں اور اے چا کہ پرن کا صرف 
٠وہ‏ حصہ درہوئے جس کے نہ دہوئے جاتے کے بارے میں اضال پا ہوا ہے۔ 

مل ۳۵ : ال لی کو کے و نے کہ اس نے بدن کا سنہ حصہ میں دھویا تو گر وہ 
میں طرف سے ہو ت عرف اس مقدار کا روا کای سے اور امہ دای طرف ہو تو اتیالط سپ ہے سے 
ات اش مقرار وخوئنے کے بعد پاٗی طر فک دربارہ رھرئے اور ار صراو رگرون رطۓ گے زی ہو 
اٹ نےکہ اقم مقدار دونے کے بعد دوبارہ بد نکو رہوے۔ 

مستلہ ۳۷۴ : ہگ ر کسی مس کو ضسل کل ہونے سے پطہ دائیں ما بامیں طرف کا یھ حص 
دہوئے جانے کے بارے میں حم کگزرے فو اس کے لیے ضرددری ہب ےکہ اتی مقدار دو اور ار 
اسے مر یاگرون کا یھ حصہ دہونے کے بارے مس شیک ہو ق اس کا شیک فی “مجر ہے اور تل ا کا 


گاج 
ارقای تل 


مستلیہ ے۳۷۹ : شس ارقای میں ضردوری ہ ےکہ ایک فطہ میں تام کا قاع بن پالی سے گھرجانے_ 








توضیچالعسائل___ ...۱389-1 


ینا گر ایک یس کل ارتما یکی میت سے پانی مس توطہ لا تر اکر اس کا پنوں زین پر کا ہوا ہو تر 
اس اب کہ چاؤ ںہ زین بر سے اٹھالے۔ 

مل ۳۷۸ ڈ سل ارقای مم اعقط داد بک بنا بر ضروری سےکمہ جب ایک فیس اس تسل 
کی ممیت کرے تو اس کے بن کا یھ حص پل سے باہر ہو 

منیلہ ۳۷۷۴ ۰ اگ ری مخ س کول ارای کے بعد پ پت ےکہ اس کے بدن کے یھ جیے کک 
پل نمی پپشا ق نواہ وہس مخصوص جے کے متحلق جانا ہو یا نہ جامتا ہو اسے چا کہ ددبارہ تل 
گے ۱ 
مل ٭ے٣‏ : ری مخس کے پس خسل تھی کے لیے وتت ن ہو مین عسل ارقای کے 
لین رت ہو تق اس پان کہ صل ارقا یکھرے۔ : 

مل )ے٣۳‏ : نس تنس نے ایا روزہ رکھا ہو جو واج بب مین وو باج با ممرے کے لیے اترام 

٢پ‏ و تہ فی ین پر کنا یکن گر اس نے بھو لل کر س٠‏ رما یکر لیا ہو تق اس کال 


4 
تل کے ایام 


مستلہ ہے : ضس ارقای با شس تھی میں نل سے پل مارے مم کا یک ہون اعقیاطا“ 
مردری ے۔ 

مل ۳ا٣٢‏ گول لی وا سے جب اورپ ےھ کرنے 7ار 
اسے بی بھی تآئۓ تب بھی اس کا تل کحججخ سے اور اضاط صنقب بے ہ کہ مھیڑے پانی سے فسل 


7: 


ر*۔۔ 


ممتلہ ےس : شسلل مم بل کے سرجقا بدن بھی ان دھلا رہ جاۓ تِ تل بال سے لئیین لن 
اور جک کے اندروٹی تصوں کا اور ہراس تچ کا موہ جو باطن شار ہو واجب ٹیل ے۔ 


مل ۵ے ٣‏ : رر ۳ ی ٹن س کو برن کے کسی جح گے جات ا شی وک آیا اس کا غار برن 





توضیمح‌المسائل 3[ 3136ا 


بے ظاہرمیں ہے یا بطن میں نز اکر لہ دہ حص بدن کے ظاہررمیں تھا نو اس دجونا چاجے ورد اس کا 
مو راجب میں ے۔ 

مل ٣۲‏ >> آآ رگوشوارے کی مہ کا سوراغ یا اسی شی یکوتی مور نز اس قد رھلی ہوک اس کا 
اندروثٰی حصے پرن کا لاہ کیا جاۓ تو اسے دعونا چا ہۓ ورنہ اس کا دم ضردری یں نے 

مہ سے ۳ ۰ انا نک چا ےکہ جھ جنزبدن تک پان نے می نع ہو اسے ہنا رے اور اکر اس 
سے پیشھرکہ اسے مین نہ ہو جال ےکہ دو یرٹ گی سے تس لکمرے تو اس کائفسل پاٹل ہے۔ 
مل ۳٣۸‏ : گل تسل کے وق ت کی مخ سک مج کگگزرے ہیا کوی ای زاس کے بدن بر 
ہے یا میس جھ بدن کک پالی کے می ماع ہو تو اسے جات کہ چھان ی نکرے ت کہ معن ہو جاے 
گ۷٣‏ ہکائی ایی رکاوٹ میں ے۔ 

مل ۹ ٠‏ پ ‏ بدن پر موجود لیے یا چجھولے پلوں سیت بد نکو دمونا راب ے۔ 

مل ۴۸۰ : وہ قام شرائذ جھ وضو کے تب ہونے کے لیے جات جا چھی ہیں ضا لی کا پک ہونا 
اور خص ب کیا ہوا غہ ہونا ویر دی شرائا کل کے ںحجخ ہونے کے لیے بھی ہیں۔ لیکن تقسل میں بی 
ضروری نمیں ہے کہ انسان بر ن کو اپ سے نے کی جانب دہوے۔ علاوہ ازیی فسل ترنشی میں نے 
ضروری ھی ں کے خر رگزرق دتھونے کے پحد ٹور پر نکو زلھرے لزا ار صراو رگرون رہونے کے بور 
ون فگکرے اور بے وق ت گزرۓ کے بعد دامیں اور ناشن طرف رو وۓے کی ٠‏ ہیں ین جو 
شس یغاب با پاغانہ کے لن کؤ نہ روک کت ہو نا ہم اسے نیشاب اور پاخانہ انداڑا“ ات وقت تک نہ 
تہ وکہ کل کر کے نماز بڑھ نے تو اسے چان ےکہ فو را“ سمل کرے اور فسل کے بعد فا“ فراز 
پڑھ نے۔ 

مہ ۳۸۳ ١‏ اگ ری مخ کا ارادد يہ جانے بفی کہ عمام والا اس بر راشی تے ىا نی لی کی 


اجرت ادھار رھ کا ہو قے خواو ام وا ےکو بعد میں اس بات بر راضی بھی کر نے اس کاٹسل پل ہو 
گا۔ 


متلہ ۳۸۳۲ : ار ہام دا ارعار بر تس لکرانے کے ملین راضی ہو لیکن تس لککرنے والا اس کی 








توضیچ‌المسائل__ ).131ا 


اجرت نہ وین ہا عرام ال سے دیے کا ارارہ رتا ہو تو اس کاشسل پل ہوگا۔ 

مل ۸۳ ؟: اگ رکوئی مس عام زان ےکو ایی رم جطور اجزت رنے جس کافس اوا :کیا ہو 
اریہ وہ ترام کا مرتلب ہوم لین بظاہر اس کاشسل سج ہوا اور تی نکو ٹس اواکرنا ای کے زے 
رے گا۔ 

متلہ8 ۳۸۳۴ : اگ رکری مخس پانانہ کے مر کو مام کے حوض کے پاٰی سے پا ککرے او رصل 
کرنے سے لہ کن فکمرےکمہ چوکمہ اس نے ممام کے حوض سے پاخاشہ کے مخز کو پا ککیا ہے اس 
گے عم والا اس کے مس لکرنے برراضی ہے ما خمیں تو گر وہ ٹسل سے چللہ ام دالے کو را یکر 
نے وکسج ورنہ اس کانسل پافل ہوگا۔ 

متلہ ۳۸۵ : ا رکوی خس ‏ ف کر ےہ اس نے شس ل کیا ہے ما میں تر اسے چا کہ 
ضس ہرے این الر من کے بعد و ںکر ےک مفسق مج کیاہے پا میس لین ایل یہ ہوکہ مل 
کے وقت مو تھا اور جع تس لکیا ہے تر دوبارہ تس لکرا ضردری نہیں ے۔ 

سیل ۸۷ : مر مل کے وورا نکی مخفس سے سرت اعفر سر زد ہو جائے شا یجاب کر 
رے قز اسے چا ےکہ اس مس لکوت ککر کے ہے مرے سے تس لکرے۔ 

مل ٘‌ؤے(۳۸ : مر وقت کی گی کی وجہ سے کلف منص کا وطظیظ جم ہو نین اس خال ے 
کہ مس اور نماز کے اندازے کے *طلبق اس کے پاس وقت سے تس لکرے زمر اس نے تل قد 
یت سے کیاسے ت اس کال سج ہے مہ اکر ا نے خاز کے لیے تس لکیا ہو تب بھی اس کاتسل 
ے۔ 

مل ۳۸۸ : جو نس جب ہو حر وو کی ککر ےک ای نے تس لکیا ہے یا نین اور اضلی 
ہ وگہ نماز شرو عکرتے وقت وہ اس با تکی جاب متوجہ تھاکہ کہ میں نے شس لکیاہے ما نمیں) تو 
جو مازیں دہ پڑھ پکا ہے وہ گج ہیں لیکن اسے اہ ےکہ بع رک خمازوں کے لیے تس لکرے او ھکر نماز 
کے بعد اس سے حورٹ اصفر صاور ہوا ہو نے ضردری ہ ےکہ وضو بھ یکرے اور وقت بای ہو تر جو نماز 


بڑھ چا ہواے از نو بڑھھے۔ 





توضیحالمسائل : ...لق لہ 


مل ۲۸۹ : ڈ جس مخ بر کی قسل ولیب ہوں وہ ان سب کی خی تککر نے ایک تفیل کر سک 


ہے اور ظاہرہہ ےکم اکر ان میں سے مخصوص تفسل جنابتہ کا تص رکرے قر وہ اتی فساوں کے لک بھی 


کل ے۔ 

مل ۳۰ : ا رکسی مس کے بدن کے کی صے پر قرآن بی رکی آیت یا الہ تال کا ام کسا ہوا 
ہز وضو یا تل تر یکرت وقت اسے چا ےک بای ان بدن بر اں طرع :ا ےک اس کا با 
ان تو ں کو نہ گے۔ 


مل |۳۹ : جس مخس نے تل جناب کیا ہو اسے از کے لی وضو نمی ں کر چاہے۔ 
استحاصضه 


مو رن ںکو ج جر خرن آتے رت ہر ہیں ان میں سے ایک خون اخماقہ بت اور ور ٹکو خون اخوائ 
آنے کے وتت “۶ تحاضہ کت ہیں۔ 


لہ ۳۹۲ .: ون اما زیادہ تر زور رنگ کا اور ھٹا ہوا ہے اور زور سے اور مجن کے لفیر 

خارج ہوا ہت اور گاڑھا بھی خمیں ہوا نیشن کن ہج جک بھی ساد یا روط ی6س سز 

اور سوزشی کے ساتھ تماررخ ہو۔ 

مہ ٠: ۳٣۹۳‏ استاضہ قن عم کا ہو ہے۔ قد“ موہ او رکیرو۔ 

۱ تل ہےکہ خون صرف اس ددئی کے اور والے جھے کو آودہ آرنے جو عورت اہی 
شرمگلہ میس رجھے اور ای رد کے لندر تک رایت شکرے۔ 

۳ اتافہ موسطہ یہ ہےکہ خون ددئی کے اندر تک لا جاۓ اگرچہ اں - کو 
تک می ہو لیکن دردٹی سے ا سکپڑے کے گڑے کک نہ بے جو عورنہیں ممو) خون 
کے لیے باندعتی ہیں۔ 

کاو اتا کے س ےک ٹون روگ سے تیاو زکر کی کھڑنے کے متکرے ما سی جالۓ۔ 





توضیچالمسائل__ )۱ عتید ا 


انتا کے ا ام 


۹ مستلہ ۳۹۴ : اخخاضہ قد میں عورت کو چا ےک پر ماز کے لیے ملید وضوکرے اور اتا 
1 تا یہ روئی گی یز کے اور ال شرمگاد کے ظاہری ضے بر خون راہو و اے رہوے۔ 


متلہ ۳۹۵ ٠‏ استاض مولہ مس عور تکو چا کہم کی فماز کے لیخ لکھرسے اور آلمندہ 
تک اپی نمازوں کے لیے اتا یہ کے وہ افعدلی سرانحام دے جو ساب مہ میں میان ہوتے ہیں 
اور گر جن بوجھ کر یا بھو لکر تُ کی از کے لیے تل نککرے تو اے پان ےکہ ممراور حصرکی نماز 
سے ین تی کریے جو وو ا و ود و مخرب و 


لت . لن ے۔ ہواہ نون آ رپا ہو یا لد ہو چکا ہو۔ 


تل9 ۳۹۷ ٠‏ اما ہک یرہ میں عور تکو چا ےکہ ان افعال کے علاوہ تن ما کر سابقہ مہ مس 
٠‏ جوا ہے ہر خماز کے لیے انقیا ا کی ما کپڑے کا گگڑا جب لکرے یا دہوئے اور ایک فسل تج رکی ‏ ایک 
تل مر ہے سے بر خصرکی زماز کے دربیان 
فاصلہ نہ ر کے اور مر ناصطہ رک تو اسے چا ےکہ عصرکی راز کے لیے دوبارو ضس لکھرے اور اس ی طرخ 
زنک غرپ و نا گی کنا ےوران مال رتھے مخشا کی فماز کے نوز نس نکر ین او کو 


6 


ارسمونے 


مستلہ ے۳۹ ۔ آثر خون امتضہ نماز کے وقت سے پیل بھی آئے اور عورت نے اس خون کے 
لیے وضم پا قسل نکیا ہو تق ات چا جےکہ نماز کے وت وضو پا لکنرے۔ اکرٹ وو ای وق 








شاعے ہے چوس 


تل9 ۳۹۸ : سض جو۔ طض وضوکرہ بھی ضردری ہو اور کل بھی ان دونوں میں سے جو 
بی پل کر ےج ہے لیکن بھحترید ہ ےکہ پل وضوکرے اور متا کہ و گر وط ضوکرا بات تڑاے 
چا ٹن کہ وغمو ٹسل سے پ کرے۔ 


ستل. ۳۹۹ : گر عورت کا احاضہ لیلد تم کی نماز کے بعد حوسطہ ہو جائۓ آو اتے پاس ےکم 
یا ٌ ٍ 


بجی یم 





توضیج المسائل __ ج- ):4داتاا 
اور عصرکی از کے لیے نس لکرے۔ 
مستلہ ٣۹‏ : ار عورت کا اتحاضہ قللد (ا موسطہ) ٌ کی نماز کے بع درو ہو جاے تو اے 
چا کہ ظرزاور خصرکی نماز کے لیے ایک شسل اور مغرب اور حا ء کی فماز کے لیے ایک اور تل 
ککڑے مور گا رم اور فحھ کی مماز کے و فو +د جاۓ و اے اب ےکہ عغرب اور عخا ءکی نماز کے 
لے مس رے۔ 
تہ ۹۱م ۰ گر “حوض کیو یا موسلہ نماز کا وقت وافل ہونے سے پے مار کے مینہ خنسل 
کرے تق اس کا شل باطل ہے لین اکرش کی ازان کے نزریک ہخصد رجا فس لکرے اور نماز تیر 
پڑھھ ت جات سے پآ ہم اس کے لیے ضردری ہ ےکہ لو تر کے وقت مکی نماز کے لین سے ممرے 
سے ضس لکرے۔ 
مستلہ ٣۳‏ : تسخضہ عور کو چا کہ روزانہ نمازوں کے علادہ ٹن کے بارے میں تم اویر 
مان ہو چکا سے ہر نماز کے لیے خواو وہ واجب ہو یا صتحب' وضو کرے لین اکر دو چا کہ روزانہ نماز 
کو جو وہ پڑھ کی اعقاطا“ روبارہ پڑھھ پا جو نما اس نے تھا بھی ہے دوبارہ با جماعت پا سے تر اے 
اج کہ وہ قام افعال عجالاۓ تن کا وکر اتحاضہ کے سللل میں کیامگیا سے ال اگر نماز ایالم بھو لے 
ودئے کرے بھوئے ہوۓے مشہداور رہ سو کی با آوری نماز کے فور| بع ررے قے اس کے لیے 
اتحاض: کے افعال کا انجام دینا ضروری نیس ے۔ 
مسیلہ ۴*۳ ٠‏ ری سض عورت کا نون رک جائۓ ق اے جا کہ اس کے بعد جو بی 
از ھھ اس کے لیے اتحاضہ کے افعال انام دے مین بعد کی نمازیں کے لیے ایا کرنا ضردرئی 
ین 0 
سیل مم ہر ری عو ری کو ےی معلوم ۓ ہ وک ا کا احاض کون سا سے آر اسے جا کہ 
نب نماز پڑھنا چاے ت و تق سے بط تھوڑی ى روتی شرمگاہ میں رھے اور یھ دم انتا رکرے اور پچھر روگئی نال 
کن او 9۶پھپو ن اقسام میں ے ےکونمی تصحم کا سے و اس تم کے 
سی اما( ل کا عم دیا گیا انیس انام رے رن جات ہوک تن وت دک 
نماز بڑہنا جانقی ے س کا اخاض تریل یں ہوگا تو خراز کا وقت واخل ہونے سے پل بھی دہ اپتنے 











توضیچالسائل___ .1 335 


پارے میں ختی کر علق ہے۔ 

مل ۵٭م : گر آھر اض ہورت اپنے بارے میں تحت نکرنے سے پل فاز میں مشخول ہو 
سس +> ست سرت لے کے مطابق عم ل کیا ہو خلا اس کا اتا 
قلید ہو اور اس نے اساضہ تقد کے مطابق مم لکیا ہو ت ا سک نماز کچ سے لیکن اگر وہ قہت کا تیر 
نہ رکھتی ہو یا اس کا مل اس کے وظیفہ کے مطابق نہ ہو خلا اس کا اتاض متوسطہ ہو اور اس نے مل 
امتحاض خلپاد کے مطاب کیا ہو ا کی از ال ہے۔ 

مستلہ ٠ ٣۷‏ گر سقضہ عورت اپنے بارے میں تین نکر کت اس پاٹ کہ جو اس کا 
نی و ظیفہ ہو اس کے مطابق عم لکرے خلا آر وہ ہہ نہ جانتی ہوکہ ا کا اتحاضہ تاہ ے یا موسملہ 
قرٍ ات پا کہ اتحاضہ قلیہ کے افعال راخام رے گر دہ ہہ نہ جائی ہو کہ اتحاضہ متوسلہ سب یکیو : 
بڑٔ انتاض متوسطہ کے العال سراخحیام دم ےلین اکر دہ جانقی ہوک پچ تا و ےی 
تم کا احتوضہ تھا اس چان کہ ای تم کے امتحاضہ کے مطابق انا وغیفہ سرانجام رے۔ 

مکل ے٭م : ار ستاضہ کا خون اپنے ابتدائی مرلہ بر جم کے اندر بی ہو اور اہر نہ گے 7 
عورتں نے جو وضو پا تس کیا ہوا ہو اسے پعطل نمی ںکر لین اکر باہر آجاۓ نو خوا دکتنا ہیک مکیوں نہ 
ہو وضو اور مل س1 پر 0 

مل ٠۰۸‏ : صنیضہ عورت جو وضو یا تل کے بعد ىا ان کے دوران میں خون دج تہ اکر وہ 
ماز کے پور لے تْ معی تن مرے اور خون نہ دک نے مر وقت کان ہو فو اعقیاط کی بنا بر لاام ے 
کہ اپنے وٗ نیف جک مطالق وضو پا قم لکرے اور اس نما زکو ووپارہ پڑھے خواو سے تلم ہ کہ دوبارہ نون 
نے والا ے۔ 

سلہ ۹م ؛ مستض عورت اگمر بی انی ہوکہ ٹس وقت سے وہ وضو یا ضسل میں مشفول ہوئی 
سے خون اس کے بدن سے باہر میں آیا ق جب تک اس پاک ربج کا ٹین ہو نما پڑ یت میں اق رکر 
ستلہ ام ؛؟ ار ستخضہ عور تو نین ہوکہ نماز کا وق تگحزرنے سے ےہ بوری طرح پک ہو 





توضیب‌المسائل __ ٠‏ ( ع3ف)ے 


جائے گی یا اندازا تنا وقت نماز پڑھے میں گنا ہے اس مس غون آنا بند ہو جائۓ گا فو اسے پا جے کہ 
انظا رکرے اور ال وقّتٰ ازڑے جب پاگ ہو۔ 


متلہ ام ۰ مر وضو اور ٹسل کے بعد خون "نا پظاہربند ہو جاۓ اور خاش کو مین ہوکہ گر 
نماز پز نے میں اخ رکرے پر شقتی دس میں وضو“ ٹسل اور ماز ہلان ےکی بالل پک ہو جائےگیی ق اسے 
چا ےکہ نما زکو مو خ ھکر دے اور جب انگل پک ہو جائے نو دوبارہ وضو اور نس لکر کے نماز یڑ ھھے اور 
ار خون کے بظاہربند ہونے کے وقت نماز کا وت نک ہو تو وضو اور ٠ل‏ دویار ہکرنا ضروری یں بل 
جو وضو ارر سمل اس نے کی ہوئۓ ہیں اتی کے ساتھ نماز بڑھ می ہے۔ 

تل ۰۴ ؛ مستاض ہہ اور توسطہ جب غون سے پالئل پاک ہو جائے تو اسے چا کہ ضسل 
کمرے لیان اکر اسے شقن ہوک جس وقت سے اس نے گزشہ نماز کے لیے ضس ل کیا تھا اور خون نہیں 
آیا ے ددبادہ ص٥‏ لکرنا ضردری نہیں 

مستلہ س۳٣ :٠‏ ضف تید کو وضو کے بعر صتیضہ موس کو تل اور وضو کے پور اور 
می می یکو نل کے بعد را“ نماز میں مشخول ہو جانا چاہے لن نماز سے پل ازان اور اقاصت 
کینے می ںکوگی حرع خی اور وہ نماز میں تب کام شا قوت وغیرد بالا عتی ہے۔ 

مستلہ ۴م : سض عورت کا وضو پا شل کے بارے میں جو وطیفہ سے اکر وہ اس کے اور نماز 
کے ورسیان فاصلہ کر دے , اسے چا کہ اپنے وظیف کے مطالق روبارہ وضو اکر اور پھر 
ورا“ نماز میں مشغول ہو جاے۔ 


مستلہ ۱۵ : ار عورت کا ٹون احاضہ جاری رسے اور بد ہونے می نہ آتے اور خون کا روگتا 
ایں کے لیے مرن ہو تو اسے چان کہ تل کے بعد فو نکو باہر آنے سے روکے اور گر ای اکرتے 
میں کو ںای برتے اور خون کہ تر اے چا ےکہ دوبارہ کے ال اور ال نما ز بھی بڑھ کی ہو لو روپارہ 
ڑھھے۔ ۱ 

مہ ۹٣م‏ ذ٠‏ أھر ش ہکرت وقت خون نر کے فو سل تع ہے لین اکر نل کے دوران میں 
امتحاضہ متوسلہ اتحاف ہکتیرہ ہو جاے پذ از نوع لکرنا ضردری ے۔ 





توضیحالمسائل تدا] 
مکل ےا٣ ٠‏ امقاط شخب یہ ےکہ امہ عورت روزے سے ہو تو سار ون جنماں تک 


یکن ہو مو نکو نے سے روگ۔ 


لہ ٠۰ ۴٣۱۸‏ اع طکی بنا بر اض کرو عورت ت کا روزہ ایں صورت میں تجح و گاکہ شی 
رات کے بعد کے دن وہ روزہ رگنا چانتی ہو اس را ت کی مغفرب اور عخاء کی نماز کا تس لککرے اور 
علاوہ ازیں ون کے دقت دہ عم لک انام دے جو د نکی نمازوں کے لی واججب ہیں لیکن مر تما 
موسط ہو قے پچھھ بعیر خی ںکہ اس کے روزے کی صحت کاانحصار ٹسل پر شہ ہوں 

مستلہ ۹ا ٠‏ گر عورت غصری نماز کے بعر سخاضہ ہو جائے اور خروب تفاب کک تل شہ 
کرے قو ا کا روزہ کچ ے۔ 

لہ ۳۴م ٠:‏ اگ رکسی عورت کا اتحاضہ مد نماز سے لہ متوسلہ ایرد ہو جائے قز اسے چا ہے 
کہ متوسطہ با کرو کے افعال جن کا اور ذکر ہو چکا سے انام درے اور گر اتحاضہ متوسطل ہ کرو ہو جا تو 
چا کہ اتا کرد کے افعال اخجام رے چنانہہ أگمر وہ امتاضہ موسطہ کے لیے نس لکر پچھی ہو تو اس کا 
یہ فسل بے فائدہ ہو گا اور اے ا اض نے لیے روبارو تس لکرنا پڑے گا۔ 

مستلہ ۴۱ : ألر مماز کے دورا نکی عورت کا اتحاضہ موسط درو میس بدل جائۓ تو اسے چایے 
مر و ا کی کے لع اس لآریے ران ے ہمرے افعال انام رے اور پھر 
ای نما زکو پھے اور بنابر اناد تخب تنسل سے پللہ وضوکرے اور کر اس کے ای تس کے لیے 
وقت زہ ہو قزر وض وکر کے سل کے بے مھ کرے اور مر مچجھم کے لیے بھی ونت نہ ہو نز ہنابر قالط 
نماز نہ پوڑے اور ای حالت میں ش مکرے لیشن ضردری سےکمہ وق تگگزرنے کے بعد اس نما زی تا 
کرے۔ اکر نماز کے ووران اتقاضہ قلید اتماضہ متوسطہ با کیو ہو جاۓ و اس کے لیے بھی بی مم 
ہے گر فزق انا ہ ےکہ جعیساکہ اوبر بیان ہو کا سے اتاضہ متوسطہ کا تل وضو کے لی کفایت میں 
رئیا سے اس تل کے بود نماز کے لیے وضوکرن ہوگا۔ 

تہ ۲۳۲ ٠‏ أگر نماز کے دوران میں خون بن ہو جاۓ اور تنم کو معلوم نہ ہوکمہ پطظن می 
خون ہز ہوا ہے پا غمیں تار نماز کے بجد اسے پع کہ خون پورے طور پر بن ہوگیا تھا انور اس کے 





توضیحالعسائل __.(. 1.118 


بای انتا وخ دقت ہ وکہ پگ ہ وکر روپارہ ماز بڑھ کے تڑ ضردری ےک آپنے وطیضہ کے مطالن وضو یا 
کے 0 اور نماز ووپارہ پڑے۔ 


مہ ۴۲۳ ٠‏ اگ رکسی عورت کا اتا رکرو متوسطہ ہو جاے آز اسے پا کہ بعد کی نماڑیں 
کے می متوسطہ کا مل ہجلاۓ ملا اکر ظم رک نماز سے پل اتقافہ کرد نوسعلہ ہو جائے ثز اہ ےک 
مکی نار کے لیے لہ وضو کرے اور پھ رس ل کرے اور نماز عصرو مغرب و عشاء کے لیے صرف 
وضوکرے لیکن الر فماز بر کے لیے قسل نکرے اور اس کے اس صرف نماز عصرکے لیے دقت بات 
پو 3 اسے پا کہ نماز ععمر کے لیے تس لکرے اور مر نماز عصر کے لیے بھی ٹسل ن ہکرے تو اہ 
کہ راز مغرب کے لیے تس لکرے اور اکر اس کے لیے بھی نل نہکرے اور ا کے پاں صرف 
ماز ماء کے لیے وقت ہد و چا ےکہ نماز عخاء کے لیے تس لکھرے۔ 

مل ۴+ گر پر نماز سے پ لے اض کشر کا خون پر ہو جا اور روبارہ آجاۓ او اضاطا” 
اسے'چانی کہ ہر از کے لے فص ل کرے۔ 

مہ ۴۲۵ ٠‏ اگر اخحاش کیو قید ہو جاۓ تر عور تکو الین ےکہ می فماز کے لیے کییرو والے 
اور بعد کی نمازوں کے لیے لیلد والے افعال لاۓ اکر اتماضہ متوسطہ قلید ہو جائے پر اسے چا نے 
کہ بی نماز کے لیے متوسلہ والے اور بعع ہکی نمازیں کے لیخ قابدد والے افعال پالاۓ۔ 

مل ۲۲۹ : “اض کے لیے جو افعال داب ہیں اکر وہ ان میں سے کی ای فکو بھی تر ککر 
دے و ا ںکی نماز باعل ے۔ 

مل س٤‏ جس مسفاضہ نے نماز کے لیے وضو پا مس ل کیا ہو وہ منابر ضط اخقیاری عالت 
اپنے بن کے سی جک قرآن ید کے الا سے مس خی یک صکق ور افطراری مارت مِں ایا 
کرنا جاتز ہے لیکن اط کے طور اسے چا ی کہ وضو کر لے ۱ 
مہ ۴۳۲۸ ٠:‏ جس صسقاضہ نے اپنے داجب شس ل کر لیے ہوں اس کامسپر میں جانا اور دہاں ‏ 
تنا اور وہ آیات پڑھنا جن کے پڑھے سے مبدہ وادب ہُو جانا ہے اور اس کے شوپ رکا اس کے ساپ 
امم کرنا علال ہے خواہ اس نے وہ افعال جھ وہ نماز کے لیے اخجام ریت بھی ( ٹل دوئی او رکپڑے کے 





توضییچالامسائل [_ فزد ا 


گکڑے یں کر6) انحجام نہ بے ہوں اور بعید نہیں ہ کہ ہہ افعال بغی تل بھی جائز ہوں اکرچہ 
اضاط ان کے تر ککرنے میں ے۔ 

تہ ٣٣۱۹‏ ؛ جو عورت اتواف یرد یا توسطہ مس ہو اکر دہ اسب ےکہ نماز کے لیے وقت سے پل 
ای آی کو پڑھھے ٹس کے ھن سے مدہ دانب ہو جانا ہے پا جو میں جائۓ نو اقاطہ سخ بک بنابر 
اسے پان کہ فس لکرے اور اکر اس کا شو ہراس سے مامع تکرنا چاے نو بھی بی عم ہے۔ 

مستلہ ۴٭۳ : متاضہ بر نماز آیات کا بڑھنا راجب ہے اور اسے با ےکہ نماز آیات کے لیے 
وضوکرے اور اتا متوسطہ اور اسحاغ کشر یں بنابر ااط وضو سے پل نل بھ یکرے۔ 

مسملہ ۴۳۷۲ ٠‏ جب بھی بومیہ نماز کے وقت میں نماز آیات اہ پر وااجپ ہو جاۓ اور وہ 
ےط ان روٹرںل نمازول کو جے بعد دیکرے آواکرے تب بھی وو ان دونو ںکو ایک وضو اور تل ے 
ین چا ایت 

سیل ,مم ٠‏ مر سام عورت چا ےک وہ نماز اراگمکرے نیس کی تناک وت تھوڑا روگیا 
سے تر ہے جا کہ ہرماز کے لیے دہ افعال خجام درے جو نماز اداکرنے کے لیے اس پر واجب ہیں۔ 


لہ ۴۳۳۰۴ : اگ رکوئی عورت جانتی بوکہ جھ خون اس کے بدن سے خارع جو رہا ری دہ زث ‏ کا 
خون خوس سے اور شرعا“ یس و نقاس کا عم بھی نمیں رکتا نے اسے چا کہ استحاضہ والے احکام کے 
مایق گ لککرے۔ بللہ اکر اے شک ہوکہ یہ خون اشحاضہ ے با کوٹ اور خون ہے اور وہ دومرے 
خو نکی نشانیاں بھی نہ رکتا ہو تو اقیاط واج ب کی بنا پر اسے چا ۓےکہ اتماشہ کے اقعال انام رے۔ > “ 





تر یح‌المسائل 1. 3120ا 


یس ایک خون سے جو عم ای کی کت 

عور تکو جب حیض کا خون تآے و اسے عائنس ککتے ہیں۔ 

مہ ۳۳۴ حیض کا خون عم ] گاڑھا او رگرم ہو ہے اود اس کا رگ سیاہ یا سخ ہوا ہے۔ 
وہ اپچھال اور تھوڑی سی جان کے سا خارج ہوجاۓے۔ 

سّڑ ٣۳۵‏ : نیرسیدہ عوریں پیا بس بورے ہوٹے کے بعد ہنابر مور یائت جو عاتی ہیں 
ین سیدہ پر واجنب ہےکہ ساٹ سال کی عمر کے ددران می ش کی علامتول کے ساتھ یا اپ عاوت کے ۱ 
دنیں میں خون وکھیں تو ا سک خی ا رکریں۔ 

متلہ ۴۳۷ ؟ اگ رککی لڑ یکو ۹ سا لکی عھرکک مت سے پل ای عور تکو یازنسۂ ہوتے کے 
بعد خون آئے تر وہ تق میں ے۔ 

مل ے ۳م ڈ عللہ ورت اور ےک رودھ پلاتے والی عور ت کو بھی ضل ٢‏ انی سے اور 
عاللہ اور خی رعاللہ کا ایک ہی عم ہے مس (فرق ہہ ہےک) عالہ عورت انی عارت کے ایام ضنردور ہونے 
کے ہیں روز بعد بھی اکر جی کی علامتوں کے ساتھ خون دیکہ تو اس کے لیے نا بر اط ازم کہ 
وہ ان کامو ںکو تر کر وے جیں حائضہ تر گگ ری سے اور متحاضہ کے افول بھی ما یاے۔ 
مَّل ۲۳۸ : کسی ای یلو یکو غون نے صے اٹی خمرکے ٭ سال پہرے ہونے ۶ من ہو 
خواہ اس خون میں تی شکی علامات ہوں یا نہ ہوں اس پر می کا عم میں نایا جاکتا۔ 

مہ ۴۳۹ ۰ ا رکسی اڑسی عور کو خون آجائۓے جے تک ہوکہ یائسہ ہوئی ےہ ىا میں اور 
اسے ہے چ نہ پچ کہ آیادہ ون جیض ہے یا شی قاسے ہے ھا چا کہ دہ یاڑس مھ ہوی۔ ٍ 


سیل ۴۰ء : ڈ جن کی رت جن ن دع سے کم اور دی دن سے یادہ خ٠یں‏ ہوئی۔! 'زر گر خین 
ےکی رت آ من دہ سے گ و وٹ خی مہ 





توضیجالمسائل ٰ ڑ1 ھت ا 


متلہ |۴۴ : حض کے لئے ضردری ےکہ پیل مین ین لگا نار آے نا کر مشال کے طور ے 
کسی عور ت کو دو ین خون آے پھرایک دن نہ آے اور پھرایک دن آ جا و وو ٹیش نمیں ہے۔ 
متلہ ۴۴۴۳ : تی ضس ابتدامیں خون کا باہ رآنا ضردری ےشن ہہ ضردری خی سکہ پرے جن 
دن خون اتا رے کہ گر شرمگاہ میس خون موجور ہو نو کائی سے اور گر خین دنوں میں تھوڑے سے 
وت کے لیے بھ یکوئی عورت پاک ہو جائۓ جیساکہ خام یا تتض عورتوں کے درمیان تتارف سے تو 
اس صورت میں بھی وہ تی کا خون شار ہو گا 
مستلہر ۴۴۳ :ایک عورت کے لیے ىہ ضردری نمی ںکہ اس کا خون بی رات اور چو تھی رات 
کو باہر گل لان نیہ ضردری ہ ےکہ روسری اور سری را تکو تفع نہ ہو ہیں اکر پیل دن شروں تج 
سے نفسرے دن خغروب آقیاب کک متواظ خون آا رہے اورکسی وقت بند شہ ہو فو دہ تی ہے۔ اور اگر_ 
پل دن کے رط سے خون ا شروم ہو اور چوتھ دان ای دات بند ہو ق ان کی صورت یا با ہے 
(ینی وہ بھی حیض ے) 
لہ ٣۴م ٠‏ اگ رکسی عور کو تی کی علامات کے ساتھ یا عایت کے ایام میں حین دن موا 
خرن آنا رے سے اور ررک جا نز اکر اسے دوبارہ ایا خون آے جس میں حی کی علدات ہول یا دہ 
اف ات ال آے اور اکر خون نے اور درمیان میں خون رک کے وفوں کی مجھوگی تندارویں 
سے زیادہ شہ ہو تو دہ درمیالٰی دن بھی جن یں دہ پاک ددی سے ایام تی میں شار ہوں گے۔ 
مہہ ۵م : نگ رکسی عور تکو تین دن سے زیادہ اور رس دن سے کم خون آۓے اور اے ہے 
علم نہ ہوکہ ہہ خون پچھوڑے یا زٹم کا سے یا تیض کا اسے جا ےکہ اس خو نکو نی نہ تجھے۔ 
تہ ۴۷ : ا رکی عور تکو اییا غون آآئے جس کے بارے میں اسے مم نہ کہ زم کا خون 
ہے پا فی تقو اسے اہج ےکہ انی عبادات بجا اتی رہے۔ ججزایی صورت کے جج بہکہ ا کی ابق 
حاات تین کی ری ہو (شنی اس صورت میں اسے تی آرار درے) 
لہ ے ۴ ٠‏ اگ رکی عور تکو خون آئے اور اسے تک ہوکہ یہ خون تیفش سے پا اتحاضہ تو 
اسے اب ےکہ فی ضلکی علدات موجور ہوٹ ےکی صورت میں اسے تی قرار وے۔ 


ا 





توضیمالعسائل ج‫ 


مل ۰۸ء : اگ کی عور تکو خون آئے اور اسے ہہ معلوم شہ ہ کہ سے تی سے پا ارت کا 
ون ہے 3 اسے چا ےکہ اپنے بارے میں جحق نککرے نشی یھ ردئی شرمكہ میں رکے اور تھرڑی ور 
انظارکرے۔ بجر ردئی باہر ثانے۔ لپیں اکر خون روئی کے اطراف میں لگا ہو ق خون ہکارت ہے اور گر 
ماد کی ساری دوئی خون میں تر ہوگئی ہو قے جیض ہے۔ 

مہ ٠ ۴٢۹‏ اگ رکسی عورت کو تن دن سے کم برت کک خون آتے اور پچ ربٹر ہو جائے اور 
تیں دن کے بععد ا کی عادت کے دفوں میں یا ی کی علدات کے ساتھھ ٹون آئے تر دوسرا خون حیش 
ہے اور پسلا خون خواہ دہ ا ںکی عادت کے دنوں بی میں آیا ہو تی نہیں ے۔ 


اش کے ادکام 


مل ۸۱ہ: ڈ چند یں عائنل عورت پر عام ہیں۔ 


ایل ے نماز اور اس ہیی اور عباوتی جمییں وضو یا قسل پا ” بج کے مھ او اکنا چاپے لین 
و وب وت نل یا تھم ضروری نیں 
کے ناز ہے۔ 

عم ذ و غام چزیں جھ محنب پ عمام ہیں ادد جن کازکر جنابت کے اعظام می آ کا ے۔ 

سوم : عور ت کی فرع میں ام کرنا جھ مد اور عورت دونوں کے لیے حرام سے خواو عضو 
ال صرف خقنہ گل کی عد تک بی داخل ہو اور می بھی خارج نہ ہو بکمہ اطیاط واجب اس 
مم ہے کہ خقنہ گلد ےکم مقدار میں بھی داخل نکیا جائے۔ عالت خی مس عورت کی 
پش تکی جانب سے عیامعت عرام ے۔ 


مل ا۴۵ ٠١‏ ان دٹوں میں بھی جما کر حام ہے جن میس عورت کا مض قمی نہ ہو لین شریا* 
اس کے لیے ضروری ہوکہ اپنے آ پکو عائنل قرار رے - یی نس عور تکو دک ون نے زیارہ ٹون 
یا ہد اور ای کے لیے ضوربی بوکہ اس عم کے مطابق جس کا کر بعد مج سکیا جائے گا اپنے پکو 
ا دن کے لیے عائل ترار رے بت دن کی اس کے کن کی عورتز ںکو عارت ہو پڑ اس کا شوہران 
دڈوں میں اس سے میاضعت نی کر سکم 








توضیپ‌السائل_ 1 123] 

مستلیہ ٠ ۴۵۳٢‏ اک کسی عودی دی تی لک حالت مش ہو ازد دہ اس سے ای طرف سے یا کپلی 

طرف سے عیامعت کرے قے اس کے لیے ضردری ہس ےکہ استفذا رکرے اور اتال ٢ب‏ ہے س ےکہ 

آفارہ گی ادا رے اس کاکفارہ بعر میں بیان ہو گا۔ 

امئلہ ٣۵۳‏ : عائضس عورت سے عیاصعت کے جلادہ دو ری لطف انددڈیال ملا لوس دکزا رکرنے 

کی عمانعت نمی ہے۔ 

مل ۴ می شک عاات میں ہجامعت کاکفارہ ضس کے پل صے میں اھارہ جنوں کے برا“ 

دوسرے جے می فو پنے کے بار' فسرے صے میں ساڑھے پار پنن کے وزن کی پرابر لہ وار سونا 

ہے۔ لا ا ری عور تکو بچھ دن تی کا خون آے اور اس کا شو ہر بی یا ددسری رات یا ون میں 

ال سے جا عکرے تو اسے جات ۓےکہ اٹھارہ چوں کے برابر سونا دے اور اکر یسر یا چ تھی رات ا ون 
میں جا ںککرے تو پو یں کے برابر سونا رے اور مر پانچریں ىا ھی رات یا ون میں جا ککرے تڑ 

ساڑھھ چار چنزں کے برابر سونا رے۔ 

مستلہ ۴۵۵ ۰ اکر سکہ دار سون فحکن نہ ہو تے متعلقہ جن کو چا ےکہ ا سکی قبیت رے اور آگز 

سونے گی اس وت کی مت سے ج بکہ ای نے ہما غکیا تھا اس وق تہ کی قبت ج بکہ وہ فق کو رینا 

چاہتا ہو لف ہ وی ہو تو اس و ت کی قبت کے مطبی صاب لاۓ جب وہ لق رکو رتا چاپتا ہو۔ 

جے مس بھی اپ یودبی سے جا عکیا ہو فدہ تو ںکغارے رے جو سب م لکر سماڑھے اکتیں نے ہو 

جاتے ہیں۔ 

مستلہ ے۴۵ ۰ اگ رکوئی نس تیض دای عورت ےک بر ہماع کرے تر بمتریہ ہ ےکہ برجماع 

ا 

ستّلہ ۲۵۸ ء: آلر مرکو جماع کے دوران معلوم ہو جال ےکہ عور تکو یش نے لگا سے قو اے 

چا کہ فور اس ے جدا ہو جائۓ اور اکر بدا نہ و نز ایال مب کے طوربرکفارہ رے۔ 


مہ ۵9۹ ٠‏ ا رکوئی مز عانسش عورت سے زناکرسے نا می گا نکرتے ہوئۓے ناعحرم عائض 








توضیح‌المسائل ...1 24+._ا۔ 
: 


عورت سے فا کر ے کہ وہ ا کی انی وی ہے تب بھی اسے اعقاط سخب کے طور بر کفارہ دنا 
چاجے- 
متلہ ٭٭ ام ٠‏ رکوئی نس اعل ی کی بنا بر یا بھو کر عورت سے عالت تی میں مامح تکرے 
قوکغاروکی عاجت خمییں رہقی- 
مستلہ ۴۷٣‏ ؟ ار ایک مویہ ضال کرت ہو ۓےکہ عورت عائھش ہے اس سے مامت ہککرے 
لین بعر میں معلوم ہوکہ حائضش نہ نشی نوکفادہکی عادت نمیں۔ 
لہ ۴۷۳ ٠‏ جیساکہ طلاق کے اعکام میس جایا جائے گاکہ عور کو خفش کی عالت میں طلاق ریا 
ال ے۔ 
مستلہ ۷۳ ٠‏ ار عورت کے کہ میں عائحضس ہوں یا ہہ سب ےکہ مس میس سے پک ہہوں تو اس کا 
ول قبو لک لینا چاہے- 

تل9 ۹۴م ۰ اگ رکوئی عورت نماز کے دوران عائش ہو جائے نو ا سک نماز باعل سے 
مل ۲٦۵‏ : اکر عورت نماز کے ووران شی ک کر ےکہ عائحضس +وکی سے با شمیں و ا کی نماز 
جج سے لین اکر نماز کے بعد اسے پند ج کہ نماز کے دوران حائحض ہوسگئی تھی تو جو نما اس نے پڑ ھی 
ہے دہ بافل ہے۔ 
مل ۷٦م‏ : عورت کے خون تی سے پاک ہو جانے کے بعد اس پر واحب ےکہ نماڑ اور 
رورسری عباوات کے لیے جو وضو با تنسل پا جھ مک رکے ھا لان یں تل لکرے اور اس کا طریقہ تسل 
جناب کی طرح ہے اور لازم ےک فسل کے بعد وضو بھ یکرے۔ 


لہ ے۷۹ ٠‏ عورت کے خون حیض سے پاک ہو جانے کے بعد ارچ اس نے تسل شہکیا ہو 
اسے طلاق دیتا کچ سے اور اس کا خوہراس سے جماغ بھی کر مکنا ہے ۔کو بھٹر ےکہ جماع شرمگاد 
دہونے کے بو کیا جائۓ لان اعالط سب ہہ ےکہ اس کے مس لکرنے سے پیلہ مرداس سے ام 
نہکرے۔ التہ جب گک وو عورت تل نکر نے وہ دومسرے کام جو یش کے وقت اس پر عرام چے 








توضیچالمسائل_ےے_ ]125ا 


(شلا سر میں ٹھمرنا یا قرآن مجیدر کے الفا ظط کو م سيکرنا) اس پہ عطال یں ہوتے۔ 


مل ۹۸ : کر انی (عورت کے) وضو اور فس ل کی لی نی نہ ہو اور تقما ات ہوکہ اس سے 
ین کی کے و اسے چا ےکہ تس لکرے اور وضو کے پر لے کم کرے اور اھر پائی صرف وضو کے 
لیے کی ہو اور انتا نہ ہنوکہ اس سے نس لکیا جا سے تو چاس کہ وض وکرے اور ٹسل کے بل تم 
کرے اور اکر وونوں میں سے کی کے لیے بھی پان نہ ہو ف چا کہ دو جح رکرے۔ ایک نس ل کی 
کو ا ا 


مہ ۴۹۹ ٠‏ جو فمازیں عورت نے تی کی عاات میں نہ بڑھی ہوں ان کی تضاکی عادت 
شھیں۔ لیکن جو واحب روزے اس نے تین شس کی عالت میں نہ رھھے ہوں ا نکی فتضا بجا لان جایۓ- 
لہ ھے ٣‏ : ہب نماز کا وت شروع ہو جاۓ اور عور ت کو ین یا ال ہوکہ اگر نما مل 
دہ ہو گی قوش شروع ہو جاے گا نز فورا“ نماز پڑھ لین جات 

تل ا ٠‏ أآر عورت نماز پڑ ھن مس انی رکرے اور اول وقت میں سے اتتاگزد جاۓ بقنا ال 
کی حدوٹ سے ممارت.عاص لکرنے کے بعد ایک نماز میں تا سے اور وہ حافل ہو جائے فو اس نما ز کی ٠‏ 
فلا اس بر واجب ے یکن جلدی با نے اور مر فھم کر بڑھن اور دوسری باں کے بارے میں اسے 
چاج کہ انی عالت کا ھا اکرے نا گر ایک عورت جو سفرمیس نہیں ہے اول وت میں نماز ظمرد 
سے تر ا لکی تا ای بر ا صورت می واجب ہوگی ج بکہ عرث سے عمارت عاص لکرنے کے 
بعد چار رکعت نماز یو نے کے وفت کے برار ونت اول ظم رس ےگزر جائۓ اور وہ حائض ہو جائے۔ اور 
اس عورت کے لیے جو سفرمیں ہو طمارت ما لکرنے کے بعد دو رکعت پا جے کے برابر وق گر جانا 


بھی کی ے۔ 

مہ گے ٠: ٣‏ آمر ایک عورت نما کی آخر وت میں خون سے اک ہو جا اور اس کے پائںی 
اندازا انا یت ہوکہ شس ل کر کے ایک پا ایک سے زیادہ رکعت بڑھ کے و اسے اج ےکہ نماز بڑھھے 
اور ار شر مھ قو ا کی قضا بیا لاۓ۔ ۱ 


سل ۴۳ : اگ ایک عائنسش عورت کے پا (خیخل سے اک ہونے کے بعد تسل کے لیے 








توضیح‌المسائل __1_ 3226ا 


وققت نہ ہو لن کر کے نماز وت کے اندر بڑھ تی ہو نے اعقیاط واحب ہہ سے کہ دہ نماز چم کے 
ساتھ بڑھے لیکن آگمر نہ بھی بڑ سے تو اس پر قنا واجب خی ہے۔ وق تک گی سے قطع نا رکسی اور 
وجہ سے ا سکی شری ملیف بیج مکرا ہو خلا اگر پانی اس کے لیے معخرہو نز اسے چا ے کہ مھ 
کرے اور دہ نماز پڑھے اور اکر نہ بڑھے قے ضردری ہب ےکہ ا کی قتضاکرے۔ 

متلہ سے ٠‏ اگ رکسی عور کو خی سے اک ہد جانے کے بعد شک ہ کہ آیا نما کے لیے 
دقت بای ہے یا نہیں تر اسے چا ےکہ نما بڑھ لے۔ 

مستلہ مھ ے٣‏ ۰ اگ رکوئی عورت (تیفش سے پاک ہونے کے بعد) اس خیال سے نما شہ بے ھھےکمہ 
مقدمات نما زکی تیاری اور ایک رکعت نماز پڑجنے کے لیے اس کے پا وقت میں ہے لن بعد میں 
اسے پند می کہ وت تھا اسے پا کہ اس نما زکی تا ہبالاۓ۔ 

تل ے۴ ۰ جائنسل عورت کے لیے جب ہےکہ نماز کے دقت اپنے آ پکو خون سے الس 
ہکھریۓ اور روئی اور پپڑے کا گر من اور وضوکرے اور آمر وضو نہ کر ک ّ مھ کرے اور نما ز گی 
کہ بے رو بفڈہ ٹیش اور زکر' رما اور صطوات میں مشفول ہو جاک 

متلہ بے ٠ ٣‏ مائضس کے لیے قرآن ید کا ڑھنا اور اسے اپنے ساقھ کنا اور اپے بدن کال 
حصہ اس کے الفاظ کے ررسیالی ضے سے مس کرنا اور ارہ اڑیں سندل بای جیی کی اور چک 
خضا بکرناعگردہ سے۔ 


ای 
7 مل ۸ے ۴ : یش رالی عورتو ںکی بجچھ نمی ہیں۔ 
ایل : وقت اور عدد گی عایت رک والی عورت (صاحب عارت وقنبے و عردے) ہے وہ قورت 
سے ضے کے بعد ریکرے وو میتوں میں ایک مین وقت پر خون آآغے اور اس کے یش 


فئر رنیں کی نار تی ووٹوں میتوں میں ایک بی ہو شا اے کَ بعد دارے وو گڈنوں 
یش می نکی کی تر سے ساققیں نر کک خون آئے۔ 





ترضیچالسائل__ ے ).+12 ]ا 


روم ٠‏ وت کی عارت رکنے وی عورت ( صاحب عابیت وقنی) ہے وہ عورت ہے جے کے 
بد ویر رو میتویں میں ملین وقت بر تی کا خون آئۓ لکن اس کے می کے ونو کی 
تار رونون معیتوں میں ایک جسی نہ ہو۔ خلا کے بعد دیکرے دو ممینوں میں اسے مین ےکی 
لی مرن سے خون آنا شروع ہو جن وہ لہ میے مم ساتیں دن اور دوسرے مین میں 
انھویں دن خون سے پاگک ہو۔ 

2 عدد کی عدت رککتے دای عورت (صاحب عادت مددے ) ىہ دہ عورت سے جس کے 
تی کے رزو ںکی تعداد کے بعد دیکرے دو ممینوں میں ایک تی ہو لگن پہرمینے خون آنے 
کا وت نلم نہ ہو۔ شلا پلہ مینے میں اسے پانچیں سے دسویں رق تک خون آئے اور 
ہے تن زم سے مر راف سن 

ارم : مطے اب وہ عورت سے صضے چند مین خون آیا ہو لگن اس کی عایت مین نہ 
ہوئی ہو یا ا سکی سابقہ عار تم زگئی ہو اور نئی عادت اس نے پدا نہ کی ہو۔ 

سم ٹر ہے وہ حورت ہے شے کل وفع خون آیا ہو۔ 

کر اس وو ریت سے جو اپی مارت ببھول کی ہو۔ 

ان میں سے پر تم کی عورت کے لیے مبحدہ عیعدہ اعکام ہیں جن کا زکر مد مال می ںکیا 
جاۓے گا۔ 


ا- وقت اوریردگی عارات کے والی ورت 


جو عورتس وت اور عددکی عارت رکتی ہیں ا نکی دد میں ہیں۔ 

کول :وو عورت ضے کے بعد دیکرے وو عمیتوں میں اک مین وقت پر می کا خون آئے 
' ایر وہ الیک مین وقت بر بی پک بھی ہو جا خلا جے بعد دیکرے دو ممیتوں میں اسے 

٘ مین ےکی بی رر کو خون آے گور وہ سای روز پک ہو جائے فو اس عور تکی جیف شل کی 

ات مکی بی بر سے عایی ناک موی : 





دوم وو عورت نے ہے بعد دگکرے دو مھیتویں میں مر من وقت پے یش کا خون آۓ اور 
ا نک آ گے تر دہ ایک ما زیادہ یں کے لیے پک ہو جا اود پھر 








توضیحالمسائل . 





اسے روبارہ خون آ جا اور ان تاس دنوں کی تدرار جن میں اسے خون آیا ہے شول ان 

درمیالی دفوں کے جن میں دہ اک ری ہے دس سے زیادہ عہ ہو اود ہر ایک سیینے میس ام 

دن جن میں اسے خون آیا اور بچ یش پاگک ہو گی ایک اندازے کے مطابق ہیں فو ای کی 

عایت ان قیام ونیں کے مطابق قرار پا گی جن میں اسے خون آیا اود بج میں پک ددی البت 

ضدری خی ںکہ جن ایام میں دہ بچ میس پاگک ری وہ ہرایک مین میں ایک اندازے کے 

مطابق ہیں۔ شا اگمر پل مینہ میں اسے کی مرن سے تیسری مار تک خون آئے لود پھر . 
مین رن اک رن اور پچھرق"ن دن ددبارہ خون تآئے اور دوسرے مم میں شقن رن خون 

آنے کے بعد خین دن یا اں ےکم نا ایں سے زیادہ مدت کے لئے خون بد رسے اور پھر 

اے روپارہ ون آ جا اور کل ماک نو دن نے ہویں۔ تو ہہ تام ایام جیفش ہیں اور ال 

عور ت کی عادت فو دع ےے۔ 


مل وے ٣‏ : جو عورت دفت کی عادوت رح ہو کر اسے عارت کے وقت یا اس سے دو دن پل 
غین آ جاے تو خواہ وہ خون تیت شس کی علمات نز رکتا ہو اسے ہا کہ ان اکام کے مطابق عم لککرے 
جو عائضل عورت کے لیے جیان کیے گے ہیں اور آگمر اسے بعد می پتد سن کہ ىہ تی نمیں تھا خلا گر 
تن دن سے پل خون رک جا قو اسے چا ےکہ جو عباوات یا خممیں لائی ا نکی تضاءککرے۔ 

مہہ ۴۸۰۴ ٠‏ جو عورت وت اور عد کی عارت رکھت ہو اکر اسے عاوت کے قہام وثوں میں اور 
عارت سے چند دن لہ اور بعد ی١‏ کی علامات کے ساتھ خون آئے اور دو کل دن ملاک دی دا سے 
زیارہ نہ ہوں لو وہ سمارے کا سارا خیش بج اور اگ ے مدت دل دح سے پڑھ جا تو جو خون امت 
عاد ت کی رنوں میں آیا سے دہ تیتسش ہے اور جو عارت سے پل با بعد میں آیا سے وہ استماشہ سے اور استہ 
چا جو عبارت دہ عارت سے پل اور بعد کے دنوں میں ہیا می لاکی ان کی تضا کرے اور اکر عادت 
گی تام وڈویں مس اور سائھ ہی عابت سے چند دن لہا سے خی سک علابات سا نہ خون آتے اور ان 
سب فو ںکو اکر ان کی تقنداد ول سے زیادہ نہ ہو و سارا یش سے اور اکر تو ںکی اعراد زرل ست: 
زیادہ ہو جائۓے پر ضرف عایت کے ونوں میں آتے والا خون نیش سے اور جو خون اس سے پسلہ آتے وہ 
اتاضہ سے اور اکر ان دنوں مج عبادوت نکی ہو ق چا ےکہ ا کی قضاکرے اور اکر عارت کے نام 
دفویں یی اور ساجقہ ہی عادت کے چند دن بعد تی شس کی علاإجوں کے ساتقہ خون: نے اور کن وخیں گی 





توضیحالمہ بائل یندا 


تھ راز ملاگر : 7 زیارہ نہ ہو سارے کا سارا تی سے اور اکر ہہ تعیدادرں سے بڑھ جائے و صرف 
ایت کے دأیں میس آنے والا غون تی ہے اور بائی اتحاضہ ے۔ 

مل ٦١ء‏ جو عورت وت اور عردکی عارت رھت ہو اکر اسے عاوت کے سپھ دنوں میں عارت 
: 1 ونوں کے ساتچھ سا تی سک علامتوں کے ساتھ خون آئے اور ان خام دنو ںکو اکر 
میں سے زیارہ نہ ہو و وہ مارے کا سارا تخل سے اور گر ان دنو ں کی تعداررل سے بڑھ 








ا 
٦‏ 
یں میں اسے حسب عارت خون آیا ہے اگر ا نکی تعدار قین س ےکم ہو تو اسے چا ۓکہ 


کی تنداد لا دن پا زیادہ ہو ٹر اں خو نقکو تی ترار رے اور عارت کے وقت سے پیٹ ر کے ونوں یی 
:7 عارت ؟اقدار ٹف ننس انتا طکرے اور گر عارت کے مھ ونوں کے سا ساجھ عادت کے بعد 
نے 7 ین بیس کی خاامتوں کے ساتہ خون آئۓ اور ان سب وثو ں کو طاکر ان کی اعداد یں 
اہو و سارے کا سارا مض سے اور اکر دس سے بڑھ جا تو اسے جا کہ جن وفوں مل 
ہے پان ہے اکر ا نکی قنداد جن سکم ہو نے عاوت کے بعد کے چند ون ملاکر جن وخو ں کی 
وی نان کی عابت کی مقدار کے برابر ہو جا انی تی اور با یکو اتحافہ قرار دے اور جن 
×. معابق خون آیا سے اگر ا نکی تعدار خین یا ان سے زیادہ ہو تر ان سے زیادہ دڈوں ‏ 
عارت کی پقدار تک امیا ا کرے۔ 







مستلہ ۲۸۳ ۰ ہو عورت عارت رکھتی ہو خون تین ىا زیادہ ون تک آنے کی بعد رگ جائۓ اور 

چم روبارہ ون آآے اور ان دووں خونرں کا ورمیالی اصلہ و ون ےم ہو اور ان سب ونوں کی لحداو 

جی میں <رن آیا ہے مشمول ان وسی دنوں کے جن مس خون نمی آیا رس سے زیادہ ہو خلا پا دن 

خرن +٢‏ ۔ راج دن ر کگیا ہو اور ریا دن روبارہ آیا ہو تر ا یکی چند صورضں یں۔ 

الف) بے کہ وہ تام خون جو کی بار کیا سے عارت کے دنوں میں ہو اور دوسرا خون ججو پک 
ہون ےکی بعد آیا سے عار ت کی ونوں ٹل نہ ہو۔ ای صورت میں عور تکو چا کہ پا 
تام نون کو نیش اور ووسرے خو نکو استحاضہ تقرار رے۔ اور گر ف شون کی ہے قرار 
فارک گی مطائن اور یھ مقدار عایت سے ایک یا دو ون پل آئے یا م کہ اس خون میں 








: ٭ 
توضیمالعسائل "ےگ ( صدر ا 


تی ش کی علاصت ہوں خواہ وہ عارت سے پل ےی دب ون سی یی یکم 
ہب ےکہ وہ پلہ خو نکو حیت اور دوسسرےکو اتاضہ قرار وے۔ 

(ب) کہ پا خون عای ت کی دثوں میں نہ آے اور جس اکہ لی صورت میں کنا نیا سے 

دو مرا قمام خون یا ا یکی پنھھ مقدار عارت کے وتوں شس آنے۔ ای سورت بی جا کہ 

ض۳ ووسرے خو نکو می اور پلے خو نکو ا امہ آرار رے۔ 

(ئ) ہے کہ دوسرے اور پل خون کی پچ مقدار عارت کے وثوں میں ”ے اور / اٍم عایت 
مم آنے دالا پسلا خون خین رن ےکم نہ ہو اس صورت می وہ مدت بھعہ ورا پان 
اگ ریت گی رت ت اور عارت کے ونوں میں آنے والے روہرے نون کی بط کے نے 
جموگی طور بر دس دن سے زیادہ شہ ہو قام کے قام میام تی ہیں اور پیلے خو نکی دو عتزار 
جھ عادت کے دنوں سے پیل آے اور ددسرے خون کی وو مقرار جو عارت کے ولوں ہو 
آے اتحامہ ہے ملا آھر عور تکی عارت مین کی تیسری سے دسویں ار تک بوارر اے 
کی مین کی بی سے مچھٹی نار تک خون ؟ ٤ے‏ اور پچنردد دن کے لیے بر ہو جائے اور پھر 
ند دنعیں مار تک آے 3 جسری سے دسویں نارق تک خیش ہے اور کی اوڑ. دوسری 
تار کو آنے والا غون اور ای طم عگیارہویں سے پنددہویں تارق کک آئے آرالاخون ٠‏ 
اتمانمہ ے۔ ا ۱ 

() کہ کل اور دوسرے خون کی ھ مقدار عایت کے ونوں مم آئۓ لین ایام عارت 
یس آنے والا پھلا خون جن دن ےکم ہو اس صورت میں بعید نہیں ہ کہ شی برت ای 
عورت کو خون ایام عارت میں آیا ہے اسے عادت بشت ر آنے وانے خو نکی کت زرت کے 

> اق ار 7 ات ا ا انیس ایام ضس قرار رے میں اگر الا :و کے وہ 
ددمرے خو نکی اس مر تکو جو عابت کی دنوں یل ا ہے یش تقرار ے۔ (ب میں 
سکم دہ مت اور چک خو نکی دہ برت سے جن قرار دا ہے اور ان کے درمیال( ڈن نہ 
ھن کی رت سب ملاک دی ون سے تھاوذ من ہکریں) ة یہ سب ایام یش ہیں ور ۔ جا 
کیہ پل مو کو خیش اور پاٹ یکو ا ماشہ قرار رے۔ 


مل ۲۸۳ : جھ عورت دقت اور عردکی عارت رح ہو اگمر اسے عاوت کے وقت خون نے "ہے 





توضیح‌المسائل ۲120 


جکمہ اس کے علاوہ کی وت میس لیف کے ونویں کے برابر دنوں میں جیخش کی علامبات 9 مات اے 
خرن اے ڑاے جا کہ ای خون کو میس ترار رے اہ وہ عارت کے رت .سے پیل تن اظر 
یں کت 


سا ۴۸۳ : 0 خارت کے وقت ون ؟آۓ 
ٹین اس کے وفوں کی تندار اس کی عاوت کے رنیں سے کم ىا زیادہ ہو لور پگ ہوئے کے بعر ا سے 
ددبارہ نیف ش کی علامات کے ساتھ ات جج ونیں لع خرن ےی ا کی عارت ہو تر اگر ان روئوں خووں 
کے دنو ں کی قدار درمیالی بدت میں خون بنر ہونے کے دنو یکو اکر دی دن سے فیادد کہ ہو قّ اے 
پاپ کہ ان سب کو ایام تی قرار درے اور لم ان دفو ں کی تعدار دل سے بڑھ جائے ت7 جو خون اے 
مات کے ونوں یی آیا ہو وہ تین اور بائی خون اماضہ ہے اور ار ان رنوں کے تار زیارہ ہو اور حون 
کی زیارہ مدار تی شض کی علامات مرکتی ہو قب پنلا خون سارے کا سارا خی خار ہو گا 
تل ٠ ٣۸۵‏ جو عورت وت اور عدرکی عارت رکھتی ہو آگر اے دی سے زیادہ رن تب خون 
کے جو خون اسے ارت کے وفوں میں آئے فواہ وہ ٹیش کی عاامات نہ بی زکتا ہو تب. بس تی 
کَ اور جو خون عارت کے ونوں کے بعد آے خواہ وہ غیت شس کی علامات بھی رکتا ہو اسمائمہ ستے۔ مل اگ 
ایک ایی عورت شس کی خی کی عادت مینکی بی سے ساقویں نارں تک ہو ات بی سے بارہویی 


نارق تک نون آے و پل مات رن می اور بقیہ پاچ دن اتحاشہ کے ہو کر 
٭م ام 
۲-۔- وق کی عارت رمےے وا ی ععورت 


مل ۲۸۷ ٠!‏ جو عورتیں دق کی عاوت رت ہیں ا نکی دو نمی ہیں۔ 

اویل وہ عورت ضے بے بعد دیھرے دو معینیں میں مین وقت پر خون آۓ اور چنر واوں 
بعد بند ہو جاۓ لان ہر مینے میں خون آنے کے وفوں کی تعداد لف ہو۔ مض اسے کے 
بعد دیکرے دو مینوں میں مین کی می نار کو خون ہے لکن چیہ صن ہیں ساندیں دن اور 
دوسرے مین آٹھوسی دن بند ہوم اڑسی عور ت کو چا گ۷ مین کی بی تار کو ابی غادرت 
207 


لوم ؟ وو گورٹ کہ کے ہو وگارنے وو میینوں میس مجن وقت بے جن یا ناہه دن ین تا 








]432.1.._ 


ون آئے اور رین ہو جاۓے در پھر روبارہ ٹون آے اور ان خمام وخیں کی تقدرار جن میں 
ون کیا ہے بعہ ان درمیائی دفویں کے جن مش خون بند را ہے دیں سے زیادہ نہ ہو لن 
دوسرے صے می دفو ںکی تنداد پل مین ےکم یا زیادہ ہو شا پھلہ مینے مس آشھ ون اور 
دوس رے می می فو دن نے ہوں ق اس عور تکا بھی جا کہ مکی بی تر کو انی 
می کی عادرت کا پا بت قرار رے۔ . 


مہ ے۲۸ : گر ی عور کو جھ وق کی عابت رکھتی ہو اور اس کے وفوں کی تندار پیہاں ‏ 
ہو ایا غون آئۓ جن س کی کچ مقدار لک علامات کھت ہو اور یھ مقدرار ااسی علابات نہ رق ہو 
ای صورت م کہ علامات ولا خون تن دن س ےکم یا دں دن سے زیادہ رت کے لیے نہ نے اس 
کیل لازم نے کے کت رن0 اور ال خو نکو نس میں تق کی غلابات ۓ ہیں ایا قرار رے لیکن 
تب اسے عایت کے وق می خون آے ق اس طون کے یس ہونے میں صفات می کا موجور ہوا 
مج یں نذا جھ ون عادت کے وقت مم آئے آگر ا کا جیض ہنا لکن ہو قزلازم ہے کہ سے طض 
ری خلا اکر سے اپی عارت کے وقت می تن دن خون آآے قر خواہ اس می تی کی عبات د 
بھی ہوں تب بھی نیس ہبے۔ اور مل کے طور پر اکر اسے اپی عاو تک مدت مج ایک ون اور مارت 
سے چیہ ود دن خون آے یا کہ خلا انی عادت کی مدت میں ایک ون اور مات کے پیر میٹ کی 
علات کہ ساتھ وو دن خون آئے ق ا کپ بھی سی عم ہے ان ود صوراوں مم بھی ا کی ازم 
کہ ان من دفوں کو ایام فیس قرار رے۔ لی گر وہ خون جس میں ت ش کی علمات ہوں ٹون ٢‏ 
شور ہونے سے لےککھ دی دن سے چیہ بن ہو جائے لو وہ قام خون میٹ ہے اور اگر پیر میں کی 
ون آئے اور ای خون میں خیش کی لمات ببوں اور ار اس خون کے آنے اور پل ٴون کے پت 


ہونے کے درمیان دی دن یا زیارہ ولقہ ہو و وہ خون تھی نی ے ورتہ احاقہ -- 


مہ ۸ پ ‏ تب کوک ی عورت وق تکی عادت رکھتقی اور اسے ناوت کے علاوہ وقت میں تی 
گی خلامات کے مسا دی دن سے زیاوم نون آ ےۓ اور ایی عامتوں سس تج از ین ترار ل‫ 


دے گت ہو ٹڈ اسے یا ۓ کہ اس خو نکو جھ یا مات رن کے لیے یٹ اور با یکو اخاضہ قرار ےد 


مل ۱۲۸۹ء مہ ایک ابی عور تکو ضے ما لکی طور یر ہر مین گی بی نار کو خون آ7 ہو اور 











رسو مار 22ا 


بھی پانچوی او بھی ساتذیں نرک بند ہو ہوکسی ایک من مس ارہ دن خون آ جائے اور دہ نیف کی 
نثایوں سے مس کی مرت کا تھین کر عق ہو تو اسے چا کہ میی کی بی رج سے بل ےکر بچھ یا 
سات دن کے خو نکو مض اور اتیک احاض ترار رے۔ 


متیلہ ٭۹ ٠‏ مس عارت دالی عور تکو اتی مارت کا وس یا آخر معلوم جو لک اس کا خوان درس ون 
سے تجاو زکر جائے ق, وو تی کے جھ یا مات ون کا تین اس طر حکھر ےکلہ اس کا آخر یا وسط ا یگ 
عارت کے *طالق ہو۔ ۱ 


۳- عروی عاات رکے والی عورت 


مہ )۹ ؟ جو عورتیں عددکی عاوت رھت ہیں ا نکی دو ہیں ہیں۔ 

ایل و سوہ عورت خس کے جن٠ل‏ کے وثیں کی شندار جے بعد دھرے دو ممیتوں میں کان ہو 
لیکن اس کے خون آنے کا وت ایک جیساغہ ہد ای صورت میں بی دن اسے خون آئے گا 
وو بی ال کی عادت ہو گی۔ فا نکر لہ مینے میں اسے کل ارح سے ہنی دم تک اور 
دوسرے مینے بی تیادہ وی سے ند موی رن تک خون آت تو ا کی عادت پا دن ہو 
گی۔ 

ویم وو عورت ضے کے بعد دکرے ود میتیں میں سے پر ایک میں جن ىا خی سے تیادہ 
ونیں تک خون آئۓ اور ایک ىا اس سے ان ونویں کے لیے بند ہو جاے اور چم رددبارہ خون 
آۓ اور غوین آنے کا وقت پل می اور دوصرے مین میس لف جو اس صورت میں اگر 
ان قیام دٹیں کی تعدار جن میں خون آیا سے بسعہ ان درسیالی دفوں کے ین میں خون بن رہ 
سے دس سے زیادہ نہ ہو اور دونویں مہیتوں میں سے پر ایک میں ان دفو ں کی تحداد بھی کاسال 
جو تر وہ قیام ین جن میں خون کا ہے بصعہ ان درمیائی ونوں کے جن میں خون نی آیا ا 
عورتت کی تی کی عادت ہو گی اور ہہ ضروری نمی سيکہ ان درسیائی دنو ں کی تنداد شن مل 
دے غون میں آیا ہر مینے میں ایک جی ہو خلا آمر پلے صینہ مس اس کی نارق سے 
تیری نارج تک خون آئے دد دن کے لیے یا ای سے زیادہ یا اس ےکم دن کے لیے بن 


ہو جاے اور گر روپارہ خون آ ے اور ئیجر وو ون گے لیے ہنر ہو جاۓ اور روویارہ جن رن 


ترضیچ‌المسائل می334 


خون آۓے اور دوسرے مینے می ںگیارہوسں سے تیووس نار کک خون آۓے اور ان سب 

۱ دنو ں کی تعدا آجھ سے زیادہ شہ ہو و اس عور تک عاوت آخ نچ از شال کے طور 
پر لہ مین میں اسے آٹٹھ دن تک خون آے اور دوسرے مین می مار رن خون آآے اور 
بر بجر ہو جا اور پھر دوپارہ آئے اور خون کے ونوں اور ورمیان میں خون بثر ہو جالے 
والے وو ںکو مجھوی تدار آٹی ہو فو ائ کی عارت آٹھ دن ہوگی۔ 


:۰ تہ ۴۹۲ ٠‏ اگ کی ابی عور تکو ج کی عادت عددکی ہو یت کی علامتوں کے ساتھ ای 
عایت کی تعدار سے کم نا زیادہ ون کک خون آۓے اور ان ونوں کی داد رس سے تجاوڑ نہ کرے وہ 
انئیں یام یس ترار رے امرچہ خون بند نہ ہو اور فیت کی علامات رک غیرد دن سے 'تھاو زکر 
جا تو وو خی کی علامات شرو ہونے سے اپنی عادت کے وفو ںکی تعداد تک تی اور پاتی دنو ں کر 


اخاضہ ترار رے۔ 


٣‏ مر ی 

مل ۹۳ :گر مرکو یٹنی اس عور ت کر تھ چند می خون آیا ہو لیکن ا کی عادت مجن 
نہ ہولی ہو دی ون ے زارہ ون آئے اور تنا خون اسے آیا ہو اس میں تی شس کی علامات ہوں زّ پک 
مین مم دس دن اور دوسرے میں ٹیں ون ایام حیت ترار در اور پا یکو اتحاضہ قرار رے۔ 

مل ۳۹۳۴ : ار منطری کو رس رن سے زیادہ شون آآے جس میس سے چند ونوں کے ون مس 
تی سکی علابات اور چند دوسرے ونوں کے خون میں استحاض کی علامات ہوں فذ آار وو خون جس میں خیش 
کی علامات ہوں جن دن سے کم یا دس دن سے زیادہ حدت کک نہ آیا ہو و سمارے کا سارا ین ے۔ 
اور آمر وو اس تام نو نکو جو بیس کی علادمات رکھتا ہو نیش قرار نہ دے کے مشلا ب ہکہ پاچ دن جیخ ش کی 
علالات کے ساتھ۔ پاچ ون اتحاضہ کی علامات کے ساتھھ اور بھ یا دن تین کی علامات کے ساجھ خون 
آ نے لو انی ٦ررت‏ پ ہج ےک ٹس خون میں موی طامات ہو اور اسے ٹیش ترار دے گے ین 
جو ین دن ےم کور دس دن سے زیادہ نہ ہو ان دونوں کے پارے میں ا سے ابا طکرلی چاہبے اور جو 
شون ورمیان میں آیا ہو اور تضش کی علامات ‏ رکتا ہو اسے اشخحاضہ تار دے اور گر ان اۂش ے 
مرف یکل یس تار رے گنی ہو پواے تی اور ہا یکو اتحاض ترار رے۔ 





اروا سال ہی ے ہے ےا کھت 


۵۔ نرک 

سیل ۵۵٣م ٠‏ گر ریہ کو نی اس عور تکو ضھ بی بار خون آیا ہو دس دن سے زیادہ خان 
آے اور وو ققام خون جو کے یا سے خی کی علاتیں رکتا ہو نو ات چا ےک اپنے خاندا نکی 
عورقو ں کل عمادو تکو تی اور بای کو امتحاضہ آزار رے اور اکر ان کے خانرا نک یکوگی عورت نہ ہو یا ای 
کے خاندان گی عورنو ں کی عاوت ملف ہو نو وہ پل بی کے رس رو ںکو ایام مجیش ترار رے۔ اور 
ووسرے مین میں تین فو ںکو ایام خی قرار دے اور پچمردی دن اپدے ہونے تک انی کر ےگ 
اور عارت مقر ہو نک ای وظیفد ی عم لکرےگی۔ 


سیل ۹۷م ؛ گر متدم کو ری سے زیادہ دن تک غون آتے ج ب کہ چند دن آنے وا خون 
میس جیخش کی علامات اور چند ون آنے والے خون میں اتحاض کی علامات ہوں اور ٹس خون میں خی شکی 
علابات ہوں وہ تن دن ےکم اور وس دن سے زیادہ تگ ثہ آیا ہو تو وہ سارا یش سے لین ٹس خون 
0 علابات ت٠س‏ ار نٹ زوین کن مک نے نے نے روارہ خون آئے اور ال میں بھی 
تی شک عاابات ہوں خلا ا رن ساہ خرن ارر و دن زر رون اور نچ رروپارد ا دن تک ساہ نون آ٤‏ 
ور بی گر مل کے متحلق جایا لیا ہے اس عورت (لشن مقندشہ )کو چا کہ درسیان وا خو نکو 


ا خاش ترار وے اور اں یر دووں طرف ات اکرے۔ 


مل ے۲۹ 7 متا کہ رس سے زیادد دنیں تک خون آتے جیا جو نون چند دن ا یں 
میں می کی علامات اور جو خرن بند دن اور آے اس میں اتا کی علابات ہوں لن شی نون میں 


تی کی علمات ہوں دہ تی ىت ےکم ورت آیا ہو نو جو خون اسے آتے ہیں سب اتحاصہ ہیں۔ 


٦-۔‏ ناسےہ 


مل ۹۸ ٠‏ اکر بی کو انی اس عور تک جو اپپی عاد تکی مقدار جعول گی ہو نیش کی علدات 
کے ضا خون آے نس کی بدت مین ون سکم اور وس ون سے زیادہ ضہ ہو قز دو ات شی ترار 
وے۔ اور گر وہ نون دی ون سے ڈیادہ یں کک آئے تو جچتی یت کے گے ا سکی عارت پاتی رتچ 


کا ال ہو اسے خقل قزر رے اور اتی اتاشہ سے لیکن گر اس کی عادت پاتی رج کا ال سات 





توضیح‌المسائل ...۱138(1 


دأوں سے دس وفویں تک ہو نے ساتویسں ون کے بعد اعت اط کرے_۔ 

کے تتزق سائل 
مل ۹ ۸ ہترے یہ“ مفطمیہ' سی اور عددکی عایت رکٹے دالی عو را ںکو نین آے نس میں 
تی کی علامات ہو ق3 انیس جچا بے کہ عبادت تر ککر دیں اور اکر بعد می انمیں پت لے / کہ بے خقل 
میں تھا انیس چا ےک جو عبارت جیا نہ لائی ہوں ا نکی ذاکریی۔ 
یل ۰+۶ ٭ ہج عورت نت شک عارت ر کی ہو۔ خواہ نے عارت وی کے انتبار سے ہو یا یدرد کے 
انقبار سے ہو یا وقت اور تدر رونوں کے انقبار سے ہو آلر نے کے بعد دیکر ے وو می مصینوں میں انی 
عادت کی پر خلاف خون ورس و یت 
ق3 ا نکی مات جس طرع ان وو یترں یں اے خرن ٢‏ ا سے اس میں تدیل ہو عاتی ے۔ ملا گر 
لے اسے می کی بی نارق سے بای نار تک نون 7با تھا اور پپھریئر ہو جانا تھاگگر وو ییتوں 7۰ 
ای دسویں نارںع سے حتربویں نار تک خون آیا ہو اوس ہو تق ا ںکی عادت دسوس رن 
سے منزوویی نار ں نف و جانگی۔ 
عطلے ئن جال فرنے اد خون آنا شر ہونے سے میں دن تک ے می نکی بی را 
سے مین کے آخھ کک نی ےے۔ 
مل ۳ڈ گر کسی عور ت کو عھو] میینہ میں ایک مر خون آا ہو لی ن کسی ایک مس می میں وو 
رہ آجاۓ اور ال وں کی عت ون رن نیا زین کا تعدارششن مل اسے ون 
نیس آیا دیں س ےکم نہ ہو ق اسے چا نے کہ رونوں خوٹو ںکو مشش فرار رےنے 


سیل ۵۰۳ : اکر سی عور تکو جن یا ا سے زیادہ ونوں تک ایا خون آے جس میں جن کی 
علمامات ہوں اور اس کے بج دی ىا ال ے زیارہ ونوں تک ایا فون آئے جس میں اخحاضہ کی عاابات 
ہوں اور پھر اس کے بعد دوبارہ تن ون تک خیش کی علامات والا خون آئے و اس چا جے کہ بے اور 
آخری خو نکو نس می تی کی علات ہوں حیض قرار رے۔ 








توضیچالسائل_ ).7د13 ا 


مل ۵٥‏ : أآل کسی عور تکو خونع دس دنع سے لہ رک جائۓ اور اسے لقین ہوکہ اس کے 
ان مس خون میس نیں ہج تق اسے چا کہ عباوت کے ۔لیے تس لکرے کچ مان تی ہوکہ 
دی دن ہہرے ) ین سے پل اسے ودارہ ون آ جائے گا۔ لن اکر اسے من کہ دی دا پہرے 
ہونے سے پل اسے روبارہ نون آجاۓ گا نو پچھ رٹل نہکھرے۔ 


متیلہ ۵۰۵ ہنی عورت کا خون رس د نگزرنے سے پسلہ بنھ ہو جائے اور اس بات کا اغول 
کہ اس کے بالن میس غخون تی ہے تو :سے اب ےکہ اپی شردگاہ میں بھ روئی داش لکرے اور پھر 
پھ دس اننطا رکرنے کے بعد ہائے۔ یں اکر خون شتم ہ گیا ہو تو شس لکرے اور عبایت بچا لائے اور 
ین شحم نہ ہوٹے کی صورت میں ار دو تی کی مین عایت نہ کھتی ہو یا اس کی عایت دی دن کی 
ہو اسے چان کہ اتظارککرے اور مر دس دن سے پلہ خون شم ہو جا فو فس لکرے اور گر 
د۔یں دن کے ات پر خون آنا حم ہو ما خون دس دن کے بعد بھی آنا رہے ق وسویں ون شس لکھرے 
اور گر اس کی عایت دس زنوں س ےک مکی ہو اور دہ جانتی ہوکہ دس دن شتم ہونے سے پل پا رسویی 
ین کے غاتے پر خون خم ہو جائۓ مگ اسے تسل می ںکرنا چاے اور آگمر اس بات کا ال ہوکہ خون 
دس دن کے بعد بھی آے گا اسے چاہی کہ ایک دن کے لیے ارت تر کفکرے اور بعد میس ہے جات 
جےکہ اتحاہ کے اکام بر عم لکرے اور اعقاط یہ ہب ےکہ دسویں دن کک دہ تام چڑریں تر کگکرے جو 
عاش کے لیے انیام دینا جائز غمیں اور تحاضہ کے طائف کے مطابلق عم لکرے اور ہہ عم اس 
عورت کے لیے مخصوص ہے ضے عایت سے پل انار خون نمیں آ] تھا ورنہ حعار تگزرتے کے بعر 
عباات ت فکرنا جات خنھیں ہے۔ 

مستلہ ۵*۹ ؟ اگ رکوتی عورت چند دنو ںکو تیض ترار رے اور عبارت نز کرے لان بعد میں اے 
پت پچ کہ یس نمی تھا اسے چا ےکہ جو نمازیں اور روزے دہ ان دنوں مم جا میں لائی ا نکی 
تقناکرے اور اکر چند دن اس خیال سے عبادات بھالاتی رىی ہوکہ یس نیس ہے اور بعد میں اسے پیت 
پچ کہ یل ھا اور امہ فان دنوں میں اس نے روزے بھی کے وس تق ان کی ققاکھرے۔ 





ترَهالسائل : _١.._‏ 3138ا 


نفاس 


مل ے۵ : چے کا پا جزدماں کے جیٹں سے باہ ر آنے کے وقت سے جو خون ور تکو آتے 

مر وو رس ون سے لے ا وو دن کے نغاتھے پ شر ہو جات فو وہ خون نقای سے اور نٹ کی عالمت 
7 5 یں 1 اور تال 

می عور تکو مفماء کت ہیں۔ 

مل ۵۸ ٠‏ جو خون عور تکو چئے کا پلا جزو باہرآنے سے پطہ آئے دہ ناس ہے۔ 

متلہ ۵*۹ ذ پ ضردری می ںکہ جئے کی خلقت کل ہو چکمہ اکر اس کی خلقت نال بھی ہو 

جب بھی اگمر اے "بیہ جننا'کھا جا کت ہو تو وہ خون جو عورت کو وس دن تک آئے کا نفاس ہوگا۔ 

مل ۵۴ھ : ہہ ہو سکنما ہےککہ خون نفاس ایک لہ سے زیارہ بدت تک نہ آتے لکن وو دی رن 

ہے زیادہ ٹیں ٢]۔‏ 

مل ۵۱ ذ اگ رکوئی عورت فح ککر ےک کوئی جن ستط ہوکی بے پا یس پا ى کہ جو تر سقط ہو لی 

سے رہپ تھا پا نمیں و اس کے لیے خی قکرنا ضردری نمی کور جو خون ! سے آآئے وہ شرعا“ مفای 

یں ے۔ 

مل ۵۲ : سیر میں نھرا اور دوسرے افعال جو حائض بر عرام ہیں بابر انقاط اضماء بہ بھی مرام 

ہس اور جو کچھ عائنش بر واب سے دہ فساء پر بھی واہنب جے۔ 

لہ ٠ ۵٣۳‏ جو عورت ملا کی عالت میں ہو اس طلاتی رینا اور اس ۔ جھا کرنا حرام لے 

ٹن اکر اس کا شوہراں سے جھ عکرے فو اس کے لی ےکفارہ ضردری کئیں۔ 

لہ ۵۴ ٠‏ جب عورت خون فقاس سے پاک ہو جائۓے اسے چا ےکہ خشم لکرے اور عبادات 

با لائۓ اور اکر اسے روبارہ خون کے نے اکر جن رنوں میں اسے خون 2 سے اور درمیاز کی دن جن ٹل وہ : 


کئ ضب سیت زس تر 02 ۷ن ا ان ون 
جب دہ اگ تھی اس نے روزہ بھی دکھا ہو نے ضردری ہ کہ ا کی تق اکرے۔ 





ترئ‌لسائت رےےژے اەددا 


متلہ ۵۵ ٠‏ ار عورت خون ناس سے پاک ہو جائے اور اعقال اس جات کا ہوکہ اس کے پان 
میں نین یں ے آڑاے اج ےک یھ ردلی ای شرمکاو مر یش داخ لکمرے گور پکھھ وم انا رکرمے پھر 
آر وہ پک ہو او عہادات کے لیے کر 


منلہ ۵٦‏ ؟ ار عور تکو خون ناس دس دن سے زیادہ آے اور وہ تی میں عارت رھت ہو ت 
عایت کہ برابر دفو لکی یرت نفاس اور بائی اتحاضہ ہے اور اکر عاوت شہ رکھتی ہو تو اپنے کن کی ورآل 
گی اوت کے برابر مرت کاخھاں قرار رے ار.. دس ون تک ایا طکرے اور اعقیاط جب ہہ ہہ ےکہ جو 
عورت عایت رکھتی ہو وہ عایت کے بعد کے دن سے اور جو عاوت شہ گھتی ہو وہ وسوی ون کے پور 
سے ےکی پدائش کے انماردیں دن تک استماضہ کے افعال ہیا لاے اور وہ کام جو ففماء پر عرام ہیں 
ا رف وت 

مستلہ مے۵ ؟ ا ری ایی عور ت کو جس کے خی کی عایت دس دن سےککم جو اپی عایت سے 
زیادہ دن خون آئے تاس جا کہ اپتی عادت کے ونوں کے تقر نقاں قرار دے اور اس کے پعر ای 
بس واہب سی ےکہ ایگ ون عبارت تر ککرے اور اس کے بعد جائڑ ےک سفضہ کے اعظام پر گل 
کرمے یا ہ کہ دس دن تک عبایت تر ککرے۔ اور لگکر ٹون دس دن کے بعد بھی آنا رے تو اے 
چا کہ عارت کے راوں کے بعد وسویں رن تک بھی استحاضہ ترار دے اور جو عہارات وہ ان رثوں مل 
جا نیس لائی ا نکی قناکرے۔ لا نس عور تکی عایت بچھ در نکی ہد مر اسے چھ دن سے زیادہ خون 
آے فو اسے چاپنے کہ جھ دن کو ففاس قرار رے اور ساقیں دن بھی عبایت تر ککرے اور آٹھویں* 
نویں اوز رسویں ون اسے اختار کہ با قر عبات تر کفکرے پیا اتحاہ کے افعال بھالائے اور ار 
اسے دی دن سے زیادہ خون آیا ہو فو ا کی عادرت کے بعد کے ون سے وہ اتیاضہ مور ہوگال 


مہ ۵۸ ٠‏ اکر اک ابی عور تکو جو می میں عارت رکھتی ہو بچہ جخنہ کے بعد ایک مین تک 
ا ایک مینےہ سے زیارہ ممیت تک ابر خون آنا رہے و ا ںکی عایت کے رنوں کے پنرر وہ خون تما 
ہے اہر جو ون نفاس کے بعد دس دن تک آتے خواہ دہ ا یکی ابانہ عایت کے دنوں میں آیا ہو اشاضہ 

ے۔ شا ایک ابی عورت ن کی نی کی عارت ہر مھی کی ہیں نارق سے ستائیں تارںن کک ہو گر 
ہو مین کی دس نر کو بپہ جے اور ایک مین یا اس سے زیارہ مرت گک اسے متوات خون آے تر 








ترسیعافضائل ۱ ).1401ا 


ععترعیں تار کک ناس اور نزعویں تارج سے دی رت تک کا خون مم کہ وہ نون بھی جو میں نان 
سے سناس ران تک ا کی عادبت کے رنوں میں آیا سے استخاضہ ہوگا اور وس دا نںگمزرنے کے بعد تو 
نے ا حتف ار ا و کن کے میق لی علدات ہوں یا نہ 
ہویں۔ اور اکر وہ خون ال کی ارت کے کے وفنوں میں نہ ہآ لیکن خی شک علادات ررکتا ہو تو اس کے لیے 
بھی بی عم سے الہ مر دہ خون جو اسے نھای سے دس و نگزرنے کے بعد آئے ا کی ہی شک 
جاوت کے ایام میں نہ ہو اور خی کی علامات بھی نہ رکتا ہو فڑ اتمائہ ہہ 

ستتلہ ۵۹ ٠‏ اگر ایک اڑی عور تکو جو تیض میں عدد کے فحاظ سے عادت شر تق ہو بی بن کے 
بعد ایک میے تک با ایک میے نے زیادہ عدت تک غون آے تر اس کے پل دی وفوں کے لی وی 
تم سے جس کا کر چپکا ہے کور دفو ںکی ددسری دای مم جو خون آئے دہ اتمامہ سے اور جو خون اسے 
اس کے بعد آے اکر اس میں تی کی علابات ہوں یا ا ںکی عایت کے وقت آیا ہو پر می ہے ورتہ 


وہ بھی اخماض ے۔ 
مل ص میت 


متلہ ٭ ن۵ ۰ نگ رکوئی مخ س کی ایے مردہ انسان کے بر نکو م سںکرے جو ما ہو چا ہو اور 
یے تل نہ دیا میا ہو یی اپے بن کاکوتی حصہ اس سے لے تر ا چان کہ تس مس میت 
کرے فا اس نے نین کی عالت میں مردے کا بدن مس کیا ہو با بیدادیٰ ک عالم یش اور خواہ اپٹی 
مرضی سے سکیا ہو خواہ ہے اغتیاری کے عالم میس کہ اس کا ناشن ىا ڈڑی مردے کے ناشن ىا کی 
سے بچھو جائۓ تب بھی ا نٹ تق 
واب میں ے۔ 

مل ۵۳۱ ۓ اگ رکوئی منس اپنے پل مررے کے بدن سے لگائے یا چا دن مررے کے پلون سنہ 
گائے ا پے پل مہوے کے پاوں سے ا لور پل اچھے لے ہو کہ رف عم یں مس یت تا 
اس بر صادق نہ آے تاس عخصس پر عسل وجب تی ے۔ 

مسلہ ۵۲٢‏ : جس مررے کا تمام بدن مھٹرا نہ ہوا ہو اسے پچھونے سے فسل واجب میں ہوا 








ترمیواامقائل ےہ ) حفد ]ا 


خواو اس کے پرن کا جو <صہ پچوا ہو وہ ممٹرا ہو چا ہو۔ 


مستلہ ۵۳۳ ٠‏ مردہ چے کو چھونے بر ت کہ ایے سقط شدہ چےکو چھونے پر نس کے مار مین 
کل ہو بے ہوں شسل مس میت واجعب ہے۔ اس بنا یر گر جار مینے کا مردہ پچہ پا ہوا ہو اور ا کا 
بین ممعٹرا ہو چکا ہو اور دہ ماں کے بدن کے ماہریی جی کو چھو جاے نے بل یکو چا نےکہ صلی مس میت 


7 
رے۔ 


متلہ ۵۴ ۔ جز پہ میں کے مرجانے اور اس کا رن مرا ہو جانے کے بعد پا ہوا ہو گر وہ 
بں کے بدن کے نماہری جح کو مس ککرے تر اس بر واعب ےک جب پالغ ہو شسل مس میت 
7 ٰ 

مسنلہ ۵۲٣۵‏ : أ رکون حخصس ایک ای می کو مس کرے ہے تین تسل کمل طور پر وے جا 
کی ہوں تو اس پر تل واجب تم س ہو]۔ مان گر وہ حا تل کل ہونے سے لہ اس کے بن 
و ا تر ا لک رت تح بن نک نے من 


7: 


بت ہرےٌ۔ 

مل ۵۲۷ ڈ اگ رکوئی دیوان یا لغ یہ می تکو میس کرے تر دیوان ےکو عافل ہونے یا چےکو پان 

ہو نے کے بعد چاسن کہ ٥ل‏ مس می تکرے۔ 

متلہ ے۵۲ : آ کی زندہ فیس ہے بدنع سے ابی امے مردے کے برن سے ضصے مل ش 

دیا نلیا ہو ایک ایا حصہ بدا :و جائۓے نس میں بی و اور اس سے ششتر کے جدا شدہ حص کول وا 

جا ےکوئی شخس اے ا ےک جا مص می تکرے لین جو حصہ بدا ہوا ہو گر 

اس می پڈی نہ ہو قر اے م ںکرنے پر نل واجب یس سج 

ْ۔ کی رر : ۳ خ 

مل ۵۲۸ : ایک اڑسی بڈی کے م سککرنے سے جس برگوشت طہ ہو اور نے کل د با گیا 

27 ۰ 7 8 7ْ 

۱ وا وہ مررے کے بدن سے بدا ہوگی ہو یا زندہ تخس کے بدن سے بنابر اعقیاط واجب کل وانب ‏ 

اور دانت خوام وو مروت کے دن سے جدا ہوۓے ہوں پا زندہ تخس کے بدن سے ان بر تل واجب 


ہیں 





ترضیحالعسائل .1 2 


مل 9 تس مس میت کا طریقہ ددی ہے ج مل جنات کا سے لک جس مس نے میں 
کو م سکیا ہو اکر وہ ماز پڑھنا اہ ت اقیلط تخب ہہ ہ ےکم وضو بج یکرے_۔ 

تہ ۵۳٣‏ :اگ رکوئی خ سک ایک مین ں کو مس کرے پا الیک می تک کی ار م ص کرے ت 
لیک تس کل ے۔ 

سمل ۵۳۱ : جس نس نے می کو م سکرنے کے بعد قسل نکیا ہو ای کے لیے سرمیں 
ٹھرنا اور دی سے بماخغ کرنا اور ان آیات کا پڑھنا جن میں سبرہ واجب سے منوغ نہیں سے لیکن نماز 
اور اس سے لے جلتے افعیل کے لیے اسے تس لکرن چایے۔ 


مل ۳ ج مان محنصہ ہو نی جا نکی کی عالت مس ہو خواہ دہ مرد ہو یا عورت بڑا 
ہو نا پچھوٹا اسے ایا ط کی بنا یر اصورت ت امکان پشت کے مل میں انان اہ کہ اس کے پاؤں کے تکاوے 
قیل کی طرف ہوں۔ 

مہ ۵۳۳ ٠‏ او ىہ ہ کہ جب تک میت کا تل عمل یہ ہو اسے بھی ردب قہلہ لنائیں 
ین جب اس کاتسل کمل ہو جائۓ تر بھٹرے ہے کہ ١‏ سے اس حاات میں لٹامیں نس میں اس پر خماز 
(شنی نماز جنازو) بح جتے وقت لٹائے ہیں۔ 

مہ ۵۳٣‏ : جو ٹس جن کی کی حاات می ہو اسے ابر اخقلط رورذ لہ لناتا پر مسلمان پر 
داب ہے اور اس کے دی سے اجازت لیا اوط ے۔ 

سیل ۵ھ جن نین اع کی کی تن ایت شیااشین اور پارہ اماسوں سے اترار اور 
ددمرے دی خنقائ کی تکقین اس حکرناکہ وہ جھ لے داب ہے اود ال کی موت کے وت تا ' 
ان یو ں کی گرا رکرنا مب ے۔ 


مل ۵۳٣۷‏ : قب ہے کہ جو حخص جان کی کی عاات میں ہو اسے م یددجہ ڈیی دعاکی ای 









توضیم‌المسائلَ ( حفد" ا 


طخ ین کی مان ےکور سے نف 
”اللھم اغفر لی الکثیر من معاسیک واقبں منی الیسیر من طاعتگ یا من 
یقبں الیسیر ویمفو عن الکثیر اقیں منی الیسیر واعف عنی الکثٹیر انک انت السٹو 
الو اس اھ تپ اس کے علادہ ککمات فرم لااله الاالل الکریم الات 
کی من یں 


مل ۓ ٣۳ن‏ ڈ کیاکی جن بی سے یل ری ہو قز گر اسے ملیف نہ ہو نز اے اس مہ لے 


جانا جماں دہ نماز پڑ اکر تھا س جب ے۔ 


متلہ ۳۸ھ : جو شس جا نکی کے عالم یں ہو ا کی آسالی کے لیے (شنی اس مقصر ےک 
انس کی جان آسالی سے نل جاتے ) اس کے سریانے سوزء شیشن سور صافات' سور) اقزاب' آیت 
نکی اور سور انراف کی ۴ھ ویں آیمت اور سور بق کی آخری جن تیات پڑھنا سب ہے بل 
قرآن ید جقتا بھی بڑھا جاک بڑھا جاۓ۔ ۱ 

مستلہ ۹ھ ٠‏ جو نس بن کی گنی کے عاکم میں ہو اسے تما چھوڑنا او رکوئی جنززاس کے پیٹ پر رکھنا 
اور جنب اور جائش کا ای کے قریب ہوا اور ای طرحع اس کے پا زیادہ پاتل کرنا اور بروا اور ؛ 
ارزان لان کاان فراای رب 


رت کے کے ام 


مل ٭۰ تخب کہ نے کے بعد می کی ہج ھھیں اور ہونٹ بن رکر دیے جایں اور 
ا لکی ٹھوڑ یکو باندھ دا جا اور ال کے پا اور پاؤں سید ھ ےکر دے جاھیں اور اس کے او پڑا 
ڈال دا جائے۔ اور آر موت رات کو واج ہو تر متعاقہ اشفا یکو پا ےکہ جماں صوت وائع ہوئی ہو 
دہاں جراخ جلئمیں اور جنازے میں شرکت کے لیے موی نکو اطلاغ ریں اور می کو رآ یکرنے میس 
جلد یکریں لیکن اکر اس خصس کے مرے کا مقر نہ ہو ف انظا رکریں کہ صورت عال دض ہو جائے 
علاوہ ازیں ار میت عللٌ ہو اور یہ ام کے جیٹ میں زندہ ہو تے بات کہ وف نی کرنے میں اتا توتفک 








تویح‌المسائل ۱ ۱ ۱ 244ا 


کری یکہ اس کا بایاں پھلو چا گکر کے پچ باہ رکال یش اور ب ایس پلوکوی ریں۔ 
زی تل ک لفن افا وف ن فا اش کون 


مل ۵۲۳1۱ کسی ملن کا تس ل“کین' ماز میت اور دنن خواہ وہ ااکشری شیعہ نہ بھی ہو پر 
مکلفے لیے واجب سے اور ار پھ لوگ ان ککاموں کا رامجام دلے یں فو ددمروں پر سے وتوپ 
ساقط ہو جا سے لیکن اگ رکوکی بھی ان داجیا تکو اوان کرے فو بھ یناہ گار ہوں گے۔ 


مستلہ ۵۴ .اگ رکوئی مخصس مت سے مععلقہ کاموں میں سشغول ہو جائۓ و دوسروں کے لیے 
ا پارے می ںکوئی اقرا مکرنا واجعب یں لین اکر ان کامو کو ارگورا پچھوڑ رے پو وو مرو ںکو چاۓے 
کہ انی پا یل کک پشئتیں۔ ۱ 

ستلہ ۳ ن۵ ٠‏ .ہگ رکی مخ سو نقین ہک ہکوئی دوسرا میت کے کاموں میں مشغول ہے تر ان پر 
واجب ممی ںکہ عیت کے کاموں کے بارے میں اقزام کرے لیکن اکر اسے محض کرک یا مان ہو تر 
چاجےگہ انا مکرے۔ 

متلہ م ن۵ ٠‏ اگ ر کی حخ سکو لقن ہوکہ میت کاٹس ماکفن ما نماز یا دشن خلط طرییقہ سے 
تل میں لیاگیا سے و امن جچاجے کہ ان کامو ں کو روبارہ انام ردے یکن گر اے ال ہوئے کا 
ْ گان ہو (ثشنی نین نہ ہو) یا کک ہوکہ درست تھا با یں فو پچھراس بارے می ںکوگی ادا مکرنا ضردری 
ییں۔ 

مل ۵٥ھ‏ >ً انقا کی بنا بر میت کے تل کفی' ماز اور وشن کے لئے اس کے وی سے 
الجازت لے لئی چاکے- 





مل ۵۹ : عورت کا وی اس کا شوہر سے اور اس کے بعد وہ مرد جو ممیت کے وارث وی ایی 
کی وارث عوروں ے مقدم ںےم 

منلہ ے۵ ؟: ا رکوتی خخصس کہ میں حیت کا وصی ما وی ہوں پیا عیت کے وی نے تھے 
اازت دی سس ےکہ میت کے شسل مکغن اور وف یکو اخیام رویں اور اس کے نے سے :ظمینان حانصل ہو 





[_ 145ا 


وکح سال تیر ری 


جاے پا میت ای کے تصرف میس ہو یا دو عاول شف سگواہی ری ںکمہ ہہ شف ٹھی ککسہ ریا سے فو ایی کے 
سک ٹکو تو کر ہنا چا جے۔ 

سیل ۸ھ ٠‏ گر رن وا اہج تس کن“ رن او ما کے لیے اۓ ولی کے عادو کسی اور 
کو مقر رکھرے فو ان اصو رکی ولانیت ای مس ےزین ہے اور وروی کی کین ش سک 
مرنے وائے نے مہ کلم انام دپے کے لیے مقر رکیا ہو وہ اس وعیس کو قد لکھرے۔ نین لکم. تو گکر 
نے تو چا کہ اں برع لکرے۔ 


مستلہ ۳۹ن ذ می کو تن نل ریے وجب ہیں۔ پل ائیے پالی سے جس می دی می ہولی جھ 


ان دی کے 2 ہوے ہوں) دوسا لیے نی سے جس میں کافور ا برا ہو اور تسا خال پالی 





مل ۵۰ھ یی اور تالور یہ ان پور زیارہ ہونے پان لکہ پا کو مضا ف گر فی اور انل 
قد رم ہو ںکہ یہ کھا جا سی کہ ہی او رکافود اس پالی یش ملائے گے ہیں۔ 

سنہ ۵۵۱ ؟ گر بی اور مور اتی مقدار میس مل عیں ششٹ یکلہ ضردری ست ‏ جتابر اعتیاط 
صقب شی مقدار مسر ہے پالی بیس ڈال دی جاے۔ 

سیل ٢۵ن‏ :اگ رکوتی خخس ادا مکی ات نین مز جاے و ا نوز لیے لیت شس نین 
رینا پا۔ننے جگمہ ا کی ہجاے خاا پل سے دنا چا ہین لین مر دہج کے اترام ہیں ہو اور سی مم کر 
32 ہو ڑاں صورت ٹل کافور زائے پالی سے مسصل دتا چات۔ 

ستلہ ۵۵۳ ٠‏ اگ یی اور فور یا ان می ںکوئی ایک دہ مل گے پا اس کا استعل انز یہ ہو خلا 
ا ا ول ا ا ان میں سے ہراس چنرکی ہیاۓ جس کا من محکشن نہ ہو ہنا انقیاط سی ت کو 
خاص بانی سے شسل دا جاۓ اور جع بھ یکرایا جاے- 


مل ۵۳ھ یھ شس می کو یی رے اس تحیعہ اتا ری "سلمان اور پالم اور عانل ہو 





۱.2346 ١. 








نوضیح‌العسائل : 


4 ون ۰ 


چا اور تل کے سائل سے ذاقف ہو چایے لین اکر غیرلاکٹری صلما نکی یت ہکو اس کا اپ ہم 

رب اپن مہب کے مطابق تسل رے تو موم اائکٹری سے زمہ داری ساط ہو جال ے۔ 

مہ ۵۵۵ ٠‏ جھ منص کسل رے اسے اہ کہ قرہ ت کی میت رکتا ہو لن الہ قالی کے ران 

کی جھا آدابری کے لیے خسل رے۔ 

مل ۷ ۔ مان کے چےکو خواہ دہ یلد ائنا بی کروں نہ ہو کل دینا واجب ہے اور کافر اور 

ا کی اولاو کا ٠ل‏ “کت اور وشن جائز ٹمیں سے اور 0 شس کین سے دواد ہو اور دی گی کی حعالت 

می می بل ہو جات اگمر وہ اعلام کے تعھم مم ہو تو اسے تسل دینا چاہے۔ 

مل ے۵۵ ڈ آلر لک بچہ ار نے یا اس سے زیادہ کا ہو کر صاقو ہو جائۓ تر اسے شسل وی 

چان اور اکر چار مین ےکم کا وو ت اق کی ما بر اس ےکپڑے میں وی کر بن ٹسل رہے رف یکر ینا 

جاجے۔ 

مل ۸ مد کا عور کو اور عوت کا م کو سل وینا حرام ہے لیکن وی اپ شوہ رک 

تل دے عق ہے اور شوہ بھی اپی بیو کو نل رے ما ہے اگرچ تب یہ ہ کہ یوکی اپ 

شوہ رکو اور و ہرانی بیوب یکو عاات اخقیار میں گل نہ ورے۔ 

مس 0۹4 مد اس لڑ یکو تل دے متا ہے ج سک میں مال سے زیادہ ‏ ہو اور 

عورت بھی اس لک ےکو ٹسل دسے عق بے ج کی عم تین سال سے زیاوہ تہ ہو۔ 

مل ٭ہ+ن کہ دی می ت کو ٹسل رنے کے لیے مودض می کے تو عورتیں جو اس کی 

قرامت وار اور حم ہوں لا میں' بن پچھو ھی اور الہ با وہ رٹ جو دددھ پٹ یا تھا کے جب ے 

: ا یکی رم ہو گنی ہو ںکپپڑے باکی ار چی کے یئ سے بس سے اس کابدن ڈ مک جائے سے ضضل 
دنے عق ہیں اور ای رح اکر عور تک می تکوتتسل سے کے لی ہکوئی اور عورت نہ ہو جو مرو 
اس کے قرات داد عرم ہوں یا دندھ پے یا اح کے جب سے اس کے رم ہو مئے ہوں اسے لا َ 


کے یچ سے عسل دسے تت ہیں۔ 


ملہ ۵۹۷ ؛ کر مبیت اور جو گنیس اسے مل دے دوفوں مرد ہوں یا دنیں عورتیں ہوں او بمتر 





توضیڈ‌التفائل _ )ا جفودہا 


یہ ےکیہ شرم گاو کے علاوہ سیت کا بالی بد برہنہ ہو۔ 


سیل ۵۷۲ ٠‏ می کی شرمگاہ بر ظط ڈالنا ترام ہے اور جو شس اسے تل درے راہو اگ ای پر 
بظھرڈالے گنگ ہے لان اس سے خسل باٹل نمی ہوج۔ 

تہ ۵٦۳۴‏ ؟ ار میت کے برن کاکوئی حصہ فس ہو تو اط کی بنا بر ٹل رسینے ست پل اس 
جح کو رہ وک پا ک کر ینا چاپنے ادر اولی ہہ ہے کہ تل شروغ کرنے سے پھلہ میت ک ام دن ہاگ 
کو 

مہہ ۵۹۴ 2 تل می تضسل جناب کی طرح ہے اور اعقیاط واجب ہہ ہے کہ جب می ت کو 
تی دنا غکن ہو ضل ارقای نہ دا جائے اور ٹسل تثق میں بھی ضردری ہ ےک دای طرف 
کو پائیس طرف سے ۴ پیل دہویا جاۓ اور اگر من ہو تو اتاط سخ ب کی بنا بر بن کے میں ممرں ڈٍں 
سے کیج کو لی می نہ وبویا جاے گ پالی ال کے اویر ژالا ج٤‏ 


مسلہ ۵٦ھ‏ :جو فرر نیس یا ناب تکی عالت میں مرجائے اسے ضس حیض یا فسل جنابت ریا 
ضوری یں سے مہ صرف تل میت اس کے لیے کانی ہے۔ 

متلہ |۵٦۷‏ می ت کو ٹل ری ےکی اجرت لینا عرام ہے اور اگ رکوئی نس اجرت حا ل کرنے 
ہے نے می ت کو خضمل رے تو وہ ضحلں باعل سے لین نس ل کی عیاری کے ماموں کے لیے اجرت لینا 
رام ین ےت 

مستلہ ےھ : مر لی سرنہ ہو یا اس کے استعال می ںکوئی امراع ہو تو ہر ننس کے پرنے 
یی تکو ایک دو اٛا جا اور اط واب تہ ہی ےکہ تو فسطیں کے پدنے اک اور چھم چھ یک ایا 
ہائے اور جھ شس کچھ کرا رہا ہوں وہ ان" سر سے آک ای الزء نی ثبیت کرے مین م بت 
۴+708 تروس تکلیف شمریی کو با لاے گے کرا رہا ہوں تو بھ پر واجہب بت ت7 بج چو تھے 
یھ کی ضردرت نی ہے۔ 

مہ ۵۹۸ ٠‏ جو مخصس می کر مک مکرارا ہو اسے اج نےکہ اپنے بات زین پر مارے اور ممیت 
کے چرے اور پاتھو ںکی بشت بر بچھیرے اور امقیاط واجب ہہ ہ ےک اکر ممکن ہو تو می کو ایس کے 








مستلہ ۹اش ؟ سزین می کو تج یکیڑوں کا کفن دینا چا نے جنممیں لن ک “کرت اور چاو رکا جا 


مل "٠ھ‏ : تک اس طرح ہ وکہ جاف سے گھٹوں کک بر نکی اعطرا فکو ڈحانپ لے اور مم 
کہ جے سے پاؤں کک پیے او ر کرت ما ران ایا ہوک ہکندعوں کے سریں سے آدمی پڈیوں 
تک نام بر ن کو ڈھاضنے اور ریہ سج کہ پال تک نے ادد چا ری ۳۳ اتی ہولی چان ۓکہ میت ےک 
پان اور ری طرف ےا اوئیے یں اور اں کی چو اتی اتی ہولی ہاۓ کہ ای کا ایک ک ار 
دو سر ےکنارے پر آگے۔ 
۵ مل ے۵ ڈۂثکا؟ تی مقدار جو ناف سے گفتوں تک کے جح کو ڈھانپ لے اور گرتے ىإ 
ران کی ائی مقدار تو کآندے ے آسف پڑل تل ڑھاپ لہ فی کے لیے راب سے اور ال 
مقدار سے زیاود جو کچھ صابقہ مللے میں ایا سے وہ کغ ن کی سب مقرار ےد 
مل ھا ج گر می کے وارث پا ہوں اور اجازت وی یگہ تمفن واہپ سے زا تر (اض کا 
کر سابقہ مہ میں ہو چکا بب ) ان کے جح سے نے لیا جاۓ نز کوگی رح نمیں اور اقاط واداب سے 
ب ےکہ واجب مقدار سے زائم رکف ان وارنو ں کی جح سے نہ لیا جا جو بالغ نہ ہوئے ہوں۔ 
مل ےن مر سی مخس نے رصی تی ہو کہ صخحب کف نکی مقدار نس کا اکر دو سابقہ 
منائکی می آپکا ہے اس کے تا بل سےکی جائے یا یہ دعی کی ہو کہ ا کا ائی مل خود ای پہ 
خر کیا جاۓ لیکن اس کے مصرف کانتین نکیا ہو یا عرف اس کے ہچھھ حہ کے مصرف کا ای نکیا ہو 
ىر صت بکفین اس کے قحائی ای سے لیا جاسکنا ے۔ . 
لہ ٢ےن‏ ۔ ٠ر‏ مرنے وائے نے ہہ وصیت نکی ہوک کفن اس کے قمائی مال سے لیا جاۓ 
اور متحاقہ اشخای چایں کہ ا کی ال مال سے یں و اشاط واآپ سے ہج کہ وادب گفن میت ۲ 








توضیعالەسائل________. ل قتت ا 


یت تا ففاط رھت ہو ےے جریں تف محان ہو ستی سے سستی قبت بر حاص لکیا جائے اگہ ر دارڈں شش 

سے وہ لوگ جو بالغ ہوں اجازت می یکلہ ان کے صھے سے لیا جائے تو * یی طد تک وہ اجازت وس ان 

کے جح سے لیا جاسکتا ے۔ 

مل ے ےن۵ ٠‏ عورت کے تف نکی زمہ داری شوہر بر سے خواہ عورت انا مل بھی رکھقی ہو۔ ای 

طخ اکر عور کو ان شُرائیا کے مطابق ج نکی تنسیل طلاق کے ایام میس آ گی طلاق یا 

ہو اور عرت تم ہونے سے پیل مرجاے شوہ کے لیے لازم ہ ےکہ اس کخم ھی رے۔ اور الہ شر ہر باغ 

نہ ہو پا داوانہ ہو نز شوہر کے و یکو نا کہ اس کے مل سے عور تک وکفن رے۔ 

تل ۹ےن۵ کرمیت کر کفی دینا اس کے قرابت داروں پر واجب میں گگو اس کی زندگی مل 

اقراجات ک یکفالت ان پر واجب ری ہو۔ 

مہ سے۵ ٠‏ واجب ہہ ےک سفن کے تو ںکپڑوں میں سے سوکی بھی انتا باریک نہ ہو کہ 

میت کا بدن اس کے یج سے نظ آئے۔ 

مل ۸ےھ ٠‏ مردا رک یکمال یا خص بک ہولی جنکاکفن دینا خواہ کوئی دوسریی چز مسر نہ بھی ہھ 

جائز میں یں اکر میت کا کفن عصہی ہو اور اس کا مالک راضی نہ ہو تق راو بی تک رشن بھ کیا جا چنا 

نو کی این رج ین :بت انا لت ما کت 

مستلہ ۹ےن :می کو خس چز یا خالنص رنٹ یکپڑے کاکفن دینافنس میں زردوزی کاکا مکیاکیا ہو ۰ 
جانز خیں لیکن بجبور ی کی عالت می ںکوکی حع نئیں۔ 

مل ۸۰ھ کی اۓے کپڑے کاکشن دینا جو ای عانورکی اون اور پالوں سے تا رک امیا ہو خ کا 
گوش تکھانا خرام تت یا ای جفو رک یکول سے بتااعگیا ہو ٹس کامگوش تکھانا علال سے انقیار کی عاللت 
میں جانز خیں لین کر لفن عطا لگوشت جافور کے پالوں اور اون کا ہو کوئی حرج نمی اگرچہ اعقاط 
پت ے ا ان ہونوں چیڑیں کاکفنن بھی لہ دا جات 

مستلہ ۵۸۷۳ ج کر میت کاکفن ا سکی ابی خجامت یاکسی دوسری خجاست سے خجس ہو جاے اور 
مر ایا کرنۓ سے کفن ضائع ن ہو ہو تو چا ےک جقنا حصہ خجس ہو اسے دو ڈاٰیس یا کاٹ ای خواہ 


س--جےممتمححنعحسےددصحعو تک پٹجککگکتھ 





توضیح‌المسائل ا۷ مما] 


می کو قبرمیں ب یکیوں نہ انارا جا پکا ہو۔ اور گر اس کا دھونایا کان کن نہ ہو لان برل دینا تمکن ہو تٍ 
جا کہ بدل ہیں۔ 

مل ۷۳ . آ رکوئ امیا خخفصس مرجائۓ جس نے سر یا عھرے کا احرام باندھ درکھا ہو اسے 
دو سر کی مر کفن پہنانا چا اور اس کا سراور چرو ڈھانپ سے ج سکوئی ھرع خمیں۔ 

مہ ۵۸۳ ٠‏ انان کے لیے انی زندگی ‏ سکفن ہیی او رکا رکا تیار رکنا سب ہے۔ 


وط کے احکام 


مستلہ ۵۸۴ ٠‏ شل رنے کے بعد واجب بے کہ معیت کا حوط کیا جائے لینی اس کی شال“ 
رونوں خیلیوں دونوں کھٹتوں اور ررژں پاوں یا او ھموں بر کالور ا جاۓ اور جب 2 ہي ےکم میت 
گی ناک بر بھی کافور ما جا اور کافور پیا ہوا اور ىازہ ہونا اہ ۔اور ار پرانا ہونے کی وجہ سے اس کا 
عطر زائل ہوگیا ہو ت کائی مھیں۔ 

مہ ۵۸۵ ذ٠‏ اقاط وادب ہہ ہےکہ کور لہ می تکی بیشائی بر مل جاتے لکن دوصرے مقلات 
نے ین یپ ضردری نییں۔ 

مہ ۵۸۹ ؟ بھتریہ ہے کہ می ت کوکفن پہنانے سے پیل خوط کیا جاے۔ اكمرچہ کخن پہنانے 
کے دوران میں یا اس کے بعد بھ یکوتی حرج نمیں ہے۔ 

مل ے۵۸ : اگ رکوئی اییا ٹس مرجائے جس نے رع یا عحرہ کے لیے اترام باندھ رکھ ہو نے اے 
وط کرنا جائز نمیں ماسوا ال ک ےکہ اعرام کی صورت میس سب یکرنے کے بعد مرے۔ 

متلہ ۸ھ کرچہ ایک اڑی عورت کے لیے جس کا شوہر م کیا ہو اور ابی اس کی عدت بای 
ہو خوضبو لگاا ترام ہے لگن اکر رو عورت مرجائے و اسے حو طکرنا واجب ہے۔ 

مل 9۹ ٭ً اعاط واجب ے کے عمیت کو ملک بر مور اور دوسری نوشبوکمیں لائی 
جانھیں اور اننیں کافور کے ساتھ بھی نہ ملا جاے۔ 


3 


واطتجوچسج 4وس کسپچپوپرچےجےجصحججہجہےے۔- 








تومیمالعتسائل_ ۔ [15_ا 


مسنیلہ *٭۵ ؟ نب سے کہ اک شفاکی پچھ مقدار کافور میں ملا لی جائۓ لیکن اس کافو کو ایت 
مفامات پر نیش لان چاجے جماں لانے سے بے اجزای ہو اور یہ بھی لازم بج لہ اک شفا اتی زیادہ نہ 
ہوکہ جب وو کافور کے ساتھھ مل جاۓ فو اسے کافور نہ کماجاگے۔ 








مستلہہ |۵8۲ ٠‏ ار کور رس کے ما فل تل کے لیے کانی ہو نز ہوا کرنا ضردری خیں اور گر 
ضس ل کی ضردرت سے زیادہ ہو مین اتا نہ ہوکہ سات اخضا کے لیے کائی ہو تو ایاط کی بنا بر چا کہ 
پچ نخان بر اور اس کے بعد اکر جائے تز دوسرے مقات پر ما جاۓ۔ 


تل ۵8۹۲ : ص تب ےک دو تو زہ گلڑیاں میت کے ساتھ قرمیں رکھی باتیں۔ 
فمازمیت کے ایام ٠‏ 


مل ۵۹۳ : ہر صلما نکی میت پر اور اریے ےکی میت بر جو اسلام کے ایام کے بت ہو اور 
پودرے بچھ سال کا ہو چکا ہو نماز بڑھنا راجب ے۔ 

مستلہ ۵۹۴ ٠‏ اک ای پچ ےکی میت پر جو چھ سال کان ہوا ہو رجاء کی غیت سے نماز پڑ جن مس 
کوئی مماندت نمی سے لیکن ای مج ےکی میت پ نماز پڑھنا جو مردہ پیا ہوا ہو تخب خیں۔ 

مسملہہ ۵۵ ١‏ می تک نماز سے شسل رییے“ حوطککرنے او رکفن پہنانے کے بعد بڑعنی جاجے 
اور ألر ان اور سے بک ان کے ووران میں بڑھی جائے تو ایی اکرن خواہ بھول چوک پا تہ سے لا 
مکی بنا بر دیکیوں نہ ہو انی ین ہےے۔ 

مستلہ ۵8۹ ٢‏ بج نس می تک از بنا اہن اس کے لیے ضردری می ںکہ اس نے وضو“ 
ٹسل یا جح کر رکھا ہو اور ای کا بدن اور کپای پاک ہو اور اکر اس کالباس خص بکردہ بی ہو ت کرت ی 
رع خہیں۔ اریہ بنٹریہ س ےکی ان قام چیزوں کا اط رھ جو دوسری نمازوں می لازئی ۓ۔ 

متتلہ ے۵۹ ۰ جو ہنس ماز سیت بڑھ رہ ہو اسے چا کہ رونقبلہ ؛ہ اور ہے گی واحب ے کہ 
می تک نماز بے ھن والے کے سان بشت کے مل موں لنایا جا ےکہ میت کا مس نماز پڑ جن والے کے 





توضیالمسائل___ ۱ . ل ع1ا 


دای طرف ہو اور پاؤں پإئمیں طرف ہوں۔ 

مستلہ ۵۹۸ ٠اا‏ کی متا بر چا نےکہ نس کہ ایک شف عی تک ناز پڑھے وہ غصبی نہ :و 
اور یہ بھی ضردری ہج کہ نماز پڑھ کی مجکہ میت کے مقام سے نی یا اویی نہ ہو لان معمولی بت یا 
ند ی مج ںکوئی حع نہیں۔ 

لہ 8 نز پڑ ھن وا ےکو چا ےکہ میت سے دور نہ ہو لیکن جو فنص نماز میت باجماعت 
پڑھ رہا ہو اگر وہ میت سے وور ہو ج بک مفیں باہم مل ہوں : کوئی رح نییں۔ 

مل ہے ماز پڑ نے دا ےکو چا ےکہ میت کے سان کھڑا ہو میشن آلر نماز پانماعت بھی 
جاے اور جماع ت کی صف میت کے دوئوں طرف سے گگزر جائے فو ان لوکو ںکی نماز میس جو میت کے 
سان نہ ہو ںکوئی اشکال نی سد 

مل ا٦٦ .٠‏ ابر اطاط میت اور نماز وت والے کے ورمیان پردہ یا داوار ا کائی اور لی چر 
یں ہونی چا جن مان اکر میت تبوت مس یا ای ىی کی اور جن جس رکھی ہو ندکوئی حرع نمیں۔ 
مہ ٠٠۰۲٢‏ ناز بڑتت وتت می کی شرم گل ڑکھی ہوئی ہونی چاجے اور لگمر ا کفن پہنانا 
مکن نہ ہو ضردری ہب ےکہ ا ںکی شر گا کو خواہ کلڑی یا ارینٹ ما اڑی ہی کسی اور یر سے کیوں تہ ہو 
ڑھانپ دیں۔ 

لہ ۳۳٭٦‏ ذ ناز می ککھڑے ہو کر اور قریت کی نیت سے پڑمعنی چایے اور نی تکرتے وقت 
می کو می نکر لینا جات ےک خلا حی تکرلی چان کہ میں اس میت پر قرتہ الی ابق نماز پڑھ ریا ہوں۔ 
مطے مہ رکوئی شف سکھڑے ہوکر نماز میت نہ بڑھ سکتا ہو تر بی ھکر یھ لے۔ 

مل ۵٭٠٭‏ : گر مرنے والے نے وصی کی ہ وک کوئی خصوص مخ ا سں کی نماز بڑھائے ت 
اعیالا جب ےی مت لے وہ شس میت کے ولی ے اہازت حا لکرے۔ 

متلہ ٦٦ذ‏ مبت پر کی وفیہ نماز پڑہناکردہ سے ہیں گر مت کسی صادب مم دتتی کی ہو ا 
گور اون سن ٠‏ 





توضیچالمسائل____ ا حیدا 


مل سے .اکر می کو جان بوچھ کر یا بحول چو کک دجہ سے باکی عذ ری من یر بر نماز 
پھے دن نکر دا جانے پا د٣‏ نکر دینے کے بعد پند کہ جو نما اس پر پڑھی جاچی ہے دہ پل ہے تو 
جب تک اس کا یدن پا پاش نہ ہو جائے داینب ہ ےکہ جن شرائا کانماز عیت کے سلسلے می دک رآپکا ‏ 
ہے ان کے ساتھ ا کی قرب از یھی جائے۔ 


فمازمی ت کا طراقہ 


متلہ ۰۸ ٠‏ می کی از می پا گیریں ہیں اکر ماز پڑ من والا خخنص منددجہ ول تیب کے 

ساتھ پا گبیریں کے تو عانی ہے۔ 

۵ ... ممیت کرنے اور بھی گر بسن کے پر کہ اشھد ان لاالە الااللَه واشھد ان 
محمد ا رسول الله 

0.. دو سی گیر کے بعد کے اللھم صلی علی محمد ول محمد 

... خیسری گر کے بعد کے اللھم اغفر للمومنین والمومنات 

2 چو تی گی رکے بعد اکر میت مرو ہو کے اللھم اغفر لھنا المیت 

 ...(‏ اور گر میت عورت ہو لڑ کے اللھم اغفر لھئەالمیت 

... سکس کے بعد پانچیں عیبر بڑھھ اور بھتریہ ےکہ بی گبیر کے بعد کے اشھد ان 
لاالے الاالل وحدہ لاشریحک لە واشھد ان محمدا غبدہ و رسولے ارسله 
بالحق بشیرا و نثیرا بین یدی الساعة 

ا ... اور روسری گبر کے بعد کے اللھم صلی علی محمد وآل محمد وہارگک 
علی محمد وآل محمد وارحم محیدا وال محمد کا فضل ما صلیت و 
بارکت و ترحمت علی ابراھیم وآل ابراھیم اک حمید مجید وصلی علی 
جمیع الانبیاء والمرسلین والشھناء والصدیقین وجمیع عباد الله 
الصالحین۔ ۱ 

(... اور خیری گر کے بعر کے اللھم اغغر للمؤمئین والمؤمنات والمسلمین 





ترَسیَالعسائل (ے54د_! 





والمسلمات الاحیاء منھم والاموات تابع الاھم بیننا و بینھم بالحیرات انگ 

محیب الدعوات انک علی گ شئی قایر۔ 

 ...‏ اور ئگر می مو ہو تر چوشی گر کے بر کے اللھم ان ھنا عبدک وابن 
عبلحک وابن امتک نزل بک وانت غیر منزول بە اللھم انا لا نعلم منە الا 
خیرا وانت اعلم بە منا اللھم ان گان محسنا فزدفی احسانہ وان کان مسیا 
فتجاوز عنه واغفرلء اللھم اجعله عندک فی اعلی علیین واخلف علی اهله 
فی الغابرین وارحمہ ب رحمتک یا ارحم الراحمین ۔ 

۹.... گور اں کے بعد ایی گر ڑے۔ ین ألم میت عورت ہو ڑ7 بوتی گر کے بعد 
کے اللھم ان هذہ امتک واہنة عبدک وابنة امتحگ نزلت بک وائٹ خیر 
منزول بے اللھم انا لا نعلم منھا الا خیرا وانت اعلم بھا منا اللھم ان انت 
محسنة فزدفی احسانھا وان کانت مسیة فتجاوز عنھا واغغر لھا اللھم 
اجملھا عندک فی اعلی علیین واغعلف علی اهلھا فی الغاہرین وارحمھا 
برحمتگ پا ارحم الراحصین اور ال کے بعد ایی گب ڑے۔ ۱ 

متلہ ۹۰۹ ۰ عمیریں اور رعایں کے بعد دیجرے اس طرح پڑھنی اگ یکہ نما ذ کی اپی شحل نہ 

مہ ٭۷ ٠.‏ جو شخس می کی نماز بعداعت بڑھ رہا ہو خواہ وہ مت ی ىی ہو اسے چا کہ ا یکی 

گبیریں اور دعاتمیں بھی ڑھے۔ 


۰ و کے 
2 سے مات 


مہ اا٦‏ چند جنزیں ماز میٹ میں تب ہیں۔ 

..- جو مفس خازمیت پ سے اس نے وضو پا تل پا جح مک لیا ہو اور امیاط اس میں بب کہ 
مھ ایی صورت می ںکڑے جب وضو اور تل کر من ن ہو یا لت ڈر ہ وک اگر وضو یا 
شس لکرے ما نماز میت میں شریک نہ ہو گے نا۔ 





توضیح المسائل جج ) ک5ا :ا 





٦‏ الر عیت مدکی ہو تر لام یا جو مس ائیلا میت پر نما پڑھ درا ہو عیت کے جم کا 
ورمیای جے کے سان کھڑا ہو اور گر میت عورت ہو قو پھراس کے نے کے سام ےکھڑ 
ہو 

×..۔ نما گے پاؤیں بھی جاۓ۔ : 

×.... نپ رگمیربیش پاتو کو بن دکیا جاۓے۔ ۱ 

اش از بد ھن ذائے اور میت کے ورمیان اتائکم ناصلہ ہ وکہ اگر ہوا نماز پڑ نے وائلے کے ۰ 
کا ںکو کت درے نز وہ جنازہ تو جا چھوۓ۔ 

٦...ں‏ نازمیت اعت کے ساتھھ بڑھی جاے۔ 

ے..: لام گبیریں اور رعامیں بلند آواز سے بپڑھ اور جھ لوگ اس کے ساتھ نماز پڑھ رہے 
ہوں وہ آہسنہ بڑھیں۔ ۱ 

۸ نماز جماعت میں ماموم خواہ ایک منفیس ب یکیوں نہ ہو امام کے تیم ےکھڑا ہو۔ 

۹ نازھنے والا میت اور مومنین کے سے زیادہ وعاکھرے۔ 

×... بانقاعت نماز سے پسلے خین مہ ااسلوۃ ے۔ 

۱... نازائی جکہ بڑھی جاے جماں نماز میت کے لیت لوگ زیادہ تر جاتے ہوں۔ 

۷× نر تی وای عورت نماز میت جحاعت کے ساتتھ بڑ سے نے کی لکھڑی ہو اور نما بے 
والہں گی ضف میں ن ہکھڑری ہو۔ 


مل ۷۳ : فماز میت مصیروں میں بڑھناکمردہ سے لیکن مسر الثرام میں بڑھنائکردہ میں ہے۔ 
دنع کے اام 


متلہ ۷۳۰۳۶ ٠‏ بی کو کس طرح زین میں وف یکرنا واجب بج کہ ا ںکی ہو باہر نہ آے اور 
درنرے بھی اس کا بن باہر نہ ال گیں۔ اور گر اس ہلت کا ٹوف ہ وکہ چانور ال کا بدن پاہر ال 
یں لیے توق رکو ابٹنوں :خی سے پچ کر ینا جائۓ۔ 


لہ ۷۷ج گر می کو زمین میں رف نکر معحکن نہ ہو فو رف نککرنے کی بجائے اسےکھرے یا 





توضیح‌المسائل : [_٤15_ا‏ 
. نابوت میں رکھا جا سکتا ہے۔ 
مہ ۷۵| می کو جرمیں دای پلو بر اس شرح مان چا ےکہ اس کے برن کا ساۓے گاج 


روبشلہ 9۔ 

مہہ ۲٦۳‏ : ا رکوکی من س کت میں سرجائے اور ا سکی سیت کے خراب ہونے کا امکان ن ہو 
:۰ ور ا ے تی یں مرن یس ب کی امراع ذو کو ںکو چا کہ اھ کیج کی جک بی 
جانیں اور اسے زعین میں وف یکھ دیں درنہ ای ےکہ اس مکشحتق مم بی قسل ریں۔ حوط کر او رکغن 
رو یو تر رسہ7 
دیں اور سصندر میں ڈال ریں ورنہ کوئی بھاری ےر وی سک کے پاوصں میں پاندعیں اور ررش ڈلل ریںی 
اور چریں اتک من ہر ؛ ےت جہماں جانور اسے فور] انا لقمہ بنا لییں۔ 
مل ےا٦ ٠‏ 1 ال بات کا خوف ہوکہ وشن ق کو بھو رکر میتد کا حم باہر نل لے گا اور ای 
کے ان یا ماک ما دوسرے اعضا کاٹ نے گا تو چا کہ اکر مکن ہو تر جیساکہ سابقہ مستلہ میں بیا نیا 
گیا اسے سیدر ‏ ڈال ریں۔ 
مل ۹۱۸ ار می کو سحندر م میں ڈالنا یا اس کی جم چچننہ کرنا ضروری ہو فو اس کے اخراجات 
میت کے اصیل ال میں سے لیے چائیں۔ 
لہ ٠ ٦۷۹‏ ا رکاکی کافر عورت مرجاۓ اور اس کے یت میں مرا ہوا بی ہو 
ابی جان نہ پڑی ہو اور اس پچ کا بپ ملمان ہو تر 0" ےت 
بی کر کے لن چا پاکہ چئ کا منہ قبل کی طرف ہو۔ 
مل ۰۶ ۔ ملا ن کو کافریں کے تجرستان میں رآ نکر اور ماف رکو لمانوں کے جرستمان میس 
دش یکرنا جائنۂ نمیں ے۔ أ 
سّل ۷۷۰ ٠‏ این کو ای ا کا مو ا یں یں : 

کو ڑا رکٹ او رگمندگی یی جاتی ہو۔ 


سیل +٢٣‏ : مس رت یا نشین یں ٹن رک مو یھو کے 





حربیوامساہان ہیں ٰ 157ا 


لیے وتف ہو (شلا سپز میں ) رف یکرنا جائنز نہیں ے۔ 
متاہ ۳٢ذ‏ می تک وکسی دوسرے مد ےکی قمررمیں دف یکرنا جائز نیس ہے ماسوا اس کےکہ تقر 
برای ہوگنی ہو اور بی میت کا نان الین را ہو 
مل ى۳ و مت ے جرداہو جاۓ٤‏ خواہ وم ال کے پال' ناشن اور رانت ىی ہوں۔ اے 
بنا بر ایاط اس کی ساتھ ی دفن کر وینا چاجے اور جو ناشن اور واخت انسان کی زندگی میں بی اس سے 
جدا ہو جاین انی وا نکرنا تخب ے۔ 
مستلہر ٢۵‏ : آ رکوئی شخ سکویں میں مرجا اور اسے باہر نکلنا لگن نہ ہو تو چا ےک کنویی 
کا مضہ بن گمردیں اور ان ینوی یکو بی ا ںکی قرقرار ریں۔ 
مہ ۴٣‏ ۰ آ کی پ میں کے بزت میں مر جا اور اس کا رمم می دہناماں کے لیے خطرے 
صوجب' ہو آ چاج کہ اسے آسان ترین طریق سے باہر خنالیس چنانہ اھر اسے ککڑے گکڑ ےکرنے 
بر جبور ہوں تو ایاگ نے نکی ون نمیں من چا کہ اگر اس خر ناش زاین آ ان ہو و جک و 
اس کے زریعے سے پا نچ رکسی ال فن عورت کے ذریےے سے لی اور اگمر ہے فلکن ن ہو او ای رم' 
مت بای کین جو اٹل ١‏ ن ہو اور آگر ہے گر بای یے ر ‏ ےت 
بائے اور اگ رکوگی ایی و ٹس بھی موجورنہ ہو پھرجو خ٭ ننس ال ٹن نہ ہو دہ ٹچ کو باہر ەل ککتاڑے۔ 
تہ ے٢‏ ؟ ارس مرجاۓ اور پیر اس کے یں میں زنرہ ہو تق متعاقہ اشفا سکو اج ےک 
خواہ وہ الس 2 ک ز دہ ری امیر نہ تھی رھت ہوں تب کی ان اشفای کے ور جن تا ور 
سابقہ سنہ مس ہو چک تج یت کا بایاں یناو جاک کر کے چچے کو اہر نکالٹش اور پھر وو لو روپارہ یىی 
ور 


ایں۔ 
متلہے ۹۲۸ ؛ “تخب ےک ماقہ اخخاص تق کو ایک موس انان کے قد کے تک بک کودیی 


اور مری ت کو مز ویک تین ترستان اش نع ون اسوا اس ک ےک جو برتان دور ہو وہ کی وجہ سے بھتر 





توضیم‌المسائل .0258-1 


ہ۲ شا واں نیک لوگ رشن کیے گے نہوں یا زیادہ لوگ داں تروں پر فاقہ پڑ ھن جات ہوں۔ ہہ ھی 
تب ہ ےک جنازہ قرسے چن دز دور زشن پر درکہ دیں اور ین وفع ہکرکے تھوڑ؛ تھو ڑا قمرکے نزدیک 
نے جایں اور پروفعہ زین پر رھیں اور چھراٹھنیں چو ھی رفعہ قبرمیں انار دیں ارد گر میت مدکی ہو 
یری وفع زین پر اس رع دکھی کہ اس کا س رق رکی ہی طرف ہو اور چو شی وفع س رکی طرف سے 
قر میں واف لکریں اور مر عیت عور تکی ہو ق تسری دفعہ اسے تق ر کے قبل ہکی طرف دکھیں اور پچلو 
کی طرف سے تی انار دیں اود ق میں انارتے وقت ای ککپڑا ق کے مویہ مجن لیں۔ یہ بھی مسب 
ہ ےکہ جنازہ بے آرام کے ساتہ جابوت سے نکالیس اور قمرمیں داخ لکریں اور وہ دعانھیں جنمییں بو ھن 
کے لیے کھاگیا ہے دف یکرنے سے پل اور رف یکرنے کے وقت بڑھیں اور سی ٹکو پیر میں رکے یکن 
کے بعد اس کے کفن کی گرہیں کول ریں اور اس کا رضسار زین بر رک دیں اور اس کے مرکے بی 
ملی کا یہ بنا یں اور ا کی بیٹہ کے چیہ بھی اننیں ما می درکھ دیں کہ سیت عبت شہ ہو جا اور 
اس سے بیشت رکہ فی کو بندکریں دایاں پا میت کے دای ںکند ھھ بر رکم ادر پایاں پا ممیت کے ٠‏ 
می سکندھھ بر رکم اور منہ اس کے کان کے قریب نے بای اور اسے زور سے تکمت دیں اور 
تن رف کمیں اسمع افھم یا فلان ابن فلان ادر فلاں این فلا ں کی مہ میت کااور ای کے پاپ کانام 
ییں۔ شا لگر اس کا انا نام موی اور اس کے پاپ کا نام ران ہو تو تین رف ہیں اسمع افھم یا 
موس بن عمران ۱ 

ال کے بجر یں ھں انت علی اتعھد النی فارقتنا عليه من شھادة ان لال ا۷الله 
وحدہ لاشریگ لے وان محملاً صلی الله عليه وآله عبدہ و رسوله وسید الكبیین و 
خاتم المرسلین وان علیا امیرالمومنین وسید الوصیین وامام افترض الله طاعته علی. 
العالمین وان الحسن والحسین و علی بن الحسین و محمد بن علی و جعفر بن محمد و 
موسٰی بن جعفر و علی بن موسٰی و محمد بن علی و علی بن محمد والحسن بن علی 
والقائم الحجة المھدی صلوات الله علیھم آئمة الموملین وحجحچ الله علی الغلق 
اجمعین وائمتک ائُمة ھدی ابرار یا فلان اہن فلان اور مان این فان کی :جاے میت کا اور ایی 
کے باپ کا ہام لے۔ 


اور پھر کے ١فا‏ اتاگ الملگان المقربان رسولین من عند الا تبارگ وتعالٰی 








وسٹالاک عن زرہک وعن نبیک وعن دینک وعن کتابک وعن قبلتک وعن 
اکٹ قلاصشف ولا رن وَقر ف نج وابھتا اللہ ری وَمعمد صلی لت علي وَآل تن 
والاسلام دینی والقران کتابی والحکعبة قبلتی وامیر المومنین علی بن ابی طالب 
امامی والحسن بن علی المجتبی امامی والحسین ابن علی الشھید بکربلا امامی وعلی 
زین العابدین امامی و محمد الباقرا مامی و جعفر الصادق امامی و موسٰی الکاظم 
امامی و علی الرضا امامی و محمد الجواد امامی وعلی الھادی امامی والحسن 
العسکری امامی والحجة المنتظر امامی موّلاء صلوات الله علیھم اجمعین ائمتی و 
سادتی و قادتی و شفعائی بھم اتولی ومن اعدائھم اتبرا فی الدنیا والاخرة ثم اعلم یا 
فلان ابن فلان 

اور فلاں این فلاں کی جیا میت کا اور اس کے باپ کا نام ل ےکر بج ری ان اللہ تبارکگک 
وتعالی نعم الرب وان محمداً صلی الله عليه ول نعم الرسول وان علی بن اہی طالب و 
اولادہ معصومین الائمة الاٹنی شر نعم الائمة وان ماجاء به محمد صلی الله عليه وآله 
حق وان الموت ۔ق و سؤال منکر و نگیر فی القبر حق والبعث حق والنشور حق 
والصراط حق وا:مینران حق و تطائر الحکتب حق والجئة حق والناز حق وان الساعة 
آتیة لاریب فیھا وان الله یبعث من فی القبور 

پچ رکے افھمت یا فلاں اور فلاں کے ہیا میت کا نام نے اور اس کے بعد کے ٹہتک 
الله بالقول الثابت ومناک الله الی صراط مستقیم عرف الله بینگ و بین 
اولیائک فی مستقر من رحمتہ ال کے پر ے اللھم جاف الارض عن جنبیه واصعد 
بروحہ الیک ولقه منگ برھانا اللھم عفوک عفوک 
سمل ےجود ھا رہہ مس می کو تمرمیں اارے وہ باطمارت برہنہ اور پرہنہ یا ہو 
اور می ت گی اف کی طرف ے ترے باہر کک اور میت کے قرایت داروں کے علاو جو لوگ موجور 
ہوں وہ پاتھ کی بثت سے ق یر می ڈالیس اور انالله وانا اليه راجعون بڑھییں۔ اگر بیت عورت 
اس کے قرابت دار اسے تمرم اناریں۔ 


مل ۰۴ج" صتب ےگ قر مع ما صتطیل شک لک ہعائی جا اور زین سے تا چار انگل 


7 


ہو ڑا کا حرم اسے ہرمیں اارے اور اگ یم ہو لو 


7 








توضیح‌المسائل : [_ ۱.268 


بعد ہو اور اس پر کوئی نثائی لگا دی جاے۔ بآم پان مس لٹ نہ ہو اور قمری باقی ھٹک جائے اور پل 
چھٹرکنے کے بعد جو لوگ موجود ہوں دہ اپنے پاتھ قمریر دگھیں اور انلیاں کھو لک اقمیں ملی میں داخل 
ککریں اور مات مرج سو ر٤‏ مبارکہ اااززلہ بڑھیں اور میت کے لیے مخخبیت طلدب کریں اور نیہ وعامیں 
پڑھیں : 

اللھم جاف الارض عن جنبیە واصعد الیک روحے ولقه مننگ رضوانا واسکن 
قبرہ من'رحمتگک ماتفنیه به عن رحمة من سواگک 
مستلہ ۳۷ ٠‏ تخب ہے کہ جھ لوگ تٹع جنازہ کے لے آئے ہوں ان دُکہ لہ جانے کے نہ 
ممیت کا ول یا دہ مخ ول اجازت رے ممیت کو ان رعاؤں گی تاتی ںکارے جھ قات گنی ہں۔ 
لہ ۳۲ ٠‏ سب ہ کہ سوگوارو ںکو پر سا دیا جائے لان اکر اتی بدس گر گی ہوکہ برما 
دسینے سے ان گا دکھ ازہ ہو جائے نو برسا نہ دینا تر ہے نہ بھی شخب کہ مبت کے ائل غاد کے 
لیے ین دن ک ککھانا کیا جاے اور ان کے پاس بین ھکر اور ان ک ‏ گھ می ںکھا کان روہ ے۔ 


مسلچمطے٣‏ ٣۳ح‏ ڈ مب کہ انسان قرابت داروں کی موت پر اور خصسوں بے کی موت پر یر 


کرے اور جب بھی می تکی یاد آآے انالله وانا اليه راسمون پڑھھ اور بیت ‏ گے قرآن بیز 
پھے اور ماں با پ کی ققروں بر جاکر اللہ تعالیٰ سے اپنی عاڑنیں طل بکھرے اور ق کو چفت کر رے اک 
جلدی ٹوٹ پیھوٹ نہ جائۓ- 


مکل ۳۴ .مس یکی موت پر بھی انان کے لیے بائز نی ںکہ انا چرہ اوہ بدن پوپ اور اپنے 

آ پکو ‏ مائچ مارے اور انیت بئیاۓ- 

سیل ۵ بپ اور بھائی کے علادہ سی کی موت بر گرییان اک کر جائز نہیں اور اتتیا1 

واجب ہہ ہ ےکہ ا نکی موت پر بج یگریبان اک نکیا جاے۔ 

مل ٦‏ ×× ڈ ار عورت میت کے سوگ میں انا رہ نے تے اور خون تلود کر لہ ما پال اگھینررے :. 
ٴ تو رو ات و 

انی بیو ی یا فرزند کی صوت پ اناگریبان با با بھاڑے تاس کے لیے تم و بی تم 





ے٣۳٠‏ اعقاط ولب ہہ ےکہ میت پر روتے وقت ازاز یت ت ند نکی جا٤ء۔‏ 


تہ ۳۸ ٠‏ حاسب کہ میت کے دنن کے بعد بی را تکو ای کے لیے دو رکعت نماز 
دہشت پڑھی جا اور طریقہ اس کے بڑ ھن کا ہہ ےک لی رکعت می سور٤‏ مر کے نر ایک وقدر 
آیت الگری اور ددسربی رکعت مل سور جھ کے بعد دس رفعہ انا افزلمہ بھی جائے اور سلام خماز کے 
بعر یا .باے اللھم صلی علی محمد وال محمد وابعث ٹوابھا الی قبر فلان اور لفظ فلا ن کی 
نیاۓے می تہ گا ام لیا جاے۔ 


خرل ۹پ از وخشت میت کے دفی کے بعد لی رات کو کسی وقت بھی بڑھی جا عق سے 
ئن متری ہے کیہ اول شب میں نماز عخاء کے بعد پڑھی جاے۔ 

متلہ ۹۴۶ ار می کو کی وور کے شمرمی لے جا تقصود ہو یاصسی اور وج سے ابن کے 
فی میں یہو جائے ق نماز وہشست کو اس کے وف نکی بی رات تک مھوی یکر وہنا چا ہج 


۰ خ۸ مہ 

سلہ ۷٦۱‏ : 7 صلان ٢‏ سن نرشی اس کی تق رکاکبھولنا خواو وم کہ ا داوانہ بی یوں کہ او 
عمام ہے ہاں ار ای کابدن لی کے ساتھ م لک می ہھ کا ہد پچ رکوئی مرح نمہیں۔ 

مستلہ ۹۴۴ ؟ لام زادیں' شمیدیں' علموں اور صانح لوگوں کی یں کا ولا خواہ یں وت 
وئے سااما سا لگکزد کک ہوں مرام تہ 

ا مہہ ۴۳ ؟ جد صوریں ای ہیں جن میں ق رکاکھولنا عرام نہیں ہے۔ 
جب می کو غصبی زشن میں و ن کیاگیا ہو اور زین کا مالک ای کے وہاں رىچے بر 
رای کے ی7 


1 12 ۱  لئاسملا‌حیضوت‎ 


جب کفن ما کوئی چز جو میت کے ساتھ وش نکی گئی ہو خصبی ہو اور اس کا مالک ال 
بت پر رضامند نہ ہوکہ وہ قرمی رہے اور اکر خور میت کے ال میں س ےکوگی چی جو ال 
کے وارٹو ںکو لی ہو اس کے ساتھ دنن ہ وگئی ہو اور اس کے وارث اس بات بر راشی نہ 
ہو ںکہ وہ نز رٹ رہے فو ا ںکی بھی بی صورت ہے۔ البتہ اکر مرنے والے نے وصیت 
نی ہ کہ دعا یا قررآن مجید یا ای اس کے ساتتہ دن نکی جائے تو ان چو ں کو نکائے کے 
گے تج کو میں کول جاستا۔ 

جب تق رکا کھولنا می ت کی پک کا موجب نہ ہو اور میت کو بفیرصسل ہے یا بی رکف 
ہنائے رآ یکیاکی ہو ما پیۃ کہ میبت کاسل پل تھایا اسے شریی اعکام کے مطب کن 
نہیں دیامگیا تھا یا قرم روبقہلہ ٹیس لٹایاگیا تھا 

ہج بگوئی جن ماب تکرنے ے لیے میت کا روگنا ضروری ہو۔ 

جب عی کو اڑی نہ رآ ن کیاگیا ہو جماں اس کی بے حرتی ہوتی ہو لا اسے کافریں 
کے رستان مس ما اس تہ وف نکیاگیا ہو جہاںگندگی او رکوڑاکرکٹ پھیگا جال -٤‏ 

جب کی ای شری مقصر کے لیے تق رکھوی جا مج س کی امیت ق رکھوئے سے زیادہ 
ہو خلا سی زندہ چے کو اڑسی عالمہ عورت کے یت سے نین مطلوب ہو نے وف نی کر وی گیا 


ہکو۔ 
جب ہہ خوف ہو کہ دنہ میت کا بدن جر پچاڑ ڈائے گا یا ماب اے ہا کے ہا گا 
پا رشن اسے ثکال نے گا۔ 


جب میت کے برن کاکوئی ایا حصہ رف ن کرنا مقصور ہو جو اس کے سان ران ئ ہوا ہو 
جن اط وادب ہہ ہےکہ بدن کے اس جھ ےکو اس طرح بر میں ری یکہ میت کا بدن 
رنہ آے۔ 

جب میت کو مثار مشرفہ ( یی مقدس مقاات خلا نجف اشرف۔ کر ا صعی یا مشمد 
قرس) میں ہتفق لکرما مقصور ہو اور بففصوص اکر ال نے اس بارے میں وصیت کی ؛٭- 





توفیچالسائاں_ ےے ہے -.[.363] 


مستلہ ۳| اسلا مکی مقدس شریعت میں بہت سے سب مل ہیں جن میں تت یھ ہر 


ہیں۔ 


..١‏ گل جد ا ںمارت تج کی ازان کے بعد سے ہے اور حتریی سے کہ مر کے تریب جیا 

لا جاۓ اور اکر نار سے تس سے سے کہ گرا اور قضا کی ضیت 
لیے لغیر غروب آغخاب تک با لاۓے اور ا حور ون کے کے توضب شک 

ہغند کے دن لب سے فخروب آقاب کک ا کی قضا با لائے۔ اور جو شخص انتا ہوکہ اسے 
معہ کے دن پالی مسر ہو گاوہ رجام بنعرات کے دن تل انیام رے سنا ہے اور جب 
کہ انسان مل بجع ہگرتے وقت ہے دعاپڑے۔ 
اشھد ان لالم الاالله وحدہ لاشریگ لہ وان محمتا عبده و رسولے اللھم 
صلی علی محمد ول محمد واجعلنی من التوابین واجلعنی من المتطھرین ۔ 

۳ بمہ رما نکی بی اور سترعویں رات اور انمیسویں' السویںی اور یسوی رانؤں کے ک 
جح کا شسل اور چو یسوی رات کا ٹسل 

راف اور عیر قین کے ون کا تمل۔ ای کا وت تع کی ازان سے خم رتک ہچ اور 
ظبرکے بعد غررب آفاب تک رجا کی عیت سےکیا جا سا تج اور بعتریہ سج کہ عی دکی نماز 
سے پل کر لیا جاتے۔ 

م٠س‏ عحد فط ری رات تا تل اس کا وقت رب کے ول وقت سے لے کر بج کی ازان 
تک سے اور تر تج کہ رات کے پل جح می ںکر لیا جافے۔ 

...نہ زی یہ کے آنھویں اور نویی زن اصع اور نس ون بھتر سے کہ ظہرکے دی ک کیا 
جاے۔ 

..٦‏ مس مخس کا نل جس نے سور خگمرجن اور چان مجن کے وقت جان نوج گر نماز 
آبات یہ پٹ شی ہو جس یکلہ پورے اعد اور سور عک وگ جن لگا کو 


توضیح‌المسائل [_ 164ا 


مس حخص کا ٹسل جس نے اپے بدن کاکوئی حصہ اڑسی میت کے بدن سے مس کیا ہو 
سے کل نہ دا جا پکا ہو 1 
- اترام کا تل 
۹ مم بی دافل ہوئے کال 
ک ہرد می داغخل ہونے انل 
سن فافکحب کی زمازت کاضعصکل 
۱ط کعب می واشل ہونے کاضسل 
...ا حواودر زع اور علق ( پل مویڑنے ) کے لیے نل 
٣ا‏ مین مور میں راشل ہونے کا کل 
ل'... ىسکنیکرم لکن کے عم میس زاغل ہونے اتل 
۹...- نی ارم “نزپکڈپ کی تر مرسے ددا ہونے کاتسل 
ا وشن کے سا مبلل رکرنے کاتسل 
٭... فو زاصدو کو فسل وا 
۷ا ات کے یت صلی 
٭۰...۔ وعائے باراں کے لیے تسل 
طط... پور سے سور حگرجن کے وقت کاتسل (جب سورج عمل طور پر سیاہ ہو جاے۔) 


2 


...٣۴‏ سس زیارت صضرت پر اضرام علے الام ارچ ارت رور سےکی جاۓ۔ 


مہ ۹۴۵ : فقمانے قب ضساہں کے بیان میں بت سے نپسلیں کا کر فراا ہے جن مس 

سے ند سپ ہیں۔ ۱ 

۱ مہ رمضان ال بار ک کی قام عطلق رایں کا ٠ل‏ اور اس کی آخری دن ی کی قام یں کا 
ٹسل اور ا کی تھسویسں رات کے آنری جھے مس دوسا نسل_ ۱ 

۳× او ذی اھ کے چوعمویں ون کال - 

...٣‏ معید نو روز کے ون اور پندرعیں شعان اور ویں اور منزعویں رع الاول اور زی القیرہ 


کک ہیں دنم افصل 5 





تویچلسائلِ___ ےے [ 5مد _ا 


٭. کس عورت کا شسل جس نے اپنے شوہر کے علادہ کی اور کے لیے خوشبو اسقدول کی 
ہے 

... اس مخ کال جو مت قکی حالت میس سوگیا ہو 

٦ے‏ بس مس کا تنس ھی سول بڑھتے ہو انسا نکو رین گیا ہو اور اسے ونیکھا بھی ہو 
ین اکر اظاقا“ یا جبوری کی عالت مس نظری گی ہو یا ہثال کے طور یر اکر شمارت ری گیا 
ہو تخل صتب میں ہے۔ 

سد مد نزوی مس رواخ ہونے کال 

۸ مود ہا نیک سے محھوی نکی زیارت کے لیے نسل جن احومد یہ ہے کہ مہ قام ضل 


رجاء کی نیت سے بجالاۓ مات 


مل ۷۷ :نا کی پا یی نشی تن ون او وم کی ایت کو ہک اك 


تل ججالاۓ تو کانی ے۔ 


٭+٭ 


مات صورتوں میں وضو اور تل کی ہجاتے ک ‏ مکرنا چایئئے۔ اول کہ وضو یا قسمل کے 
اندازے کے مطابق پانی مس یاکرنا ممکن و ہوں 
سیل ھے ٢‏ أمر انسان آبادی یش ہو ت ہار اعقیاط اسے چا کہ وضو اور ٠سل‏ کے لیے پائی 
میا رنے کے لیے اتی ٹہ کر ےک ہ آ خرکار اس کے ضے سے خاامید ہو جائۓ اور اکر بیابان میں ہو اور 
دہ ل کی زین ناجوار ہو یا در نول ک یکثر ت کی وجہ راہ مچانآشوار ہو تذ اہ کہ تچاروں اطراف میں سے 
ہر رف برانے زانے میں کان کے لہ پر ڑھاکر یکلہ جانے والے تی رکی پرواز کے اندازے سے پالی 
7 لماش میں جاۓے۔ ورنہ ہر طرف ائراڑا دوہاد پیک جانے والے تیر کے اصلے کے برابر تچ وکھرے۔ 


مہ ۴۸ ۰ ار چار اطریف میں سے مض جموار اور لن اوٹی نی نہوں نے جو طرف ہموآر ہو 


0٦ 





توضیجالمسائل‪_____.._... :7 ..-.366.[3ا 





اس می دو تییوں کی برواز کے اندازے سے اور جو طرف جوار نہ ہو اس مم ایک تج رکی پرواز کے 
آرازڑتےہے علا شکرے۔ 

منلہ ٠ ٦9۹‏ جس طرف انی کے نہ ہونے کالقین ہو اس طرف علائ شکرنا ضردری نمی ے۔ 
سیل ٭٭۵٭ ؛ ا رکی مخ سک از کا وت شف ن ہو اور پاٹی حاص لکرنے کے ملیٹھ ا کی جال 
وقت 7 رگتا ہ وک جس زاصلہ کک اس کے لیے انی علا شکرنا واجب ہے اس سے ددر مقام 
پل موجود ہے ق اسے پا نےکہ ہنی حاص ل کرنے کے لیت ول جائے اور اکر مض مان رکتا تا ہو کہ 
دں پالی سے و اس لہ جانا ضروری میں الہتہ اکر اس گان قوی اور اظمینان کی عد تک ہو اسے 
چان ےکہ پالی عاص٣‏ لکرنے کے لیے وہاں جائے۔ 

متلہ ۹۵۳۱ ٠‏ يہ ضردری خ کہ انان خود با کی عاش میں جائے بکمہ دودکسی اور ابی شف سکو 
جج سنا سے نس کے کن بر اسے اظمینان ہو اور اس صورت می اکر ایک مخ س کئی اشفا سکی طرف 
سے جائے تو کالی ہے۔ 

سیل ۵۴ ؛ گر اس بات کا اخل ہوک کسی مخفس کے ابنے سفرکے سلان یں یا پڑ اہ ال ےکی 
جمہ ب یا قالے می پانی موجدد ہے تو اسے چا ےکہ اس قدر مج کر ےکہ اسے پاٰی کے نہ ہونے کا 
تن ہو جائۓ پا اس کے تصول سے نا امیر ہو جاۓ۔ 

سیل م۵۳٥٦‏ : نرک ٹس نماز کے وقت سے پل پائی علا٘ ‏ کمرے اور عاصل نہر ہا اور 
مار کے وقت تک ریں س2 لے کا اخول ہو اطاط متس ےا روبارہ ا کی علاشل 
میں جاۓے۔ 

ستلہ ۷۵۴ ۰ اگر نماز کا وت راخل ہونے کے بعد حلا شکھرے اور بای حاصل :کر ہا اور بعد 
ورای مار کے وت تک اس مہ رے ‏ اکر پاٹی لے کا اتل جو تر قاط “تخب ہے کہ ددادہ پل گا 
لاس میں جائے۔ 

مستلہ ۵ن۵ ٠‏ اگ رصسی خ سک نما ز کا وت تک ہو پا اے ور اور درنرے کا خوف ہو ہا پل گا 
علاش اتی تن ہ کہ وہ اس صعوب تکو پرواشت نکر گے فو عطلاشل مخردری نی ہہے۔ 





مخوصضظ و ٗ ہے ماب 
مہ ٦۵۹‏ ؟ اگ رکوئی شخس پانی علاش نہ کھرے کہ نماز کا وت نک ہو جات تو گو ودگزاہ کا 

٠‏ مرگب ہوا ہے لین تد رت 
مہ ے۵٦ ٠‏ ا رکوئی مخ اس نشی نکی بنا کہ اسے پانی نمیں مل کت بل ی کی علاش میں نہ : 
جاۓ ! اور رکر کے نماز پڑھ نے اور بعد میس اسے پند خ کہ اکر عائ کرات نی مل کنا تھا نز گر 
کانی وت ہو از اس کے لیے ضروری ہہ ےکہ وضوکرے اڈر دوبارہ نماز بڑھے_ 
مستلہ ۹۵۸ ۰ ا رکسی مخ س کو علا شکرنے پر پائی نہ سے اور وہ جح کرک نما بڑ ھھے اور نماز 
کے بعد اسے پت ین کہ جماں اس نے ملا کیا تھا وہاں پالٰی موحود تھا نے آمر وقت باتی ہو تو اسے چا جۓے 
کہ وض وکرے اور ووپارہ ماز ڑھے۔ 
مستلہ ۹۵9۹ : جس مخ سک نین ہوکہ نماز کا وت نک ہے ار وہ پالی حلال کے فی مز چڑھ 
نے اور نماز پڑمے کے بعد اور وق تگزرنے سے پلیہ اسے پت کہ پالی علائ شکرنے کے یی اس 
کے پا برقت تھا ا اظاط واجب سے ےک ددبارہ نماز پڑھے۔ 
مل +۷ اکر نماز کا وقت راشل ہونے کے بع کسی منص کا وضو باقی ہو اور اسے مین ہ وکہ 
گر اس نے انا وضو پاط ل کر وا تق تن مرے سے وض وکرنے کے لیے پانی میں لے ما یا دو وضو خمیں 
کر ہا ما نز اس صورت میں ار وو انا وضو برقرار رکھ سکتا ہو قے اسے پا ے لہ اس پل نہکمرے 
ین اییا خس پہ جا ہوۓ بھ یکہ نل نکر پائے گا انی وی سے مباشرتتکر مکنا ہے۔ 
مل ۷۷ مر کوئی شخس ناز کے وقت سے پسلے باوضو ہو اور ا نقین ہ کہ مر اں نے اپنا 
وضو بافل کر ریا تو نے مسرے سے وض وکرنے کے لیے پانی مسیاکرنا اس کے لیے خین میں 
صورت میں اکر وو انا وضو برقرار رکھ سنا ہو فو اعقیاطظ صخحب ىہ ہ کہ اسے پاطل ن ہکرے۔ 

: مل ٠ ٦۷۳‏ ج بکوئی نخس فط وضو یانسل کے لیے پالی دکتا ہو اور جانا ہوکمہ ات گرا دینے 
کی صورت میں اور پالنی فنیں مل کے مات اکر خمازک کا وت راخل ہوگیا ہذ ق اس پالی کاگمرانا عرام ہے اور 
ایا سب یہ ہی کہ نماز کے وتت سے پل بھی نہگمرائے۔ 


لہ ۹۷۳ ٠‏ ار ایک ایا مخ ج جانا ہوکہ اے پانی نی مل سا نماز کا وت داخل ہونے ۰٠‏ 





توضیچالمسائل__ )( عمد] 


کے بعد اپنا وضو اط لکر دمے ما جو پانی اس کے پا ہو اس ےگا دنے فود گناہ کا رکب ہو گا جن مم 
کے ساتھ ا کی نما کچ ہ گی اکرچہ اضیاط مب ہہ ہس ےکہ اس نما کی قفا گج یکھرے۔ 


لک مکی دوسری صصورت 

مستلہ ٠ ٠۷۴‏ ا رکوئی مخس بدعای کی وجہ سے یا ور اور جانور وغیرہ کے خوف سے یاکنویں 
سے پانی ہعالیے کے وسائل مصرنہ ہون کی وجہ سے پالی عاصل نہک ےت اسے با کہ مکرے 
اور گر پان سیاکھرنے پا اسے استعا لکرنے میں اتی لیف اٹھالی بڑے جو عام لوکوں کے نزریف تقایل 
پرواشت ہو تر اس صورت میس بی عم ہے لیکن آخری صورت میں اگر جھر ‏ کرے اور وضو کرے و 
اس کا وضو کچ ہو گل 

مل ٠٦۵۰‏ : آ رکنویں سے پانی لے کے لیے ڈول اور رسی وغیرہ ضردری ہوں اور متعلقہ ٹن 
پور ہوکہ انیں خریرے یاکرایہ بر عاصل لکرے تو خواہ ا نکی قیمت عام بعاؤ ےکی گنا زیادہ تی کول 
نہ ہو ا سے اہی ےک انمیں حاص لکرے اور آلر پائی انی صلی قمت سے منگ ہا جارہ ہو نز اس کے لیے 
بھی بی تم سے لین گر ان چیزوں کے حصول پر اتی زیادہ رٹم خر ہوگی وک اس کے حالات کے 
پل نظراس کے لیے نقصان دہ ہو ران چیزوں کا سسیاکرنا واجب میں ے۔ 

متلہ ۹۷۷۹ ٠‏ ا رکوتی مخ مور ہوکہ بای سیاکرنے کے لیے قرض اٹھاے لین جس من ںکو 
لم ہو انان ہوکہ وہ اپے تقر نکی اوائچگی نمی کر متا اس کے لی تر اٹھاا واجب نی ہے۔ 
مل ے۹۷ ؟ اگ رکوا ںکھوونے می ںکوئی مشقت نہ ہو نز تعاقہ شس کو چا ےکہ پائی مسیاکرنے 
کے لی کنواں جھورے۔ 

مہ ۹۹۸ ٠:‏ ا رکوئی مخصس بفیر اسان رکے پانی درے تے اسے قو لک ینا جا۔ 


ع مکی سر ی صورت 
متلہ ٦۹8۹‏ : آل ری مخ س کو پانی استع لکرنے سے انی جان پر بن جانے ما بدن مم ںکوگی عیب 
امرس پدا ہونے ما موجودہ عرش کے طولانی ما شدید ہو جائے یا علاع معالیہ مج دشواری پیدا ہونے کا 





توضیح‌المسائل__ و6د ا 


پانی سے وضو پا تس لکرے۔ 

میلہ ٭ے٦‏ :سی مس کے لیے ہہ ضردری نمی ںکہ اسے لین ہوکہ پانی اس کے _لیخے معضرہے 

لہ اکر ضر رکا ال ہو اور ہہ انل عام لوگو ںکی منظروں می ہیا ہو اور اس اشال سے اسے خوف لات 

ہو جا نز ای کہ تج مکرے۔ 

صَیّلہ .ا٦‏ . اگ رکوتی مخ ورد نشم میں جا ہو اور پالی اس کے لیے مر ہو تر اسے چا ےکہ 

چھررے۔ 

مل ص٦‏ ۓ اگ رکوئی شخصس ضرر کے نقین یا خو فک وجہ سے مھ کرے اور نماز سے چیہ سے 

پت چلی جا ےک پنی اس کے لیے نقصان دہ نمی تے اس کا مم پل ہے اور آگر اے ال بلت کا پھ 

ماز کے بعد لے 2 ار وت بقی ہو تر اے چا ےکہ وضو یا قس لکر کے ددباہ نماز پڑھے اور آلر وقت 

گزر جائے تو قطا وادب میں ے۔ ۱ 

مل طے٦:‏ ا کسی مخ س کو علم ہوکہ پان ا سکی لیے معضرنمیں سے اورنسل یا وض کر لے 

ین بعد میں سے پنۃ چ کہ لی اس کے لیے معنر تھا نز اکر خقصان اس حعد تک نہ ہوڑکہ اس کا اٹھاا 

رام ہو تو اس کا وضو اور نل کچ ہے۔ 

بت کی ج بھی صورت 

مسیلہ ٢۱ے ٠‏ ا رکی مخ س کو ىہ خوف ہوکہ پان وضو یاعصسل کے لیے استما کر ینہ سے 

مت میں جظطا ہو جاۓ گا فو اسے چا کہ مکرے اور ال وچہ ے تم کے جائز ہونے کی تین 

صورشیں یں- 

ار بی کہ اکر پانی وضو پان لکرنے میں صر ف کر دے تو وہ خور فوری طور پر یا بعد بش الا 
.-_ پاس میں ملا ہو جائۓ گاجھ اس کے بلکت یا علالت کا موجب ہ گی یا جس کا برواش ت گر 

اس کے لیے خت ملیف کا باعث ہو گال 
.- کہ اس خوف ہو کہ جن لوگوں کی طفاطت کرنااس بر واجب سے دہ کیں پیا سے 





ت‫ ۱ٴ ھککچص ووحج وسحٗٗےصےسےسےجسکتھ 





توضیح‌المسائل : جج )1 17+60 سا 


لاک یا بیار نہ ہو جائیں۔ 
شا کیک ا علادہ سی ددمرے گی غاطر خواہ وہ انسان ہہو پا خوان' ڈرتا ہو اور ال گی 
جلاکت یا بیاری یا بتال اے 2727( ہو۔ (ان جن صورقیں کے علاد وی صورت میں 
پالی ہوتے ہوئۓے ٤‏ مل مکرنا جائنز نہیں ے)۔ 
مہ ے٦‏ ڈ اگ رکوئی شفص اس اک پالی کے علادہ جھ دہ وضو پاتنسل کے لیے رکتا ہو اتا جس 
لی بھی رکتا ہو تنا اسے اپنے اور اپے متلقین کے پیے کے لیے درکار ہو تا سے چٹ کہ اک پا 
پیے کے لیے کہ چھوڑے اور جم کے ساتھ نماز تھے مین آل پل کی میوان یا لغ ہے کے لیے 
درکار ہو قر اسے چا ےک ٹس پانی انیس رے دے اود پاگم۔ پاٰی سے وضو اور قح لکھرے۔ 


]مکی بانچویں صورت 

تہ ے٦ ٠‏ اگ رکی خی کا پرن یا مہا خُس ہو اور وہ ات مقرار شپت کک گرا 
سے وغو با ہتس لکر نے تو بدن یا لاں دہونے کے لیے انی نہ چنا جوف دہ بدن یا لپاس دہوۓے اور 

کر کے نغاز پھھے لین اگ اس کے پا ای کو چیہ ہو جس پر ” رت سرت 
ای ا لیے اسقعا لکر نے اور خس بدن یا لپاس کے ساتھ نماز پڑ ھے۔ 


مکی ھی صورت 


مہ سے٦‏ 2 اگ کی مخص کے اس سوائے ای ہنی با ری کے جس کا اس لکرنا حرام ہے 
کوئی اود پانی یا برتن شہ ہو مشلا جھ پالی با برتی اس کے پا ہو وو خص بکروہ ہو اور اش کے علاوہ ںی 
کے پا لکو پالی یا برقی نہ ہو ق اسے چا ےکہ وضو اور تس ل کی ہجائۓے تع کرےں 


مکی ساقوییں صورت 
مستلہ ۸ ے٦‏ ڈ جب وق انتا نگ ہوکہ اکر ایک نس وضو پا تس ل کرے تر ساری اڑا اس کا 
کچھ حصہ وت کے بعد پڑھا جا کے تر اسے پاب کہ نت مکرے۔ 


مل ہے٦‏ ؟ الگ رکوئی مخس جان بوجھ کر از یڑ مین انی من رکر ےگ وضو یا قسل کا وت 


وسعسسوسوحوبپچچیجُٗہمکیبسیوٗؤىدۃأٴُِِْسجٌٗٛجسے۔ 





توضیچ المسائل__ ( 3171ا 


بای نہ رے لو کو وہنا ا مرککب ہوا لکن نم کے ساتھ ا سک نما سج ہے۔ الرچہ انقیاط سب سے 
ہ ےک اس نما زی تقضا بج یککرے۔ 

می ۹۸۴ ٠‏ ا رک یکو کیک ہوکہ وہ وضو پاقس لکرے ‏ نمازکا وقت باتی رہے گا یا نمی نو 
اس چا کہ جمکرے۔ 

سّلر ۷۸۷ : اگ ری مخصس نے دق تکی گُ یکی وجہ سے ھ رکیا ہاور از کے ود وض کر سے 
کے پاودود ہیا ہو تی کہ جو پالٰی اس کے پا تھاوہ اس کے ٢‏ پاتھ سے نگ لگیا ہو نو اس صورت می ںکہ 
اس کا وظیفہ وا کان چا ۓےکہ آتندہ نمازوں کے لے ردبارہ مرے خواہ وو حم جو اس نے 
کیا تھا نہ ٹوٹا ہو۔- ٠‏ 

مستلہ ۹۸۳ ۰ ا ر کسی مخ کے اس پان ہو ٹین دق تکی تی کے باعث ‏ مک کے نماز پا جن 
گے اور مماز کے ددران میں جو پائی اس کے پا تحادہ اس کے پاتھ سے اگل جائۓ اور ار اس کا و مہ 
ا ہو و اطیاط والجب ے ہے ا بح ری نمازوں کے لج روبارہ نت 

مصتلہ ۹۸۳ ٠‏ ار کسی خس کے اس اتا وت ہوکہ دہ وضو یان لکر کے اور نما زکو اس کے 
سب افعال شا قامت اور قوت کے بفیریڑھ لے ق اسے چس کہ مل یا وض وک نے اور ای کے 
سسعتے ى افعال کے بفیر نماز یڑ ھے پلہ گر سور کے ان نرازے کے برابر بھی وقت نہ رکتا ہو نر چاچۓے 
7 کل پا وضو“ کیج اور بی ر۔ورہ کے نما بڑھے۔ 


وہ یں جن برح مکرنائیجغ ہے 

ستلہ ۹۸۳۴ :می ریت' ڑھیلے اور چھریر تح رکرنا تچ سے لیکن اتال ۷“ تب یہ کہ 
گر میس ہو نکی دومری ز جھم کیا جا اور گر می نہ ہو فز ریت یا ڈھی بر او اکر ریت 
اور ڑھیلا بھی نہ ہوں نز پچھریر سح رکیا ہے 

لہ ۹۸۵ ۰ نف کػج یم ) اور نک ہک( چرنے کے پچھر) رع مکرنا تج سے اور اعقیاط 
کی ناب انقا کی عا۔ ا وت یہ 
کیاجاے۔ 





توضیح‌المسائل .......3[. 3272ا 
متلہ ۸۷ ٠‏ اگ رکسی مخ ںکو می ریت' ڈھیلا یا پچھرنہ مل ے قز اسے جا ےکہ فرش اور لپاس 
ویو بر جو گر غبار ہو اس سے مہ مکرے اور اگ رمگرد بھی نہ ہو قز چا ےکہ تر مٹی سے تج رکرے۔ 
اور ان دوٹیں صورقوں میں اعقراط واجب ہے سےکہ گر مھکن ہو تو جن ون کا اور ذک رکیاگیا ہے (گج* 
چون“ اون اور معدٹی چھر) ان بے بی کرے اور اگ رگرد اور تر مل بھی مصرنہ ہوں تڑ ان چڑوں 
مس سےکی اک پر" مکرے اور کر ان میں سےکوگی یز ھی رستیاب نہ ہو نز اقاط جب سے ہے 
تمہ ار یم کے نماز پڑھے لیکن واجب ہ ےکہ بعد می اس نماز زی تقالرے۔ 
کل ے۹۸ ۰ ا رکوئی خس فرش وغی کو جا ڑکر ملی سیاکر سلتا ہے تو دس کاگردی" م کیا 
اطل سے اور اس طرع اگمر ت مل یکو فی گکر کے اس سے بوکھی مٹی ماع لک کت ہو تہ تر عی بر ” ح7 
کرناباضل ہے۔ : 

مل ٦۸۸‏ : خصس ہفص کے پاس پانی نہ ہو گر دہ برف رکتا ہو اکر لکن ہو تو اسے چا ےک 
اسے پھلا کہ پالی بنا لے اور اس سے وضو یسل کرے اور اگ ابی اکرنا کن نہ ہو اور اس کے پِی 
کوئی اسی چز بھی شہ ہو نس پر نآ مکرا بج ہو اس کے لیے ریہ ہے ےکہ برف سے وضو پا مل کے 
اضاء کو تر کرے اور آگر ایی اکر بھی کن شہ ہو تو برف پر کرئے اور وقت پر نماز پڑہے۔ بیز 
ضروری کر آتنرہ وقت میں قضا بھ یکمرے۔ 

متلہ ۸۹ : ار ملی اور ریت کے سا سوھی کھاس کی رع یکوئی زی ہہو ہہ پر بجھر 
پل ہے تر متعلقہ شخصس اس پر محھم نمی ںکر سنا پں اکر دہ یز ات یکم ہوککہ ا مٹی یا ریت مین نہ 
000 مھ جائزے۔ 

مل ۰ہ کر ایک مخس کے پا ںکوئی اىڑی چز نہ وونص پ " کیا جا کے اور ا کا نریرنا 
ور نت 

مر ۹۱ مکی روار یپ مکرنا جج ہے اور اقیاط سب ہہ ےکلہ خنگ زین یا می سے 
ہوتے ہوئے تر زین ما صلی بر جھر نکیا جائے۔ 


مسلہ ۹۳۴ ۰ مس ہز این رکرے وہ پاک بوٹی جا ان ےن ان 








توضیجالمسائلے )ا دبد)ا 


پنردہ ہو ہیں پ مکرنا حجچچ ہو ق اس پر نماز واجب نمیں لیکن چان کہ ا ںکی قضاکرے اور اط 
وجب ہ ےکہ وقت میں بھی نماز پڑسے۔ 
مل 8۳ ٠‏ ا رکی مخ س کو نقین ہوکہ ایک زی جھ جج ہے اور اس بر مھ کر لے اور 
بعد میں اسے پت چ کہ اس زی نم ال تھا اسے اٹ ےکہ جو نمازیی اس جھم کے ساتھ بڑھی 
یں وہ دوبارہ پڑھے۔ 
مستلہ ۹۴ ٠:‏ غردری ہےکہ ایک مخص جس بیزیر جھرکرے اور جس مقام پر دہ چیز ری ہو دہ 
غصبی تر ہو لڑ۱! وہ غصبی می > مکرسے یا ایی من یکو جھ ا کی اپنی ہو جا اجازت دوسرے 
شس کو زہیں پر رھ رے اود یراس پر مکرے ڑا ں کا مم پاطل ہو گا 
متلہ ٦۹۵‏ ۰ لہ کرئی خصس بھول کر یا فلت کی وجہ سے غصبی ڑپ یا غصبی گّمہ میں یا 
سی زیر ہو غصبی غلیت می رکھی ہو کر کو بھم تج سے مین آلر وہ خو رکوئی ز غصب 
کمرنے اور پھر بھول جا ۓےکہ نغصب کم ہج اور اس پر چیھر کت بای یت کو وب رن اور 
ول (جاۓ)) کہ فص ب کی بے اور نس نز کر را ہو دو ا زشین پر درکہ دی یا اس لی ت کی" 
تہ میں جھ رکرے تو اس پر ابی عم کا اطلاق ہو گا ٹس کا اطلاق مدآ کا مککرنے دالے پر ہوا ہے۔ 
ستل ۷۹۹٦ء‏ کک کی نس غصبی گل میں موں ہو ہر تت 
موں تاس چان تع مک کے از پڑھھے۔ 
تہ ے۹ ٠‏ جس چنب ایک مف١سں‏ سک کر رہا ہو ہا بر اعقیطا چا ےکہ جال تک من ہو وہ 
گرد تی ہو جو پا پر لگ جائے اور اس پر پاتھ مارنے کے بعد جتابر اضاط واججب ہے کی پا کو 
بچھاڑے الہ ا یک یگر گر جائے۔ 

۱ مل ۸> ٹرے ھے والی زشن پر ار راس کی مٹی پر اود ایی شور زین پر نس پر نم کفکی تمہ نہ 

2 بھی ہو تک رک ناروں یچ اود لک ای پہ ٹن کی تمہ تم مکی ہو جم پاٹ ے۔ 


رق تی لیک ماظن 


مہ ٦۹۹‏ ؟ مض با شسل کے بدلے کییے جانے وائے ھ میس چچار زی واجب وں- 7 





توضی ‌المسائل ۰ ...1 374ا 


ات می ۔ 

....٢‏ ووفوں بھیلیو ںکو الٹھااڑی زی مارنانس بر تع مکرنا سج ہو۔ 

8.۳ لس مقام سے جاں سر کے پل گے ہیں بھنووں اور پک کے اویر کک سادی بای 
اور ای کے دونویں طرف روٹوں جتھیلیوں کا پھر اور اعقیاطا“ چا نے کہ پاتھ بھنووں بر بھی 
تھیرے جاہیں۔ 

۴ چاھیں مت یکو داتئیں بات کی تام بشت بر اور اس کے بعد دنیں تق کو بای اتھ کی 
قام یقت پ مجیہیا۔ 

لہ ٭٭ے ے اقلط صخب یہ ےکہ جم خواہ وضو کے برئے ہو با مل کے بدئے اس ترحیب 

سکیا جائے۔ ایک دفعہ پاتھ زین پیر مارے جانیں اور خانی اور پاتھو ں کی پشت پر پچھیرے جانھیں اور 

چھرایک رفعہ زین پر مارے جاٗیں اور ہاتھو ں کی پشت کا کیا جائے۔ 


کم کے ایام 


مستلہ اھ ذ ار ایک نس بغانی ما تو ںکی یقت کے زرا سے جح کاھی نسح کرے تو ای 
کا یم پل ہے قٹع خظراں سےکہ اس نے عودرا”ضج نکیا ہو یا متلہ نہ جادنا ہو یا متلہ بھو لیا ہو 
ٹن زیادہ باریک بن ی کی ضردرت بھی نمیں۔ اکر می کھا جاک کہ تام شائی در اتھوں کا سح ہو کیا بت 
اتی کالی ے۔ 

مسیلہ م مھت ملق شنن سک اب ےکہ اس بات کا امیا نکرنے کے مل کہ پا کی قام پشت کا 
اکر لیا ہے کلائی سے قدرے اوبر والے جھے کا سج بھی کرے لیکن انگیوں کے درمیان سح کر 
ضردری میں 

ستلہ سے ملق مخ سکو اق طکی بنا بر چا کہ خائی اور پاتھوں کی پشت کا سح اوپ نے 
یچ کی جن بکرے اور اس کے افعال لیک دوسرے سے مکل جیا لانا ضرروی+ہے۔ اور اکر ان اقعال 
کے درمیان اتا فانصلہ ز کہ لوگ یہ ھی یک ھکر را سے تر اس کا ھم یل ے۔ : 








[ادبلياا 





من مم ؛ مہ مخ سکو چا ےکہ نی تکرتے وقت اس بات کا شی نکر ےککہ اس کا 3 
کے بے ہے یا وضو کے پرنے اور اگمرضسل کے پرئے ہو تو چای ےک خسل کا شی نکرے اور 
آلر اس پ ایک نم ونب ہو اور فی ت کر کہ مج اس وت انا وظیفہ امجام دے رہا ہول نو 
یں میں اش کرے لین ا کا نم تچ ے۔ 

مل نے ؟ اعقط وام بکی با بر مہ صورت میں جم میں پاتھو ںکی ہتیلیاں اور اتھوں گی 
سام ود : 

مستلہ ےئ این کر پا ےکہ تھ کرتے وت اگوی پمتھ سے انار دے اور لک شال ىا 
تو ںکی یشت یا جتیلیوں رکوئی رکاوٹ ہو لا ار لن ب ےکوئی جن یل ہوٹی ٭ ۃ اے نارے۔ 
مل ےے : أل ر کی مخ سکی انی یا تو ںکی نت بر زئم ہو اور اس ےڑا یا کوئی دوسری 
یبن ھی ہو جن سک وکھولا نہ جا سنا ہو تو اسے باب کہ اس کے وب پاتھ پھیرے اور أگمر جیلی زٹی ہو 
اور ال ےڑا اکوگی دوسری چز بن رھی ہو ضے کھولا ا نہ جا کنا ہو چا ےک کپڑے درو سمبیت امھ ال 
یر مارے ی۹س > کرنا تجح ہو اور اس جن بر مارے ۶ نی ج مکرا مجح ہو اور پھر شال اور 


اتھو ںکی بشت پر جھیرے۔ 


سیل ہم : مم ری مخ سک بنانی اور پتھو ںکی پت بر پل ہوں تر حرج خیں شین اکر 7 
کہ پل شال بر آ بڑے ہوں و چا ےکہ انیس جچچے نادے۔ 

مہ دس ؟ اراس ا کا ال دک مہ مخ کی یئل لور تیایوں یھو نکی پش پ 
کوئی رکایٹ سے اور سے اخقال لوگ ںکی نظروں میں جیا ہو و اسے چا کہ چھان یی نکرے کہ اسے 
گن ار ا یتان ہو جات کہ رکاوٹ موجود یں ہے۔ ۱ 

مل ماے : ذ اکر سی مخصس کا وظیف کم ہو اور وہ مم ےکر سکیا ہو تو اسے چا ےک ہکم یک ا 
غاب بے اور جو اتب نے اسے پا ےک مععاقہ من سکو خور اس کے پہتہ سے مھ کراے اور آگر اییا 
کرتا کن نہ ہو تو ناخ ب کو جا کہ لپا ہاتھ انس بییی مارے نج پہ جھ مکرنا تج ہو اور اس شخنح سکی 
انی اور پاتھو ںکی ایت پر چیرے۔- 








توضیح‌المسائل ١‏ __( 278ا 






مل اءغ ٭ ا رکوئی مض حم کے دودان می شی ک کر ےکہ آیا دہ اس کاکوئی حصہ بھول میا 
ہے ما نہیں اور اس صھے کا مو گز رگیا ہو ق دہ اپنے شیک کا فاط نکرے اور ار موقع ی گزرا ہوا 
چا نے کہ اس تھے کر بالاۓ۔ - 


سنہ ملح : اگ ری نس کو بائیں ات کاٴ ح کرنے کے بعد کک ہو لہ گی ای نے جم 
درس تکیا ہے یا غمیں اور آگر ہے ال ہ وکہ وہ ھمکا عل سرانعام ریے وتت حوج ھا کہ کم نم 
ایام رے) ت3 اس کا جم ضجچ ہے اور اکر اس کا شک بای تہ کے سکم کے بارس می ہو ق اس کے 
لیے ضردری ہ کہ اس کاس جکرے سوائے اس کے جب اس نس نےکوکی ایا کا م کیا ہو تس مک 
لیے ارت شرط سے یا جب ناسل شت ہوگیا ہوں 


مہ سے ٠‏ جس منس کا وظیفہ کم ہو دہ از کے وقت سے پل خماز ہے لیے بجھم نہیں کر 
سا نین لہ اس نے کسی ددسرے داجب پا مب کلم کے 0 غاز کے وت جک ای 
کا عدد جائی ہو (ش کی وجہ سے اس کا وظیہ کت جھر کے ساتھ ناز پھھ سکتا ہے۔ 
مل س"٭ے : جس مخ کا وظیظہ تم ہو اکر اسے علم ہوکہ آخھ وت مل اس کا عذر بای رت 
گا وت دس ہووت ہوئئے دو مم کے عاتتھ نماز ہن سکتا ہے لین آمر و چان 1 وکہ آثر وقڑیں تک 
اس کا عذر برطرف ہو جائے گا اسے چا ےکہ اتا رکرے اور وضو یا ٠س‏ لکرنہ از پڑھے لہ می 
اسے امید ہوکیہ اس کا عذر برطرف ہو جائۓ گان داجب ہہ بج کہ اتظا رکرے کو نماز وضو یا نو لک 
کے پا یا جب وقت تک ہو جائے تر ھکر کے ڑھے۔ 

تہ ھا :اگ رکوئی خخس وضو یاٹسل نکر سکتا ہو اور اے نقین یا اعشال ہوکہ ای کاعذر ددد 
ہونے والا میں تو و انی تضا نمازیی یم کے ساتھ پڑت متا ہے مین آکر بعد می مر برطرف ہہ 
جائے و اسے چا ب کہ دہ نمازییں وضو یا تس لکر کے ووبارہ بڑھے_ 

ہل کے : جھ مخس وضو پا تل نہک متا ہو اس کے لیے جانز ہے کہ ۲س تهعبی نمازی وان 
رات کے ان فوائ ل کی طرع ہن کا وت مین ہے تح ھکر کے پوس لان گل انل و کہ خر وو 
تک اس کا عذر رطرف ہو جائے گانز احوط یہ ہےکہ دہ نمازیں ان کے اول دقت می نہ بڑھے۔ 





دع 7500 5 ل377 لہ 


متا مواے ٠‏ جس مخصس نے امقاط“ تل .اور میھمکیا +× ( خلا کر ا سکی بش پر زم 
۱ +و) نر وو 7ھ کی ون نماز بڑھ اور نماز کے بعد ای سے مدت اتخر مار۔ مھ از یئ 
یثاب کر ہے و وہ لیر گی مازوں ۔ یں وی کے رنے اعیاظطا“ ھک ت1 اور وضو بھی ےت 4 
لہ ۸ے ٭ ہکوئی نس نی نہ لن ےکی وج سے اتی اود عذ کی بنا یرجھ رہ تو عزر کے 
برطرف ہو جانے کے بعد اس تا نبال ہو جا ے۔ 
مل ۹ے ٠‏ جھ بیزیں وضو کو با ل ککرّی ہیں وہ وضو کے پدلے کی و ہے ھ۸ × :کو بھی پا شک نی 
اور تو یں نل کو پان لک تی ہیں دہ تل کے بد نے کے ہو یں کو بھی پاف سکھرتی ہیں۔ 
مل ۰ے : مر وی خس ضسل نکر سنا ہو اور چنر کل اواب ہیں قایس کے لئے 
از س کہ ان نساہں کے پر لے آیک جھ کرتے اور اظیاطہ تب ہہ ہے کہ ان مساوں میں سے ہہ 
ا ا ا 


7: 





ستلہ سے ج جو مخ ضسل ۔ کر عکتا ہو آگر و وکوکی ایی کام انام دنا جات جس کھ لیے تل 
واجب ہر او لے ات تکہ قضحل کے برنے کو گر سا ہو گر وو کوتی ایا 


ام انام دینا جات ٹس کے نے وضو واہہب ہو لو اے 





مستلہ گے ؟ ا رکوتی خفس ضس جات کے بر لے تھ کرنے تو ای کے لیے نما کی ناطروضو 


ککرنا طردری خییں یکن اکر دومرے فغسعیں کے پد لیے ش رکرے نو وو مھ وض کی کفایت مخ می ں گرا 


لیا ار وو وضو نکر کک تو اسے چا کہ جج ہکھرے۔ 

سیل س کے ؟ اگ ر کی شس نل بتیت کے بے تتھ کرے یکن بعد میں اس کی الڑی 
ضوررت نت کت 
ہو ٗاۓ فیانل لہ نی کے زگ کرے اور اعتیاط حبف بی جک وط 7 یھ یکر ے 


لہ مع ٠.‏ ہب کی خصس کے لیے لازم ہ وک کوئی لم سرانعیام رین کے لیے تل نمماز یڑ جن 


ان 


کے .لیے وضو اور تل کے پ لے مھ کرے نے اگو وہ پل نجعہ میں وضسو کے بدل کی نیت یا گنی جے 








یرس سو چجووسوحبصجوبصجسرج تک تتھتککک 


توضی‌المسائل _ اڑا 8تدا 


بد لکی عی تکرے کور دوسرا مجھہ اپنے وظیھکو سراخجام دی ےکی نیت سےکرے فو مہ کانی ہے۔ 


سنہ ۵ سے : جس نس کا وغیفہ جم ہو اکر دوکسی کام کے لی سح رکھرے تو جب کک ایس کا 
بھ اور عذر باتی ہے بدہ ان کامو ں کو سرانلم رے سنا سے جو وضو یا تس ل کر کے کرنے چائئیں من 
مر اس کا عزر وق تکی شی ہو یا اس نے پان ہوتے ہوے نماز میت پا سونے کے لیے دویڈ ہا 
فا دوکام انجام رے سکتا ہے جن کے لیے اس نے تچ کیا ہو 


٦ 


مل ۶ے : ند صورتوں میں بعر ہ ےکہ جو نمازسں انان نے تم کہ ساتھ بھی ہوں ا نکی 

نظاگرے۔ : 

اویل :نہ کہ پپٹی کے استعل سے ذر ہو اور اس نے جان بوج ھکر اپنے آ پ کو جنب کر یا 
جو اور جھ کر کے نما یھی ہو۔ ۱ 

روم کہ ىہ جانے ہوئے ہا مان رت ہو ے کہ ات پالی شرائل گے ک۶ا ان آ پک 
حسب کر اہو اور مک کے نماز بای ہوں 

سوم ٠‏ سے کہ آخھ وقت تک پل ی کی عاش می ن جا اور تھ ھکر کے نماز پڑھے اور پور 
میں اسے پت کہ آلر علائ شک رو اسے پائی مل جاا۔ 

ارم : سے کہ جان بوجھ کر نماز پڑھے میں مج رکی ہو اور آخر وقت میں ھکر کے نماز 
بی ہو 

مم : ہے جانے ہوئے یا گان رھت ہوئے کہ پالی ین نے کا پا یل اس کے پا تھا 
اسے استعا یک میا یا ضائ کر رے۔ 


درتی ال میں سے نماز بمترین گل ہے۔ الہ درگاہ انی میس قول ہو گنی نز دو سری ععبادات بھی 
قبول ہو جاتیں گی اور آکر سے قبول نہ ہہوئی نو دوصرے اعمال بھی قول نہ ہوں نے جس طرع انمان اھر 





7 


. لے وی 0.1 7 0 
دہ ضریں خماے ہو فو اس کے بدن پر متل پیل نیس رہتی ای طرح نماز جن 
گا نہ بھی انسا ن کو گنادوں ستت پک کر دی سے اور بحتر کہ انان نا نماز ایل ونت ت میں بڑگمے اور تو 


دن رات ہل 





نرضیچالسائ نے سے سے ...۸3729.07 


نخس نما کو معمول اور خیبراہہم جج وہ اس شخ سکی مامند سے جو نماز مہ بڑھنا ہو۔ وہر اکم صلی ان 
علیہ وآلہ وسلم نے فرایاکہ جو شس نما زکو ایحیت نہ رے اور اسے مو بن گے وہ زاب آغرت کا 
تق جے۔ ایک دن رسول الم مل افہ علیہ وقل؟ وسلم محر میں تریف کت 
راقل ہوا اور نماز و جن ہیں “ شفرل ہوگیا ان رگرغ اور جور مل طور پر بجاد ا اں ےر تضور 
نلم صلی ایفہ علیہ وآلہ دسلم نے فرا یاکہ أگمر بی شف اس عالت میں مرجاقے بیمہ اس کے نماز ڑج 
نا طراقہ ہج لو مارے دین 7 بر یں مرے گا۔ یں انبا نکو خیال رکنا چا ۓل از جال ری بلدی 
نہ بڑھ اور نما زکی مات میں دای یاد مم رسے اور خشوع و حضوع اور جویدگی ۔سے ما ہا مہ اور ہے 
قلق ری خی تن بے کا گر را ہے اور اپنے آپ کو غداوند عالم کی عحمت اور مز کی سک 
ا0ج بے مع ریا اور ناجنزز تس ھھ اور اگر انان ماز کے رت ری رخ ان الو ں کی طرف ٭توجہ 
ے خر بد جانا ہے ہعیساکہ نما زکی حالت میں اہی المومنین * 






ایا گیا اور آپ" کو خرتف ز ہوگی۔ دوہ ازس نماز یش والے 





ے اور نہ صرف و وکناد جو نماز قبول ہونے میں ماع جیں ( شا یر بر 
7 آور مشروجات چنا اور سی اور زج کا ارا نہ کر) رک کرے بللہ قام“ مناو رن تر رے اور ای 
رع بر کہ جو قام نماز کا نوا بگمفات ہیں وو ہکرت ملا ارگ نکی حالت میں با یقاب رو کف کر 


نماز کے لیے رکھڑا ہو اور نماز سے موق آسان کی جانب نہ دک اور وہ خام کر جو نماز کا اپ 


:۰ ۰ ۱ کت ت۳ ٤‏ 
بڑھائے ہیں شا خیق کی انم کی نے اور پاگیزہ لاس نے اور میلس اور مواگ نرے اور جوتجو 


(٤ 30 _ ١ توضیچالسائل__۔ ے‎ 


۵ .. جا پک تا نمازیں جو بڑے بج پر واجب یں۔ 
جن جو نماڑیں اچاروٴ نزر“ 2 اور عیر ے واجچب ہوجاتی اور نماز بد روزاد نماڑزوں 
یل سے ہے۔ 


روزا کی واجب نمازیی 

مراور خصر) جرایک چار رکعت ) مغرب (قمن رکعت ) حقاء (چار رلعت) اور ہٌُ 
(رو رگعت)۔ 
مل ے ط۲ے : جب انسان سر میں ہو تق اسے چا کہ چار رکعت وا ی نمازیں ان شرائیا کے 
سا جذ بعند ٹس میان ہو ں گی ( عق کر کے )"ود رکعت پڑھے۔ 
براور عصری نما زکارقت 
مہ ۸ے اگ تھڑی کسی اور اڑی ہی سبدھی کو ( صے خاضص کت ہیں) بمدار زین شس 
گاڑا جاۓ نو سج کے دقت جب آفاب ططوم ہوتا ہج اس کا علیہ مغخر ب کی طرف پڑنا سے اور جوں 
جوں سزرع اونچا ہوا جانا سے اس کا سا کھنتا جانا سے اور ہمارے شعروں میس اول ظمر شرٹی کے وقت 
تی کے تی درس پے تی جانا سے اور کک زرنے کے بعد کے وڈ ق کی کے آخری ددرت پر تن 
جانا ہے اور ظ مگزرنے کے بعد اس کا سب مشرق نی طرف ہو جانا اور ہوں جوں سورح مفرب گی 
طرف ڈھلتا ہے ساہ بڑھتا جانا ہے اس بنا بر جب سل کی کے آ ری درب کک یچ اور ردبارہ ہو 
کہ 7 پھ لا ےک خر شرٹی کا وت ہو گیا سے لیان مض شروں میسن مشلا کہ میں جراں محض اوقات 
مر کے وقت ساہ پلکل تم ہو جانا بے جب سل دوبارہ ظاہر ہوا سے فو معلوم ہوا ہے کہ ظ مرکا وقت 
ہوگیاتے۔ 


مل ۹ھ وی خمراور حصرکی مماز کا وت زوال تاب کے بعد سے غروب آقاب تک سے من 


اگ ر کوئی خر جان سو بھ ویک حے و اس کی عص مکی نماز انگل ےت 
اسوائۓے اس کہ آنخری بت کک ایک نماز سے زیادہ پڑ ھن کا وت باتی نہ ہو کوگہ ال صورت 


میں لہ ای نے فم رکی از میں پڑھی ا رسک * جا کہ شھرکی نما 





توفیچالسائل ہے سے ا [.۱381ا 


جے اور اگ رکوتئی نس اس ونت سے لے غاد مض کی بنا بر خصرکی بودری فماز کی نا سے کے ڑھ 
جوم وس وج سجمجعست 


چار رکعت اور ڑحے۔ 


۲ 
2 
ہ8 
ا 


مل ٭ سے ؟ ا رکوتی خخس ندری از یی سے پلہ شی سے خعصرکی خماز پڑ نے تک جا 

اور نماز کے روران اسے پت کہ اس سے شی ہوئی ہے تو اسے جا ےکہ غیت نماز ن کی جاب 

پیر رے نشی می ت کر ےک جو پک می بڑھ چکا نہوں اور پڑھ ربا ہوں اور بہوں گا وہ قمام کی نام نماز 

رت اور جب نماز ش مکھرے ق وس کے بعد عصرکی مماز بڑھے۔ 

ہچ کی نماز 

مستلہ سے بج کی فاز شک نما زکی رح رد رکعت ہوٹی ے۔ اس میں اور مج کی نماز میں 

رق بی ےک اس مار سے پےےہ دو شلجہ بھی ہیں۔ جع کی نماز راہب تن مع کی نماز داب ہو نے گی 

ند شرائط میں جس ہیں۔ 

ول وقت کا واخل جونا جو کہ زدال آقاب سے اور اظمریہ ہے کہ افص کے سائے کے 
مافس کے ابر ہوے تک اس نماز کا وت ررہتا سے لہمرا اکر سائے کک ک شابس کے برابر 
ہونے تک جع کی نمماز اراکھرنے میں اقیر ہو جاے قو اس کا وقت شخم ہو جانا اور پھر ظمر 
کی غا اوا کر چا یے۔ ۱ 

روم نماز پو جن والو ںکی تعدار پاچ اشفا ہیں جن میں سے ایب لام ہو تج ہے۔ 

سم ام جع کا ایام ممرم ہوا ضردری سے پا اس کا جب خاص یا مد جائخع شرائا نوئی 
مبسوط الیر ہو بصورت دنر رجاء مطلوبیت کی نیت سے بڑہیں اور فھممکو واجب گی نیت سے 
پڑھنا ہو گا 

ول جع کی نماز کے حئجح ہدن ےکی جند شرائد ہیں۔ 

لل : مات سے پڑھا جا یں سے نماز فاوی ااکرنا سج نہیں اور جب نقری مکی نماز 

کی ددمری رکعت کے رکوخغ سے پ لے امام کے ساتھ ائل ہو جائۓ و اس کی نماز کی سے 
اور وو اس نماز پر ایک کات کا اشافہ کرے گا اور آکر دو رکوع میں ایام کو نے (مژنی نماز 


توفیچالسائ ہے مرج 09ل 


یس شال ہہ جاۓ) ‏ ا سک نماز کا مجع ہونا مکل سہے اور اعقاط ترک میں ہوتّی لی 
اسے ظمری نماز بجی چاے)۔ 
وم نفماز سے پ لے وو فطیہ پڑہنا جن میس سے پل فلے مس نطیب ال تال کی مد دم میان 
کرے اور نمازلو ن کو تقوئی اور ہیزگار ی کی تلق نکرے اور قرآن بجی کا ایک سورہ پڑھھے 
بعد مم بیٹھ جاۓ اور پچھر ال ھکھڑا ہو اور دوبارہ اللہ تال کی مھ و ما بھا لاۓ اور نظ راگرم 
اور ملرانوں کے تمہ بر صلوق بی اورموسین اور مومنات کے لیے امتغفار (نق کی رعا) 
رے اور مضروری سے کہ لہ نفماز سے پل بسح جتیں ہیں اگر نماز وو ٴ جک 
شوخ کر لی جاۓ نز گج فمیس ہوگی اور زوال آفناب سے لہ ففطبوں کا با ہنا جائز لئ جن 
زدال کے بعد بڑھن تر ہے اور ضروری ہےکہ جو مخصس شلی پڑھے وہ خلت ات 
کو ۱ 
ادا اکر وو یل کر غطی بس گا تع فیس ہوگا اور دو خعلیوں کے درمیان جیٹ ھکر 
الہ دنا ضروری اور واجب ہے اور ضروری سے کہ ہنا مختمراور خخیف ہو اور بھی 
ضروزی ہت کہ امام جماعت اور خلب تی جو مخنس خی ھھ) ایک بی ہس ہو اور زبارہ 
7 قزی امرب ہے کہ لیے مم طمارت شر نمی سے الرچہ (اند میں “نج رخمیں ہے ماسوا اس 
کے کہ عاضین ع بی زان نہ جانے ہوں جج بکہ اس صورت میں با وص تتو کی تلقین 
کرتے ہوئے احوط ہے ہےکہ عرل یکن او حاشی نکی زین اکر اتل کی جامیں۔ 
سوم : ہے گہ بجع کی دو نمازیں کے ورمیان یک فرع نی ۵۵۸۰ میٹر تو پاچ کلمیٹر اور ای 
بیط صافت سے سح ےکم نہ ہو۔ لی جب جع کی دوسری نماز لک فرع ےکم فاک پہ 
قائم ہو اور دو نمازیں یگ وقت بی جلنئیں ف رونوں باٹل ہوںکی اور آھر ایک نما ز کہ 
مد مر 4 سیقت عاصل. ہو خواہ دو گر الاترام کی ععد تک بی کیوں نہ ہو ا و ماز ٹن 
ضے سبقت عاصل ہو ) کی وی اور بومری اٹل ہی لکن الہ جع کی نماز کے بڑھے 
جانے کے بعد پت چ کہ ایک فرح ےک فاصلہ پر جمعہ کی آیک اور نماز اس نماز سے پیل یا .پچ 
اس کے ساتتھ ساتھ قائم موئی تی نلم رکی نماز واجب خییں ہوگی اور ای ے کوٹی فری 
یں پا ناکہ اس بات کا علم دقت میں ہو یا وت کے بعد ہو اور جمعہ کی نماز کا قائم رن برگورہ 


ىػًٍ٘ػًًٛ٘٘ج ‌ سے 





ناحلہ سے انور مم کی دوسری نماز قا مکرنے میں اس دقت ملع ہوت ہے جب وہ نما خوو و 
اور جا شرا ئا ہو ورنہ تہ ہوگی- 
میں ےت ×زشت ‏ 2 08 


وااب نے اور عاضری کے وجوب کے ملین چند چیں محجرہیں۔ 
ایل : وت مکئف مہ ہو اور عورتویل کا جمو کے ہے نماز ٹں عاضر ہوا واجہب کی 


دوم ؛ آزادی ۔ نذا خلاسوں کے لیے بجع کی ہماز میں عاضر ہونا واجب میں ہے۔ 
سوم ‏ حاضر ہوناٴ نذا سافر کے لیے جع کی نماز می شال ہونا داب نمی لو۔ اں بات سے 


گواتی فرق نہیں یڑ کہ نماز زی سافرکی لیف مہو یا اس مساف کی طر یس نے افاصت 
کات کیا ہو ری ۔ 
: مارک اور ارگ پن سے فیا“ یزا تار اور ترے صس ہت 11 ماز وادب 


ہیں تے۔ 


یمج بوڑھانہ ہونا“ نذا ہوڑھے مرڑوں پر ہ نماز واجب شیں۔ 


غ 


مغ بے کہ خود اضان کے اور اس جلہ کے زرسیان جریں جم کی نماد تام ہو رو رق سے 
زیادہ فاعصلہ شہ ہو اور جو شخخیس دو فر کے ممربر ہو اس کے بے عاضر ہو واجب ہے اور 
ای طرع ایک ایے مس کے لیے جس کے لیے بجع کی نماز میں حاض ہو مشکل ہو حاظر 
بونا وانب میں ہے لہ بعد خمیں ہ ےکہ ار سنہ رس رہ ہو نے حاضر ہونا واجب نہ ہو خواہ 
اس کے لیے عاضرہونا کسی گی یا تکلیف کا موجب نہ ہو۔ 

مل ب ے : چند انقام شن کا تلق جع کی نماز سے ہے مہ ہیں۔ 

ایل : جس یسپ سے ہم گی نماز ساقط ہو گی ہو اور اس کا اس نماز میں عاضر ہو واجآب 

ہو اس کے لیے جات ہ ےک"ہ ظ مرک نماز کول وقت میں اداکرنے کے ین بل تی کرے۔ 
روم گر کی حخصس کے خمرمیں جائع شرائا جم کی نماز قائم ہوکی ہو نے اتا ط کی بنا یر اس 
نس کے لیے ہہ بائمز خی سکہ زوال آقاب کے بعد سر شرد جرب 
عوم ‏ جب ام خطبہ پڑ صن میں مشفول ہو تو باتی ںکرنا جائز یں ےے۔ 


توضیج المسائل_ [_ 184 


ارم ٠‏ ار اتا رونیں خطپوں کا تمہ سے سنا واجعب سے مین جو لوگ مبوں کے می 
نہ ھت ہوں ان کے لیے قوج سے سنا واجعب نمی ہے۔ 

مم بجع کے د نکی دوسری ازان برعت اور ہہ وی ازان ہے ضے عام طور بر تیسری لزان کا 
نام دا جا ےے۔ 

مم : ظاہربہ ہ ےکم جب امام خطبہ بڑھ ر ہو ٹر عاطر ہو واجب ے۔ 

شم ‏ جب جع کی ناز کے لیے ازان دی جاری ہو تز خریر فروشت اس صورت میں جب کہ 
دہ نماز میں مال ہو عرام سے اور گر ایبانہ ہو نز پھر ترام ٹیش سے اور اظری ‏ ےکہ خریرو 
فردرشت عرام ہون ےکی صورت میں بھی معلمہ بانٹل نی ہویا۔ 

ہم : ال ر بی خنص پر جع کی نماز می عاضر ہونا واجب ہو اور وہ اس نما ز کو ترک کرے 
اور مرکی نماز یا لا نو اظمریہ ہ کہ ا کی نماز سج ہو گی۔ 

مغرب اور عشاء کی نما زکاوت 

مکل "٢‏ سے ٠‏ راہب ےہ ےکہ جب کک مفر قکی جان بکی صرفی جو ور خررب ہولے کے 

بعد ناب ہوتی ہے انسان کے سرب سے نرگزہ جائۓ وہ مخ ب کی نماز نہ پڑڑے۔ 

مہ ۵ ص ے٠‏ مغرب اور عشاءءکی نماز کا وت آرھی رات کک سے لیکن اکر عشا کی نماز موجہ 

ہوتے ہو مخر بک نماز سے پچلہ بھی جاۓ فو وہ ال سے ماسوا اس ک کہ عشا کی نماز اداککرتے 

کی مقدار سے زیادہ دقت باقی نہ ہو کوکہ اس صورت میس ضردری سے کہ نماز عخاء ماز مطرب سے 

پل ھی جا 

لہ ۹ے ذ اگ رکوئی مس خلو تم یىی بنا یر مشاء کی خماز مخر بک نماز سے پھلہ باھھ لے اور 

نماز کے بعد اس ام رکی جانب متوجہ ہو تر ا کی نماز سخ ہے اور اسے اہ ےکہ مغ بک نماز اس کے 

پر ڑے۔ 

مستلہ سے سے ٠‏ اگ رکئی مخص مغخر بک نماز پڑھنے سے پل عشاء کی نماز پڑ ھن گے اور نماز کے 

دوران میں اسے پت کہ اسے خی کی ہے اور ابی دہ چو تھی رکعت کے رکم کک نہ نیا ہو 





توضیحالمسائل ' ),[1حھمدت.ا 


اسے چا ےکہ نیت ت مض بک نما نکی طرف پھیررے اور نما مکرے اور بعد میں حا ءکی نماز بے 
ین اگر چو تی کم تج یی کت جا کس 
کے بعد عخامءکی نماز بڑھھے۔ 

مستیلہ ۸ س ےئ" عفخاع کی نماز کا آخری وت آرعی رات سے اور رات کا صاب اول ٹ روپ 
آفاب سے ابتدراۓے طلوغ آغخاب ک کک پاڑے۔ 

مل ۹ک ٠‏ ا رکوئی من سمناہ“٘تے ہوئے بای ع کی وجہ سے مغرب پا عشاء کی نماز 
آوعی رات تک نہ پا سے قے اعقیاط واج بک بنا یر اسے جا کہ تٌ کی ازان سے پیلے سے اوا اور قشا 
کی نیت کے اغیردہ نماز یھ لے۔ 


کی نما زکاوقت 
مل یں 9وہ مکی ازان کے قریب مشرق کی طرف سے سفیدری لوب اشتی ہے جے ہاو لکما 
5٦‏ ہے جب ہہ سفیئی کیل جاہے قہ وہ مساق کی نا کا یل دقت ہے مورک کی نا٢‏ 


آنری وت سورع لگن تک ے۔ 
مار کے وقت کے احکام 


سلہ کے : انان نماز میں اس وت مشغول ہو سنا سے جب اسے لین ہو جا ۓکہ وقت 
ال ہ وکیا ہے یا دو عاول عرد وت واخل ہوٹ کی خبردیں بج کسی وقت ناس اوز ایل المینان نس 
کی ازان پر یا وت واشل ہونے کے پارے میں اس کے خجردیے بر بھی اکتناکیا جا کنا ہے۔ 

ستلہ ٢مھ‏ ا رکوئی مس نماز کے اول وت می پادل نا غبار کی وجہ سے وقت کے داشل 
ہوے کا لقن کر کے لیکن مگمان رکتا ہو کہ وقت واشل ہوگیا ہے قے دہ نماز میں مشول ہو سکتا ہے 
ام جن باوں میس وقت بپھا نے کے بارے میں نرکلوٹ مضصی ہو لا نابینا ہونا یا قیدرخانے یس ہجوت" ان 
می اط واجب بر رہ ےکہ نما پان مم فی رکرے کہ اسے نین با اٹمینان ہو جا ےک وقت 
داشل ہوگیا ے۔ 





توضیح‌المسائل ۰ ہے تج مو ا 56 
مستلہ امھ ؟. اکر زرکورہ پالا قراشی می سے کی ایک کے مطب کی من سک افمیزان ہو جچاے 
کہ نماز کا دقتپ ہوگیا ہے اور نماز میں مشغول ہو جاۓ لکن نماز کے دوران میں اسے چعھ کہ ای 
وقت داشٹل نہیں ہوا نے اس کی نماز باٹل ہے اور ار نماز کے بعد پت کہ ای نے ساری نماز وقت 
سے پچ لہ بھی سے نو اس کے لیے بھی یسیک نے ہے اور اضیاط کی بنا بر اکر نماز نے روران میں اے پت 
ہچ کہ وقت داشل ہو گیا ہے یا از کے بعد پع کہ نمماز پڑت ہوئے وقت راشل ہوگیا تھا تو 
وا ماز پڑہے۔ 
مستلہ ۴ مھ ؟ اگ رکوئی خس اس امرکی جاب موم نہ ہوکہ وت کے بافل ہونے کا قی نکر 
کے نماز میں مشفول جوا چان شن نماز کے بعد اسے معلوم ہ کہ ای نے ساد کی نماز وت میں بی 
ہے ٹر ا کی نماز جح سے اور گر اسے ہہ پت یل جائے کہ اس نے وقت ےہ پچلکے نماز بھی سج پا 
اس سے چپ نہ چ کہ دقت میں بھی ہے یا دنت سے پلےے بھی بے تر ا کی نماز پالل سے بک لہ 
ما کے بعد اسے پت کہ نماز کے دوران می وت وائل گیا تھا تب بی راو 
گار پڑھے۔ 
تہ ۵ مھ . اگ کی من کو تین ہ کہ وت داخل ہو گیاہے اور غماز یو نے گے لیکن نماز 
کے دوران میس ک کر ےکہ وقت دال ہوا ہے یا یں تاس کی نماز پل ہے لیکن اکر نماز کے ٠‏ 
دوران میں اسے لین ہوکہ وت واشل ہوگیا ہے اور کف کر ے کہ جشٹی نماز ھی ہے وہ وت مس 
پڑھی ہے ما نیں تو ا کی ماز مجع ہے۔ 
مل ۴۹ے ؟ ار نماز کا وت اتا تک ہوک نماز کے مض تب افعال بجالانے سے نا کیپ 
و مقدار وقت کے بعد پڑھنی تی ہو قز متعاقہ نس کو جات ےکر ستحب اسور نہ بجا لاۓ ملا قوت ڑم 
کی وجہ سے نما ز کا یھ حصہ وقت کے بعد پڑھنا نا ہو تو اسے اہ ےکہ قوت نہ بڑھے۔ 
مل ے١‏ ےس ٠:‏ جس فیس کے پاس نما زکی ایک رکعت اراکرنے کے اندازے سے وقت ہو ات 
چا کہ نماز اداکرنے کی غیت سے بڑھھ البتہ اسے ىہ نیس چا ےکہ نما زکو پان بوج ھکر ای رت 
تک التڑا یں ڈانے- ۱ 





تونوانسئہا سے رھ 
مل ۶۸ے : جو نس سفرمیں نہ ہو گر اس کے اس خروب آقاب کک پا رکعت نماز پو سن 
کے اندازے کے مطابق وقت ہو تو اسے چا کہ ظمراور عحص رکی دوفوں نخمازیں پٹ ھے لین اگمر اس کے 
پاش اس ےکم وقت ہو اسے پاب کہ صرف ععری نماز بت اور بعد میں ظمرکی نماز تذاککرے 
اور ای طرع اکر آوھی رات تک اس کے پا پاچ رکعت بڑ سے کے اندازے کے مطابق وقت ہو تڑ 
ات پچاسی ےکہ مغرب اؤز عخا کی نماز پٹ ھے اور اگر وت اس س ےکم ہو تو اسے ای ےکہ صرف عخاء 
کی نماز بد ھے اور بعد میں مخر ب کی نماز بڑ ھم۔ 
مستلہ ۹ے ٠‏ جو مس سر ہو اکر غروب آقاب کک اس کے پا خن رکعت نماز با نے کے 
اندازے کے مطااق دقت ہو تڑ اسے چا کہ ظمراور عع کی نماز پڑھے اور گر اس ےکم وقت رکتا 
نوج کے کر غراف خصر یڑ ھھے اور بعد میس نماز ‏ ری قضاکرے اور اکر دی رات تک اس کے پالں 
پار مت نماز پڑجنے کے اندازے کے مطابق دقت ہو تق اسے پا ےکہ مغرب اور عشاء کی نماز پڑ ھھے 
اور اگمر اس ےکم وت رکتا ہو تق چا ےکہ یشاءکی نماز ا سے اور بعر میں مغرب پر صھے اور اکر نماز 
عشاء بسن کے بعد معلومم ہ وکہ آرھی رات ہونے میں ایگ رکعت ما اس سے زیادہ مقدار کے مطالقی 
دنت بالی سے و اسے جار کہ نماز مغرب فور اراکی میت سے پٹ ہھے۔ 
مستلہ مھ ے : انان کے لیے شخب کہ نماز اول وقت میں بڑ سے اور اس کے ملق بے 
بی کی کی ہے اور جقنا ول وت کے قریب ہو مر ہے ماسوا اس کےکہ اس میں پافی کسی وجہ سے بر 
ہو ملا اس لیے انطارکھرےکہ نماز جحماعت کے سا بڑ ھھے۔ 
لہ لے ؛ جب انا نکوئی ایا مذر رتا ہ وکہ اکر اول وت میں نماز بڑھنا چاے قاع مکر 
کے نماز بن پر مجبور ہو اور اسے عم ہوکہ اس کلعزر آخر دقت کک بتی رہے گا تو وہ اول وت مل 
از یھ مکنا ہے لیکن آلہ اس بات کا اضول ہ کہ اس کا عزر ددر ہو جاۓ گان اسے چا ےکہ اتظار 
نکرے کہ اس گار رور ہو جائۓ اور گر اس کاعزر دور شہ ہو تر آنخر وقت میں نماز پڑھھ اوزہہ 

٣‏ ضرددی نمی کہ اس فدر انظا رکرےکہ نماز کے صرف واجب افعال انجام رسے گے لہ اک انی کے 
اس مستقبت نماز (شلا ازان اور اقامت اور قوت ) کے لیے بھی وقت ہو تو وہ حح مکر کے ان 
صقرت کے ساتچھ نماز اوانمر سکیا ہے اور دوسری تھوروں کی صورت میں جو ک مکرنے کا سبب ئر 





توضیِ‌العسائل ل_ ۱88 1 


ہوں اگر اس ام رکا اشال بہوسہ اس کا عر بائی رہے تو اس کے لیے جائز سے لہ اویل وقت میں نماز 
بڑھے ین اگر رت ا کے ووران میں (شّن ۲ر7 وت تی گمزرۓ یت2 کک اں ا عذر دور و جاۓے٤‏ 2 
ضوری ےکی دوپارم نماز پڑھے۔ 


متلہ ۵۳ے ؟ اکر ایک منص نراز کے مسائل اور کلیات اور صویات کا عم رکتا ہو اور اس 
تک ال دک ات مز یں ان میں س ےکی کو سلہ بی آنے گ2 ای پ وب سے کہ 
انیں سن ھن کے لیے غا کو اول وت سے موف کر رے لین آلر اسے انان ہوکہ خمازمجچ طرینے 
ےار کہ ڈلل وق می مام مول پک ہے میں اکر ناد می ںکوئی ایا سنہ یی 
نہ آئۓ خس کے رن و ا کی ا ےر رآ رگرئی ایا مطلہ بی 
ور رت 
میس سے ایک بر لکرے اور نماز ش مکرے اہم اسے چا ےکہ نماز کے بعد صتلہ پرنٹھ اور آر انی 
کی نماز باکل مات ہو ق3 ددبارہ پڑھے البع اکر کچ ہو تر روپارہ پڑھنا لازم ین عو الع 2 
ترددکی صورت میں نماز قصد دو بکی ججائے صرف قصد قیت سے بڑھھے۔, 





مہ سھے ‏ ۱غا زکا یت وس ہو اور قرس خواہ بھی اپنے قرض کا مطال ہکمرے تو ار من 
ہو تر متعلقہ نف س کو چا کہ بے رز اراگکرے اور بعد میں نماز پٹ ھھ اور ُا رکوئی اییا روما وابب 
کم یی آجاۓے ضے فورا ہلان ضردری ہو ق اس کے لیے بھی بی میم ے مل ار ریھک سید ٹس 
ہو گئی ق چا کہ پطے سو رک و ا ککرے اور بعد می نماز بپڑھے خکوٰ پل دوں سورں می 
پل مز پھ قگنہ کا مرکب ہو گا یکین ا کی نماز سچچ ہوگی۔ 


دہ نمازیں جو ترحیب سے بھی چائنیں 


مہ ”۳مھ ٠‏ انا نک چا نے کہ نماز عصر از رک بد اور نماز عثاء نماز مطرپ کے پور 
پڑھھ اور اکر ان بوجھ کر نماز ز عصرماز رس پل اور مماز عغاء نماز مطرب سے لہ پڑھے قو اس کی 


ماز اٹل ہگی۔ 
لہ ۵ھے : اگ رکوئی شف نماز ظم رکی غیت سے نز پڑھنی شرو ] گرے اور تماز کے دوران 


۱ ٰ 





توضیپالسائل __ ہے َ‫ عفرا 


اسے یاد آ کہ نماز ظ مر بچڑھ کا ے ود می ت کو نماز عصرکی جاب میں موڑ سلتا بللہ اسے 
اہ کہ نمازنڑ دے اور پھر ماز حصرید ھے اور مغرب اور عشاء کی نماز می بھی بسی صورت ہے۔ 
مسلہ ام ف9 ار نماز عر کے دوران میں کسی شف سکو لقن ہوکہ اس نے نماز خهم نہیں بھی 
اور وہ نی تک نماز ظمرگی طرف موڑ رے تر جوشی اسے باد آن ےک دہ نماز ظمریڑھ چا ہے اسے چاجۓے 
کہ نی تک نماز عصرکی طرف موڑ رے اور نما ز عم لکھرے۔ 

سر ےھے ڈ اگ کی خف سک نماز مر کے دوران میں کلک ہوکہ اس نے نماز ری ھی ہے یا 
نیب تر اسے پا کہ میت کو نماز مم رکی طرف موڑ رے ین اکر وقت ات اکم ہورکہ نماز پڑ جیۓے کے 
بعد رج ڈدب جا :٭ اور ایک رکەمت کا رق ت بھی باتی نہ پت ہو ا اسے چاہج ےکہ نمماز عع ری خیت سے 
نماز مر ری 


متلیہ ۸ ۵ے ٠:‏ آف کی من سک از مخاء میں چو شی رکعت کے رکوع سے پل تک ہو جا ےکہ 
آ ای نے مخر بک از پڑھی ہے یا نمیں اور وت االکم ہوکہ نماز تم ہونے کے بعد آڑعی رات 
ہو جاتی ہو اور ایل رک مت نماز کا و قت کی ند چنا ہو لو اسے جات کہ عخا و کی حیت سے نماز نٹ مککرے۔ 
اور آنر زیارہ وقت مرکتا ہو پا کہ حی تکو نماز 07 رع ت کی نماز اوا 
کرے اور ای کے بعر نماز *“خاء پڑھے۔ 


مسعلیر ۹ھ ے : ہف رکوئی مخس مار عغار م ان 2 وف ار کور زان 
کہ آیا اں نے نماز مغ رب پڑھی بے یا میں اور وق کم ہو و اسے چا کہ نماز عشاکھ لکرے اور 
آر پاچ رکع ت کی مقدار کے مطای وقت ت ہو و جات کہ نماز پوڑ وے اور نماز مغرب اور نماز حشظاءم 


ےم 


ہرہے۔ 


تل ٭۹ سے .اگ رکوتی مخس ای نماز جو اس نے بڑھ دی ہو اضاطا“ دوبارہ بڑھے اور نماز کے 
دوران یں ات باد آ ےک جو نماز اسے اس نماز سے پلہ پاھنی چان تھی دہ اس نے نہیں بھی نوہ 
زی کو ای نما ز کی طرف میں موڑ سکم ہے۔ شلا جب دہ فاز عم راقیطا“ پڑھ را ہو ار اسے یاد 
627 اس نے نماز خممرخمیں بھی روہ یکو ماز ظری طرف میں موڑ سیل 





توضیحالمسائل____ ۱ [ڑەفد ا 


لہ )لے ؟. نماز قناکی عیت نماز اواکی طرف اور نماز سح کی ضیت نماز واہنب کی طرف موڑا 
جائ نہیں ہے۔ 

بل ۳ے : گر نماز ارا کے لے وفت وخ ہو ژانان مز کے رورآان ٹل نی کو نماز تنای 
طرف موڑ سنا ہے لکن یہ ضروری ےک نماز قشاکی طرف یت موڑی مکن ہو لا اگمر وہ فماز نمر یش 
مشفول ہو قزر نی کو قذائے مس کی طرف اس صورت میں موز سنا ےک تسری رکعت کے رگوش 
ال ےے ہوا ہو۔ 

تخب نمازیں 

مل ۴٣ے‏ ؛: تخب نمازیں بعت سی ہیں اور انیس نافلہ گکتے ہیں اور م.۔۔تحبی نمازوں مل 
سے روزانہ نافلہ نمازوں کی زیادہ "کی دک ی گنی ہے۔ یہ ممازیں جم کے دن کے علاوہ چوضمیس رکعت ہیں 
جن میں سے آ یھ رکعت نافلہ ظم رآشھ رکعت نافلہ حصرپار رکعت نالہ مغربں وو رکعت نافلہ بثاہ 
مظ٠یارہ‏ رعت الہ شب (ػی آبر) اور رو رت نافا۔ لم ہیں اور پر نان شا سی دو ر نین گر 1 
بھی چاہیں اں لیے دہ ایک رکعت خار ہو تی ہیں مین ہم کے رن نلبراور مت سول رگعت ناقا۔ گٍ 
ار رکدت کا اضافہ ہوا ہے اور رہ کہ ىہ بد یکی بودی میں ر یں زواں سے پ سے ہیا اائی 


جائیں۔ 

مکل من ؟ بفل شب (یتنی تمی کی گیارہ رکموں مس سے آشھ رتتتتیں نافلہ ش بک نیت 
سے اور وو رکیشی نماز شٹ کی میت سے اور ایک رکٹ نماز و رکی ممیت سے پڑھی جاتی ہے اور نافلہ 
شب کال طریقہ دع اک یکتابوں میں پرکور ہے۔ 

تہ ۵ے : طخلہ نمازیں ج کر بھی بڑھی جا عق ہیں۔ 

مل ۹ے ؟ ظمراور فص ری عفلہ نمازیں سفرمیں میں بڑض چایں اور آ, الہ ۶شاء ہقف 
ا تاب بھی جائے نز کوکی عمج خی ہج 

روزاد, تافلہ نمازو ںکاوقت 


میلہ نے ے ! نماز فم کا الہ ماز ظرے لے بڑھا جا ہے اور اس کی فشیات کا وقت اول نم 





توقیحالعسائل_ (اجچودا 


سے اس وقت تک سے ج بکہ شافص کے سا کی مقدار جو نمرکے بعد چا ہو حات میں سے دو 
صوں نشی ے || ۴) کے باب ہو جائۓ لآ شا سکی لبائی سا تگز ہو جب دہ سلیے جھ نکر رکے 
بعد دا ہو دوگز تک کی جائے وہ نافلہ خم رکا آخری وت ہے۔ 

مس ۱۹۸ےہ یف عصرفاز عصرسے پطے بڑھا جانا سے اور اس کی ضیلت کاوقت اس وقت تک 
ےکہ خاش کے سا ےکی دہ عمقدار جوم رکے بعد بیدا ہو مات میں سے چار حصوں نین م// "تک 
جاۓ اور آک رکوئی نس چا ےک عافلہ ظمرہا نافلہ حصران نانلوں کے وقت کے بعد پڑحے و اسے 
چا ےک عاظلہ ظ رک از نلم ر کے بعد اور نافلہ عصرکو ماز عھصرکے بعد پڑھھ اور اعقیاط واج بک باب ایا 








اور تضاکی نیت کر ے۔ 

مل ۹ے : .الہ مغخر بکی فقیلت کا وقت نماز مغرب کے شخم ہونے سے اس سرٹی کے ذاتل 
ہو نے تک ہے جو ورج دب ہونے کے بعد مغر ب کی جانب آسان میں دکھائی دب ت۔ 

مل مم سے :فدہ عخاء کا رت نماز عناء نم ہونے کے بعد سے آرھی رات تک تی اور بھتر 
بر ےکہ نماز عاء تم ہونے کے فورا بعد پڑھا جاتے- 

مستلہ سے ؛ جخد مج نماز مع سے بلہ بڑھا جانا سے اور اس ما اشیات کا نت ٹجراول کے بعد 
سے اس وقت تک ہے جب مطر قکی طرف سرن نہر ہو ادر راو ل کی علاصت نماز مع کے وقت کے 
لے میں جائی جا چی ے۔ :اللہ سج کانافلہ شب (تتبد) کے فور بعد دہنابھی ملکن ہے۔ 


مہ کے ٤‏ ہفلہ شب (یشق نماز تیر )نا وقت آ ھی رات ہے ت کی ازان تک ہے گور تر 
ہہ ہج ےکم گُ کی انان کے تریب پڑھا جاۓ۔ 


سیل ممسے ؟ سافراور وہ نس بس کے لیے نافلہ شب کا آوھی رات کے بود اواکرنا مشکل 


ہو لے ایل شب مس بھی اواگر 22 ےے۔ 

ماز عفلہ 

مل مےے ؟ “مور مسنحبی ناڑول گش سے لک نماز ذیاہ سے جو مب اور حخاء کے 
ررسیان میں پڑجھی اتی سے اور بنابر اقیاط اس کا وت مخر ب کی جانب کی سرفی زائل ہونے سے پن 





توضیح‌المسائل مد 7 


ہے ا کی بپلی رکعت میں جھ کے بع کی دوسری سور کی ہائے ىہ آیت پڑھنی پاہہے۔ 

وذا النون اذ ذ ھب مغاطضبا فظن ان لن نقدر عليه فنادی فی الظلم :ت ان لاال الاانت 
سبحنگ آئی کنت من الظلمین فاستجبنا ل ونجینہ من الغم ؛:گڈلک نسی . 

:۰ المٌمنین 7 

اور ددمری رکعت میں ضر کے بعد ججائۓ سی اور سور کے ہہ آیت بڑجی پاچ وعندہ 
مغاتیح الغیب لایعلمھاً الا هو ویعلم ما فی البر والبحر وما تسقط مٰ ورقة الا یعلبھا 
ولا حبة فی ظلمت الارض ولا رطب ولا یابس الا فی کتب مہین ٭ 

اور اس کے قوت میں ہہ پڑھنا چاے اللھم آنی اسئلک بمغاتیح الغیب التی 
لایعلمھا الا انت ان تصلی علی محمد وآل محمد وان تق ہی گنا و گنا اور گ ےگڑا؛ 
کذاکی بجانے اپی عاشتیں بیان کرلی چائیش اور ای کے بعد گنا پاپ اللھم انت ولی نعمتی 
والقادر علی طلبتی تعلم حاجتی فاسئلک بحق محمد وال محمد عليه وعلیھم 
السلام لما قفیتھا لی :ٴ 


بتڑدے امام 


مل ۵ کے 2 غانہکلبہ جو کک ہرم مس واع ہے وہ جمارا قیلہ بج اور انسا نک چا کہ ای 

کے سان ےکھڑ ہ وکہ نماز پڑھے لیکن جو شس اس سے رود ہو أر وو اس طرح کڑا ہ وکہ اسے قبلہ ہے 5 
انان اور ررگررالی کا ین لہ ۶و اور دو ممرے کام 2 تی طرف م کر گ٤‏ اقم رۓ پائںس ات 

طیداعا تکو ز کرنا) ا نکی بھی بی صورت ے۔ 

لہ کے > جو جس کھڑا ہو کر واجب:نماز پڑھ رپا ہو ایل کا رہ اور سید اور پیٹ قیلہ گی 

طرف ہونے چاہیں اور اعقیاط ستحب ہہ ہ کہ ال کے پاؤ ں کی انکیاں بھی قید کی نرف ہوں۔ 

صل ےےے : نس مخ س کو میٹ ھکر نماز ڑھنی ہو اس کا چرہ سینہ اور یں آماز کے وقت قیل۔ کی ا 
طرف ہونے پچائیش۔ ۱ 

مل لے ؟ ج مس بلک ماز نہ پڑعھ کے اسے چا کہ دای پھاو کے مل ہیں لۓ ار 





توضیجالحسائل ے ہے سس 8ٹ 7 ۱ 193ا 


0 تد وا ا7 ترک یت 
اون یوقن کی طرف ہوں۔ 

مل 30029 انیاا اور بگمولا ہوا رہ اور بھولا ہوا ت ور ال کل طرف مز : رک الات 
پا بے اور امقیاط ا نا یکی بنا بر سید ہو بھی قبل ہ کی طرف من ہک کےا داکرنا جا ے۔ 

لہ ۸۲ے ؟ ستحی ناز راس مت ہوئۓے اور سواری کی عاات جس بھی جاملق ہچ اور 
آکر الما ن ان رروں عالتوں میں نماز مسستحبی پڑھھ ‏ ضردری خی ںکہ ال تام لہ ی رف ہو۔ 
سلہ ۷ے ؟. جو مس نز ھن چابے اس چا کہ قل کی سحت کا خی نکرنے کے لین کو شل 
مرن الہ . ى اص ری گی اھ وی ے رن لال کو او 
مر ر٠‏ ایا رز کل لہ 0 ." حراب سے یا نکی یں ست یا دو مرے یں 





۰۳2+]۲ْ ول ا ای ار کسی ایی فاسق ما ماف کے مت بی ہ 





قاع کے ری آبا۔ کا رخ پچپانا ہو قبلہ کے بارے میں ممان پداکر کے نو دو ھی تال ےے۔ 


ےو یں سو تا رکتا ہو اکر وم ال سے آوئی تزلمان پرا 


ا سک مخز ٣مان‏ ساب اد کے گل 2 قات 1 سعت کے پارے 








پہ گر لے من می دوسرے رر ےر زیادہ قوی مان پداکر سام ہو فو ا صادب شادہ کے 


نے پ مل می ںکرا چاہے۔ 

مستلہ سے ظر تی حخس قد کاخ فرص یھ 

اجوہ اس انان کصسی ایک طرف نہ جات ہو تو اس کاکسی بی طرف من کر کے نھاز بڑھنا کال سے 

ایا راہب ہی سے کہ اگر نماز کے لیے وسحع وقت رکا ہو تو چار نمازیں چاروں طرف مد ۲ گے 
شی دہی ایک نماز ار مم ایک ایک مت ؟ کی جااب من کہ گے پ ھ )۔ 


٦‏ م,ے ٠‏ ا ر کسی شم و“ ۶" لہ رو یش ایک طرف سے تو اسے پاٹ کہ 


گہ دولوں طرف مہ وک کے کے نماز یڑ مکوت 





وجولساورےكے_ ےمجچج یہہ نے ےسو ےلت 
لہ ۸۵ے ہو شس کسی طرف من کر کے نماز پڑھنا چاتا ہو اکر وو ایی دو نماڑیں پڑھنا چا 
جو خمراور حصرکی طرحع کے بعد یکر ے پاعنی پچپنیس و انقاط وادب ىہ ہج کہ مکی نماز ا نکی ا طراف 
کو من کر کے پڑھھ اور بعد یں دو سر نماز شور ]ککرے۔ ۱ 
مل یم ہے نس شس کو تبلہ کی مت کا مقین نہ ہو ار دہ مماز کے علاددکوئی ایا کام گرا پاے 
جو قبل ہی طرف م کر کے کرن چان خلا کر و ہکوئی حیدان ز کر چاہتا ہے تر اسے چا ی ےک گان پر 
نے اور گان من نہ ہواوشس طرف ہن کر کے وہ کام رانجام رے درہت ے۔ 


نمازشں پر نکاڑھاتنا 


مہ ہے . مد کر چان کہ خواہ اسےکئی بھی نہ دکھ را ہو نماز کی عالت ہیں اٹی 
شرمگادو ںکو ڈھاب داجب ہے ہج کہ نے سے گننوں تک کا بن ککا <صہ بھی ڈعاتج۔ 


مل ۸ے عور تک جا کہ نما کے وقت انا تمام بدن ش کہ ماود ال بھی ڈھان اور 
اعقیاط تب ہے نج کہ پااں کے کگوے بھی ڈھاہپے الہتہ چچرے کا تنا حصہ وضو میں دھویا جانا ے اور 
کلائیوں تک پاتھ اور منوں کک پاؤں کا ظاہری حصہ ڈھاننا ضردری نہیں سے مان بی لق نکرنے کے 
لین کہ اس نے بر نکی داب مقدار ڈھانپ ٹی سے اسے جا کہ چرے کی اطراف کا پچچھ حص اور 
کلائیوں اور یں ئ٠‏ جات ج۔ 

مستلہ ۹ے ؟ جب انان بھوئے ہو میرے پا بھونے ہو تشم کی اتضا مھا لا را ہو ات 
چا کہ اپنے آ پک ماز کے وق کی طرح ڈحافے اور اعقیا تب يہ جک بد حو بجالانے کے 


ات بھی اپنے آپ کو ڈھابنے۔ 


مہ *۹ے : گر انان بان بو ےکر یا متلہ نہ جان کی وب سے ملض یکرتے ہوے نھاز میس ابی 
شرعگاہ نہ ڈھافنی نو ا کی نماز باٹل یے۔ 


مستلہ وب ذ٠‏ اگ کی ن سک از کے دوران می پن کہ ا کی شرمگاہ گی ہے نز اس کی نماز 
اٹل ہے لکن اگمر اے نماز کے بعد پت کہ غماز کے دوران میں ا کی شرمگاہ شی خی تو ا س کی 








توضیچالفسائلے ہے لے سے کے ہے کے سک کو ا ا 


کے سے اور اھر مماز کے رومان میں ! سے چپ ج کہ پا لہ ا سکی شررگاہ یی تھی نین اب ڈکی 
ہوگی نے تو ا کی بھی بی صورت ہے۔ تی ا کی نماز جج ے) 
مل ۲۴ے : کی مس کے پاس لمیاں نہ ہو نوہ نماز میں اپ آ پکو ھا اور ڈول 
کے چوں ے تاب سکم تم 
مل ۵۳ے ٠:‏ جبوری کے خائم مم انسان نماز میں اپنے آ پکو جزست ؛ مات 
تل8 ۹۰آ .تی نس کے با سکوئی نز اڑسی نہ ہو جس کے ساتھ نماز یل 
ان اور ال بات ك ال ہوکہ ای زاس مض رآ جا ےکی و بھرییہ سن کہ نما ہپ 





لے او را اب ےکوئی رد 7-۰ قٍ آخر وقت میں اپتنے وظیفہ کے *”طاق نماز ز ڑھے۔ 


مسلہ ۵ے ؟ ار کی ایت مخصس کے اس جو نماز بڑھنا چاہتا ہو نے آپ کو ڈھاچ 





درشت کے تے او رگاس اور کیڑ تک نہ ہو اور ال بات کا اشتال بھی نہ ہو کہ آ خر وقت تک است 
کے 


اتی بیز در آجا ےکی تب اس صورت میں ج بک اتال ای ام رکا ہو کہ کوکی تاحرم ات د ٹچ لے 
اس پان کہ مل کر نماز با ھھ اور گر اسے انان :و بل ہکوگی انرم است ہے گا کھڑا ہو کر 





بن انی شرمکاہ 7 رو نے اور وونوں مالتوں میں روغ اور جو اتھارے 





از ہا اور اتا گی بن 





.سے ھا لاے اور بنا بر ساط جب سیرے کا اشمارہ بت زیادہ گرتَ۔ 


زی نے والئے کے لیا ںکی شراط 


مل ۹ء : ماز پومینے والے کے ما یکی چ سے شش ہیں۔ 

ایل : یکہ اک ہہ 

روم ا کہ باج ہو 

و لہ مردار کے ازاء سے ٹہ بتا ہو۔ 

پمارم کہ ابی مدان سے نہ بنا ہو ننس کاگوشت خرام ہو۔ 

یگ اگ ماز ڑم والا مرد ہو تر اس کا مباس خاخ رم اور زرروڑی كا بنا ہوا نہ :٭ 
اور ا نکی تنسیل دہ مسائل میں جائی جانےگی- 


تر لے میں سے ہے 396ا 


مہ ے۹ سے ۔ شر اول ... نماز یڑ حے وائے کا مباس پاک جونا چا ہے اور اک رکوئی مخ حات 
انتیار ہش ٹس بدن با مباں کے ساتھ نماز پڑھے قز ا سک نماز اٹل ہے۔ 

مستلہ ۹۸ے ٠‏ اگ رکائی مخص جو اپ کون یکی وجہ سے ہہ نہ جانتا ہوکہ خس بن اور لہا کے 
ساچھ نماز پظ بے فس بدن یا مباں کے ساتھ نماز پڑ سے تذ ا سک نماز اٹل ہے۔ 

مل ۹۹ے : الہ کوئی نس ملہ نہ جان ےکی دج سے کو یکی بنا یہ کسی خس پنز کہ پارت 
می ہہ نہ جاتا وکہ فُس سے لا یہ نہ جانا ہ کہ کاف مرکا پییضہ خجس ہے اور اس کے ساتھ (لشنی ماف 
کے پینے کے ساھھ ) ماز پڑھے تو ا سک نماز باعل ے۔ 

بل ۸۰ : اگ ر بی شس کو ہہ علم نہ ہوکہ اس کا بدن یا مباں ٹس ہے اور اس کے جس 
ہونے کے بارے میں استے نماز کے بعد پع چے نو ا کی نماز جم ے۔ 

لہ ۸۰۱ ۰ رکوتی مس بھول جائے کہ اس کا بدن یا لاس ٹس سب اور ات نماز کک 


دوران شی یا اس کے بعد ہے بات یار آئے ر اسے جا کہ نماز ددبازہ پا ھھے اور گر وتےٴ مز کیا ہو 


ضا گرے۔ 


مل ۸۸۲ دج نس وق ےکی وسعت میں نماز میں مشغول ہو اکر میاز کک دوران میں اس کا بد 
ا مال نس ہو جاۓ اور اس سے پش رکہ خجامت کے ساتھ از کاکوئی حصہ پڑ ہے اس ام رکی جااب 
مو ہو جا کہ دو شی ہو گیا ہے پا اسے پت سیل کہ ا کا دن یا پیاس ٹس ہے اور انس جار سے میں 
اسے کک ہوک ای وقت تی ہوا ہے یا پل سے جس تھا ف اس صورت میں اھ لہای اور نم پل 
گرنے یا لمیایں تبدی لکرنے یا ماس انار رین سے نماز نہ ثوئے تو پران ا با پا فک نے یا بای تبدنل 
کرے یا اگ عصسی اور جنر نے ا ں کی مقدار وادمب کو ڈحانپ رکا ہو نز میا اہر رے لیکن ار صورت 
و کہ کر بد پا ماس پا ککرے یا کہ مہا بدنے یا انارے ت نماز ٹوٹ ہو یا اکر میا انارے ,جا 
ہو جا ہو تر اسے جا کہ نماز ۃڑ دے اور پک بدن اور لاس کے ساتتھ نماز پھھے۔ 


مل ۳م : جو نس تک وقت میں نماز میں مشقول : مت 


جس ہو جاۓ اور ای سے پچ کہ وو خجاست کے ساتھ نمازکاکالی حص با حے اس پت یل جائے کہ 





توضیچالنسائل_ ۶۹۶۹۶۶ ,یپ 4ص 23 )"۳۶ 


ٹس ہوگیا تت یا ات سے پت ج کہ اس کالپاں تر ہے اود ش کر ےکہ تی وقت ٹس ہو اہے 
ا پل سے یس تھائز مر صورت ہہ ہوکیہ لا پا گکرنے پا بدے با اتارنے سے نھاز شہ ثول ہو اور وہ 
9 و سوہ 
رایپ کو ڑھانپ برکھا ہو تج مپاسں انار رے اور نماز ض مکرے مین لگ رصسی اور بیز نے ای کی مدار 
راج ےو نہ ڈھاپ رکا ہو اور وہ با بھی پک کلاس وا ج ےک ابی شس لپاں کے 
سائقہ ہما کو ض مککرے۔ 1 


مل ۸۰۳۴ ۓ کوتی مخ جو تک وتت میں نماز میں مشفول ہو گر اس کا بدن نما کک دوران یں 
نجس ہو جاۓ اور اس سے پشھزکہ دہ نما ز کاکوکی حصہ خجاست کے سانھ بڑھے دہ ای اس کی جااب 
وج ہو جا ےکہ خس ہو گیا جج پا اسے پت کہ اس کا بدن ٹس ہے لین فن کر کہ آیا ای 
وت فس ہوا سے پا پل سے خس تھا نز گر صورت یہ ہ ھکہ برن پا ککرنے سے نماز خہ وی ہو و بین 
کو پا کککرے اور اکر نماز ٹوش ہو تو اسے چا ےک اسی حعالت میں نماز ش کر گور ا کی نماز جج ہو 
0 

مل ۸۸۵ : خُر کئی ایا خس نماز بڑھھے جو اپنے بدن ما بای کے پک ہونے کے بادرے میں 
تک جو رو کر 








مسنتیلہ ۸۰۷۹ ۰ اگ رکوئی نس انا مہا دہوںۓ اور اسے شقین ہو جا کہ لاس پک ہ وکیا سے 

اس کے ساتتے نماز پڑھھے اور مماز کے بعد اسے پت چ کہ پاک نہ ہوا تھا ا کی نماز ےپ 
مل ے۸۸ : اگ رکتی مخس اپنے بدن یا مباں میں خون رھ جھہ اور اے ین ہ وکہ يہ فُس ہووں 
5 سے یں ہے ہلا اے نین کہ مرکا ون ہے کن ماز نہ چ کے بعد اہے پت چک سے 
ان خونیں میں سے ہے جن کے ساتتھ نما خمیں یں بڑھی جا علق تو ا کی ازج ج۔ 

مل ۸۰۸ : رکسی مخ س کو نقین ہوک مس کے بدن نا میا مس جو خون ہے وہ ینا خں خون 
سے جس کے ساتھ نماز جج ہے خلا اسے لین ہ کہ زم اور پٹوڑے کا خون سے لیکن نماز کے بعد 
اسے پت کہ ىہ اییاغون ہے جس کے ساتتھ نماز اٹ ہے ت ا کی نماز یچ ہے 


.-ًہبژتت مب کو 


مہ ۸۸۹ ۰ رکوئی نس پے بھول جا ےکہ ایک جن خجس ہے او رگیلا بدن او رگیلا مباس اس چچز 
سے چھو جاۓ اور ای بھول کے عاکم میں دہ نماز بڑھ نے اور نماز کے بعد اسے یاد آئے قے ا کی نماز 
تج ہے لیکن اگمر اس کاگیلا بن اس کو چھو جائۓ جس کا ٴ جس ہون دہ بھو لیا ہے اور اپ آ پکو 
20پ رت مماز یڑ ھھے نو اں کا تس اور نماز اٹل ہیں اور آکر وو کے کیل افضاء 
کاکوگی حصہ اس یز سے چھو جاے جس کے خجس ہونے کے بارے می دہ بھو لکیا اور اس سے پٹ رک 
دو سی جک پا ک کرت وو وضو کرے اور نماز سے فو اس کا وضو اور نماز پاطل ہیں۔ او وی رٹ 
والا نہ ہو ا پر حنہ نماز بڑ ہے 
اف ۷ھ مس صرف ایک لہا رکتا ہو ار اس کا بن اور لاس جس ہو جائیں اور اں 
کے با ان ٹش 9 ہ۲ اوٹی ہہ ہ ےکہ بدن پا ککرے او رکوئی دی 
والا نے ہو تر برہنہ نماز پ ھے اور آر دتنے والا موجور ے تر جس ماس سے نما پ ھے۔ 


لہ ۸۷:: روج کے بای دو لباں ہوں ہہ جانا ہوکہ ان میں سے ایک ٹس 
نین اسے ہی ظم نہ ہوک کون سا خس سے تو گھر وہ وقت رگا ہو اڑ اے چاۓ کہ روتوں پانوں 
سے نھاز پڑھھ (نپنی ایک رفعہ ایک لباں بی ن کر اور یک دلعہ دوسرا ماس پچ یکر وو رفعہ ونی نماز 
پھھ ) فلا گمر وہ لم اور عصرکی نماز بنا جات نز چا کہ ہر اک لمبایں سے ایک نماز ظبرکی اور * 
ایک نماز ففرکی پا ھھ لین مر وقت تک ہو تو میں کے ساتہ از ڑھ لے کائی ے۔ 

لہ ۸۳۴ : خر می ماز پڑ نے وانے کا لباں ماع ہو چاہے اور اکر ایک ایا ٠س‏ ہر 
جانتا ہوک عحصبی لا چنا عرام ہے یاکو نا یکی وج سے من کا تلم نہ جات ہو اور ان بوچ کر ال 
پان کے ماج مو تیر کو پان می رہ ہیں کا جما شرمگا 
کو غیں ڑا یں اور ای رع دہ یں جن سے اگرچہ شرمدگا کا ڈھانیا جاسکنا ہو لیکن نماز ہو نے 
ای سی مطامھ می رت طرحخ وہ 
یں جنمیں نماز پو ھن دالے نے بن رکھا ہو مجن دہ ایک اور ماع سترش بھی رکتا ہو۔ ان تام 
صورنوں میں ان چزوں کا غصب ہو نماز کے لین کوکی ضرر میں رکتا ارچ ایالم ان کے تر ک کر 
دسیے میں ے۔ 


توفیچالسائل ی ۔ے۔ ے سے ا وقرا 





مل ۸۷۳ ٠‏ جو شف ہہ جاتا ہ کہ خغصبی فپای پیننا عرام ہے نان ہہ نہ جاتا ہو کہ وہ نما کو 


اف 


سے جا نیا ہے ا کی نماز نل ہے۔ 


7 دہ جان وب ھکر غخصبی لاس کے ساتھ نماز بڑھے تو جیساکہ سابقہ متلہ میں تنیل 





لہ ۸۷۳۴ ۰ ہ۲ رکوئی تنس ےد انتا ہو یا بھول جا ےکہ اس کا لاس غصبی تےے اور ای 
صورت می ںکہ وو خود ماپ نہ ہو اور ای مہا کے ساتھ نما پڑ ھے تو ال کی ماز ٠‏ سا 


مہ ۸۷۵ ٠‏ ام ری نس کو عم ن ہو یا پول جا ےکہ اس کا یں غضبی 
دوران میں اس پت پل جبائے او ری دوسری چز نے ا کی شرمگا کو ڑھانپ رکھا ہو اور دہ فور ا یا 
مواات شی نماز کا تسلسل) ڈونے بفیر غصبی لباس انار سنا ہو قو اسے چا ےکہ فور( اس میا کو اہر 
نوز اگ رک ی ادر یز نے ا کی مقدار واج بکو نہ ڈحانپ دکھا ہو یا دہ غصسی لہا کو فور نہ اار 
لکنا ہو بے اھر مپاں کا1ارنا مار کے ضس لیکو نوڑ یا ہق اس صورت مج ںکمہ اس کے اس ایک رکعت 
کے اندازے کے مطابق وقت بھی ہو تو اس پاب ےکہ نما زکو فو دنے اور اس لاس کے سا نماز 
پاتھے جو غسب گردو نہ ہو اور ار اتا وت ن رگتا ہو اسے ہاتنے کہ نما کی عاات میں لاس انار 
رے اور پرپشہ لڑگوں کی نما کے احکام کے مطالق نمماز ش مبرے۔ 


سے اور نمماز کے 


تہ ۸۷٦‏ ۰ آل رہ کوئی نس انی جا نکی طاعت کے لیے غصبی مہا کے ساتھ نماز پڑھ یا 
مال کے طور پر غص لباس کے ساتھ اس لیے نمماز پڑھھ اللہ اس لمبا یکو چور نہ لے جائے تو اس 
کی ماز تچ ے۔ 

مہ ے٣۸‏ : اگ رککی مس ہیں رق سے بای ری شی نا شی ان ے ادات کیا ہو تال 
اس کے ساتقہ نماز پڑھن کے لیے دوہی عم سے ج و9 غخصبی لیا کے ساتھ نماز نے کے لین ہیں 
لہ ۸۸۸ پ٠‏ شرط سح م... ہھ ضروری سےکہ نماز پڑ من والے کا لا اس مردہ حیوان کے اجزاء 
ست نہ بنا ہو جو گول میں خون رکتا ہو ششنی ایا خبوان جن سکی شہ رگ کئی جائے تو ون اگل کر لے 
لہ امہ ابا اس مردہ خیوان خا بی اور سانپ سے حا رکیا جائے جو رکوں میں خون میں رکتا تر 


اقیاط واغب بہ سج کہ اس کے ساتھ نماز نہ بڑ ھی جائۓے۔ 





توفووالفساص ےر ہے او سوا 


متل.. ۸8 ؟ آگر مریا ری ای جن تلاکوشت, او رکھال نس میں روح ہوقی سے نماز پٹ نے والے 
نے اپنے ساتتھ اٹھا ری ہو ا ا کی نماز سج نہیں ہے۔ 

مل ۸۲۰ :گر حا لکوشت دا رک قکوئی اڑسی نز ( لا پل اور اون ) جو روح نہ دکھتی ہو نماز 
پڑ من رالے کے راہ ہو یا اس مباس کے سا ماز پھھ جو ان چینوں سے تا رکیایا ہو تو ا سک نماز 
تل ۸۳۱ ٠‏ شر ارم .., نماز پڑ سن دائے کالمباس حا مگوشت جاور کے اجزاء سے بنا ہوا خمں 
ہوا چاسیۓ اور گر ایی جافور کا الیک پل ھی اس کے پاس ہو فو اس کی نماز بال ہے۔ 

مل ۸۲۲ : گر ما مکوشت جاور خلا کی کے منہ یا پک ک پانی اگوی اور ریت ناز بن 
دالے کے زان یا اییں > .2 گی ہو زنر وہ تر ہو نماز پل اور ار خلگ ہو اور اس کا کن جزو زاتل ہو 
میا جو تو نما ز کی جؿاث۔ 

مستلہ ۸۴۳ ۰ اگ رکسی مان کا ال بامبعید با منہ کا لعاب نماز بے داث کے بدن یا میا پہ 
لگا ہو کوکی مع خیں اور گر مروارید اور موم اور شید اس کے اس ہو قایس کے لیے بھی بی عم 


ہے 


متلہ ۸۷۴ ٠‏ اگ رکسی مخ س کو کک ہوکہ ماس علا لکوشت جاندر سے تار کیاگیا بے یا ام 
گوشت جنور سے تق نوا وہ صسلم کلک میں تا رکیاکیا ہو یا غی رسلم میں بنا ہو اس کے سا نماز بڑھنا 
مستلہ ۸۲۵ ۰ ۔ معلوم نہیں ےکہ آیا ی”عا مگوشت موان کے اجزاء میں سے ت ادا 
انان کے لیے اس کے ساتتھ نماز بڑھنا جائتز ے۔ 

مستلہ ۸۳۷ : نز اس ( تی ) رنٹی پنہ سے نماز میں کوئی مع میں +و لین انتاذ 
تخب بہ س ےکہ سا بکی بین کے ساتھ نماز نہ بھی جاۓے۔ 


مل ے۸۲ ۰ ا رکوتی خصس نے ماس کے ساجھ راز یسح جس کے مخلق وم عہ جات ہو یا 





توضیچ‌المسائل _ : )١201ا‏ 


ول گیا ہولہ ترا ممکوشے جاور ے تار زوا سے و اعٌاط تحت کی نا یہ چا بے کہ اآں نما زکو ارہ 


ےت 


سخ 


سلہ ۸ ۰٦‏ شر جم .. زردوزی کا ماس پہغنا مردوں کے لیے عرام ہے اور نما اس کے ساجھ 
ال سے لیکن عورتون کے .لیے نماز مس یا نماز کے علاوہ اس کے نت می ںکوئی حرج نمیں ہے۔ 

مستلہ ۸۲۹ : سن پغنا شل سونےکی زنر گے میں پہغنا اور ہونے کی اگوی مھ شی انی میں 
ینا اور عونے کی رسث وارخ کلائی 7 دجما اور عونے کی خیک لگانا مردرں کے لیج تر ے لزر ان 
چیڑوں کے ساتقہ ان ما نماز بڑھنا پپلل ہے لیان عورقوں کے لیے نماز می اور نماز کے علاوہ ان چڑوں 
کے استتعال مہ ںکوکی حرج نہیں۔ 

مستلہ ۸۳۰ ۰ ار ایک آدی نہ جانا ہو یا بھو لگیا +وکہ ا کی او شی ا یں سونے کا ہے یا 
شک رکتا ہو اور اس کے ساتتھ نماز پڑھے نو اس کے نماز کچ ہے اسی طرحع جیب می سونا یا سوٹے کی 
کوتی ری از ماز یم جے۔ 

مہ ۸۳۱ : شر شمم ... ماز یمن وائے مود کالباس ع کہ بنا بر اعقاط ع جٗین (الیک تم کی 
ٹر ) اور ازار بن گی زاس ریشم کا نمیں ہونا چایے اور مماز کے علادہ بھی خالٹص رم کا پفنا مردیں کے 
لیے عرام ہے۔ 

متلہ8 ۸۳۲ ۰ ار کبس کا تام استریا اس کا بھہ حصہ اص رنیم کا ہو تو مد کے ملیئے اس کا پلتا 
عرام اور اس کے ساجتھ نماز پا ہے۔ 

مستلہ ۸۳۰۳ ۰ :اگ رکم یکو ایک لمباس کے بارے میں ىہ علم نہ ہوکہ خالیص رم کا ہے یاعسی اور 
کا نا ہوا سے و ال کا پننا جائز ہے اور اس کے ساتھ نماز پڑ نے میں بھ یکوئی حع نیس ہے۔ 
مل ۶۴ ۰> رنٹئی ردال ما اسی جم یکوئی نز مدکی جب میں ہو وکوگی حح میں اور وہ 
نما زکو اٹل می ںکرتی۔ 

مسئل ۸۳۵ : عورت کے لیے نماز می با اس کے علادہ دہ نشی مباس پپنتہ مم ںکوئی مرح لمیں۔ 








ترضیحالمسائل 





مل ٦‏ مور ی کی عاات میں عصبی اور خااصی ری اد زدددزنی ماس پیٹ میں کرئی 
0 رت علاوہ ازیں جو مس یہ مپانں نت پر گور ہو اور ٹن لبانوں کے لذد گوئی اور لپاس ک رتا 
بد و وہ ان لباسوں کے ساتھ از بڑھ سکتا ے 


مل ے۸۳ کی شی کے پای خصب لی اور مردار سے تیار سے لگن لپای کے خااد: 
گوئی لاس نہ ہو اور وو اس > تھے پر حبور شر ہو 3 اس چا ےکہ لن اعکام کت مطاق مار بڑھ بج 


رہن لوکیں کے لیے جاے گے ہیں۔ 
مل ۸۳۸ : گی خص کے با حا کرش جو ٹک 
علادہ او رکوئی پا نہ ہو اور وہ ماس بے بے تھبور ہو تو ابی لاس کے سا از یڑ سنا ہے اور آلر 


بیس پت پر گور ہد ہو 7ا انت تاکن انیم کے مطابق نماز بڑھھ جو برہن لوکوں کے لین بے 


07 


لہ ۹ اگ رکسی مد کے پا خائص رمیا ۔ ددڈی کے لپای کے لاد ہکوئی اور پان 
جح مو ست رت2 کے مطائق نماز پڑہھے جو برہنہ لوکوں سک 
لیے جھائے گے ہیں۔ 

مستلہ ۸۴ ۰ .گ کی مخ کے با ای یکوئی ب ہ ہو جس سے اپ بد نکی مقررو مقدا رگ 
دا عاپ گ ڈیپ ولب کہ ای وریپ یا فی و لی ہو ق اسے عاصصل 
کرے لین اھر اس کی حول کے لیے تی رآ درگار بر کی استطاعت سے پاہر ہو یا صورت ای 
ہ و کہ اگر رآ یں خر کر دنے فا کی جواات کے ل جن مض ہو تر اس چا ےگہ ان اام کے 
مطائل نماز پڑھے جو برہنہ لوگوں کے لیے ججائے گے ہیں۔ 

مل ۸۳۱ : نس شننص کے پا فباں نہ ہو آگرکوئی ووسرا نس اے نپا ان ال ری بغار 
دے دے ق اکر اس ماس کا قو ل کر اس کے کے لیے مضقت اور تی کا موجب نہ ہو تو اسے چا ہج ک 
'اسے قو ل کر لے پمہ اوھار لین ینا یا جخششی کے طور پر طلب کرنا اس کے لئ سکرز بف کا باعث ئ ہو و 








تونیڈلسائل_ے_ے ِ" )283ا 


اسے جماہب کہ ٹس کے پان با ہو اس سے ارھار اتک نے یا کنشش کے طور بر طط بکھرے۔ 
متلہ ۸۳۳ ۰ اگ رکوئی ضس اییالیاس پہنتا اب کہ جس ک پیننا ال لپاں ک ےکپڑے یا رنگ یا 
سلائی کے اط سے اس کے معمول کے مطبق نہ ہو شا یہک کوئی ال علم فرع یا لی سکی وردی جن 
نے اگ اس مپاں کا ینتا زلت کا باعث ہو ق اس کا پہغنا ترام ہے اور اکر وہ اس لمباں کے ساتھ نماز 
پھھے اور ا کی شرعگا ہکو ڈھاے والا لباس صرف دی ہو نو پچھھ بعیدر خی ںکہ ا سک نماز پل ہو 
مستلہ ۸۳۳ :مر مرزںد اباں نہ اور عورتہ مروانہ لباش چے اور اسے انی زمنت قرار رے 
قب اعفاط کی بنا بر اس کا پننا جرام سے اور ! بس میں کے ساتھ نماز و نے کے لیے دی عم سے جن کا 
ذکر سابقہ متلہ می یک یا کیا ہے۔ 
مستلہ ۸۴۴ ۰ جس مس کو لی کر از پڑھنی چاہے گر اس کا لاف ما مگوشت بانور کے 
اتزاء سے بنا ہو او اکر وہ (لحاف انارنے سے ) شگا دہ ہو فو اس میں نماز پڑمنا جانز نھیں اور آگر وو لاف 
جس نا رلنٹی ہو اور ا سے ”بمناوا'کما جا نو بھی اس میں نماز جائز یں ہے ہاں اھر اسے محض اپنے 
ہل لیا جاے کی مع یں اور ای سے نز اٹل نمیں ہیی الع یں تک ق شک کال 
سے اس کے استعال ہیں کی عالت میں بھی کوکی قباحت نہیں ماسوا اس کےکہ اس کا پچ حصہ انسان 
اپنے اوپ پیٹ نے کور اے عرف عام ٹش تاس وہ یت کت 
تو اف کے لیے ے۔ 


جن صصورنوں میں نماز یڑ والے کا پرن اور پاں پگ ہ+ونا ضروری سی 


مل ۵پ تین صورکہں مس ج نکی تقسیل یچ یا نکی جا ردی سے اگر نماز پڑ نے والے کا 


بن یا لہاں جس بھی ہو تو ا سک نماز یچ ے۔ 
کیل کڈ ہ کہ اس کے بدن کے زنم“ جراحت با پھوڑے کی وجہ سے اس کے لاس ما بدن پر 


ون لک جاۓے۔ 7 
یں : کہ ای کے بدن نا میای پر ددم (خ س کی مقدار تیب شمایت دای الگی کی اور دای 
گی کے برابر )گی مورار نے“ خین لف جازعب 





توضیح‌المسائل َ ل_ 1.284 


سوم: کہ وو خُس بدن یا لباں کے ساتھ نماز پڑت پر مور ہو۔ 

ام : علاوہ ازیں ایک صورت میں آگر ماز سح ح وائے کا مپاں خس بی ہو تاس کی از 
جح اوروہ صورت بے کہ اس کا پھر لاس خلا حُلا موزو اور ٹل کس ہو۔ (ان چاروں 
صوروں کے مل ایام آمیدہ متلوں می بیان یئے جانھیں گے 

مہ ۸۴۷ ۰ گر نماز ون والے کے بدن یا لباں یر زم یا جراحت ! پھوڑے کا ون ہو اور 

صورت اگڑسی ہو نس میں عو لوگوں کے لیے بدن یا مباس کا دہونا یا مباس بدلنا شئل ہوم ہے تو وہ ایی 

خن کے سائقہ ا وت تک نماز پھ تا ہے جب ک کہ زم یا جراحت پھھ ڑا ٹھیک نہ ہو جاۓے 

اور أھر ای کے بجدن یا بای پر اڑسی چیپ ہو جو خون کے ساتے ل لاف دوخزا لگ 

ہو اور ٹس ہوگنی ہو تاس کے لیے بھی بی عم ہے۔ 

مل ے۸۳۴ : ث اکر نماز ہن والے کے بدن یا لاس پر ائڑسی خراش ا زم کا خون گا ہو تو جنر ی 

۱ میک ہو جا ہو اور نس کا رہونا آسان ہو ق ا کی نما پاٹ ہے۔ 

سط2 ۸۳۸ ۰ گر بدن یا ما ںکی اڑىی جلمہ جو زشم سے پائلے پر ہو نشم کی رطوبیت سے خس و 

جا تر اس کے ساتھ نماز بڑھنا جائز خمیں لگن الہ لباں با بد ن کی دہ مہ مھا زٹ مکی رطوبت سے 

آلووہ ہو چاتی ہے اں مکی رطویبت سے ٹس ہو جائے ق اس کے ساقھ ماز یو نے می سکوئی حرن 

ہیں۔ 

سنہ ۸۸۹ ۰ اگ ری مخ کے بدن یا لہا سکو اس بوایر سے ٹس کے سے باہرنہ ہوںا یا ای 

زم سے جو منہ اور اک وغیرہ کے اندر ہو خون لک جاے فو ظاہریہ سی کہ دو اس کے ساتھ نماز پڑھ 

سنا ہے اہن اس بواسر کے خون کے ساتھ نماز پڑھنا بما اشگال جائۃ ہے جس کے سے مخ کے باہر 

ہوںل۔ 

لہ ۸۵۴ ٠‏ اگ رکوتی اییا نس جس کے بدن بر زم ہو اپنے بدن یا مباس بر ایا خون دی ھ, 

درم سے زیادہ ہو اور ہے نہ چاتا ہوک خوق زگ کا اوخ ان کے لیے اس خرن 

کے ساتھ نماز بڑھنا جاتز خنمیں ہےے۔ 





ترفیچالسائل_۔ے سے ألجہہ ا 


مستلہ ۸۵3 ۰ گآ ری مس کے بدن بر چند زئم ہوں اور دہ الیک دوسرے کے اس ققرر مادیک 
ہو ںکہ ایک زم خار ہوتے ہوں تو جب تک وہ تام زغم ٹھیک نہ ہو جاھیں ان کے خون کے ساتھ نماز 
کن نے می ںکوئی عمج نیں لیکن اک دہ ایب ووسرے سے اتنے ددد ہو کہ ان میس سے ہرز م ایک 

ید زم شر ہو سے چا کہ جو زلم فیک ہو جا نما کے لیبن لوب یک ا کے خون 
سے دع وِکر پا ککرے۔ 


مسملہ ۸۵۳ : ار نماز یڑ سے والے بدن یا اس پر سوٹی کی نوک کے برابر بھی کے“ سور کافر 
مردار یا حا موشت انور کا شون لگا ہو فو ای کی نماز اطل سے اور اطیاط سخ بک بنا یر نیش نفاس اور 
اتحاضہ کے ون کی بھی بسی صورت بے مم نکوئی دوسرا خون شا انمان کے رن کا خون ىا ال 
گوشت جاور کا خو یکو زنک ےکی حمیں پ گا ہوا ہر جن ا سکی مم دی مقدار ایک درجم ےگ ہو 
اش کے ساجھ نماز سے مم ںکوئی حر میں ے۔ 
مل ۵۳ پ ہو خون لن ار کے کپڑڑے بر گرے اور دوسری طرف کک رج جائے وہ ایک 
خون ار 6را ے ٤ن‏ 07 ر کپ ےکی ددسری طرف الف سے خون آاورہ ہو جاک کور وہ روثوں خون 
ایک روسرے سے شلوط نہ ہو جاعیں فو ان میں سے پر ای ککو ن "دہ خون شا رکرنا چاۓے نے ہیں اکر وہ ٹین 
ہد کپڑے کے ساسمے کے رخ خح اور کیا گی طرف ے جو۶ گی طور بر ایک درہم ےکم ہو تق ای کے ساتھ 
مار جج بج اور آمر اس سے زیارہ ہو قزر اس کے ساتھ نما باعل سے اور اکر وونوں خون ایک ووسرے 
کے ساتھ ٹل جانھیں تو انتا ا کی بنا بر ان کے لیے بھی بی عم ہے۔ 
مَبّل ۸۵۳ : آکر امت والے کپڑے پر خون ککرے اور اس کے استر تف شخ جائے ا اسر یر 
گمرے او رکپٹرے تک ہے جاے تو جچھ ھت موا یم۳۴ 
ون ملا کر ایک درتم ےکم ہو و اس کے ساتھ نماز کچ ہے اور اکر زیادہ ہو تڑ اس کے ساتتھ نماز جال 


لہ ۸۵۵ کر برن با میں بر آیک درںم سے کم خون ہو او رکوئی رطوبت اس شون سے مم 
جا اور اں کی اطرا فو از ' ا کے ساجھ نماز پل ےت خرام ون اور تو رطویی اں 





توضیم‌المسائل ۱ - ۱ 26 1 


سے شی سے اک ددہم کے بابر نہ ہوں لیکن اکر رطوبت صرف خون سے لے اور اس کی اطراف کو 
آلودہ ‏ ککرے فو ظاہرییہ ےکلہ اس کے ساتتھ نماز پڑت می ںکوٹی حرج نمی ہے۔ 
مستلہ ۸۵٦‏ ار بدن اور مباں بر خون نہ ہو لیکن رطویت سے اتصال کی ود سے ٹون ے ۱ 
ٹس ہو جامیں ت3 اگمرچہ جو مقدار فس ہوئی ہے وہ ایک درہم ےکم ہو من اس کے ساتھ نما فیس 
بڑھی جا کی۔ 
مل ے۸۵ ٦‏ بدن یا میں پر جو خون ہو اکر وہ ایک ددم ےکم ہو او رکوٹی دو ری مات اس 
سے آگے ضا غاب کا ایک قطرہ اس ب گر جائے ادر دہ بدن ىا اباں سے تک جائے قذ اس کے ساتتھ 
ماز پڑھنا جائز یں ے۔ 
مکتلہ ۸۵۸ ۰ ار ماز بین رالے کا چچھونا مباس خلا فوٹی اور موزو ٹس کے ساتھ شرمگا کون 
ڈھالا اعت ہو ٹس ہو چاے اور دہ مروار یا ترا مگوڈ نت ہانور کے اجزاو سے تار نہ ہوا ہو ای کے 
سا نماز سج ہے اور اسی طرع اگمر غمس اگ تھی کے ساتھ نما بڑھی جائے کوئی حرج نہیں۔ 
مل ۸۵۹ ء جس جزشل فس روبل؛ ای ادد ات ما غماز پڑ نے والے کے پا ہونا جات یج اور 
بعر نہیں ہے کہ ملق ٹس لاس (جھ پہنا ہوا نہ ہو ) اور ڈھا جم کی ملامیت د رتا ہو اس کے یی 
ہو قر نما زکوئی رر نہ جیا اور اکر مقررہ مقدا رکو ڑھان کی صلاحت ہو تر ماز پاطل جے۔ 
مستلہ ۸۷۴ ٠‏ اگ رکوگی شفس جانا ہوکہ جو خون اس کے بای یابدن پر بب دہ ایک ددامم لم 
سے لیکن اس ام رکا اتال ہوک ہہ ان خونوں میں سے سے جو صواف نہیں ہیں و اس کے لیے پائز - 
کیہ اس خون کے ساتھ نماز بڑھ اور اس کا دھون ضردری نمی ے۔ 
مل ۸۷۱ ء: ند ما ہیی پوت 
علم نہ ہوک بہ ان خوٹوں میں سے سے ہو مواف میں ہیں اور وہ ٹماز پڑھ نے لور پچھراے سے کہ 
بی ان خونوں میں سے تھا جو معاف نہیں ہیں فو اس کے لیے ددبارہ نماز بڑھنا ضروری مم ون ری 
ٌ اعقاطہ تب جےکہ نماز کا اعادہکرے اور اس وقت بھی بی جم مت نث جب وو ے ”تا تا ہوک خون ایک 
کر 9و ات ای یو ات 1 


جونسججنمتججھجھجحجحجکتژچج کجگککھھمحمجھججڑج ھت 





توضیچالمسائل__ _ .. [ 387ا 


و ان صورت شل گ ووپارہ ماز یڑ نی ضرورت یں ہے۔ 
وہ چےڑریں جو نماز پڑ نے والنے کے ماس میں مب ہیں 
متلہ ۸۷۳۲ ۰ سی ایک بزیں ماز دن والے کے ماس میں ہونا سب ہیں اور ان جس سے چم 
یں۔ 

عامہ مخت الف میا ادر سید مباں اور ایی لاس کا پہغناجو سب لہاں سے پاکیزہ ہو اور 
خوش و کا اسقعال اور عق کی اگ و شی پنزا_ * 
دہ چیڑیں جو نماز بے نے والے کےلمباس میں روہ ہیں 
متللد ۸۹۳ ۰س ایک زی نماز ب ھن دالے کے ماس می ہو نا گردہ ہیس اور ان مس سے سیک 
سہیں۔ 

”سو میلا اود شک مباں اور شرالی کا لباس پہننا یا اس نس کا مباس پیننا جو مجات سے پر یز 
نکر ہو اور اییا میا پفنا ٹس بر کسی جاندار کی تقصوب ہو" اس کے علادہ لپانں کے یش کہ ہونے 


اور لی انموتھی نما ا رس جاندارگی نصوي ہو کروں تت۔ 
مماز یجن وا ٹ ےکی کہ (یٹی ماز یڑ نکی ہل ) 
ماز یع دا ٹ ےکی مگ کی سات شمریں ہیں بل شرط ہہ ہب ےکم ہاب اتقیاط وہ ماع ہو۔ 


مل ۸۹۰۴ : اگ کوئی مس فنب کی ہوگی زین پ از پ ھھےگر وہ فرنل اور گت اور ای ی 
سی جنیر کوں نہ ہو ائر ال کے اضاۓے سمرہ کے مقلات غصبی ۶ل لو لی الاحوطہ ا سکی نماز ال 
پچست اور غصبی سے ک ت نماز 


2 ل اور .-١‏ ما می مس ھی بی ھورت ے الع عصبی 


بج مہ ںکوئی قرع ٠ں‏ ے۔ 


متلہ ۸۹۵ :سی اىی جانیداد بر جس کی مخت کی دوسرے مخ کا مل ہو اس مخ کی 
اجازت کے پظیر ماز ب نا جو اس جائیدار کی مضفعت کا مالک ہو پاکل یں منلا گر مان کامانک پا کوگی اور 
ٹن سکرائے کے مکان میں اس من س کی اجازت کے فی نماز اھ جس تے مک نکراے بر نے مرکھا ہو 








روغ اعَتَائل 2-7 


علی الاحرط اس کی نماز پل سے اور ا ر کسی مرنے وانے نے وصیس ت کی ہوک اس کے مال کا تنا 
حصہ فلاں کام پر خر کیا جاۓ اور ا یکی وعیت بر گل نہ ہوا ہوڈ ا ی کی چائیدار یں بنابر اضیاط نماز 
نہیں پڑھی جا بی 

مل ۸۹۹۷۰ : ا رکرئی فنص صر میں جیما ہو او رکوئی رو ا ا کی ہہ غحس ب کر لے اور وہل 
نماز پڑھے نر بنابر اقیاط ا یک نماز باٹل ہے۔ 

متلیہ ے۹٦۸‏ : ا رکوتی نس کی ابی جلہ از ڑسھے جس کے غصبی ہونے کے متلق وہ 
بھو لگیا ہو اور وو ماز کے بعد اسے یا آئے تق ا کی نماز تیچ سے _یکن اگ رکوئی ابا نس جس نے مور 
کہ غص بب کر رکی ہو بھول جا اور وہں نماز بڑھے ت نار اضاط ا کی نماز بال ہے اور اگ رکرئی 
مس اڑی تہ مرا بح جس کے متلق اسے عم نہ ہوکہ غصبی ہے اور نماز کے بعد اسے پت بے 
کہ ال کے بیرے کا مقام غصی تھا نز بعید یں ہب ےکہ ا کی نماز اٹل ہو۔ 

مل ۸۸ أگ رکوئی منص ایک تمہ کے متعلق جامتا ہ کہ عصبی سے لیکن اسے ہی عم نہ ہو 
کہ خغصب خگمہ بر نماز بڑھناباٹل سے اوراس تہ نماڑ پڑھہ تر نابر انقیاطہ ا کی نماز پاٹ ہوگی۔ 
مّل ۸۷۹ ء۰ ا رکوئی شخص نماز واجب سوار یکی حالت مس بڑے بر مور و اور سواری کا یٹور 
ا ا ل کی زین ما نفل غصبی ہو ت ہاب اعقیاط اس کی نماز پل سے اور آگر رو شس اس جاور ے موار 
ہوتے ہوئے مستحبی نما پڑجھنا چاہے و اس کے لیے بھی بی حم ے۔ 

سلہ ے۸ : أگ رکوئی مس کسی جائمدا می دوسرے کے ساتھ رک ہو اور ال کا صے پداد 
ہؤقر اپنے شراکیت دا رکی اجازت کے بغیردہ ای جائنداو یٍ تھرف نہیں کر متا اور ہابر اشاط اں پ از 
یں بی سا 

تہ آم۸ : اگ رکوئی مخ ایک اڑی حھس رت سے کوتی جاندار نریرے ن ںکی وکاۃ اور ٹس 
اس نے لوا کیا ہو تاس جائیراد یر اس کا تصرف عرام تاور اس بر ادا کی گنی نماز بنابر انقیاط بعلل 


ہے۔ 


3 


مل ص۸ : کی زین کا مالک زبان سے نماز پے جن کی اجازت رے دے لان انا نک : 








توضین ام سائل ا٥مہ‏ ] 


ہ و کہ وہ دال سے راشی مس سے پو بنابر افیاط ایس زشن پ نماز بڑعنا ان سے وہ 1 وہ اہازٹ ٹہ 

رے مان انسا نکو نشین ہو لہ ددولی سے را ھی ہے تر نما ے۔ 

مل ۳ هپ مین عبت نے سض یا زلاۃ ارائے گی ہو اں کی ج2 سش تر قرام اور ال 
از ھن ہنابر اعقاط پانل ٹب مین اگ رکوکی شخصس ود رقم جو مبیت کے | سے جو اواکر دے یا قرائریں 

در کہ اوا گر ورے کا اس باخدار ٹیں نر فکمرنے اور ای پے نماز ڑھ میں کوئی و 0چ 


ستل ے۸ : رہن وا شس لوگوں کا مقروض ہو اید ای کے وارٹ پر بوجہ غفللت کے خرف 


ار .ےپ ارد ہوں زڑاں باخداد یر تصرف مرا ار رای میں نھاز جار ا میاط ۔ کو ھا ال ہکا 


متلہ ۵ے ۸ ۰ ار میت کے زمہ قرضس یہ ہو نان اس کے مض وارث کم من بد نون با ناپ 
وں ت وس کے ول کی ابازات کے لغیرا یکی جائید ار میں تصرف رام اور ای میں نز بناجر اقیا ال 


ے۔ 


-ت ۷ے ٦‏ سافر غاد 5 عمام یا لی اوں 0 و ات جانے والوں یک نے ا کی ژوں 
از نٹ وت رح ہے ین ایس مکی یکھوں کے علادہ تی جم بی دشت نماز بڑشی ہا 


> 


علق سج جب اس نیہ کا مالک اہجازت دنے نا کوتی انی بت سے نس سے معلوم ہو کیہ اس نے نماز 





با کی اجازت رے وی سے ما اگ رکسی من کو امبازت در ےکر اس کی ملاک میں ڈیہ اور سو 


7 ان رن تچھا جا کت تک لہ اںی نے نماز پا ھن کی اجازت بھی دے دی تے۔ 


متا مھ سے۸ ڈ سی بھت :مع زشین می جماں سے نماز کے وت دوصربی تہ جانا زیادہ تر لوکوں 
ک نیز مکل ہو ماف ککی ابازت کے ؛فینماز پڑھی جا عق ے۔ * 





کرش 


اہ ہے۸ : رط دوم... ماز و پت تا با ود ماز 
کت علق : ظ ہو اور لک وت کی گی ا“ سی اور وجہ سے پور ہو و تو تی.. لی لی ہو (مٹلا مر 
ار“ ٹن ما ری گاڑی) اس میں نماز سے اور ججریں تک ممکن ہو اے باج کہ سکون اور ٠‏ 
لے بنڑہیں نشی مو کا رصن ما ماڑی وفیرو) قیطہ سے کی دوسری طرف ترکت 
میں او انا من قیل کی جانب کو رےں 





تودیبالحسائلر__ ہے - .2186ا 

متتاہ ۹یک۸ ؟: جب مو تار او رکشت اور ریاوے ٹرین اور اشمی بھی اور چیزی ںکھڑی ہوکی 

ہیں فز اس میں نماز اھ می ںکوگی حمع نیس ہے 

مل ۸۸۰ : گندم اور جو اور اتی ھی دوسری چزوں کے ڈعم رپ جو جک ت کے ای یی 7 

یلت نماز باطن ہے۔ ۱ 

رط سو ..ہ انسا نکو چا ےکہ اىسی مہ نما پڑھے جماں نماز ری پڑھ ےکا اتل ہو۔ ایی تچ 

ماد نا جج میں کے نس کے ملق اے ین ہورکہ ہوا لور اٹل یا یٹ ھا کی دج سے بہال 

پر از شہ پڑھ 2 ار اق سے ری ڑھ ستب 

مستلیہ ٠۸۸۸‏ آل رکوتی مخفصس ابی جکہ نماز بڑھ جہں ھا عرم ہے۔ مشلاکسی ای بجعت کے 

یچچ جو منقری ب گر نے والی ٠:‏ و گناہ کا مرکب ہو گا کن ا سک نما ز تج گان 

مستلہ ۸۸۳ : ابر انا ا کسی اڑی زی ماز وہنا کچ نیس سے جس برکھڑا ہو یا یھنا عرام ہو 
شلا فرنل کے ابی جن پر ہماں الد تال ی کا یم کا ہوے 

شر پارم۔.. بی کہ خص مہ انسان نما پڑھھ ا کی ھت اتی نکی نہ ہ کہ سید اکھڑا بھی شہ ہو 

کے اور نر وہس اتی مق ول روغ اور ہر ےکی منائتش بھی ہو 

متا۔ ۸۸۳ ٠أ‏ کونی نس اڑی جگمہ ماز و ھن پر مجبور ہو جماں ہالئل سید اکھڑا ہونا لکن د 

2 تےُ ک ضردری بت ا یل کر نماز یھ اور ار رکوغ اوہ تو اواکھرنے کا امکان : لہ ہو ان 


سی لے کت کے ا ا 


مہ ۸۸۳ ٠‏ انا نکو چا کہ طبر اور آتمہ شیمم السلا مکی تقروں سے آگے ہوکر نماز دہ 


صحرطا لم ...بک الگ ما پڑح نکی تہ خس ہو نو اتی تر نہ ہوکہ ا سکی رحویت نماز یھن والے 
کے بدن یا ا جک لی ان آکر سر ین زی رن کی کہ ُس ہو ق خواہ دہ نگگ بھی ہو نماز 
ال ہے اور امتاذ تخب بہ ہ ےکہ فنماز با کی مہ قطما تج کس لہ ہو۔ 








نزفولشظ ہے میں ۴ 0 





شر مت ...نما زکی عالت میں مرد اور عورت کے درسیا نک اکم دی باتھ ریم ڈاصاہ ی۔ ہو 
تل9 ۸۸۵ ۰ مر عورت کور مرد کے برابر ایک پالشت ےکم فاملے بر ای سے آک ‏ خڑی ہو 
اور ددنوں بیک وقت نماز پٹ ہے کے فو افیں چان ےکہ نماز ددبارہ پڑھحیں لیکن آلر ان میں سے ایک 
دوسرے سے نے نما کے لی ےککھڑا ہو جاۓ (شنی پل مماز شری عکرے) نز فتط دو شس جو بعر میں نماز 
میں مشغول ہو اسے ہیا یت کہ نماز ددبارہ ڑھے۔ 

مستلہ ۸۸۷ ار دلو عورت ایک دوسرے کے با رکھڑرتے ہوں یا عورت آ مگ ہکھڑی ہو اور 


رولوں نمناز ٹڑھ بت ول نع روارں جک درمیان راوار ا دہ ماکوئی ای ج8 نان ہو لہ ات ور 





7 ان رک یں رونوں گی نماز چٔ ےت خواہ ان ےا درسیان ایک پالقت رتا تال ُرں توم 

ہے اہ ت3[ 7 ہہ 5 و رو ہی 
صرط آ۴م کہ ای رگن کہ تہ ہاو ںکی انلیاں رن کی بجلہ سے چار لی موی انگیوں کی 

مترار سے زیارہ پت یا ژمارہ باند نہ ہو۔ ای نے یی یل یرہ لے انام یا آ ےگی۔ 

مل ك۸۸۵ 1 رم عرد اور عورت کا ایک الی تہ ہونا ہما ںکوگی اور یہ +٭ ادھ نہ کوگی وہں 

سک ہو ازسی صورت میں ان ک تہ میں لوٹ ہو جانے کا اشل ہو عرام ہے اور اعقیالط “تب ہی سے 

کے دہ بہاں از ڑٹیں۔ 

مستلہ ۸۸۸ : ضس ہہ مار اور ای خی چزیں استعال کی بای ہوں وہاں نماز پڑھنا اٹل میں 

ےگو ان کا مننا اور امتعال گنا متام ہچے۔ 

مہ ۸۸9۹ ١‏ امقام وااب ہی ہ کہ افقیار کی عالت میں خانہ کوب کی ھت پ نماز واجب نہ 
بپڑھی جائے لیکن مجبور ی کی مالت مج شس کوکی مع نیس بے اور ظاہریہ ہےکہ غانہ کیہ میں نماز پڑھنا 

انتا ر کی ماات میں بھی جائز تد 


مل +۸۹۰ ی نز دی کی کے اہ کے "یں اور اں کی مت پر بات می ںکوئی تم٠۴3‌‏ ین ے 
جا کت گے خائہ لے إکائر ہررکن کے مقائل وو رکعت نماڑ شی جاۓ۔ 








توضیچ‌المسائل__ ھ 212 ۱ 


وہ مقامات جماں نما مبڑھنام جب سے 

مہ ۸8 ۰ اسلا مکی مقدس شرییت می بت کید یگئی سے نما سجد میس بڑھی جانے اور 
سب میدوں ے بر سد الھرام ہے اور اس کے بعد سد تبوی اور اس کے بعد مس رکوہ اور اس کے 
بعر صر بیت القدس اور اس کے بعد رش رکی مد جائع اور اس کے بعد لہ کی سو اور اس کے بعد 
بازارکی سر ہے۔ 

مسنلہ ۸۷۹۳ : عوررہہں کے لے گھریی مہ بن دکوتھری میں او رگ ر کے پل کمرے میں نما بڑھنا 
شر 

سیل ۸۹۳۴م ؛ :ہت عم الام کے میں می نماز بڑھنا صخب سے کہ سج می نماز پ نہ 
سے تر سے اور روایٹ نے لہ حطرت ایرال وحن علیہ السلام کے 2 مطر میں نماز بامنا دو لاکھ 
نمازویی کے برابر ےد 

. مہ ۸۹۴ : سر می زیادہ جانا اور اس صیر میں جانا جماں نماز ھن والے نہ ہوں (ىنی ہماں 
لوگ بس تک نماز جن آتے ہوں) سب ہے اور ال رکوٹی من مسر کے پوس میں رہتا ہو او رکوگی 
عزر بھی ت رکتا ہو اس کے لیے مسجد کے عااووننسی تمہ نماز بڑہناکروم ے۔ 

مستلہ ۸۹۵ : صحخجب ےکہ جو مس صیر میس عاضرنہ ہونا ہو نو انسان اس کے سا م لک رکھانا 
کھائۓے اور کاموں کے پار نے ٹیل اس سے مخورم نہ کرے اور ایی سے پوس یل ند رے اور شہ اس 
سے عورت کا رشع نے اور نہ اسے رشع رے۔ 


وہ متقامات جمال نماز بڑھن روہ ہے 


مستلہ ۸۹۹ ٠‏ سن ایک مات پ نماز بڑھناکردہ سے جن میں مھ یہ ہیں۔ 
کے مام۔ 


6 شور زین۔ 


۳... می اضان کے متائل۔ 








توضیچالاسائل وج ہج ہ۹ۃ چس چچہ وش ہا مسر 3ل 


ڈو اق رہرازے ے٤‏ اقلل جرگ نی 
ْ۵ ڑگ تی اور وی :2 بشرطیل گکزرنۓے والوں 2 یت پاٹ زمت تہ بواور گر 


یں زمت ہو ان کے راتحتے میں رکاوٹ ڈالتا ترام ے۔ 
اے ' "الو ور ظا کا فازنت 
... باددتی غانے میں اود ہراس تہ جہاں نگ مھئٹی ہوں 
۸... -سکنویں کے اور ای گھڑ حھے کے مقائل جس مس یخا ب کیا جاتا ہو۔ 
۹.۔ مئػی جانداد چک مس یا جس کے ساضے ماسوا اس کےکہ ا بی بردہ ڈال دا جاے۔ 
*ا۔ ای ےکبھرے ین جن ین نت من موتور ہو۔ 
الہ نس مہ فو ہو خواو دہ نماز پڑھۓ وانے کے سائے کہ ہو 
۲× نتر مقال۔ 
×۳ ترک اوی۔ 
٣ا‏ دو تآروں کے درمیان ٌ 
ھا تمرستان یں۔ 
مل ال رکائی شخنس لوکوںک یکزر گھہ کے متام پر نما پڑتھ ریا ہو یا کوتی ار مخمس اس 
کے ساتے ہو نماز پڑھن دالے کے لیے سب ہے کہ اپے سان کوئی نہ رکہ لے اور آلر دہ چیز 
آھڑی یا ری بھی ہو تر کال ے۔ 


کے اتکام 


سیل ۸۸۸ ء: کی زشن چحعت '“کوشھے اور اندرولی دیوا رکو ٹ سکرنا ترام ہے اور نس شن کو 
پت چ کہ ان میں سے کوئی مقام فیس ہو گیا ہے اسے چا کہ فورأ اس کی خجامت کو ہٹا رے اور 

چے احقاط داغب ہہ ےک سح دک داوار کے بوولی ج ےکو بھی جس کیا جاۓ لیکن اگمر دہ خجس ہو جائۓ لو 
حجاست کا بثانا طور اعتیاط لازم ہچ 


مہ ۸۹۹ ڈ اگ رکوئی نس مس رکو ا ککرنے پ در نہ ہو یا اسے مدکی ضرورت ہوجو وستیاب 





ترضی‌المسائل 24 


نہ ہو تر صو رکا ا ککرا اس پر واعب خیں سے لیکن اط داد بک بنایر اسے چا ےکہ جو شس اسے 
ا ککر سنا ہو اے اطلاع رے رے۔ ۔ 

سیل ٭۰٭8٭ : ار سیر یکوئی مہ خس ہ ویگی ہو ےکھورے ما نوڑے پچھوڑے بفی یا ککرنا کن 
یہ ہو قڑ لوکو ںکو چا ہے کہ اکر اییاکرا وق فکی کمل بربادی اور ختصان کا مومب نہ ہو تر اس جل ہک 
کھودسی نا ڑیی پھوڑیں اور جو لہ بھودی گئی ہو اسے ب رکرنا اور جو مہ وڈ ی گی ہو اس تی کرنا 
وایب نییں سے لن ار سی رکی اینٹ جم یکوئی جزخس ہوگئی ہو ق کمن صورت میں جا کہ اسے 
پان سے پا ککر کے ا سک اصلی مجکہ بہ لگا دا جاۓ۔ 

مل |٭٭ : اگ رکوئی منس مو رکو غص بکرے اور ا سکی مہ گیا سی ہیکوگی جن تی رکر لے 
ایر اس قرر ٹوٹ بپھوٹ جا ےکہ اس می نماز پڑھنا نکن نہ ہو تر تب بھی قاط کی نیہ اسے جس 
کیا عرام سے اور ار جس ہو جائے تو بنابراطیاط ا گکرا ضررری ا۔ 

مستلہ 8۰۴ج تہ نلمم اسم میں ےکی امام کا عرم خ سکرا حرام ہے او کر ان میں ہ ےکوی 
تم غین ہو جائے اور اس کاٹس رہنا اس کی بے ہرمتی کا سوب ہو قھ اس کا پا ککرنا داجب ہے جہ 
قالط تخب بے سےکہ خواہ بے ہرمتی نہ بھی ہو تب بھی پا کگکیاجاغ۔ 

مل ٥۰+۳‏ : : اگر صرکی ڑائی غس ہو جائۓ نز بنابراضاط اسے د وکر پا ککرن چا اود گر 
پنائی کا خۂں ہونا سو رکی بے حرمتی میں شار ہوٹی ہو اور وہ دھونے سے خراب ہوئی ہو اور جس صے ٤‏ 
کاٹ دبا ھت ہو و اسے کاٹ دنا پاہے۔ 

ضتلہ ۹۰۴ ؟ گر عین خجامت اور خس شدہ نزک حر میں لے جانے سے مدکی ہے ھرمتی ہو 
قزر مپر میں نے جانا رام سے مہ احقاط صتب بے س ےک اکر بے عرمتی شہ بھی ہوگی ہو تو تب بھی 
حن ج سکو مسج میں نہ نے جایا جائے۔ 


مستلہ ۹۵ : مر صیر میں میا عزا کے لیے خیمہ نا جائے اور فر کیا جاۓ ادر ساہ پررے 
للکائے جامیں اور چاے کا سان ان کے اندر لے جلا جاے نو گر ہہ یں مسی رکو رر نہ نمی اور 
نماز پ نے میس بھی مالع نہ ہوں نزکوتی حمحع لھیں۔ 











مل ۷ اط قب ےک جو کر سرت بے ارز ای چو ں کی ضریرں سے و 
جائے جو انسان اور مجوان گی طخ رگ یں- 

مل ے٭ : اکر سد ڈٹ پھوٹ بھی جائے حب بھی نہ تر اسے تھا ا سنا سے اور تہ تلیت اور 
ڑگ می شا لکیا جا ککتا ہے۔ 

مل ۹۸: ججد کے دروازوں گیڑگوں اور دو بی چڑزوں کا بینا 2 ےت اور گور ”مجر ٹوٹ 
پچھوٹ جائے تب بھی ان چو ںکہ اسی مس رکی ہرمت کے لیے اتد لکرنا پا - نے اور آلر اس مسر کے 
کلم کی نہ ددی ہوں سی دوسری مد کے کلم میں لان چا جے اود گر ددس بی مسیروں کے تا مکی کی در 
ری ہیں ڑ ائیں راتا زا طاخن و رن سو رک سیت 1 
0ظس 0 ۱ 

مل ۹ء ڈ سج کا تی کرنا اود اڑسی سیر کی عرس ت کنا جو ٹوٹ پچہوی والی .7 تخب ے اور 
اکر مسر اس تر ٹوٹ پچھوٹ جا ےکہ اس کی عرمت ممکن نہ ہو تا ےگ راک ۔ دوپارہ بای جا سا ے 
بک آکر سد ٹوئی چھونی نہ ہو تب بھی اسے لوگ ںکی ضردر تکی فا گر اکر دی کیا جا متا ہے۔ 
مل ۹۳۴ ٠‏ سو رکو صاف جا رکنا اور اس میس براغ جانا صقب ہے اور آ رکوئی نس سیر 
بش جانا چا تر تب ب کہ خوخبو لگاتے اور پاکیزہ اور ٹنقی ابا چےے اور اپنے جوتے کے لمکرے کے 
پارے میں تی کر ےکہ اسے مامت تر نہیں گی ہوئی او سد می وائل ہوٹے یہ پل وایاں پاؤں 
در باہر ٹن بر پل بایاں پاؤں رک اور ای طرح تخب بج کہ سب لوگوں سے پلیہ مسج میں آآئے 
2۸,۰ ھئضض0"م"م) 

مہ ۹۸ : جب کوئی مس صحر ہیں رائل ہو تو صخب ہے کہ دو رکعت نماز سر کی یت 
(م) اور اتا مکی غیت سے بڑھ اور ار واجب نماز با کوگی اور ص تب ماز بح جب بھی کائی ہے۔ 
مکل ۹۳ ٠‏ بنیر بیبوری کے سد میں سونا اور دنیاوی کاموں کے بارے میں نگ کرنا اور شی 
شنعت میں مشفول ہون اور اییے شمرپڑھنا جن میں لشعت رغیرو نظ ہو ککردہ ہے نیز سور میں تھوکنا اور 
ا صا فک رکے کثاذت گرا اور عم تھوکنا اور کشر کو لب کرن اور اپ آواز جاند کرن بھی روہ سے 








جرمیخالممائ ےی ہے ےپژ تھے ا٤د:‏ !۔ 


ین زان کے لیے داز بن رکرنے می ںکوگی حرج نیس ہے ان تام کاوں میں س ےکی کام سے مس کیا 
بے مت لازم آئے تو حرام ہے۔ 

مل ۹۳ : جج اور درا ےکو ید میں واخل ہونے ویناککروہ ہے اور اس شنصس کامسید مس جانا 
بھ یکروہ سے جس نے پا اور سن وی کھایا ہو تس کی بو لوکو ںکو لیف دی ہے۔ 


ازان او راقامت . 


مل ۸۳۴ : پز مود اور عورت کے لیے سخحب ہ ےکلہ روزا کہ اب فاوں ےپ لزان 
اور اقامت لک اور ای اکر دوصری وجب پا مب نمازوں کے لیے مشروع نمیں ہے۔ کن ای 
واجب نمازیں (شلا نماز جات ) جو روزانہ خی بای جاتیں اگمر باتساعت بڑھی جانھیں نو تین وف صلوۃ 
کنا جب ہچ ۱ 
مستلہ ۹۹۵ : صتب ہے کے ےکی پدائش کے پل دن یا ناف آلڑرنے سے پت اس کے دامیں 
کن میں ازان ازر بای کان یس اتقاص تی جاے۔ 
مل ۹۷ : آزان ارہ جمایں بر مشقل ے۔ 
الله اکب الله اکبر ”الله اکر "الله اکبر 
اشھدان لال الال 'اشھدان لال الال 
اشھدان محمنا رسول الله 'اشھدان محملا ا رسول الله 
حیں علی الصلاةۃ' حیی علی الصلاۃ 
حیی علی القلاح ' حیی علی الغلاح 
حیی علی خیرالعمل 'حیی علی خیرالعمل 
الله اکبر الله اگبر 
لاالٰ الاالل 'لاالٰ الال 

ار اقامت. کے حترہ ج لہ ہیں ڑنی ازا نکی ابنتراء سے دو مت الله اگبر اور آخر ے اک 
عرتب. لالہ الال کم ہ۶ جانا ے اور حیی علٰی خیرالعیں گٹ کے بر رو رہ قا. قامت 


سے 





توضیچالمسائل __ ا +جدا 
الصلاۃ ٢‏ اغاذ / دٔا چالے۔ 


مہ ےا۰۹ : اشہدان علیًا ولی اللہ ازان اور آقامت کا جزو خمیں کے لیکن آگر اشھدان 
محمد رسول اللہ کے بعد تہ تکی نیت ےکا جائۓے و اچھا ے۔ 


ازاان اور انمت کا ترجہ 


اللہ ابر ؛ ششن خداے تھالی اس سے پزرگ ‏ ےکہ ا کی تحری فکی جاۓے- 

اشھد ان لاالٰه الال : یی میں شارت دتا ہو ںک: جا اور بے نل اید کے علاو ہکوئی اور درا 
سمل کے قابل مھیں۔ 

اشھدان محمنا رسنول الله ؛ انی میں شمارت دا ہو ںکہ جخرت محر بن عبدااذہ صلی اللہ علیہ 
لہ ذسلم اللہ کے چٹبراور ا کی طرف سے کیج ہوتے ہیں۔ ۱ 

اشھد ان علیًا امیرالمڈمنین ولی اللہ : یش می شماوت وتا ہو ںکہ رت هی علیہ اسلام 
مومنوں کے ام راور ام ماوق پر الد کے دی ہیں۔ 

حیں علی الصلاۃ : نیشن نمازکی طرف جلد یقکرو- 

حیں علی المغلاح : لچی رمتگاری کے لی ہلد قکرو۔ 

حیں علی خیرالعمں : لٹ مین کام کے لی لد یکرو۔ 

قنقامت الصلاۃ لنیپ تحقیق نماز نم ہوگی۔ 

اللہ الادلہ : لن کنا اور بے مل اللہ کے علدہکوئی اور دا یرس کے تال میں۔ 

لہ ۹۸ : ازان اور اقاصت کے جلوں کے درمیان زیادہ فاصلہ شی ہونا چاے گر ان کے 
درمیان معمول سے زیادہ فاصطہ ڈالا جائۓ قے اس (نشنی ازان یا اقاصتہکو) دوبارہ شروخع ےکنا چاجے- 


مستلہ ۹۹ ؛ اگر ازان ما اامت میں وا زکو گے میں اس طرح بچھیر کہ غنا ہوجائے لڑن ازان 
اور افاہت ال طرح سے جیسا لو و اعب اور کھیل کور کے مفلوں میں آواز یا لے کا وستور ہے نز دہ 
ترام سے اور اکر خنا :و روہ ہے۔ 


مل ۹۳۴ ٠‏ رد مازویں میں ازان تریغ نیس ہے اویل عفہ کے دن حصرکی نما کے لیے جوکہ 








توضیم‌المسائل [_ 218_ا 


فویں زی الہ کا دن ہے اود دوم عید قیان کی رات کی نماز عخاء کی لزان اں شس کے لیے جو 

متعرافرم میں ہو اور ان دو نمازوں میں ازان اس صورت میں ساقط ہوکی سے جب اس نماز اور ای سے 

پپکی نماز کے درمیان یا نو الک لکوئی فاصلہ نہ ہو یا بتکم فاصلہ ہو۔ 

مستلیہ ۹۳۱ ؟ اگ نماز صاعت کے لیے ازان اور اقاس کی جا ہی ہو تز جو نس اس جراععت کے 

سالقہ نماز بڑھ رہ ہو اسے اپکی نماز کے لیے ازان اور ااقاصت نمی ںکنی چاسے۔ 

مستلہ 8۲۲ ٠‏ اگ رکوئی مخس از جماعت کے لیے حرہ مم جائے اور دی لہ نماز جداعت تم ہو 

پھی ہے زجب کک میں ٹوٹ نہ جانھیں اور لوگ ختشرنہ ہو جانھیں اس کے لیے جات ہےکہ ابنی نماز 

کے لیے ازان اور اقاصت نہ کھے۔ 

مل ٥۳۷۳‏ : جماں بھھ لوگ نماز جماعت بڑھ رہے ہوں یا ا نکی نماز ائھی ابی تمام ہوئی ہو اور 

میں ٹوٹ ہو ا رکوئی مخس وں جمایا دوسری جماعت کے ساتھ جو قائم ہو رض ہو نماز بڑھنا چا ت 

7 شرطوں کے سام ازان اقاصت ای پر سے ساقط ہو جات ے۔ 

.ا بے کہ نماز عماعت صجر میں ہو اور گر سر می نہ ہو ث ازان اور اقاصت کا ساتا ہونا 
معلوم نہیں ے۔ 

۳ں بیکہ اس نماز کے لیے زان اور اقم ت کی جا گی ہوں 

٣س‏ کہ نمازعقاعت باطل ند ہو۔ 

۴× بی کہ ای شخ ںی نماز اور نماز جماعت ایک ىی تا بر ہو۔ لا اگر مماز ججماعت سیر 
کے اندر پڑھی جائۓ اور وہ شس مس رکی چھعت پ نماز بڑھنا چاے تو سب ہ ےکہ ازان اور 
اقامت کے 

ھ سے کہ اس شح سک نماز اور نماز جماعت روثوں ارا ہوں- 

.کہ اس سک نماز اور نما بماعت کا وت مشترک ہو لا روٹوں نماز ظبر پا مر 
بھی جامیں یا جھ نماز باتماعت بڑھی جا دہ نمماز ظمرہو اور وہ نس نماز خصریڑھ پا وو 
شس از ظمریڑھے اور نماز جماعت عصرکی نماڑ ہو۔ ۱ 

مہ ۹۳۴ ۰ جھ شرائزا حابقہ متلہ میں بیان کی گی ہیں ال رکئی نس ا. میں سے تیری شر 








توضیچالمسائل ۱ 9دا 


کے بارے میں فی فکرے قئی اسے تک ہوکہ آیا نماز جماعت جج تی ما یں اس بر سے ازان اور 
اقامت ساط سے لیکن آمر وہ دوسری پا شرائ ہیس سے کسی ایک کے بارے میں قح ککرے نو صخجب 
ےکلہ ازان اور القامت ے۔ 

مستلہ ۲۵٭ : اگ رکوئی مخ س کی دوسر ےک کی ہوئی ازان اور اقامت سے تو تب ہ ےک اس 
کاجو حصہ سے خوربھی اسے آہست آہست کے۔ 

مستلہ ۹۴۶ : ا۰گ ری مخصس نکی دسر ےکی ازان اور انقاصت سی جو خواہ اس نے ان جملوں 
کو دپرایا ہو ماشہ وہرایا ہو تو اکر اس ازان اور اقاصت اور اس نماز کے ورعیان جو وہ پڑھنا چاہتا ہو زیادہ 
فاصلہ نہ ہوا ہوقز اس کے لیے جائز ہ ےکہ انی نماز کے لیے ازان اور اقاصت شہ کے۔ 

مل ے۹۷ : اگ رکوئی مرو عورت ازان کو الف اٹھانے کے ارارے سے سے تر خور اس گی ازان 
ساقلا نہ ہوگی .اکر اس کا ارارہالطف اٹھاتے کا نہ ہو تب بھی ساقط شہ ہوگی۔ 

تہ ۹۳۸ ؛: ضرری ےکہ نماز جماعت کے لیے ازان اور اتقامت مر کے لین عو رن ں کی نماز 
:ماعٹ میں اگر عزرت ازان اور اقامت کے رے کی ہے۔ 


متلہ ۹۳۹ ١‏ اتامت ازان کے بع کی چايے علادہ ازس اقامت میں معجر ےک کھڑے ہوک 


اور وضو پائسل ما جم کے ذرىیچے عرث سے طمار تکی عالت می سی جائۓے- 

مل ٭۳٭ ٠‏ آ کوئی مخصس ازان اور ااقامت کے لد بغیر ترتمیب کے کے شا حیی علی 
الغلاح کا جملہ حیں علی الصلاۃ سے پ لے کے و الے چا ےکہ جماں سے تجیب ددہم رہم ہولی 
ہے یہالں سے روہارہ کے۔ 

مل )۹۳ ٠‏ ازان اور اقامت کے ررمیان فاصلہ خی ہونا چا اور اگر ان کے ورمیان اتا ناصلہ 
ہو جا ےکہ جو ازان بی جا ھی سے اسے اس اقم تکی ازان ار نکیا جا کے ث جب کہ دوہادہ 
ازا نی جاۓ علاوہ ازس اکر ازان اور اقمت کے اور نماز کے ورمیان اتا فاصلہ ہو جال کہ ازان اور 
اقامت ای نا زی زان اور اقامت ار نہ ہو ق تب س کہ اس نماز کے یئ روبارہ ازان اور انقات 


کی جاۓے۔ 








توضیح‌المسائل : ا 1ل 


ملہ ۹۳۲ ٠‏ ازان ادر اقاعت تج عرلی میں کن چاپے ہیں اگ رکوئی مس انی لد علی میں 
رص تپ شلا ان کا تر اردد زبان میں کے تو ہہ یع ممیں 


ہے۔ 
1 


مہہ ۹۳۳ ۰ ازان اور اقامت نماز کا وت راخل ہونے کے بو کین چاجیں اور آگ رکوئی ‏ خس 
جان بوچھ کر با و لکر دقت سے پل سے نز ال ہے۔ 

مل ۴٣٠٭ ٠‏ ؟. اگ رکوئی خی اقامت کن سے > ہر لے شک کر ےکہ ازا نکی کپ 2 
چا ٹن کہ مزان کے اور گر اقامت کے میں مشخول ہر جاۓ مہ اور گی یکر کہ آی ذ اذا نکی ہے با خییں 
ازا نکھنا ضردری نمیں- 

مل ۵ اگ ازان اور اقامت کین کے دوران می ںکوئی جخملہ کن سے پل مخ شی فکمرے 
کہ آیا ا نے اس سے پٹیشروالا جمل ہکھا ہے پا فنیس ت اسے چا ےکہ جس جلہ کے کے کے پارے 
می اسے شک ہوا ہے اسے کے لگن اکر اسے لزان یا اقامت کاگوئی جملہ اوائکرتے ہوئے شک ہ وکہ 
آیا ای نے اس سے پیشنر ولا جمل ہکھا ہے یا میں قو اس لے کاکمنا ضردری نہیں۔ 

مل ۷ك قب ے؟ مض ےد ک 0+ 
تین یی عالت میں ہو زرفر نآ یں رگ کے اور آوا زکو پلن در کھرے وت یج اور اؤان کے جللیں 
کے درمیان تدرے اصلہ رے ے اور جملوں کے ررسیان ہاتیں لریڑے 

مہ ے ۹۳ : تب ہ ےکہ اقاصت کت دقت انسان کا بدن اکن ہو اور ازان کے متقالے مس 
اقامصت آہست کے اور اس کے جلو ں کو لیک دوسرے سے جو شہ ونے لن اققامت کے بملوں کے 
درمیان اتا ناصلہ شہ درے جقنا ازان کے جملوں کے ورمیان بنا ے۔ 

مل ٠×۹۸‏ :. متعلقہ فص کے لیے تخب کہ ازان اور اقاصت کے درمیان ایک تدم َ 
بڑھے یا تھوڑی دب کے ملیے جیلھ جائے یا حیدہکرے یا اللہ کا ذک رکرے یا دعا پڑھے یا تھوڑی دم کے 
لیے سمالت ہو جا یا کوئی بات کرے پا دو رکعت نماڑ بے ٹن کی لزان اور اقات کے ورمیان 
ظا م کرنا اور نماز مخرب کی ازان اور اقاصت کے ورمیان از پاعنا لن رو رع نماز پڑھنا) ”تب 


٦ 








توفیچالسائل__ے ہے ہے 2220.1 


نین ہے۔ 
مہ ۹۳8 : ص قب س کہ جس نس کو ازان کن بر مقر رکیا جائۓ دہ عاول اور وق تکو بچانۓ 
والا ہو اور الک آواڑ بانر ہو اور وہ پلتو ۲ پر ازان رے۔ 


ماز کے واجبات 


اح تع ۲۔ تام ۳ گیرۃ لاتام ۳۔- ریغ 
-٦ 0‏ رات ے۔ زکر ۸- تفم 
۹۔ علام - ترتیب ۱- موالات لی اج:اۓ نما ز کا لے ور ے بالات 


تن 


ملس ۹۴۴ : ناز کے واجبت میں سے حیض اس کے رکین ہیں یی گر انسان انیس ججھا نہ لائے 
خواہ ایا کر جان بوجہ کر ہو پا حلطی سے ہو نماز پل ہو جاتی سے اور بیض واجصبات رن خی ہیں 
ینی آگر وہ نشی سے وٹ جاییں نز نماز پل میں ہوتی۔ 

مماز کے ارکین باچچ ہیں : 


آئیت نیت 


۲ گت لاعام 

رکوغ سے مل قام (شی رکوم میں جانے سے لہ کھڑا ہونا اور عالت قیام سے 
ررش ج)۔ 

یں لا 

ہر کات میں دو سجرے اور جماں کک زیاہتی کا تعلق سے گر زیادتی ھا ہو تر فی کی شر کے 

راز پل سے اور آمر لی سے ب+وٹی ہو فو رتو ما ایک ہی رکعت کے دو حیدوں میں ڑیادتی سے نماز 

ال :* عائی سے ورنہ ال نمی ہوتی۔ 








توضیح‌المسائل ٠‏ 7 پے ا پل وو 5 


مستلہ ۹۴۲ ۰ انی ن کو چاجے کہ نماز قی تکی نیت سے وھ نٹنی فداو:ر عم کے عم کی میا 
آدری کے لیے بڑھے ھت اور ىہ اتاط ضروری کہ نی میت کا لفن نہ کرے جم . صرف ڈنی طور یر نماز زاں 
کی رکھتوں اور وققت کا نین اور تو رکرے_ 


تل ۹۰۳۴ : ا رکوتی مخس ری نماز میں ما ححس کی فراز میں می تکر ےس چار رکعت نماز بڑختا 
ہیں لیشن اس ام رکا تین یہر ےکہ نماز ظمرکی ہے یا خص رک تو ا کی نماز باعل ہے۔ نیز مشیل کے 
طور بر اگ رکسی شخس بس نماز مکی قضا واجب ہو اور دو اس قنا نماز یا غماز خم کو مماز ظمر کے وت می 
پڑھن چان ق اسے چا کہ جو نماز وہ پھے غیت میں اس کا تی نکرے۔ 

لہ ۹۴۳ : اض ن کو چای نےکہ شروغع سے آخ تک اپنی خیت بر قائم رہے اگمر دہ نماز میں اس 
اطرح انل ہو جات کہ اگ رکوئی ٹپ یش کہ ف کیا ہے و ا کی مجھھ میس نہ آ ےک کیا واب دے آ7 
ا کی نماز باعل ے۔ 

مکل ۹۴۴ ڈ۰ انا نک چا ےک فلا خدکوند حالم کے ع مکی ہھا آآدری کے لیے نماز پا ھ ہیں × 
نس ریاکرے ٹن لوک ںکو دکھانے کے لیے نماز بڑ ھھے اس کی نماز پاشل بت خواو ہے نماز بڑھنا تا 
لوگو ںکو دکھانے کے لیے ہو یا خیدا اور لوگ دوثوں اس کی نظرمیں ہوں۔ 

مہ ۹۴۵ ؛ اگ رکوئی نس نما ز کا بچھھ حصہ بھی اڈ کے عاودہنصسی اور کے لیے ہیا لائے تو ا س کی 
نماز بافل ہے بللہ اکر نماز نے خدا کے لیے بے لیکن لوگو ںکو دکھراے کے لیے سی ناص تمہ ملا سر 
یس پڑھھ پا ا وقت غلا اول وقت میں بڑھے ای اص طرز سے لہ باجماعت پڑھھ فو اس کی 
از اٹل ہے اور اق ا کی بنا یر گر نماز کاکوئی سب جص شا قوت بھی انل کے ماود صسی اور نے 
لیے پڑھے تو ا کی نماز اٹل ہے۔ 


بر الاحرام 


مہ ۹۴۷ : ہرنماز کے شروع میں الد اکب رکھنا واجب اور رن سے اور انسا کو جا کہ اڈ 








توضیح المسائل____ )883ا 


کے جوف اور اکبر کے حروف اور دو کے اد اور اکبر پے در پے لے اور یہ بھی ضروری ہ ےکہ ىہ دو 
ےج عوی میں کے جاھیں اور اگ رکوتی عخنصس غالط عبی میں کے یا لا ان کا اردو ترج کر کے کے پز 
میں ے۔ 

سیل ے٤۹۷‏ : ایا واجب ہہ ہے کہ انمان نما کی گیرۃ الاتا مکو اس نز سے نہ ملائے جو وہ 
اس سے پللے بڑھ رب ہد (شلا اقات ما رما سے جو وہ ہیر سے پل بڑھ را ہو)۔ 

متلیر ۹۳۸ ۰ہ رکوئی فیس چا کہ اللہ اکب رک اس نز کے ساتتھ جو بعد یش بڑھ ہو شل 
بسم اللہ الرحملن الرحیم سے ما رے و اسے چا کہ ابر کے حرف ”راء* بر پیٹ رے لگن 
اثاط راجب ہے ے “مہ واجب نماز میں اس مصسی دوسری یر سے مہ لائے۔ 

مل ۹ ڈً ڈ نکی الاترام کت وت ضروری ہ ےکہ انسان کا بدن ساکن ہو اور اگ رکوئی شنس 
جن بوجھ کر اس عاات مس گبیرة ا۱ا م| کہ اس کا بدن مکت میں ہو قز اس کا عیبر ۃ الارام کنا 
پافل سے اور نماز کروظل بی 

مل 0۰ہ : انا نکو ای ےکہ گر اور جھ و سورہ اور ذکر اور دعالیوں پش کہ خود من گے اور 
آلر اونا سے یا برہ دونے کی وجہ سے پا شور وخ ل کی وجہ سے نہ من کے اس طرح کےککہ اگ رکوئی 
امرااع نہ ہو ہی ے۔ 

مستلہ ۹۵۷ ٠‏ آل ہکوئی شف س کوٹ ہو یا ا س کی زین میس کوئی شس ہو جن سکی وجہ سے وہ ای امبر 
ن کہ مکنا ہو ان چاسٹ کہ جس طرح مھ یکمہ کے کے اور ار انل بی ذ کمہ سکما ہو تو بنا براطیاط 
ات اس ےکم بل ڈں کے اور کا لئے اشارہکرے اور اگمر مین ہو و لق زان کو گی 7- 
ڑاست۔ 

مستلہ ۹۵۲ : انان کے لیے صسحخحب سے گمیرة الاعرام کے بعد کے 

یا۔حسن قد اتاحّت المسئی وقد امرت المحسن ان یتجاوز عن المسئی انت المحسن 
وانا المسئی بح محمد وال محمد صلی علی محمد وال محمد و تجاوز عن قبیح ما 
تعلم منی ( یی )اے یں ے اصان'فگرۓ وانے خرا پے گتگار بندہ تی ارگاہ میں آیا ے اور و 
نے عم دا ین ےک تل یگ میگاروں سے و رگز رگمریں۔ پذ اصا نکرنے واما سے اور میس گار ہو 











توضیح‌العسائل 224ر 


و بل ھپ اٹی تن جازل :فا اور مم و لیج 2 یل میری برانیوں نے جنیس تو جاج نید 
درگزر ویا۔ 

مستلہ ۹۵۳ : انان کے لیے تخب ہے کہ نما دی ھی گم کور نما زکی مرمیانی گمبریں نلت 
وت پاتھو ںکوکاتوں کے زا ان نل جائۓ۔ 

مل ہ۹۵۳ : ڈگ رکوئی ضس یک کر ےکمہ یر الاھا مکی ہے یا یں اور قرات میں مضوں 
ہو چکا ہو ٹر اسے چا کہ اپنے خح ککی بروان ہکرے اور آگر لبھی پکھ نہ بڑھا ہو و یا ہے 
مستلہ ۹۵۵ : اگ رکوئی نس عحییرۃ ارام کن کے بعد ک کر ےک '۔:ہ جج ےق سے 
سے ما نہیں نو خواہ اس نے کوگی جن بھی ہو ما نہ بڑھی ہو اپنے تح کک ہواعہٴ ہے 
کے بعد اور قرآت سے پل اعوذبالله پڑھنا بطور اسیا ضرددری تے۔ 


قیام لی کھڑاہونا 


مل ٦‏ ڈ یر الاحرام کن کے مرقع قام/ ادر روغ سے پل قیام نہ قیام مل بہ رع 
کھا جانا ہے رکن ہے لگن ص اور سورۃ ڑا کے موقع ام اور دکور کے یہ قام رین یع نی 
اور اگ رکوئی نس اسے بمول چو ککی وج سے تر کک دت. تذ اس کی نماز " ئئے۔ 

مہ ے۹۵ ۰ گبیرۃ الارام کن سے پل اور اس کے بعد میں تھوڑی .مر کے لیے کا ہوا 
واجب ہے کہ ین ہو جا ۓکہ گبرقا مکی عالت می ںک گی ہے۔ 

مل ۸ ۰ :. اکر کوئی حخص رکو کرنا بھول جاۓ اور ص اور سورہ کے حرج ے اور پھر 
اسے یاد آت ےکہ رکوغ خی ںکیا تق اسے چا کہ کھڑا ہو جاے اور رکوع میں × أکر سپرھا ھا 
ہو بفیر کہ ہون ےکی عالت میں رکو غکرے تو چوککہ وہ قیام متمل ب روغ نھیں جیا لیا اس لن 
ا یک نماز ال ے۔ 

لہ ۹۵۹ : جس وقت ایک شخس کبیرۃ الاعرام یا قرات کے لیے کا ہو سے چا کہ بن 
مرکت یہ رے او رکسی طرف نہ جک اور اعقیاط کی بنا یر کسی تہ ماک نہ ے2 ن آلر ایا کرای كم 











ڈاطتسر مر سی ای پا ری ہے ہی 7ن او ظا 


ور و9 کائی رع ئیں۔ 

متلہ +۹۷ ۰ اکر قیا مکی مات ج سکوئی مخ جھوئنے سے بد نکو ترکتہ بے ما ھی طرف ججیک 
جا ما نی تہ تک لگا لے وی مج نمی ہے۔ 

متا ۹۹ : اتا قب بے ہج کہ قیام کے وقت انان کے دوڈں پاؤں نن ےی میں کین 
فبددری کی کہ بدن کا وھ روفوں پاؤں پر ہو چان کر لیک پاؤں پر بھی ہو توکوئی رج ۶ یی تن 


مہ 8۷۳ ٠‏ ج مس میں طو رکا ہو کت ہو اکر وو اپۓے 
رک کہ اس پر 'کڑا ہونا کمن صاوق نہ آ ہو نز ا کی نماز پاھل ے۔ 





پاآںك ىك رت ا رش پر 





مل ۳پ جب انان نماز میں واجب ازکار میں سے کوئی جز بسن میں مشقول ہو ضروری 
ہونا اہین یا زل ران نان 
جائے ٴضص ۴۱, و سک ای و واج دھ 
بااب جھوڑی سی مات دینا جا اسے چاجے ل وت گول رن اے۔ 








بش اں تاپرن اکن ہو اور بی وقت وہ تررے ٢‏ 





مکلہ ۹۰۴ ٠‏ مر بر نکی مرک ت کی عالت میں کوتی خس مستحبب زلز پوھھ ا رکوغع میں ۱ 
جانے یا مبدہ میس جانے کے وقت گب ر سے تو ا کی نماز ات سے اور انمان کا اجک بحول الله 
وقوتہ اقوم واقعد ال رت نک جب کڑا ہو بہا۔ 


مل ۵ ء٠‏ ہاتھوں اور انیو ںکو ضر بڑ ھت تن وقتی زآت بنا س٣‏ لئ مع نی آرچہ امیا 


سئحب بی کہ ائئیں بھی ہکت نہ دی جاۓ۔ 

مل ۹۹ گر ئی مخس ص اور سورہ بے وت با نمسصحاتف بات وتت بے اظرار راتی 
عمکت کر لہ بن کے ماگ ِ ہونے گی عاات سے ارح ہو جاتے و اضیاط ”تخب یہ س کیہ بدن کے 
دوارہ سرن حماضل” نے پ ا یھ ای نے مکح کی حالت میں پڑھا تھا دوبارہ ‏ بڑتے۔ 


مہ ے۹۹ ۰ گر نماز کے دوران میں کوئی نس قام سے عائز ہو جاے ے اسے پان کم جطہ 
بانة اررئڑ گے ارز لی جائے لین جب کک اس کے بد نکو سکون مال نہ ہ وکوئی واجب 





توضیح‌المسائل 7 7 لازےدد] 


مل ۸ :ًْ جب تک انا نکھڑا ہوکر نماز یڑ سکتا سے ٹیھنا نمیں جا ے مل اگ رکا ہون ےکی 
عاات میں کسی کا بن ھک کرت ہو با دوککی زیر کیک لگانے پر با بد نکو تھوڑا سا ٹیڑھارنے پر پور 
ہو تب بھی اسے چا ہے کہ جیسے بھی ہو ےکھڑا ہو کر نماز پڑ ھے لیکن آمر دو سی طرح بھی جھڑا ئ ہو 
سنا ہو تڑ اسے چا ےکہ سیدھا می ھکر نماز بڑھے۔ 

مستلہ ۹۷۹ ٠‏ جب کک انان جیٹھ کے اسے لیشدکر نماز نمی بڑھنی چان اور گر وو سیدھا ہ وکر 
نہ میٹ کہ تو چا ےکم مس بھی معن ہو ٹیٹے اور اکر لکل نہ بیٹھ کے و اسے چا کہ جیساکہ لہ 
کے اعکام می ںکماکیا بے دانیں پلو کیہ اور اکر میں پساو نہ لیٹف کے نز پامیں پہلو لیلہ اور آلر سے بھی 
ان نہ ہو تر پت کے بل اس طرح لی کہ اس کے پاؤں قل کی طرف ہوں۔ 

مل ٭ےہ : جو مخصس بی ھکر نماز بڑھ رپا ہو اگر وہ حر اور عورہ ہڑ سے کے عو ڑا ہو نگ اور 
رکو مکھڑا ہو کر با لا فو چا ےک ہکھڑا ہو جاۓ اور قا مکی عالت سے کو میں جاۓ اور اگر ایا نہ 
کر گے و چا ےکہ درکو مع بھی یٹ ھکر با لاۓ۔ 

مل ۱ء۹ : جو مس لیب کر نماز بڑھ رہ ہو لہ وہ نما کے دوران میں اس تابل ہو جا ےکہ میگ 
بے اسے چا ہے نما زکی جحتی مقدار فحکن ہو یل کر ےھ اور آ رکھڑا ہو کے نو چا کہ جٹنی 
مقدار مان ؛ ڑا ہو کر بات لگن جب تک اس کے بر نکو عون ماصل نہ ہو جائۓ اسے چا کہ 
واجب ازکار میں سے سیئر ڑے۔ 

مستیلہ ص۹۱ ٠‏ جو مس جن کر نماز بڑھ را ہو گر نماز کے دوران میں اس قائل ہو جاۓ۔گھڑا 
ہو کے ق پا ےکہ نا کی نی مقدار خحکن ہ وکھڑا ہو کر پٹ ھھ لیان جب تک اس کے بر ن کو کون 
عاصل نہ ۴ہو جائئے ات چا کہ واجب ازکار میں سے اھ نہ بڑھھے۔ 

مل مان۹ ٠‏ اگ رکسی ری مخ کو ج رکھڑا ہو سا ہو ہہ خوف ہوک ہکھڑا ہونے سے بار ہو 
جاے گا یا اسے کوئی ضر مین گا نے وہ یل ھکر نماز بڑھ مکنا سے اور اکر بی سے بھی ڈرا ہو او لی کر 
ماز بد مکنا ے۔ 


مستلہ نمے۹ .ال ہی انا نکو ىہ ال ہوکہ آخر یت ح ککڑا ہو کر نماز پاجھ کے گا نو مجر سے 








رسای ہے [_ 281ا 


کہ مماز پڑ نے می ات کرے لکن اکر آخر وقت ک ککھا ضہ ہو کے تر آخ وت ہیں اپنے وظیفہ کے 
مطاای نماز بپڑھھے اور ای صورت مم ںکہ اس نے اول وت میں نماز بھی ہو اور آنخر وت می ںکھڑز 
ہونے پر در ہوگیا ہو اذ اسے چاہ ےکہ نماز دوبارہ بڑھے۔ 

مسُلہ ۵ےہ۹ : نو اج نے ر کے او رکندتھوں کو 
یچ کی طرف ڈھیلا پچھوڑ رے اور پاتھو کو رانوں پر رک اور انیو ںکو آپیں مس مل ربے اور جیا 
دہ کی لے پ رک اود بدان کبوجھ دوخیں یں پر یں ڈائے اور وع اور خضوع کے سان کھڑا ہو 
اور پاؤں نے یی نہر کے اور اکر مر ہو پاوں کے درمیان خین بھی ہوئی انگیوں سے لن ےکر ایک 
الات کک کا ناصلہ ر کے اور اگر اکر عورت ہواو رونوں پائؤں ملا رجے۔ 


رات 
مل ے2 ٦:‏ اذا نک چا ےک روزاد وانب نمازو ںکی کی اور دوسری رکعت میس پسلے حر اور 
اس کے بعد بنا پر اعقیاط ایک پورے وو کی علاد تکرے اور وانی اور الم نشر عکی سورتیں اور ایس 
رجح ض8ش از لاطاف گی سور قیں نماز یں ایک سورہ ار ہوتی ہیں۔ 
مل ےے۹ : اکر مماز کا وت تنک ہو یا اسان کسی مجبدر ی کی وج سے سورہ نہ پڑھھ متا ہو شا 
اسے خوف ہوکہ اکر سوہ پڑھے گا چور یا ددندہ اکوئی اور جز اسے نقصان پمپ ےکی تاس کے لیے 
سودہ پڑہنا ضردری نییں۔ 
تہ ۹۸ ۰ ا رکوئی تخس بین بوچھ کر مھ سے پلے سورہ پو سے تر ا سک نماز انل ہوگی لین 
اکر لی سے مجر سے پیل سوہ پڑھھے اور پان کے دوران می یاد آئے ق اسے ہا کہ سور کو چھوڑ 
دے اور صہ پا سے کے بحد سورہ شرو) سے پڑھے۔ 

: سلہ ۹ےہ :لی شس مر اور عورہ یا ان میں سے کسی ایک کا بڑھنا بھول جاۓ اور رکورم 
یں جانے کے بعد اسے پاد آئے قو ا یک نماز کچ ے۔ 
مل ۹۸۰ گر رکوعغ کے لیے جن ہے پل کسی من کو پا نے ےک ائن نے طرالوز سورہ 


نمس بڑھا ة اسے جا کہ بڑحے مہ اور ار ىہ ار آ کہ سورہ میں بڑھا تو اسے اس کہ ڈیا سورہ 





توضیحالمسائل إ٥‏ 28ھ ا 


پڑھے لین اکر اسے با آت کہ فا مھ نمی بڑھاقو اسے چا ےکہ پل تہ اور اس کے بعد دوبارہ سورہ 
پڑھھے اور مر جک بھی جا لکن کو کی عد کک نے سے پسلہ ياد آن ےک مد اور ورہ یا فا مد 
ہیں بڑھی اور اے چاجے اہو اور رکو گر کے نماز ا مکرے اور بنا پر اطیاط نما زکا اعارہآرے۔ 


مستلہ ۹۸۳ : اگ رکوئی مخ بین بوچھ کر نماز میں ان چار سورقوں میں سےکوگی ایک سورہ ڑ ھے 
جھی میں آسہ حبدہ بای جاتی ہے تذ اتا طکی بنا بر ا سکی نماز باعل ہے۔ 

لہ ۹۸۳ ٠‏ اگ رکوئی مخس بھو لہ کر ایا سورہ بڑھنا شرو عکر رے جس میں یرہ واجب ہو مجن 
آیہ دہ کک کے سے لے اسے خیال آ جائۓ و اس چا کہ اس سور کو چھوڑ وے او رکوئی دو مرا 
سورہ بے ازر آلز آپ رہ پڑ ےن کے بعد یاد آۓ ڑآ اقتاطا“ 7 ۓ اقار کرے اوخ و گل 
کرے اور نمماز کے بعد چا کہ اس کا دہ بجا لاےۓ۔ 

تہ ۹۸۳ : اگ رکوکی شخس نماز کے دوران میں کی دوسرےکو آ یہ سبدہ بڑھتے ہوئے سے ت 
ای می ماز ڑ ےن دالےکی) نماز گج سے یکن جار انقیاط سیرے کا اشمار کر ے اور نماز ش ممرنے 
کے بعد اس کا سرہ بجالاۓے۔ 

مہہ ۹۸۴ ۰ مستحبی ناز می سورہ بڑھنا ضردری می ہے خواہ وہ نماز نز رکھرنے کی وجہ 
سے واجب جیکیوں دہ ہو گی ہو ین لک رکوئی نس بل ای مستحبی نماییں ان کے اکام کے 
مطابق بڑھنا ا (شلا نماز وخشت) جن میں مخنصوص سورتیں بڑھنی ہوئی ہیں و اسے جا کہ وی 
سورتں ڑھے۔ 

مہہ ۹۸۵ ! بح کی نماز میں اور ججعہ کے ون نم رکی نماز میں گی رکعت میں مر کے بعد مورہ 
بمعہ اور روصربی رکعت میں ص کے بعد سورہ منافقون بڑھنا مب سے اور لگ رکوئی شخفس لن میں سے 
کوئی ایک ہورہ پڑعتا رو کر رے لو اسیاط واجب گی بنا پ اے پچھو ڑگ رکوگئی دو سرا سورم ین ڑھ 


سا 


منتلہ ۹۸۷ : ا رکوئی جس حر کے پور سورہ قں ھوالل احد ا رہ ق یاایھا لکافرون 
پڑھنے گے تو وہ اسے چھو ڑگ رکوگی دوسرا سورہ نہیں بڑ متا ایت ار نماز بمعہ پا جمعہ کے ون نماز ظمر 





توضیچالسائل_ )9وج ]ا 


میں و لکر سودہ بعہ اور افو نکی ہجائے ان دد سداں بیس س ےکوی سورہ ےق ائیں چو ڑ کک 
سن" اور سور جع اور مالقون پڑھ کنا ہے اور انقلط ہے ہےکہ اکر نعف سے زیادہ ڑھ کا ہو پچران 
سورلؤ یکو نہ ُچھوڑے۔ 


مل ے۹۸۵ ڈ آگوئی شف جع کی نماز میں یا جعہ کے دن ظمرکی نماز یش مان بوچ ھکر سورہ قی 
موالله احدیا سر قں یاایھا لسکافرون بڑھھ تر خواہ وہ نمف تک ء تہ ینپا ہو اعیاط واجب کی بنا 
پ اننس چھو ڑکر سورہ جہہ اور مافلقون میں یڑب کال 

لہ ۸۸ : 2ار کل کس برک سوا يك ارز و از اع جن 
علاو: لئ دو مرا سورہ پڑت تو جب تک لصف تک : نہ پنیا ہو اسے پچھوڑ سکتا ہے اور رومرا سورہ پا 
سی ہے اود اط کی نا پر اسے چا کہ نعف اور دو قائی کے درمیان اس سور کو : شہ پُچھوڑے اور 
جب د تحائی تک یج جا فو اس سور کو چھو کر“ کی ددمرے سودہکی جاب پھر جانا جائز میں ہے۔ 
مکل ۹۸۹ ۰ ا رکوتی مس کی سورہ کچھ حصہ بھول جائے یا بہ امرجبوری لا وقت کی گی یا 
یا و تا ین نے گے تو وہ ایس سودہکو پچھو وک رکوئی دوسری سورہ پڑھ سکتا سے خواو اں . 
بے کل سورہ رو مال ے لاس کرات و انار اتوہ تر الم اف ا قل 
یاایھاالکافرون ی گرل ئ ہو۔ 


مل ٥۹۰‏ ء: عرد بر داینب ہےکہ کی اور مفرپ و محشاکی نمازوں مل تر اور سورہ بلثر آواز سے 
پڑھھ اور مرو اور غورت دواول پر واجب لہ نماز ظمرو ععرمیں صر اور سور آہسۓد بڑتھھیں- 

لہ ٢9‏ مرک جا کہ ت کی نماز اور مغرب وعشاکی نماز میں خیال رک کہ مر اور سورہ 
کے تام لمات کہ ان کے آخری حرف کک بلند آواز سے پھ چاھیں۔ 

مل ۹۹۲ : 2 نما اور مغرب وعشاکی نماز می عورت مر اور سورہ بلند آواز سے یا آہستت 
ینہ چانے پاھھ مکی ہے لکن لہ نا رخ ا سکی آوازسن سک ہو ات ط کی نا یر آہستہ بڑھے۔ 





مستزلہ ۹۹۳ ذ اگ مر توئی مس جب نماز ار آواز سے ہنی جانے حا آہست پڑھ ما جب آہست 
زھل جانے حا بن آواز سے پھے و ا کی نماز اٹل ہے شجکن اگکر بھول جان ےکی وج سے یا مت 








توضیح‌المسائل _ 932ا 


نہ جاۓ گی وچہ سے ای اکرے ‏ و ا س کی نماز چَ ت اور ار صر اور >ورو ڑھے کے ووران میں بھی 


اسے پت چل جا ےکم اس سے می ہوئی ہے تو ضروری خی ںکہ نماز کاجھ صہ بڑھ چک ہو لے دہ 
ھب 


سیل ٥٦۹۷‏ : اکر کوئی شخیس حر اور سورہ پڑھمنے کے دوران میں اتی آداز تعمول سے زیاوو ہائد 
مرے مشلا ان سورتو ںکو ایے پڑھے جیی ےک فیا دکر رہ :ہو نے ا کی ناز باشل جے۔ 

مہ ۹۹۵ ٠‏ ان نک چا ۓےکہ ناز جج طوری کچھ کہ ماکہ غاط شی بڑھھے اور جو شس ا 
کسی طرح بھی مج طور بر جن سر تاور نہ ہو اے ویو سس ری 
تخب ہے ےکہ نھاز ماعت کے ساتھ بڑھے۔ 

مہہ ۹0۹ ۰ اگ رکوکی ہنس حر اور سورہ اور نماز کے دوسرے جم بٹولی شہ جات ہو لن ! 

گے پر اور ہو تر اے چا نے کہ اگر نماز کا رقت وس ہو لو عم لے ورگر ود بے 
چا کہ عی الامکان نماز جماعت کیساتھ بڑھھے 

مملہہ ے۹۹ ٠‏ واضات نماز مگھانے کی اجرت نہ لین بھتر سے اور ستقرات نماز کھانے کی ارت 
ینا بٹی اشحال کے جائز ے۔ 

مل تد اگ رکوئی ننس مر اور سورہ کاکوئی کہ نہ جانا ہو یا جان بوچھ کر اسے نہ پڑھے پا 
ایک جو ف کی ججاۓ دو سر عرف کے خلا کی بجاے ظا کے ما جماں زبہ اور زیر کے بی رپڑھنا چاے 
دہال نے اور زبر نگاۓ اتد یر مرف کر دے فو ا سک نماز اضل ہسے۔ 

مستلہ ۹۹۹ : گر انان نے کوکی کر نس طرح یا رکیا ہوا ہو اے کے متا ہو اور مماز میں ای 
ےمور در ےا سج وت 
ضردری نئیں۔ 

مل مھا تھے جھ ہت 
ایک کگرہ س سے اراکرنا چا جے باص سے گر وہمکسی کے کو رو یا زیارہ طریقوں سے اواکمرے 
اھدنا الصراط المستقیم میں کہ صتخم لیک وفعہ میں س اور آیم مور ےہ 











ماز بل سے لیکن ار جو کر دہ دد طریقویں سے پڑھے وذ اذکار میں سے ہو اور اس کا خلا پڑھنا ادس وگر 
ہدنے سے فراع نے انی ملط پجنے کے باوجود اسے ذکر ہی مجھاہا ےق ا کی ازج ژن ست۔ 


مل ۱۹1 ٠‏ اگ ری نک وو ری و رت بر 
ٹیش واؤ وم ج یس یں 4ئ 

حھے اور ای طرع اگ ری کے میں الف ہو اور اس کے میں الف بے 0700 
داوف موہ اپ وی کے رع رہہ 
طعگ ری لک می یا ہو لور اس گے می می سے پل عرف کے بئے زی ہو اور ام س کک میں ما سے 
اور کا 2 فی از ہو ملا میں ہو تو چا ےکہ یکو مد کے ساتہ پ ھ اور آگ ان حروف لٹ وا اور الف 
ادر با کے بعد ممزہ کی ہیاۓ ٤‏ کوگی ایا حرف ہو جو سراکن ہو جم نی ز اور زبر ادر یی نہ رتا ہو تب بھی 
ان ٹن حوف کو مد کے ساتہ بڑھنا چاۓ خ والاالضالین بش شس میں الف کے بعد 7ف لام 
اکن ہے پڑ جے وات کو چا ے کہ اس کے ال فکو بد کے ساتہ بڑھ اور ا اکر ج قاحدہ زایا کیا بے کے 
مطابقی مل نہ کرے تام کے لیے امقیط داب ہے ےکہ اس مز * ت مر اور بر دوپارہ بڑتھ۔ 


ہل ہر او سر وس 2۸ صاح یہ جکون نے غرنے 
اور ولف مگرکت کے معن ىہ ہیں کہ کی سی کے آخ میں (بھ زبھ ہا بی بڑھ اور ای گے اور اس 
کے بعد کے کے کے درسیان ناصلہ سے لا کے الرحمٰن الر یم اور الرٹیم کے می کر زھہ دے اور 
ہو وس ری مان گھ معن نیہ ہی ںک می 
کی ذ وی یا یٹ نہ پڑھھ گور اس کے کو بعد کے گے سے جوڈ رے ‏ نے گے" الرَحن 
الرحیم اور الرحیم گے ٌٌ مل زے ‏ دے اور ور مالگ یوم الدین > 


مل ۰٣۳‏ نا نکی تمری لود چو تھی رکت میں فتط ایک جر بڑھی با گڑ ہے یا ایپ و 
اق ارب کی جاسنق ہیں متنی نماز پڑ ھن والا ایک وف کے۔ سبحان الله والحمدلل و 
الم الاالله والله اگبر اور ریہ ہے کہ مجن دفعہ کے اور وہ ایک رکعت میں مم اور وو سرگی 
رت می بات ھی یھ سکتا ہے لن نماز فراری نڑنی جم پڑھی جانے وای نماز یس ری کہ 
بای ر یں من نسصحات پڑھے اور جہری لڑنی پنر آواز سے بڑعی جانے وا ی ٹی نمازوں مل موم 





توضیح‌المسائل__ے ) 2دھ ا 


کے لیے اقیط لازم ىہ ےکہ تسبیحات اظیا رکرے۔ 

صتلہ ۱۴۰۴ ٠‏ وت گگ ہو نسببحات اراعہ ایگ دقع پڑھنی چائیں- 

مل ۵١۰ا‏ : رز اور عورت دوفوں بر اجب س ےکہ نما زکی ری اور چو شی رکعت میں جم با 
٠‏ نسبیحات ؟ ھت پڑھیلں۔ 

صیلہ ٭٭*م : ا رکی خصس میری اور جوتھی رکعت میں مھ بڑھے آر احضط داد بک بای اے 
چا ےکی ا سی مم الد بھی آہستہ پڑھے۔ 

مل سے٭ ما بو شخی سے بحات پا ہکر تاد پا ای ایک یک پا تما بے 


چان ےکہ تسری اور ی رک ون حر اد 

مستل۔ ۸٭۱*۰ ؛ گر کوئی مس نا زی دو بی رکہجوں میں ہے خیال کرتے ہوت کہ ہی آخ ری 
ھی ہیں نببحات پڑھھ من رکوی سے پل اسے کچ سورت ت کا پت یل جاۓ و اسے واج 
کہ مر اوز سورہ پ ھے اور مہ اسے کو کے دوران می یا کور کے بعد چھ چے ا سک نز جج 


ہے۔ 


2 ۹٠ء‏ ۓ آ رکوئی مخس نما زکی آنری دو ر کموں میں ہے خیال کرتے ہو٤‏ کہ لی دو 
7 یس ہیں دب ھے ا نمارکی کی وو معموں میں ر تما نکرتے ہو ےکم آ فرب دو ر کل میں سے 
ار صور ےت کا کا خواہ رکوغع سے پل پت لے یا بعد میں ا کی نماز کی ہے۔ 

متلہ ۰٭ا : ا رکوتی نس میری یا جوختی رکعت میں مد پاھناچاہتاہو گن تسسبحا خ 
07 زان > آجامیں یا ہ...حات پڑھنا چاچتا ہو جن جا یگ بن پے آجاۓ و اے چا تچ لہتو 
پڑھ را سے اے پُھوڑ کر انی مرضی کے مطابق دوبارہ ھ یا بۃسیچا ےت 
دی جز اج نکی ہو جو ای کی زین بر آئی سے تو ود ا یکو قا مکر سا ہے اور ا کی نما زگ ے۔ 
مستلہ ۱*۴ : نس خ سک عارت تی آور چو شی کت مین تس بحات ےھ گی ہو اکر وہ 
ا عاوت سے فلت برتے تاور اپتنے نیف ہکی ادا کی یت سے مر بسن گے تر دی کی بے اور ال 











توضیچالمسائلِ___ ۱ زا ددھ ا 


مو لے : 1 ےک 
کے لیے ھ ما مسببحات وویادہ بڑھنا مضروری گیں۔ 


۔ لہ ۳۴ ناز و ھن دالے کے لیے خیری اور جو تھی رکعت میں ناوات :ار 
استذذا رکریا صخحب سے شا کے استغغر الله رہی واتوب اليه یا ک الھم اغغرٹی اور اگر وہ 
زاورع کے لیے جھکن سے لے استففار پڑھ را ہو اس سے فارغ ہو چکا ہو اور اے شگ × چل کہ آیا 
اس نے ھی بات بای ہیں ما نمی تقر اسے جات ےکم مد یا نسبیحات پڑھے۔ 

لہ ٠ ۱٣۳‏ أگر نماز بے والا تج بی ا چوشھی رکعت کے وکومع مس ف فکر کہ تا ای نے 

ج0 و ات سج ینا خیں بڑ اسے چا کہ اپنے شح کک برواا نہکرے اور آ اگل رک کی عد 

تف نے سے پیل شی رے و ضردری ہے مہ پٹ کر یا تسےعا پت 





لہ ۴ا : گر نماز نے والا شح ککرےککہ آیا اس نے کوئی آیت ہا کگمہ درست پڑھا ہے یا 

ں خلا ش کفکرےک۔ قں ہواللہ احد درست بڑھاے پا نہیں تاس کے لیے جائد ہ کہ اپنے 
قی کی برواہ کر یکن اکر اقیطا“ دی آیت یا لہ ددبارہ سخ طرییقہ سے پڑھھ دسے تکوکی مع 
میں اور أگ رکھی بار بھی نف کرے نکی بار یڑ سنا بے ہاں اکر وسوا ں کی عد تک تچ جائے اور پھر 
بھی دربارہ بڑھے ق اضاط صست بک بنا بر دی نماز ددبارہ پڑے۔ 


مستلہ ۸۸۵ا ؟ فاز جن وائے کو جا ےک ظمراور خص ری نی اور دوسرکی ‏ رکمتوں میں مم الد 
0 کر کے بڑھھ اور پر آیت کے آخر بر وت فکرے یئ اے 
ار واڑ آیت کے سا لہ ے اور ضر اور سورہ ڑج وا قیات کے معو ںکی طرف ڑج ر بے اھر 


فرادٹی نماز بڑچھہ را ہو نز سورہ حر کے انام پہ اور گر نماز جماعت کے ساتھ اھ رہا ہو نو امام جماعت کے 





جم وم ار کم 3 7 7 
وط تن مکھرنے کے پور ےے۔ الحمدلمہ رب العالمین کے اور عورہ با ھن کے ہعد ھوڑگی ہے 


کے اور اس کے بعد وزج سے بک گر کے پا تو ت پڑھے۔ 


7ھ |٦۷٦‏ ہھاز ڑج رانےے کے صصتب سے کہ سب نمازوں مس کی رکعت میں سودہ 


اناائزلنا اور روصری رکعت میں سورہ قں موالل احد پڑے۔ 


مئلہ دا١‏ : جد فمازوں میں کسی ایک نماز میں بھی انان کا سورہ قں هو الله احد ‏ 7 








نہ پڑھ نا کرد ہے۔ 

مسلہ ۷۸١۱ء‏ ایک بی ساأس میں سورہ قں هو اك احد کا پڑعناگرور ۓے۔ 

مل ۹ ج سودہ انان گی رکعت میں پڑھھ اس کا دوسری رکعت می پاخناکروہ ہت لیکن 
آر ردق ھواللهاحد رونوں رککعتوں میں بڑتھ ت ریم نان 


رو 


مل ۶ ] ناز پڑ ھن دالٹےکو چا کہ پر رکعت میں قرات کے بعد اس قدر شک ہاتھوں 
کو مھٹتوں پ مرکھ کے اور ای م لک رکم کت ہیں۔ 

مہ (۲ +۱ اکر ماز پٹ ھن ولا کو ےکی مقدار بر تنک جائے لیکن اپنے پان کھشتوں پر یہ ررکے ت 
کوئی مج نییں۔ 

تہ ۱۳۳۲ ٠‏ اگ ہکوکی محخصس رکوع ام طریلقے کے مطالق نہ ہا لاے ملا ایس یا دیس جانب 
چک جاۓ تر خواہ اس کے پان مھلتوں تک تنج بھی جائیں ا کا کو سج غمیں ہے۔ 

مئلہ ٣‏ نما پڑ ھن والے کا ھن رک کی غیت سے ہون چایے ینا اگ کسی اور کام کک 
لیے کسی جاو رک مارنے کے لیے کہ تر اسے کو نمی ںکھا جا سکتا کہ اسے پا کہ کڑا ہو جاے 
اور روپارہ روغ کے لئے جھے اور اس ع٥‏ لکی دج سے رین میں اضافہ خی :و اور از خل میں 
7 

مل |]٣(۳‏ ئا" جس مخس کے بت یا کن ددمرے لوگوں کے پاتھوں اور لتوں ے ملف ہوں 
خلا اس کے پاتھ ان لیے ہو ںکہ گر صعموی سا بھی جھکے و کھشتوں کک تیچ امیس یا اس کے ین 
ددمرے لوگوں کے کھلتوں کے تقالے میں یئم ہوں اور اے پائتہ گھثتوں کیک پان کے لیے رت 
زیادہ جھکنا بے ہو 3 اسے ات کہ اتا کے تا مهوا لوگ جھکتے ہں۔ 

مہ ٦۰۲۵‏ جو مس بی ھکر رکو کر رہ ہو اسے ا قد جھکنا چان کہ اس کا چرہ اس کے 
گکشتوں کے بلقائل جا پچ اود تہ کہ اتا شک کہ اس ک پچرد حیر ےکی مہ کے قریب جا می 





توضیحالسائل___ ےس ...ل1 335ا 


مسنیل8 ۱۴۰۴٣‏ ؟ از ھن وائے کے لیے بریہ س ےکہ انقیا ر کی حالت ہیں رتو میں جن ول 
سہحان اللہ یا ایگ :لہ بسبحان ربی العظیم وبحمصدہ کے اور تاہرپے یج کہ جو ڈگ بھی اتی 
مقدار مج سکیا جا عالی ہت منکن دق کی تی اور مجبوریرکی عالت میں لف رلعہ سبحان اللہ آناتی 
کی ے۔ 

مل ے۲ : :نر رک ملس اور علی میں بڑھنا چا او 3 رحب بج کے جن با اج 
یا بات دآحر یہ یں سے گی زیادہ ڑھا جاۓے۔ 


مضلہ۔ ۱۰۲۸ رکوخ میں وجب ذوکر بڑھ نکی مقدار بھر بدن اکن ہونا چابے اور تب زکر میی 


پدن کا ساکن ہونا ال صورت میں ج بکہ خصوعیت کا فی دکرے احوط ج۔ 


ہیل ۹ی آلر نماز پٹ والا آس رت جمہ رکوغ کاز زکر وا تی ارا گر را ہو ے انتار 0 
00ھ" ى حاات میں ہونے سے خارں ہر جائۓے تو کے سر دن کے ون 
عواصل کرنے کے بعد دوبارہ زگ رو بجالاۓ لیکن مر ابی بردت کے لیے ترک تکر ےککمہ بدن کے مو 
میں ہو ن گی عالت سے خارن د ٭ ا انیو ں کر جکھت دے آ کوگی رع میں بک 

مل ما کر خماز پ ین والا ای سے یش کیہ رکا ]کی . مقدار کے مطالن نت اور اس کا بین 
کون واص لکرے ان بج گر کر دکوغ پڑھنا شرو کر رے تق ا کی نماز پل ہے۔ 

مستلہ ۱*۳ ٠‏ گر ایک مخس وکر راہب کے شم ہونے سے پسلہ بان ہو چھ کر حر رکوغ سے اٹھا 
نے تا کی نماز اٹل سے اور ڈمر سوہ سراٹھا نے اور اس سے پت رک رورغ کی عاات ےه خارع و 
جا اسے ماد آن ےکہ اس نے ذکر رکوع شخم نہیں کیا نے اسے چا ے کہ بدن کے مرن کی عالت مس 
ذکر پڑ ھھے اور آگمر اے رکار غ کی عالت سے مار ہوتے کے بعد ياد آے تا کی نماز جج ہجے۔ 
ملہ ۱۰۳۲ : گر ایک نس وک ری مقدار کے مطابق رکو کی عالت میں نہ رہ سنا ہو تو ا متالا 


:. 
واجب نے کہ اس کا بت جسے کور سے اگئے ہوۓ بڑھے۔ 


مسیل۔ ۳۳۳۴م .اک رکوکی نس مرش وی کی دجہ سے رکوع میس انا بدن مان نہ مہ کہ تو ای 





توضیچالسائل س_ یل٤تقا‏ 


کی مان کی ہے لکن اسے چا کہ کو کی عات سے خارع ہونے سے پھ (کر وجب اس طریقے 
سے او اکمرے نس کا او ذک ھکیاگیا ہے۔ 


مل ٣‏ جب ایک عخقصس رکو کی مقدار کے عطق ض جحک بے تر اسے چا ےک کی چز 
کا سمادا لے لے اور کو جچا لاۓ اور اکر سمارا ل ےکر بھی معمول کے مطابق رکو) ادا کر کے لپ 
لیر جرف کو رو رر 
ھی نہ جک کے تر اسے چا ےکہ سر سے رکوع کے لیے اشاہدکرے۔ٴ 
مل ۱۰۳۵ ۰ جس شحف سکو روغ کے لیے سر سے اشارہکرا چا جے اکر وہ اشارہکرتے پر قدرت 
ضہ رکا ہو اسے جا کہ رکو کید بیت کے سات آگھو ںکو بن کرے اور ذکہ رع پڑھے اور رکرغ 
سے اہن نکی میتہ سے آگھو ں کو کول رے اود اکر اس سے بھی عائ جو اعقیالط کی بنا یر ول میں 
کو کی : بی تکرے اور زکر وع بڑھھے_ 
مل ۱۰٢۳۹١‏ : وشن ںکھڑا ہوک درکوغع نکر کے لن ھا ہوا وو و رکوع کے ہے 
ا اے چان کہ گھڑا ہو کر نماز پڑھھ اور روم کے لیے پر سے اشمارہکرے اور اعتا مت کپ ےے 
کہ ایک دفعہ بم نماز پٹ ھھے اور اس کے وکورع کے وت ت ٹہ جاۓ اور رکوغع کے لی تنک جائے۔ 
ے۳ گل ہکوئی نس رکو ےکی عد تک کن اور بن کے مکون حاصص لکرنے کے بعد مر 
کو اٹھالے اور دوبارو منصد روغ“ رک کے انداز جک ینک جاۓ و ال ںی نماز ال ےد 
متلہ ۸٭ ناز پڑ ھن دا ےکو چاج کہ ذکر روح نتم ہونے کے بعر سیدھاکھڑا ہو چاۓ اور 
اس کا پزن سرن عاصل کرے نو اس کے بعد کیرے میں چلا جا ار جان پوچھ ک رکھڑا ہوئےے 
با دن کے کون حا لکرنے سے پل عیرے میں چلا جاے نز ا کی از ال ے۔ 
مل 9۹ الہ کوکی ص رکو ا داکرتا بھول جاۓ ادر ایی سے پ‌و کہ بر ےکی عالت مل 
گی جانے اسے یاد جا کہ رکو کر بھو لیا ہے تو اسے بای ےک ہکڑ ؛و جائے اود چم رکور میں چلا 
جائے اور امہ جک ہد ہونے کی عالت میں دکو ا کی جخب لوٹ جائے تا ںکی از پپمل ے۔ٴ 


مستلہ ۴۴٭ا پ ائرصی نس کی پان زشن سے لگ جانے کے بعد یاد آت کہ اس نے روغ 











ترسیوالسائل [ چچتھ.] 


خی ں کیا اس کے لیے ضردری کہ لوٹ جا٤‏ اور رکوغ ھا ہو نے کے بعد جا لائے اور گر اے 
دومسرنے مرے میں یاد آت کہ رکوع خی کیا تق ا ںکی نماز ہانل ےجے۔ 

لہ |۴1 ؛: تخب بپ ہے کہ انسمان رکوغ میں جانے سے کہ سیدھاکھڑا ہوک گر کے اور رکوع 
یس کھلنو ںکو تی کی طرف جال اور یی کو جمو ار ر کے او رگردن گر“ نے اور یھ کے پرابر رک اور 
دونوں پاؤں کے درمیان رگ اور زگر رے پیل ما بی میں صلوات بڑ ھے آوق اق :لو کے نز تن 
اور سبیرہ اکھڑا ہو پرن کے مو نکی عالت میں ہوتے ہو ے سمع اللے لین حیدہ کگے۔ 

مل ۰۷٣۲‏ : عورنوں کے لیے سب س کہ رکوغ میں پاتھوں کو تانوں سے ام رکھیں اور 
گنانو ںکو تچ کی طرف یہ 


ور 


مسکتلہ ۱*۳ ٠‏ ماز بد واٹے کو چا کہ وادب اور سب نمازد ں کی پر رت میں رکورا 
کے بد دو سیر ے کرت اور تیرہ ہے شر شا یکا تضورغ (عاتزبی )کی می سے زشیکن بے رک اور نماز 
۰ ےی حات یں واحجب کے رولوں کیاےاں رولوں نت اور دوآول پاؤں رت اظمو شی رین پر 
زامن 

مل ۳ پ ‏ رو سر نے می کر یک رین ہیں اور نے ۲۳ شی ں وادب نماز شی جان بوچ د گر یا 
نے سے ایک رگعت مل رونوں کیرے رک کم دنت پا ان پر دو کچروں کا اشانہ گر دمے ڈ ا کی 
نماز اٹل تے۔ 

مل ۵ء ڈگ رکوٹی فص جان بوج ھکر ایک سد دکم یوید کردے قے اس کی نماز اٹل ہچ او 
7 سو ز لک بد دم یا ڈیادہکرے تو اس تا تم بعر میں یا ن نیا ہاے گا 

مل ۹۴ م۰ ٠‏ الکو شس جان وج کر یا و 008007 پر ضر رھ تر خواہ بین کے دوسرے 


صن زین سے لف بھی گے ہوں نے و یا نی پیش رر اور کو 
یا یا سھو| ڈکر نہ یہ سے نز اس ما سیرہ ا مغ سے۔ 





دانع کے ووضصرے قح زبین تب 2 ٭ 


مستلہ سے ۴٭ا ؟ نان کے لیے بھریہ سج کہ افقیا کی مالت نس مبدرے میں ہین رفم سبحان 


توضیح‌المسائل ل 238_ا 


الله یا اگ وأ سبحان ربی الاعلی وبحمدہ پڑھے اور ضروری کہ پر کرت لکل اور نمچ 
عوی ہش سے جئئیں اور ظاہر بی ہےکہ اس مقداد یش پر ذکر کا پڑھنکانی ہے اور تخب ہے کہ 
سبحان ربی الاعلی وبحمله ٹن ما بای با حات دلعہ یا ال سے بھی ژیادہ بار پڑ ھے۔ 

مل ۰۸ : کیریں گل ضروری ہےکہ واجب وک رکی مقدار پھر انسان کا برن سکون کی حالت ۱ 
می ہو اور وک جب پڑ نے کے وفقت بھی برن کا سکو نکی عالت مس ہو تصوعیت کے تصد کے سار ۱ 
اط ے۔ 

لہ ۱۰۴۹ ۰ گر اس سے پش کہ ینا زین سے گے اور بدن مکوں حاص ل کر نے کوئی خی 

جان ہو ج ھکر ذکر حیدہ پڑھھ با کہ حم ہونے سے چیہ جان وچ ھکر مر حبرنے سے اھالے با کی نماز 

ال ے۔ 

مل ۵۰٣ر‏ ماوع تج پیش کل مال زمن ۔ بر گے کوئی مخ سر زکر دہ پڑجے اور ال 

سے چپشرکہ سر سرے سے افھائے اسے پت تل جال ےکہ اس نے خلطل کی سے قز اسے چا ےکہ ودبارہ 

بدون کے سو نکی عالت میس ”کر یڑ ھے_۔ 

مستلہ ۵٭ا : ری شس کو سر سیرے سے اٹھا لین کے بعد پند کہ اس نے زکر سیرہ ختم 

ہونے سے پل سراٹھا لیا ہے تو ا کی نماز سخ ے۔ 

مل ۴۳ا" ؟, نس وق تکوئی نیس بکر حیدہ بڑھ را ہو اکر وو جان اوج کر سماٹ اقضاء ٹٹں سے 

کی ای کک زین بر سے اٹھانے تو اس کی نماز اش ہو جا گی مان جس وقت زکر بے میں ول 

نہ ہو اکر شال کے علدو ہکوئی فو زین پر سے اٹھالے اوہ روبارہ رھ رے تزکوئی ترج نہیں۔ 

مسکلہہ ۱۰۵۳ ٠‏ مر کر حیرہ شحم ہونے سے با بل کائی خس سرا ای زین پر سے اٹھا نے تر 

اسے روبارہ زشن پر ات ارک اک یکا آ1 نا عشاء . 
کو سوا“ “زشن پر سے اٹھا نے اسے چائ کہ ای ددبارہ زین بر رھ اور ذکر پڑ تھے ۱ 
مل ۵×۳ ٭ٹ بپ ےہ حیرنے کا زکر تم ہونۓے کے بعد انسا ن کو چا کہ جیٹھ جا سج کہ اس کا 
بدن شون عاصل کر لے اور بھرددارہ سیرے میں ناے۔ 







٦ 








توضیحالسائل ہے 7 7 )[( ودھ ا 


مستلہ ۱۹۵۵ ؟ ناز یھن وال ےکی پنڑانی رکن ےکی مہ پاؤ ںکی انیو کے مرو ںکی مہ سے چار 
لی ہوئی الیوں سے زیادہ جند نمی بدلی چان مہ واجب کہ ا ںکی پا کی ججمہ اس کے پاوں 
کی انیوں کے مرو ںکی مہ سے چار کی مِوئی انگیوں سے زیادہ کی بھی شہ ہو۔ 

مستلہ ٠۱*۵۷‏ آ کسی ایی ڈھلوان کہ میں جس کا جکاؤ سج طور بر معلوم نہ ہو نماز پ ھن والے 
کی خال کی مج اس کے پاؤ کی انلیوں کے مرو ںکی تہ سے چار ری ہوگی انگیوں سے زیادہ باند ہو ت 
کوئی مع نیس ے۔ 

مل ے۵٠‏ : آر از بن والا انی یا یکو شھلی سے ایک ای چنب رکھد رے جو اس کے 
باوں کی انلیوں کے میں کی خہ سے چار ہی ہوئی انگیوں سے زیادہ بلند ہو نو اسے چا کہ ح رک 
اٹھائۓ اور اس بز بر رھ جو بلند مہ ہو یا نکی بلندیٰ چاد لی ہوگی انٹیو ں کی مقدار کے برابر یا ای 
س ےم ہو اور بنابر ایا اسے با کہ نماز نت مکرنے کے بعد اسے دوپارہ بڑ ھے۔ 

متلیہ ۱۴۵۸ ٠۰‏ مردری ہےکہ نماز نے وال ےکی انی اور اس نز کے درمیان نس پر وہ رہ 
را ےکوئی نز ذو یں گر رہ گاہ اتی مل ہوک پیشالی خود یرہ گاو تک نہ تیچ گے فو اس کا سیدہ 
ال سے لن مر ا لکی طور پر حبرہ گاہ کا رتک تبدیل ہوکیا ہد نذکوئی حرج ٹئیں۔ 

مضہ ۱۴۵۹ ٦‏ نماز ھن دالےکو چان نےکہ سرے میں دونوں ہاتھو ں کی ہخیایاں زین پر رک 
نین رود ی کی عالت میں پاتھوں کی نت بھی زین بر ر کے ةکوئی ھرع نمیں اور آکر ہاتھوں کی یقت 
بی نٹن > رکھنا مین نز ہو احقیاط کی ہنا بر اسے چا کہ ہاتھوں کی کلاىیال زین پر رک اور اگر 
نہیں بھی نہ رکھ کے تپ رکنی تک جو حصہ بھی فحکن ہو زبین بر رک اور گر ہہ بھی کن نہ ہو نو پھر 
از کا رکھنا بھی کالی ےے۔ 


متلہ ۷۴٭ا ٠‏ نماز پحنے وال کو چا ےکہ حیدہ مم پاوں کے دوڑوں انوھ زین پر رھ اور 
لہ پا کی دوسری اڈأفیاں یا پپؤں کا اور والا حصہ زین بر رھ یا ناشن لیے ہون ےکی وجہ سے اگوٹھوں 
ۓ سرے زین پر نہ آگیں ت3 از باعل سے اور جس نیس نےکونہی اور متلہ نہ جانے کی دجہ سے 
اپنی مازیی ال طرح بڑھی مہوں اسے چا ے لہ انی ددبارہ پڑہے۔ 








توضیجالمسائل _ 





مل مو پا رر سروں سے مھ حص ”سا ہوا ہو اس پا نٹ 
تنا اتی ہو دہ نشن بر رکھے کے اور اکر اگوٹھوں کچھ ہہ بھی ن. چا ہو اور آکر پیا بھی ہو قز بت ججوٹا ہر 
ایا ط کی بنای ا سے چا کہ باتی انیو ںکو زین بر رک اود نکر ا س کی کوئی الگی بھی نہ ہو نز پانؤں نا 
جتتا حصہ بھی بل بچا ہوا اسے زین پر رکھے۔ 

متلہ ۱۰۷۳ء ا رکوئی فخخصس ممول کے رف ون نے نشن پر کان یا 
پؤن کو اسہاگکرے تو خواہ سانؤں اعضاء جن کا ز کر ہو چکا ہے زشین پر لک جامیں اعقیاط “تح ب کی بنا 
اسے چا ے کہ نماز ددبارہ پھ لین اکر اپنے آ پکو اتال اکر ےکہ اس بر سب کالفظ صادق نہ 17ء 
قڈ ا یک نماز اٹل ے۔ 

مسلہ سر تد کاو یا دو ری بیز پ نماز پان وا مد ھکرے پک ہو چاپے لین 7 
مال کے طور پر حیدہ گا کو خس فرش پر رکھ رے یا بدہ گا کی ایک طرف شس ہو اور وہ چغال پگ 
طرف پر رھ ف کوئی حرج نہیں ہے۔ 1 

مل تام أکر نماز یڑ ھن دانےکی انی بر بچو ڑا ویر ہو تو اے س ہا ی ےکہ ار محکن ہو جو 
حص بمشالی کا مت مند ہو اس سے مہ کرے اور گر ای ا کرنا کو طط ھموو یر 
اور پچھوڑے کو گڑھھ میں اور تحت مید جح کی اتی مار کو جو سرت کے لیے کئی ہو زین پر 





رھت 
سُلہ ۰٦۵‏ : اکر بچھوڑا یا زم ام پیالی بر پھیلا ہوا ہو نماز پڑھۓ دالے کو اعقاط کی ناپ 
چا کہ خواہ دہ دو رد نماز پڑھنی پٹ ھے پیشالیکی ددفیں طرفوں میس سے کسی ایک سے اود تھوڑی ۔ت 
دہ کرے اور گر یہ لکن نہ ہو تو مرف ٹھوڑی سے مجر ہکرے اور ٹھونڑی سے بھی کان نر ہو 
کیرے کا اشار هکرے۔ 


مل ۱۷۷۷ء جھ خخنس بای زین پر نہ رکہ سکم ہو اسے پا ےک نس مر بھی ہیک کے شا 
در حجدہ گل یائصسی دو کر پچ کو نس یر دہج ہوکی بلند بنز یر رکے ہے اور اتی ڈخای اس پر اس طخ 
رک کہ لوک ھی ںکہ اس نے سر ہکیا ہے لیکن اسے چا کہ اتھو ں کی جقہلیوں او رگ آٹتوں ابر 








توضیح‌المسائل )[۔ 241 ] 
پاؤں کے اموٹھو ںکو صعمول کے عطابق زین بر رھھے۔ 


مل ے۷ ا : آآ رکوئی اڑی بلند جن نہ ہو نس پ نماز پڑ من ولا حیدہ گاہ اکوگی ددسری ینس پہ 
دہ جح ہو رک کے نو اس کے لیے مازم ےکہ دہ گاہ یا ددسری ہک پاخھ سے بلن دکرے اور اس پر 
رہکرے۔ 


لہ ۱۴۹۸ ۰ اگ رکوئی مخ پلیل ہی یرہ نہ کر سنا ہو تو اسے جات کہ سجرے کے لیے حر 
سے اشاروکرے اور اکر اییا ےکر کے و اسے چا ۓےکہ کگھوں سے اشارہکرے اور گر 7گموں سے 
بھی اشارہ نکر سا ہو ت اقیاط سخ ب کی بنا پر بامقہ وغیرد سے سیرے کا اشارہکرے اور ول میں بھی 
بد کی خی تکرے۔ 


مہ ۷۹٭ا ٠‏ ا رکسی مخ سکس بیغای بے انقیار عہر ےکی مہ سے اش جاے نے اسے چا ے کہ 
پت الامکان اے روپارہ کرے کی جج بر دہ جاۓے رے اور تلع نظفراس کےکہ اس تے ذوکمر دہ پڑھا 
ہو یا شہ بڑھا ہو یہ ایک سیرہ شار ہو گا اور اکر س رکو نہ روک کے اور وہ بے انار دوپارہ چرےکا کّلہ 
تچ جائے نو دونوں ملاکر ایک کیرہ ار ہوں کے اور گر لہ زکر نہ پڑھا ہو نز ہار اعقیاط اے چان ۓکہ 


سنہ ٭ے*ا ٠‏ ہیں انن کے لیے آقی کر ضردری ہو وہ فرش ىا اس جصی کی چت یہ سج دکر 
متا ہے اور ىہ لازم خی ںکہ نماز کے لیے سی دوسری تمہ جاے مین اکر وہ پڑائی اصسی دوسری چیہ 
جس بر حر ہکرناضحچ ہو اس طرح مسر ہکرس ے کہ زحعت سے دو چار نہ ہو تو پچھراسے فرش یا اس سے 
مق جلتی جزیر یرہ نمی ںکرن جاجے۔ 

متلہ اے ا ٠‏ ا رکوئی مخ یروں سے بھرے گن گمدرے یا اسی ش مکی کی ددسری جیز یہ دہ 
کرے جس بر حم سو نکی عالت میں نہ رہے و ا ںکی نماز پاش ہے۔ 

مل صا : گر انسان بڑ وای نشین پر نماز بڑھن پر تبور ہو اور برن اور پا کا آلووہ ہو جاتا 
اس کے لیے مشقت کا موجب نہ ہو قے اسے چان ےکہ میرہ اور تشد صعمول کے مطابق با لائے اور گر 


ای اکریا مضقت کا موجب ہو تو قیام کی عالت میں سیرے کے لیے سر سے اشارہکرے اور تشم رکھڑا ہو 








توضیحالمسائل إ 2ج ] 


کر پڑ سے ق ا کی نماز کچ ہوگی۔ 

ستلہ منے*۱ ٠‏ بپلی رکعت می اور تسری رکعت مس ( لا نماز ظر نماز حصراور نماز عخاء کی 
تسری رکعت ) جس میں تقد نہ ہو واحب ہ ےکہ انسان دوسرے میرے کے بعد تھوڑی دبہ کے ۔لی 
عون سے مھ اور پھر شے_ 


وہ یں جن پر حجد کرنائئیج ہے 

مل کےا : دہ زین پے اور ان چڑروں ج رکا جا ج کھائی اور کی لہ 07 ہوں اور زنی 
سے لئ ہوں مال کے طور بر کھڑی اور ورؤں کے بے کھانے اور پن ےکی چریں ارم“ تو اور 
کپاں ارر ان چڑیں پے یھ نشین کے اہزم خار کین ہو میں شا سوے“ چانری“ تارکول اور اسفااٹ 
وی بر مج ہکرنا گج ممیں ے۔ 

مل ۵ے٭ ا : اقاط واحب ہہ سےکہ اگور کے چچوں کے شک ہونے سے پللہ ان پر یرہ ن ہیا 
اف 

مل ٦ےا ٠‏ ان چزیں ٍ سید ریا 2 سے جو زین سے اتی یں اور جوانات گی را یں 
(مش گھاس ) 

تہ ے۴ ٠‏ جن پھولوںکوکھا نی جا ان پر سعیرہ سج ہے جکمہ ان کھان ےکی دوائوں بے بھی 
دہ جخ سے جو زین سے لق ہیں لال نفشہ اورل گا زبان۔- 

مل ے۴ :ال یگھاں 4 جو ض شمریں میں کعالئی جاتی ہوں اور بح شمروں میں نہ کھائی 
خی ہو اور 2 یں ی4 یں کرا 2 بین ہے۔ 

ستلہ ۱۴۸۹ : نے کے تھرادر نک بج (شیم) بر حیدہ سج سے۔ اور تہ سی اور چونے اور 
انف ایر لی کے ے ہوۓے ہرتوں اور ان سے ملق بلق جزڑوں بے چرہ نت ہگیا جاے۔ 


سّل_ ۸۸۰ ؟ کائز بر یرہ جع ہے فوا و دکیاس ما سی شس کسی جزسے بنا ہو 


مل ۰۸۲ا : برے کے لیے اک شغا سب چزوں سے بھتر ہے اس کے بعد صلی“ صلی کے بعد 








توضیحالسائل__ ے ) د4ھ ] 


چھرادر پھ رکے بح رای ہے۔ 

سنہ ۱۰۸۳ ۰ جو مخ سکوئی ای جزنہ رکتا ہو جس بر حدہ جج سے یا اکر کت ہد بھی دیپ یا 
زیاددگری وغیر و کی وج سے اس پر دہ نہ گر سز ہو اسے چا نےکہ اپنے لہاں پر سج ہمکرے اور اگر 
اس بھی مصرن ہو تر چا ےکہ اھ کی پشت بر یاصی اڑسی دوسری چنز بر حر ہکرے جس پر اعقا کی 
حالت مم سور ہکرنا جائز نہ ہو لان جب تک ا کی بن ت بر حر ہکرنا کن ہو اس دد سرک چیب سد نہ 
2-225 


مل ۱۰۸۳ یزیر اور ای رم مٹ پر جس بر شال کون سے نہ کک سید ہکرنا پل 


3 


سیل ۱۰۸۲۷ : آلر پل سبرے می سرہ گاہ بای سے چیک جاے تر دوسرے سیرے کے لیے 


متلہ ۵ا جس جز یر حہکرنا ہو گر نماز پڑ نے کے دوران مل وہ ہو جاۓ اور نماز پڑ 
مالے کے پا ںکوئی ایی نز یہ ہو جس پر حبرہ مج ہو اور وت وس ہد تر اسے جا کہ نماز توڑ رےٴ 
اور ار وت شک ہو ٹر اسے چا ےکہ اس تحیب کے مطابق مع لکرے ج رگد گی ہے۔ 


متلہ ۴۸۷ ٠‏ جب کی مخ سکو مجر ےکی عات می پت سپ کہ ال نے ای یل سی اکا جنھ 

پہ ھی بے جس رکا پاٹل سے قز اسے چا ےکہ ٹا یکو اس زیر سے اٹھالے لود ال چپ 
سید ہکرے جس بر سید ہکرنا کچ سے اور اکر ای اکر ممکن نہ ہو اور نماز کا وقت وسع ہو اسے چا ے کہ 
مز وڈ دے اور اکر وت ٹک جو ق اسے چا ےکہ اس تیب کے عطلاق مم لکرے جو جائ یئ 


سام 
7 


سّلے ٥‏ ےژے۴۸ : ا کسی مخ سکو حیرے کے بعد پت کہ اس نے بغائی ایک ای جزبہ دی 
ے جن بر سید ہکا اٹل ہے تر اسے ما کہ شی چیہ حیدہکرے جس بے سج ہکرنا کچ وو اور اعیاط 
صست بک جنا بر نماز نے مرے سے پو سے اور اکر ہے صورت ایک بی رکعت کے دد حبرول می ڈی 
تی ہو تر ایک حیرے کا ارک کرے (لیشن ایک حیدہ اڑی بیز کرے نجس پر دہ درست )اور 








ترضیعالمسائل )| 4ھ ] 


اعٔیاط واتحب ے ےکی زوپارہ تماز اداکھرے۔ 


مل ۰۸۸ ء: اللہ تالی کے علاوہصسی دوسر ےکو سپ ہکرناحرام ہے اور عوام میں سے مض لوگ 
جو آتمہ شیعم السلام کے ہزارات مقدسہ کے ساسے ای زین پر رکھتے ہیں اکر وہ اللہ تعالی کا شگر اوا 
رن کی میت سے ہو کوئی حمح غمیں ورنہ ایی اکرنا ترام ے۔ 

بد کے مسحجمات او رکرو بلت 


لہ ۰۸۹ ١‏ کک ایک یں معجرے میں سخحب ہیں۔ 


جو مخ س کا ہو کر نماز بڑھ ربا ہو دہ رکوع سے حر اٹھا نے کے بعد عھل طور بر کھڈرے 

ہو کر اور یٹ ھکر نماز پڑجنے والا رکوغ کے بعد پور طرحع جب ھکر میدہ می جانے کے لن 
گی رے۔ 

کیرے میں جاتے وقت مرد پل انی جقیلیوں اور عورت اپنی کھشٹتو ںکو زین پر رکھے۔ 

مماز پڑ ھن دالا پا کو حبدہ گاہ یاصسی اڑی نز یہ رک ننس بے ید ہکرت درمت ہو۔ 

فمازی سر ےکی عالت مس پاتھ کی انیو ں کو ملا کر کلئویں کے پا اس طرح رک کہ 
ان کے مرے رو ,مل ہوں۔ 

بجرے بش دع اکرے اور انقہ تعالی سے عاجت طل بکرے لور ہہ وما بڑ ھے_ 

یاخیر المسؤلین وٌیاخیر المعطین' ارزقنی ورزق عیالی من ففضلگ فانگ 
ذوالغض العظیم ہشن اے ان سب میں بھترشن سے کہ مانگا جا ہے اور اے ان سب 
سے بر ت جوکہ عطاکرتتے ہیں مجٹہ اور میرے ابل وعیا کو اپنے فحضل وگرم سے رزقی ءطا 
فراکی وک ت بی ففل میم کا ملک ے۔ 

سرے کے بعد پامیں ران پ> یھ جا اور واامیں پاں کا اویر والا حص لی بش 
پامیں پائوں کے نے پر رھھے۔ 

ہر بیرے کے بعد جب جٹہ جائے اور بر نکو سکون عاصصل ہو جات گب کے 

پل عرے کے بعد جب برن کو ون عاضل ہو جاۓ 7۔ استفغرالله رہی 


واتوب ‌الي ک۔ 








او رہ طولا یکھرے ار ہت کے وقت پاتھو ںکو راوں 44 رتھے۔ 
.- دوسرے حیرے میں جانے کے لیے بن کے سو نکی عالت میں ار کر ےہ 


7 برے سے قام کے لیا وقت بے گھمنوں کو او ان کے بعد پاتھوں کو زشن 
اٹھاۓ۔ 


پ7 مر دکیرں اور چیٹ کو زین سے تد ٹائیں اور پازوں کو پچلو ے پرا نین اور 
وین ران اور چیے زشن پر رکھیں اور بن کے اخضاءءکو ایک دوسرے سے ملا لییں۔ 
(ہعپدرنۓ کے وو مرے ‏ تمات مفص لی کمابیں مم یس مذکور ہیں -) 





سیل ۹۰ا : ڈ سے مس قرآن مجید بڑھنا رود سے 1 اور کید ے کیج تار غبار جھاڑنے کے 
لین پچ ونک مارنا ای وقت جک اس کے پہلو می ںکوٹئی نمازی موجود ہو اور ا یگمرد خغبار سے اث 3 رود 
ہے لہ پھ نک مارت ےکی وج ےکوگی وو رت ال ینک اور اح ے علاوہ 
اور تروبات کا زکر بھی فص لکتابوں میں آیا 

ےمد 

تہ )۹٭ا قرآن یر کی پار سوروّں “یی وائنجم' اقراء' الم تنزیل' ری ش 
سے ہر ایک میس ایک آیت سدہ ہے ضے انسین پڑھے پا سے تو اسے چا کہ آیت سخ ہونے کے بعر 
ور دہ گر ے اور اگر کرہ 71 بھول جاۓ فو ڑس وقت بھی اے یا آ گت ہگ ے اور ظاہربر ہے 
کہ آیت یرہ اغیراتقیار نے میں یرہ وانب فیس ہے اکرچہ بحترییہ ہج کہ سو ہکیا جائے۔ 

مل ۳ء“ أمر انان آیت سید نے کے وقت یھی وہ آیت ہاگ ہے نو انتا واج بک بنا 
اسے چچا بے لہ دد سیر ےتگرے۔ 

سیل ۱۰۹۳ء اکر مماز کے علاوہ عبرے کی جات می ںکوئی شس آیت دہ پڑھھ ما نے رات 
پا کہ بر ے سے مراٹھاتے اور دوپارہ حر ہگر ے۔ : 


مل ۱۰۹۴ ے ا۰ رکوئی شف سکراموفون یا ٹیپ ریکارڈ یر یا نادان ہے سے جو اج برمےکی میٹرضہ 








توضیحالمسائل___ (رز6لد] 


رکتاہو پا کسی ای مس سے جو قرآن شریف بن کا ارارہ نہ رکتا ہو آیت میدہ سے یا اس پر کان 
وبھرے نے حیدہ اجب میں سے اور آیت سیدہ اکر ریڈریو بر رین اور ٹی پکی شکل میں نشرکی جائے ف ال 
سے لیے بھی بی ککھم سے لین ال رکوتی مخص ریید اخیشن پر یت میرہ علادت قرآن ید کے تصد 
سے بڑھے اور دوسا اسے ریب کے ذر بی سے تو حیرہ واجب ہے 

متلہ ۱۰۹۵ : قرآن ید کا وادب حدہکرنے کے لیے انا نکی کہ خصبی نی ہولی جاچے 
ار ینانی رکنے کی مہ اس کے پا ں کی انگیوں کے مرو ںکی مہ سے چار ی بوگی انگییں ے زیادہ 
ای نہ ہوثی جاتجے مجن ہہ ضردوری میں کہ اس نے وضو یا تس لکیا ہوا ہو اور روبةۃبلہ ہو اور وہ اپی 
شردگا کو چیا اور اس کا بدن اور بٹالی ر ےکی مہ اک ہو علادہ ازیں جن شرائیا کا اطلاق نماز 
نے داگے کے ماس پر ہوتا ہے دہ شرائا قرآن یر کا وانب یرہ اد ارنے وائے کے ماس کے لیے 
نمی ہیں۔ ۱ 

متلہ ۱۰۹۷ ؟ اقاط راب ہے ہ ےکہ قرآن جید کے واجب سرے مس انسان اپی بای حبدہ گاہ 
کسی ای دوسری زی رھ جس پر حبرہ کچ ہو اور برن کے ووصرے اعضاء زین بر اس طزح رھ 
یسے سید مماز کے سلسلے میں جایاگیا ہے۔ 

مل ے۸۹ : ۔ بھو۔ یی ہس جب تق 
نواہ و مکوئی وکر نہ بھی بڑ سے تب بھی کائی سے اور ذکر کا بڑھنا تب بت اور بمترہ کہ بڑھھے۔ 

لالہ الاالل حقا حقا ”لالم الااللء ایمانًا وتصدیقًا لااله الاالل عبودیة و رکا سجدت 


لک یارب تعبناً ورفًا مستَكفًا ولا مستکبرا بں انا عبد ذلیں ضعیف خائف 


لہ ۱۹۹۸ ۰ سب واجب اور سخحب نمازوں کی دوسری رکعت میں اور نماز مخرب کی تسری 
رکعت میں اور ظ مر ممراور عا کی نمازو ںکی جو ھی رکعت میں انان کو جا کہ دوسرے سجرے 
کے بعد یٹ اور بدن کے سو نکی جالت میس تشد پو حے انی کے۔ 











اشھدان لاال الال وحلہ لاشریک لەه واشھد ان محمدا عبده ورسولھ۔ اللھم صلی 
علی معمد وال محمد ازر اعیاط واج .- کہ اش ریب 2 از و اور تزرتیب و 
اھ اور نماز ور میں بھی تشد بڑہنا ضردری ہد 

مستلہ ۱۹۹ : ضوری بے کہ تید کے لمات حجج عی میں اور معمول کے عطابق سلسل کے 
جامیں۔ 


متلہ ٭٭ل ج اک رکوئی مخس تشد بڑھنا بھول جائۓ او رکھڑا ہو جاۓ اور دکوغ سے سے اس یاد 
آ کہ اس نے تقد غمیں بڑھاق اسے جا ے کہ یھ جاے اور تشد بڑ ھے اور پھر ووپارہ کھڑا ہو اور 
اس رکت میں جو بپچھ پڑھنا چا جن پا ھے اور نما ٹ کرے اور امیاط زی بنا بر نمماز کے بعد ہے چا 
قیام کے لے یرہ کو جا لاۓ اور مر اسے رکوع میں ما اس کے بعد یاد آپتے نو چا ےکہ نما ری 
کرے اور نماز کے سلام کے بعد اعقیاط داجس ع کی بنا پ تشم در کی تڈاکرے اور بھو لے ہوئے تنتمھ کے 
ین اعقماطا“ دو سعیرے سو جا لاے۔ 


لہ ا ؛ تخب ہ کہ تق دکی عاات میں انسان بائیں ران یر ٹیش اور دانمیں پاو کی بش تک 

ان پان کے مے پر رہ اور مد سے پچ کے العمدلن یا کے بسم الله وبالله 
ہا تک قحب بے کہ اھ مانوں پ رھ اور انلیاں ایک 
دوسری کے ساتھ ملائۓ اور انگود بر تجگاہ ڈانے اور تر میں ضارات کے پور ے۔ وتقبں شطاعتہ 


وارفع درجته 


مستلہ ۷۰۴ا : “تب کہ عو رجیں تقمد پڑھت وقت اپنی رائیں ملاکر رگییں۔ 
نما زکاسلام 
.7 ۰ 4 
ََ ۳٣۳١ء‏ مازی آخری رآعت کے شید کے بعد نماڑ پڑ ۓ والا جیا ہو اور اس کا رن گگون 
ت میں ہو تخب ہہ کہ دو کے السلام علیک ایھا النبی ورحمة الله وبرکات اور 


تل کہ نگ السلام علہنا وعلی عباد الله الصالحین اور ”ىب ے کہ 


السلام علیحکم ورحمۃ الله وبر گاته ہڑے۔ 








توضیوالمسائظ_ : : .248 


مہ ۷۰۴ : اگ رکوتی نس فاز کاسلا مکنا بعول جاے اور اسے ای وقت یاد آے جب اٹگی 
ا کی شحل ضقم نہ ہوئی ہو یا اس نےکوئی ایناکام بھی نکیا ہو سے عر) اور سو اکرنے سے نماز باعل 
ہد جاتی ہو شل (قبل ہ کی طرف پیٹ کا تر اسے جا کہ سلام سے اور نماڑ ا يکی کجع سے۔ 

لہ ۰۵ ٠‏ ا رکوئی شضس نماز کا سلا مکنا بھول جائۓ اور اسے الیے وقت ار آۓ جب نما ز کی 
شل شتم ہ گنی ہو اور اس ن ےکوی ایا کا مکیا ہو ضے مرا اور سو کرنے سے نماز پل ہوقی سے ملا 
قیل کی .رف بل ھکرنا تر ا سکی نماز سخ ہے۔ 

ترتیب 

مستلہ. ۹٭10 ٠.‏ اگ رکوگی منص ان بوج ھکر ما زکی تزحیب الٹ دے ملا ص سے پل سورو یھ نے 
ا کو سے پل سبرے خیالاے تا کی نماز جال ہو جاتی ے۔ 

تہ سے ٭*ل0 : اگ رکوئی نس ناز کاکوئی رکن بھول جائے اور اس کے بعد کا رکن ھا لاۓ شا 
رو ںککرنے ست پل دو سیر ےکرے تو ا لی کی نماز باطل ہے۔ 

مہہ 00۰۸ ٠‏ اگ رکوئی نس نماز کاکوئی رکن بھول جا اور ای چز ہیا مائۓۓ جو اس کے پور ہو 
اور رگن نہ ہو ملا الس سے پچ کہ دو ہر ےکرے تشمد بڑھ ےق اسے چا کہ رگن بھا لائے اور 
تو بھول کی وچہ سے اس سے پ لہ بڑھا ہو اے دوپارہ پڑھے_۔ 

مستلہ 0۹ ۰ ا ہکوٹی نس ایک ای یز بھول جاۓے جو رکن نہ ہو اس کے بعد رگن جا لاۓ 
خلا جھ بعول جائۓ اور کور می چلا جائۓ قو ا کی نماز کیچ ہے۔ 

متلہ ۱۷۰ ٠۰‏ ال رکوئی شخس ایک ایی جنز بھول جائے جو رکن نہ ہو اور اس چ کو ہا لائۓے جو اس 
کے پور ہو اور وم گی وع ہو خلا مھ بھول جا اور سورہ بڑھ نے و اسے چا ےکہ جو چز یھو لگیا 
ہو وہ با لا اور اس کے بعد دہ نز جو بھولکی دجہ سے بپٹیجنریڑھ لی ہو دوبارہ بڑھے۔ 


مل ۷۷۷ ٠.‏ مگ ہکوتی نس پسلا حبدہ اس خال ے ہا لا ۓکہ دوعرا دہ ہے پا ددضرا یرہ ال 


ضیالی سے با لا کہ پساا دہ ہے فو ا کی نماز سج ہے اوراس کا لا کیرہ پلا ار د کا پرہ روما 








توضیپ‌المسائل__ے_ )( دیج ] 


دہ ار ہو گا۔ 


موالات ( ناسل نم رکنا) 

مل ٣۷۴‏ :|انسا ن کو چا کہ نماز موالات کے ساتھ پڑھے نشی نماز کے افعال مشلا رگورع کور اور 
تقد بے در پے اور تکسل سے ہھالائے ادر جو یں بھی نماز می پھے معمول کے مطابق بے در بے 
پڑھھ اور گر ان کے درمیان ات فاصلہ ڈال ےکم لوگ ہہ نہکھی کہ نما بڑھھ ربا ہے تو ا کی نمازباصل 


لاہ 
0 


متلہ 0۷۳ ۰ ا رکوئی شف نماز میں سا حروف اور کھمات کے ررمیان ذاصلہ رکے اور ناصلہ اتا 
وو کہ نما زکی صورت پرقرار نہ رسے نز اکر وہ ابی بعد وانے رن میں مشفول نہ ہوا ہو قڑ اسے جا تۓ 
کہ وہ عروف اور گلرمات “عمول کے لاق پڑ حے اور لک بعک یکوئی جیز یڑ ھی جا ھی ہو و ضردری ے 
کہ اسے رہراے اور اکر بعد کے درکن میں مشخول ہوگیا ہوقو ا کی نماز سخ ہے۔ 

تل 10۴ ٠‏ رکو اور تو رو طول دینا اور بڑی (یشنی ھی ) سورتیں پڑھنا موالا تکو میں ڑا 


پر 
ہے 


ت ٥۵‏ تام واجب اور صخجب نمازوں میں دوسری رکعت کے رکو سے پے خقوت بڑھنا 
تب ے اور نماز ور مس بھی باوتود لہ وہ ایک رکع کی ہوکی ہے رکوغع سے پل قوت ردنا جب 
جج اور نماز بمعہ کی پر کات میں اک قوت نماز کات میں پا قوت نماز عید فطرد قیان کی بی 
رکعت مل پا اور دد کی رکعت میں چار قوت ہیں۔ 


٦ 


مہ 0۹ ٠‏ انان کے لیے سب ےک قوت پڑت دت پاتھ چجرے کے مان اور تتیلییں 
ایک دوسری کے ساتھ ملا گر آسما نکی طرف ر کے اور اگوٹھوں کے علادہ باقی انیو ںکو یں یس ملائے 
اوز ژکام خیایوں پر رھ 


لہ سے الا ؛ تقوت میں انان جو زکر بھی بڑھے خواہ ایک رفعہ سبعمان اللہ بی کے کال ے اور 
پر ہج کہ ہہ دعا پڑھھے لاال الاالله الحلیم الگریم' لاالە الااللے العلی العظیخ' سبحان 











توضیحالمسائل لاق ا 


الله رب السمٰوات السبع و رب الارضین السبع وما فیھن وما بینھن ورب العرش العظیم 
و الحمدللء رب العالمین ٭ 


مہ 0۷۸ : ص قب سے کہ انان قوت بلند آواز سے بپڑھھ لین اکر زگ مخ جماععت کے 
ساحجھ مماز بڑھ ریا ہو اور لام ا سکی آواز من سنا ہو ت اس کا لیر آواز سے انوت مڑھنا تب خی 


ےے۔ 


مل 108 :اگ رکوٹی مخس عقوت نہ بڑ سے و ا کی تضاخمیں سے اور اکر بھول جا اور اسی 
سے پٹھرکہ کو کی عد کک جک اسے یاد آ جا قے “جب ہہ ےک کڈ ہو جا اور قوت بے 
اور اکر رکوغ میں یار آہجاۓ تر مخحب س ےکہ کو کے بعد قضاکرے اور اکر سجرے میں یاد آتے 7 
صقب سےکہ علام کے بعد ا یی تن اکرے۔ 


نما ز کا مز مہ 
ا- سور کازعہ 


بسم اللہ الرحن الرحیم:' بسم الم“ یشن میں ابت اکر ہوں مرا کے نام سے اس زالت 
کے نام سے جس می قمام ککالات کیا میں اور جو ہرتم کے نس سے منزہ ہے۔ “الم رحمن' ا یگ 
رمت رع اور بے انتا ے۔ ”الرحیم' ا لی رمت ال اور ازل و ابر ے ”الحمدلله رب 
العالصین “تی جا ای ذراون کی زات سے مخصوص تے جو قیام موتودات کا ہاکے والا سے ''الر حمٰن 
اریم" اس کے مع جاے جا گے ہیں ”مائنک یوم الدین'ششنی وہ ا زا ت کہ جا کے دن لی 
کرای اس کے اھ مم ہیں۔ 'ایاک نعبد و ایایک نستعین' شی . نا ری عبارت کرت 


میں ارر فقا تھ!ے سے پدر طط بکرتے یں اھدنا الصراط الستقیم“ یی یں راہ راس کی جاا یہ 
برایت فیا ہوکہ دین اسلام ے۔ ”صراط الذین اندست علیهم' مجن ان لوگوں کے را نت لی 
جب جنمیں ت نے فعتیں عطاکی ہیں جوکہ بر اور ظبروں کے جاشن ِں "غیر المغضوب 


یھم ولاالضالین' ٹن نہ ان لوگوں کے راس ےکی جانب جن سپ تو نے خحخ بکیا اور لن کے رات 
عليھم ٍ 








ترضرح الستائل :260 


کی جانب جدگمراہ ہیں۔ 
-٢‏ سو ر٤ٗاما‏ ص٤‏ تر 


بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ال کے سن جاۓ جا یں 'ق ھوالل احد" ”ن اے 
مر (صلی اذہ علیہ وآلہ وسلم) آ پکمہ ری ںکہ داون وی ہے جو ما مرا ے۔ ”الئه الصمد" لی 
وہ خداجھ قمام موجورات سے بے ناز ے۔ ”لم یلد ولم یولد'' لآ نہ اس کاکوئی فرزنر ے اور ئ وہ 
می کا فرزھ ے۔ ”ولم یکن لم کا را احد' اور قلوقات میں سے کوٹی بھی ا کی مل نہیں 


سے 


٣‏ را وھ ری ما رت 


” سبحان ربی العظیم وبحمله ” شی میرا پردردگاد پزرگ ہر جیب اور ہرتس سے پاک اور 
مور ہے۔ میں اس کی ستائش میں خقول ہوں۔ ”سبحان ربی الاعلٰی وبحمدہ" لن یرا ءوررگار 
جو سب سے بالات ہے اور پر کیب اور ننس سے پاک اور ضزہ ہے میں ا سکی ستائش میں مشغول ہول 
”سمع الله لین حمدہ" نیشن جو کوئی دای ستائُ کر سے خدا اسے متا اور قول کر ہے۔ ٠‏ 
”استغغرالله رہی واتوب الید لشنی می مخفرت طل بک ہوں اس خداوند سے جو میرا پان والا 
ہے اور میں ال کی طرف رت ]کر ہوں۔ "بحول الله وقوته اقوم واقعد'" لتق مں غراتا لی 
بدد سے ا تا اور تا ہیں 


۳۴ وت کا خر تمہ 


”لالم الاالل العلیم الکریم ' مڑنیکوئی مدا ب صتل کے لاکن خی سوا اس کلت اور 
ہے شل مرا کے جو صاحب علم وکرم ے۔ "لال الاالله العلی العظیم' شش یکئی مرا سح 
کے اشن میں سواۓ اس کنا اور بے نضل خدا کے جو باند مرج اور بزرگ ے۔ ”سبحان الله رب 
السمٰوات السبع و رب الارضین السبع" لڑؾ پک اور ضزہ سے وہ خمراونر جو سات آسائوں اور 
سات زمیتول کا پِوررگار ے۔ ”وما فیھن وما بینھن و رب المرش العظیم' ”وہ ہراں چک 
ور گار ے جر آسانویں اور زمنیوں میں اور ان کے دربان ے اور عرشل پزرگ کا بروروگار ہے۔ 


تججًٌےےٗےٌّْےجےسےمیسٗسؤسئے 








توضیچالمسائل ____ ._ ل2٤5‏ _!۔ 


” والحمدلله رب العالمین ' :رر وواان ار کے لیے مخصوصس سے جو قیام موجووات 71 
پاٹ والا ے۔ 


” سبحان الله والحمدللء ولاالے الااللے والله اگبر" شی غدا تعاٹی پا/ ک اور مضزہ سچّ 
اور ج اس کے لیے خصوص ہے اور اس بے مل دا کے لاد ہکوئی دا بر تی کے لاکن یں اور وہ 
ا سے بزرگ تر کہ ا کی توصی فکی جاۓ۔ 


-٦‏ تاور سلا مکائ ل کا رہ 


“ الحمدللم اشھد ان لااله الااللہ وحدہ لاشرینگ لہ" لی ستائش پروررگا کے لی 
مخصوص ہے اور می ںگواہی دا ہو ںکہ سوا اس ممدا کے جو یکنا سے اور نس کا کوئی شریک نہیں اور 
کوئی خرا ہمت کے داکن ین سیت ''واشھدان محمدا عبدہ و رسولھ'' ار م ںگوای ریا ہول 
کہ حھ صلی لنہ علیہ وآلہ وسلم مداکے بنرے اور اں کے رسول ٍں۔- 'اللھم صل علی محمد 
وآل محمد“ مجن اے مرا رمت تج ئر اور آل ئر یر ”وتقیں شفاعتہ وارفع درجتہ''“ق 
بی شفاعت قول کر اور آحضرت کا ررجہ اپنے نززیک بن کر ''السلام علبک ایھا النبی و 
رَعَیْةالل و کات نی اے کلم رآپ پر علام ہو ادر آپ پر ا گی رممت اور پر ہوں۔ 
”السلام علینا وعلی عباد الله الصالحین“ مجن ہم نماز پا والوں پر اور تام 77 یں 
ای کی طرف سے سلا کی ہو۔ ”السلام علیکم و رحمۃاللہ و ہر نگاتھ' نی تم م ون پر شا 
کی طرف سے سلاستی ادر مت اود برکتیں ہوں۔ 


ہے اعت ظز 


مستلہ ۳۴ا : تخب ےکہ نماز بڑھے کے بعد انسان بھ در کے لے نعذیب می زکر اور وعا 
اور قرآن ید ین میں مشغول رہ اور بجر ےکہ اس سے یکلہ دہ اپی تج .سے رکم تکرے اور 
اس کا وضو قسل پا جم پاطل ہو جائۓے۔ رو ہہ قیلہ ہو فر تعقیب بڑھھ اور ہہ طروری خی لک 
نعقیب عمی می ہو لن بر ہ کہ انسان دہ چیزیں بے جو دع ں کی آتالوس مم جال یکئی ہیں اور 











توفیچالسال_ے ے وعشے۔۔۔ 1 تا 


تیچ رت زپرا ماما الام تع شبات میں سے ہے جج نکی مست زیادہ گی ہک نی ہے۔ ہہ تحیچ اس 

تعیب سے پڑجی جابنے۔ : 
۴ ول الله اگبر ال کے بجر ۳۳ند الحمدلل اور اں کے حر ۳٣‏ ونم سبحان 

الله اور سبحان الله الحمدلل سے پلط بھی بڑھا جاسکتا ہے میکن مر کہ الحصدللہ کے 

اتد ڑھا ہاۓ۔ 

مستلہ ۳۱ ۰ انان کے .لے قب ےک از کے بعد سر شر با لاقے لور نت کان کہ گر 

کی میت سے چخالی زین پر رکے لیکن ممرہ ےک سو پار یا تین پار یا ایگ پار شگرالله یا عفوا کے 

اور پر گی تہ نب تمصی انما نک وکوئی نفعت عاصل ہو یاکوئی معیر ہت ال سے در ہو لڑ کیرہ 

شر ہیا لاۓ۔ 


راکرم نپا بر صلوات 

مستلیہ ۷۳۳ ؟ جب بھی انان حعرت رسول اند صلی اد عایہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک خلا مم" اور 
ایا آنییاب کا اقب او رکنیت شلا طف اور ابوالتاسم زبان سے ادا رت یا نے و فواہ دہ نمار میں تی 
کوں کے ہو تب کہ صلوات کیج 

مسلہ ۷۳۳ ٠‏ حرت رسول اہ صلی ایفہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم سبارک مگ وتت سوب بے کہ 
انان صلرا ت‫ بت بھی کات اور بت تکہ جب بھی آفحضر کو با رککرے ٹر صاوات ہت۔ 


مبطلات نماز 


مستلہ ۱٢۴‏ ۰ بارہ بیزیں ما زکو باط لکرتی ہیں اور انی میطلات کما جانا ے۔ 

۱ ایل < ہے کہ نماز کے ددران میں نما کی شطوں میں سے کوٹی شر مخقید ہو جاۓ ضا نماز 
بے ہو معاقہ شف س کو پت ج ےکی جس لاس سے اس نے مت پش ی کی ہوئی سیجہ دہ 
یہ آبتت 

وم کہ نماز کے روران میں معدا یا سوا“ یا یورم کی وجہ سے انسان تی انی جزے دو 
۱ چار ہو جھ وضو یا تنس لکو پاٹ لکر رے شلا اس کا شاب مل جا انم و شخخس پخاب پا 








توضیحا مسائل _ 254۱ا 


پاھانہ نہ روک سکتا ہو اکر نماز کے دوران میں اس کا شاب با پاغانہ کنل جات اور وہ اس 
طریے بر ف لکرے جو اکا وضو کے مل میں جاپاگیا سے ق ا سک نماز ٹل نی ہ گی 
اور اسی رح اگر نماز کے دوران میں ستاضہ عورت کا خون مارح ہو نے مر وہ ا تحاضہ سے 
متحلق اجیام کے مطبق عم لکرے تر ا سکی نماز کچ ے۔ 
مل ۴۵ : ضس نس کو بے انار غیند آجاۓ اکر اسے ہے پت نہ کہ وہ نماز کے دوران 
میں س وکیا تھا با اس کے بعد سوا فو اسے جا ےکہ نما دوبارہ بڑھے۔ 


متلہ ٠ 0۳٣‏ اگ رکسی مخ س کر عم ہ کہ وہ انی مرض سے سویا تھا ان شی فکرےکہ نما کے بعد 
سیا تھا یا نماز کے دوران می ہے بھو لگمیاکہ نما بڑھ رہا سے اور سومگیائ ا لک نماز جچ ے۔ 


تل ے۳ : اگ رکوئی مس نید سے حر ےکی عالت مس بیدار ہو جائے اور ش٠‏ کک رس کہ آیا 

ماز کے آفری سحیرے می سے یا دہ شر میں سے تو گر اسے علم ہذکہ بے انقیار سوگیا تھا تو اے 

چا ےگہ نماز دوبارہ ڑ ھ اور آگمر جانا ہوکہ انی مرضی سے سوا تھا اور اس بات کا اتال ہ وکہ غفلت . 

کی دج سے نماز کے سعیرے میں سوکیا تھا ا کی نماز مجع ہے۔ 

عم ٠‏ ہہ جنزمبذلات نماز می سے ےکہ انسان اپنے پاتھو ںکوبانرتے۔ 

لہ ۱۳۸ ۰ آ رکوئی مس بھول کر یا جبورا پا تقی کی وجہ سے یا عصسی اور کلم خلا ہق بھانے 

وی کے نے باتھ بر پاجھ رکھ لے ةکوئی حرع نمیں ہے۔ 

چچارم : مبذلات نماز میں سے چو شی ہہز بے ہے کہ ط با سے کے بعد انان امن کے 
ین ار معلی سے با تہ کے طور بر مین" کے تر نماز اٹل نمی ہوتی۔ 

مم مبطلات نماز می سے پاپچویں رہہ ےکہ جان بوجھ کر یا بھول کر انان بشت لہ 
کی رف کر لے ما قل کی دسھیں ما اگمیں جاب مر جانے گل مر ہجان بوچ کر انا مر جائے 
کہ لوگ یہ نی ںکہ اس کا مہ قبل کی طرف ہے قے خواہ وہ دنھیں یا نہیں جانب تک ن 
بھی پچ ا کی مماز پاضل ے۔ 

مل ۱۳۹ ؛ أم رکوئی مخص مع یا سو سرک اتا تما کہ تہ کی داکیں طرف یا بانھیں طرف 








توضیحالمسائل ) 255ا 


کے پلقائل ہو جائے یا اس سے زیادہ اخروف ہو جاے نز نماز ا ہے لیکن اکر وہ س کو لاک کے 

کہ لوگ بے گی یکہ اس نے انا مضہ قبلہ سے موڑ لیا سے تو ایاکرن جان وج ھکر ا شا ہکرت ہوئے 

ا کی نماز پل نیں ہوتی اور کر ات کھما ےکہ و گکمی ںکہ ایس نے اپ مضہ قبلہ سے موڑ لیا ہے 

لان ود قیلہ کی دنس یا پانمیں حر کک نہ باہو نو اس صورت میں گر منہ کا موڑنا عم ہو تو ا سی کی نماز 

اٹل سے اور اکر مو بت نماز جج ہس 

رھ مسطلات نماز میں سے ٹچٹی زی سے کہ انان جان بوجھ کر کوئی ایا کہ کے جو 
کہ ایک حرف ما اس سے زیادہ بر مشقل ہو خواء اس کےکوئی میتی شہ ہوں- 

سنہ *٭۰ ۴۳ ؛ ڈگ رکوئی خخس سوا ایاگ کے جس کے حوف ایک ما اس سے زیادہ نہوں پو خواہ 

وہ کہ من بھی رکتا ہو اس خفس کی نماز باعل نمیں ہوٹی لفن اس کے لیے ضروری ہ ےککہ جعیساکہ 

بعد میں زکر آۓے گا نماز کے بعد حرہ سو جیا لائۓے۔ 

ستلہ )۱۳ : خزازی حعواات ہی ںکھا نے وکار لیے اور و بھرنے می ںکوئی حرحع نہیں لین آخ اور 

آوایرائن یے کرات کا عیر کمن غما زکو اف نک رتا ے۔ 

متتلہ ۱۳۲ ٠‏ ہئ رکوئی من سکوتی کہ زکر کے قصد سے کے ملا وک رکر کے قد سے ”الد ار" 

سے اور اسے کت وقت آواز پپن کھرے الہ دوہرے مخ سک وی ری طرف مو ہکرے ‏ و اس میں 

کوئی حرح نج پگمہ أگ رکوئی نز دوصرے کے عم میں لانے کے می ےکوی کہ کر کے تصد سے ص تب 

بج یکوئی رح مہیں۔ 


لہ 1۱۳۳٣‏ : سوا ان چار آیات کے جن کے بڑھے سے میدہ واجب ہو سے اور جن کا گر 


جنابت کے اعم کے سے میں ہو کا سے نماز میں قررآن مجید کے وحن اور داکرنے می ںکوگی مع 


مر ار 
”با "ئ 


اضاط “جب ہہ ہ ےک عرلی زین کے علاو کسی زبان مم دعا نکی جائے۔ 
متیلہ ۷۳۴ ؟ ۰ رکوئی حخصس مفیر قد جزیت عیرا یا اعاطاگ“ اور سورۃ کے کسی سے یا از ار 
ننا نکی مزا رککرے تی رج ید 


لہ ۴۳۵ ٠‏ انان کو چا ےکہ نما زکی حالت م کس یکو سلام نہ کے اور آ رکوئی دوسرا شس 


مےموبتصٗ‪‫ٗەجص-صص-صبسموحجے‫حصحیص٭ثچہػص-ت----- 


سد حه ۔ 





نوع العسائلق (2586 ] 


اسے سلام کے و اعیاط واج ب کی بنا پر اسے چا کہ جیسے اس نے سلا مکھا ہے ومےے بی جواب رے 
شف آگر اس نے ملسم علیگم "کیا سے تر جواب میں اسم علیگم* بی سے لین ہلیم السلام'' کے جواپ 
می جو یف چا ےکم سکھاے۔ 

مسلہ ۳۷ : انا نکو چا ےکہ خواہ وہ نما زکی عالت میں ہو یا نہ ہو سلام کا جواب فور رے اور 
اکر جان بوجھ کر یا بھولے سے سلام کا جواب وہینے میں انتا وف ف کر ےکہ اکر جواب وے تو وہ ای 
سلام کا جواب شار نہ ہو تو چک راک وہ نما زکی عالت میں ہو نے اسے اي ےکہ جواب نہ دے اور اکر نما زکی 
عالت میں نہ ہو او جواب نا واجب شمیں ے۔ 

لہ ۳١‏ : اما نکو چان ےکہ سلام کا جواب اس طرح دےکہ علا مکرنے والا سن لے لین 
گر سلا مکرتے والا بر ہو یا سلا مک کر جلدی سے گزر جائے نو مر انسان اسے سب ممول جواب 
رے کال ے۔ 

مل ۸ ے واجب میں کہ نماز پڑ ھن والا سلام کا تواپ رعا کے ارارے سے وے نی 
داوند عالم سے سلا مکرنے والے کے لیے سلاصتی چاسے بکمہ گر عحض خحیت (سلام) کے قصد سے ہو 
بج یکوکی انشحال نیس ہے۔ 

تہ ۱۳۹ : آر عورت یا نام موی مز پیر لھنی وہ بیہ جو اجکھے برے میں تی کر سکما ہو نماز 
پڑھن والےکو سلام سے نے نماز پڑجنے والا اس کاجواب رے سا سے یکن اکر عورت ” سلام علیک "کہ 
گر سلام کے مار بڑجھنے وا کو چا ت کہ جواب میں ” لام لیک کے اور کاف پر زیر اور زے اور 
مل نہ وے۔ 7 ۱ 

مسل ۷۷۰۰ : آلر نماز یڑ ھن والا سلام کا جواب نہ دے نو وگنہ گار سے لکن اس کی نماز کچ 
ج۔ 

مل ١اا ٠‏ آئ رکوئی شخص نماز یو ھن والےکو اس طرح غلط سلام کھ ےکہ وہ سلام بی ار شہ ہو تو 


اس سلام کا جواب دینا چائز نمیں۔ 


مستلہ ۷۴۲ ٠‏ سی اہ عفس کے سلام کا جواب جو مزاح اور خر کے طور بر سلا مکرے اور 





توه و لمات )1 +یو) 


ای ہب جح بے رو ات يہ ہوں واجب میں ہے ا ور اکر زا ہرں ڑ 
ارز 5 کی بنا بر لن کے جواب میں ککلمہ لیک“ کہ دنانکائی ہے۔ 

ما ۳٣ا‏ تع رکوئی مم ں کس یمگرد کو سلا مکرے قو ان سب بر سلام کا ولب دیتا واجب سے 
گن مر ان مس سے ایک م کم ں :نوابِ رے دے ‏ کال ے۔ 

مل ۳۳ : گر کوئی شحنم کسی گرد کو سلام ککر نے اور جوا ایگ ایا ٹس لے ڈے سام 
5 یت والے کا ارادہ شہ ہو تو اس شخ بک جواپ دیے ک پادتور ساام کا جواپ ا لگروں 


مل ٢۵‏ : ار کوئی مخصس کسی گرو کو سلام کرے اور ان روہ وش و مس مار یں 
”ول ہو وو ٹیک گر ےک ہ 7 ملا م ککرنے والے کا ارارو سے بھی ععلام کرنے کا ھا ین لے 
جات لہ جواب نہ دے اور آگکر نماز پڑ ین واٹ ےکو نٹین ہوکہ اس شس ما ارارد سے بھی سلا م کے 
کا تھا ین لی مس سلام کا جواب دے دے ‏ ے اس صورت میں ھی بی :7 یت ت0 ماز پڑھن 
ران و نع وک لا مرن واےۓ کا ارارہ ا ھی ساا مککرئے کا ۳ اور ارئیٰ دو برا تواپ ے, رے لو 
ا (یش نماز پڑھنے وا لےکو) بای کہ سلام کا جواب رے۔ 

مل ۷٦‏ سصل کر سب سے اود اس ام رکی بھست آلید ‏ یگنی ہے کہ عوار پو لکو او رکھڑا 
ژوا مس پت ٤و‏ ےکو اور ھوٹا پڑے ےکو لا مکرے۔ 


لہ بے ۱۳ ٠‏ اگر دو نس آپیں میں ایک ووسر ےکو سلا مکھریں ق انقاط داد ب کی بنا بر چاہے 


گ ان ش ہے ہرایگ دوص رن کو اس کے سلام کا جواپ وے۔ 


مل ۱۳۸ پر انان نماز تہ پڈھ بإ ہو تخب کی علام کا جوا ای سلام ہت بر الفاظ 
ین دے مشل رکرئی مس لام یم کے و جوا یں کے سلام ام ورغق اشک 

2 از کے مبطلاب میں سے عاققں بن آواز کے ساتھ جان موجہ کر بڈسنا سے ہیں آلر 
ا کاتی نس چان بو جم کر بغیر آواز یا وا آواز کے ساتھ نے و اہر یگ اء ای نزش 


کوئی اضلل مہیں۔ 











توضیحالهسائل ) 56ج ] 


لہ 0۴۹ : گگر ٹ یکی آواز روس کے لیے کسی مخ کی عالت بدل جا مشلا اس کا رک 
رخ ہو جائے فو بھتریہ ہ ےکہ دہ نما زک و عم لککرنے کے بعد ددبارہ نتماز پڑے۔ ۱ 


سے 


نشم × از کے مسطلات میں سے آٹھویں ہز ہہ سے کہ انسان دنیادی کلم کے لین جان 
ا بج ھکر آواز سے رد اور اعقیالط واجعب ہہ ہس ےکہ نیاوی کام کے سی ایر آوان کہ بھی نہ 
رے لکن گر خوف خدا سے پا فرت کے لی یا لم ح کی یاد مس رو ق خواہ آہسند 

روتے پا بعد آواز سے مرو ےکوگی خزع فیس پلکہ سے مشرین اغفال می سے سے۔ 

م × نماز پیل لکرنے والی چیزوں مس سے فویں ‏ کوتی اییا کام سے جس سے نما زکی شک باتی 
نہ رہے خلا لی انا یا اھ عکووا وغیرد تع نظ راس سےکہ ایی اکرا مد ہو یا بھول چو کی 
وو 2ک اوت گی ج و کام نما کی شحل حبرل نہ کرے (شلا ہاتھ سے اشارہکرنا) اس میں 
کوئی رع میں ے۔ 

متلہ *۵اا ؟ آگ رکوکی شخص نماز کے ووران ت پت نت نماز 

ڑھھ را سے قٍ اس کی نماز اٹل ہو جاتی ہے 

مستلہ ۷۵۱ ! اگ کوئی نس نماز کے دوران میں کوگی کا مککرے با مھ دہ سماکلت رہے اور کک 

کر ےکہ آیا ا یک نماز ٹڈٹ گی سے یا نمیں تو اس کے لیے جائز بے کہ نماز فو ڈکر ددبارہ پر ھھے اور 

ھب ےکہ فماز شٴ مکرے اور پیم رووریارہ بڑے۔ 

دم مسطالات نماز میں سے رسویں بن ہکھانا اور پیا سے میں اک رکوگی ہنس نماز کے روران 

مس اس عر حکھائے ما پٹ کہ لوگ ہہ نکی ںکہ نماز یاھ را ہے و خواہ اس کا ىہ انل عرٴ 

ہو پا بھول چو ککی دج سے جو ا کی نماز انل ہو جاتی ہے الب جو شس روزہ نا چاہتا 
ہو اگ وہ لم کی اایرے اك ہنی مماز بڑھ ر ہو ارر پاسا ہو اور اسے ڈر ہ کہ اکر 
ماز ف مککرے گان شی ہو جا ےگ نر اکر پائی اس کے سامے دو ٹین قدم کے فاشلہ یر ہو تر وہ 
ماز کے ودوران مس پانی لی سکتا ہے مان اسے ہاب کہ“ لئی ایا کم (خل لہ ے مد 
پچھیرنا) کرے جو نما زکو با ل کر ہو۔ 


لہ ۵۳ا : ا ری کے جلن بوج ھک رکھانے بے ہے نیا سال یں جا ز ےق لوگ نے 











لہ دد پے در بث نما بڑھد را سے او احقاط واج بکی بنا سر اسے ہاج کہ نماز دوبارہ اھ اور ہی 


از لے ررا/ 


رنے۔ 


متلہ8 0۵۳ا ٠‏ ا رکوئی نس نماز کے دوران میں کوئی انی خیذا گل لے جو اس کے شہ یا داوں 
کے دبوں میں رہ گی ہو تے ا سیک نماز اطل خمیں ہوتی۔ ای طرح اکر تج ما گر یا اضیں جڑم یکوٌی چز 
نہ یل رہ گی ہو اور نما زی مات می آہست ہس مھ کی وا کو مر 2 

ازدحم ٭بطلات نماز میں سے گیادعویں چے 207271 یا مر کی مازوں میں یا پا ر ش 
مازو ں کی لی رو ر تمدوں میں تک بے بشرطیکہ نماز پڑ ھن دالا نک پ باتی ربے۔ 

روازدام مبطالات نماز یل ست بارہویں چڑرے کی نس زار 2 رگن جان بوجھ گر 
ا پبھو یکر 7ت زیادہ گر دے یا ایک ایی کو جو رین یں سے جان بوجھ گر گگی نز نماز 
یش بڑھائے یاصی رن ملا رکوغ اور دو میروں کو آیگ وت شلرے وظا رکا 
البتہ جھولے سے تگبیرۃ الاہا مکی زیادتی نما ز کو پٹل میں کرتی۔ مکن اعقیاطا“ نما کا اماوہ 
ا 

متملیہ ۵۳ ۰ آل ہکوئی نس نماز کے بعد شی ف کر کہ آیا ددران نماز اس نے کوئی ایا ک عکیا 


ہے ما خنیں جو نما کو ان لک رج ہو و ا ںکی ما جج س۔ 
دہ زی جو نماز میں روہ ہیں 


مہہ 11۵۵ ٠!‏ کی نس کا نماز میں اپا ہچرہ داونی ما باھیں جانب ا اکم م وڈ اکمہ وک ہہ نکی یکہ 





اں سے اپٹا ند قہنے سے موڑ لیا سے روم ے۔ ور )2 می اک چرہ زارو مو ڑے 3) عیسالہ راکنا و 
پکانۓ نماز پاشل سے اور آگ رکوتی ٹخفصس نماز میں انی میں بن دکھرمے یا دآمیس اور بامیں رف تممائے 
اور ای دا ڑضی اور باتھول سے گی اور انگلیاں لیک دو ری مم لی تن کرے اور تھوکے اور قرآن مد ا 


معسی او ر تاپ ٦‏ اگوی ل7 جج او وم بھی رر ہے اور اکر مو اور عورة اور زکرہڑ گت ری .+7 





1 بات نے 2 2 امش 2 جاے او وم گر ے پر وہ 17 وگ فوع و خ ‏ کر محدو مکر 


و را وو رف نت 
0 


مستاہ 11۵۹ ! جب انما نکو نیند آرىی ہو اور اس وت گی جب اس ئے 





پ اور پاناد روگ 


توضیمالمسائل امت 


رکھا جو نماز پڑہناکردہ ہے اور اسی طرع نما زکی عالت می ایا موزہ پنفنا بھی کردہ ہے جو پاول کو گڑ 
نے اور ان کے علاوہ دوسرے کرات بھی مفص کول میں بیان سی نے ہیں۔ 


وو صورتیں جن میں واہجب نمازییں وڑی جاسحق یں 

لہ ے۱۵ ؟ اختیاری عات مس واجب نماز کا نو ڑا ترام سے لیکن مال کی اظت اور بالی ىا برلی 
ضر سے ریچ کے لیے اس کے توڑنے م ںکوئی صح میں 

مستلہ ۵۸ ٠‏ اکر انان انی جا نکی طفاطت باکسی ابھے شف سکی جا نکی ات جن سکی جا ن کی 
امت وادب ہو یا ایے مل کی طفائلطت ج سکی ححداشت واجب ہو نماز فوڑے بغی رگن د ہو انان 
کو چاگ کہ نمازاوڑرے۔ 


مہ 1019 ؛ ال رکوتی مس رسع وت میں نماز پان گے اور قرضش خواہ اس سے اہین قرئشے کا 
مطال ہکرے اور وہ اس کا قرضہ نماز کے دوران زیں اواکر سکتا ہو فو اسے ما ےکہ ای حالت میس اواکر 
رے اور اک بغیر نماز فوڑے اس کا قرض چان گن نہ ہو تق چا ےکہ نماز ڈڑ رے اور اس کا قرضہ ارا 
کرے اور بعد یں نماز پڑھھے۔ ۱ 

متلہ +۹] ٠‏ آئ ری مخ سک نماز کے دوران میں پند کہ صجد خس سے اور وقت تنگ ہو ل 
اسے چا کہ نماز تا مکرے اور اکر وت وسع ہو اور صی رکو پا ککرنے سے نما نہ ڈولقی ہو او اسے 
چان کہ فماز کے دوران میں اسے پا کککرے اور بعد میں باتی نماز پ سے اور أھر نماز ٹوٹ جائی ہو اور 
مماز کے بعد مصی رکا پا گ کر خحان ہو مسپ رکو یا ککرتنے کے لیے اس کا نماز قوڑنا چان سے اور آگر نماز 
کے بعد یر کا ا ککرنا ممکن نہ ہو ق ا کی لیے ضردری ہے کہ نماز تڑ دے اور صسچ دکو پا ککھرے 
اور بعد میں نماز پڑ ھھے۔ 

مستلہ ٣۹ا‏ : جس مخ کے لی از کا ڑڑنا ضروری ہو اکر وہ نما ز کم لکمرے پر ووگناہ گار ہو گا 
لن ا کی نماز مجع سے آلرجہ اعقیا “تخب يہ ہ ےکم ددبارہ نماز پڑھے۔ 


متلہ ٣۰۳‏ : گر کی من سکو کر عکی عد تک جھکنہ سے نہ باہ جات کہ وہ ازان اور اقامت 
کنا بھول گیا ہے اور نماز کا وقت وسع ہو تو سب جک مہ چنڑیں کن کے لیے فماز نوڑ رے اور اگر 














وفواسایے۔ں (٭ وت 


اس قرات سے پنکہ یا آٹ کہ اقا ت کن بھو لیا ہج قے اس کے لیے بھی بی عم ہے۔ 
گیات 


ماز کے عقیا تکی ۴۴ میں ہیں ان میں سے آ ٹہ اس تم کے شک ہیں جو نما زکو باعل ۱ 
کرت ہیں ادد بچہ اس کم کے کک ہیں ج نکی پروا خی ںکملی چاہے اور اتی فو اس تم کے شف ہیں ۶ 
شی کا مل لیکن ےہ 


وہ کک جہ نما زکو با ل کرت ہیں 


مل ۰۳۳[ جو شیک نما زکو پپض ل کرت ہیں وہ یہ ہیں۔ 
١‏ ور محت وادب ناز (شلا لئ اور نماز مساق مکی رکم ں کی تعدار کے پارے میں یک 
۱ البعہ ماز سخحب اور نماز اعقیاط کی رک ںکی تعداد کے بارے میں شک نماز کو پاطل نمیں 
- 
تھی رک خاز می کوئی مخ شک کرےکہ اس نے ایک رکعت بھی ہے یا زیادہ 
پیج 
ھ2 فماز میں کوئی شس لک کرے کہ اس نے ایک دکعت بھی ہے یا 
ذیادہ شی ہیں۔ 
٣س‏ جک چاہ 7 از میں دوسرے مرہ کا کر شم ہونے سے پ لہ نمازی خی کفککرے کہ 
ہیں نا زیادہ پڑشی یں۔ 
وواار ا ر ںہ کے درمیان ما دو ادر پاچ سے زیادہ ‏ رکموں کے درمیان شک تککرے 


أوی: 





ال نے رور 


...٦‏ خی اور چہ رکتں کے درسیان پا خن اور بھ سے زیادہ رستوں کے وریان ّل 
ری 

لاہ نمازی ر کعوں میں سی سے خلم نہ ہوکہ گنی ر ک می ہیں۔ 

خی پاراور چا رکسیں ‏ کے درمیان شک یا چار اور چہ سے تیادہ ر یں کے درمیان کک 
ون ٴ 


مل ۳۹۳ ۰ اگر انا نکو مماز باط لکرنے وائے شکوک میں سےکوتی یف چشی آاے تو انقاط ےر 





ترفیحالالاہ )2مد ] 


ےکہ نماز نہ ناڑے مہ اس قزر نمور و گ رر ےکہ نما زکی شل برقرار نہ رہے پا ین پاگمان عاصل 

ہونےے سے امیر ہو جائے۔ 

وہ شک جن نکی پردانممی کرک چاچے 

تہ ٠ ۱٦۵‏ وہ شکوک جج کی پروا خی ںکرلی جاہے منددجہ ذیل ہیں 

١..۔‏ - اس تہ کے بارسے میں گک جس کے با نے کا مو قح گز رگیا ہو لاہ کہ انان دکر] 
یس مم کفکرےککہ اس نے مھ بھی ہے ما نئیں- 

۳ں سلام مازکے بعد نک 

ے.. ماما وق تعکر جائے کے بعد کیک 

س|... مرا ئقف کا خرف لین اس نس کا شک جو زیارہ ن ک کر ہو۔ 

...ا مر کمجوں کی تعداد کے بارے میں کام کا تک ج بکہ ماموم ان گی داد جاتا ہو اور ای 
طرح ماموم کا تک جک امام نما زی رتو ںکی تعرار چاتا ہو- 

٦‏ م٭سفحس نمازوں اور نماز احفیاطم کے بارے میں تک 

.۔ اس ف میں شک جس کاموں عکز رکیاہو 

مہ 1٦٦‏ ؟ آلر نماز پڑ ہے وا نماز کے دوران میں تک کر ےکہ ای نے نماک ایک واجب 

فقل سر انام ںا ہے پا میں لا اس تک ہوکہ تھ پڑمی ہے یا یں اود جوا نل اس کے بعد سرانحام 

دینا ہو ابھی اس میں مشغول نہ ہوا ہو اسے چا ےک جس فتل کے انام دسیے کے بارے میں قن کفکیا 

ہو اسے جیا لا اور گر وم اس فنل میں مشخول ہو گیا ہو جو اسے بعد میں با لان تھا لا سورہ بڑھق 

ا سو لہ جع بھی ہے یا نییں و پھراپنے خح کفکی بروا نگ رات 

سنہ 8۹ا پ اکر ماز ین دالاکوئی آیت بڑ ھت ہوئے ش کر ےکم اس سے پل کی آیت 

شی بے ما ین ا ننس وق آیت یت گا آفری حصہ بھ رپا ہو کفکر ےکہ اکا پا صد ص پڑھا ہے ا 

یں فو اےے جات ےکہ اپنے من کفکی بدا نکرے۔ 


منقلہ ۱٦۸‏ ۰ ار مماز پڑ نے دالا رکا یا ود کے بعد جن ککر ے کہ ان کے واجب افعال ( خلا زکر 





توضیالمسائل وھ جا 


اور برع کا کو نکی مامت میں ہونا) اس نے سرانجام د بے ہیں با یں تو اسے اف کہ اپنے ف کفکی 


ہوا شہ عمر ہت 


مہہ ۹۹ا ؟ اکر نماز یڑ نے ولا اس عاات م سک ہجرے میں بارا ہو کر ےک رکارغ نا لایا 
بے ما نیس زاس کے لیے لازم ےکہ وائیں ممڑے اود کو بھالاۓ اور کر شی مر ے مہ کو کے 
بی رکڑا ہواتھا یں نے نے غ فک بدا نکرے۔ 


مل مھا ؟ گر از یکھڑا ہوتے وقت شی ک کر ےک میدہ یا تشم جا لایا بے ما میں تو اے 


پاب کہ وایں مڑے اور جا لڑاے۔ 


ل2 ےا ؟ تو یھ بڑھ بإ .و نسبیحات پڑت وقت مل 








تل مھا : کر ممازی کی کر ےکہ نما اکوئی ایک رگن جا لایا بے جا ضٹیس اوہ ای کے بعد 
نے واے فحل میں مشقول نہ جوا ہو نو اسے بوالاۓ شلا مر تقد پو نے سے پیل شی ک کر ے لہ دو 
سجرے تھا لایا بت ما خی تو چا تکہ جیا لا اور اگر بعد میں لت یاد ا کہ دہ اس رگن ٭ بجالایا 
تھا ایک رگن بڑھ بان کی وج سے ا سک از باضل تےے۔ 

مستلہ ۷۳۴ا ٠آ‏ ر کازی ما کر ےکم ایک ایی گل جو نماز کا رگن خی بے ججالایا ہیے یا خییں 
اور اس کے بعر آنے والے فعل میں مشغول نہ ہوا ہو تر اسے چا ہب کہ اسے جیا لے لا ار سور + 
کت لات کس خی یکر ےک مھ بجی ث ا ی2 اے چات 2 ھھے اور اھر ارت الام درسیے 





کے بعر اسے یاد آ شکہ اس سے پل بی بھا لا چک تھا فو ج وگ رگن زیادہ شمیں ہوا اس لیے ا یک نماز 
مم بات 
مات 


مکل مھا : اھر نمازی خی کر ےکہ ایک رین جا لایا سے یا میں شخا جب تقد بڑھ رہ ہو 
ا لت کے کر ے نما لایا بے ىا مور و چو آ نے لہ 


دےےسمم9عسوسوجوچوڈڈو وج ججکجک ھک 








توضیحالمسائل_ : 7 2 ا 


اس رک نکو بجا میں لایا نو اکر وہ بعد والے رین میں مشغول نہ ہوا ہو و جا کہ جو رگن ان !ایا 
ہو اسے جیا لا اور اکر بعد وائے رین میں مشخول ہوگیا ہو ف اس کی نماز بال سے شثا بعد والی 
رکعت کے برکوغ سے لہ اسے باد آئ ےکہ دو یرے میں بھا لایا قے اسے چا نے کہ ججا لائے اور اگر 
روغ ہیں یا اس کے بعد اسے بادآ ےکہ دو سیرے ٹیس با لایا) قے ا سکی نماز باعل ہے۔ 


مستلہ ۵اا ٠‏ اکر نمازی ح کفکر ےکہ وہ ایک اییا مل جو رکن نمی سے بھالایا ہے پا خمیں اور 
اس کے بعد والے معل میں ول ہو چکا ہو اسے اج کہ اپ تک کی ہوا نکرے شلا ضس 
وت وہ سورة پڑھھ را ہو شح فکرےےکہ جح بھی ہے با نمی اسے اہج ےکہ شک فک پروان ہککرے اور 
اکر اسے ہع مم یار آ ۓےکہ اس ع ل کی میا یں لیا تھا اور بعد میس آنے دائے رکن میس مشخول دہ 
ہوا ہو تو چا کہ اس عم لکو ہجا لاۓ اور اکر بعد میں آنے والے رکن میں مشغول ہوگیا ہو اذ ا کی 
ماز تچ بے اس بنا بر شا مر قوت مس اسے بد آ کہ اس نے جو نمی با می قڑ اسے با ۓ کہ 
پھ اور اکر یہ بات اسے روم می یاد آے تو ا کی نماز جع ہے۔ 

مل ملا ؟ آل. نمازی شی کر ےکہ اس نے نماز کا سلام پاحاے با خمیں اور دوصری نماز یں 
مشول ہہ جاۓ پاکوئی ایا ام انیام دسی ےکی وجہ سے جو نما زکو برقرار میں مرگتا دہ نماڑ یکی عالت ہے 
خارخ ہونگیا ہد و اسے چا بن کہ اپنے ش کی بروانہکرے اور اکر ان وردں کے پیرا ہونے سے پیک 
جم ککرے و چائیے کہ سلام بڑھے فواہ دہ تعقیب می ى یکیوں نہ مشخول ہو چکا ہو اور اکر تک 
کر ےکہ سلام درست پڑھا ہے با یں پڑ خواو تعضبب میں مشخول نہ بھی ودا وو اپ ش کک پدا نہ 

گز ہت 


٢‏ سلام کے بعد ش٠‏ کک رتا 

مڑےےا ٠‏ ہم مر نمازی لام کے بعد اک کر ے کہ یا اس نے نماز کچ طور پر بھی ہے یا 
میں۔ ملا کف کر ےکہ دک ادا کیا یا میں پار ر” بت نار کے سام کے بعد ٹن ک کر ےکم چار 
ا پاچ و وہ اپنے ح فکی بدا کرمے مجن اکر اسے دونوں طرف سے ناز کے پپطل 
ہونے تا کک وو للا ار ر تق نماز کے علام کے بعد خ کک کہ جن رکعت بھی ہیں یا با 
0 





توضیجالمسائل___ [,_ :265ا 


مستیہ ۸ےا ٭ ا رکوئی مخس نماز کا دق تگزرنے کے بعد فی ککرےکہ اس نے نما بڑھی سے یا 
خی ں ما نکر ےکہ خیں بڑھی تر اس نماز کا بڑھنا لازم نیں شجن اکر دق تگزرنے سے پیل تک 
کر ےکہ نماز بھی سے ىا خمیں تو خواومما نکر ےکہ بڑھی ہے پھ ربھی اسے ما ےکم وہ نماز بڑھے۔ 
مَّلہ ۹ےا : آل رکوئی نس وق تگزرنے کے بعد ح کک رس ےک آیا اس نے نماز درست بھی 
ہے پا تین او رت نل بات ےت 

لہ 1۸۴ : ار از ظبرو عص رکا ونت گزر جانے کے بعد نمازی جان لے کہ چار رگعت نماز 
بڑڑھی سے لیکن ىہ معاوم نہ ہوکہ ظمرکی حیت سے بھی سے با صرکی نیت سے نو قاط کی ناپ ار 
رکعت نفماز قضا اس نما زکی نیت سے بڑھھے جو ای پ واعب ے۔ 

مہ ۸۱ : اگر مغرب و عشاکی نماز کا وج تگزرنے کے بعد فماڑ یکو چع مل کہ اس نے ایک 
ماز پڑھی ہے نشین ے عم نہ ہوکہ مین کی نماز بھی ہے یا جار رک بھی ہے و اسے چا ےک 
مغرب و عشاکی نما زی تضاکرے۔ ص۳ مغرب و عشاء ورنویل گی تضالرے) 


وی کی رامک (ج و مخص زیادہ تح کفکرہو) 


تہ ۷۸۳ کنا کک وہ خی بے جس کے بارے میس لوگ مو اکھی یکہ وہ زیادہ تک ک۸ 
ہے ما ا یک یکغیت اأی ہ وکہ ہر جن نمازوں می سکم ازم ایک دفعہ ح ککرپ ہو نے ایا نس اپنے تک 
: وا نہ کرے۔ 

مسنیلہ ۱۸۳ ۰ .أگ رمیا ملک انان ماز کے اجزاء میس سے مکی جزو کے بجا لانے کے پارے میں 
جک ککرے ق اسے ہوں مکھنا چا کہ اس جز کو جھا لیا ہے۔ شا ار شی کر ےکہ کو کیا ہے یا 
ہیں اسے مجھنا جج ےکہ رکو ]کر لیا سے اور لم کسی ای جنر کے جیا لانے کے بارے میں شیک 
نکرے جو نما کو پاط ل کرتی ہو خلا شی کر ےکہ مج نما زکی دو رکعت بھی سے مان رکعت و ری 
ےک ناز ٹھیک بی ہے۔ 





توضیحالمسائل ...1 206ا 


مستلہ ۱۸۴ ۰ جھ مس ہراز کے کسی ایک عمل میں زیادد ش کر ہو اگمہ اسی کے علادہ وہ نماز کے 
ھی نے ین شک کرے و اسے چاہی ےہ خک کے اظام سے مل کرے لا جو نخس اس 
بارے میں زیادہ ش ک کر ہ وکہ دہ کیا سے نا فی اگر رکوغ کے با لانے میس ح کفکرے تو ات 

چا جے لک کے عم پ ص لکرے شی اگ رہ ہکیا ہو3 کر ججالاۓ اور جددکر چکا ہو بر تک 
گی پرواہ نہ کرے۔ 


مل ۱۷۸۵ : جو نس کسی خصوص ناز خلا برک نماز جس زیادہ شک کرا ہو آگمر و کی دوسری 
خماز شا مصرکی نماز یسفن ککرے تو اسے چان ےک ختک کے اعکام یر گ لکرے۔ 


مل ۱۸۷ : جو نس کی خصوص ػلہ ماز پڑت وت زیادہ تک کر ہد ا ر شی ددمری ت٦‏ 
مماز پھھ اور اس شک پیدا ہو تو اسے چا کہ شک کے ایام بر گ لکرے۔ 


متلیہ ے0۸ ٠‏ اگر کسی مخ سکو اس بارے میں تنک ہوکہ آیا دوک اف ہو گیا ہے یا نہیں ب7 
سے چاجنے کہ فک کے اعکام بر ف٠‏ لککرے او رک را نف شس کو ہب تک نین نہ ہو پا لہ وہ 
... عاات پر لوٹ آیا جے اپنے شح کک برواہ نہ کر ے۔ 
مستلید ۱۸۸ ۰ جو ہنس زیادہ شیک کر ہو آکر وو شیک کرس کہ ایک رن سجا لایا ے ہے یا یں اود 
دہ اس تک کی پرواہ نہ کر نے اور بعر میں اے یار آے کہ ںا جا نہیں لایا اور اس - کل ما 
رن میں مشغول ن ہوا ہو تر اسے اج ےکہ ای رک یکو ججا لائے اور أکر بعر کے کن میں مشقول ہو 
میا ہو نو ا کی از یل بج خلا آمر شک کر کہ رکو حا کیا ہے ما خی اور اس کن ک کی برواو دہ 
کر اور دوسرے سیرے سے پسلہ اسے باد آت ےکلہ رورغ خی ںیت ما تمہ درکو غ کرے اور آلر 
ددمرے میدرے کے دوران میں اسے یار آئے تر ا کی نماز اٹل قتے۔ 
معلیہ 1۸۹ ۰ جو نس زیادہ خی ف کر ہو گر و شیک کر ےک ہکوئی اییا لی جو کن نہ ہو ھا لایا 
ہے یا میں ور ال شف کی پرواہ نہ کرے اور بعد می اسے یاد آئ کہ وہ مل جیا یں لاپ و اکر جیا 
لاےے کے مقام سے ایھی ب ہگزرا ہو اسے با ےک اسے بج لا اور کر اس کے ستقام سز گیا ہو 
3 ا کی نماز جج بے خلا اکر ش ککرے کے مد پڑھی ہے یا می اور شک کی زوا ہکرے اور قوت 


ٰ 





یو سار یہ 811) 


بے ہہوئے اسے ماد آب کہ مد غمیں ھی قے جا ےکہ پاھ اود اکر کو می یاد آے تو ا ںکی نماز 
کیم ہے۔ 
۵- ام لور امومکائک 


سیل ۰ : ور سرت رک لکی توداد کے بارے می فی کفکرے ملا فن کفکرے 
ا نی بی میں یا چارر کی لور مق یکین بان ہ کہ پار ر تس بڑھی ہیں ار دہ 
بت اام تماعت کے علم میں لے جآ ےکہ چاد ری پھی ہیں نز ما مکو چا ےکہ نما زکو انام تک 
بے اور نماز اتیل کا ڑھنا ضروری میں اور آگمر ا مکو نین ماگمان وہ خی م ہیں بڑھی ہیں اور 
نتری نمازکی رکھیں جک پارے ٗی ککمرے پو اے چا کہ اپے کی روا کر 

٦س‏ مستحبی نماز یی مل 

مستلہ )۱۹۷ : اک رکوتی مس فما زی رس مموں میں می کفکرے اور شک زیاد یکی طرف ہو جو نما زکو 

اف کرتی ہے و اسے ہاب کہ ہہ جھ نی ےک ہکم کی می ہیں شا اکر نج کے بافلہ یں مک 
کرے لہ ودور شش پانی ہیں یا نت بی ج ےکہ ددیعی ج یں اور آمر زیاد کی رف رالاگک نز : 
کر الیل نہ کرے خلا اکر نماز میس ح کفکر کہ دو ر تی بھی یں ما لیک پڑھی سے تو کک کے 

جس طرف پر بھی گم لککرے ا سک مماز مج ہے۔ 

سنہ ۹۳ا رکن ناکم ون نافلہ نما زکو پاف کر دنا سے لیکن رکن کا زیادہ ہونا اسے پاطل نیس 


را ہپس اکر نماز نافلہ کے افعال میس سے کوگی تل بھول جائے اور سے بات اے اس رفقت یاد آے 
جب وہ اس کے بعد وانے رن میں مشغول ہو چکا ہو اے چا کہ اس لف لکو انچام رے اور دوپارہ 
اس رک کو بالات ملا امہ رکوع کے دوران میں اسے بادآ ےکہ سور مد نمی پڑھی تو اسے چاچے 
کہ وائپں لونے اور ججہ پڑ ھے اور دوبارہ روغ مل جاۓ۔- 

مستلہ 0۹۳ ۰ اگ رکوئی نس بافد کے انعال کے بارے میں کی ٹل کے متعلق کی گکرے خواہ 
وو فنل رکن ہو یا غیر ھن ہو اور اس نل کا موقع ےگمزرا ہو تو چا کہ اسے بجا لا اور اکر موٹح 
201 کیا ہو ڈو این گل ک پوا نک ردے۔ 








توضیح‌المسائل ۱ [_2648_ 


سیل ۷۳ ء آگ ری شف ںکو رد رکعتی نماز میں مین یا زیادد رو ں کو بڑھ لیے کاگھان ہو تر 
چا کہ اس گمان کی بروا نہ کرے اور نماز ا کی تچ سے لین اکر اس کا گان دو رکمتوں کا یا ای 
ےکم کا ہو تو چا ےکہ اس گمان بر عم لکرے ملا مر ا گمان + کہ ایک رکعت بڑھی ہے تذ چا 
کہ ایگ رکعمت اور پڑھے- 

مل 11۹۵ ۰ ا رکوئی مخصس نافلہ نماز می ںکوئی اییا ف لکرے ننس کے لیے داب نماز می دہ 
سو واجب ہو جاناہو یا ایک حجدہ یا تقد بھول جائے تقر اس کے لیے ضرددی فی يکہ ماز کے بعد یرد 
ہو ما قضائے حرہ اور تشد با لا٤۔‏ 


متلیہ 08۹ ٠‏ اگ رکوئی فنص فف ککر کہ مستحہی نماز بڑھی ہے یا میں اور اس نماز کا خراز 

عفر یا ری طر حکوکی مقررہ رت نہ ہو تر اسے مھ ینا چا ےکہ ٹنیس بڑنھی اور آگر وہ مستحبی نماز 

الہ اإمی کی طرح مقردرد رت رکھتی ہو اور ایس وقت کے گزرنے سے پھے متعاقہ می یکر ےک 

اسے ھا لیا ہے پا یں تاس کے لیے بھی بی عم ہے مان کر وق تگزر نے کے بعد کن کفکر ےکلہ 

دہ نماز پڑھی ہے ما غنیس تو اپنے شت کک ردان ہکرے۔ ۱ 

مج خوں 

متلیہ ے۹ ٠‏ ا رس یکو فو صورتوں میں چا رکھتی زا زکی رو ںکی تددار کے پارے میں ایک 

ہ× تر اعقاط داجب کی بنا بر اسے چا ےک فور خور و گگ رفکرے اور گر نقین یا مان ف کفکی کی ایک 

طرف ہو جائے نو ا یکو افتارکرے اور نما زکو فا مکرے ورنہ ان احکام کے مطابق عم ل کے جو زی 

یبای ---ْ 

ام ہ کہ ود مرے حچدے کے وک کے بعد ش فککر ےکہ دو رک پڑھی ہیں یا ہین اس 
صورت میں اسے موں کجھ ینا چا کہ تن رج شی ہیں اور ایک اور رکعت بے 
اور نما زکو قا مککرے اور مماز کے بعد الیک رکعت نماز اقیا طکھڑا ہو کر جیا لائ٤۔‏ 

۴ جومرے مدہ کا ور شم ہونے کے بعد لگ انان ش کف کر ے کہ کا دو رھت بڑھی 
ہیں نا چار تر ہہ کجھھ ٹ ےکہ چاد بھی ہیں اور نما زکو تھا م کر ے اور بعد میں دو رکعت نماز 





ترطی‌السائل___۔ ۱ )ا ویج ا 


اعیاط ت0 

ا 1ے مر مھ سر اور یں 
ڑا ہیں نان نا چار ق3 اسے ہہ کچھ لیا چا کہ لد پڑھی ہیں اور وہ نماز شخم ہونے کے 
بعد دو رکعت نماز اقا کھڑے ہوگر اور بعد می دو رکعت بیٹ ھکر با لاۓ۔ 

ف0 گر تی مس کو دوسرے سیرے کا زکر ش نے کے بعد شک ہوکہ اس نے چار 
رھ ھی ہیں یپا ھی میں قاسے ىہ جھ لوت جا ےکہ چاد پڑھی ہیں اود ا بیاد ہ 
نماز تما مکرے اور نماز کے بعد دو دہ کو بھا لائے۔ پل اگر ان چار شلوک میں سے ےکوئی 
ایک شک پلہ سدہ کے بعد ما ددسرے دہ کا ذکر تام ہونے سے پللہ اضق ہو اس نخس 
کی نماز ال ے۔ 

۵... نماز کے رودان مل نس وت بھی کسی کو جن رکعت اور پار رکعیں کے ورمیان تک 
ہو اسے پاٹ کہ ہہ مھ لےکہ ار رکصجس بھی ہیں اور نما زکو قامکرے اور بعد میس 
ایک رکعت نماز اقا کھڑے ہ وکر یا دو رکعت بیٹ ھکر ھا لاے۔ 

اک گر قام کے دوران میں کی کو چار ‏ رکمتوں اور بای رکمتوں کے بارے میں تک ہ9 : 
جائے و اسے ای ےکہ بل جائۓ اور تقد پڑ ھے اور نماز کا سلام پڑسھے اور نماز تم ہوتے 
کے بعد ایک رکعت نماز اتا ھکوڑڑے ہو کر یا دو رکعت بی ھکر بھا لاۓ۔ 

یں آلز نام کے اع من می جن اور پاچ رکحتوں کے بارے مس ہک ہو جائے تر 
اسے چا ےکہ ٹہ جائۓے اور نشرد بڑھھے اور نماز کا سلام پڑھھ اور نماز ضحم ہونے کے بعد 
رو مرکعت نماز اعقیالا کھڑے ہوک جیا لاۓغ۔ 

ہ۸ گمر قام کے ووران م کک یکو مین چار ادر پاچ رکعوں کے بارے میں کک ہو جائے 
اسے پا کہ ٹہ جا اور تشد بڑ سے اور سلام نماز کے بعد دو رکعت نماز اعتا طکھڑزے 
ہوک اور بعد میں دو رکعت بیٹ ھکر بجا لاۓ- 

3 اکر قیام کے دوران میں کم یکو بای اور جچھ مرکھوں کے بارے میں شک ہو جائے تو اے 
چا نےکہ ینہ جا اور تقد بڑ ھے اور نماز کا سلام بڑھھ اور دو سیرہ سو جیا لاۓ اور 
اعقاط داد ب کی بنا بر ان چار مصورتوں میس بے جا قام کے لین دو حیدہ کو بھی بجالاۓ۔ 











توضیعالسائل___ مھ ہے 99800 نت 


لہ 0۹۸۸ ۰ ثر یچ شلوک میں سے کوی شک انسان کو لاق ہو جاے 7 اعتلظ وا ب کی بنا 
اسے نماز شمس تو ڑتی جا جا ان انام کے مطابق خح لکرنا اج جو ججاتے کے ہیں۔ 

لے ۹ك ٠ر‏ ر فماز کے ووران مم انسا ن کو شکوک میں سے کوئی فک ماج ہو جا جن کے 
لیے نماز احقیاط واجب ہہ اور وہ نما زکو قا مککرے تو اقاط دعب ہہ ہج کہ نماز اعالا پڑھ اور نماز 
اضیاط پڑھے بفیراز مرف مماز نہ پڑھھ اور کر دہ کوئی الا ٹل انجام رسیے سے پیل جو نماز اط لکر ہو از 
صرفو نماز پڑھ و اس کی دوسری نماز بھی پل ہو گی نان اگ رکوئی ایا ٹل انوہ عم دسنے کے بعد جو نماز 
کو باعل یکاہ خماز زس سشفول ہو جاے تو ا لکی ددسری مماز سج ہے۔ 

مل ۰۶ جب نما زکو پاش لکرنے دالے کوک بیس سےکوئی کک انسن نکو لاق ہو جاے اور 
دو جامتا ہو کہ بعد کی حالت میں تخل ہو جانے پر اس کے لیے نین ماگمان بیدا :و جاۓ گا۔ (لشنی آ می 
نماز میں مخفول ہو جانے پر اس کا شک شقن با گان میں برل جائے گ) , اس کے لیے نف کی 
عاات میں نماز جاریی رکنا جائز خییں ہے۔ خلا اکر قا مکی مات میں اسے کیک ہوک لیک رکعت بای 
جے یا زیادہ بھی ہیں اور دہ جانا ہ کہ آل دکوغ مم جاتے نز عصسی اک طرف تین پا نان پیر اکر ۷ 
ای عاات می ای کے لیے دکو کرنا جات فمیں ہے۔ 

متلہ ٠ ٢٢‏ کل کی منص کاعگمان پے لیک طرف زیاں ہو مو ما 
اروف بوابہ ہو جا تو اسے چا کہ شک کے ام ر ول رس از ار پا ہی رولوں اطرائے ١‏ 

گی نی برابہ ہوں اور اعکام کے مطابق جو یھ اس کا رظ مس کر رو 
اس گاگان رو ری طرف چلا جا تو اس چا کہ انی طر ف کو افتارکرے اور نما ز کو قھا م رنہ 
مل ۰۲ا جو فص ہہ نہ جاتا ہورکہ ال کانکان الیک طرف زیادہ ہے ا دوفیں اطراف اس کی 
یں برابہ ہیں ا سے جا کہ شک کے اعظام بر گ لکرے۔ 

مل ۱٣۰۳‏ کی شف کو از سے پور معلوم کہ ما کے دوران میں وو شک کی مالت 
می تھا لا اسے شک تھاکہ اس نے دو رک پڑھی جں یں ر“ میں اور ای نے اپنے افعال گی 
فیا تن رکسوں پر ھی ہو لیکن اسے بے علم نہ ہوکہ آیا اس کے مان میں ہہ تھاکہ اس نے تیی 








توضیٰچالسائل__ 7 )1ہ+دج ا 


مر میں بھی ہیں یا ووفوں اطراف اس کی نظرمیں برابر تھی ق3 اسے جا ےک نماز اعاط پڑھے۔ 
مستلہ ۱۳۰۴ ؟ مر تقد پڑت وت یا قیا مکی حعاات میس آئین کے بع دکوئی فیس فی کفکرےکہ 
دہ دو حیرے بجالایا تھا با خمیں اور اسی وت اسے اییاشک لان ہو جو آمر رو سیرے ام ہوئے کے بعر 
امن ہو جو کچ ہو زا وہ شی کفکر ےکہ می نے دور میں بھی میں مان اور وہ اس شک کے اعام 
کے مطلبق عم لکرے و ا کی خاز یج ے۔ ۱ 
مہ ۵٥ء‏ رکوتی خس تشم میں مشول ہونے سے پسلہ یا قیام سے لہ کی کفکر ےکک 
ایک ہا دو عیرے با ایا سے ما غمیں اور اسی وقت اسے ان لوک میں سے ےکوئی شک اضق ہو جائے جو 
دو سیرنے تمام ہونے کے بعد جج ہو تو ا کی نماز اٹل ہے۔ 
مہ ٠ ۳٣*۷۹‏ ا رکوئی نس قا مکی عالت میں تن اور اد رکمنوں کے یارسے میں با حین اور 
چار اور پاىٗ 0 انسوں کے نے نین یی کے اور لے ىہ گی یا آجاۓ کہ اں نے اس سے پل 
رکعت کا ایک رہ یا :ونرں یرے ادا خھیں کے تر ا سکی نماز افل ہے۔ 
مل ے۷٢٢‏ : .اگ کسی من کا6 تک زائل ہو جاۓے او رکوگی دوسرا کیک اسے لان ہو جاۓ شا 
7 کل او 
رو شس بڑھی ہیں تیر مس اور بعد میں من فکر ےکلہ ین مر میس بجی 
متس ٹس و اسے چا ےکہ دوسرے شف کے مطابق اکام بر عم لکرے۔ 
مننلہ ۳۴۸ ۰ جو خص ناز کے بعد مت ککر ےک نما زی عالت میں مال کے طور پر اس نے وو 
ادر چار رکھتوضش کے پارمے میں ج ککیا تھا یا قن اور چار ر تمتِل کے پارے میں خی فکیا قھا اس کے 
نے جات کے لے ما زکوکااعدم قرار دوے۔ اور دوبارہ پا ےے۔ 
مل ٢٢۹‏ ج کر کی خخ سک نماز کے بعد پنت ج کہ نما زکی عاات ٹس ا ےکوگی شک لاجن ہو 
00 00 شاک میں سے تھا ما جع لوک میں سے تھا 
اور اھر تیچ شیک مس سے بھی تھا تاس تماق بیجع خر کک یکون سی صم سے تھا اس کے لیے 


7 وب نے1 نماک نااحدم ترار دے ! در روبارہ بڑے۔ 


مل ٠ ۳٣۴‏ .و مخصس بب ھکر نماز یڑھ را ہو اکر اسے اییاتک لات ہو جاۓ جس کے لیے اسے 








توضیح‌العسائل 1.7[ 72ل 


ایک رکعت نماڑ اعقا طکھڑے ہوکر یا وو رکعت شی ھکر نی تا نے فلت جات کہ اج 
بھ ور وہس با جار ا وو او 
اسے چا ےکہ دو رکعت بٹ کر بچالاۓ- 
مل ۱٢۷‏ : جھ مخ سکھڑا ہوکر نماز بڑھتا ہو اگر ود ماز اعقیاط پڑے کے وق تکھڑا ہونے سے ما 
ہو اسے چا کہ نماز اعقراطہ اس شخ س کی طرح جیا لاے جو یھکر نماز بڑھتا ہو اور تس کا عم سابقہ 
صے میں میان ہو جا ے۔ 
مستلہ ۱۳۳ ۰ جھ مخس بی کر نماز پڑہتا ہو گر نماز ادقیالطا پڑت دق کا :و ےت اسے چا ہجے کہ 
اس نس کے وظیضہ کے مطابق عم لکرے ج ھکھڑا ھکر نماز بڑھتا ہے۔ 
ماز اضماط _۔ بڑ ہے کا طریقہ 
مہ ۴۳ : نس فص پ نماز اقیط راب ہو اسے چا ےکہ نماز کے ملام کے فورا بعد نماز 
اتقیاط گی نیت کرے اور گب ر کے اور مہ پڑت اور رگوخ مس جائے اور دو جرے بھا لاے۔ لی اگ ۱ 
اس پر ایک رکعت نماز امیا وایٹپِ ہو لو وہ رو کچروں کے بعر تید بڑے اور سام جے کے اور اکر ای س ! 
ز نت فا شا شب مو و رن کے اک اور کت کی یر الا ور ۰ 
تقد کے بعد علام کے۔ 
لہ ٠ ۳٣۴‏ نماز قاط میں سورة اور قوت نہیں ہے اور انسا نکو جاک لہ ىہ خراز گہستہ بڑ هی ۱ 
اور ا لکی نیت زبان پر نہ لاے اور اعقیاط مخجب ہہ ےکہ ا ںکی مم ان بھی آہستد بڑڑھھے۔ 
مستلہ ۱۴۵ : اگ کی سک نا اعقاط من سے پلہ معلوم ہو جا ےکہ جو نما اس نے بی 
تھی دہ سج شی قزاس کے لیے نماز اعقط ساقط ہد جائۓ گی اور لک نماز اطیط سک دوران میں ہے عم و 
جائے فو اس نما زکو قما مکرنا ضردری نئیں۔ 
مستلہ ۲۱۹ا : ار از قاط جن سے پیل کی مخ سکو علم ہو جا ےک دس نے اصلی فراز کی 
ری کم بڑھی تھی مور اصلی نماز یڈ ڑھے کے بعد اس بن ےکوکی ایا گل بھی انام نہ دا ہو جو نمیا کر 


ل کر ہو اسے بای ےکہ اس ے نا کاو حم د پڑھا ہو اسے پڑت اور بے کل سلام کے گے 














البنائل ا ھ2 





روز و اداکرے اور آلر اس تٌ ےکوی ایما تح لی کیا ہو جو نما زکو پاط لکک را ہو مل قیل ہکی جانب بت کی 
ہو بے ال نماز دوربارد بڑ تھے 

مستلہ م٣٢ ٠‏ ار تی نم کو نماز اط کے بعد پت کہ ا کی اصلی مماز مج نکی مز اخالد 
ما رات 2 ی خلا من رر میں 0 پر رکموں ور دریان کی عورت یں ات لت تما اخاط 
اگ گ اور پیر ٹن پند سی کہ ای تے نما زی نر“ یں بڑھی تھیں تا کی ماز جع ےد 


ما ۸ آل ہی میس و نمماز امقیاط یڑ پت چ کہ اصلی مز" 7 ای ا تی 
وہ نار ا تقاط ےکم" تھی خلا ور و کرت نماز 
انثا( سے اور بزر میں معلو علوم ہوا کے اس نے اص ٣‏ ی نما کی جن ر می تی یس و سے چا کہ 


از روبارو بڑ جس 


مم ۱۳۴ ١‏ گر بی مض سی و مماز انقاط پڑت کے ہیر ےر لہ اص لی نماڑ ض منوکی ہوئی تی 
ات 


ره نماز استیاط سے زیادہ کت نی ر‫ میں اور پارر ہیں کے اشن تل 1 کورت میس ایک 
رظ باز انقیاط پا ھ اور یں گی معلوم ہوک اضل نماز کی دور لیس یم یی میں اور فراز نشیا کے 
بعر توئی ابيا فل انام دیا وو جو خما زکو 7+ شلا لہ کی جاب جھ کی ہو ق ات چا بے گہ ماز 
رویر: بے اور اک رکوئی ایا ٹل اخعیام نہ دا ہو جو نما زکو باط ل کر ہو نز اس کی نماز قاط شار میں 
آجا۔ ےئ ار ات تو سز (کی) جا لا تئے اور ای کی نماز بیغ ہے اور انی از ز اور گاز قاط 


کے اوثوں زار سلاموں کے نے دو دہ کو جا لاے۔- 


مل "٣٣۶‏ ز کی ا وو اور تی ۱ ادر چار ر میں یی نلنووٹ اور آاپڑیے ہو گر وو 


رت ماز قالط پے جن کے بعد اسے بادآ ےکہ اس نے اصلی نما کی ود ر میں بھی یں نوس 





کے لین مل گر دو رکعت نماز انقیاط بڑھنا ضردری ہیں۔ 





مت ۳۲۱ ٠‏ ار ہکائی ننس جن یا چار رنمیں کے باین شیک کرے اور 





رلات از ااط کھزے یا و ۲٢‏ ہو اسے پاد ےک اں نے نماز زی جم 25 





: 9 امقیاطا کو ۳ ایی اور انا ىٰ نماز ج تً اور زار سام َ 











تریح سان 2741ا 


لا اور اکر ہہ بلت اسے اس وقت یاد آئے جب وہ دو رکعت نماز اعقالطا یٹ ھکر بپڑڑھ رپا ہو گر اے 
لہ رکوع سے پلےہ یا آۓے نو و ہکھڑا ہو جائے اور نماز بیس ج بھی روگئی ہو اس کے مطابق اسے تام 

رہ از لے سے رکوع کے بعد یاد کے نو ا کی نماز پل ہے۔ 

مستلہ ۴۲۲ ٠‏ اگ رکوتی مخ دو اور تین اور ار رکستوں کے این قن کککرے اور وقت وہ 

وو رکعت نماز ات ا کھڑے ہو کر بڑھ رہ ہو اسے دوسرے رکوع سے پھلہ ياد آ ےکمہ اس نے نما کی 

تن ری بونھی تھیں تر اے چا ےکہ جیٹھ جا اور نماز اع کو ایک رکعت پاب کر ی ش مکروے 

اور ند سلام کے لیے یرہ سو اواکرے۔ 


لہ ۳۳۲۳۴ ٠‏ گر کسی مخ سک نماز اضالط کے دوران میس پتۃ کہ ا کی اصلی از می س کی 
غماز اعقیلا سے زیاوہ اکم تھی اور وہ نماز اعضاط ای صلی نماز کے فرق کے مطالق قام نہ کر سکتا ہو تر 
اسے پا کہ نماز اتال کو چھوڑ رے اور اس صورت میں اگر فان ہو تر ما زک یھی بھالاے اور ار 
ای اکرنا فان نہ ہو ت نماز روبارہ یھ شلا جن اور چار ر کو کے ماین ‏ کفکی صورت میں اکر دو 
رکعت نماز اقیاط میٹ کر پڑت وقت اے یاد آ ےک اس نے اص٥لی‏ نما زکی ود ر” میس بڑھی تھیں ‏ 
کہ وہ من کر بڑھی جانے والی وو رت ںک ھکھڑے ہ وھکر بھی جانے والی دو رکمتیں شر خی ںکر کت 
اس لیے اسے چا ت ےک می ھکر بڑھی جانے والی نماز اقرا ط کو چھوڑ رے میں اکر اسے ہے بات نماز ایا ۂ 
کے پلطے روغ سے پل مار آئی ہو ق اسے ای ےک اصلی نماز میں جق یکی زو گنی ہو دہ پڑ سے اور اگر 


اس کے بعد باد آکی ہو و بوارہ ری نماز ڑے۔ 


متا ۳٣۴‏ ۰ أآ رکوتی مخنصس وذ کر ےک“ جو نماز احقاط اس پر وانب شی وہ اسے جھالایا ۓ یا 
یں ق نماز کا وق گزر جان ےکی صورت میں اپنے ش کک بروا نہ کرے اور لہ وقت پائی ہو تر ای 
صورت میں جیلہ شف اور نماز کے درمیان زیادہ وتفہ بھی نہ گزرا ہو اور اس نے کوئی ایا نل بھی :کیا 
ہو خلا قبلہ سے منہ مم ڑغ) جو نما زکو پا ل کر ہو اسے چا ے کہ خاز اعقراط پڑت اور آلر وی اہہا 
ل کیا ہر جو ا زکو پاف کر ہو یا نما اور اس کے شک کے درمیان زیادہ وقفہ ہو گیا ہو شک کی ہوا 
رکھرے۔ 


مستلہ ۳۴۲۵ ٠‏ ار ایک مس نہاز اعقاط می ںکوئی رن بڑھا نے با عثال کے طور یر ایک رکمت 











توفیچالسائل ار دہج ا 





کی جائے دو رکعت بڑع نے تو نماز انقیاط پافل ہو باتی ہے اسے چا ےکہ دریارہ اصلی نمازبڑھھے۔ 


ستلہ ٢۳٣‏ ج ألرکسی نس کو نماز انقیاط پڑت ہو اس نماز کے افعال ہیں س ےکی فل سے 
ملق میس ہو جاۓ تج اکر اس ضس ما رع نہ گزرا ہو تق اسے بجالاۓ ے اور ام اس کا مو تع لز ریا ہو تر 
ات چاب کہ آپنے شک کی وا ہکرے طخلا اگر جی ککر کہ جد بڑھی ہج پا خی اور ای رکوعغ 


ٹیل لد کیا قح بچڑھے اور از رتو یں جا جکا ہو : اپ لک پدادٴ نے 

مننییۓ ۴۴ ج: آ کی ننس از ا اط گی تو کے کے پارے می شی ن کے ٔ زیاہدتی گی 

طرف خرف نما زنک پعخ لک رن ہو فو اے چا کہ مم لکی جیا ػ بر رک١‏ ور کر زیادو گی رف شیک نماز 

کو یٹ نکر ہو تو اسے چان کہ ا کی جیاد زادہ بر رک شا نب دو دو رکعت نماز انتیاط پڑھ را 

ہو ار ا یہ دو ر میں بڑ شی ہیں یا تع بھی میں 7 ت کہ زیا :تی گی طرف گیل نا ز کو ال 

لہ ند ل کہ اس نے دور یں بڑھی ہیں اور کر فی یکر ےکلہ اک 

بھی ہیں تق جو تمہ زیادثی کی طرف شیک نا زک اٹل نی یکر اس لے 

پڑ ھی ہیں۔ 

لہ ۱۲۲۸ ۰ اکر از ایالم می ںکوئی اڑی جن دو رکن نہ ہو ہوا “لم یا زیادہ :و جاے و اس کے 

27 یرہ مو یں ستا۔ 

تل ۱۳۳٢‏ ےآ رکوئی نس زار امتاط کے سم سے بعر شی کف کر کہ وہ اس نماز کے ابا اور 
ا 


شرائط میں ے کوگی بک ج او شرط جا لایا سے پیا میں وہ اس نے شحف کی روا تر ارے۔ 








ات مجنا چا ےک دور ” 


متل9 ۱۳۳٣‏ ؟ نگ رکوکی محخس نماز متماط میں تشد یا اک حبدہ اداکرنا حول جاے اور اس تشد یا 
سدرنے تا اتی جاہ ے ارک ضْ من نہ ہو تر قاط واجحب ہے سب کہ مماز کے بر کے بعد اں تید 
ا مد ےکی تشاکر۔۔۔ 

سنمل8 ۳۳۱۲ ؟ آآ ری ننس بر مز ایام اور ایک حیرے کی قضا غ ایک تشد گی ضا یا دہ یرہ 


کر راب ہوں ڑا سے پا کے لے سے اساط جا لاے۔ 


نیل ۴۳۲ ٠‏ نمازکی ر ہیں کے پارے میں عمان کا عم لین کے ش مکی طرع ہے مل لک رکوئی 





توضیمالمسائل )376 ِ 


شس یہ نہ جات ہوکہ لیک رکعت پڑعی ہے یا دد رکم پڑعی ہیں اد گان رکتا ہہ وو مج 
ڑا ہیں ق دو یہ چھکہ دد کی پڑھی میں اود اکر چا ری خازج گان رکتاہ کہ پر کھج 
پڑھی ہیں از اسے ماز اعقلط پڑ ھن کی ضرورت نی لن افعال کے بارے میں مکان شیک کا عم رتا 
ہے بی اکر رومان دکتا کہ رکو کیا ہے مود ابی سدہ یس داٹل نہ ہوا ہو اسے چا کہ اے 
یی دو کو) الا اور اگ رگمان رکتا کہ حھ شی پڑعی اود سورة میں دائل ہو چک ہو وعمان کی 
پروا ککرے اور ا کی نماز کچ ہوگی۔ 

مل ٣‏ روزانہ گی واجب نمازوں ادر دوسرکی واجب نمازوں کے پارے میں فیک اور مہو 
و مان کے عم می کی غق خی ہے طل اگ ھی من کو از ات کے ودرا یں شک ہوک 
ایک رکعت پاھی ہے یا دو رک تو کہ اس کا پک دو رکعق ناز میس ہے لیا اس کی نماز پل 
ہے اوک دو گان رکتا ہ کہ یہ دوسری رکعت یا لی رکعت ہے تاپ گگان کے علق نما زکر تام 
کی 


و 


ملہ ٢۲٢۳۴‏ ء: اما ن کو چا ے کہ نماز کے سلام کے بعد پا جیڑوں کے لیے اس طریقے کے 

مطالق یس کا آتندہ ذکر ہو گا دو سر سو با لاے۔ 

ای لاک عات میں سوا کلا مککرنا۔ ۔ ۱ 

-٦‏ ا ما کا سام نہ کنا چاپچے وہل سلام کنا شلا نول کر بی رکعت میں سلدم 
کال 

٣...ں‏ تفم کا بھول جاتا۔ 

8۳ چا رت ماز می دوسرے میرے کا دک قا مکرنے کے بعد ش کک رتا کہ چار رکون 
پڑ گا میں ہا باؤ۔ 

۵ لک مجدہ بحول جلا یا ہما ںکھڑا ہونا چا ( لا جاور سورہ پھے وقت) ری طلٹی 








توضیحالعسائل 7 . ریبے 1 


سے ٹئہ جانا یا جماں یھنا ای وا تقد پڑت وقت) واں خی ست ‏ کھٹرے ہو جانا ان 
ین صورقں میں اعقیاط داد ب کی بنا پہ چا کہ دو سیرے سو کے بھا لاتے بای گا 7 
اس چززرے لیے جو نماز می بھول س ےکم ما زیادہ ہو جاے اسٌیاط خحب یہ ہ ےکہ دو کیرہے 
و کے یئ جامیں اور ان چند صورتوں کے یارے میں اعکام کا آمدہ سمائل میں کر سیا 
جاۓ گا۔ 
لہ ۱۲۳۵ : گر انان لی سے یا اس ضیال س ےکہ وہ نماز پڑھ کا ہے کلا مکرے قز اے 
جات ے کہ دو حرة سو با لاۓ۔ 
مل ٢٣٣۷۹‏ : اس آواز کے لیے جو آو بھرنے اور کھاننۓ سے پیا ہوتی ہے ای ےے کید کو 
واعب نمیں وت غیان مشیل کے طور پر اگ کوئی خخص غلی سے مخ یا آو کیہ رے تر اے اہک 
سیرۂ سو بجالاۓ۔ 
مہ ے ۱۳۳ ٠‏ اگ رکوئی ٹف ایک ایی چزکو جھ اس نے نل ھی مھ رویادہ سعغ طور یر بھ ت 
اس کے ددبارہ پڑ ھن پر حرۃ مو واجب گی ے۔ 
لہ 0۲۳۸ ٠‏ اگ رکوئی مس نزاز میں لی سے مبھ دہ بات ںکرنا رہے اور خی 
با تکرنا مھا جات ہو قز اس کے لیے نماز کے سلام کے بعد دو حیرة سو کائی ہیں۔ 
مستلہ ۴۳9۹ ٠‏ اگ رکوئی مخ شلعلی سے نسبیحات اربعد نہ ڑھے نر اعقاط صسحخب ہہ ہے کہ 
ماز کے بعد دو حبرۃ سو پھا لاۓے۔ 


۔ 
۶ 


تل ۱۳۴۳۴ : ہیں نماز کا علام نہیں کنا چان اگ رکوتئی مخص أطی ے السلام عدینا و 
علی عباد الله الصالحین کہ دے یا السلام علیحکم کے ة ارچ اں ے ورحمة الله 
ب اتد نہ کھا ہو تر تب بھی اسے چا ےکہ دو سر؟ کو جا لاۓ اکر لی ےہ السلام عاییک 
ایھا النبں ورحمة الم و ب رکا تد کے تو اتقیاے سب پہ ہج ےکہ دو سر٤‏ و جھالاۓے- 


متلہ ۳۴۱ ٠‏ میں سلام خی کنا چاہے گر وہا ںکوئی شنفس تیوں سلا مکمہ دے ق اس ہے لیے 











توضیحالمسائل ...1 278ا 


وذ حیرۂ سو کانی ہیں- 

مل ۲۴۳۴ ٠‏ اگ رکوئی مخ ایک دہ ما تقد ول جا اور بع کی رکعت کے رکوع سے پیل 
اسے بادآ تو اے چا ےکہ ےہ اور حیرہ یا تشد بجالائے اور ماز کے بعد تقاط واج بک بتایہ بے 
کل قام کے لیے دو سر و ہجالاے۔ ‏ 

یل ۳۴۳۴ی ہل ری عو کو رکوع میں ما اس کے بعد بادآ کہ دہ اس سے پل رگعت 
میں ایک یرہ ما تشد بعو لیا ہے تذ اتے چا ےکہ خاز کے سلام کے بعد اق کی ہنا بر حیرے پا یز 
کی قاکھرے او اس کے بعد دو سرۃ سو بھی جیا لاے- 

ستل.. ۲۴۴ ٠‏ ا رکوتی شخص نماز کے سلام کے بعد سان بوج ھکر سر “و شہ بہجا لاے فو اس نے 
عناہ کا ارجا ب کیا ہے اور اس کے لیے واجب ےکم نس مر جلدی ہو گے بج لاۓے اور اگر وہ ہوا“ 
سیر مو میں با لیا فو نس وقت بھی اسے یاو آے اقا کی جنا بر اسے چا کہ فورا“ یلا اور 
اس کے لیے نماز کا دوبارہ پڑھنا ضروری نئیں- 

لہ ۳۲۵ ٠‏ اگ رکوئی مخس فی فکرےکہ ملا اس بر دو حرۃ سو وادب ہو ہیں با نیس آ 
ان کا ہجالانا اس کے لیے ضروری ٹئیں۔ 

منتلہ ٣۳۴ج‏ 1 رکوئی شس وی کر ےک شلا اس بر دو حرة سو ولنب ہدئے ہیں با چار ‏ 
ا کارو حیرے اداکرنا کائی ہیں 

مل م۷۴ ج آ رکسی مخ سکو علم ہوکہ وو سحیر) سو میں سے ایک حر سو خی مھا لایا اور 
ترارش بھی محکن نہ ہو اسے ہا ےکہ دو سیر)ٗ و جیا لا اور اکر اسے علم ہ وکہ اس نے سوا ین 
یرے کیئے ہیں ذ اعاط واجحب کہ دوپارہ دو کِرة و با لاۓ۔- 


رہ وکا طرلقہ 


تل ۱۴۴۸ ٠‏ سیے) سو کا طریقہ ہہ ےکہ نماز کے سلام کے بعد انین فور سر وک نیت 
کرے اور غال ”سی ای زیر رکھ رے جس بر سج ہکرنا سج ہو اور احوط یہ ہ ےکہ کے 








مّلہ ٠: ۱۲٢۹‏ بسم اثاء و بالله السلام علیگ ایھا النبی و رحمة الله و برکاته 
ا کے پور اے جا کہ رھ جاپئے اور روپارہ چرے میں جائے اور بر لرہ پااا گر زجج اور ڈیہ 
جاے اور تر کے بعر کے السلام علینا و علی عبادالله الصالحین پگ اور األ ےج لہ 


موں سلام ڑھے۔ 


بھونے ہو سیرے اور شر کی خضا 


۸ 


تل9 ۴۵۴ : اکر انان حیرہ اور تشد حول باۓ اور نماز کے بعد ا نکی تضا جا لاۓ و ضردری 
ہے کے وہ ای ۳ شرار رٹ پرن اور یں ٢ا‏ اک ہوا اور روہ 2 ہوت) اورور گی شرائید ری 
کر ہوں۔ 

متلہ ۱۲۵۱ ؛ اگر انا نکی بفعہ سد ,کر بعول جائۓ خلا الیک سحدہ لی رکحت میں سے اور ایک 
دہ دومری رکعت میں سے بھول جائے تر اے چای کہ نماز کے بعر ان دونوں رو ں گی تق ہیا 
لاے اور ساھ جی وہ سیدہ ہا سو با لائئے جو اعقاطا“ ان کے لیے لازم ہیں۔ 

مسنتلہ ٠ ۱٢۲۵۳‏ نر اذان ایک حدہ اور ایک قشمد بعول جا پزذ دو ترتیب کا خیال رت ہو ئے 
دونو ںکو یا لاے۔ 

مل ٢۵۳‏ : گر انان رو رکھوں میں سے دو چرے بجھول جاۓ و اس کے لیے ھردری 
کی ا تضاکرے وت تر تیب سے ھا لاے۔ 

لہ ٠ ٢۵۴‏ گر انان نماز کے سلام اور حیدہ.یا تشم کی قضا کے درسیان کوگی ایا قا مکرے 
نس کے عر] یا سو |کرنے سے نماز پاطل ہو جاتی سے شلا یھ قبل ہکی. طر فکرے تو امقیاط وانب ہے 
الا کیرہ اور ری تنا کے پر روارہ نماز ڑتے۔ 

منتل۔ ۴۵۵ ٠‏ اگ ری مخ سک نماز کے سام کے بعد یاد آن کہ آخری رکعت کا ایگ رہ یا 
تید بعو لیا ہے تو اے اپ ےکہ لوٹ جا اور ما زکو تا مکرے اور بے کل سلام کے للیٹ دو سر 
سو کیا لاۓ٤۔‏ 











توضیالمسائل .....1[. 2808ا 
مستلہ ٠ ٢۵۹‏ مر ایک فص نماز کے سم اور سبرہ یا تشمد کی قضا کے درسیان کوئی ایا کام 
کرے جس کے لیے سر سو واجب ہو جانا ہو شلا بھونے سے کلام کرے فو قاط واج ب کی بنا 
اسے پا جن کہ حیرہ یا نحمد کی قاکرے اور اس سبرہ سو کے علاوہ جو وہ سرے یا تقر د کی تا کے 
گے اداککرے دو اور بر٤‏ سو جیا لائے۔ 

مستلہ ے۵ ٠‏ اگ ری مھ سکو یہ علم نہ ہوکہ نماز ٹس حیدہ بھولا ہے پا تقمد تو اسے چا ےک 
سر ےکی قضاکرے اور دو حر سو جیا لاۓ اور اعقباطا“ تشم کی بھی فضاکھرے۔ 

منتلہے ٠ ۱٢۵۸‏ آ رکی مخ سکو کیک ہۃکہ محبدہیا تقد بھولا ہے ما نیں فو اس کے لیے ا نکی 
تنا کرنا یا حر سو اراکرنا واجب میں ے۔ 

متلہ ٢۵۹‏ ؟: نگ ری مخ س کو عم ہوکہ سجدہ یا تقمد بعو لگیا ہے اود خح کفکرےکمہ بع دی 
رکعت کے دکوںع سے پیل اسے میا مایا ہے یا نمیں تر اسے جات ےکہ اعقیاط واجب کی بنا بر اس کی تا 
2-220 

ہل *٭اوا: جس مخص کے لیے حدہ ما تشد کی قفا اجب ہو ار می دوسری چڑکی وج ے 
سرۂ سو بھی ابں پر واجب ہو جائۓے فو اسے پا ےکہ نما اراکرنے کے بعد سمرہ یا تقد کی قضاکھرے 
اور ال کے بعد کبر؟ کو بھالا٤۔‏ 

متلہ ٠ ۱٢۷٣‏ اگ رکی ھن سکو تک ہوکہ نماز پڑ ھن کے بعد بھولے ہوئے سیرے با تشر کی قتذا 
با لیا ہے ا نمیں اور نماز کا وقت نگگزرا ہو قے اسے چا کہ حیدہ یا تقی کی قذاکرے اور اکر نما ز کا 
وق گز رگیا ہو فا ںکی قغا مب ے۔ 


مز کے اہجزاء اور شراز کوکم یا زیادہکرنا 


مل ٣۳ا‏ جب نماز کے وایضیات میں سےکوکی یجان وچ ھک رکم با زیادہ کی جائے تو ہواو وہ 
ایک ھرف ام یکوں نہ ہو نماز اٹل ہو جاتی ہے 











توضیع‌المسائل ٰ )ا جہ8د] 


مل ص۳۷۳۰ ٠‏ آئ رکوئی خفصس متلہ نہ جال کی وجہ س کو تہ یکرت ہوئے نماز کے واضہات مس 
س ےکوئی چک ما زیو دکرے تو ا کی نما ال ہے لین اکر معلہ نہ جانٹۓ کی وجہ سے مج اور مطرب 
اور عشاء کی نمازوں میں مھ اور سور) آہستد پٹ ھے یا خمراور عصرکی نمازوں یس مھ اور سور) پلند آواز 
سے پ جھے پا سفرمیں خہ: عصراور عشاکی نمازو ںکی چار جار ری سے و ا کی نماز یچ ے۔ 
مستلہ ۱۳۷۴ ۰ ال نماز کے دوران می ں کی شن کی مھ میں ہہ بات آئ ےکہ اس کا وضو پا قسل 
ٹل تھا یا وضو پا تسل سی ابر نماز پڑ جن نک گیا ہے تر اسے چا ۓکہ نماز قڑ رے اور روپارہ وضو یا 
تسل کے ساقہ پڑھھ اور کر ا لکی مج مس ىہ بات نماز کے بعد آئے تو اسے چا ےکہ وضو پا قل 
کے ساتھ ددبارہ نماز پڑھے اور گر نماز کا وق تگز رمیا ہو تو ا کی قضامرے۔ 

مستلہر ۴۹۵ ۰ اگ رککی من کو رکوئں میں کے کے بعد باد آئ کہ چنچٹروالی رکعت کے دو 
سیرے بھو لگیا ہے ت ا سک نماز باٹل ہے اور اکر بیہ بات اسے رکوع مس کن سے پطہ یا آئے ت7 
اسے چا کہ وابیں مڑے اور دو سیرے بھا لئے اور پچ رکھڑا ہو جائۓ اور مر اور سورہ یا نسبحات 
پڑھے اور نما زکو تا مکرے اور نماز کے بعد اعیاط واج بک بنا بر بے گل قیام کے لیے دو سیر کو جیا 
لاۓ۔ ۱ 

متلہ ۱۲۹۴ ٠‏ اگ ریخ سکو السلام عمینا کے سے پل بادآ ےکہ دہ آخری رکعت کے 
دو سیرے ھا نمی لایا تر اسے چا ےکہ دو یرے ہیالاے اور دوبارہ تشد اور سلام پڑے۔ 

تہ ے۹٢ ٠‏ اگ ر کی مخ س کو نماز کے سام وادب سے پل بادآ ےکہ اس نے نماز کے 
آغری جھےکی ایک یا لیک سے زیادہ رس نی پڑیں ہیں نز اسے جا کہ جقنا حصہ بحو ل کیا ہو 
اے :با لاۓ۔ 

مستلہ ۴۹۸ : اگ ری خ سک ماز کے سلام کے بعد یاد آ کہ اس نے نماز کے آخری جے 
کی ایک یا الیک سے زیاوہ رمصیں میں پڑھیں اور اس سے ایا فنل بھی سر زد ہو چکاہ وکہ آگر وو نماز 
میس مر با سو ہے “کیا جائے ق نما زکو پاط لکر دبتا ہو (عھلًا اس نے قبل کی طرف بی ھکی ہو) تو ا سکی 
نماز باطل ہے اور نر اس نےکوئی ایا ٹل نکیا ہو نس کا عر) یا سو اکر نما زکو با کرت ہو بے اے 





2 5 
توضیحالمسائل : : 22 . 


چا ےک جتنا حصہ پڑھنا بحو لگیا ہو اسے فور جا لاے اور زاتد سلام کے لیت دو سیر کو لواکرے۔ 
مستلہ ۱۳۷۹ ٠‏ ج بکوئی مخصس نزاز کے سلام کے بعد ایک ایا ننل انجام رے جو کر نماز کک 
دوران می کیا جائۓ فو نما زکو پاف ل کر دا ہو (شلا ٹہ قبلہ کی مر فکرے) لوں بعد میں اسے پاو آئے 
کہ وہ وو آنخری سیرے با خھیں لیا ق اس کی نماز اٹل سے اور اکر نما ز کو اف کرنے والا کوئی ٹمل 
نے ری پل اھ بی بات بار فا وت ا اکرنا مو ل گیا سے انیس ہھا لاخ 


لت لے عو ر2 
اور دوبارو شد اور سلام پڑھے اور تو سلام ف1 ھا ہو اس . سے دو سید و ھا لاۓ۔ 


مستلہ ہے٢‏ اگ ری حخ سک ند چ کہ اس نے نماز دیت سے لہ بڑھ کل ہے ىا قب کی 
طرف بی کر کے بھی ہے و اسے چا ےکہ دد بارہ بڑھھ جھے اور اگمر وق ںگمز رگیا ہو قو تنا گکرے لیکن اھر 
اسے پہ پت کہ اس نے نماز قبلہ کے وشمیں طرف یا پگمیں طرف م کر کے بھی ہے ےار یہ عم 
سے نماز کا وق گزرنے سے پل ہو قز دوبارہ بس اور اکر وق تیگزرنے کے بعد پعد ےق بحیر نہیں 
ہب کہ ا سک نماز قفا نہ ہو زاس صورت کےکہ بہ گل عم شی سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے 


1ے 
مسافری ناز 
ماف کو چا کہ ظر محصراور عشاکی نماز آشھھ مرمیں ہوتے ہو ۓ قسرجھا لائے شی وو رگست 
؛ڑے۔ 
لی شر ےکی ال از ان فرع شری ےکم نہ ہو اود فرع شرئی ساڑھے پا کیہ میٹر ے 
سو سر ات اھ فرغ شری کے تقیا ۲۸ کل نے ہیں )شی 
یالس (۴۴) کو میٹراور دو صو ےس 


تہ اے ٢ای‏ جس مس کے جانے اور وایں آنے کی مسافت اکر آنٹھ فرح ہو اور جانے کی 
مسافت اور ای طرح واپ قکی مصسافت چار فرح ےکم نہ ہو اسے جا کہ نماز فص کر کے ہے پٹ اس 
باب آکر جانے کی سافت جن فرع در وائڑی کی پا فی یا اس کے برگس ہو قے اسے چا کہ نماز 





توضیحالمسائل__ )| 83ھ ا 


پدی شی چارر 2 بڑے۔ 

مل سے٢ ٠‏ ار رپ جانے اور واہیں آن ےکی صافت آٹھ فرع اور دس دن سے پل پیا 
واپیں یٹ آئے اسے جا ےکہ نماز تع رکر کے بڑھے۔ 

منیلہ ٠:۳۸۳‏ امر ایک مخنفرسف ٹہ فرح ےکم ہو یا انا نکو علم نہ ہوکہ اس کاسفرآشھ فرع 
سے با میں نز اے نماز قع کر کے خمیں پڑھنی چاینے اور آگر فج ککرےکہ اس کاسف نہ فرح ہے یا 
میں و وس کے لیے تحقی نکرنا ضردری خوس اور چا ٹ ےکہ بوری نماز پڑے۔ 

لہ ہے ٢ا‏ : ار ایک عاول یا بل اعار شخصس با ےک کی عنص کا سفرآشھھ فرع ہے و اس 
شن کو چا کہ ماز نف رکرکے بڑھھے۔ 

مل ھد ے٢‏ : مر ایک ای مخس جے نین ہوکہ اس کا سفرآخجھ فرح ہے نماز تع رکر کے بڑ ھھے 
اور بعد میں ےپ چ کہ آلھ فرع نہ تھا نز اسے چا کہ نماز اد ر تی عجالاۓ اور اکر وق تگزر 
یا ہو ا سک تقاکرے۔ 

متلہ ےب جس من س کو نین ہوکلہ اس کاسفرآشھھ فرع نمیں باتک ہوکہ آٹھ رق سے با 
نہیں اور راسنن میں اسے معلوم ہو جا کہ آٹھ فرح تھا نز تھوڑا سا سفرباقی ہو اسے چا ےکہ نماز تھر 
کر کے بڑھھے اور اکر پوری نما بڑھ چا ہو ٹز دوبارہ تھ رکر کے پڑھے۔ 

ملّلہ ےے٢‏ : اکر رو چگھوں کا ررمیالی ناصلہ چار 272 ےکم ہو او رکوئی نس کئی وف ان کے 
درمیان آۓ جائے نز خواہ ان قرام مسافوں کا ناصلہ مل اکر آھ فر بھی ہو جائۓ اسے نماز ری بڑھنی 
جاجۓ۔ 

مستلہ ے٢ ٠‏ اگ رکی تہ جانے کے دو رات ہوں اور ان میں سے ایک راستہ آھھ فرع سے 
"کم اور دوسرا آشھ فر ما اس سے زیادہ ہو فو اکر انسان وہاں اس راتے سے جائے جو آٹھ فرح سے و 
ا سے چچای ےک نماز قع کر کے پڑھے اور مر اس راس سے جاے جو آھ فرح نمیں ہے او اسے چاجے 


کہ پری نماز بڑھے۔ 


مہ چے ٠ ۱٢‏ اگ ش رک اردکرد دبار ہو اما نکو چا نےکہ آلٹھ ف کی ابتداکاصاب شرکی ےہ 





توضیم‌المسائل 7 یا 


ریبار سے کرے اور مر شع رکی دیوار نہ ہو نو اس ےکہ آٹھ فر کا اب اس کے آ فر یگھریں سے 
روب 


دوسرکی شرط ؟ ہہ ےکہ سافراپنے سفرکی ابتا سے بی آٹھ فرح سلےکرننے کا اراوہ رکتا ہو ایا 
کر وہ اس تمہ تک کا سفرکرے جو آٹھ فرح ےکم ہو اور واں کن کے بعد سی ای مہ جانے کا 
اراوہدکھرے بس کا فاصلہ ‏ ےکر رہ ڈاصلے سے ملا کر آٹ یر فرع ہو جا ہو قوج وکمہ دہ شرومع سے آ ھ فرم 
جےکرنے کا ارادہ شمیں رکتا تھا اس لیے چا کہ پوری نماز پ سے لیکن آگر وہ وہاں سے آٹھ فرع 
آگے جانے کا اراو ھکرے یا تار فرع جانا چاہتا ہو اور پھر ار فرح ٹ ےکر کے اپنے دن یا ای مہ وائیں 
آنا چاہتا ہو جماں اس کا ارارہ وس دن تھرنے کا ہو تو اسے پا ےکہ نماز تع کر کے بڑھے۔ 

منلہ ٠ ٢۸۴‏ جس مخ سو یہ عم نہ ہورکہ اس کا سفرکتے فرخ کا ہے (ض اکس ی مد منص یا 
یکو ڈھویڑنے کے لیے سفرکر ربا ہھ اور نہ جاہنا ہوکہ اسے پا لین کے لیے اسےکہاں کک مجنا پڑے گا) 
اسے چاب نےکہ پوری نماز بڑھے۔ لیکن اکر وائھی پر اس کے وطن کک کا یا اس مہ تک کا فاصلہ ہماں 
وہ دی رن قا مکرن چاتا ہو آٹھ فر یا اس سے زیادد غن ہو تر اسے چا ےک نماز تھ رک کے بڑھھے۔ 
عزید براں مر وہ سفریہ جانے کے دوران میس اراد کر ےکہ دہ چا فر کی مصافت جاتے ہوئے اور چار 
فر کی مسافت وائیں آتے ہوئے ٹ ےکرے گا و اسے ہابت کہ نماز فع رکر کے بڑھے۔ 


مہ ۷۸۱ ٠‏ سافرکو نماز قص رکر کے اس صورت میں بڑعنی چا کہ جب اس کا آٹھ فرع لے 
کرنے کا پت ارارہ ہو لیا ا رکوئی شف شر سے باہرجا را ہو اور مال کے طور بر اس کا ارادہ ہے ہ وکہ 
آ رکوئی سای مل کیا آظھھ فرع کے سفربر چلا جاؤں گا اور اسے اظمیزان ہ وکہ سای مل جائے گ7 
اسے نماز تص کر کے پوھی چاے اور گر اسے اس پارے می اشمینان نہ ہو تو انس چان کہ پودی نماز 
و می 


متلہ ٠ ۱٢۸۳۲‏ جو مخنس ہہ فر سٹرکرتے کا ارارہ رگتا ہو وہ آگرچہ پرروز تھوڑی متقدار مِں 
ناصلہ ‏ ےکرے لیکن جب وہ اڑی جلہ کیچ جائے جماں اپنے ش رکی اذان نہ من سنہ اور ایل شمراے د 
دک عکیں اور ال شمر کے اسے نہ دیکھے کی علاصت ہہ ہ ےکہ وہ خود ال ش رکو .دک اسے چا ےک 
وہ ماز قصرپ! ھھے لیکن اگر وہ پر روز اتی تھوڑی مقدار میں راستہ لٹ کر کہ خموما لوگ ہے شہکھی یک 





توضیچالمسائل___ ا حقھد] 


یہ مسافر ہے و اسے چا کہ ری نما پڑھم اور اعقاط جب ہہ ہ ےکہ ٹماز قع رکر کے بھی پ ھے اور 
ری گی ڑے۔ 

مہ ۲۸۳ : ج نس سف میں کی دوسرے کے انقیار می ہو (شلا نوکر جھ اپنے آتا کے مات 
سف کر رہاہو) گر اسے علم ہوکہ اس کاسف رھ فرع کا ہے و اسے اہ ےکہ نماز تع مک کے پڑھے اور 
آلر اسے علم نہ ہو نز پری نماز پڑھھ اور اس یارے میں بنا ضروری نہیں۔ 

مستلیہ ۱۳۸۳ ۰ جو ہنس سفرمیں کی دومرے کے انقیار عمش ہو آگر وہ چانتا ہو یالمگمان رکتا ہوک 
جار فرن تک کے سے پل اس سے جدا ہو جائے گا اسے جا ےکہ بوری نماز ڑے۔ 

مل ۵ جو حفصس سفری کسی دوسرے کے انقیار یش ہو آلر اسے لک ہوکہ آیا چار فرٗ 
تک کیچ سے لہ اس سے جدا ہو جائے گا یا نہیں تو اسے جا ے کہ پوری نماز یو ھھے لیکن ار اے 
تک اس وجہ سے پیا ہوا ہ وکہ اسے اشال ہوکہ اس کے سفرمی ںکوئی رکاوٹ پیرا ہو جا ے گی اور اس 
کال لوکو ںکی انرم درست نہ ہو نو اسے چا کہ نماز قھ رکر کے پڑھے۔ 

تیسری شرط : یہ ہےکہ راسحتے می مسافر اپنے ارارے سے رنہ جائے بی گر وہ پچار فر تک 
کے سے پیل اپا ارارہ پرلی رے یا ا کا اراوو زلرںل ہو جاۓ تو اے چا کہ ری از ڑھے۔ 
مستلہ ۱۲۸۷ : ا رکوئی نس چار فرع تک کن کے بعد سفر تر کک دمے اور والپیں جانے کا پخن 
راد کر نے ا اسے چاہپ کہ نماز تع کر کے پڑھھ اکر چہ وہ اس ہہ دس دن س ےکم حرت کے لیے دی 
نہ رہنا چاہتا ہو- 

متلہ ے۴۸ ۰ ال رکوئی مخ س کی ابی جمہ جائنے کے لیے جھ آلھ فرح دور ہو سفر شی عکر کے 
اور پھ راستہ سے کرنے کے بع کسی اور لہ جانا چاہے اور نس بی خچمہ سے اس نے سفر روغ کیا 
ہے وا سے اس تہ تک ہیں وہ اب جانا چاہتا ہے آھ فر نے ہوں نو اسے چا کہ نماز قع کر 
کے ڑے۔ 

متلہ ۷۸۸ ۰ مر چار فر جانے کے بعد ساف رکا ارارہ عتزلزل ہو جا ےکہ آیا ٹہ فرخ میں 
سعہ جو سافت بای ہے دہ یٹ ےکرے باکسی تہ دس دن ٹھمرے بفی راپ گع کو وائیں چلا جاے تو تس 











توضیمالمسائل ا 856 ری 


وت وہ تر رکی عالت میں ہ وھکہ آیا آگے خرکرے ما حہکمرے اس چا کہ فا قصرکر ک ہو 
شواع اس کے بعد وہ پقت ارادہ ب یکیوں نکر لےکہ بقیہ “ن رکرے گا یا وائیں لوٹ جائۓ گا 
مسنلہ ۴۸۹ ٠‏ نگ رکوئ یخس چار فرع ٹل ےکرنے کے بعد جذبذزب میں بڑھ جات کہ آٹھ فر 
یس سے باقی ماندہ عفر یکرے پا اہ ےگدرلوٹ جائے نان ال اس بات کا+ وک جس بجمہ دہ تذبذب 
میں ملا ہوا ہے ول کسی اور کہ دس دن قا مکرے گا اور بعد میس پان راو کر کہ دی دن تام 
کیئے لغیباتی ماندہ راستہ ہےکرے گا تو اس صورت میں لازم ہ ےکہ وی نماز بڑھے خوفھ تردرکی عاات 
میں سفرکرے با ہکرے مین لگ اس کا حم ارادہ یہ ہو کہ آھہ فرح اود آگے جائے گانا جار فرح 
تک جائے گا اور ار فرح وائبی بر ٹ ےکرے گا تو ٹس وفت دہ روانہ ہوگا اس وقت سے اس کی نماز تمرم 
یت 
مستلہ ۳۹۰ : مر چار فرم ےکرنے سے لہ سافر جذذب میں پاہ جا ےک بقیہ مفرٹٹل 
کرے یا خی اور بعد میں صمعم اراد ہکر نے بائی ماندہ راستہ ئ کر لے گا اور اس کی بات باندہ ات 
آٹھ فرع ہو یا چا ےکہ چار فرع جائۓ اور پھر چار فر وائیں آے ت سعم اراد ہکرنے کے بعد شی 
وقت سے راسعد لٹ ےکرنا شرو عمرے نماز تعکر سے پڑھ اور ال صورت میں ال بات سے مجییکوگی 
فرق نہیں پماکہ دہ تذیز بکی عالت میں سفرکرے یا نہ کھرے۔ 
چوھی شر :. ہے ہےکہ ساف مر آٹھ فرم تک کننے سے پل اپے وطن میں ےگزرنے بای 
لت کت آنٹھ فرح نک بے 
سے لہ اپنے ون سےگزرے یا دی دن کسی مہ بر رہے اسے جا کہ بری نماز بڑھے۔ 
مستلہ ۷۱ ضس مخ سکوبہ علم نہ ہوکہ آطھھ فرع کک بن سے لہ نپنے دطن ےگ زرس: گا 
ا نم یاصسی کہ و دن ٹھرنے کاقم دکرے گا یا یں اسے چا ہ کہ پاری نماز چھے۔ 
مستلہ ۹۲٭٢ ٠‏ جو مخس الہ فرم تک نے سے پللہ اپنے وٹین رر نا چاہتا ہو یی تہ درس 
ون نا اتا نو اور زو نس بھی جن نوفن س نے نا فی نہ دق نوع نٹ کے پر ےا 
تذزذب ہو لگمر وہ دیں د نکہیں رجے ما وطن سےگزرنے کا اراوہ تک ػن کر وے تب تھی اس 





توضیں‌السائل یو جا 


چا ےکہ ری ماز ڑھھے گن آگر باقی اعدہ راستہ آنٹھ فرح ہو یا تار فر ہو اور وہ جا اور وائیں آنا 
چاہتا ہو اور وائی کا راستد بھی چار فرع ہو تو اسے چا چ کہ نماز نھ رکر کے پڑھے۔ 

با یں رط ڈ ہہ ہےکہ سافم تام کم کے لیے مخرنہکرے اور اکر عرام کام خلا چو رب یکرنے 
کے لیے سفرکرے تو اسے چا کہ نماز پودی پڑھ اور گر خود رق ام ہو لا کہ اس سفریں 
اس کے لی ےکوی ایا ضر مضم ہو ج س کی جانب بی قد ی شرعا تام ہو یا عورت شوہ رکی اجازت کے 
بی (جیکہ اس عور تک وکما جات کہ شوہ رکی نافریان ہے۔ا ذد فرذند مال پاپ کے مع کرنے کے پاودوو 
(د بکھا جا ےکہ دہ نافران ہے) اھ سفریر جاھیں جو ان بر واجب نہ ہو ق اس کے لیے بھی بی عم 
ہے (انی ساف کو چا نے کہ بوری نماز بڑھھے) لیکن اکر مرج کے سف رکی طرح واہجب ہو تر نماز تع کر 
کے انی جاے۔ 

مل ٢۹۳‏ : جو سفرواجب نہ ہو اکر وہ والدی نکی ازیت کا موجب ہو فز حرام ہے اور انسا ن کو 
ا کہ اں سفرمش پرری نماز سے اور روزہ بھی رک (شی مر رمضیان ایارک کا می ہو تر 
زوڑڑے کی رک 


مل ۲۹۷ : شر نس کا سفرمرام نہ ہو اور دو کسی عرام کم کے لیے بھی سفرن کر رہا ہو دہ 
امرچہ سفر میں گناہ بھی کرے ملا بت کرے ما شراب پے تب بھی اسے چا ے کہ نماز تع رکر کے 
بڑھے۔ 


مستلہ ۲۹۵ ٠‏ اگ رہکوئی شس کی راجب کا مکو تر کگکرنے کے لیے سفرکرے فو خواہ سفرمیں اس 
کی کوٹی دوسری خرش ہو نہ ہو اسے پوری نماز یھی چایے لیس جو شس مقروض ہو ار وہ اپنا قرضہ اوا 
کر متا ہو اور قرض خواء عطالہ. بھ یکرے فو آگمر وو مفرکرتے ہوئے اپنا قرضہ اوا نکر کے اور قرض 
دسینے سے فرار عاصل کرنے کے لیے سفرافقیا رکرے تو اسے چا ےکہ بوری نماز بس لین اگر اس کا 
مر سی او رکام کے لیے ہو از اگکرچہ وہ سفرہیں ترک واجب کا مرگگب بھی ہو اسے پا ےکہ نماز تھ کر 
ور 


سنہ ۲۹۷ ٠‏ ام رنضی نس کاسٹرعرام نہ ہو لن اس کا سواری کا جانور یا سوار یک یکوئی ادر چچز 








توضیح‌المسائل ...288.1 


ٹس پر وو سوار ہو غصبی ہو ما وہ غصبی زشن بر سخ ر کہ رجا ہو پر اسے پا ن کہ نماز تھ رکر کے 
ا کی 


مل ے۹٢۱ ٠‏ جو مخ س کی نلم کے ساتقھ سف کر رہ جو اکر وہ جبور ہو اور اس کا سفرکرنا ظائم فی 
دو کا موجب ہو ق اسے چا کہ پوری نار بے اور ار مجبور ہو یا یل کے طور ری مظاوم و 
چڑررے کے لیے اس لالم کے ساچھ سفرکرے تو اس ںکی نماز رہ گی۔ 

مل ۲۹۸ : ؟. اگ رکوئی مخ سرد تر عکی خاطرمف کرے تو ای کاسف ردام خمیں ہے اور ات 
اہ ےکہ نماز فد کر کے بڑھے۔ 

مستلہ ۲۹8۹ : اگ رکوئی نس کھیل تائے اور خوش وق تگزارنے کے لیے کا رکو جا ق اس کی 
مماز جاتے وت ری ہے اور واببی پر گر اف ت کی عد برق ہو تو تم سے اور مر تمول معاش ! 5 
خاطرا رک جاے نز ا کی نماز قصر سے اور لگ رکمائی اور افزائش دوات کے لے جا او اس کے یذ 
بھی بی عم ہے 

مستلہ ٭٭۳ ۰أ رکوئی مخ سکوئ یناہ کا مکرنے کے لیے سفرکرے۔ مخرسے ولبہی کے وقت 
ا سکی دای کا سفرآٹھ فرع ہو و اسے چا کہ قع رکر کے پڑھ اور ای مب یہ کہ آمر 
اس نے قوبہ نکی ہو قز نماز قع کر کے بھی پڑت اور بوری بھی بڑھے۔ 

مستلہ ۸٭ ۳ ؛ جس شس کا سفرکزاہ کا سفرہو (نشنی ا ںکی ضای تکوئی تاجن کا مکرنا ہو اکر وو سر 
کے ووران می ں گناہ کا ارارہ تر ک کر دے اور اس کی بائی باندہ صافت آٹھ فرح ہس ما جار فر ہو اور وو * 
چار فرخ جکر بقرر ار فرع کا فاصلہ لوف ہوے نٹ ھےکرنا چاہتا ہو قز اے نماز قعررار کے بعفی جہن 
متلہ ۳٣۳۴‏ ؛ جس مخس ن گن وکی خرض سے سفرنہ کیا ہو اکر وہ رات میں س کر ےک" اتب 
راسنہ گناو کے لیے لےکرے گا اسے چا ےکہ نماز پور ی بڑھ اہتہ اس نے جو نمازیں ھکر کہ 
ڑشی ہوں اگمر و وگزشد ساقت کی عقدار کے مطابق ہوں ڈلتنی جماں اس نے ارادہ پرلا سنہ وہال گلہ. 
آٹھ فرح پرے ہو گے ہوں) کچ ہیں ورنہ اقیاط واجب ہے جےکہ ان نمازوں کو ددیارہ پڑھے۔ 


کی شر ڈ ہہ سےکہ سافران ععرا نشینوں میں سے نہ ہو جو بیاپانوں بر گھوت رہئے ہیں او 














نوسیچالمسائلِ [یجِي ] 





ہاں ین نوو سن اور ات نوانات 2 ہے پل نوز تر ریت ؤں ہال لن جائے ہیں او 
دنوں نے بعد دوری تہ لہ جاتے ہیں صحرا نشینو ںکو ان مسافرتوں میں ہو ری مماز ہنی چان 





بر اہ طخ کرنے کے 





منیل۔ ص۳٭۲0۷۳ ؛ آئ رکوتی صعما فیس جائۓے تام اور ان حوانات نے لے 
نکچ مز اور ا ہاب اور ساٴزو ہلان اں یگ راہ ہو وو ری نماز بڑھھے ور ا ای ا ھ رھ 
مماز قع مکر کے پا مے۔ 





ستیل.. 0۳۰*۰۸۴ ٠گ‏ رکوی را نقین زیارت ماج یا جا 
سارکر .جآ اسے چا ےک از مر ڑے۔ 





انی شریط ٠‏ بے می اس مخ کا پیشہ سفرنہ جو ہنا ساربان' گلہ بان' ذدائور و خاع وٹیو 
چا کہ فواو دہ اپنے گعہ کا سان نے جانے کے لیے سفرکر دہ ہو نماز یودتی بڑت اور جس مس کا 
پا 0ه“ شس بھی مق ہو جانا ہے (لشنی اس کے لیے بھی دہی خم ہج جو اس شنس 
ھت ہی وہ ہی جو) و سی ددسری جاہ بے کا مک را ہو نین رتو ں کی قال ار مفدار شْل 


اپ ینہ ٹیس دی دن ما زیادہ وہای تک سف رکر کے لوٹ اہر خلاوہ مس نم کی ربانش ایک جلہ ہو 
او رام (تبارت او ر معلبی وی رن) دوسری مل ہکرہوں 


سا ۵٣ک‏ میس شس کا شفل سف رک ہو ار ووککسی دوسر ے مقر ملا زیارت ا ا کے 
لین مف افطا رکرے آ اس پا کہ ماز قع کر کے سے لین اکر نال کے طور پ ذداتو ر ابی موٹر 


ا کر : 7 1 : 
گاڑی زبارت نے کے لرالے ی لا اور ای لے میں تور بھی زا ہی نے 





اوری ناز بڑتھی۔ 
ہی کان 


7 


۳٣۷‏ باریر دار نی وہ مخ جو عاتیو ںکو کہ پہجانے کے لیے سف کرت ہو آئر اس کا 
نکر ہو قو اس پان لہ بودی نماز بڑھھ اور آگر اس کا شفل سفرکرن نہ ہو اور صرف رج کے 


7 می باربردارہی کے لیے سف کر ہو تو اس کے لیے اعقیاط واجب ہہ کہ نماڑ موی بڑڑتھ۔ 


یہ ٣۶٤,‏ ضس تس کا پ0 پاربرراری ہو اور وہ وور وراز مقلفات .ےت عاتیوں کر لہ نے 
با جواگروں سال 0 ا و کا رتا ہو ڑ اے ری نماز پش چاتت۔ 








7٦ 


توضیحالمسائل ).390ا 


مل |۸۷٭۱۳ 2 جس خصس کا شف سال کے بھہ جحہ میں سف رکرنا ہو شال ایک ڈرائیور جو صرف 
گمرمیوں یا سردیوں کے دنوں میں اپنی مور گاڑ یکرائئے پر چلانا ہو اسے جات ےکہ اس سفرمیں نماز بوری 
بانکنت 


مہ 0۳٣۹۹‏ ڈراتیور او رھوم پچ رک رکا مکرنے والا شخصس جو مر کے قس پا دو خین فر مل 
7آ ا +ۃ گر وۂ لاق“ آٹٹھ فر کے مر چلا جائے تق اسے چا ےکہ نماز تھریہے۔ 

مستلہ ۱۳۷۶ ٠‏ چماردارار (دہ سوداگر جو چیا پر سودا ما کر جیا ہےے) نس کا پش ىی صافرت سے 
مر یس دن ا اس سے زیادہ عرصہ اپنے دن میں رہ جائے ق خواہ دہ ابتداء سے دی دن رچے کا ارارہ 
رتا ہو یا بفیم ازارے کے اتے دن رہے اسے باج کہ دس دن کے بعد جب پل سفربر جا نے آ نماز 
قھ کر کے پت اور اکر اپ ون کے علادہ سی دوسری تہ ہے کا قص ہگ کے دی دن وہاں مم 
رہے تو اس کے لیے بھی ىیی عم ہے۔ 


مل ۳۷ : چناروارار کے علاوہ جس منص کا شفل سغرہو مر وہ اپنے وطن کے علاد کسی اور 
کہ رس دن کے تصد سے رہے پا اپنے وعلن میس ہی دں دن رہ فواہ ایاکرنا اغیر قصد کے بی کیوں دہ 
بد و دیس دن کے بعد جب وہ پا فرکرے تو اسے جا کہ ری نماز پھے۔ 

مل ۳۳ : چارواوار نس کا شفل سفرہو آر دو ح فکر ےک دہ اپنے ون میں یاکسی دوسری 
کہ دس دن رہا ہے با غنی و اسے اي ےکہ بری نماز پڑھے۔ 

متلہ ۳٣۳‏ : جو میں شرب شر ص تکرب ہو اور نس نے اپنے لیے کوئی وللن مشن ش 

ہوا ہو اے 8 

مستل. ۳۷۴ج جس منص کاشفل سن کرمانہ ہو اکر لا و کسی شمریا گاؤوں می سکوئی سامان رکتا ہو 
اور اے اٹھانے کے لیے اے بے در پے سفرکرناپومیں تو اسے چا ےکہ نما تص کر کے بدھھ۔ 
متلہ ٠ ۱۳۷٣۵‏ جو مخصس انا پسلا وطلن پچھو ڑکر ددسرا وین انتا چاہتا ہو آگھر اس کا شفل سخرنہ ہو تز 
سفرکی عالت میس اسے نماز قص رکر کے بڑجنی چاجے۔ 





ارس لھا سے محتصبییت سس لالنتااتتا 
آٹھوس شر ڈ کہ سافرعد ‏ خص تک تا و 
َ ور 7 ان ھ پت گے علاوے رس مر میں بت اور جوش یکوئی مس لی ملکوخت نک متام تس 
گا ۴ ا کی نماز قمرہوگی۔ 





مہ ۳۲۴ ٠‏ آ رککی ہنس خربیں ہو اور ۲ وھوھ۳ھ+" شم کی نزان تر 
ایل ش رک ریہ ا ایل ش کو :. دک اور ازان کی آواز می کے تو اگمر وم اس تو نماز بنا چات لّ 





اعقیام وا بک بنا ی اسے پا کہ تھراور ری نماز روٹوں ڑے۔ 
مل ے۳۱ : جو مسافر اپ 2 نوعلم یکو وائیں آر و وہ جب ائۓے ال ا ا اش جے اوروگن 


ازان گل آرار سے اسے جاک نماز ودک پٹ سے مان جو سافرشی بے کک علاد تی اور تا ںی بن 
ھن پابتا ہو وہ جب تک اآں ا نک از قتمرجے۔ 


مکلہد ٠۰ ۱۳٣۱۸‏ نکر شمراتی بندی پر واقع ہو کہ وہاں کے رٹے وانے لوگ دور سے ولا دی ا 
اں ترر قیب یں واقع ہوک کر انبان تھوڑا سا دور بھی جاتے نو وہاں کے لوگو ں کو ن. دہ لہ تو ای 
شر کے رب والوں میں سے جو تلم س سفریں ہو جب وہ اتا رور چلا چاۓ کہ گر وو شمر ار زین 
(و ا بای کے اوک ایس پل ےرک ریا جا جک نو اسے چا کہ مار وو گ7 رک کے پڑھے اورای طرم 
گر راج ٴ لی بلندبی ما تی ممموںل ے زیادہ ہو اسے چا ےکلہ معمول کا انا نو 


مل ۱۳۱۹ ےآ رکولی ٹس ای کہ سے صف کے جما ںکوئی نہ رتا ہو و جب 





کہ کر تو اپ مقام (لشنی سفر شرو حکرنے کے مقام) بے دبا ہو 3 وہیں سے نظھر٢‏ 
مار فص کر کے مے بائ۔ 

سمل ۳۲۰۶ا : رر مسافر ا وور گل جا نہ اے ے پچ نہ سی جر آراز وو کی ربا دہ 
ازان گی آواز ےے باکوگی اور آواز ے و اے چا لہ از ق رر کے بڑ سے این اکر ہہ پت کہ 
آواز انان کی تی ےلکن ازان کے کرات مھ میں شہ آیں تو پودی نماز یڑھنس جاجت۔ 

مکل ٠ ۳۳۲١‏ مر سافرائسی مگ جج جا ےکہ ش ری دہ مزان جھ تمہ ] باند مج ہ ےکی جاکی ہے 
ض ىی پان نان وہ نزان جو بھت بلند مہ ےکی جاتی ہو سن لے و اس جار ہے کہ نماز شش رکر کے 





کے 


متتلہ2 ۱۳۲۳ ٠‏ گر سافرکی توت باصرد یا قیت سامعہ یا اذا ن کی آواز غیبر مصعموٹی ہو نو ا سے ااس 
معقام بر مک کر نماز قھرکر کے بھی چاینے جماں سے موسط قیت کی آکھ ابل ش رکو نہ دکچھ کے اور 
موب قوت کے کان ازان کی آواز نہ من گیں۔ 

مستلہ ۱۳۲۳ ۰ گر مساف کو سفرکے دوران میں کسی معقام بر شک ہوکہ عد تزضص کک نیا ہے 
ا میں تقر اسے چا ےکہ پوری نماز پو سے اور اکر اس ماف مرکو جو سر سے لوٹ رپا ہو کک ہو کہ عجد 
تزخص تک پیا ہے ما نیس تو اسے چا ےکہ مز تع رک کے پدےں ‏ 

مہ ۳٢۲۴۳‏ : .٭ جو سافر سفر کے دوران اپنے ون سے گزر را ہو وہ جب اڑی ججہ سنج جا 
سے وم لے نے ایل وط کو دک نے اور ون کی از ا نکی آواز ین نے و اس چان کہ باری نماز پڑتے۔ 
مل ۱۳۳۲۵ : جو ضافر انی مسافرت کے ووران مس اپنے ون گج جاۓے اسے چا کہ جب 
تک وہاں رہ پودی نماز پڑھے مجن اکر وہ امہ داں سے آخھ فرع کے فاصلہ پر چلا جائے یا چار 
فرم جا اور پھر چار فرح ےکر کے لوٹے قو نس وقت دہ عد تر ضس پر یچ اسے پا کہ نماز نھر 
کر کے پڑھے۔ 

مسللہ ٠ ۱۳۳٣۷‏ جس تک کو انان نے انی سونت اور زنگی ھکر نے کے لیے خق بکیا ہو دو اس 
کا وشن ہے خواہ دہ وہل پدا ہوا ہو اور اس کے میں با کا ون ہو یا اس نے خود اس تا کو زندگی بر 
کرنے کے لیے افقیا رکیا ہو۔ 

مل ۲۲۰۵ ٍِ ا رکوئی خُس ارارہ رکتا تا ہ وکہ کچھ ددرت ایک اڑسی تہ رہ جو اس کا وٹ 
یس ہے اور بعد می ں٠‏ بی اور کہ چلا جائے و وہ اس کا ون تضور نہیں ہوا 

مستلہ ۱۳۲۸ ۰ گر انا نکی شک انی زی ھ رکرنے کامقام تماد دنے مور ول اس طرحع 
زندگی بر کر ہو جس طر حکوئی ایا شففصس جس کا ٹن ہو ( ان اکر طااب علمو کی ادن جو لی ماکز 
میں کو رکتے ہیں اور آلر انی ںکوئی سفر میٹ آئے و دوبارہ میں دئیں آجاتے ہیں خوام دہ بہال یش 
رہ ے کا تد نہ رکھتے ہوں) , اس تجک ہکو اس کے وطن کے عم می شا رکیا جائے کک 








مل ۱۳۲9۹ ٠‏ جو مس رر مات پر زندگ یزار ہو خلا بچھ مینہ اک شم میں کور جچہ مین 
دوسرے شمرمیں رتا ہو تو دوٹول مضامات اں کا ون ہیں اور گر اس نے دد مفلات سے زیارہ مقابا کو 
ز'دکی 4س رکرنے کے لیے افتیا رکر رکھا ہو فو وہ سب اس کا ون شار ہوستت ہؤں۔ 
ست ٭-ص۳ ۳٣۴ح‏ ؛ جہ مس کی ایک شجمہ سونق مان کا مالک ہو مر وو سمل بے ینہ ویں 
اراریۓ کے سا رت تو نس وقت کک وو مکان اس کی لیت میں ت جب بھی وو مفرکے ووران 
مں پت اسے چا کہ پوری ماز ڑے۔ 
متلہ ۱۳۳۹ : نر ایک مخ س کی ایی مقام بر پپیچے جو سی زانے میں اس کا وطن رہ ہو اور ہعر 
میں اس نے اسے تر کر دا ہو تو خواہ ای تےکوئی میا ولن لیے لیے تخب عد بھی میا و اس چاچنے 
کہ وہاں پاری نماز نہ پا ھھ اکر وہاں اتی قلیت سان یا ریا زین ہو ق, اس کو بوری نماز انی ۶ 
بانج ۱ 
مہ ٠ ۲۴۷۳٣٣‏ اگ رکی ساف مکی لہ مسلسل دس دن رج کا ارادہ ہو یا و؛ عم رکتا ہو ک۔ 
با یور ی دس دن تک ایک کہ رہنا پڑے گان وہاں اسے بودی نما پڑھنی چابنے۔ 





متلہ ۳۳۶۳۶۳ ٠‏ اگ رکوئی ماف رکسی تہ دس دن رہنا چامتا ہو تز ضرددی خی ںکہ ای کاارادہ بل 
رات باگیار وی رات وہل رج کا جو جوشی وہ ارادہکر کہ پیل ون کے طلوع آخاب سے د “یں 
رن 2 روب تاب جن یہاں رپ گا اے چا کہ ری نماز بڑھے اور ال کے طور 7 ا کا 
ارادہ یہ و نکی طبر ےمعمیارہوسیں و نکی هب رتک وہاں رب ک ہو تو اس کے لیے بھی ربیخ یں 
مستلہ ۳۳۳۴ ٠‏ جو سافمرػی مہ دس دن رہنا چامتا ہو اسے اس صورت میں پوری نماز بڑجحنی 
چاجے جب وو مارے کے سمارنے ون ایگ ۲1 رہتا چاہتا ہو اپ لے وو شال کے طور 4 جا ےکلہ ای 
ون نف او رکوفہ پا تران اور شبہران میس رہے و اسے چا کہ نماز ق کر کے پ ےت 

مہ (|(۳۳ ٠‏ جر سافرکسی کہ دس دں رہنا چاہتا ہو آگر دہ شروخغ سے ہی تصد رکتا تا ہوک ان 


۹ دس وفوں کے درمیان ای ج کے کس پا ائیے مقابات بر جائے گا جو عد مزف کی مقدار بھریا اس 
سے زیادد ددر ہوں و مر اس کے جانے اور آن ےکی بدت شال کے طور بر تقربا ایک پا دو نٹ ہو تو 











عام لوکویں کے نز دیک دس دن کے قام کے منانی نہ ہو و مو دی نماز پڑھھ اور آگر وہ حرت ال سے زیادہ 
ہو لز اھیاطا” دی اور آتمروونوں مازیں پڑھے اور گر وہ مت سعارادن یا رن کا رمے ہو و اس کی 
خماز تم ہوگی۔ کَّ 

مل ۳۷ اک ری مماف رکاکی کیہ دس دن رہے کا ممعم ارارہ نہ ہو خلا ا کا ارارہ ہوک 
آلر این کا مات مکی یا رہ کو اچھامکان مل گیا تق دی دن ول رہ گا اسے جا کہ نماز قع ہک 


کے رس 


مل ے.۰٣۳۳‏ : ج بکوئی فیس سی مہ دس دن رجے کا عم اراوہ رکا ہو اکر اسے اس بات 
ا ال ہوک اس کے وہاں رے می ںکوئی رکاوٹ پرا ہو گی اور اس کا ىہ اقال معقول بھی ہو تو اے 
چا ےکہ خاز تع کر سے بڑھھ ۱ 

مل ٠ ۳۳٣۸‏ گر مساف مکو عم +وکہ شا سید ضقم ہونے میں دس ما دیس سے زیادہ دن بات یں 
اور عسی لہ میینہ کے آ خر تک رب ے کا ارار ھکرے و اسے چا ےکہ نماز بوری پا ھے بکہ مر اے تلم 
ثر ہوکہ شید ض آوے میں کت دن اتی ہیں اور من کے تاخزتیں دہالا ری کا آرارہ گکرۓ اور 
صورت ہے و وکہ عثال کے طور بر معلوم ہوکہ مین کا آخری ون جع ہے لان ممافرے یہ جاتا ہ وک 
اس کے ارآ وکھرنے کا پسلا رن بجعرات تھا٘س سے اس کے قیا مکی مرت نو ون بن ا بدھ مان سے 
وو مردت یں دن ہے آڑ ای صورت میں آلر حرمیں معلوم بھی ہ وکہ اس کے اراوہ گرنے کا پا دن 
پدھھ تھا دی نماز بے اور گر ہے صورت نہ ہو سے چا کہ نماز فھ رکر کے بھ آلر چہ جس 
وقت اس نے اراو وکیا تھا اس وت سے میینے کے آخری دن متف دس ىا اس سے زیادہ داع نت ہوں۔ 
مستلہ ‏ ۱۳۳۷۴ ٠‏ اگر سافرکسی تہ یس دن رہن کا ارادہککرے اور ایک ار ر تی نماز سن 
سے پیل وہاں رجے کا اراوہ نر کر دے یا خمیذب ہوک ول رہے ایس اور پلا جاے و اے چا ہے 
کہ غماز فع کر کے پڑھے غان آکر ایک ار رک نماز پا نے کے بعد وہل رچجنے کا ارادہ تر ککر رے 
یا غذیذب ہو جاے و اسے جا کہ نس دقت کک دہاں رہے نماز پر ڑتھ۔_ 


-تے کی کو کت پک رکوئی صسافرنس نے ایک تہ رس ون ر کے کا ارارو کیا ہو روڑو رکو نے اور 








ظمرکے بعد وہاں رہ ے کا ارادہ تر ککردے جیکہ اس نے ایک پچار رق مماز ڑھ پی ہو وب تک وہ 
ان چا سی کے دوزے ددست ہیں اور اسے چا ےکہ ابق نمادیی دی پڑ ھ اور اکر اں نے پچار 

عضس نمماز نہ بڑھی ہو ٹوا نا اں ون کا روزہ 3 ہے لیکن اے چان ےک. اپ نمازیں قد رکر سے 
ع و س ات نہیں رک سمل 


مل ۳۴ ٠‏ و ری کی مسافر ہہس نے ایک خکہ دس ون رنے کا ارا کیا و ول رج کا ارارہ 
تر نز رۓ اور ای یکر ے ۶ لص ال برجے کا ارارہ تر ککرتے ے پا ا پاز رز 2.1 تی از ایی تی 
ا نئیں ق اسے چا کہ اپ نمازیں ق کر کے پڑھے۔ 


لہ ۱۳۴۲ ا رکوتی سافر نما کو تع رکر کے پڑ نکی عیت سے نماز میں مجخول ہو جائے اور 
نما کے دوران میں مم ارارر گر ن ےک دی یا ای سے زیادہ دنع ول رہ گت اہ با کہ ما زکو 
او ض مکرے۔ 

متلہ ۳۴۳ ٠‏ أگ رکوئی سافرخص نے ایک کچمہ دس دن رجے کا ار کیا ہو چا ر ھی نماز 
کو یت نے ارارے سے پچھرجاۓ اور ای تیسری رکعت میں مشخول دہ ہوا ہو تڑ اے ََ 
کہ نمازکو دو رک ا ای باقی نمازیں قعرکر کے بڑھھ اور اسی طرحع گر 

رت میں مشقول ہو گیا ہو او رت رت 
میں شخ مکرے اور اکر رکوغ یں چلاگیا ہے ے ا کی نماز بل ہے اور اس پاٹ کہ اس ماک دوبارہ 
ق کر کے پڑھے اور جب تک وہاں رہ نماز قھ کر کے پڑھے۔ 

متلہ ۳۴۴ ٠‏ جس سافر نے دی دن کی ہمہ رچے کا اراد کیا ہو وہاں دش سے زیادہ ون 
رہے و جب تک واں سے مغ رکرے اسے چاہی کہ نماز دی پڑت اور ب. ضروری شی کہ دوہارہ 
دس دن رتچ کا اراردکھرے۔ 

متلہ ۳۲۵ : ضس سافر نے کی ہہ میں دن رجے کا ارادہ کیا ہو. اسے تا نے کہ واحب 
رد نے رگ از کی روہ بھی میا لا سنا ہے اور نماز جعہ اور نافلہ مرو فصرد شا بھی پاب سا 


٤ 











توضیحالمسائل 1 1_236 


متلہ ۴۷ س۴ ٠‏ امہ ایک سافرضص نے صسی کہ دس دن رہے کا ارا ہکیا ہو چا رت از 
پان کے بعد یا داں دی دن ربے کے بعد امرچہ اس نے ایک بھی پوری نما ضہ بھی ہو سے جا کہ 
ایک ابی مجمہ جاے جو ار فر ےکم فاصل پر ہو اود چھرلوٹ آئے اود انی کی مہ پھ دس دت نا ای 
سے کم ورت کے لیے رہے تو اسے چا ےکہ اں دقت سے جب وہ ہل جا اس وقت تگ تب دہ 
لو ار اوے کے بعد پوری نما پا سے لیکن اکر اس کا اپنی اقامت کے مقام پر وائیں آنافق اں وجہ 
سے ہوکہ وہ اس کے سفر کے راست می واقع ہو اور اس کا سفرسافت شرعیہ (لشنی آشھ فرع) ہو تو اس 
کے لیے ضردری بے کہ لو کے وفت نما قھ رکر کے یڑ ھھے۔ 
منیل ‏ ن ۳۰۴ فپ ۰ر ایک سافرضص نے می خلہ دی ون رتے کا اراد ہیا ہہ ایگ چار رعت 
وی اواغماز پڑ نے کے بعد چا ےکہ ایک اور کہ چلا جاۓ جس کافاعطہ آھ فر ےکم ہو اور وس 
دن داں برسے تر اسے چا کہ جاتے ہوئے اور اس مہ بر جماں وہ دس دن رجے کاارارہ رکتا ہو اپ 
نمازیں ری و سے لیان آگکر وہ مہ جماں دہ جانا چاہتا ہو آٹھ فرح با اس سے زیادہ ددر جو تو اسے چاجے 
کہ جانے کے وقت ابی نمازیں قع کر کے پڑھے اور اکر دہ وہل دس دن نہ رجنا چاہتا ہو اے چاجء 
:. کہ جتے دن دہاں رس ان دفو ں کی نمازیں بھی تع کر کے پڑھے۔ ۱ 
مل ۳۱۸ : مر ایک سافرضص نے کی علہ و ون رجے کا اراد وکیا ہو ایک چار ر ات 
دای نماز پان کے بعد ایک ای تہ جانا پاہے جو چا فرخ سے کلم دور ہو اور ریب ہو کہ اپکی کل 
مہ بر واہیں آے یا نہ یا اس تمہ واہیں آنے سے پالل خافل ہو ما جا ےکہ وایں ہو جائے مجن 
ریب ہوک آیا رس دن اس تہ شمھرے ما نہ یا دای دس دن رے اور وہل سے سفرکرنے سے خائل 
ہو جائے نز اسے پچاج ےکہ جانے کے وقت سے وائبی کک اور وایہی کے بعد اپکی لپ کی نماذنیں پڑھے۔ 
منلہ ۱۳۴۹ ٠‏ ار ایک سافر اس خیال س ےکہ اس کے سا یصسی تمہ دس دن دہنا چاچے یں 
اس کہ دس دن رجے تا اراوہکرے اور ایک چار رکعت وا ارانماز پڑ ھن کے بعد اسے پت چ ۵ کہ 
اس کے ساتعیوں نے ابی اکوئی ارادم نمی ں کیا قذ خواہ وہ خود بھی ویں رہجے کا ال تر کک رے استے 
اج کہ جب تک وہاں رہ نماز بوری پڑھے۔ 


مل ٭۴۳۵) : مر ایک سافر انفا کی تہ میں ون رہ جاۓ شا تمیں کے تمیں دڈویں میں 











توضیح‌المسائل 75 ا +7+غ+غ_>-> ] 


یں سے چ ےہ جانے جا داں رسےہ کے بارے یس مزب مر ہو قو میں و نگکزرنے کے بعد آگرچہ دہ 
ھرڑی یرت ت ىی ال رہے اسے چاہب کہ نماز اوری پڑھے۔ 

مل ۱۳۵۱ : کس رق تمہت 2ات س کل کرت2 
نو ون ا اں ےک مت زارنے کے بیز فو ین ىا اس س ےکم برت کے لیے دویارہ وہاں رہے کا آرادہ 
کرے اور اسی طرخ میں و نگزر جاکھیں تے اسے چا ےکہ اکس وی )۳٣(‏ دن بوری نماز پڑھے۔ 


میلہ ۳۵٣۳۴‏ ؛ حں و نکزرنے کے بعد ماف مرکو اس صورت میں نماز بودری بڑاھنی چاجے جب 
:7 وت مس مھ دوصڑی جلہ 
گزار ہو اڈ ” میس دن کے بعد بھی اے نماز تھرکر کے باج چاججے۔ 


مان مان 


مل ۳۵۳ : سافرصیر الرام میں اور سو نیدی اور مسی رکوفہ میں انی نما پوری پڑڑھ سے 
ار صافر عطرت سید اشہداء علیہ السلام کے عم میں بھی بوری نماز تنا سے بشرطیہ نماز جح 
مقر سکی اطرا فک مححقہ دییاروں کے اندد پڑٹھی جاے- 

سیل م۳۵ ٠‏ ئگ رکوئی مخیس جو علم رکتا ہوکہ وہ سافر ہے اور اسے نما فص کر کے پاھنی 
اہ ان چا جیوں کے خلادہ جن کا کر سبقہ منلہ می ںکیاگیا ےی لود کہ ان وھ گر ارک نما 
دس کی و پل سے فور ہیل جا کہ اہک مت رک ا وا اج 
بھ نے تاس کے لیے بھی بی عھم ہے لن پل جان ےکی صورت میں ار اسے نز کے وقت ے 
' بعد بے بات یا وآ نے اس نما زکی تاکرنا دی خیں۔ 


سمل ۳۵۵ : ٤‏ جو مخ جات ہو کہ وو سافرے اور اے نماز قع کر کے پڑھی جاہے اکر وہ 
بھو لکر پیری نماز پڑھ لے کو رر وت نماز 


بل - 


سیل ۱۳۵۷ : ساقریہ جانا ہوکہ سے نماز تع رکر کے بای چاے آلر دہ پوری نماز پڑھے تو 





کس ےلات ور و 5 . [ ثالاھيی إ 


ا کی نما گی ے۔ 
مل ے۳۵ ؟ جھ سافر جات ہھ کہ اسے نماز قع کر کے پڑن چاہیے ار دو قمرخا کی بض 
خومات سے نا واقف ہو لاب نہ جانا کہ آبٹھ فرکا کے سفرمی نماز شع رکہ کے بڑھنی چایے ار 
دہ دی نما پڑھ لے اود نماز کے وقت میں اس مستلہ کا پعد چچل جانے ق ارسے ہا ے کہ روبار نما 
پڑھے اور اگ ددادہ ضہ پڑھ ق اس کی قناکرے لین الہ نماک وق گزرنۓے کے بعد اے' مکی کا زی 
چچے قو اس نما زی تنا نہیں ے۔ 
مسلہ ۳۵۸ : گر مسافر جانا ہوکہ اسے نماز ق رکر کے پڑھنی چاہے ا دو ا گان میں پوری 
ما پڑھ لٹ کہ ال کا سف رھ فرع سےکم ہے و جب اسے پ* سی کہ اس کا سٹ رآنھ فر کا تھا اے 
اچ ےکہ ج نماز پودی پڑھی بد اس ددبادہ قع رک کے پڑھ اور اکر استے اس امرکا پت نماز کا وت گزر 
جانے کے بعد لے 3 قنا ضردری نیں_ 
مستلہ ۱۳۵۹ ٠‏ ا رکوئی مخصس پبھول جال کہ دہ صافر ہے اود پودی نما پھ لے اور اسے نماز 
کے وق کے اندر می باد آجاے ق3 اسے چا کہ تع رکہ کے پڑھھ اور آر نماز کے وت کے ہعبار 
آپے تو اس نمازکی ققااں پر واجب تیں۔ 
مل ٣س‏ جس ش سکو پوری خاز پڑھنی چان کر وہ اسے ق رک کے پڑھے ق3 ای کی نماز ہر 
صورت میں پاٹ ہے لوا ای مسافرکے وی کہ دی دن رے کا ارادہ رکا ہو اور سے کا عم نہ 
جا کی وجہ سے نما فع کر کے پڑھے۔ 
مستلہ ۱۳۷٣‏ : ار ایک من ار رکھت ماز پڑعھ را ہو اود نما کے دورانن میں اسے پا آ ےک 
وہ نے مسافر ہے پا اس ام رکی طرف موجہ ہوکمہ اس کاسنرآٹھ فرم ہے اور ود ای تیمری رکدت کے 
رر میس ن گیا ہو اسے پاچ کہ نما زکو رد رکتوں پر ىی تام گر دے (اور اکر تی رکعت کے 
را مس نیا ہو تو اسے چا چےککہ نمازکو رد رکھتوں پر تی قا مک رے )اور گر ری رکدت کے 
دو می جا چک ہو 3 ال کی نما اٹل ہے او اکر ای کے پا الیک رکت وھ کے لیے بھی رتیں 
لی ہو 3 اسے چا ےکہ نما زکو نے مرے سے تع رکر کے ڑھے۔ 


-۔ 








مستلہ ۳٣۴۳۲‏ ا ری ساف رک ض خصوویات کا عم ۔ نہ جو للا و ہے ضہ جات ہ وکہ اکر چار فر 
تک جاۓے اور وائی میں چار فرع کا ناصلہ لے کرے تو اے نماز تصرکہ کے بڑھنی چابنے اور چار رکعت 
لی نما زی نیت سے نماز میں مشخول ہو جا اور بی رکعت کے رکوع سے پیل مندہ ا سکی مبجہ 
جس آجائۓے تو اسے اٹ ے کہ نما زکو دو رکعوں پر بی قا مکر دے اور ار دو رکورع میں اس ام کی جااب 
وہ ہو تا کی نماز بافل ہے اور اس صورت میں اگر اس کے پاس ایک رکعت بڑنے کے لیے بھی 
وسرھ رھ را مات قرغ 


مستلہ ۱۳۷۳ ٠‏ جس ساف رکو بوڑی نماز پڑعنی چانے اکر دہ ملہ ضہ جال کی وج سے وو رکھتی 
ما کی نیت سے نماز پا جن گ اور نماز کے دوران میں متلہ ا ںکی مھ مس آجائۓے تر اے چا ےک 
ویو ےت 
کو جار ر تی پڑحے 

مل ۳۴پ جس سافر نے ابی نماز نہ بھی ہو اکر وہ مماز کا وت خخم ہونے سے پل اپ 
وین تی جانے پا لی جک پچ جماں دس دن رہنا چاہتا ہو تر اسے جا ے کہ پوری نماز پڑھے اور جو 
شس سافرن ہو آکر اس نے نماز کے اول وت می نماز نہ بھی ہو اور مایا رکرے قے اسے جا سے ٴ 
کہ مفممیں نماز قھرکر کے بھے۔ 

متلہ ۳۷۹۵ ٠‏ جس ساف کو نماز قع رکر کے پڑھی وادب ہو اگر ا کی ظبریا عحصریا شا کی نماز 
ضا ہو جائۓ ق, آمرچہ وہ اس کی ضا اس وقت بجالاۓے جب وہ سفرمیں نہ ہو اسے اج کہ اس کی وو 
مر تی تناکرے اور گر لن شون نمازوں میں سے کی ابی خ سک یکوئی نماز قضا ہو جائے جو سافرنہ 
ب× اس چا ےکہ چا ر کھت تا کرے اکرچہ سے تقادہ اس وق تکرے جب وہ سخرش ہو رہ طازٹان 
باکاروباری جخرات ت جو پر روز صافت شرگی کے عائل شمروں میں جاتے آتے ہیں وو مفرکے دوران نماز 
قمر بجلہ رہننی اور کاردباری مقام پر دی نما پڑھیں کے اور روزے کی صورت میں زوال سے پیل 
کاردباری مقام پر تی جامیں اور زوال کے بعد کاروہاری مقام سے رای سا مکو لوئیں۔ 


مسملہ 1۳۷۷  :‏ شخب سے کہ سافر پر نماز کے بعد میں مت سبحان الله والحمدلٌ 











توضیحالعسائل : ٌ رئا ا 


ولاالم الااللہ واللہ ابر کے اور ظبراور خصراور خشا مکی تعتریبات کے ملق بست زیارہ لیر 
ک یکئی ہے لم بر ےک سافر ان تین نمازو ںکی تعقیب میں بھی دکر ساھ عرتبہ پڑ ھے۔ ڈاکرین د 
واعظین ما دوسرے افراد جو ینہ میں سمل ری و ن کرد رتے ہو ں کا نر یں وہ از ری 
ڑھھیں گے اور روزو بھی دکھییں گے۔ 

فظانماز 

مستلہ ں۳۷۴ : جس مخ نے انی واجب نماز اس نماز کے وت میں نہ ھی ہو اسے چا جے کہ 
ا سکی قضا با لا اگرچہ وہ نماز کے قمام وقت کے ذوران میں سیا ربا ہو یا اس نے مد وش ی کی وجہ ست 
نماز ظہ بھی ہو لن جو نمازییں کسی عورت نے خیش ىا ھا کی عالت میں نہ پڑھی ہول ا ن کی آتشا 
واتجب یس خواہ وہ ڈ گان نمازیں یں یاکوئی اور ہوں۔- 

میلہ ۳۹۴۸ ٠‏ اگ رکسی مخ سک از کے دقت کے بعد پت ج کہ جو نماز اس نے بھی شی وہ 
. ال تی و اس چا کہ اس نما زکی قضاک۷رے۔ 

مل ۳۷۴۸ ؛ نس مخ س کی نماز تنا ہو جا اے چان کہ ا کی قناکرنے می ںکو بی نہ 
کرے الیتہ اس کا فورا پڑھنا داینب نیں ے۔ 

مل ٭ے ۳ : جس مخفص ب نما رکی تضا واجب ہو وہ نماز تی پڑھہ کتا ے۔ 

مل ۱۰ء۳ : گ رکی مخ سکو اتال ہوک قض نماز اس کے ذے ہے ما :ہ نماذیں دہ بڑھ کا 
وہ جج نہیں تھیں تو صتحب ہب کہ ان نمازو ں کی تضاکرے۔ 

ممّلہ ۳ے ۳ا ٠‏ روزاد نمازوں کی تقاش تر تب ازم نیس جے سواۓے ان مازویں کے جن کی 
اوا میں ترجیب ہے شلا ایک ر نکی نماز ظبرو حصریا مغرب و عخاء اگکرچہ دوسری نمازوں یس بھی تر تیب 
کا موا مرکھنا بس رہے۔ 

سل ٣٢٣ا ٠‏ آ رکوئی نس چاے ۔ روزانہ نمازویں کے علادہ ند مازوں خلا نماز آیات کی 
تناکرے پا مال کے طور پر چا ےکہ ایگ روزانہ نماز اور چپر روہ نماڑوں کی قضاکرے او ان انا 








توضیح‌المسائل ٰ ).301ا 
وین کے ماق اکر خوزق من ہے 


مستمل.. ٢ے‏ ۱۳۳ ٠‏ اگ ررکوئی مخصس ان نمازو ںکی ٹرحیب بھول جائے جو اس نے نمی پڑھیں او بر 
ہ ےک انئیں اس طرع بے ھے کہ اسے نشین ہو جا ۓےکمہ اس نے دہ ای ترحیب سے پڑ گیا ہیں شک 
تزحیب سے وہ قفا ہوئی عھیں خلا آگر مم رکی ایک نماز اور مخر ب کی ایک نما زی قضا اس پر وجب ہھ 
اور اسے ہے معلوم نہ ہوک کون سی پیلے تضا ہوئی شی تو پیل ایک غماز مغرب اور اس کے بعد ایک نماز 
خمراور ووبارہ از مغرب اہو سے یا پیل ایک نماز نمبراور اس کے بعد ایک ماز مضخرب اوہ پچ دوہارہ ایک 
ما مر ھ کہ اے لن ہو چا ےکہ جو نماز ھی پیل تھا ہئی دہ لہ ہی بھی گی ے۔ 
سمل ۵ے٣۳‏ : گر کسی میں سے ایک و نکی خماز برا ایک نکی نماز عصریاددنماز مرا دو 
راز حعبر قفا ہوتی ہوں اور اسے پ عم نہ ہوک کوضی پلیہ قضا +وئی سے وہ دہ نمازیں پچار ر یکین 
نیت ہے بد ھھے کہ ان میں سے لی نماز چے لے دن کی قضا سے گور دوسری دوسرے دن کی تضا ہے تر 
ترحییب عاصل ہونے میں بی کائی یے۔ 

سیل ۳۰م ٠‏ اگ رکسی ح سکی ایک خواز مم راور ایک نماز عخاء یا ایک نماز حصراور ایک نناز 
خخاء قفا ہو جاۓ اور ا ہے عم نہ ہوک ہکون سی پل قفا ہوئی سے قے بعر ہےکمہ انی اس طخ 
بڑ ھے کہ اسے لن ہو جا ےکہ اس نے انی 'اسی ریب سے بڑھا سے جس ترقیب سے وہ تضا ول 
تحیں مل الر اس سے یک نماز ظبراور ایک نماز عشاء ا ہوئی ہو اور اسے سے علم شہ ہ وکہ کون 
سی قنا ہوئی تھی قز وہ پل ایک نماز خمبراس کے بعد ایک نماز عشاء اور پھر دوبارہ ایک نھاز خھم پڑت یا 
لہ ایک نماز عشاء اس کے بعد ایک نماز ظمراور پھردوبارہ ایک نماز عاء پڑھے۔- 

میلہ بے ۰ ٠‏ ڈگ کسی من س کو علم ہوکہ اس نے ایک چا ر تی خماز نمیں بڑھی مین ہہ علم 
ہ کہ وہ ری از تھی ما شا کی ,اکر دہ ایک پچار رت نماز اس ما زکی تضاکی میت سے بڑھ جو 
بے می میں بھی تو کانی سے اور اسے انقیار ےک دہ نماز ند آواز سے پڑھھ پا آ ‏ بس بڑے۔ 


مل ہیں س۳ج گر سی مخ ص کی ملس پاچ خمازیں فضا ہو جائھیں و اس ہے علم نہ وہ النا تک 
ہے پل کون سی خی تو اکر وہ خمازیں ترحیب سے بس شا نماز لع سے شرو ںکرے اور مرو حصر 





توضیچ‌المسائل لاٹ کس لے 6ا 


اور مت عمشاء جن نے کے حر ووپارہ ما مع اور مرو حر اور عقرب مارتھ ات ٹڑحیز کی ام مت 


می نین ماضل ہو جا گا 


مل ۹ء۳٢‏ : جس من سکو عم ہوکمہ ا کی بج گانہ نمازوں میں سے کون نہ کوئی ایک شہ ایل 
دن تنا وی سے مین ان کی ترحیب نہ جات ہو از ریہ ہے کہ پا دن رات کی ایی بڑھتھ اور آل 
چھ دٹیں یں ا سک چھ نمازیں قغا ہوگی ہوں ‏ چھ رن را۔ تت کی نمازیں پڑھھ اسی طخ ہراس نماز نک 
لے جس سے ا کی تھا ازوں می اغاہ اعد وع رات کی زی چھ کالہ سے نپ 
جال کہ ال نے نماڑیں لی تزرتیپ رے پڑھھ ہیں ننس تحیب سے تھا ہہوئی تخمیں ملا مات دن کی 
حات نماڑیں نہ پڑشی موں و صات دن را تک نمازو ںکی تق اکرے۔ 


مملیہر ۱۳۸۴ ؛ سیل کے طورر بآ ریس یی چد جع کی نمازیں یا چند شمرکی نمازیں تذا ہوگی ہوں 
ور وہ ان کی قحداد نہ اتا ہو ما بھو لکیا شلا یہ نہ جات ہ کہ وو جن میں با پر تم بس یا پاچ تخس ر 
کر دوکھترمقدار میں پڑھھ لے تو کائی ہے لین متریی ہج ہک. اتی نمازیں پے ھےکہ سے لقین ہو جاے کر 
ادگ تضاشدہ نمازیں بڑھ کی ہیں شلا آکر وہ بحو لکیہ کہ ا کی کتتی غمازسں ةنضا ہوئی خی اور ات 
ین ہ کہ سار زیدہ نہ یں انتا“ کی دی نمازیں ڑے۔ 
مہ ۳۸۷۸ ٠‏ جس من سک یگمزش دفو ںکی وط ایک فماز تنا بوئی ہو اس کے لی مب تک 
۱ آکر من ہو تو پل قضا پڑھے اور ای کے بعد اس دن کی ماز میں مشخول ہو اور ار اس کی گمزشد رلیں 
ک یکوئی نماز تضا نہ ہوئی ہو ین ای د نکی ایک یا ایک سے زیادہ نمازیں تضا لی ہوں ہو تو آل, ان 
ہو تو نتر کہ اس د نکی قضاخمازیں ادا نماز سے پھلہ بڑھے_۔ 
مہ ۱۳۸۳ : ری شف سک نماز ھت ہوئے یاد آت ےک ای دن کی ایک یا زیادد نمازی اس 
سے قضا ہو گنی ہیں باگمذشحۃ دو ں کی صرف لک تھا نغماز ١‏ اں کے مہ ہے آ اکر دقت وج ہو اور بہت 
کو قضا نما ز کی طرف پیر محکن ہو بھتریہ ہ کہ قضا نما زکی می تکرے۔ ٹلا لکر نل کی غراز ہر 
تی رکعت کے رکوغ سے پل اسے یاد آ کہ ای دان کی ان قرف 
مارک وت بھی تک نہ ہو تو می تکوش کی خمازکی طرف پیر رے اور غمازکو وہ تی قا مکرے اور 
اس کے بعد نماز ظمبریٹھھ ہاں آمر وت تک ہو یا می تکو قضا نما زکی طرف نہ شب رسک ہو مطل فراز نل 








توضیح‌المسائل 303۱ا 


کی تی کے مرکو می اے یاو تن کر فون ےگ کی ناخ کمیں ڑشی چکگ اکر وہ نھا زج 
7 ویر وش سن نبی کو کی تضاکی 
طرف میں بئہا پلے- 
متتلہد ۳۴۳۸۳ ۰ اگ رگمزشہ دفو ں کی قضا نمازیں ایک ش٢خ‏ کے زے ہوں اور دن کی ایک یا ایک 
سے زیادہ نمازیی بھی اس سے تا ہوگئی ہوں اور ان سب نماڑزوں کو تنا کرہۓے ہے نے اس کے یائسی 
ودقت مہ ہو یا وو ان سب کو ای دن نہ پڑہنا چاہتا ہو نو جب ج کہ اس دن کی قضا نمازول کو ادا نماز 
سے لہ پڑت اور بحتری س کہ ابق نمازمیں قطاکرنے کے بعد ان قضا نمازوں کو جو اس ون ارا نماز 
یت بی ہوں ودیارہ بے 
مل ۳۷۸ جار جت تف انان زندہ ہے خواہ وہ انی نمازیں پان سے عاتز بیکیوں نہ 6 وکوئی 
وو را نس ا کی قضا خمازی نی پڑھ علتا۔ 
مل ۱۳۸۵ : نا نماز باضاعت بھی بھی چانکتی سے خواہ لہام بماعت کی نماز ارایا تشا :و اور ہے 
ضردری خی ںکہ دوفوں ایک بی نماز میں لا کوئی میس مم کی ختضا نما ز کو ا مکی نماز ظ مرا ماز عھر 
کے ماتھ پڑھے ہے وکوئی ححع نہیں ہے۔ 
مستلہ ۳۸۲۷ :؟ تب ےکگہ مج ےکو ( نی اس کو جو برے تی کی فین رکتا ہو) نماز 
پڑھنے اور دوسریی عبارات ہھالا نے کی عادت ڈالی جائئے بللہ جب ہ ےکہ اسے فطضا نمازیں پڑ ین پر بھی 
آباد کیا جائے۔ 

1ے ۹ 
بل پکی قضا نمازیں جھ بڑے بے بر واجب ہیں 
مل ]ء۱۳۸2ء ال رکسی شخصس نے انی بجھ نازیں نظ نی ہل اور ان قناکرنے پر گی 
شررت نہ رکا ہو وگو اس نے ام مداوند یکی بافرا یکرت ہوگئے اں وا بکو تر ک کیا ہو ایا کی 
ام ناب اس کے بڑے یٹپ صت ہد و ہت تالکرے اک یکو 
کر م ےرا لسلست میں ال رج بت پہ تر ہب ےکم ما کی 
ممازیں بھی تضاکرے۔۔ 





ٹوشورات یئن 0+000 


کہ ۱۳۸۸ ۰ اکر بڑے بی ےکو تک ہوک کوئی فا غاز اس کے باب مہ ےہ تی یا میں 
راس پر یھ واتحب نے 

مل ۹ گر بوے کو معلوم ہوک ال ا کے بے و ماڑیں خی اور تک 
ہوکہ انی ججالایا تھا یا نمی تو ایا طکی بنا بر اسے چا کہ ا نکی قناکرے- 


واعب میں لن اعقیاط داب ہہ ہے کہ بے جا پ کی قضا نمازیں تاپ میں تی مک فی با انی 
بلانے کے لیے تہ انز یکرلیں۔ 


مل ٠۳۰۸‏ مر ہے معلوم ت ہوک یڑا کون سا ہے قر با پک نمازوں کی نکی سے بر 5 





مستملہ ۳۹۸) : نگ ری ہرنے دانے نے وعصع ت کی ہو کہ ا کی قضا نمازوں کے لیے کسی کو این 
الا جائے ( شی کس یکو اجرات د ےکر اس سے وہ نمازیں پڑعواگی جائیں ) ت آم. اب را سک نمازی سم 
طور پر بڑھ درے و اس کے بعد بڑے بے پر چک ھکرنا واجسب خم ہیں 

مستلہ ۱۳۹۳ ۰ اگر بدا بنا اپی میں کی تنا نمازیں بنا چا پر ات پاب کہ بند آواز ت إ 
آہست نمماز بن کے بارے میس اپنے دنیف کے مطابی عم لکرے را ات پا کہ انی ما کی ٹج کی 
نماز اور مر بکی اور مشاء کی نمازوں گی تھا بمند آواز تہ بڑ ھے۔ 

مستلہ ٠ ۳۷٣۳‏ جس مخس کے اپ نے کی نما کی قضا ہو اکر وہ یاپ: اود میں کی نمازریں بی 
تفاکرنا چاہے تق ان میں سے جو بھی پسلہ ہجالاے ػحجع ہے۔ 

مل ٣۴‏ گر جپ کے منے کے وقت بڑا بنا لغ ا دنواد ہد ۶ے چا بے کہ جب پان ہا 
عاقل ہو جائے ذ با پ کی نمازو کی قضاکرے۔ 

مستلہ ۱۳۹۵ ۰ اکر بدا بنا یا پکی نمازمیں فضاکھرنۓ سے پچ لے مرجائے لو روصرسنہ یٹ بر یھدیس 


واتب تیں۔ 


نماز جماعت 


لہ ۳۹۴ ٠‏ وجب نمازیں خحوسا“ ح گنہ نمازیں جخاعت کے ساتھ بڑھنا صحخب سے اور سور 








توفیالسائل ۹ ڑا نے ] 





یع0 ےت زان وک۴ بعد 


مسنیلہ .ھ۱۳9۹ ٠‏ منج رولیاتٹ میں وارد ہوا کہ تماز یا جحماعت نماز قرادی سے کی سن ؛أھنل 


ےت 





کس جو و ا 


مستلہ. ۴٭٭0۳ ٠‏ تخب بے کہ انان ع رکرنے اک مماز تماعت لک ساظہ ہڑے اور نماز بقاعت 


72 





ز سے کھخر ہے جو اول دقت میں فرادٹی شی تما بھی جاتے۔ ہاں خضیلت کے دشت میں جا نماز 
ڑھنا اں نماز اعت ہے ام( ل ے بو نقیلت کے وتت ‏ جا نجس جماعت کے 
ما مقر ریڑشی جا لو وم یکر کے بھی جانے دائی نماز فرارئی سے رع 

متلہ ۹*۴ ٠‏ جب مات کے ساتھ ماز بڑھی جانے گے و صقب ہے کہ نس حنم 
نماز ه تی :و وہ دوبارہ جثماعت کے ساتھ پرڑے اور ار اس بعد کل پۓ نے کے ای یل از انل 

ھی آ7 دو می نماز کان جا۔ 

تہ ۳۹۱ا ؟ لام جماعت تا متدبین جماعت کے ساتھ نماز پڑھن ہیں انال ہے عوائے لی 

صورت کہ اور وو ہی ہ کیہ لام جماعت ب نکر نما زکا اعاد مکھرے شر طیکہ مختیوں می ںکوئی لیا ہد تی 

نے واجب نما نہ شی ہو۔ 

متیلہ ۴۳ : جس مخ س کو نمماز میں اس قدر وسواس ہوتا ہو کہ ہ از کے باشل ہونے کہ موجب 
بی پا ۷ اور وو صرفی جماعت کے سا جج نماز باج سے اے وسواشل سے جات َ بواے پا نے کہ 

مار بقاعت کے ساتھ پڑ ڑا 

ستل۔ ۱۹۳ ۰ ار باپ یا یں اپنے فرزن ھکو عم بی ںکہ نماز جماعت کے سماتھ بڑھھے ‏ آمر فرزند 

کا ماز اعت تر فک نا نافراڑ کا موجب جم ہو نو اس بر نماز جماعت واجب ہو اتی بت اور ای صورت 


سا داوم واجب یں ے۔ 


توضیح‌المسائل 6مد ا 


تہ ۱۴٣۰۴‏ : تب نماز جماعت کے ساقھ میں پڑھی جا کی سواے نماز اصنسسفاء کے ہو 
بارش کے نزو کے لیے پڑھی جاتی سے اور اڑی نماز کےکہ جو یکلہ وجب دی ہو اور پگ کسی وجہ سے 
صخب ہو گی ہو شلا نماز عیدفطرو قیان جو امام علیہ السلام کے زبانے مم واجب خی اور ا ن کی غیت 
کی وج سے شخب ہوگئی ے۔ 

مل ۴۰۵ : جس دقت لیام جماعت نماز پچ گا میں سے کوگی نماز پڑھا رہا+ ہچ گانہ نمازول میں 
س ےکوی بھی نماز ا کی اقتزاء میں پڑھی جا علق ہے- ‪ 

مل ا وی ک۔ ؟ گر امام جماعت نماز و گان میں قفا شدہ اتی نز پاھ رہا ہو یانکسی ووسرے خس 
کی اڑی نما کی تضابڑھ رہ و تس کا قضا ہون نی ہو تر اس کی اقتزاء کی چالکق ہے نین آلر وہ انی یا 
تی وم یما کی تا اقاطا کر رہا ہو فو ا کی اقتاء جائز خیں ہے 


تمہ سے *۰ ۴ ٠‏ آگر انان کو سے علم ہوکہ ج نمازہامام بھ را سے وہ داب جن گانر ان مویہ 
ہے یا جب نمائز ہے فو اس نماز میں ما مکی اقتراء خی ںکی جاحکق۔ 

متلہ ۴۹۸ ۰ جاعت کے جج ہونے کے لیے ہہ شرط ہ ےک امام مقندی کے درمیان اور سی 
رح ایک متزی اور وومسرے ایے زی کے درمیان جو اس نر اور امام کے ررمیان واسطہ ہوکوئی 
نز حائلی خہ ہو ادر عائل چنز سے مراددہ یز ہے جھ دی یں ماع بد جیے کہ پردہ یا دواد وی ہیں گر 
ما زکی نخام یا تس عالتوں میں نام اور مفنفری کے درمیان یا مقنزی اور دوسرے ای مقنزی کے 
درمیان جو الصال کا ذربیہ ہ ھکوئی اڑی نز عائل ہو جاۓ نے جاعت پاضل ہو گی اور جیساکہ بعد میں وکر 
ہو گا عورت ای عم سے می ےد ۱ 

متلہ ۴۹۹) ٠‏ ار بی مف کے لا ون کی وج سے اس کے دونوں مر فکھڑے ہونے وا لے 
لوگ ایام جراعبتکو نہ دک میں تب بھی دہ اقتزا کر کے ہیں اور ای رح اک دوسری عمخوں میں سے 
کی ع فک مبائیکی وجہ سے اس کے دوفوں طر فکھڑے ہوننے والے لوگ اپنے سے آگے ولی یف 
کو نہ کچھ گھیں تب بھی وہ اقا مر بے ہیں۔ 


مل پیک گر عماعت کی صلی سج کے دردازے کک تیچ جامی نر جھ مخ دورازے کے 








توفیوالمسائل لے مہ سپٹ ) بتذ إ 


سماتے عف کے جیے زا ہو اس کی راز یچ ے اور جو اشفاس ؛س نس کے کی لدڑے ہو کر لام 
ماقت کل اتۃا مر رے ہو ان کی نماز تھی جج سے بللہ ان لیکو ں کی ضماز کی 3 ہے جو ووثوں 
طر فمڑے مماز ڑھد ریچ ون اون دو صرےء عتمتری کے موسط سے جماعت سے ضبن ہولں۔ 
لہ ۱۳۳ :۷م جاعت کے کھڑے ہوتنے کی مہ تد ی کی جلہ سے بنا بی انقیاطا شی میں 
بویع جن اور آگر زین ڈعلوان جو اور امام اس طر فکڑا ہو جو زیادہ ت باند ہو تر اکر ڈھکوان زیاوہ نہ 
+م اور ای 2 ہو گواے زی نکی مج کم جاتے کوئی خ نئیں۔ 

مل م۴۴۳۴ ؟ ناز جراعت میں اگمر عقتد یکی تہ ما مکی بج سے اہی ہو کی مع“ میں نے 
نان امہ اس قدر اوٹی ہ کہ یہ ن ہکما جا کہ وہ ایک کہ جع ہوئے ہیں نز اعت یں ا 
صتلہ ۴۲۴ ٠‏ ار ان لوکوں کے درمیان جو الیک عف می ںکھڑے ہوں ایک ایت شس نا فاسلہ 
ہو جائۓ ن سکی نماز پاٹ ہو دہ لوگ اقتاء خی کر تاد 

مل ۱۳۱۵ : وا کی وی کے بعد آر لی عف کے لوگ نماز کے لین جار ہوں اور گی کن 
ہی والے ہوں نو جو عخس لی رف می ںکھڑا ہو وہ گی رکھہ کتا ہے لین اظاظ صتحب ہے سی کہ وہ 
امنظارککرے ناک أٹلی صعف والے تیب رکم بیی۔ 

مل ۱۳٣٣‏ : ال رکوئی مخ جان ہ وہ گی مفوں میں سے ایک ص فک نماز پل ہے تو دہ کچل 
میں میں اقزاہ می ںکر سکتا۔ لین اکر سے علم نہ ورکہ اس لف کے لیکو کی نماز جج ہے پا خی 
اقدام کر کا ےتے۔ 

مل ےا٢‏ : ؟. ج بکئی شخُس پاتا ہوکہ ما مکی تماز ٹل اس سے ملا اس تلم ہوک ام وشو سے 
5 سم آو خوام ام طور ام رکی جائب موجہ نمس ہو وہ شلنمم ں ا سک اتۃاء میں کر سای 

سمل ۱۳۱۸ ؟ ار مفند یکو مماز کے بعد پن چ کہ ام عاول نہ تھا ما کاف تھا مکی وب ے خلا 
وضو نز :ہف گی وج سے ا س کا راز پل شی تو کر تی ن کوک ایا مل کیا ہو تی ای 7 
رنے ے فرادیی نماز پاطل ہر جال ی ہو (خلا رک عکی زیادگی) تو ا سکی نمازضج تج 

لہ ۴ ٠‏ 1گ رکوئی مخ نما کے دوران میں خی کر کہ اس نے اقتداء کی جج پا نیس اور 





توضیچ‌المسائل__ ' سس ...3 308.ل 


گر وہ نماز ہی ھکر پڑھ ربا تھاکہ جماعت کے سا بڑھ را ہے اور اشال و وکمہ اس نے بخول چوک 
گی وجہ سے حا کی عیت نی ں کی ت3 اکر دہ (ن ککرنے کے وقت) ا عالت مم ہو جو نمتزی کا 
وظیضہ ہے شلا ما مکو مر اور سورہ پڑت ہوے من را ہو تو اسے پا ےکہ نماز بقاعت کے ساہ بی ختم 
کرے لین فکرنے کے وقت اکر و کسی ایے فل میں مشقول ہو جو ایام اور ری دونوں کا وی 
ہو ملا رکو یا سہرے میں ہو قو اسے اہ کہ نماز فرار کی حیت سے ش مکرے۔ 
مل ۲۰ : گر نماز کے روران میں حتتزی فراریی کا ارارہ کرنا چاہے فو اکر نما زکی ابا سے اس 
کا می ازادو نہ را ہو گوئی حرج خمیں لیکن آر اس کا ارادہ نما کی ابنر! سے بی تھا نے پچھ راس میں اشکالی 
ہے 
مل (۴۲) مر یز نی امام کے مر اور سورہ پڑ نے کے بعد فرادگی کی می تکرے تو اظیا واجب 
کی بنا بے اسے پاٹ کہ فمام جاور سورہ بڑھے اور اگر حر اور سورہ خم ہونے سے پل ین دم کے 
تر اور سورو و سے یت سور گی نی مقار انام 
نے پڑ ھی ہے دو بھی بڑھھے 
مل ۱٣۲۲‏ : آگ رکوئی ہنس نماز جماعت کے دوران میں فرادئی کی یت کرے پر پمروہ دوپارہ نماز 
ماع تکی نیت خی کر سنا کہ اکر خربزب ہوکہ فراو کی یت کرے یا نہ کر بعد میں نماز باعت 
کے ساتھ قا مکرنے کا عم راد ہمکرے تے ا يکی جماعت کے ساتھ بھی ہوئی مار یچ میں ہے۔ 
مسنتل2ر ۱۴۲۳ ۰ اگ رکوکی مخصس میں کر ےکی نماز کے دودران میں اس نے فرادی کی نب ت کی ہے یا 
ہیں اسے چا کہ یہ کچھ لن ےکہ ال نے فراو کی عیت نمی ں کی۔ 
تل ۴۲۴ ذ اگ رکوئی نس اس وقت اتزاءکرے ہہ وا مر لام کے رگ 
ین رک ہو جائۓ نو اکر ۶۰ 0+0 ہو اں سکىی خما رج ق ہے اور وہ ایل 
ریت ار ہو کی ین اکر وہ منص بقدر کو کے تھے ہم لام در یس شریک شر وو نے لق َّ 
مام اس وقت رگوخٔ کے بع رکھڑا ڑا ەو کا و تر -- 


لہ ۵ آ ھکوئی عفن اس وت اقتذاءکرے جب امام رکوغ میں ہو اور بظرر وع کہ 





لک او ر شی فکر کہ امام کے رکوع میں شریک ہوا ہیا میں قے اس شس کی نماز باعل ہے 

تل ۱۳۳۷ ٠‏ مگ رکوئی ننس اس وقت اقتزاءکرے جب ایام رکوغ میں ہو اور ار ےچ لہ 
وہ رر رگوغ کے نیف جاۓ اور الام رگوغ سے سر لٹھا نے تو احیاط وا گی ناب ای شک چا بے 
کی فرا کی ؛ 'یت انا رھ لات 

سیل ے۱۳۳ : اگ رکوئی شنس فما زکی انٹدا میں پا مر اور سورہ کے وددران میس اقاء کرے اور 
انفاقا“ اس سے پش رکوخع میں جائے امام انا سر رکوغ سے اٹھا لے تو اس شفھس کی خماز جع نہ 

مسنیل۔د ۱۳۲۸ : آگ رکوئی نس نار کے لیے ای وقت بین جب لمام نما ز کا آفرنی تنمد پڑھ رہ ہو 
اور وه مس پانا ہ و کہ نماز اعت کا ٹپ انل کے ڑئے اب ےکہ نیٹ پانرے اور تح ۃ 
لاترام نے کے بعد ٹہ جانے اور تشد امام کے ساتقہ بڑھھے لیکن سلام نہ کے اود صیرکر نے کہ امام 
از کا لام پُ بڑڑھ لے اں کے پور وہ شح سکھڑا ہو چاے اور روبارہ خی ت کرے اور ج- ے بخی رم" اور 
سورۃ پڑھے اور ا سے اپتی نما کی بیکی رکعت شا ررے۔ 

تل ۱۴۲۹ ٠‏ مز ی کو دم سے کے می ںکھڑا ہونا چابے انقیامذ وادب کی بنا بر مر قتری 
صرف مر ہو و لام کے یں طرف قدرے تچ کنا ہو اور اکر مق متزری کی ان وین رفا کی یلت 
کے تی ھکھڑے ہوں اور پبلی صورت میں اگمر تقنزی کا قد امام سے لیا ہہ او اساط واجپ کی بنا پہاے 
ہہ ںکھڑا ہونا چا کہ رکوم ادر جودرمیں ایام سے آ ‏ کے نہ بڑھ جاۓ۔ 

متلہ ٠ ۱۳۳٣۴‏ گر ایام مر اور مقتدی عورت ہو نز گر خورت اود امام کے درمیان یا عورت اور 
دوسرے مرو حقمندی کے درمیان جو عورت اور ام کے ورمیان اتصال کا زرنتد :و کات بردہ ویو ہو تر 
کوئی حرج خییں۔ 

مستلہ ۴۳۹۷ ؟ گر نماز شروع ہونے کے بعد امام اور ری کے درمیان با تقتری اود اس نس 
کے درمیانع نس کے سط سے مقتدی امام سے مل ہو روم اکوئی دو سر ی چنزھاکل ہو جائۓ نو جماععت 
اٹل ہو جاتی ہے اور لازم ہ ےک مقتری تھا نماز ھن والے کے وین کے مطاق یل وت 


مل ۱۳۳۲ :ظط داب ہہ سےکہ مقنزی کے سیر ےکی مہ اور ام مک ھا ہون ےکی مہ 











توضیم‌المسائل 1 208_ ا 


کے درمیان بقر ایک میٹر کے فاصلہ نہ ہو اور آگمر انسان ایک ای تی کے اوس سے جو اس کے 
آگےکڑا ہو لام سے متصمل ہو مب بھی بی عم سے اور اط تب ہے ہے کہ ممنری کے برے کی 

لہ اور اس سے آکے والے من کےکھڑنے ہوٹ کی لہ کے ورمیا نکم الہ نہ ہو- 

مستلہ ۱۴٣۳‏ : گر حخنو ی کی ای خصس کے وس سے ایام سے متصمل ہو خی نے ایس کے 
داگیں طرف ما پاھیں طرف اقتاءکی ہو اور عاضنے سے امام سے متصمل نہ ہو تر اقیاط واج ب کی بنا یر 

اسے چا کہ اس فیس سے نس نے ا سکی دانھیں طرف با باھیں طرف ات قتزاء کی ہو ایک میٹ رکا ناصلہ 
رتا ہو 

مل ۳۴م ؟ گر نماز کے دوران میں ری اور ام یا نی اور اس نس کے درسیان بی 

کے قوذ سے مقتدی اام سے مل ہو یک میٹ رکا فاصلہ ہو جائے قز اس تقنڑ یکو چا نے کہ فرار٘ی ٹن 
تم نماز بین کا ارارکرے اور ا کی نماز کچ ے۔ 


مستلیہ ۱۴۳۵ : جو اگی تف میں ہوں اکر ان س بک نماز شحخم ہو جائے اور وہ فرآ بھی دوسری 
خماز بے لیے رکا مکی اقترا مک ر لیس تر لی صف والو ں کی نماز جماعت کچ ہونے می اشتال ے۔ 


متتلیہ . ۱۴۳۷ ۰. ال رکوی خخص دوسری رکعت میں اقترا +ککرے ت ایس کے لیے حر اور سور بڑھنا 
ردری نی البتہ فقوت اور تشید امام کے ساتھ پڑھے اور اضیلط یہ ہ ےکہ تشد پڑت وقت پتھو ںکی 
الگلیاں اور پاؤں کا اگلا حصہ زین بر رکے ار گے اٹھائے اور تشد کے بعد اسے پان کہ امام کے 
سا کھڑا ہو جاۓ اور حر اور سور پڑھے اور آھر مور کے لیے وقت شہ دکتا ہو فو کو ا مکرے اور 
روغ میں ایام کے سا مل جائے اور مر کو میں امام کے ساتھ نہ ٹل تھے و اقیاط واج ب گی باپر 
فراریی نتنی تما نما ز کا قص رکرے۔ 


مر ے ۴٣٣‏ : ا رکوکی شخض اس رتے اتزام کرے جب امام ار رک نماز کی دوسری رکعت 
پڑھا را ہو ق اسے چا ےکہ اپنی نما زکی دوسری رکعت میں جو امام کی تیسرکی رکعت ہ و گی دو حیروں کے 
بعد یٹ جاۓ اور واجب مقدار میں تشد پڑھ اور پھراظ ھکھڑا وو اور اکر خن وفعہ نسببحدات پڑ ھت 
کا وقت نہ رگتا ہو ق جا کہ ایک دفعہ پڑھے اور رکوں یں اپنے آر پکو امام سے شری ککرےپ 








توضیالسائل__ )...11ج3ا 


ہل ۳۳۸ : آکہ لام تیری ىا چوشی رکدت میں ہو اور علنری جات ہوکہ اکر اتا ہکرے گا 
ایر ط پڑھھ گا ظز امام کے ساتھ دکوع یں شائل نہ ہو کے گا اعقیاط واج ب کی بنا پیر اسے امام کے 
رکورع میں جانے تک انظا رکرنا عچاجے اور اقترا ءکرلی چا ہے- 

مہ ۳9 ٠‏ اگ رکوئی مخ ا مکی تسری ما چو شی رکعت میس قا مکی حعاات میں ہونے کے 
وقت اقتزاکرے تق اے چا کہ ص اور سورۃ کے ملیئے وقت نہ رکھتا ہو نز اسے چا ےکہ ضر تام 
کرے اور رکوع میں'ایام کے ساج شریک ہو جائۓ اور اکر رکوں می امام کے ساتقد شریک شہ ہو سے تو 
اعتیاط وادب کی بنا فرادی نشی تما نماز بح کی نی تکرے۔ 

منلہ ۴۴۰ب ار ایک خص بن ہوکہ وو سورۃ یا قویت بڑھے لو کو میں ام کے ساتھ 
شریک میں ہو تا اور عر] سورۃ یا قوت پڑھے اور رکوع میں امام کے ساتھ شریک نہ ہو تو اکمریہ ہے 
گہ ا کی نماز ضجخ ہے اور اسے چا ےک مفرد کے وف کے مطابق عم لکرے۔ 

مستلہ ۴۱ ؟ ج نس الین رکتا ہوکہ مر سورہ شروں کرے پا اسے تا مکرے نو بشرطیکہ 
سورم زیادہ ابا نہ ہو وہ رکوع میں امام کے ساتھ شریک ہو جائۓ گا نز اس کے لیے بخرىیہ ےکلہ سورہ 
رو عکرے پا گر رو عکیا ہو ق اسے تا مکرے اور اکر سورہ زیادہ طویل ہو ق اقیاط واجب سے ہے کہ 
اسے شروم ‏ دکرے اور اکر شرو کر چکا ہو و اسے ران ہکرے۔ 

مستلہ ۷۴۲ : جو شخس لین رکتا ہوکہ سوہ پا ھکر ام کے ساتھ دکوغ میس شریک ہو جائۓ گا 
ار دو سورہ پا ھکر امام کے ساتقہ رکوغ میں شریک نہ ہو کے نز ا کی جماعت تج ہے۔ 

مکل ۳ ۱۳ ۰ امام قا مکی عالت میں ہو اور مقنز یکو علم نہ ہ وکمہ دوکون سی رکعت میں 
سے تو وہ اتزاءکر مکنا ہے لیکن اسے چان ےکہ مد سورۃ قب ت کی نیت سے پڑھے اگرچہ بعد میں اسے 
پند پل جا ےک ا مکی بی یا ددسریی رکعت تجی۔ 


سیل ۴م : اگ رکوئی جخصس اس خال سےکہ امام یی یا دوسری رکعت میس ہے مر اور سورہ 
نہ بڑھھ اور رع کے بعد اسے پن چچل جا کہ وولینی مام تی یا چو شی رکعت میس تھا تو ای ںکی 
نی ند یىی نماز سج سے لکن ألر اسے رکوع سے لہ پن یل جاۓ قو اسے جا ےک مھ اور سورہ 








توضیس‌المسائل ۱ 13 أ 


بڑھے اور اکر وقت نہ رکتا ہو ا فقط مد پڑت اور رگوخع ہیں امام کے ساتھ کت و ات او ا 


شریک نہ ہو کے فو اعقیاط وا بک بنا بر فرادی ]ٹن تما نما کی خی تککرتے۔ 

تل2 ۱۴۴۵ : اگ رکوئی خخص يہ خا لکرتے ہد جاور سودہ ڑھگ ام تسری یا جو تی 
رکعت می ہے اور رکوع سے پل با ای کے بعد اسے پت ہی کہ امام بی یا دو ری رکعت میں تھا 
ا ںکی لی نز یکی نماز سج ہے اور گر یہ بات اسے مرو سورہ بڑھت ہوئے صعلوم ہو تو تر و سورد کا 
قا مکرااسں کے لیے ضروری نئیں۔ 

مستلہہ ۱۴۴۷ ۰ ا رکوئی نس نار تب بڑھ رما ہو اور نقاعت قائم ود جا اور سے مان نہ 
ہوکہ اگر از مصتخق بکو تا مکرے گا تو اعت کے سانتھ شریک ہو کے گاف تب س یک جو نماز ہزنہ 
را ہو اسے چھوڑ رے اور نماز میں شائل ہو جا بکہ گر اسے افھینان نہ ہہ کہ بی رکعت میں خریک 
ہو کے ما تب بھی تب ہ ےکہ اسی عم کے مطابق عھ لکھرے۔ 

تہ ے ۱۴۴ ۰ اگ رکوئی خصس تین رک یا ار رک نماز یڑ دبا ہد اور شماعت قائم ہو جا 
اور وہ ابی تسری رکعت کے رکوع میں نہ گیا ہو اور اسے اطمینان نہ ہ وکہ گر نما کو ہپ داکرے گا 7 
جماحعت میں شریک ہو کے گا قب جب ےکلہ مسسنحبں نما زکی عیت کے سائظھ اس نما زکو وو رکعت پ 
ش کر رے اور جماعت کے ساد ٹریک ہو جائۓے۔ 

مل ۲۲۸ : کر اما مکی نماز شخم ہو جا اور عقتری تقد یا پملا لام بے میں مشخول ہو نز 
اس کے لیے فزاریی نی تھا نما زی حی تکرنا ضروری یں 

مل ۳٢۹‏ : جو شس امام سے ایک رکعت تچ ہو ا کیل تہ کہ جب لام آفری رکعت 
کا تقد بڑھ را ہو نے اتھوں کی انلیاں اور پنؤں کا اگلا حصہ زشن بر رسک او رکٹنو ںکو بان دکھرنے اور 
نام کے سلام نما ز کن کا اتظا رکرے اور پھ رکڑا ہو جا اور اکر ای وقت فرادیی من تھا نما ز کا قصد 
کر چاے ن وکوئی حرج خیں لین اکر شروخع سے فرادکی کا تصد رکتا ہو ماز کا سخ ہونا مشکل ہے۔ 


ام اح تک شرانا 


مل ۴۵۰ : ام جماعت کے سے ضردوری سے کن ااغ؛ عاتل' شیدہ اج مئ ری عارل اور علال 











زارو ہو اور نماز سخ بڑھ سا ہہ اور گر عقتری مد ہو نو اس فا لام بی مرد ہونا جا ام رف مز بر 
بن تی بر ےک جھتا و ورکسی دوسرے م یئ کی اذ کرے ق اس می ںکامی رع نہیں لگ 


کے ارات اس سپ عنرتب میں ہو۔تے نشی اسے جماعت ممی ںکما جا سیف :۰ ٠‏ 





سم 1۳۸۵1 ٠ج‏ و ایک فا م کو عاول اجھتا تھا اکر شیک کر کہ دہ اب شی انی نعدلات 
7ے ك) جس ہب تھی اس ى انا عوکر سے 

مستلہ ۴۵۲ا ؟ جو خف سکھڑا : وکر نماز بڑہتا ہو ودکسی ایی شف سکی اقنزام نہیں کر انا جھ بی مر 
ا بی کر نماز بڑھتا ہو اور و تنس بیٹ ھکر نماز پڑھتا ہو ودکسی ای شخص ۔ کے اقترا ٠ں‏ کر سکم جو 
پر ٹر غاز بڑھتا ہو" 

سیل ٢۵۳‏ ٠:ج‏ مخ یھکر فاز بڑھتا ہو وہ اس شخس کی اقیرام کر سنا سے جو جیھ گر از 
بڑھتا ہو اور جو ٹس لی کر نماز اہ ا کاسی ای شف کی اتزاہ گرناجھ یں میا بیط کر نماز 
بڈھتا ہو ایال ہے انی مکل ج ےکی ج3 

مل ۴۵۳ ؛ گر لام بماعو ت کی عفر رک وجہ سے شس لباں یا جم یا حببرے نک رفمو سے 
ماز ‏ ہے نذ ا کی اقترا کی جا عق ے۔ 


ماب اور ماقان ث ردل اتا 





مل ۴۵۵ : ثر ام7 گئی اڑىی جیادری ہو شس کی وچہ سے وہ 
ہو ڈو ا کی اقتزاءکی ماق ہے تیزجو عورت خحاضہ ہو وۃ سخاضہ عو رم کی اقتزا کر علق ے۔ 

تل8 ۱۴۵۹ بمتریہ بب لہ جھ مس جزام یا برع کا مرش ہو وہ امام خخاعت شہ بے اور انقیاط 

وب یہ کہ شف پ ید شرگی چارتی ہگ جو لوگ ا کی او ری لودای رع لیل شر ۱ 
وی انہ دو کی اتتاء ےکر ہم 

کہ ے۳۵ نما زکی می تکرتے وت مقنز یکو چا کہ آما مکو می نکر لے لین امام کا نام 

انتا ضروری شمیں اور گر ممیت کر ےکم میں موجودہ امام ماع ت کی اقترا ء ربا ہوں تر اس کی خاز 7 





2 
۰2 


کات 
0 


مستلہہ ۱۴۵۸ ؛ مز یکو چا بج ےکہ م اور سورہ کے علادہ نما زکی سب چچیں خود ہو مان اس 





یااششسسسسصس_یت تبسسسست--۔-_ کڈ 





ووچھھس س سے ہے ےش اہ اہ 


توضیحالمسائل .3236ا 


ساتچھ رہ میں جائے اور دونویں صورقویں میں نترسیے تج کہ نماز جراعدت کے مات تما مککرے اور پر 
روبارہ گی ڑے۔ 


سیل ۳2۳ا : گر خی موا ام سے پیل رکرغ میں پل جائے اور ددرت یہ ہوک ہآکر دیادہ 
قام سی مات میں 7ے تا مکی قت کا صہ من کہ اکر وہ سراانے اود ارہ ام سک 
سانظھ رع میں جا قے اس کی جات اور نماز سج ہے او کہ دہ جان ب چک دوبارہ قا مکی حالت مل 
نہ ہے قز ا کی نماز پل ے۔ 
مل ۴ے ۴ ؛ نر ممنزدی سوا ایم سے پل رکم میں چا جائے اور صورت ہی ہ کہ اکر ددیارہ 
قام سی مات میں نے ام کی رت خاکوئی حصد یہ من گے ق لم ودای قد کے ساقھ ام 
ساظہ نماز بے بنا سراٹھا نے اور امام کے ساتھ رکون میس جا تر ا کی جثالت او نماز سج ہے ادد 
اکر ا عو! ا تا کی مات میں نہ ہے تا کی خاز جچ ہے اود وہ تق ہو جاے کاٹ ا یکا 
۱ ماز فرادئی شار ہوگی۔ 
مل ۵ء : مر متیزری خلطی سے ام سے پل سیرے میں چلا جا اکر وو اس تید سک 
ماق کم ام کے سا از پت انا سراھانے اور ام کے سائقہ میرے میں چان ق ا کی اعت 
اور اچ سے اور را سیرے سے مراھانے ق ا کی اڑج ہے لو کہ موا سرن سے سم 
ےا سی زمیج گی کن وہ مد ہو جائے گاشی ا کی نماز رای خر دگی- 
مل 2۱ء مر دہم فکطی سے ایک یی رکعت میں ققوت پڑھ رٹ ٹس میں وت نہ × یا 
ین ای کت میس جس میں قش پر لی سے تشد پے جن تگ جائئ تقد یکو قوت ور تم 
یں روعنا چا لکن وہ الام سے پلے نہ کو میں جا کا ہے کور نہ مم کے و ہونے سے پیل کک 
ہر کنا ہے چنہ اسے چا کہ مام کے قش ٹور قوت خ مکرنے تک اتظا رکرے اور بائی باندہ نما ای 
کے ساتھ بڑھھے۔ 


زماز اعت میں امام اور خقتبی کے فر ئل 


متلہ ك۶ك۳ : اط واجب کی با بر اکر ظتزی صرف اک ہو نز اے تھوڑا سا لام کے پچ 


گتلےیییٗجگج[مم۶تنس|سرڈڑسجکسطت ]۰ ٹج تحتگ 





توضیح‌المسائل )( ادا 


میں طر فکھڑا ہونا چاینے اوراکر ایک با چند عورتیں ہوں تو الہیں لام کے تج ھکھڑا ہونا این اور اگر 
ایک مرد اور ایک عورت یا ایک مرد اور چند عورخیں ہوں تو مردو ںکو تھوڑا سا ام کے تہ دایں 
طرف اور عورت یا عونرتو ںکو امام کے جج ھکھڑا ہونا چایے اور اکر چند مرد اور ایک ىا چند عورمیں ہوں 
و ردو ںکو ام کے چے اور عورنو یکو ردوں کے تی یکھڑا ہوتا چلے۔ 

مہ ۸ء۳ : ار نام اور ممتری وونوں عورٹیں ہوں ٹ ابا کی بنا بر واجب ےکن ضا الک 
ددسرکی کے برا برا ھکھڑی ہوں اور انام متقنزبیں سے آکے نرکھڑی ہو۔ 

مل ۵۹ے ۳ ٠:‏ م_ص جب ےےککہ امام مف کے ورمیان می ںکھڑا ہو اور صاحین گم کال اور یق 
جعقرات لی عف می ںکھڑے ہوں۔ 

مستلہ ۴۸۴ : ص تخب ہکم جواع کی صفیں م“نعحمم ہوں اور جو اشخاص ایک صف میں کھڑے 
ہوں ان کے درمیان فاصلہ نہ ہو مور ان کےکندھے ایک ووسرے کے کندہوں سے ہوتے ہوں۔ 
مستلہ ۱۴۸۱ ؛: تخب ہہ ےکہ ” قدقامت الصلاة "کے کے بعد تفنز یکھڑے ہو جائیں۔ 
لہ ك٣۷)‏ تخب ے7 ام جماعت ا زی کی عالت کا فبا ط گکرے جو روضروں ے ٴ 
مور ہو اور قوت اور روغ اور سو کو طرل ئہ ردے زاس صورت کے اے :2 ہ وکہ قمام اشنائی 
جنوں نے ا کی اقذا کی ہے طول دی ےکی جانب مال ہیں۔ 

مل ۳ جب یک ابام جمانعت مج اور سورہ اور بلند آواز میں پڑ ھے چانے والے اؤکار 
با ہوئے افی آوا زکو ہلن رر ےکہ دوصردے من لیں ان اے چات ےکہ آواز ماسب عر سے ڑیادہ 
یٹ7 

تل ۱۴۸۳۴ ۰ اگر اما مکی حاات روخ میں معلوم ہو جال ۓےکہکوئی منص ابی ابھی آیا سے اور 
انام گرا چاہتا سے و جب ہ ےکہ رکو کو ممول سے وکنا طول دے اور پگ رکھڑا ہو جائۓ خواہ اے 
معلوم ہو جال ےک ہکوگی دو مرا ٹنیس بھی اقتزاء کے لیے آیا ہے 





توضیحالمسائل سے سی ار 1.2798 


ہماز بقاعت کے توبات 
مہ ۱۸۵ : اگ ر جخماح کی عفوں میں تمہ ہو نے انمان کے لیے جماکھا ہو اکھروہ ے۔ 
تل ۴۸۷ ! حمتری کا از کے ازکا رکو اس طرح بڑعتاکہ ایام سن لے کردہ ہیے۔ 


مکل ے۴۸ ۰ جو سافر رو عصرو عشاء کی نمازیں قھ کر کے بڑعتا ہو اس کے لیے ان نماڑوں 

می کسی ایے مخ کا امام جناکروہ سے جو صافر نہ ہو اور ۶ء مخس سافرنہ ہو اس کے لی گھردہ ہج کی 

ان نمازوں میں ماف ری اقیزامککرے۔ 

نما آیات 

لہ ۴۴۸۸ ۰ نماز بات جس کے بر سے کا طریقہ. بعد میں بیان ہوگا چار چیڑوں کی وج ے 

واجب ہوٹی ہیں۔ 

ا سور جمگر ہین 

٣‏ چا دگرین' اگرچہ اس کے کچھ یکو دی گر جن گے او ری انان بے ا کی وچ ے 
خو ف گی طاری تہ ہوا ہو۔ 

ات ززرلہ' اگ رچ اس ےکوگی بھی خوف زرہ ت ہوا ہو۔ 

×... پول ں کی گرچ اور گنی کی کک اور سیاہ اور صرخغ آندعی اور اشی ھی اور آس ال 
نثانیاں جن سے اکٹ لوگ خوفزدہ ہو جامیں۔ 

متلہ ۱۴۸۹ ۰ مہ ازیں زشن کے حادمات ( لا سحندر کے پانی کا ات جانا اور پیاڈوں کاگرنا جم 

سے اک لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں )کی صورت میں بھی اضاط واج بکی ما بر نما آبا تکو نرک میں 

کرنا چاہے۔ 

مہہ ۴۹۴ : جن چزوں کے لیے نماز آیات بڑہتا واجب سے گر وہ ایک سے زیادہ دقوغ پڑے ہو 

جائیں و انی نک چا کہ ان مج سے ہرایک کے لیے نماز آیات پڑت ملا ہر سور کو بھ یگمرہن 

تک جائے اور ززلہ بھی آجاۓ نے دونوں کے لیے دو انگ نمازیں بڑ مل چاؤں۔ 





سال (اپیدا 


وق وو أک ز کی مخص ب رکی نماز قیات ودب ہوں خواہ سب اس پ ایک ہی زی وجہ ے 
واب ہوتی ہوں ( شا سور کو جن وفع گرین لگا ہو اور اس نے ا کی نمازیں نہ بای ہوں) یا 
ملف یو ںکی وج سے (شلا سور گرجن اور چان دگرجن اور زز ےکی وجہ سے) واجب ہوئی ہوں ت 
ان کی تنا کرتے وقت ہے ضردری می ںکہ وہ اس بات کا تی نکر ےک کون سے قتقاکون ىی نز کے 


می کر رہ ہے۔ 


مل ۳ד بن چڑوں کے لیے مماز آیات بڑہنا واجب سے وہ نس شمریں ووغع ڑے اوں 
فتے ای شر کے نوکوں کے لیے ضردری ہے کہ نما آیات پڑھیں اور دوسرے مقلات کے لوکوں کے 
لیے اس کا پڑھنا واجپ یں ہے۔ 
متلہ ۱۴۹۳ ٠‏ انا نکو جا ےکہ جب سور ا چان دکوگربن گن گے نز نماز آیات پھھ اور 
متریہ ہج ےکہ اتی دب نکر ےکہ سورح با چان رگرمن سے _کنہ گے 
مل ۱۴۹۴ ٠‏ اگ کوئی عخص خاز جات پڑ ھن بی اتی آنی کر د ےکہ سورع یا چل دگرجن سے 
کنا شروع ہو جائۓ قہ اواکی ضی تکرنے میں کوئی رج میں لان اکر اس کے عمل طور ب رگمرجن سے٠‏ 
مستلہ ۱۴۹۵ ۰ ام سور با چاند کےکربن گنن کی رت ایک درکعت نماز پنے کے باب یا ال 
سے مھ یکم ہو فو اس صورت میس نماز آیات کا واجب ہوا قاط پر جنی سے اور اکر ان کےگرن کی 
رت اس سے زیادو ہو من انسان نماز نہ پڑھے بیہاں ک کک ہگربن کے شخم ہونے سے ایک رکعت کی 
مقدار کے برابر وقت بالی ہو اس صورت میں نماز آیات داجب ہے اور اداکی خیت سے بجی چالہے۔ 
متلہ ۱۴۹۹ ٠‏ جب کھی زلزلہ اد رگرج اور جرتی دقع پذہ ہوں ق انس نکو چا کہ فورا“ نماز 
آمات پڑھھ لجنی جلدی بڑ ھھےکہ لوکو ںکی منکروں میں اخ رکرنا ار نہ ہو اور اکر نان رکرے ن مار 

0 بی اور نار اطیاط پڑجے وقت ارا اور تنای اسب 

مل ے۱۴۹ ٠‏ اگ ری شف سکو سورع با چان کےگرہن میں آنے کا چنہ پچ اود ان س ےگرخن 

سے ال نے کے بعد پت مل کہ پورے عورع با پورے چان دکوگرجن گا تھا فو اسے چا کہ نماز 


[-_..<ح<ح٠ح٠-٠ہ-حچپو.-.ہ.”ےے.ے.-۰پڑھپ.۳[کچکپط۔ےویبجچحح-ح-ک٘ٔکپسمہس'‎ 








توضیچ‌المسائل __ 





آیا کی قاکرے شیان گر اسے پت چک کچھ جھےکوگہنن لگا تھا نماز یلت کی قضا اس پ رایپ 
شیب 

مستلہ ۱۴۹۸ 3 اف ر یھ اشخاص جن کے کن پر بھروسہ نہ ہو کی ںکمہ سرع ما چان دک وگمرانن زی 
سے اور انا یکو ان کے کین سے مین یا شی الزان حاصل : یہ اور ان اغُا رس جس کوئی ث مس 

ہو اور اس لیے وو شخس نماز آیات نہ بڑھ اور بعد میں پت کہ انموں نے کم اك 
صورت میں ج بکہ پورے سورخ یا چان دکوگرجن لگا ہو انسا نکو چا نے کہ نماز آیات پ ھے لیکن آمر 
کچھ جج ےکگرجن لگا ہو نز نماز آیات کا پڑھنا اس پر واجب ٹمس ہے اور بی تم اس صورت میں .. 
کہ ج بکہ دو اشفاس جن کے عاول ہونے کے بارے میں لم شہ ہوم مکہی یک عورخ یا چان ھکو گر ہن 
لگا ہے اور بعد میں صعلوم و وکہ وہ عاول تے۔ 

تمہ ۱۴۹۹ ؟ ار اما نکو ان لوگوں کے کت پر جو علی اعد ےکی روح سے سورع اور چان 
گر نکو سک کا وت بانے ہوں اظمینان عاصل ہو جائ کہ سورع یا چان دگرب لگا سے قز افیطا کی بنا 
بر اسے چا کہ نما آیات پڑھ اور اسی طرع اکر و کی ںکہ سورح یا چان کو فاوں دقن گر جن لگ ا 
اور انی دب تک رہے گا اور انسا نکو ان کے کین سے اظمیان حاصل ہو جائے فر قاط واج بکی بنا 
اسے چا ےکہ ان کے کے پگ لکرے۔ : 
مہ ٭*ل۵ا : اگ رکی مخ کو علم ہو جا کہ جو نماز آیات اس نے بڑھی ہے دہ پاصل تھی اے 

چا کہ دوبارہ پڑھے اور اکر وق تگذ رگیا ہو تو ا کی قذاکرے۔ 





مسلہ ۵۹۱ ٠‏ گر نماز گانہ کے دق نماز آیات بھی انسان پر واجب جو جائے اور اس کے پاں 
دوفیں کے لیے وت ہت جونی بھی پل ڑھ لےکوئی مرن نمیں ہے اور دونوں میں سے سی ی اہ 
وت جک ہو تو وہ پل پڑھھے جس کا وقت تک ہو با ہے اور مر زونوں کا وقت تنگ ہو رپا سے لو 
چا چنےکہ پل ماز چ گانہ بڑھے۔ 


مکل ۵۴۳ا : اگ رکی جح سکو نماز ٹن گان بے ہوۓ علم ہو جا کہ '. آیات کا وقتں تک 
ہے اور نماز گان کا وت بھی نک ہو تر اسے چا ےکہ بے از گنک قام مرے اور بعد یں نماز 








اوضیلامسائل سار 


آبات مہ بے اور اکر نماز جح گان کا وقت تنک تہ ہو و سے آوڑرے ے اور ےگ نماز آمات لوہ ای کے اور 





از گا دبالاے۔ 


نیل9 ۵۰۳ا : اگ کسی مخ سک مماز قیات بت ہوے عم ہو جا کہ مماز بی ان کا رقت جک 
ہی سن چاس کہ نماز آیا کہ پچھوڑ رے اور نماز جن گانہ بڑ جن میں “شخول ہو جاۓے اور نماڑ ت گار 
و تام کر نے کے بعد اس سے پٹشو رک گوئی ایما کا کر ے جو نما زکو پا لگ ہو پائی دہ نماز ارات ای 
7- مھ اج ہماں سے چھوڑں ین 

مستیل8 ۵۹۴ا : ار عورد کے نیس یا فا یکی عاات میں ہونے کے وقت سورغخ ما چان گر جن 
گم با ا رند اور برق اور انی چٹی یکوقی, اور چنز و تومغ پذم ہو ق اس پ نماز آیات رادب میں سے 
اور تہ ال کی تا وا+ب ے۔ 


ما ز آیات مڑصهےۓ کا طرلنہ 


متلہ ۵۰۵ا ٠‏ نار ٗیا کی دو ری ہیں اور ہررکعت می پاچ دکورغ ہیں۔ اس کے بڑ هن کا 
طریقہ یہ جےکہ می تکرنے کے بعد انمان گبیر کے اور یک وفضہ مھ اور ایگ برا سوہ بڑڑتھ اور 
روم می جاۓ اور پھر روغ سے حراٹھاتے پچھرددبارہ ایک دفعہ مر اور ایک سودہ بح اور پر رکوع 
میں جاۓے اسی عم ل کو پاچ دفعد انام دے اور پانچیں دکوع سے تا مکی لمت ط لے کے ہد ید 
سیرے نیالائۓ اور پچ راٹھھ کھزا ہو اور گی رکھست کی طرحع دومری رکحت تھی پبالاۓ اور تر اور 


رہ تار 
مم اب 7 


مستلہ ھ۵ا ؟ نماز آیات مس یہ بھی نکن کہ انسان حی تکرنے اور شب اور جھ رڈ ۔ 
بند ایک سور گی آیتوں کے پاپ ھےکرے اور ایک آیت ما اں سے بل کم یا ان سے یھ زیادہ پڑھے 
لود روغ میں جا اور پھ رکھڑا ہو جائۓ اور مھ پڑت بغیر ای سورہ کا دوسرا حصہ پڑت او رپچ ر رکوع 
جس جات اور ای طرخ اس مل کو درم سے مج قکہ پانچیں رکورغ سے پل سور ےکو تا مک رے 
ِ قں عواللہاحد کے ترے سے بسم الله الرحمٰن الرحیم ‏ ھے اور کور جن ہا اں 
کے ہو ڑا ہو اور پڑھھے قل ھوالله احد اور ووپارہ رکورغ میں ججائے اور وکورع کے جع رکا ہو اور 


توضٰیحالعسائل 2دودجا 


پڑھے الله الصمد پر رر ش جاے اور ھ رکڑا ہو اور پڑھے لم یلد ولم یوند اور رک شش چلا 
جائے اور پھر سر اٹھائۓ او رکڑا ہو جائے اور پڑے ولم یکن لہ فو احد اور ا کے بعد وو 
: بجر ےکرے اور دوضری رکٹ بھی پچھلی رک نکی طرح جالائے اور اس کے دوسرے سرے کے بعد 
1 ۱ تید اور سلام پڑھے اور یہ بھی جائ کہ سور ےکو پاچ سکم تصوں میں تی مکرے لن جس 
وقت بھی سورہ ا مکرے لازم ہےکہ بعد والے کو سے پل ھھ بڑھھے۔ 
منیلہ ے*نا : اگ رکوئی خصس نماز جیا کی ایک رکعت میں با وف مھ اور سورہ بڑھ اور 
دوصری مت یل ایک وفعدہ خر ہو حے اور سور ےکو پاچ حصوں میں تی مکر رے ت کوکی رح ٹمیں 
٠ 5‏ ۱ 
مستلہ ۵۰۸ ٠‏ جو زی نماز ‏ گانہ مس واجب اور جب ہیں وہ نماز گیات میس بھی وادب اور 
صخقب ہیں ان اکر نماز آیات جماعت کے ساتھ ہو ری ہو قزر ازان اور اقامت کی تہ تین دم 
ا صلی کنا متجب سے لیکن اگر نماز جاعت کے ساتھ نہ بھی جاردی ہو وھ کن کی ضرورت نہیں 


مل ۵۰۹ا :: ماز آیات پا سے دالے کے لیے شخب ہ کہ رکوم سے لہ اور اس کے بعد 

بی سے اور انچییں اور وسویں رکوغ کے بعد گببر سے پل مسمع اللہ لمن حمصدہ بھی کے 

مل ١٥۵ا‏ دوسرے چو تھے چٹ آفٹھویں اور وسویں کور سے پل قوت جب کے اور مر 

قوت صرف وسوسی رکوع سے لہ پڑھ لیا جاۓے تب بھی کال ہے۔ 

منتلہ )۵ا ؟ اگ رکوئی مخ ناز آیات میں مح کفکرےکہ تی بھی ہیں او کسی نج پر نہ تچ 

ےق ا کی نماز اٹل ہے۔ 

ل8 ۵۳۷ا : آگ رکوئی غخص جو نماز آیات بڑھ را ہو ح ککردےکہ آیا دہ بی رکعت کے آخری 

رکوع یں ہے با ددسری رکعتہ کے پچلہ رکم میں او رکسی نیج پر نہ تچ ےق ا س کی نماز اٹ سج 

بای طور یہ کی فکرےکہ چار دو با لیا ہے با پا اور اس کا یہ تک بیرے مج جانے 
سے پیل ہوقز جس رکوں کے پارے میں اسے شک ب ھکہ ہیلا ے ىا یں اسے یلا اہین لین گر 


ْ 





ترضیحالمسائل 3 ل 323ا 
تر ہیل یو جس ھت تی 
نل ا۵ا ؟ نماز جیات کا ہر وع رن ہے اور اکر ان میں عدا یا سس ای ما جیٹی ہو جا تو 


زار کل ہے 
ید فطرد قریا نکی نماز 
مستلہ ۵۸۴ا ۰ ام علیہ الام کے زار مضور میں عید فطرو قریان کی نمازییں واجنب ہیں اور ان کا 
جماعت کے ساتھ بڑھنا ضروری ہے لیکن جمارے زہانے میں ج بکہ امام علیہ السلام غائب ہیں ہہ مازریں 
تب ہیں اور جماعت کے سات یا فرادی (جھا) دوٹیں طرح پڑھی جا عکتی ہیں- 
لہ ا۵ا ؟ ناز عیر فطرد ین کا وقت عیر کے دن طلوع آقاب سے خم رک تج۔ 
ستملہ ۵۶ا ؟ عد قی١ن‏ کی نماز سورحع بڑھ نے کے بعد بڑہنا شخب ہب اور عیر فطرمیں 
جب ہ ےک سور بڑھ آنے کے بعد انظطا کیا جائے اور ک7 فط ربھی دی جاے اور بد. می نماز عید 
شی جاے۔ 
مل ےا۵ا ٭ عرطروۃ اس کت تا رآعت مل ضر اور سورہ پڑجۓ 
کے بعر انا نک چاجے کہ اہ عبریں کے اور ہر بی ر کے بعد الیک قوت پ مھ اور پانچمیں فقوت کے ٰ۰ 
بر لیک گب رکے اور رکوغع مم چلا جاۓ اور پھردو سیرے ہیلا اور اٹ کھڑا ہو اوہ دوسری ر رت 
یں چار عمیریں کے اور رگ کے بعد قوت پڑھ اور پچ یں گی ہک کہ کر یں پل جائے اور 
رکوع کے بعد وو سیر ےکرے اور تشید بڑھے اور آنخر میں سلا مک کر نما زکو تام اردے۔ 
_۔ لہ ۱۵۸: عیرخطر و قیا نکی غماز کے قوت میں جھ دعا اود ذکر بھی پڑھا ہجائے کالی ہے لن 
خرس ےکمہ مہ دعا ڑعھی جائے۔- 
اللھم اھل ائحکبریاء والعظمة واھن الجود و الجبروت وامں المفو والرحمة واھل 
التقوی والمغفرۃ اسٹلک بحق ھٹا الیومالنی جعلته ٹلمسلمین عیدا و لمحمد صلی 
الله عليے واله ذغراً و شرفا وکرامة ومنینا ان تصلی علی محمد وآل محمد وان 
تدغلنی فی کر خیر ادخلت فيه محمنا وال محمد وان تخرجنی من کل ہوڑ 
اخرجت منهە محمنا وال محمد صلوتک عليه و علیھم اجمعین اللھم آئی اسئلنگ 





توضیح‌المسائل ا4د ا 


خیر ماسئلک بە عبادک الصالحون و اعوفبک مما استعھاذ منه عبادنک 
المعلصون ٭٭ : 7 
مل ۵۴ : یم مس وہر تب جک ور خر ورک "لا 
ٹل پچھھے جائھیں اور بعتر کہ عید فطر کے خلیہ میں (کوۃ فطرہ کے اعکام بین ہوں اور عید قریان مم 
قریالی کے اعام میان یئ جاتیں- 
مسکلہ ۵۲۴ا ٠‏ عیدی نزاز کے لیے کوئی سورہ خصوص نیں ۔ ہے لان بر ے کہ بی رکہتے میں 
صر کے بعد سور شس (ہ واں ۔ورو) پڑھا چاۓ اور دوسری رکحت یل تر کے پور عورم غاشیہ (۸ را 
روا بڑھا جائے یا کی کت میں سورد کی اسم ے۸۹ واں صورہ) اور دو سرکی رکعت میں سور ىف 
پڑھا جاۓے۔ ۱ 
مسللہ ۵۲۱ا ٠‏ نماز عید را مس پڑہہناصتمب ہے لیکن کہ رنہ میں ص قب ہ کہ مسود الإرام من 
پڑعی جاف 
سیلہ ۵۲۷ا : ,؟" مب ہ ےکہ نماز عید کے لیے پدرل اور پا برجنہ اور باوقار طور پر جامیں اور نماز 
سے پل تس لکریں اور مقید عمامہ سرب باندھییں۔ 
سیل ۳ نز معید یش زین پر سد ہکرنا اور گمیریں کت وقت پاتھو کو بلن کر صتجب سے 
اور ہے تو یب ہےکہ جو فص بھی نماز عید پڑھ رہ جو خود دہ ام جات ہو یا رای نمازپڑم راہ 
نماز لیر آواز سے پڑھھے۔ 
مسلہ “٣۳‏ تخب ےکہ عیدفط ری را تکی مغرب و عشا کی نماز کے بعد اور عیر کے ون 
کی ازم کے بعد ور نماز عید فعط کے بعد یہ گی یک نی جائیں۔ 

الله اگبر الله اکبر لا الااللّہ والله اکبر الله اکبر ولله الحمد الله 
اگبر علی مامد انا ٭ 
ئل ۵۲۵۰ : عید قرین میں وس نمازوں کے بعد جن مج سے یی نماز عید کے دن نماز ظیرے ۱ 
اور آتری نبارہویں نر کی نماز یع ہے ان گببرات کا بدہنا شخب ہے شن کا کر سابقہ صائلہ میں ہو 





توضیچالمسائل__ کب اوت ان 


پا ے اور ان کے إتر الله اگبر علی مارزقتا من بھیمة الانعام والحمدللء علی ما اہلانا 
بڑھنا بھی سحخب سے لین گر عید قریین کے موقع بر افسان سی میں ہو ق صخجب ہے کل ىہ یں 

.چدرہ نمازیں کے بعد پڑھھ جن میں سے مکی نماز عید کے دن کی نماز ظھبر ہے ادر آ فری جیرعویں ذی 
ھی خاز کے 

مستلہ ۱۵۳۷۹ ! اعقط صخب بر ہب ےکہ عورتیں نماز عید کے لیے جانے سے باذ رہیں کن سے 
اعقیاط بوڑھی عورہوں کے لیے یں ہے۔ 

مستلہ سے ٢ھا ٠‏ ناز عید میں بھی دوسری تمازوں کی طرح مقنڈ یکو چا تن کہم اور سورد کے 
علاوہ نماز کے پاتی ازکار خور سے بڑ ھے۔ 

مل ۵۲۸ : اکر ری اں وت پچ جب لام ماد یھ گیری یکلہ چک و امک کو 
بیں جانے کے بعد تقتر یکو چا کہ ہنی گبیریں اور تقوت اس نے امام کے ساد نہیں ہو سے انہیں 
پڑھے اور مر ہر قوت ٹم ایل رف ممبحان اثله یا ایگ رع الحمدتلہ اہ رے آوکائی ہے۔ 
مہہ ۱۵۳۹ 2 اگ رکوئی مخس نماز عید میں اس وقت بی کہ جب امام رکم میں ہو ئوہ نی کر 
کے اور ما زکی تھی کی رک کر رکوغ میں جا حا ین : 

منیلہ ٭ ھ۵ا ؟ اگ رکوئی نس ناز بیس ایک سدہ یا تشد بھول جائئ تو اعیاط نیہ ہی ےکہ نماز کے 
بعد اسے بھالاۓ لیکن اگ ر کوئی ایا شنل نماز عید میں سرزد ہو نس کے می نماز پچ گکانہ جس سیر سو 
ازم ہے نز نماز عیر نے دالےے کے لیے ضردری نی ںکہ دہ سحبرو سو بیلاۓے۔ 

نماز اچارہ 


لہ ۵۳ا : انان کے مم ے کے بعد ان نمازوں اور دوصری عبادتوں کے لین جو دہ زمدگی میس 
یں میا یا ہ و کسی ووسرے خس کو ابر بنا جاسکنا ہے لڑنی دہ نمازیں اسے اجرت در ےکر بڑھائی جا 
کی ہیں اور اگ رکوئی شنصس بغیراجرت لیے ان نمازوں اور عبارات کو یا لائۓ نز ا 0 جن ے۔ 


مستلہ ٢‏ ا۵ا ؟ انان بضن س-حبی کاموں کے لیے خلا جر رسول ارم یٹپ یا تور 





توضیمالمسائل ا۷ا م2قد] 
ائخہ میم اللا مکی زیارت کے لیے زندہ اشفا کی طرف سے اجرین سا ے۰ اور یہ بھ یکر سکتا سے 
7 مستحب یکم انجام و ےکر اس کا ٹڑاپ دہ یا زندہ اشخائ کو پر ےکر رے۔ 
مل ۵۳۳۴ا : جہ مخس نار تھے میت کے لیے ازیربے اس کے لیے ضردری ہے کہ یا 
مین ہو ما نماز کے ممائل تقظی کی رو سے کچ طرز بر جامتا ہو یا کہ اعقیاط بر عم لکرے اشرطلہ موارر 
ایا کو ری طرح جات ہو- 
منتلد ۵۳۴ا ٦‏ اف رک چا ےکہ می کرت وقت می تکو می نکرے اور ضردری خی ںکہ ممیت 
کا ام جات ہو کہ اگر ارز می کر ےکلہ ہہ میں نے نماز اس شنیس کے لیے بڑھ رہ پت 
اتی ہوا ہوں تو کان ے۔ 
متلز ۱۵۳۵ ١‏ ابق کر چا ےکہ جو عل جا لا اس کے لیے می تکر ےک جو یھ ممیت کے 
زے بے وہ جا لا رہا ہوں اور اکر اق مکوئی عنل ایام رے اور اس کا ٹواپ می تکو پری کر رے تو ے کا 
میں ہے۔ 
مستملہ ۰ ۵۳۳۷ا :1ے مخ سکو مقر رکر چا نے جس کے بارے میں اطبینان ہ کہ وو عم لکو ہیا 
لاۓ گا۔ 
منیلہ ے ۵۳ا : جس مخ سکو می تک نمازوں کے لین اق بنایا جائے اگر اس کے بارے یل پت 
کہ وہ ع ل کو جیا نیں لایا ما ال طور پر بھا لایا ہے نذ ددبادہ کسی ووسرے نس کو ایر مقر رکرنا 
چا جج 
مستلہ ۵۳۴۸ا : جب کوئی مخصس ن کر ےہ ایرنے عمل انجام دا ہسے ما نی اذر ات قائل 
یبن منص ہو اورک ےکہ میں نے اخحجام دنے دا ہے فو اس کاکنا کال ہے اسی طرح اکر قق کفککرے 
کہ اس .بے جج طور پر انجام دا ہے یا نہیں قز اسے کیج ىی تھے۔ 
مستلہ ۱۵۳۹ :1 بوخ سکوئی مزر رکتا ہو لاس مکر کے پا میلھ کر نماز بڑھتا ہو ات عیت کیا 
فمازوں کے لیے ات یں مقر رکرنا چا نے اکرچہ می تک نمازیں بھی ای طرح تا ہوٹی ہیں 

مللہ ۵۳۰ا : مرد عور تکی طرف بے اقربن سنا سے اور ععورت مدکی طرف سے اتیرین 





توضیحالمسائل : ۱ ہت .] 


علق سے اور جہاں کک نماز بنر آواز سے پڑحط کا سوال ہے ارک چا ےکہ اپ دی کے مطابق مل 
کرےد ٌ 
مل ۵۲۱ : می ت کی قفا نمازوں می ترحیب وجب میں ہے سوائے ان خمادویں کے ج نکی ادا 
1 میس عیب سے لا اک و نکی از ظرو عصریا مغرب و عشاء جیساکہ پل ذکر ہو پک ہے 
سیل ۵۸۲ا : گر اج کے سار سل ےکیا جا کہ عم لکو ایک مخصوص طریے کے مطبق انجام 
رے گا انکر چا ےکہ اس ع لکو ای طریق کے مطابق انام رے اور اگ رھ ہے نہ ہوا ہو لایر 
کو چا ےک ود عل اپنے رظیفہ کے مطابق اخیام رے اور اضلط تب ہہ ہےکہ اپ دشیے اور میت 
کے ریف میں سے جو بھی انل کے زیاد قیب ہو اس طرح عم لکرے خلا کہ ممیت کا ویقہ 
....بحات اریعہ من وفعہ بوھن تھا اور ا لکی انی لیف یگ رلعہ بڑھن ہو نو ٹین فدہ پا 


مل ۵۳۲۳ا : جمر اہ کے سا ىہ سے ش ہکیا جا ےکہ ما کے تما تکس مقدار یش پڑسہ 
گے پا کہ مآ نے مسبت پڑھھ جاتے ہیں ائئیں پیا لا٤-‏ 

مل ۵۳۳۲ا : کر ازین می تکی قفا نمازوں کے لیے کئی اشفا سکو ایر مقر رککرے۔ تو اسے 
چا ہی ےکہ پراق کے لیے وقت متا نکرے۔ 


سیل ۵۴۵ا ؛ اگ رکوئی مخس ایب ےکہ مال کے طور بر یک سال میں می تک نماڑیں پھ 
رے گااور ال خم ہونے سے پھلے مرجائے تو ان خازوں کے لیے شن کے پارے میں عم دہ وہ ھا ۱ 
میں و کسی اور شف سکو اق مقر ہکرنا چاہچے اور جن مازوں کے پارے میں اٹل ہہ دو ایس میں 
ا لایا اعضالط وا بک بنا بر ان کے لیے بھی اق مقر ہکرنا جچاجے۔ 
مل ۵۴۷۴ا ؛ جس مس کو می نکی فا نمازیں کے لیے اق رمقر رکیا جائئے اوہ ال نے لن 
سب از ںکی اجزت بھی وصو لک رکی ہو اکر دو ساری فازیں باج سے پھہ مرجاے ق نگ ابی سے 
۰ ساتھ ہے ےک یاگیا ہ وکہ ساری نمازس دہ خود دی پڑھے گا اور جارہ دس وقت وہ ایاکر ے پٍ ندرت 
بھی رکتا ہو تو اعارہ گخ سے اور اجار ہکرنے والا اس نے ارتا تھا) باتی اندہ نمازو ںکی اجرت النل 
شی رقم کے برنے بات ماندہنمازیں چی جانگیں) داپیں لے کنا ہے لور کر دو نی ایر یاکرنے پ 


سسہ::ہححسبکی۰ی۳حٛ۳۳۷+وپکجتھکھسھسککھتھتت- 





توضیحالمسائل )[ 8دد ا 


ین کل مازیں خود پڑھن پر تاور ٹیس تھا قباس کے فیت ہو جاتے پس بل ماندہ نمازوں کے پارے میں 
اجارہ باضل سے اور اجارہ ریے ول بای نمازوں کی سے شدہ اجرت والیں نے متا سے پامکزشن مقرار کے 
: اجار ے کوٹ کر سای اور ا کی اجرت الشل رے سکناہے اور آگر بے سے نہ کیاگیا ہوک سارئی 
ممازین اق نود پڑھے گا اترک دراو چا کہ اس کے مال میں سے باقی مانزہ نمازوں کے لی کس یک 
ان میں لین اکر اس نے کوئی مل نہ چھوڑا ہو قذ اس کے دراء پر مھ بھی واجب میں ہے۔ 
مّل ےہ۵ا : گر ایر می تکی سب قفا نمازیں پڑھنے سے پل مرجائے اور ال کے ای جم 
بھی ضا نھازیں ہوں تر مسنلہ صابقہ جیں جو طریقہ گیا ہے اس طرع مم لکرتے کے بعد لک اس لق 
فوت شدہ اتی ر کے مال سے یھ ۓئے اور اس صورت میں بیمہ اس نے دعیم تکی ہو اور ایس کے وریاء 
بھی اجازت :رین ا یکی سب نمازوں کے لیے اق مقر کیا جا سکتا ہے اور اکر ورماء اجازت شہ دی ل 
مال کا یسر حصہ ا سک نمازوں پر صر فکیا جا سکتا ے۔ 


. روزہ 


مل ۸ء مردزہ بھی رین الام کا ایک رکن الم اور اہم عبارت ہے۔ اس سے مرا ہے ہے 
کہ افہان اللہ تعاٹی کے عم کی تقیل کے غاطر طوغع بج صابق سے لے کر رات ہونے تک مض 
وی ے پچ کرے۔ ٠‏ 
تاج اہ رمفمان کے روڑے صلاوں پ فرضسی سیئے گے ہیں اور ہے جم قرآن یر گی سورد 
پف کی آیت ۱۸۳ میس ان الفاظ میں دیاگیا ہے۔ 
یاایھا النین امنوا کتب' علیکم الصیام کا کتب علی الذین من قبلدکم 
لعلحکم تتقون ”نے امھان والو ! روزہ جس طرح حم سے پل لوگوں بر فرش تھا ای 
.. طئ تب بھی فر ضکیاکیاہپے لہ تم ا ں کی دجہ سے پ ہزیر ین جا" 
نات اں سے ابع کی آیات میں روزے کے متلق چند خیادی اعکام تفصیل سے جیا یئ ٠‏ 
ہیں خلا مہکہ اگ رکوئی مخ رعضان البرک می بیار جو با مفریش ہو اے ہا کہ اس 
بنا بر نت روڑے نہ کہ کے بعد میں ا نکی تضاکرے اور جو شخص ہہ مشقت روزہ رہ سکیا 


ممصٗبججسسجصسسجسپٌوسسوعوصسصوتتتص---دسا 





توضیحالمسائل___ )333ا 


جائے اور برای دن می کی وت ہوش آجاے ت اقراط کی ما پر اے ای کہ اں دن کا روزہ تام 
رہ اور اکر قیام ش ہکرے فو ا کی فا بجا لاے۔ 

نہر ۱۵۵۸ ۰ مگ رکوئی منص مجح صادق سے پل روز ےکی حی تکرے اور پھر مست ہو جاے 
اور نج اے رن میں کی وقت ہوشل آ جاۓ و اطّاظط ذاجب ہے ےکہ ا ون کا روڑہ قا مکرے اور 
ا ںکی قضا گی :ہا لاد 

مل ۵۵۹ا : آل رکوئی مخ مجع صادق سے پل روز ےکی تی تکرے اور سو جا اور غرپ 
کے بعد پیدار ہو تر ا کا روزہ گج ے۔ 


توضیج‌المسائل : ).1 29د ۱ 


ہو اور نہ ر کے ٹو اسے جا کہ ہر روزہ کے برئے میں ایک مکی نک ورکھاتا کھلا ہے 

۵ٹ مروزے کے بھت سے فائدے ہیں۔ اس کے زرییے انسان کے اندر ار تمالی کی 
شگرکزاری ع رکرنے اور برائیوں سے جچے کے جذبات پا ہوتے ہیں ام رآومیو ل کو روزہ 
رک کر بھوک اور پیا کی شدت اور لیف کا تا تا ہے اور ان کے ولوں میس اپے غریب 
پھائیو ںکی مدکی خوائش پا ہوٹی ہے روزہ انان کے مم کے اندورلی فظام کی املا خر( 
ہے اور عم کے اندر پیرا شدہ نتصان دہ نال ماوو ںکو شخ مکر ویتا ہے۔ 

۵ ... مو رعضان می وہ مبارک مین ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا۔ اس مین مم عبارت 
اور کیک کاموں کا ٹذاب عام تو سے کیل زیادہ 7 لیلالقدر ای مین مس آئ 
ہے ے اللہ تعالی نے ہزار ممینوں سے انضل ترار ویا ے۔ اس ماہ مارک میں روڑے رک 
کہ انان ارشاد ای کی جو تی لکربا ہے اس کی خوش میں کم وا ل کو عیدالفط ممائی جاتی 


0 


سے کے اضام, 


روزہ سے ہے کہ فداون عالم کے فیا نکی تقی لکرتے ہوئے انسان مع صاوق سے رات کک لو 
یں سے جو بعد ا نکی جائی کی پر زکرے۔ 








توضیمرالمسائل ( عدد ا 


للا اس تے نڈر مال ہوکہ ایک مقردد و نکو روزہ ر کے گا اور ئن بوچ ھکر مع صاوق تف نیت ش رن 
قے اس کا روزہ پاطل سے اور اکر سے خعلوم نہ ہوکہ اس دن کا روزہ اس پ واحب ہے یا حول جاۓ 
اور ظمبر سے پل اسے یاد آئے و اکر اس نے کوگی ایا کام نہ کیا ہو جھ روزے کو پاف کر ہو اور 
روز ےکی حی تکر لے قو ال کا روزہ کچ ہے ودنہ باعل ہچ۔ 


مستلہ 0۵۷۴ : ہگ رکوئی مخ سی فی رخعین داب روزے کے لیے خلا روزکغارہ کے لیے مر 
کے فزدیک کک ما حیت نرکرے کوئی حرج میں مہ اکر میت سے پل حم ارارہ رگتا ہ وکہ روزہ 
یں رکے گا یا نذیذزب ہوکہ روزہ ر کے پا شہ رک فو اگمر اس نے کوئی ایا کام تہ کیا ہو جو روزے کو 
اط لکرن ہو اور ظبرسے پ لہ روز ےکی می تکرے قذ اس کا روزہ کیچ ہج۔ 

مہہ ۵۹۵ا ؟ ا رکوئی کاف اہ رمضان میں ظرے پل ملمان ہو جائۓے و اعقیاط واج بکی بنا 
نے چا کہ روڑے گا می ھکرے اور روز کو قا مکرے اور اگ ای رن کا روزہ نہ رھے ‏ ا یکی 
تضا کجالاۓ۔ 

سنہ ۵۷۹ا ٠‏ ا رکوتی بیار شس ما رمفان کے صسی دن وس میں ظمر سے لہ یا اس کے بعد 
تررست ہو جائے قز اس ون کا روزہ اس پر واجب شی سے خواو اس نے اس وفت تح بکوئی ایا کام شہ 
کیا ہو جو روز ےکو پاط لکرتا ہوں 

مل سے٦‏ ۵ا ٠‏ جس دن کے بارے میں انان کر کک ہو کہ شیا نکی آنفری تر ہے یا 
رمضا نکی بھی ارہن۔ اس دن کا روزہ رکھنا اس پر واتب شمیں ہے اور آر روزہ رکھنا چاے تو رمضان 
السبارک کے روز ےکی خیت خی ںکر سکتا اور نہ بھی ہہ بی تکر سنا ہ کہ اگلر رمفضمان ہے تو رمضمان کا 
روزہ ہے اور اگر مان میں ہے تر قضا روزہ یا ای یکول اور روڑہ سے بلہ اے چا کہ دا 
روزہ ویر کی فی تکرے اور ار بعد مم پت کہ او رمضمان تھا رمضمان کا بروزہ شار ہو گا لان اکر 
می ت کر کہ اس وقت اللہ تعائی جو یھ ھ سے چاہتا ہے اسے انام رے ر| ہوں اور بعر میں معلوم 
ہوکہ رمضمان تھا جب بھی کائی ہے۔ لژنی وو روزہ رمخمان ال ارک کا روزہ شار ہو گا) 


مل ۷۸ ا؟ مر کی دن کے بارے مس انمان کو کیک ہوکہ شعبان کی آخری ترحن ہے با 


:و روڑہ ماہ رمقران کا روڑہ شار ہو گا۔ 





توضپ‌المسائل اححد] 


رفان الپارک کی سک ان اور وم نا یا مستجی پا لیے یی اور روٹہ گی نیب کر کے روڑھ 
رک نے اور ون می کسی وت اسے پچ پچ کہ مہ رمضمان ہے تو اسے چا ےکہ ہاو رممان کے روڑے 
یی بی ٹٹکرے۔ 


مستلہ ۵۹۹ا : اکر کی مین واجب روزے کے پہارے می لا رمضیان المبارک کے روزے 

کے بارے میں انمان ریذب ہدکہ اپنے روڑےکو پا لککرمے ما ز کرے پا بروڑ ےکو باط لکرتے کا 

قص رکرے تو خواہ ا نے جھ قصدرکیا ہد اس سے توب بھ یکرے او رکوئی ایا کم بھی ہکرے جس سے 

زوزہ پل ہو نا ہد اس کا روڈہ بل ہو جانا ہے لیکن رات کک اصاک واجب ے۔ 

مسللہر می ےا :۰ آآ رکوئی خس جو سب روزہ اور اییا واحب روزہ لا کفارے کا روژہ ر بے 

ہوئے ہو ٹس کا وقت تین نہ ہو کسی ایی کام کا تص رکرے جو روز ےکو بائ لکر ہو یا ریپ ہوک 

کوتی ایا کل مکھرے پا نہ کھرے فے آگر وہ کوئی ایا کام نہ ککرے اور ظمر سے پللہ ویارہ روڑے کی یت ۶ 
کرنے فو اس کا روزہ کچ ے۔ 


2 یں جھ روز ےکو پا تی ہیں 


مستلہ ۵ا ٠‏ نو ہچزیں روز ےکو باف لکرتی ہیں۔ 

...١‏ کھا اور بیاگ 

٢‏ مل کرنطل 

٣‏ اسنمناء (اور استصناء سے کہ انمان اپنے سانھ یا عصسی دوسرے کے سا 
تا کے علاد ہکوئی ایا ليکرے جس کے نے یش ا ںکی بدن سے می مار ہو 

۴ہ خداتالی اور لب کے جانٹینوں سے کوئی جھوٹی بات ضضو بک ری 

۵.. غبار عل کف پنیا 

٦ں‏ پا ص رامش ڑود 

2 صاوی تک جنابت اور تی اور نفا کی عامت پر بائ وہنا 

ہ... می ے وال چیزے جن (قما)کر)۔ 

۹ أکر۔.. لن کے بارے میں اظکام آتندہ مسائل مش بیان سییئے جائیں گے۔ 





ترضیں‌‌المسائل : ھ 334 3 


|[- کھاتا اور یھنا 


مل ٢ے‏ ھا ؟ ار روزہ دار ال امرکی جاب موجہ ہوتے ہو ۓکہ روز سے ہ ‏ کوکی چزر 
بن بوج ھک رکھاے اور پے تر اس کا روزہ پاٹل ہو جا سے تع نراس سے کہ وہ پچزاڑسی ہو سے مر 
کھیا اور پا جانا ہو خلا روٹی اور پائی ا ابی ہو سے مج مونکھایا ا با نہ جا ہو شلا می اور درشت کاشیرو 
اور شواہ ٹم ہو یا زادہ کہ اگر روزو دار مصواک منہ سے ھگائے اور دوبارہ مضہ میں نے جائے اور ای 
کی تزی شل نے و روزہ پاطل ہو جاۓ گا۔ 

مستلہ سے ۵ا ٠:‏ جب روزہ دا رکھا کھا را ہو آمر اسے معلوم ہو جا کہ مع ہو گئی ہے تو ات 
چا یہ ےکہ جو لقہ مہ میں ہو اسے انل دے اور اگر ان بوچ کر وہ لقہ گل لے تاس کا روز پاشل ہے 
اور اس تم کے مطابق جس کا کر بعد میں ہو گا اس پر کغفارہ وانب ہے 

لہ سم ھا : اگر روزہ وار شی سےکوتی چیرکھا یا بی لے فو اس کا روزہ پنلل شی ہونک 
منلہ ۵ے۵ا ؛ ج ائیلشن (نیے) عو کو ہے ح سک نے ہیں بای اور متصیر کے لیے اتد 
ہوتے ہیں روزہ دار کے لیے جائز ہیں۔ لاژم ىیہ ہے کہ ان انحکشنوں سے پرہیزکیا جائے جو غذاگی" 
ہجاۓ استعال ہوئے ہیں۔ 

مل ٦کھا‏ ٭ ار روزہ وار وان کی ریخوں میں نی ہوگی چچ کو حا شل نے ت اں کا روزہ 
اٹل ہو جا ے۔ 

مستلہ سے ۵ا : جو فص روزہ رکنا چاہتا ہو اس کے لیے ػع صادق سے پل دانتوں میں خلول 
کر شردری مخیں سے لین اکر سے عم ہوکہ جو مزا داشوں کے ربوں میس دوگئی ہیے وہ ون کے وقت 
ید می لی جائ ےکی فو اکر دہ نڈای ن رکرے اور وائتوں میں جنسی ہوگی نخذائیس س ےکوی چزر اس کے 
وی میں لی جائے تو اس کا روزہ ٹل ہو جانا ہچے۔ 

مکی ےنا :مت کال دب نگنے سے روزہ پطل نمی ہو خواہ وہ لعاب نشی ویو کے تور 
سے بی منہ میں جح ہ وکیا ہو۔ 





توضیح‌المسائل [ 9ود ۱ 


ہو اور نہ رت تو سے چاب ةکہ ہر دوزہ کے بدلے میں ایک مسکی نک وکھاتاکھاہے_ 

۵( مروزے کے ھت سے فائدسے ہیں۔ اس کے ذر یھ انان کے اندر ار تمالی کی 
شگررزاری مص رکرتے اور برائیوں سے یچ کے جذیات پیا ہوتے ہیں امیر آومیو ںکو روڑہ 
رک ھکر پھویک اود پا ں کی شدت اور لیف کا ا جانا سے اور ان کے ولویں می ات خیب 
بھاتو ںکی مدکی خوائشل پیدا ہوتی ہے روزہ این کے مم کے اندورل نام کی اصلا ح کر 
ہے اور مم کے اندر پا شدہ فقصان دہ ال مادو کو ش کر دا ہے۔ 

3 ...اہ رمضان ىی دہ مارک مین ہے جس میں قرآن مد نازل ہوا۔ اس مینے میں عبات 
اور کیک کاموں کا تاب عام ممینون سے کہیں زیادہ ے۔ لیلة القدر ای میے ش آل 
ہے نے اللہ قھالی نے ہزار ممینوں سے افضل ترار دا ہے۔ اس ماہ مارک میں روزے رکہ 
کہ انان ارشاو ای کی جھ نیل کر ہے ا کی خوشی میں کم شوال کو عیدالفرنائی جاتی 


ہے۔ 
0 


روزے کے اکامِ 


روڑہ ہے ہ ےم خدادنھ عالم کے فربا نکی تقی ل کرتے ہو انسان یع صادی سے برات کک و 
تزوں سے جو بعد مس میا نکی جانی ں گی پرہی زکرے۔ 


خیت 

مل ۹ء انان کے لی روزے کی نیت ول سے گزارنا یا لا ہے کناکہ میں کل روڑہ 
درکھوں گا روری نی مہ اس کا ىہ اد ہکرنا کنی ہےکہ دد اللہ تال کے فیا نکی ققبل مم مج سادق 
سے رات کگوئی اییاکام خی سکرے ما جس سے روہ باٹل ہو ہو اور ہہ یقن حاص لکرنے کے لیت 
کہ ای تقام وت می وہ روزے سے وا ہے اسے چا کچھ دہ مع صاوق سے پل او سپ در 
مغرب کے بعد بھی ای کا مکرنے سے پ ہی زکرے مجن سے روزہ بال ہو جانا ہے۔ 


مل ۵۵۰ا : انسان ماہ رمضمان البار فکی ہررا تکو اس سے اکلہ دن کے روز ےکی نی تکر 





توضیح‌المسائل م1 330 5 





ککیاے اور بحتریہ ہےکہ اس می کی یل را کو ہی سارے میق کے روزو کی می تکرے۔ 
صتلہ )۵۵ا ؟ مہ رمضان البارک کے روڑ ےکی ضیت کا وقت را ٹک ابتر! سے تع صادقی تک 


ے۔ 

مل ۵۵۳ا : مستحبی روڑے کی میت کا وت اول شب سے تےکر دو مرے ون مخرپ 
سے پیل اتی وم کک ہے جس میں می تکی جا اور اک کی ششف نے ا وت ت بکوئی ایا ام نہ 
کیا ہو جو روز ےکو پاط لیک ہو اور مستحبی روز ےکی ضی تک مے قو اس کا روزہ گج جے۔ 
مل ۵۵۳ا : جو ہنس مھ رمضیان البرک کے روزوں کے علاوہ دخویں یں روز ےکی غیت سج 
یف ازان مج سے لہ سو جاۓ اکر وہ مر سے کہ بیدار ہو جائے اور روڑ ےکی خی تک لے و خواو 
اس کا روزہ راب ہو یا محخجب وو روزہ گج سے اور اکر وہ ظمرکے بفد پیرار ہو ق وب روڑے گا 
ریت خی ںکر سک لن ۴ رکوئی مخ ملو رمفین المبارک میں رو ےکی میت سک ای رسو جاے تر خواہ 
وو ظبرسے پل ہی بیدار ہو جا اور نی تکر نے اس کے روزے کاسجح ہونا مکل ہے 

مل ۵۵۲۴ا : اگ رکوئی مس ما رمضان ارک کے روڑے کے ک اوہ گوئی رو گرا روز رکا 
پاہے تر اسے ای ےکہ اس روز ےکو می نکرے لا فی کر ےکہ می اکا یا نڈ کا وڈہ دکھ دا 
ہوں لیکن ماو ران البرک می ہہ حی تکرنا شردی خی کہ یش او ران کا روڈہ درکھ وہ ہوں رہ 
ال رس یکو علم نہ ہو یا پھول جا ۓےکہ اہ رمضان ہے او ری دوسرے روڑے کی تی تکر لے تب بی 
رہ روژہ اہ رمقیان کا روز شار ہو گال 

مل ۵۵۵ا : ال زکوئی شخص مان ہ ھکہ رمضرارن اللبارک کا عمینہ سے اور جان بوج دک ماد رمضان 
کے روزے کے علادہ می وورے روزے کی بی تکرے وش وہ رمقمان 'شریف کا روز تصور ہو گا 
اور نہ وو روڈ بش کی اس نے می ت کی ہے : 
مل ٦۵۵ا‏ : شیل کے طور بر اگ رکوئی فص ماہ رمضان البارک کے پل روڑے کا نیت 
کرے لیکن پور میں معلوم ہوکہ یہ دوسرا یا ا روہ تھا ال کا روزہ کا ےج۔ 

مل ے۵۵ا : ا رکوئی مخصس بج صارق سے پیل روز ےکی می ت نے کے بعد سپ ہو ٭ 





توضیچ المسائل__ ).-311دد ا 


جائے اور برای دن مں لی وتت مرش آجاۓ لز اعقیاط گی ما پ سے چا ۓکہ اس ون کا روزہ قام 
کرنے اور اکر قام کے قے ا یکی تا جیا لاۓے۔ 
منکلہد ۵۵۸ا ۰ ن۰ رکوئی شفنصس نیج صصارق سے پل روزے کی حی تککرے اور پچھرمست ہو جائۓے 
ارر یج اے رن شی بی وقت ہوشی آ جاۓ ا اظاظ واجب نے ےک اں ون کا روڑہ قا مکرے اور 
ا سکی قضا بھی پیا لاد 
مل ۵۵۹ا ٭ آ زکوئی من مج صاوق سے پیل روز ےکی حی تکرے اور سو جائۓ اور مخرب 
کے بعد پیدار ہو تر اس کا روزہ کچ ےے۔ 
مستلہ 0۵۷۹۰ ٠‏ نل رکسی خخ سکو علم نہ ہو یا بھول جات کہ ماہ رحضان سے نم رسے پیل اس ام رکی 
بجاب موجہ ہو اور اس دوران می ںسکوتی یبا کا مکر چکا ہو جھ روز ہکو پا لکرا سے یا خظمرکے بعد موجہ 
ہ کہ ماو رعفانع ہے ق اس کا روزہ بافل ہو گا لگن اسے ای کہ مغرب ک ککوئی ایا کام ن ککرے ہو 
روز ےکو پاف لکرا ہد اور ماہ رعفمان کے بعد اس روز ےکی قضا بج لکرے اور گر ظبرسے پل موجہ 
ہو او رکوئی ایا کام بھی ن کیا ہو جھ روز ےکو باط لک رن ہو تذ اط واج ب کی بنا بر اس کے سے بھی یی 
ے۔ ۱ 
متلہ ۵۷۱ا : خر ماہ رعفان میں پہہ گج صادق سے پپللہ پان ہو جائے تو اسے جا کہ روزہ کے 
اور کر گیج عصاوقی کے بعد بالغ ہو تو اس ون کا روزہ اس پر واجب میں ہے۔ 
ملّلہ ۵۰۷۲ا : جو مخس میت کے روزے رک کے لین اتیرینا ہو اگر وہ مستحبی روڑے 
رجھے تو کوئی حرج نیں فان اکر قفا روزے پا ووسرے واجب روزے کی کے ذے ہوں و وہ 
مستحبی روزہ خی رکھ گنا اور گر بھو کر مستحبی روزہ رکہ لے تو اس صورت میں اگر اے 
ظمرے پہ یاد آچا٤‏ اڑا کامستجی روڑہ کا لدع ہو جات ہے اور وہ ای نیت واجب روڑ ےکی 
جااب مو سکتا سے اور آگمر وہ نم رکے پور متوچہ ہو و اں کا روزہ اطل سے اور آر اے مغرب کے بعد 
ا آ ہے قو اس کا رود کے 


تال م۳٦۱۵‏ : اگ ماہ رمضان کے روزے کے علاو ھکوئی دوسرا مخصوس روزہ انان پر واتب ہو 





توضیرالہمسائل نے اتال 


لا اس نے نزر انی ہوکہ ایک مقردہ و نکو روڑہ ر کے تا اور جان اوج ھکر مع صاوق تک عیت شہکرے 
و اس کا روزہ پاٹل ہے اور اگر اسے معلوم شر ہ وکہ اس دن کا روزہ اس پر واب ہے یا بھول جانۓ 
اور ظبر سے پل اسے یاو آئے فو اھر ای نے کوئی ایا کام ش کیا ہو جو روڑے کو پاش ل کرنا ہو اور 
روزے کی ضی تہکر نے قے ا کا روزہ کچ ہے ودنہ باطل ے- 


مستلہ ۹۴۳ ھ۵ا ۰ ہگ رکوئی مخ س سی خی رمین واجب روزے کے لیے لا روزہکغارہ کے لیے ظ مم 
کے فزدیک کک عا نیت ظرکرے ت رکوئی مرح میں لہ اگر ممیت سے پلہ حم اراوہ رگھتا ہ وہ روزہ 
میں رکے گا یا ذیذب ہوکہ روزہ ر کے یا نہ ر کے فو اکر اس نے کوکی الییا کا ش کیا ہو چو روڑے کو 
ا ل کر ہو اور مر سے پیل روز ےکی خی تکرے فو اس کا روزہ کچ ہے۔ 


منلہر ۱۵۷۵ ٠‏ اگ رکوئی کافاہ رمضان میں ظمرسے پطلہ صلمان ہو جائے ظذ اطیاط واج بکی بنا یر 
اس چا ۓےکہ روزے کی حی تکرے اور روز ھکو تا مکرے اور کر اس ون کا روزہ نہ دکے قٍ ا کی 
ضا کیالاۓ۔ 


مستلہ ۵۹۰۳ا : أُ رکوئی بیار مخ مو رمضمان کے صسی دن وسے میں خظمر سے پیل یا ایں کے بعد 
تتدرست ہو جائے پے ال ون کا روزہ اس پر واجب میں .ہے خواہ اس نے اس وت ک ککوئی ای اکم ز 
کیا ہو جو روز ےکو پاش لک رتا ہو 


مستلیہ ے٦۵ا‏ : :نجس رن کے بارے میں انبا نو ترک ہو کہ شیا ن کی آخری تَرںن ہے یا 
رما نکی گی نارمع اس دن کا روزہ رکھنا اس پر واہنب شمیں ہے اور ار روزہ رکھنا چاے تو رعضان 
البارک کے روز ےکی تیت می ںکر متا اور نہ بی ہہ فی تک سنا ہ ےکہ گمر رمفمان ہے و رمضمان کا 
روزہ سے اور گر رمفیان خمیس سے تو قطا روزہ یا ای جس اکوئی اور روزہ ے بگمہ اسے چا کہ نا 
روزہ ویر :کی نی تکرے اور اگر بعد میں چت کہ ماو رمضان تھا قذ رمضمان کا بروزہ شار ہو گا لان اکر 
بی تکر کہ اس وقت اش تعالٰیٰ جو چتھ گھ سے چاہتا ہے اسے انام درے رہ ہوں اور بن میں معلوم 
+وکہ رمفمان تماحب بھی کائی ہے۔ (شنی دہ روزہ رمفبان البارک کا روزہ ار ہو گ) 


مہہ ۵۹۸ا ؟ اگ رکسی دن کے بارے میں انمان کو شک ہ کہ شعبان کی آخری تر ے یا 





توضیح‌المسائل ااحدد] 


رشان البارک کی گل ار اور وہ ثضایا مستحبی با لئے یی اور روزہ گی بی تکر کے روڑہ 
رک نے اور دن مم ں کسی وقت اسے پن ہل ھکہ ماہ رضمان ہے تو اسے چا کہ ماہ رمضمان کے روزے 
کی نبی کرے۔ 


مہ ۵۹۹ ؟ اگ رکسی مین واجب روزے کے پارے میس شا ران الہارک کے روڑے 

کے بارے میں انسان نیب کہ اپنے روڈ ے کو باعل کرے با کرمے پا روز ےکو پاط لی کرتے کا 

قص کرے قز خواہ اس نے جو تص ہکیا ہو اس سے قوبہ بج یکرے او رکوگی ایا کام بھی نہکرے جس سے 

روزہ پاٹ ہپ بد اس کا روزہ بل ہو جانا ہے لکن رات تک اساک وایجب ہے۔ 

متلہ ٭ے۵ا ؛ أگ رکرئی غخس جو تب روزہ اور ایما راب روزہ خلا کفارے کا روڑہ ر کے 

ہویئئے ہو نس کا وت مین نہ ہو کسی ای کام کا قص رکرے جو روز ےکو پاط کر ہو یا یب ہوک 

کوئی انا ام کرے پا نہ ککرے فو اکر دہ کوتی ایا کام نہ کرے اور ظبر سے پل ردہارہ روڑے کی یت ٤‏ 


کرنے قو اس کا روزہ کچ ے۔ 


دہ پچزیں جھ روز ےکو ال بب تی ہیں 

مل ھا ؟ فو ہیں روز ےکو باط ليکرتی ہیں۔ 

١‏ کھاناادر بی 

۷٢ے‏ جا کرند 

×٣‏ اسنمناء۔ (اور استمناء سے ہے کہ انان آپچے ماتھ نا سی دوسرے کے ساتھ 
ماع کے علاو ھکوئی یا نت لککرے جس کے نیج می ا کی بین سے می تماورع ہو۔ 

”.. غدانقالی اور ہر کے جانٹینوں ےکوئی بجھوٹی بات مو پکرنل 

۵.. غیار علق ک نیا 

سد پہرا ض پاش ژوطد 

کحػحح صاوق کک ہنبت اور نی اور نقا کی عامت پر بائی رہتا۔ 

.سس سی ے دای چزسے حقن (انا )رف 

۹.. -_ تےکرش.. ان کے بارے میں اظام آتندہ سال میں جیا ن سی جاہیں گے۔ 





توضیحالمسائل ۱ ھ5 334 1 


-١‏ کھاتا اور ینا 


مسلہ ٢ے۵ا‏ : کر روزہ وار ال ام رکی جانب موجہ ہوتے ہوئ ےکم ردزےہ سے ہج ےکوگی چت 
جن وج ھک رکھاۓ اور جے نے اس کا روزہ پل ہو جا سے قطع نظراس س ےکمہ وہ پچ ای ہو سے مو 
کھلا اور پا جانا و خلا روئی اور پا یا ابی ہو سے عو کھلا با پا نہ جا ہو شلام اور درشت کا شیرہ۔ 
اور خواوکم ہو یا زیادہ کہ گر روزو وار مسواک منہ سے کائے اور دوپارہ منہ ٹل لے جائے اور ای 
کی تزی شل نے نو روزہ ال ہو جا گا۔ 

مہ م-ے۵ا ؟ جب روزہ دا رکھا اکھا رہا ہو امر اسے معلوم ہو جال ۓےکہ لجع ہ وی ہے قو ایت 
پا ہ کہ جو لقنہ منہ می ہو اسے انل دے اور اکر جان بوچ کر وہ اقسہ شل لے ناس کا روزہ پل سی 
اور اس عم کے مطابق نس کازکر بعد میں ہو گا اس بر کغارہ ونب ہے 


بل "ء۵ا : مر روزہ ار ٹطی سے کوئی نرکھا یا پی لے فے اس کا روڈہ پیل یں ہو)۔ 
لہ دے۵ا ؛ جو اشن (ئیے) عق کو بے ح کر ری ہیں بای اور متصیر کے لیے امتعال 


ہوتے ہیں روزہ وار کے ليَ چائز ہیں لاژم ہے ےک النا انجحکشنوں سے ہرم کیا جائے جو نذا کی 
بجاۓے استمال ہوتے ہیں۔ 

مل ٦۵ا‏ : مر روزو وار وانتو کی ریوں میں بجی ہوگی ہچ کو عر) پل لہ تو اس کا روزہ 
انل ہو جااے۔ 

مستلہ سےا ؛ جو نس روزہ رکنا چاہتا ہو اس کے لیے لس صادق سے پل وانتوں میں غدول 
کرنا ضروری میں سے لیکن اگر سے علم ہوکہ جو را دائوں کے بربوں می دوگ ہے دہ دن کے وقت 
یں مم لی جال ےکی اکر وو خلال ش کرے اور وانتوں میں مجن ہوکی خذائجیس س ےکوی چتاس کے 
پیٹں میں پل جا تو اس کا روزہ ال جو جاناے- 

مملی ۵۸ا ٠‏ منہ کا لدب شگنے سے روزہ پاطل نہیں ہوا خواد وہ احاب نشی ویو کے اضور 
سے بی منہ میں مجح ہوگیا ہوںہ 





)[ 5دجد ا 






مہ ۹ے ۵ا ٠‏ سراور سید کے افلط (خم ) جب تک منہ کے اندر والے صے میں نہک نچیں 
انیں لگنہ می ںکوئی حرج نمیں لین اکر وہ منہ میس آجائیں تے قاط وجب یہ ہےکہ انیس ڈلا نہ 

اتک 

مل ۵۸۸ : آلر روزہ وا رکو اتی پاس گے کہ اسے اس سے مرجانے کا خوف اضق ہو جااۓ 

دہ اتا انی بی کنا ےکہ مرنے سے پچ جائۓ لیشن اس کا روزہ پل ہو جائے ما اورآکر او رمضان 

االبارک ہو قڑ اسے پا ےکہ دن کے بقہہ جے میں وو کا مکرنے سے پرہی زکرنے جن سے روزہ پاٹل ہھ 

جانا و۔ بعد میں اس روز ےکی تقا واجب ہو گی- 

مہ ۵۸۷ا ٠‏ پچ ما برزدرے کے لیے زا کا چا ما نذا کا پچھنا ویو جو و علقی کک میں کہ 

ہو خواہ وہ فا علق تک مین جاۓ فو روزے کو ٹل نی ںکرقی لین اکر انسان روغ سے جاتتا ہ وکہ 

نذا علقی کک تیچ جائے گی فو اس کا روزہ پاٹ ہو جانا ہے اور اسے چا کہ ال کی تذاکرے اور 

کفارہ اواگمرے جو ال > واتب ےے۔ 

لہ ۱۵۸۳ ؟ انا نکزدر یکی وجہ سے روزہ خمیں پچھوڑ سکتا ان اگ رکنزوری اس حد تگ ہ وکہ: 

وم برداشت نہ ہو کے تو پھرروزہ چھوڑنے می ںکوئی 0 ین 


٢۔-‏ قاع 


مسللہ ۵۸۳ا : ماع روز ےکو پاف لکر دا سے خواو فصو تال فترا خق کی حر تک ب یکیوں نہ 


راشل ہو اور می خارع نہ ہو۔ 
سیل ۵۸۳۴ ٠:‏ ار عضو جسل خق نکی مقار ےکم راشل ہو اور می بھی ارح ش ہو نر روڈہ 
اٹل نہیں ہو 


مسنلہ8 ۵۸۵ا ٠‏ اگ رکوئی مخ عر| ہام کا راو ہکرے اور رش ککر ےک عضو تال خق کی 
مقار کے برابہ راشل ہوا تھا یا نہیں تو اس کا روزہ پاطٹل ہے اور ضردری ہ ےک ال روزے گی شا 
نکرے لک نکفارہ وادب نمیں ے۔ 





توضیحالمسائل 







صّلہ ۱۵۸۷ء اگ رکوئی فص بھول کر جا ع کھر ےک روزےے سے پچ پا اسے تما بر ای 7 
جو رکیا جا ےکہ اس کا اتتیار بائی نہ رہ و اس تا روزہ باٹل میں ہو گا البنتہ أکر جماغ کی عاات بل 
اے یاد آجا ۓ کہ روزے سے ہے ىا بوری شخم ہو جاقے تو اسے چا جے کہ فوراجماع تر ک کر بے 
اور اکر ایا نہکرے ق اس کا روزہ اٹل ہے۔ 

٣ا‏ استمناء 

مل ے۱۵۸ ؛ گر روزہ دار سن سنا ءکرے تو اس کا روزہ ہال ہو جانا ۓ۔ 


مل ۵۸ء مر بے انقیار یکی عالت میں کسی شخ کی می خارع ×× جائے و اس کا روزم 
ال نمی ہوتد 

مہ ۹ا الرچہ روزہ وا رکو عم ہ کہ اگمر ین میں سوئے گا تو اسے الام ہو جاے گا لچنی 
سدتے میں ا سکی منی غارج ہو جائۓ گی تب بھی اس کے لیے سونا جاتز ہے فواہ نہ سون ےکی وجہ سے 
اسے تکلیف دہ بھی جو اور اکر اسے اعتلام ہو جائے تو اس کا روزہ اٹل میں ہوت]۔ 

مہ *۵۹ا ٠‏ آگر روزہ رار خی خارج ہوتے دقت نین سے بیدار ہو جاے ل ال پر ہے واقب 
می ںکہ بی یکو مین سے روکے۔ 

معلیہ ۱۵9 : جس روزہ دا رکو اعلام ہو گیا ہو وہ شاب کر متا ہے فواو اسے ہہ علم ہوسلہ 
نا بکرنے سے بتی ماندہ می بلی سے باہ رآجاا ےگی- 

مہہ ۵۹۳ا ٠‏ جب روزہ دا رکو الام ہو جائۓ گر اسے معلوم ہج وکمہ می لی جس دہ گئی ہے اور 
وو مہ ہے وت بر سے خارح ہی تر اتاد 
داع بک بنا پر اسے اج ےکہ کل سے پلللے پا بکھرے۔ 

مل ۵۹۳ ٠‏ جو مخس می نے کے ارارے سے بچیٹرپچھاڑ اور شوخ یکرے فو خواء می نہ بھی 
کل اس کا روزہ پل ہے۔ اسے پاب ےکہ روز ےکو قا مکرنے اور ا کی تھا بج یکرے۔ 


مل ۵۹۳۴ا : مر روزہ وار مضی ٹکالے کے ارارے کے بی ش لکی طور پہ اپئی بیوی سے بھی 


و 





تیضیپ‌لاسائل ۱ 3دد ا 


بچھاڑ اور ڈی ذرا قکرے گر اسے اشمینان ہوکہ می خارج نیس ہو گی نز اگرچہ الماقا' می نمارع ہو 
جائے اس کا روز: یچ سے ال اکر اسے انان بہ ہو فو اس صورت میس جب می خارمج ہوگی اس کا 


روزہ باعل ہو جاۓ گں 


1 ٌ سا س0 حر جع‎ 7٦ 
خدانعا لی اور مر حا سے تھوٹی چ مغ سور پ کرنا‎  ٴ"‎ 
مل ۵۹۵ا : گر روزہ رار زیان ے یا آ کر یا اارہ سے پا لیے فی تی اور طریق ستھ الو‎ 
تال یا رسعل اکرم مہا یا آپ کے بارہ جالنینیں میں سے سی سے جن بوج ھک رکوکی بهموئی چز‎ 
مو یلرے ارچ وہ ٹور کر و ےکہ میم نے جو ٹگما ہے یا و کر نے کن ا کا روزہ پاٹل‎ 
سے کھ یکوئی بھوٹی نز وب‎ ٠ ہو جا ہے اور انقیاط واعب ہہ سےکہ ععفرت فاط. زہرا سلام الشد عیما‎ 
نی جاۓے۔‎ 
گر روزہ دا رکوئی اڑسی روایت نف لکرنا چاہیے جس کے بہار نے میں اس ہی عم یہ‎ ٢ ۵9۷ لہ‎ 
کہ تق ہے با بحھوٹف ہے نے اعقیاط واج ب کی بنا پر اسے پا کہ نس تن سے وہ رواییت سك ہو یا‎ ×× 
جن سکاب میں گی ری ہر اس کا والہ وے۔‎ 
لہ ے۵۹ ؛: خُر روزہ دار لی پر کے بارے میں اعتقا رکتا ہو کہ وہ واتقی قول فدا ا قّل‎ 
یز ہے اور اے ایل قوالی یا نی اکرم کڈ سے منسو بکرے اور بور میں معلوم ہوکہ يہ نت‎ 
یہ تی وس کا روزہ پل میں ہو گل‎ 
مستل۔ ۵۹۸ا ۰ اگ روزہ دارکصسی بی کے پارے میں ہہ جالٹے ہو تئ کہ بجھوٹ ہے اے الر تعالیٰ‎ 
اور رہل ارم عریوو6 ہے مفو بکرے اور پر میں اے چھ سی لم جھ یھ ا ت ےکا اوہ‎ 
درسرن تھا اسے چا کہ روز ےکوتھا مکرے اور لی تا بھی بالات‎ 
لہ ۱۵۹۹ ؛ گر روز زاز نی لیے بجھو ٹکو جو خوو روزہ ار نے لع ا کی دوسرے نے‎ 
گت ہو جان بوج کر ار تال یا رسول اگرم طیلم یا آپ کے جانشینوں سے طسو ب کر درے تو ا کا‎ 
٠ ردزہ انل ہو جائۓ گا لین اکر بس نے بجھو گا ہو اس کا قول نف لکرے ت کوئی حرج نمیں۔‎ 
گر روزہ وار سے سوا لکیا جات ےک رسو لکریم مھتپپلاپیا نے ایا فراپا سچہ اور دہ‎ ٠ ٢۹۷٭٭ متلہ‎ 





توضیحالمسائل )_ 338ا 
عرا جم جواب (خیس) می دنا چا چے ول ات می دے اور جمال ات میں ویتا چاچے وہل 
(شٹمیں) می وے فو اس کا رٗوزہ پاطل ہو جانا ے۔ 

متلہ ٣۹۸۱‏ ٭ ا رکوئی نس اللہ تعالی یا رسو لکری کا قول ورسری نف لکرے اور بعد میں کک ےکہ 
میس نے جھو فکما ہے ىا رل کک وکوکی جھوٹی چی ان سے ضسو بکرے اور دوسرے دن بج کہ روڑہ 
نرکھا ہوا ہو کے جو پھ میں ت ےگزشتع را تکما تھا وہ درست سے فو اس کا روزہ پاطل ہو جانا نے- 
نے خی رکو علق جک بانھاا 

مہہ ۱۹۹۳ ٠‏ اعقاط واد ب کی بنا بر غلیظ ما خیرغیظ خطبار کا علق کک نیما روزے کو پاط کر دا 
سے خواہ با رکسی اٹیی کا ہو نس کاکھاا عطال ہو (شلا آٹا) یانکسی ای چن ہکا ہو جس کا کھانا عرام ہو 
(مشلا ی)۔ ۱ 

مسلہ 1۰۳ : گر ہوا کی وجہ سے خبار پیدا ہو اور انسان موجہ ہوئے کے پازتود ایاط ت رکرے 
اور غبار اس کے علق تک کیچ جا فو اس کا روزہ باضل ہو جاتا ے۔ 

مہ فی اعیاط واجپ ہے ےکہ روزہ رار غیظا ھپ اور گار اور تمباکو ویر کا رواں مگ 
لی تک بر پھاے۔ 

متلہ ۱۹۰۵ ۰ گر انان احقط کرے اور غبار ما بھاپ ما ذہواں ویر علق میں گنس جائے تر 
کر اسے لقن یا المینان تھاکہ ہہ چزیں علق می نہ تی ںکی و اس کا روزہ جج سے لین اکر ا سے گمان 
اہ یہ علق کک میں بتئچی ںکی فو مہہ ےہ اس روز ےکی قضاکرے۔ 

.تہ ۸۴۷ ٠‏ اگ رکوئی من یہ بھول جانے کہ ردڑے سے ہے اعقیاطا ن ہکرے پا بے انقار 
خر فی ا کے علق سے تچ جائے نز اں کاردزہ پل یں ہوم 

- مرکو پالی می ڈیونا 

مل ے1۰ - مر روزہ دار جع بوچ ھکر سارا سرپالی میں ڈب۲ دے تر خواہ ا کا بل بن پالٰ ے 
اہر رن اس کا روزہ پافل ہو جا سے لن اکر سارا بن پالی عمش ڈدب جاے اور س رکا یھ حصیہ باہر 





توضیالسائل _ اتا 


رے و می ا ا 


مہ ۰۰۸ : مر روزہ وار اپے نصف مرکو ایک وفعہ اور ہاقی نع ف کو روسری وفمہ پالیٰ شس 
ڈہوے فو اس کا روزہ اٹل میں ہو ے۔ 


مل أ٠‏ تر روزہ وار عارا می میں ڑوت ےکی تیت مق بی تج چاا جات اور شے 
کر کہ آیا سادا سرپالی مم ڈو سے ما خمیں لے اس کا روزہ باعل ہے المتہ اس تخاکغار و غمیس سج 
تہ ۱۹۴ گر سار صر بای میں ڈوب جا تو خواہ بتھ بل پائی سے باہرتھی رہ جاسیں پچ ربھی 
روزہرہ پانٹل ے۔ 7 
مل ٠٦١۷‏ پان 9 علاوہ دوسری سال چزوں شا دودح میں سرڈونے سے 0+007 ضر 
نہیں پپنچتا بکہ امرب ہجےکہ آب مضاف میں ص ڈبونابھی روڑ ےکو باطل می ںک را اگریہ اوطے 
کہ برای زکریں۔ 

لہ ۳۷٣۳‏ : گر روزہ وار بے بے انیار پا ی میں کر جاۓ اور اں کا را رپا یں ڈوب جائے با 
و ہے اون ان کے تاس خر ال یں ےی 
تل ۱۹۳۴۳۴ ۰ اگ رکوتی روزہ دار ضا لکرتے ہوئے اپنے آپکو پاٹی جس گرا د ےکہ اس کا س یی 
میں نہیں ڈوہبے گا لین اس کا سادا سر پا مم ڈوب جائے ف اس کے روزے می ںکوئی اشقال میں 
ے۔ 

منتلیہ ۱۹۷۴ :؟ اگ رکوئی نس بھول جا کہ ردزے سے ہے اود صرپالی میس ڈیو دے باکوگی دوسا 
نس زبردسق اس کا سرپالی میں ڈیو درے گر ای مم ڈوبے ہوئے اسے باد آن کہ ردزے سے ہے 
با وہ دو ما میس اپنا بات ہنا لے تو روزہ دا ر۷ چان ۓکہ ٹور] اپنا صرپالی سے باہر خائے اور اکر ایا نہ 
کرے آ اس کا روزہ باعل ہو جاۓ گا۔ 

مل ۵ا١۱‏ : گرکری ٌ بھول جا ےکہ روزے سے ہے اور تس ل کی میت سے مم رپانی مل 
لو رے تو ا کا روڑہ اور صل دوثولں کچ ہیں۔ 





توضیح‌المسائل ا ) 4 


مل ٢۷۷۹‏ ۰ اگ رکوئی منص ہہ جاضنے ہوئے روڑے سے ہے جان وچ ھکر نس کے لیے انا سر 
پالی میمش ڈیو رے ت اگر اں کا روزو رمقیان الپارگ کا روزہ ہو ڈٍ ا کا روڑہ اور تل دونوں پطل یں 4 
اور رفمان کے قضا روزے کے لیت بھی زوال کے بعد عل الاحوط بی عم سے لین اکر تج روڑہ ہو 
ا ایا واعب روزہ جو لا روز ہکغارہ جس کے لی ھکوئی وقتں مین نہیں ہے و اس کاتسل سی لین 
روزہ اٹل ہوگا اور تظاہریہ ہےکہ اس کا اطلاق واجب ممین روزے پر بھی ہوا ے۔ 
لہ ےا١‏ ا : آگ رکوئی روزہ وا رصسی شف سکو خغرق ہونے سے بچانے کے سط میں ش کو پالی مس 
ڈیو رے تو اس کا روزہ اٹل ہو جاۓ گا خواہ اس شن س کو خر ہونے سے بچانا واجب بی کیوں ٹر ہو 

ُ ۰+ ٤ر ٠‏ + ' ۱ 
لیج صاوقی تک جنابت تی اور نقا سکی حالت میں رہنا 

لہ ۱۹۸۸ ۰ ار جب خی مو رعضان ال ارک میں جان بوجھ کر مجع صاوق تک عسل در 
کرے ق اس کا روزہ پاکل سے اور جس مخ کا وخیضہ جم ہو اور جان بوج کر نجھم نہکرے تو اس کا 
روزہ بھی پاطل ہے اور ماہ رمضم نکی ضا کا عم بعد بس آئے گا 
مئُلہ ٦۹‏ : ڈ, گر جب فیس ماہ رمفمان کے روزول اور ان کی قشا کے علاوہ ان واتب بوزیں ے 
یس شن کا وت مہ رمضان کے روزو ںکی رح من ہے جان وھک رس صاوقی تک لی نہکرے تر 
اظمریہ ہ ےکہ اس کا روڑہ لچ ے۔ 
مل ۱٦۹۳۴‏ ۰ اگ رکوئی نس مو رمضان المبار کک ی کی رات مم 07 ۷"“و" 
تنسل نہ کے کہ وت گگ ہو جائے تر اقیاط راج بک بنا بر اسے چا کہ کرے اور روز 
رکے اور ا کی قضا بھی بنا لائۓے۔ 
مہ ۱۹۴۱ ٠‏ ار جب او رعضان میعن کر بھول جائے اور ایگ ون کے بعر اسے ید 
آے تو چا کہ اس دن کا روزہ تذاکرے اور چنعد دفوں کے بعد یاد آے تو چا ےکہ لے رنویں کے 
روزوں کی قضاکرے نت دفوں کے بارے میں اسے لقن ہوکہ وہ حنب تھا لا اکر ےپ عم در ہو 
کیہ جن دن حنب رہایا عچار دن و قمن نول کے روزو ں کی قظاکرے- 
مستلہ ۹۳۲ ۰ ار ایک ایا ضس اپنے آ پبکو جنب کر لے جس کے پاس ماہ رضا نکی رات 





توضی‌المسائل وس 34 ذِ 


میں تسل اور جم میں سے کسی کے لیے بھی وت نہ ہو اس کا روزہ پل ہے اور اس بر قنا اور 
کنارہ رولوں راجپ یں۔ 

لہ ۱۹۳۳ ۰ اکر روزہ دار یہ جن کی جت ھکر ےککہ ای کے پا وقتت ہے ا خیں او رمگمان 
کر کہ اس کے پاس تس کے اندازے کے مطلق وقت ہے اور اپ آ پ کو حن بکر نے اور پور 
" اس پت چچ لہ وت نگ تھا اور جھ کرے تر اس کا روڑہ یئ سے اور گر بن تج گی مان 
کر ےکہ ال کے پا وت ہے اور لپنے آ پکو جن ببکرے اور بعد میں اسے پنۃ کہ وقت تگ 





تھا اور عم گر کے روزہ رکے ‏ اعقیاظ واب کی بنا پر اے اج کہ ال دن کے روڑ سے کی تقا 


ے ۱ : 


مسعلیہ ۱۹۳۴ ٠‏ جو فص مد رضا نکی کسی رات جنب ہو اور جانا ہوکہ گر سوئے مان میم 
ساری تً تک بیدار نہ ہو گا نے ایر خل کی نہیں سونا چاینے اور لم وو فس لکرنے سے پھلہ سو جائے 
اور مغ تک یرارن ہو ڑاں کاروزہ پاطل ے اور قضا او رکفارہ دوزل اں ٍ واتپ یں۔ 


مستلمہ ۱۹۳۵ ١‏ جب جنب مو رمیا نکی رات میں سوکر یگ اشے ت االط صخحب پ ہے کہ 
م آلر ای کی عایت بیدار ہونے کی نہ ہو تو نل سے چیہ نہ سوئے اگرچہ اس بات کا ال ہ وکہ گر 
009 
تر ۱٦۳١‏ ۰ اگ رکوئی مس مو رمضا نک یکی رات میں حنب ہو اور نین رکتا ہ وکہ اگر سو 
ص۷ ماك صادق سے کہ بیدار ہو جائۓ گا تے گر اس کا مم اراوہ ہوکہ ارد ھپ رخل 
و کر ے گا اور اس ارارے کے ساتھ سو جاۓ اور می صاوقی تک سوا رہے تاس کا روزہ سے سے اور 
اگ رکوئی 2 و اتور تو ص شالت 
کے لیے بھی بی عم ہے۔ 
ل ملل ٢۷١‏ : اگ رکوگی شنس مو رمضا نکی کی رات میں جنب ہو اور اسے معلم ہو با اشل ہو 
کہ ار موگیان تح صادق سے پکہ بیدار ہو جاے گا اور اکر دہ اس بات سے خائل ہ کہ بیدار دو 
2 کے بعد اسے نس لکرنا چاہے ققاس صورت میں ج بکہ دو سو جائے اور سع صاق تک سوا رہے بنابر 








تمس گن سررے م۸ سکا روہ یج ے 
۸۸۶۵2۰صطج مگ کی کی حات تم" 
الا ےُ پر بان شدہ' لت و 
رورفم پیا 
ےل ۷۸۳۰ا 7 مت 

7 تا و گر وو گا 


: گر روطہ رار چنا 





توضیجالمسائل___ ) کود ]ا 


مہ ۱۹۴۸ ۰ ام روزہ دار سوا کوئی نز شگل لے اور اس کے یں میں کن سے پےلہ بار 
آجائ ےکم روڑے ہے فو اس پچ کو نکلنا لازم نمی اور روزہ کچ ے۔ 

سلہ ۴۰۹ ,اگ مکی روز وا رکو مقین ہ کہ ڈکار لی کی وجہ سے کوئی زاس کے علق سے پاہر 
جال ےکی تذ اسے مان بوج ھکر ڈکار نہ لینا چاجے لگن اگمر اسے نشین زہ ہو توکوئی حرج نہیں 

مستلہہ ٭۵٦ا ٠‏ گر روزہ وار ڈکار لے او رکوئی زاس کے علق ما نہ میں آجاۓ و اسے چا ےکہ 
اس ال رے اور اکر وہ چز بے انخقیار یٹ من پل جائے تو اس کا روزہ سکع ے۔ 


ان چیڑوں کے متعلقی ایام جو روز ےکو ال برتی ہیں 


مستلہ ٠ ۱٦۵۱‏ امر انان جبان بوج کر اور اخقیار کے سا کوکی ایا کا مککرے جو روز ےکو پل 
کرا ہو قے اس کا روزہ پاٹل ہو جانا سے اور اگ رکوئی ایبا کام سجان بوج ھکر ن ہکرے کوئی حرع یں تی 
اس کا روزہ کچ ہے لیکن امر حنب سو جائئ اور می صاو کی ازان کک تل کرے پر اس کا روڑہ 
انل ے۔ ' 
مستلہ ۵۳٦ا‏ ۰ اگر روزہ دار سو اکوئی ایا کا مکرے جو روزےکوباط لک رتا ہو اور ای خیال سے 
کہ اس کاروزہ ال ہوگیا ےَ دوبارہ ۶| کوئی اور اییا تی کا مکرے ڑا کاروڑہ ا مل ہو جااے۔ 
مستتلہ ۹۵۳ا ٠‏ ا رکوئی نز زردستی روزہ دار کے عفن میں انڑل دبی جائے یا اس کا سر زبروستی 
پالی میس ڈیو دا جائے فو اس کا روزہ پاعطل خی ہوتا لین اکر روڑہ نو ڑ نے بر مجبو ریا جاۓ شلا اس ےکما 
جا ۓےکہ اکر تم خزا نمی ںکھاؤ کے نے ہم تتممیں مال یا جانی مقصان بہنپائیں کے اور وہ نتصان سے ہے کے 
یئ آپنے آپ پک ھکھا لے نے اس کا روزہ اٹل ہو جاۓ گا 

ملس ٠ ۱٦۹۵۴‏ روزہ وا رکو ای تچمہ ٠یس‏ جانا چاینے نس کے بارے میں وہ جات ہ وہ لو گکوئی 
راس کے علق میں ڈال ریں کے پا اسے خود روزہ نڈڑنے پر مو زکریں کے اور اکر ای لہ چا اور 
لو کگکوئی یز اس کے عکی مس ڈال دیں با بہ اھر جبدری دہ خو دکوئی ایا مکرے جو روز ےکو پالمل 
کرت ہو قے اس کا روزہ پاطل ہو جانا سے مہ اکر وہ اس مہ جانے کاارادہ جھ کرے نو خواہ ال شہ جائۓے 








تََسیمالتضسائل .-[._ 346ا 
اں کا روزہ پاظل ہو جات ے۔ 
وہ یں جھ روزہ دار کے سی روہ ہیں 


مہ ۹۵۵ا ٠‏ روزہ رار کے لیے کچھ چنزیں کردہ ہس اور ان مس سے لمح ہہ ہیں۔ 
سآمگھ میں دوائی ڈالنا اور سرمہ انا جم اس کا مزہ با ہو علق میس ہی جاے۔ 
...٢‏ ہرگ یا کام اخجام وناج ھکوری کا باعث ہو شا نر کلوانا اور حمام جانا 
- 7 اس ھن بشرطلہ ىہ علم نہ ہورکہ علق کک پیچے گی اور اگر ہہ علم ہوکہ علق تک من 
گی اس کااستول انز نییں۔ ۱ 
فوشبودار بوٹیوں (نگھاسوں )کو سوگنا۔ 
۵ عورت کاپال ض د - 
٦...۔ ‏ شیاف استم یکنا ئن کی لک چزے حقن لیک 
سد ولا پہن دکھا ہو اسے ت رکرنل 
۸ے واشت ٹلوانا اور روہ کا مکرنا جج س کی وجہ سے مہ ے ٹون گاے۔ 
۹ں تر گگڑی سے موا کک 
٥ہ‏ لا وہ پانی اکوئی اور سیال نز مضہ ڈالناد 
اور ہہ بھی کردہ ہ کہ می ارح ہوتے کے قصد کے بغیرانسان اپنی ویوی کا بوسہ لے پا کوئی اییا 
ک مکرے جس سے شموت برا حنہ ہو اور گر اییاکرنا می کے اخراج کے قد سے ہو فو اس کا روزہ 
ال ہو جات ے۔ 
اپ مواقحع جن میں روز ہکی ضا او رکفارہ واجب ہو جاتے ہیں 
مستلہ ۱۹۵۹ ۰ ہ۰ رکوئی نس مو رمضیان البار کک کی رات میں حنب ہو جائے اور ٹس 
طرحعگزشن مماوں میں تفصیل سے ایاگیا ہے بیرار ہو اور دوبارہ سو جائے اور سُع صادقی تک بیرار تہ 


ہو و اسے چا کہ نتظ اں روز ےکی قذاکرے لین اکر وہ عم اکوئی دومر! کام انام رے جو روڑے 
کو پا ل کرت ہو جیکہ ىہ بھی جانا ہ وکہ وہ کلم روز ےکو با ل کرت ہے نز ضا او رکفارہ دولوں اس پر 








توضیح‌المسائل بیدا 
واتب ہو جات یں۔ 

مل ے۵ ا ؛ مر روزہ دار متلہ نہ جاسن ےکی وجہ سے ایا کام انجام رے جو روز ےکو پاف کر 
ہو نر ظکاہریہ ےک کفادہ اس پر واجب ٹیس سے لین آگکر وہ جان بوچ ھک رکوئی بھوٹ اللہ تمالی یا رسول 


ریم تچ سے مو بکرے اور انا کہ ایا کرناعرام ہے قے اس پہکفرہ بی واجب ہے خواو 
دو ہے نہ گھی جاتا ہ وکہ وہل روز ےکو باطخ لکر وتا ے۔ 


لو زےکاکفارہ 


مستلہ ۱۹۵۸ ١‏ اہ رمضیان کا روزہ تڑنے کےکغازہ کے طور پر انسا نک بچای کہ ایک غلام آزار 
کرئے پا ان اطظام کے مطبق جو آمندہ نے میں جیان کیے جانھیں کے دو مینتہ روڑے ر بے یا ساشھ 
فقیو ںکو پیٹ بھ رک رکھاناکلائئے یا پر مق رکو ایک مھ (تقیبا ۳ا چھشاحکٹ) طعام لین ندم یا جو یا رو ویر 
اور ار یھ افعال انام دنا اس کے لیے خحکن نہ ہو قزر اعقیاط کی بنا پر سے چا ی کہ بظر امن 
سرڈہ دے اور اس غفا رگمرے اور اطٔٔاط واٹپ ہے ےکم ٹس وقت تھی قدرت رکتا ہو کفارہ گی 


ےپ 
مل 9 ہر مس ماہ رضان سا رو ڑنے کےکفارے کے طور پر وو ما روڑے رگنا چاے 
اے چای ےکہ ایک پورا ینہ اور اس سے الہ مین کا ایک ون مکل روزے رکے اور اگر بای باندہ 
روزے مسلسل نہ بھی رجھے ف کی حرع مھیں۔ 

ہل ما جھ نس ما رمفان کے روزے کے کفارے کے طور پر دو باو روزے رکھنا چاے 
اسے وہ روزے ایے وقت میں رکنے چائی سکہ یک میے اور آ ایک دن کے درمیان عید قریا نکی طرف 
کوئی اییادن آجاے جس کا روز رکنا ترام ے۔ 

مستلہ ۷۷ج جس خ س کو مل روزے رکینے پچانتیں اکر وہ ان کے تچ میس بغیرعذر کے ایک 
دن روڑہ ہر کے 3 اسے جا کہ روپارو از سرنو روڑے رگ 


مستیلہ ۹۳٦ا‏ ؟ آمر ان دنیں کے درمیان جن میں مسلسل روزے رتتے پائییں روزہ وا رو کوئی 





توضیح‌المسائل ).48د ا 


عزر شی آجائۓ شا یس با فقاس پا اییا سفر-ے انبا رکرنے پر پور ہو عذر کے وور ہوئے کے پحر 
روڑول کا از رف دنا اس کے لج واجب یع پک وا عزر دور ہوئے کے حر ال ارہ روڑے 
رتے۔ 


مل س. اگ رکوئی نس عرام یز سے اپنا روزہ پاط ل کر وے شواہ وہ پیر ہزات خور ترام ہو 
سے شراب اور زنا ای وجہ سے عام ہو جائے تی کہ علزل ذا جس اکنا انان کے لیے پاہوم ہر 
ہو یا دہ اپ دی سے عالت یس میں عچامعتکرے تو اقال کی ہنا کفارہ ع ژن تیو ںکفارے اس 
بے داعب بد جات ہیں می اسے چاپچے کہ ایک غلام آزارکرے اور رو مینے روزے رکے اور ساٹ 
فی ںکوکھااکھلائۓے با ان میس سے ہرنق رکا ایک مد (تقبا ۱۴ پلک ندم یا جھ روئی وظیرو رے اور 
بت تنوں یں اس کے لیے مصکن نہ ہوں نو ان میں سے ج وکفارہ خنکن ہو اسے انام رے۔ 


متلہ ۱۹۹۴ ؟ اگر روزہ وار جان پوج ھک رکوئی بحوئی بات اللہ تعالی ین یکر اور حون ے 
مو بکرے فو اعقا ظط کی ہنا بر اس پکفارہ شع واجب ہو جانا ہے جن سکی تفصی لگزشنہ ملہ میں میان 
کی ہے۔ 

مہ ۱۹۹۵ ٠‏ آگر روزہ وار اہ رمضان کے ایک ون میں کی وفہ ہما کرے ق3 پروفعر کے لیے 
اس پ ای ککفادہ واب ہے اور ظاہریہ ہ ےکہ جو عم جمار] کے ملیئے ہے دی عم اسسمناء کے لیے 
بھی ے۔ 

مل ٦٦۷۹‏ ؟ ار روز دار ماو رمضان کے ایک دن میں جماغ اور استمناء کے علاوہ کئی وم 
وو ا ایا کا مکرے جو روز ےکو باعل کرت ہو فوان سب کے لیے عرف ای کفکقارہ ے۔ 


مل ے٦٦ا ٠‏ آر روز وار جمارع اور استمناء کے علاوہ کرئی دو را کا مکرے جو روز ے کو 
پاف ل کر ہو اور اپی زوجہ سے ہھامعت بھ یککرے تو اس پر ہرفل کے لیے الگ ال کفکفارہ وابجب ہو 


5 ہے۔ 


7 


مل ۸ءء گر روز وار تار اور استمناء کے علاوہ لی وو اکا م کرے جو ال ہو اور 
روز ےکو پاش کر ہو خلا پانی لی لے اور این کے بعد جاع اور استمناء گے علاوہکاگی وو اکم 











توضین‌السائل___ )( 9ود ا 
کرے جو عرام ہو اور روز ےکو پاض ل کر ہو لا ترام نزاکھانے سے بھی ای ککفارہ واتب ہے۔ 
مل ۱۷۷۹ : آر روزہ دار ڈکار لے او رکوئی تاس کے مہ میں آجائے نز گر وہ اسے چان بوچھ 
کر یل جائۓ قے اس کاروزہ پاٹل جو جانا ہے اور اسے چا کہ ا کی تذاکرے او رکفارہ بھی اس یر 
واجب جو جانا ہے اور آمر چ ہکاکھانا عرام ہو لا ذکار لے وقت خون یا الىی مزا جو نمزاکی صورت میں 
خارج ہو نی ہو اس کے منہ مس آجائے اور دہ اسے جان وھ کر شل نے 3 اے چایے کہ اس 
روزے گی قضاکرے او رکفارہ تی بھی اں پ واآؤپ ہوجاتا ہے۔ 

لہ .ے٦‏ ڈ آگ رکوئی نس نز رکرےکہ ایک خااص ون روزہ رکے گا نز ار وہ اں رن چان 
بج ھکر اپنے روز ےکو پاط لک دے تو اسے چا کہ کفارہ درے اور اس کاکغارہ ای طرح سے جی کہ 
حنث نر (نڈر لڑڑنے) کاکفارہ ے۔ 

مل ۶اا : اگ روزہ وار ایک ای تنس کے کن پر جو کی کہ مغرب کا وقت ہوگیا سے اور 
ٹس کے نے پر اسے اعارنہ ہو روزہ انطا کر نے اور بعد میں اسے پتد کہ مخرب کا وقت خی ہوا 
اف کفککر ےکہ مخرب کا وقت ہوا ہے با غیں فو اس پر قضا اورکغارہ واب ہو جاتے ہیں۔ 

مکل "ے۹٦‏ : جو مخ جان بوج ھکر اپنا روزہ پا لکرے اگمر وہ ظمرکے بعد سن مکرے یاکفارے 
سے نے کے لیے نک رسے پل سفرکرے تو اس پر سے کغارہ ساقط ٹیس ہوا لہ اکر ظبرسے پل القاقا“ 
اسے سف رکرنا پڑے تب بھ ینفارہ اس پر واعب ہے۔ ۱ 

مل ۳۴٦ا‏ : اگ رکوئی شخصس چان بوبھ کر اپنا روزہ تڑڑ رے اور ال کے بح کوئی عذر پیا ہو 
جائے شلا جیخض پا ناس یا بیاری میں جا ہو جاۓ ز واجپ ہے ےک ہکقارہ رے۔ 

مل ٢٦ا‏ : ال کی من سکو لین :کہ تع ماہ رمضا نکی بی "رك سے اور دہ ان پوچ ھکر 
روزہتآڑ دے لان بعد میں چند ہہ قئ شعبا نکی آخری رون ہے ق اس پرکفارہ واجب میں 
٦‏ 

مکل ۱۹۵ ؟ ال رکی شن س کو کیک :کہ جج رحمان البلر ککی آخری تارںغ ہے یاکہ شوال 
کی پیل نار ادر دہ جان بوج ھکر روزہ توڑ دے اور بعد می پند پچ کہ یی شوال ہے و اس پر کقارہ 





ٹوفوانمسائل .1 350۔ا 


واتب نی ہچ 
پل ہے٦)‏ : مر یک روزہ رار ماو رمفمان مل إی روڑہ دار یىی سے جھا عکمرے ور یں 
ےْ بیو یکو مو رکیا ہوڑلاے چا ےکہ لپ روڑے اور لن بی فو روڑےِ کاکفارہ لوا کے اؤر 
بیو می جماغ بر راضی ہو فو پھر ہرایگ پر ایک ای کفکغارہ واجب ہو جانا ے۔ ۱ 
تمہ بے ے۹ ا ٠‏ اگ رکوئی عورت اپنے روزہ دار شوہ رکو جھا عکرنے پر مجبودر کرسے نو انل پہ شوہر 
کے روڑے کا کغارہ اواکرنا واج یی ہے۔ 
مسلہ ٦۸‏ : ہر ایک روزہ دار ری ماہ رمفضمان شل 1 بیوئ یکو ھا پ یو رکرے اور بماغ 
کے دوران میں عورت تھی ما >ے راتشی ہو جاۓ و اطیاط واجب کی نا4 جا اہ رد و وکفارے درے 
اور عقورتی ای ککفارہ رے۔ 
مہ ۹ا گر اک روزہ وار آری اہ رضان الپارک می للْ روزہ رار وی سے وس ری 
ہو جما غعکرے وی پ ایک کفارہ واجب ہو جات ے اور عورت کا روزہ 3 ہے او رکغارہ بھی اس پے 
واجب نئیں۔ 
مستلہر ۱۹۸۰۴ ۰ اگکر خوہرانی بیو یکو یا بیوبی اپنے شوہ رکو ماع کے علادهکوئی ایا کا مکرنے پر مجبور 
کر ےکہ ضس سے روزہ باطل ہو جات ہے تر ان دونوں میں س ےکی بے بھ یکغارہ داب ٹئیں ہے 
معلہ ۱۹۸۱ ٠‏ ج مد سفریا بیار کی وجہ سے روزہ شہ رکے وہ اپٹی روزہ دار بیو یکو مار پر مجبور 
خی ںکر سکتا لین اکر مجبوربھ یککرے نے عرد بربھ یکغفارہ واجنب یں 
مسیلہ ٢۷۲۷ا‏ انان کو چا کہ کفارہ آوا ککرنۓے می ںکوای کے گن ا کا ور انجام ریا 
بھی ضروری نمیں۔ 

لہ ۱۷۸۳ ٠‏ اگ رکی فص ب رکغارہ داب ہو اور دہ کئی سال کک اس اوانہککرے ٹوکفارے 
ہی ںکوئی اضافہ یں ہو 
سیل ۷۸۴ : نس مخ کے لی ھکغارے کے طور پر ایک دن ساٹھ فقو ںک وکھاتا کان لازم ہو 





) توطیمع‌المسائل ) تید‎ ٠ 


اس کے لیے جائز نمی ںکہ ان می سے کی ایک فق رک ایک عم سے ویدہ خذا دے ما ایک فق کو ایک ٠‏ 
سے زیادہ مرتیہ چبیٹ'بجھ رک رکھلاۓ اور اسے اپنے کفارے مم زیادہ افرا رکو نما دا یا کھانا کھڑانا شا رکرے 
لین وہہ نکر سنا ےکہ فقیر کے ابل دعیال میں سے ہرایگ کے لے ایک ایک مر دے رے خواہ وہ 
لڑگ پچھوےے چچھو ٹم چے بیکیوں نہ اہوں۔ لیکن ان سکوگی دودھ پاچ شہ ہو۔ 

مستلہ ۱۹۸۵ :ہجو مس مو رمفیان لسپارک کے روڑے کی ققا کرے ار وہ ظمبر کے بعر چان 
وہ ھک رکوئی ایی اکا مککرے جو روز ےکو پاط شل کر ہو تو اسے چا ےکہ وس مقی و ںکو فردا“ فردا“ 1ی 7 
دہ پچھٹاک ڑا درے اور ار نہ وے کا بو اون روزے رھ 

وہ صورّیں شن میں فقظ روز ےکی تضاواجب ے 

مل ۵۹٦‏ چر صوراوں میں انان پر صرف روز ےکی قضا واجب ے او رکفارہ واجب میں 
ے۔ 

علیہ ے۱۹۸ 1 ن کہ ایک فص مہ رمضا نکی رات میں جنب ہو جائے اور جیراکہ تعیلی 
سے با ایا ہے مع ساد تک دو ری ئینر ے پیرار شہ ہو- 

مہ ۱۹۸۸ ٠‏ جو کام روز ےکو پاط ل کر ہو اس کا مرکحب و نہ ہو لکن روزے کی نیت ن 
کرے یا دکھاداکرے (شنی لوکوں پر مہ رکر کہ روڑے سے ہوں) یا دوڑہ نہ رک کا اراو دکرے یا 
کسی ای کام س ےکرنے کا اراوہکرے جو روز ےک پاط ل کر ہو۔ 

مستلہ ۱۹۸8۹ ٠‏ کہ ماو رمضمان البارک میں تسل جناب تکرنا بھول جا اور جناب ت کی عالت میں 
ایک یاکئی ون روزے رتا رے۔ 

مہ ۹۹۰ا بیکہ او رمضان البارک میں یہ شقن کیے بی رکہ مع صادق ہوئی سے ما خی ںکوئی 
ایا کا مکرے جو روز ےکو پط لکر ہو اور بعد میں پند چل کہ گج ہو پھی تی نیز گر ختی نکرنے کے 
بعد ہمان رکئے کے باوجودکہ مع صاوق و گنی ہ ےکوئی اییاکاممکرے جو روز ےکو پا لکرب ہو اور 
بعد یں پعد کہ لع صاوق ھی تب بھی اس روز ےکی فا انان پر واعب ہے مہ اکر تی نککرنے 
کے بعد خی کر ےک می صادق ہوگئی سے یا نمیں او رکوئی ایا کا مکرے جو روز ےکو پاط لکرا ہو اور 





توشورالمسائل ۱ .1 و3 


بعر میں معلوم ہوک گج شی تو اسے چا کہ اس دن کے روز ےکی قضا بجالا2- 

لہ ۱۹۹۱ ١‏ بہ ۷ کوکی ےکمہ تج عاوق نہیں ہہولی اور انسان اس کھ لن ےکی بنا کوگی الما تح 

کرے جوروڑ ےکو باط لکر ہو اور بعد جس چند کہ لغ صاوق ہوگی شی۔ 

مستلہ ٠ ۱٦۹۳‏ بک کوئی ےک مجع سادق ہوگئی ہے اور انسان کے کین پر نین نہکرے پا شال 

کر ےکہ جوا یکر دبا ہے او رکوئی اما کا مکرے جو روڑ کو اط کرت ہو اور بعر میں معلوم ہ وکہ مخ 

نارق ہوگئی تھی۔ : 

لہ ٠ ۱٦۹۳‏ یک اندھا یا انوھ جیہاکوئی شخصس کی دوسرے کے سن بر روزہ انظا رر نہ 
و اور بعر میں پن یل کہ ابھی انطار کا وقت خی ہوا تھا 

مستلہ ٠ ۱٢۰۹۷۴‏ کہ جب مطلعح صاف ہو ق تارب یکی وجہ سے انسان نشین مھ لے کہ انطار ك وشت 

٠ہ‏ وگیا ہے اور روزہ اظا کر نے اور بعر میں پت کہ ابی انطار کا وقت نمیں ہوا تھا ین اکر ابر ارد 

خضا می انان اس مان کے تحت روزہ افظا رکر ل ےکہ افطار کا وت ہوگیا ہے زور بدر میں معلوم ہوک 

افطار کا وت میں ہوا تھا قفا لازم نی ے۔ 

متلہ ۱۹۹۵ ٠‏ کہ ینا محمو ںکرنے کے یئ با بغیرکسی وجہ کے انان ک یکرے شی پالی مہ 

میں کھراۓے اور بے اختار پل یٹ مل چلا جاۓ لو روزے گی تسا والنب ۓ اور ار نماز راجپب سے 

وضو کے علاو ہی وضو کے لیے ک کی جائۓ فو قاط واج بکی بنا یر اس کے لے بھی بی عم ہے لین 

گر انمان بھول جال ۓےکہ روزے سے سے اور پا گل نے پا نماڑ واحب کے .لیے وضوکرتے وش کی 

کرے اور پاٰی بے انفقیار ہیں میں چلا جاے فو اس پر قطا وادب میں ےے- 

مہ ۹۹۳ا یرس ہکوئی مخ مجبوری یا افطرار یا تقر کے تحت روڑہ الظا رکرے ال عورتب 

یں اس پر روز ےکی قفا والحب ے گٹ نکقارہ واحب کک 

مل ے۹۹ ء: وت دار انی کے علاوہ کرئی رہ میں ڈانے اور وہ بے انار چیٹ ٹل بل 

جائے یا جاک میں پان ڈائے اور وہ بے انقیار یچچ چا جائے فذ اس پر تضا داینب نمی ہے 


مہ ۱۹۹۸ ۰ روزہ وار کے لیے زیادہ کلیاں کرناسکروہ سے اور اگ ر کی کے بعد لحاپ وکن انا 





تر مھا یی ژ1 253ا 


ہے لازم کہ پیل لے اس قدر تھوکےکٴہ مضہ میں موجود پالی شحم ہوے کان بر انان 

تل ۹۹۹ ؛ گر انان جانا ہو ک یکرنے سے بے افقیار یا بجحول جانے کی وجب سے بائی اس کے 
علق میں پلا جاے گا تو ا سے کی ٠ج‏ سکم جا ہے۔ 

سیل ٭٭یا ؟ اگ ر کسی نس مو ما رمضان البارک میں "تی قکرنے کے بعد نشین ہو جا کہ 
بھی مج خی ہوئی اور و ہگوئی ایا کا مکرے جو روز ےکو پان کر ے اور پیر ان معلوم بونج جع ہر گی 
تھی :اس کے لیے روز ےکی قاکرنا ضردری شیں۔ 

لہ اد ےا ٠‏ ٭7ھ سس کا وقت ہوا ہے یا یں تو وہ روزہ افطاد شی گر 
مکنا نان نر اس جک ہوکہ سے ہوگی سے یا خیں و وہ محتی قککرنے سے لے بھی ایا کم انغام رے 
فورپو رت 


تفاروزے کے اعام 
مل ےا : گر اک راوانہ مس حت مد ہو جاۓ و اس ار لی دای کی زارنے ہے 
روزوں گی قضا واحب کیب 
سیل اج مر ایک کافر لان ہو جا نو اس کے لیے اپے زانہ كفر کے روڑو ں کی تفا 
کرنا واجب میں لین ار اک 'سلران کافر ہو جائۓے اور پھر دوپارہ مسلمان ہو جا تو اسے چا لہ 
نے نے دن کافر با ہو ا ان کے کے روڑو ں گی انرك 
سمل ےا٠‏ جو روزے انسان کی مصت کی وجہ سے چچھوٹ جائیں لت چا جات کہ ان کی ضا 
نر خواوجسص نکی وجہ ست وہ مست ہوا ہو وہ اس نے علا کی خرن ۔ سے بی کمائی جو۔ 
مل ۵ےا : مگ رکوئی خس کی عزر گل وج ے چتر دن ہے رر اور زور میں شیک 
کر کہ اس کا عز درک وثت زضل ہوا تھا ق اس کے لیئے ذاجحب ن٠ی‏ ںکہ لی برت روڑزےء زہ رکف 
کا زیادہ اشول ہو اس کے مطاق قناءکرے خلا لگ رکوی خصس رمضان البارک سے لہ سط انقیار 
مر ا اور رحضیان الا ارک میں دالیل آ ے اور بعد مر شی کفکمر ےکلہ آہا مہ با رگ کف یی پانچویں ا جک 





توضیح‌المسائل [_ 3834ا 


سفرسے واپہیں آیا تھایا چٹ یکو یا بی کہ علا اس تے ماہ رعیان البارک کے آخ میس سخ نشرو عکیا ہو 
اور اسے ہے پت نہ ہھکہ بیدیں رمضا نکو سفرانقیا کیا ٹھایا چھر سس وی ںکو ٹر دونوں صوراژں می وہ 
کترمقدار بجی پاچ روزوں کی تضا یہ اکتاکر سکتا ہے اکرچہ اعلط محقب یہ ہےکہ زیادہ عقدار یی چ 
روڑوں کی تقاکرے۔- : 

مل ۰۷ےا ٠‏ ا کسی خی پ کی سای کے ملو رمضمان السبارک کے روزو ں کی غام واجب ہر 
جس سال کے روزوں کی قضا پیل کر چا ےکر سکتا ہے لیکن اکر" نخری رمضان الاک کےا روزوں گی 
تفاء کا وت تک ہو شا آخری رحضان البارک کے پا ردزوں کی قشاء اس کے زسے ہو اور آ نرہ 
رمفضان البرک کے شری ہونے میں بھی پا دن باقی ہوں تو لہ آخری رمضان البارک کے روڑوں 
کی تقاءہکرے۔ ۱ 

مل ے ےا : ا ری مخ بر کی سال کے .اہ رمضان کے روزوں کی اضاء واتب ہو اور وہ 
روز دی می تکرتے وفت معن نکر ےک کون سے رمفان البلرک کے روڑ ےکی فا کر را ے ت 
اس کا ار آخری ماہ رمضما نکی قطاء میں خی ہوگن 

مُلہ 2۶۸ا : جس نس نے رمضان الہارک کا لقاء روزہ وکیا ہو وہ اس روزے کو بر سے 
پیل ڑ سکتا ہے اکر قغام کا وت نک ہو قز رہ ے کہ روژہ نہ لڑڑے۔ 

مل ۹ےا ا رکسی نے میت کا روزہ قضاءکیا ہو ف ممتریہ ہےکہ ظرکے بعر روزہ تد لڑڑے۔ 
ملہ لھا ٠‏ اگ زرکوکی منص بیاری میا تی یا ای کی وجہ سے رمضان الہارک کے روڑے ند 
رکے اور رمضان البارک کے شم ہونے سے پل مرجائے فو جو روڑے اس نے ضہ رک ہوں ا کی 
مارآ ن کا قاءکرنا ضروری میں 


مستلیہ لھا ؟ آگ رکوئی شس بیار یکی دجہ سے رمضان اللپارک کے روڑے ن رک اور اس کی 
ییاری آخر: رمضان تک طول ھچ جائے تو جھ روزے اس نے نہ مرک ول ا نکی تضاء ال پر وافپ 
ہیں ہے اور اسے اچ کہ ہر دن کے لیے ایک مد (تا چودہ چالک“ طعام یی ندم یا جو یا رول 
وید رفقی کو وے لیکن اگر کی اور عذر مشلا سخ رکی وجہ سے روزے نر رک اور اس کگاعزر آتحور 





ا 355 ا 


توضیوالمسائل_ 


رعضمان ال پارگک تک بات رے لے چا ےک جو روزے ث رکے ہوں ا نی قاءکرے اور اف‌یاطظ 
وجب ہے ےا ہرایک دن کے لیے ایک پد طعام بھی فقی رکو رے۔ 


تہ ٢ایا‏ ؟ فظ رکوئی حتخض بیار یکی وج سے رمفمان البارک کے روڑے شہ رکے اور رمقیان 
ارک کے بعد ا کی بیادری دور ہو جائے لی نکوئی دوسرا عذر ما ہو جائۓے جس کی وج سے وہ 
آتعدہ رمضیان المبارک کک ققاء شدہ روڑے نہ رک کے نت اسے پاٹ ےکلہ و گے یر تھے و 
ان کی قذاءکرے نیز اگر رمضسان البارک میں بیادی کے علاد ھکوگی اور عزر رکا ہو اور رمخمان الہارک 
کے بدد وہ عذر دور ہو جائۓ اور آنندہ سال کے رحضسان البارک تک بنار ی کی وجہ سے روڑے نہ رکھ 
جے تو چو روزے دہ رک ہوں اسے پا کہ ان کی تضاء کرے اور اقیاط واجسب گی با پر چرون کے 
نے ایک ودطعام بھی فقی کو رے۔ 

تل الا : اگ رکوتی مس کسی عز رکی وجہ سے رمضان البارک مج ردڑۓ ثہ رگ اور 
رمفمان الپارک کے پوو اس کا یزر وور ہو چاۓ اور وہ آئیرہ رمضان اآپارک تک جا روزوں گی 
تفاء نہ کرے تو اسے چا کہ دوزو ںکی فضامءکرے اور ہرایگ ون کے لیے ایک پر طعدام بھی فتقی کو 
رے۔ہ 

تہ ۰ اما : اگ رکوئی خخض روزے قطاءکرنے مج سکو تا یکرے میک وقت تح ہو جائے اور 
وق کی گی یس اس کوکی عذر لا ضن ہو جائے فو اسے جات کہ روزوں کی تضا ءککرتے اور ور آی۔ ون 
کے لیے ایک مطام ق کو رے اور اگر رر وور ہوئۓ کے بر مم ارارہ رگتا ہ وکہ روزوں کی تشاء 
رے گا ان قغاءکرنے سے پل تک وقت می ا ےکوکی عذد لاضق ہو جائے تو امقیاط واض بک بنا 
اس صورت میں بھی بی عم ے۔ 

مہ ٹاےا ؟ نگر انان کا عرضش چند سال طول کھت جاۓ مز اسے با کہ تندرست ہونے کے 
بعد آنخری رمضمان ال پارک کے چچھوئے ہو روزوں کی قضاءکرے اور اس سے پیل سالوں کے یاہ 
نے مبارک کے بردن کے لیے ایک بمدطعام فقی کو رے اور اط تب ہہ ہ ےکہ ا نکی تضاء بھی : 
طیوں 

متتلہ ٦ےا‏ ؛ جس مخس کے لی چرروزو کے عو ایک یر خذا فقی رکو ریا واجب ہو وہ چتر ریں 





توضی‌المسائل .1.. 358ا 


کاکغارہ ایک بی مق رک رے کنا ے۔ 


مل ےاےا : ا رکوئی شخیص او رخضضان البارک کے روزون کے قضاء کرنے میں کی سال کی 


جن رکر درے ظز اسے پان کہ قضا مءکرے اور پہ سال میں خی رک رن ھک بنا بہ ہرروزے کے لیے ایک 
طعام فقیرکو رے لن بائی سا لکی فی کے لی اس چپ بھی وایدب نمیں ہے۔ 


مستلیہ ے٢‏ : اگ رکوئی فص رمضان البارک کے روزے جان بو ھکر نہ کے تو اے جا ےک 


ان کی تتضاء بجالاۓ اور ہر نکیل دو مین روزے رھے پا ساظھ فقیرو ںک وکھھاتے وے یا ایک لام 
آزا رککرے اور اگر آئیرہ رمضان البارک تک قظاء شہ کرے تو ہرو نکیا ایک مدطعامکفارہ گی 
رےے۔ 8 

مل ۹ےا : رکوئی مخص جان بوچ کر رضان الپارک کا روژو نے کے اور ون می ں کی لد 
ماع با استصسناء کرے تو کفارہ بھی رر ہو جائۓ گا (ٰتنی جأنٹی دفعہ جمارم با اسنمنا ءکرے ات دفعہ 
ب یکغارہ بھی رینا ہوگا) جن اگ ری وف کوئی اور ایا کا مکرے جو روز ےکو نال کت ۶ شلاکی وأع 
کھات کہا ئئے ر۳ ایک ہغارہ کائی ہے۔ 

بل ١۲٢‏ : باپ کے نے کے بعد بڑے یی کو چا ےکمہ اس کے روزو ںکی فضاء اس طررح 
با لئے جی ےک خماز کے لے میں اس سے فل تفصیل سے جیا ے۔ 

متّلہ ۱٢ا ٠:‏ گر سی ک اپ نے او رمضان الہارک کے روزوں کے علاوہ کوئی ررے واتے 
روزے لا نژر کے روڑے) دہ ربھے ہوں و ا٘اط واجپ ے کہ برا با ان روڑیں گی قطام 
کرے جن اکر بی پ کی کے روزوں ے نے اج ربا ہو ارر ش ےو سز ترک تہول و ان 
روزو نکی قفاء بڑے جیے پر واعب خی ہے۔ 


ضسافرے روزوں کے ام 


وت 
مستلہ ۳ ۴ےا ٠‏ جس سافر کے لیے سفرمیں چار ر عصتی نما زکی ججاے رو رکعت ھن لازم ہو اے 
روزہ میں دکھنا چاجے لن وہ مسافرجو ری نماز بڑھتا ہو (شلا وہ نس جس کا شفل بی سفرہو یا ٹس 





توضیح:سائل ا ظ5 3دا 


کاسٹرکسی ناجائزکام کے لیے ہو) اسے چا کہ مرج روڑو رگھے۔ 
لن _گ ےا .اہ رمضمان ال بارک میں سفرکرنے خ ںکوکی حح میں لیکن روزے .سے آچے کے 
لیے سذ رکریا کرد ہے اور اسی طرحع رمضان المبار ک کی چوٹیسویں مارح سے پھطے سف رکرنا کی کرد بے 
زاس ک ےک مہ سفرج یا رد یاکی ضردری کم کے یئ ہو۔ 
مل ۳ا مر ماو رمفران السبارک کے روزوں کے علاد ہی خاش ون کا روڑہ انسائ ٍ وایتپ 
ہو ملا اس نے کسی خاص دن کے روز ےکی نذ کی ہو تو نتر ےک جب تک کبور تہ ہھ اس دن سخر 
نے کرے اور ڈگ مفرمیں ہو اور ای اکر عکن ہو ےکی تمہ دس دن رٹ کا قص دکرے اور ای دن کا 
روڑہ رجھے نین ظاہریہ ہےکہ سف رکرنا جانز ہے او ری مہ و دن ھرنے نف قص دکرنا واہنب نمی 7 
ہے اور اھر انان ا ون کا روزہ نہ رک 9لائم ہجےکمہ ا ںکی قضا ءکرے۔ 
۱ مل ۲۵ءا ۓ اگ رکوئی منص روز ےکی نز رکرے جن اس کے لیے دن مین ن ہککرے تو دہ 
۱ روز: عفر میں میں رکہ سا لیکن ار نز رکرےکہ سر کے دوران میں ایک مخصویص ون روزہ مر کے گان 
وو یکیو نین ود 
مل ٦ا‏ ؛ ساقرطاب عانت کے لیے ین دن ینہ طیب میں مستحبی روزہ رہ تا ے 
اور احوط ہے ےکلہ وہ ؟ مس دن بر“ مترات ت اور چعے ہوںل۔ 
سیل سے ۷ے ٠‏ اگ رکویی مخس سے بہ عم نہ ہوکہ ساف رکا روزہ کنا سج نمیں خرمیں روڈہ 
ررکے اور ون میں اس متلے کا پیل جائۓ نے اس کا روزہ پاطل ہے مان گر انطار تک پند نہ ہچ تر 
ال کا روزہ جج ے۔ 
میلہ 2۴۸ےا ؟ ا۰ رکونی غخص ىہ بحول جا ےکہ وہ سافر سے یا ہہ بھول جا کہ سفریل روڈہ 
اٹل وونا ہے اور سخ رکے دوران می روزہ رکھ لے نو اس کا روزہ پل سچ- 
مل ۲۹ءا : ار روز رار ظبر کے بعد سفر اتا رکرے ‏ اسے اٹ کہ اپنے روز ےکو تام 
زج اور طبر سے پیل مفرانقیا رکرے تجوخی وو عد مز پر پچ پیج گا اس کا روزہ باٹل ہو جاے گا 
اور اکر حد ترٹھصس تک کچ کیڑے سب تر زان را ات 





توضیمالسائل ا 8ہدا 


مل ۹ا ؟ اکر سافراہ رمضان الارک می ( خواہ دد ٹھرسے پیل سفرجی ہو با روزے سے 
ہو اور سفرکرے) ظمرسے پطہ اپنے دطن ہی جائے یا ایی مہ کچ جائے جماں دہ دس دن قا مکرٗ چاہتا 
ہو اور اکر ای نے کوئی ایا کم نکیا ہو جھ روڑےکو پاش لکر ہو ثر استے ای کہ ائٰ ون کا روزہ 
رکے اور أ رکوتی ایا کا م کیا ہو جو روز ےکو پان ل کرت ہو تو اس رن کا وزہ ا پر واجب یں ے۔ 
لہ ٣۳ء٢‏ اکر ماف رکے بعد اپے دن پچ یا ڈڑی مہ پیے جمال دی دن قیام کر چاتا 
٤و‏ اسے اس دن کا روزہ تی رگنا چا یے۔ 

مل ۳۲ےا : مسافر اور وہ گنس جو کسی عر کی وج سے روزہ نہ رکھ سکتا ہو اس کے فی مہ 
ران البارک میں رن کے وقت ا غکرن اور یں پھ رک رکھاتا پینا رو ہے۔ 

دہ اشخائس جن پر روزہ رکھناواجب تیں 

سیل ۳۳ے جو نس بڑھاپ کی دجہ سے روذہ شہ درکھ سا ہو یا روزہ رکنا اس کے لیے 
لیف کا موجپ ہو اس پے روزہ واجب شی ہے لن دوسری صورت مم اسے چا نے کہ پررورے 
کے عو ایک بدطعام نع یندم یا جھ ما ردئی یا ان سے لتق لی کوئی نز فقی رکو رے۔ 

مل ۳۲یا : جھ مس بڑھاپے کی وجہ سے اہ رضان البارک کے روزے نہ ر ہے ار وہ 
رعفان البارگ کے بعد روزے رکھے کے تال ہو قالط جب ہہ ہ ےةکہ جو روڑے تہ رکے ہوں 

ان کی قضام یا لاے۔۔ 

متلہ ۴۵مھا ٠‏ اگ کی می ںکوکوی ایی بیای ہو ج سکی وجہ سے اسے بت (یادہ پا گی 

ب۲ اود وہ پا برواشت نہ کر ھا ہو یا پا کی دجہ سے اسے تلیف ہوی ہو ق ا پٍ روڑہ واعب 
لین ےلکن دومری صوزت میں (ژنی لیف کی صورت میں) اسے جا ےک ہرروزے کے لیے 

ایک مدطعام فقیرکو رے اور انقیلط سب ہہ ہےکہ جشتی مقدار اشد ضروری ہو اس سے زیادہ پا د 
پے اور بعد جس جب روزہ رھ پر اور ہو نر جو روڑے نہ رک ہول اعقالط کی بنا بر ان کی تفاء 


کرت 
مل کاڈ جس عورت کا وضع عمل کا وت قریب ہو اور اس کا روزہ درکنا ایس کے مل یق 





توضیالعسائل ۱ ) 2ڑ (٤‏ 


پیٹ می جو پر ہو اس کے لیے ععنرہو اس عورت پر روزہ واجب شمیں ہے اوہ اسنہ چا چ کہ جردن 

سے ہےاگکف ردام فقی رو رے اور اگمر روزو خوو اس عورت کے لیے مشر ہو بھی ںی روز رگا 
واجب میں سے اور اعقیاطہ صٹحب کی جا بے ہرون کے لیے ایک برضعام فق کو رے اور ]نے باب ۓ لہ 
دوٹوں صورفزل میں جو روزے نہ ر کے ہوں ا نکی قضاءککرے- 


مہ ےس٤۱ےا ٠‏ جو عورت بج ےکو دددھ پلاگی جوطور اس کا دوو کر ہو (خواہ دو چے کی ماں ہو یا 

ول ہو یا یچ کو مفت ددوھ پلارتی ہو) اکر اس کا روزہ رکنا دودھ پیے وا چے کے لیے ضر ہو فو این 
عورت پر روزہ رکھنا والاب شی اور اسے چا کہ ہرون کے لیے ایک برطدام تق رکو رے اور اگر 
روزو رکنا خور اس کے لیے بھی مضرہو تق روزو اس بر وجب میں لکن اط جب کی ناپ برتا 
کے لیے مدلعام فق کو رے اور روأوں صورجیں میں جو روڑے نہ رکھے ہواں ا نکی تضا کررے ٹن گر 
اں رود پلاے وا یکو کئی اور اڑسی عورت مل جاے جو جلا اجرت چچے کو دودح پلاۓ یا سح کو دودھ 
پلائے کے گے یج کے بلپ سے یا می سے ای اور شنس سے جو اسے اجرتں دے اجرت بے کے 

تر دودھ پلائے والی کے لیے واججب ہ ےکہ پیر اس عورتکو رے دے اود خود روڑے رگھ۔ 


من کی بی مار عبت ہون ےکا طریقہ 

مئلہ ۸ <کےا :من نکی بھی نار مندرجہ زل جار چزوں سے مابت ہوثی سج- 

ا لان خد چاند دہ نے۔ 

۲... یک اییانگروہ جس کے کن پر ر قین یا الھینان پیدا ہو جائے ہہ کے کہ تم نے چان دیکھا 
ہے لزان رئش نکی رات تن پا ایت راج نف 

٦‏ رو عاولی مد کی ں کہ ہم نے را تکو چاند دیکھا ہے لیکن اکر وہ چاند کے اک انگ 
اوصاف بیا نکریں نے پیل نار ثابت خی ہوگی۔ 

××س.. - شا نکی پل ری سے ممیں و نگزر جاھیں جن ک ےگزرنے بر یہ رمضمان البارک کی 
لح ال ۸ ا یرک می مر میں دنا اکزر جاجیں 
ہی کےگگزرتنے پر شوا لکی کی ار ثابت ہو جائی ہے- 


مسٌل_ ۲۹ا : اکم شرع کے تم سے می نکی بھی رو ثابت بد اتی ۔ ہس ٠‏ 





توضیح‌المسائل ۱ )( ید ا 


مستلہ ٭ میا و. متھو ںکی جی نگوتی سے می ےکی بپھلی مرخ عایت نمی ہوقی لیکن اکر انسا نک 
ان کے نے سے نشین یا اظمیتان ہو جائے نو اسے چا کہ اس پر عم لکرے۔ 

متلہ ا ھا ؟ چاند کا امن پ بلند ہونا ىا اس کا دہ سے خیب ہونا اس جا ت کی ولیل خی نک 
سابقہ برات چاند رات تھی اور ای طرح اگر ہار خر سے پھلہ وکعائی رے فو دہ دن یل کا پھلا ون شار 
نہ ہوگار چاند ک ےگردحلقہ ہو و اس سے پنت للا ےکہ بی کا چان رگنزشتہ رات ہلا ے۔ ۱ 
سیل ۲٥ا‏ : اگ ربی منص پ ماو رمضان الپارک کی یی بر ثابت نہ ہو اور وہ روزہ نہ 
رک لیکن بعد ین ابت ہد جا ۓےکہ گمزشعہ رات دی ہاند ارات کی نو اسے چا ےہ ال دن کے 
روزے کے قظا مءکرے۔ 

مسنتلہ' ۳ا ۰ ا ری خرمی می کی بی بر حابت ہو جائے و دوسرے شمروں میں بھی 
ثاہت ہو ےی خوام وہ و وہرے خرس شرے دور ہوں با ویک اور خواو 1 اس شم رکا اور ان رو سرے 
شمروں کا ان ایک بی ہو یا ہو۔ 

متتلیہ ۳ ےا ۹ میی ےک مپی نار نر برتی سے عابت نہیں ہوتی سوائے اس صورت کے انما کو 
علم ہوک نآ دد عاول عردو ںکی شماد تکی رد سے کسی دوسرے ای طرے سے آیا سے جو رتا می 
ج 

منملہ ۵ ےاج جس رن کے ملق ہز نی کو علم نہ ہوکہ رمضیان انبارک کا آ خر ی دن یا یہ 
وب سس سیت رغال 


ہے کو بڑواے چان ۓےکہ روزہ انظا رکر رے۔ 
متلہ ۴۹ع : آمر ایک شخس نیل مس ہو اور اہ رمضیان ال ہارک کے بارے می لقن :کر تل 
ق اسے پاچ کہ گن برع ل کرے اور اگر یہ بھی محکن نہ ہو نے جس می کا اشل ہو کہ رمضان 


الپارگ کے اش روڑے رکنا گج سے لین اے چا ےکر نس مینے میں روزے رکے میں اس 
ک ےکیارہ من پر کے بعد دوبارہ ایک عتے کے وت کون 





توضیحالمسائل [. 361] 
رام او رگروہ روڑزے 
لہ ے ۳ےا 2 عحیرفطراور عید قریان کے دن روزہ دنا عرام ہے ینز نس دن کے بارے میں 
از یکو علم نہ ہو کہ شعبا نکی آفخری تجرں سے با رمضان البلر کفکی بی تو اکر وہ ان ون بی 
' ران البلر ککی غیت سے روزہ ر کے فو عرام ہے۔ 
ہا ۲۸ا : آر عورت کے مستحبی روزہ رک سے شوہ رکی مؾ من ہوتی ہو پڑ عورت 
بر روزہ رکھنا عرام سے اور اضیاط واجب ہہ س ےکہ خواہ شوہ کی مق ملنی ضہ بھی ہوی ہو ا سک اہازت 
کے یپھرمستخبی روز ہے 
متُلہ 2۱۹ےا :۰ .ار نوا رکا مستحبی روڈہ پاپ اور می پا داوا کے لیے ازیت کا موجپ ہو تر 
ارلاز مل لج سی روزہ رکھنا رام ہے۔ 
لہ ٭ھےا : آ رکوئی بٹا ا پ کی اجازت کے بغیر مستحبی روزہ رکھ لے اور ون کے ووران 
میں پاپ اسے تم عکرے و گمر بے کا باب کاکما نہ انا با پ کی ازیت کا موجب جوف کو اہ ےکہ 
روز ڑ رے۔ 
متلہ ےا ؟ اگ رکوتی نس جانا ہوکہ روزہ اس کے لیے محر نہیں سے نے اگمرچہ ڈاکٹر ےک 
مطر سے اس جحخ سکو روزہ رکھنا چا ہے اور اگ رکوگئی خص ننقین یالمان رکتنا ہوکہ روزہ اس کے لے خر 
ہے و اگرچہ ڈاکط یہ کےکہ معف رم میں ہے اس شخ سکو چا ےکہ روزہ نہ رکے اور آگر وہ روڑہ رکے تر 
اس کا روز: جج یں ہوگل 
مل ۵۳۲ا : ال رھی سک اتول ہوکہ روزہ اس کے لیے عم ہے اور اس ال کی بنا یہ 
اس کے دل میں خوف پدا ہو جاۓے نز اکر اس کا اخال لوگو ں کی نظرمیں تاثل قول ہو تر اے روزہ 
نہیں دنا چایۓ اور اگر روزہ رے نز روز کچ میں ے۔ 
مل ٣۳‏ ۵غا٠‏ نس نس کا عقیدہ ہوکہ روزہ اس کے لیے معنرخیں اگر وہ روز رکھ لے اور 
مغرب کے بعد اے پند جل کہ روزہ کنا محخرتھا نے اس صورت میں جبلہ رر ا ورہۓ کا ہ وہ جان 





توضیح‌المسائل .362.1 


بوچ کر اس کا ار میا پکرنا ترام ہو اعیاط واج بک تا پر لے جا ےکہ اں روز گی آشا ءکرے۔ 
مل ٣"‏ لشعا شی روزوں کا زک رکیاگیا ہے ان گے علاوہ گی عرام روز ہیں و مفس لکابوں 
میں ڈکور ہیں۔ 

مل ۵٤ا‏ ۰ عاشورے کے ون کا روزہ اعْاط واجب سے کہ روڑہوط رھ ین ا رن کا 
روز روہ ہے جس کے پارے میں شیک ہوکہ عرفہ کاون ہے یا عید قریان کاچ 


تب روڑے 


متلہ ۵۷ےا ؟ بز تام اور کروہ روزوں کے جن کا وک کیا یا ہے سال کے خمام دٹویں کک 

رورے سب ہیں اور اض ووں کے روزوں کے لیے بھت کی ھک یگئی سج جن میں سے چند ‏ 

یں۔ 

اذ ہرم ےکی پلی اور آنری جعرات اور پہلا بدھ جھ مین کی دسویں تار کے بعد آے ار 
کی مخ ىہ روزے نہ رکے تو صسخخب ہ کہ ا نکی تضا ھکرے اور گر روڑہ پلنگل نہ درک 
تا ہو تو صخقب ہ ےکہ ہرون کے برلے ایک برطعام یا ۷ / ۴ا نخود لہ وار چندی فقی مک 
رے۔- 

...سح ہرفمض کی تقو چودہویں اور بندرودیں ارت 

۳ رجب اور شجان کے پرے مین یا لن دو خمیتوں شی لے روزرے رکھ گن خواو وہ 
ایک دن بیکیوں جہ ہو۔ 

۴س شوا لک چو خی سے فویں نرں ک۔ 

۵.۔د زی قعدک پھویں اور انٹیسویں تر ۔ 

.۰ زی ال کی پپلی نر سے فویں ارچ (ییم عرفہ )کک کن اکر انان روز گی وج ےه 
پیا ہونے وا یور کی بنا پہ وم عف کی دجائیں شہ پڑھہ گے تو اس دن کا روہ رکنا روہ 


ہے۔ 
3 


ے۔۔ معیدفد کا مارک دن (مازی اج )۔ 





توضیح‌المسائل )دید ا 


روز مللہ ( ۴+ زی اھ)۔ ‏ 
۹ شک بھی تی لود میں روڈ 
ا رحول ارم صلی اللہ علیہ وآلہ و مل مکی ولادت پا عاوت کا ون (ع١‏ رق الایل)۔- 
۷ای تاری الاو ل کی پچررہ نر - 
یز رسول اکرم صلی اللہ علیہ لہ وس مکی بھشت کے دن نشی ے٢‏ رج ب کو بھی روزہ رکنا صتتب 
ہے اور جھ نی مستحبی روزہ تھے اس کے لیے وجب نہیں ہےکہ اسے انام کو پمپائے پل 
آلر اس کاکوئی موسن بھائی اس ےکھانے کی دعوت رے و مصتخب مہ ہ کہ ا کی دعوت تقو کر لے 
اور روزہ دن میں می نر رے خواہ ظمہر کے بعر ب یکیوں نہ ہو 
وہ صوریں جن میں مطلات روزہ سے پربی زجب ے 
مئلہ ۵ا : مندرج زیل اشماص کے لیے جب ہے کہ اکرچہ روزے سے خنہ ہوں تاہم ماو 
رمفسان ال ارک میں ان افعال سے پر ہی زکرین جھ روز ےکو پاط لکرتے ہوں۔ ۱ 
و دو مسافر جس نے مفر یں کوئی ایا کام کیا ہو جھ روزہ کو با کر ہو اور وہ ظبر سے پھل 
ولح میں بای شجمہ گی جائے جماں دہ دک دن رہنا چاہتا ہو- 
×.. وہ سافرجھ ظبرکے بعد اپ دن یا ای تہ گی جاۓ ہماں دہ دں دن رہتا چاہتا ہو 
ادر اس صورت میں ج بکہ وہ پیشھ سر میس روزہ نوڑ چک ہو اکر بر سے پھلہ ان چکموں پر 
جاے جب بھی بسی عم ہے۔ 
۳ وہ می جو ظمرکے بعد تقدرست ہو جائۓ اور ار ظمر سے پل تنررست ہو جاے 
تب بھی بی عم ہے اکرچہ اس ن ےکوئی ایا فنل انجام دا ہو جھ روز ےکو پاط کر ہو۔ 
ود عورت جو دع میس جی جا فا کے خون ے پگ ہو جاۓ۔ 
مسلُلہ ۵۸ا : روزہ دار کے لیے جب ہےکہ روذہ افظا رکرنے سے لے مخرب و عشاء کی غماز 
پھے لیکن آل ھکوئی دوسرا خیش اس کا انظقا کر را جو یا اسے نشی روزہ دا کو زا اتی زیادہ خواکٹی 
ہوکہ تضور قلب کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکتا ہو تو رہ ےکہ پل روزہ اظا رکرے اور پر نماز یہ بے 
لن جہاں تک کن ہو نماز فضیلت کے وقت تی اواکرے_ 








تو ضیم‌العسائل 


لہ ۵8ےا احعلاف سے ماد یہ ےکہ ایک صادب خفل و ایمان انسان جن دن سید ٹل 
حمرے اور بنابر اغٌٰیاط اس کا ای کرت مپارت' نماڑ اور رعا وغیر و کے مقصیر سے ہو اگرچہ ناب اتوگی پ مجر 
نیں ہے اف جج ہون ےکی چتد شرائط ہیں جو سب زی ہیں۔ 


ا- مت 


ہ... فین کا چا ےکہ بات عبارات کی طرح اعلا ف کی عیت بھی یہ تصد قی ت کرے اور ے 
یت اعلا فکی ابتدا سےکرتے ہو اس بر نر کک تام رہے انا گر را کو فی تر 
کے اکا کی ابتدا اویل شھر ےکی ججاے تو یہ امراشال سے خال یں 

ن.. آک اعاف سے ووسرے اعطا ف کی طرف عدول جات ایی اور ا بات سے کل 
فرق یں پا کہ روفوں اعشحاف واجب ہوں یا دوٹوں تب ہوں یا ایک وانپ ہو اور 
ووسرا تپ ہو۔ 

.سی ضی طرف سے اطاف کرنے کے بعد ووسرے شخفس کی تیابت انقیار کرنا 
چائز نہیں اور ہہ بھی جائز نمی کہ انسا نمی دو سر ےکی خیات سے اپنے اعتلاف کی طرف 
ا اپنے اعشلاف سےککی دو سر ےکی ام تکی طرف عدد لکرے۔ 

-٣‏ روزہ 
ظ0“ شاف اسی وقت حجح سے جب روزہ بھی ػچج ہو اور ىہ بھی ضردری ےک اعتکاف 
کرنے ولا روزے سے ہو یڑا رکسی شخصس کا روزہ رکنا سفروظیر کی وجہ سے نہ ہو 7 

اس کا اعشکاف بھی جج نیس ہوک 

0ئ اناف مہ رمضمان البارک میں اور پالنفوص مہ مباارک کے آنری 
غٹرے می ںکیاجباۓ۔ 





توضیح‌المسائل _ ۱ ) 3655 ا 


-۳٣‏ رٹ 


ن.. می مفصس کا اش فک غرض سے مر میں من دن ےکم مرن حجج نہیں ہے ابد 
ایک دن ا چند دن یا ایگ رات ت ا چند راتیں زیادہ فھہرتے می ںکوئی مرح نیں- 
7+2+-. ً چوھی رانوں کو برخلاف دریال وو راتیں اعتتاف میں راشل یں ا الہ بی اور 
تھی رائو ںکو بھی نیت میں شائ لکرنا چاتڑ ے۔ 
نا را و و ا ٹا 
تن ممین دفو ںکی نز رکرے اور تسرا ون عید ہو قے اعتکاف کجج خی ہو گا 
۹ .. گر اعطاف کے لیے باج دن کی نذر اس شرط کے ساتھ کی جات ےکلہ ىہ ین اس سے 
کم یا زیادہ خمیں ہوں کے و نزر ٹل ہوگی اور گر ہے شر کی جا ۓکہ بے دن پایّ سے زیادہ 
نیس ہوں کے ان ىہ نہ کھا جا ےکلہ ىہ دن ات وفوں ےکم نمیں بہوں کے تو جن دن 
4و ا تک الا فکرنا داب ہے اور اکر ہے شرط کی جا ےک ہہ دن پاچ سے کم نیس ہوں گے 
۱ لگن ہہ نہ کھا جا ےکہ ہہ دن ات دنویں سے زیادہ میں ہوں گے نو ھن کا اضاق کرنا بھی 
وانب سے اس صورت میں انسا نکو اخقیار ےکلہ چوتے اور پانچریں دن کے روزو کو بھی 
پل جن دفوں کے روزیں سے مل جھے یا ان دو دنو ں کو چلہ ون کے ساتھ اکر انی 
ین ععودہ روزے شا رکرے۔ 


مان 


ت... اضان ۷ چا نے کہ اعتاف کے لی مندرجہ یل سابد میں سے شی ایک میں مرے 
اور بنا بر اضیاط اکر خمکن ہو تو اعشکاف اشی مساجد میں بجالاۓ- 

0. میر ارم “ریو “سپ رکرفہ سد بصرواور شرکی جا سرت 

اقان گر انان کسی ممین یر میں اعشکاف کرے ور پچھر دہاں اعتکاف جاری رکے می ںکوئی 
رکاوٹ شی آجائۓ و اکاف باطل ہو جانا ہے۔ اڑی صورت میں اس اما فک وی 
دوسری مسر میں جاری رکھنا جع خیں۔ لہ انسان بر واعب ہس ےکہ اکر اعتکاف واجب ہو تر 
ا سکی قا مکی دوسری صصح میں یا رکاوٹ دور ہو جانے بر اسی مس یل چھالاۓ۔ 





توضی‌المسائل _ )66د ا 


... مجر می ا ںکی عراب' حر چعت زی غانہ ( شا سو رکوفہ کا بیت اغشت) اور بت 
۰لقات بھی شائل ہیں اور سد می ں کی اص مہ اعتکا فکرنے کا قصد رکرنالخو ہے۔ 

۵- اجازت 

0 .. این کو چا کہ اعشکاف میں مشفول ہونے سے پچ لہ ان اشفائس سے اجازت حاصل 
کرے جن سے اجازت عاصل کرتا اس کے لیے ضروری ہو لا غلا مکو چا کہ اپنے "ا 
سے اور بیوئی اپنے شوہر سے (پالنضوص جب اس کے اعتا فکرنے سے شوہ رکی جن تلنی 


ہل ی) 
ٌ7 ۵ ... اور اولاد والدیی سے ( بالنصوص گر اٹیں محبت کی بنا یر اولاد کے انکاف کرنے سے 
انمت بچ ) اجازت عاص لکرے۔ 


.۔. انان کر چا کہ اعطا فک مرت اک سیر میں گزارے للا خواہ دہ ال کے تم 
یش ہو یا عالم کے اکر وہ بلاوجہ وہاں سے لہ فو اس کا اتتاف باپل ہے بمہ بعیر خی ںکہ گر 
وہ بھونے سے بھی لے نز اٹل ہو زاس کے اسے زیردس وہاں سے الا جائے یا اس کا 
نلناکی عاجت (شلا پیشاب' پاخانہ “مل جنابت تتسل اتاہ یا مل مس میتہ) کی بنا یر 
ہو اگرہ اس کا سب ال کی افقیار ے ہو۔ 

۵ علوه ازیں عیفش کی عیادت یا جنازہ کی تشخ اور میت کے گل نماڑ اور وشمی کے 
لیے فلنا بھی جاتز سے لیکن کسی موم ن کو ندا حافظ کے باگواہی رسیے کے لیے فکلنا جائز 
ہیں۔ 

ناو آآ رکوئی کلم عام طور پر ضروریات میں ار ہو تر اس کے لیے کنا بھی چائز ہج لن 
اعقیاط سخ ب کی بنا انسا نکو چا ےکہ سب سے قریب راستہ اختار کرے اور ضرورت ے 
زیادہ نہ رکے۔ اگر مجر میں فس ل کرت تمکن نہ ہو نان حور مود میں ٹھرنے سے ماع بھی 
نہ ہو (شلا میت کاتسل) نو مسر سے کنا جات نہیں 

0 .۔۔. ماف کے روران ا کاموں میں مشخول ہوپا نس سے اعتاف کی صورت پل نہ 





توضٰیحالمسائل )ا +6د ا 


رہے اعختا فکو بافل کر دنا ہے۔ خواہ ای اکرنا تبوری اور جج رکی وجہ سے ہی کیوں ئہ اور 

قاط واج بک با پر انسا نکو چا کہ باہر ٹھنا پچھوڑ رے اور اگر اس پر مجیور ہو نز تی 

الامکان سائے سے اجقنا بپکرے۔ 

ایاف عجاۓ خور صتب ہے لک ن بھی کبھی ( شا نڈر اور اس سے سثای صورژں 

میں ) عارضی طور پر واحب بھی ہو جات ہے۔ اکر اعشکاف معین واجب ہو تو شروع سے ہی 

واعب ہے اور اعقیاط مخ بک بنا بر واجب ملق ہونے کی صورت میں بھی شروع سے 

واعب ہے نان ہنابر اقوی اکر مطل وجب یا تخب ہو تو شروخ سے واجب نمیں ہے الہت 

دو و نگزرتے کے بعد تیسرے دن کا وادب ہونا مین ہے ہراس کےکہ گر حی تکرتے 

دقت کی وج. سے ختیسرے ون کو چھوڑنے کی شرط کی جاے اور دو ون بعد وہ وجہ ہی : 

آجاے ق اسے فتسرے د نکو چھوڑنے کا انقیار ہے۔ تاپ اگر خی ت کرت وقت شرط نہ کی 

ہو ممیت سے پل یا بعد می ںکی ہوگی شرط مم نہیں ہے۔ 

0 ار کوئی بجہ درٹیشی نہ ہوت ہوۓے بھی تیرے ون کو چھوڑنے کی شر کی جائۓے 
ایاطا“ جائز خی لان اگ رکوئی غخص می تکرتے دقت پچھوڑن ےکی شوطاکرے اور پچھ بجر 
ہیں اس شر دک ت کر رے قے بظاہراس کا عم ساقط خی ہو]۔ 

.۔۔. گر کوی مخفس امش ف کی نز کرے اور ذر میس تسرے دن کو چھوڑنے کی شرط 
کرے نے اکر اعکاف رو کرنے کی نیت کے وقت پچھوڑت ےکی شرط ‏ کرے تو ا کو 
پچھوڑنا جائز نہیں 

۵... مگ کوئی حخصس املا ف کرنے والے کی شکہ غصب کر کے وہل جیٹھ جاۓ اور اعتکاف 
نو مار عو تجتر خی نل کے تال سے اور 

ار پاٹل نمی ہو گل 


اعشکاف کے چنر اور لام 


اعتکا فکرنے والے کے لیے چند جزوں کا چھوڑنا ضروری سے شل 
0...۔ عورت سے محب تکرنا اور بنا پر اعطیاط اس چھویل نیز حموت کے ساتتھ مرو یا عورت کا 


٥ 





توضیمالمسائل ۱ ) 60د ا 


اوس لین 

... اعطاف کے دوران استسناءکرنا ترام ےے- 

ہ۹.. سل نت حاصل ک نے سے سجئے خوشبو سوگین وت فا ام نہ کرے تپ وا 
تح خیں۔ 8 

. جا اقیظ واجب خزیر و فروشت کرنا لہ *طلط حجارت کا معللہ گر“ ناعم بائی مباح 
ونیادی کاموں ( شا دخکاری سے کپڑا تا رکرنے باکپڑے جینے) مس لوئی حدع میں کیہ 
اعقاط جب ہہ کہ لیے کاموں سے بھی اتقنا بپکیا جائے اکر ضروریات خورد وش مم 
پینھانے کے لیے انسین سودا فروش تکرنے بر مجبور ہو جائے اور سورا ررض تکرئے کے علاوہ 
ىہ ضروریات مسیاکرنے ک یکوئی صورت نہ ہو اور سوا فروشت کھرنے کے ےکی س7 
وک لکرہ بھی کن نہ ہو تو وہ سودا فروضش کر سنا ے۔ 

”...می فص سے جح کا ی کہا جب اس کا متعید طخ ظاہ رکرنا اور دصرے مخ کو خلا 
سے بچانا ضہ ہو بگہ درٹی یا دنادی معاللات میں غلبہ عاصل کرت اور ابی فضیلت اتا مور :ء 
اں اگمر اس کا متقصد مق ظاہ رکرنا ہو تو یہ بمترین عبادت ہے۔ 

ناو انقیاط سخ ب کی بنا بہ اعتکا ف کرنے وائے کو ہرائسی بن سے انقاب کرنا چاہجنے جو 
کے ووران حعالت اترام میں عام ہے اکرچہ بنا بر اق الں کا غاف کچ سے اور الوم ل 
کے ہو ۓےکپڑے پنتا' پالو ں کو صا فکرنا شکار کاگوش تکھانا اور تا 207 نال 
کے لیے مز ہےں 

... ہو چڑیں اعلا ف کرنے والے کے لیے حام ہیں خواہ وہ دن میں وت پڑ ہوں یا 
را تکو یظا ہر اعتکا فکو فا دکر رت یں۔ 

۵ ... گُگر زکورہ بلا یزوں سے اعکاف فسد ہو جاے نے گر اعتکاف وادب مین ہو لڑ ان 
کی قغاءکرنا واجب ہے اور وجب غمیر مین ہو نو دوبارہ اعتکاف کر چا ای طرخ اگر 
کی فص کا اعشاف صخقب ہو اور دو د نگزرجانے کے بعد فاسد ہو جائے نو ای کی تقاء 
زضی کو اراس روط رروت وھران رک 
یں اور اس اعتگا فکی فورا تضامءکرنا بھی وجب جییں- 





توضیچالمسائل ۱ ڑ 368ا 


جح مر کوئی مس اعیاف کے ووران کوئی معللہ کرے نے أکرچہ شاف باطٹل ہو جا ۓ 
لین معللہ باٹل یں ہو]۔ 

ت.. آلر ائٹذافکرنے الا پے اعاف کو اع کے زرجھ فا رک دے تو خواہ وہ دن مل 
جوا غککرے یا را تک ایپ کفارہ وااعب سے لن بنا بر اقوئی تعاع کرتے کے لاد کی 
وو سرے فعل سےکغار: داب میں ہوا کرچیہ انا طکرنا صسخحب ہب اور یہ اھربتیاہ خی یکہ 
اس کاکفارہ مار کے کفار کی نتر ہو۔ 

ح.. أل رکوئی مخ رمضیان اللبارک میں اشاف کرے اور پھر اے بھاع کے ذر یھ دن 
یس فا کر درے فو اس پہ دوکفارے (مجنی ایک رعفان البارک کے روزے کا اور روکر! 
اشاف ک) واجب ہیں اسی طرح اگ رکوگی شنس ماو رمضما نکی فقضاء کے دوران اعتحا فکرے 
اور زوال کے بعر اسے فلس دکر دے اکر وہ اختاف نز رکی وجہ سے وادب ہو تو نذ ری 
الللت کی بنا بر اس پر ج ننکفارے واجب ہو جاتے ہیں۔ 

ن.. نگ کی مس ای ررڑے دار یی سے نہ رضان الپارک میں اس کی مرضی ہے 
ناوف جا عکرے نو ہنابر قاط اس پر چا رکفارے واتب ہو جاتے یں۔ 


ب 


حجحجمس 


وہ کے بعد س ایک ایی چیر سے جد تق نکی داد کے سج سیےہ اس کے بارے میں سورۃ 
انفا لکی آنالیسویں آیت میں ہیں ارغار ہواے۔ : 

واعلمو انما غنتم من شی فان للَه خمسه وللرسول 0 اور چان لو بو نع م۶ کیا خر 
سے اص لکرو فو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول صلی الد علیہ وآلہ, و ٥لم‏ اور رسول 
ہے قرتراروں تجیھوں' مکیخوں “اور برویہیوں کا ہے گر تم الد پر اود اس (وی) پ انان رکا ہو جھ :م 
نے این پنرے پیارے می حقرت مہ صلی اللہ علیہ لہ وسلم پہ نز گی 

خس کا نصف حصہ ان ساوات کا ہے جو قب ربا حم ہوں یا مسافرت کے دوران نک رت ب×ھ 
جیے ہوں اور نعف حص !ام وقت علیہ السلام سے متملقی ہے آپ کے زانہ غیت میں ہے حصہ آپ 








توضیج‌المسائل 1[ 326_اٴ 


کے ایے خان بکو وینا چا جو جنتداشین اور معمارف سے لو ہو اور یا چھراس سے اس جح کے خر 
کرنے کے متلق اجازت عاص لک لی جا یے۔ اود اقوٹی ىہ ےہ ”نم ساوت بھی خی کم شر کی 
اجازت کے فر جکرنا چائز خی اس لیے ہم تمام جنتدی نکو ا سکی اجازت دے دی ے۔ ۱ 
یم لام علیہ السلام ان مقاصد پر خر کر جاہے جن کے متحاقٰ آ پکی رضا مندی معلوم ہو 
(شلا ختاحع موم نکو دیا جائۓے) اور مب ہی ہےکہ آپ کے نام سے تقمد قکیا جائے۔ سم امام کے 
حض اہم مصارف حسب زبل ہیں جماں پر ھاکم شر کی اعازت سے خر کیا جاسکتا ے۔ 
امم ان واعظین ( مبلغین ) کو دا جائۓے جو علوم رین کی ترو کریں اور الام کی سر 
۱ ند ی اور اشاعت کے لیے حدمات امام دیں۔ 
۲ ان ای عم کے اعانت کی جائے جو علوم دی کے تصول میں محروف ہوں اور چالول کو 
لیم زے کر او کے سر سی ای 
کریں۔ 
۳.... ای دوسرسے کانوں پر خر کیا جائے جن سے مومنین کے رین کی الا ہو ان کے 
نی ںی تل ہو اور اللہ تال کے نزدیٹ ان کے درجلت باند ہوں۔ اتاد واجب ے ہے 
کہ اس سے یں مرقع اعم سے رتو عکیا جاے جو ا کی جمات عامہ سے واتف ہیں۔ 


ٹس کے انام 


مہ ۰ےا : ٠س‏ مات یں یپ واجب ہو ہے۔ 
ای کاروپا رکاج - 


٢م‏ دن (کئیں )۔ 
٣ے‏ گج (وفی )۔ 
۳... ال مل جو عرام مل سے خط مطر ہو جائ٤ے۔‏ 


۵ جواہرات جو خواصی نچنی سحندر میں غوط لگانے . سے راب ہوتے ہیں۔ 
٦‏ سمبڑگ کال مت 





یں مو مین جو زٹی کاف رکسی مسلمان سے تزیرے۔ 
زیلی می لن کے بارے میں اعام تتضیل سے بیان کے جامیں گے۔ 

اسم مث لے (کاروپا رکا ضغخ) 

لہ الا : جب انا نکو خمارت مضحت ما دوسرے چچشیوں سے اہ مال دسخیاب ہو (ال کے 
طور پر گر وہ یٹ کی نمازیں اور روڑے ہھا لاگ ا کی اجرت کے طور چجیھ ووامت حاص لککرے) اور 
کر وہ کھائی خوراس کے فور اس کے ائل و عیال کے سال پھر کے اخراجات سے زیادہ ہو قر ات چچاجے 
کہ زائ مال کا شس لتق پنچواں حصہ اس طرییے کے مطابق ادائھرے جس کی تفصسیل بح یں بیان *٭ 
کی 

مل نے١‏ :مگ رکس یکو اتی سیئے فی رکوئی میدن ہو جائے لا آگ رکوئی عیس اس کئی چز ہاور 
می کے دے دے او وہ اس کے سال پھرکے اخراجات سے زیادہ ہو ٹپ اےے اسب ےکہ جو باھ چچے اس 
پر ف٠س‏ اداکرے۔ 

مستل 9 ۳ڑ ےا :؟ مرج عور کو کا ہے اور جو مال شوہ بیو یکو طلاق خظع دسینے کے عوض حاضصل 
72 ہے ان پر فُس واعب میس ہے لیکن اقاط جب ہ ےکہ شی ا اککرے اور جو حبراث انسا نکر 
لے اس کے مگیے بھی بی تم سے میلن اگ ری میس سے رشتہ داری ہو اور اس سے میراث 3ئ 
مان نہ ہو تر اعقاط واجب ہہ ہے کہ اس مخ کو جو میراٹ لے اکر وہ انان کے سال بھمر کے 
اخراچاتٹ سے زیادہ ہوڑاں ٢ا‏ - ازاکھرے۔ 

لہ ۹۰۷ج نگ رکی مخ کو میرات کے طور بر تہ بی لے اور اسے معلوم ہوکمہ جنس شنس 
سے اسے سے میورلث ظی سے اس نے اس کافس ادا خی ںکیا ہے فو دہ (شی وارث) اقیاط داج پک نا 
بہ اس کافس اواککرے لین اکر نود اس مال پر فس داب نہ ہو اور وار ٹکو علم ب وکمہ تی مس ہے 
اسے وہ مال درئے میں ملا ہے اس کے زے یھ فس واجب الاو تھا اسہ چا ین کیہ ان کے یل سے 
آسي اراکریت 

مستلہ ۹۵ےا ؛ اگ رصسی شخص کے پا کغایت شحار یکی وجہ سے بنہ بل سال پھر کے افراجلت 














ر . 
سائل 1 356 ]ا 
اج فس واسبانہ رپسورثت. شا 
ور ھت ہہ ےکر نے 
سے لیے وی خیارت کے “نا منانح 


: کک كّ 
جاے وو ری 


را ہو مر سای بے“ خر میں اس میں سے ٭ پچ 
وع خریا ھا گے تا / 
ان ا میں ا نک 






ری وا ۶خ 
۸ ور و وت سے ففس وواکرےگ۔ 
.4۰۰ےا ۷۰ رت 
کر .وط ہیر جب بی ہ ےک اکا ؟ :7 
الرے اور سی صورت زنانہ سس زینت یت استعو لکرنے کا 
رکزر جاے۔ 
کی 7 

سا_ ۹۱ا کی" بت 
یق نے مضاضی کا 

ہیل ۴كا رح مق مو کے شون مھ مض ورس ا سے مر کے لد 
رر شس 
رو ون 2ھ بجچھشرھ 
حر کیا ہو۔ 

مل ۹۳ ءا ٠‏ پر ہے کاب حصہ مجارت دک وگ سے تنٹنی مقدار راک جم 

2 ہا تی .لا 7 


یل ۴۴۴ا ؟: پ ٹس پل ا ا 
بد کک رعنانجشن .وم سے سی صلی کے ران میں اں چزل ضوست 


نے ےت ے۔ 


ترمیالسائں_ ے۔_ ' 7 


ا رشن جو زی کاف کسی لان ج رام 7 7 
زنل می ان کے بارے میں اعظام تخیل سے یان سے جاہیں ہے۔ 


|[- مار لے (کاروہا رکا نم ) 


لہ ۲٤ےا‏ ؟ جب الما نکو تجارت حضحت پا دوسرے بیڑوں سے لہ مال دحتیاب ہو (ال کے 

طور پر اکر وہ مب ت کی نمازیں اور روڑے ھا ما کر ا کی اجرت کے طور چھ دوات حا لکرنے) اور 

مر وہ کمائی خوو اس کے اور اس کے ابل و عیال کے سال بھر کے اخراجات سے زیادد ہو ف اسسے چا 

کہ لد مال کا خس مق پنچواں حصہ اس طرییقے کے مطابق اداکرے جس کی تفبیل بعر یش بیان ہہ 

ثت 

ستلہ م ابا ؟ اگ رک یکو کائی کیے بفی رکوئی کمن ہو جائۓ شا اگ رکوتی شس ا کوتی نز ہلور 

می کے رے دے اور وہ اس کے سال پھر کے اخراجات سے زیادہ ہق اے چا کہ جو بب ہچ اس 

بر فس اراککرے۔ 

منتلہ ۹۰۳( ےا ؟ مرجو عور ت کو متا سے اور جو مال شوہ بیو یکو طلاقی لع وسینے کے عوض ماضصل 

رن سے ان پر فس واجب نہیں ہے ئن اعاط سب ہ ےکہ شموں اراکرے اد جو میراث انسا نک 

لے ؛ں کے لیے بھی بی عم ہے لین ا کی شخس سے رشع داری ہو اور اس سے میراٹ لے ۷ 

مان نہ ہو تر انقلط واجب ہے ہے کہ اس شف کو جو عیرات لے گر دہ انان کے سال بھر کے ۰ 
انخراجات سے زیادہ ہو تر ا کا فُس اوارے۔ 

مل 2۹۷( .اف رکسی مخ سک میرٹ کے طور یرجھ مال لے اور اسے معلوم ہوکہ جس شنخس 
سے اسے بی میراف لی سے اس نے اس کافس ادا شی ںکیا ہے تو وہ (شقی وارث) انظاظ واج ب گی بنا 
بر اس کا شس اوالرے لان اکر وداس مال بر ٹس واجب نہ ہو اور وار ٹکو علم ہوکہ بخس مس - 
اسے وہ مال ور میں علا سے اس کے زے کچھ نس واب الادا تھا اسے چا کہ اس کک مال سے 
س اواارے۔ 

تل2 ۵٤ےا‏ ڈگ کسی عشغن کے پاس کفایت شعار یکی دجہ سے بکھ بل مال بھرکے اخراجلت 








توضیم‌العسائل ))23+دجدا 
کے بعد پچ جا ق اسے بای ےکہ اس پر ٹس کواکرے۔ 


متلہہ ۷۹با ٠‏ جس فص کے اخراجا تکوئی دوسرا ننس پرواش تکرن ہو اس چا کہ نال 
ایس کے اھ آئے ا پر خں اواکرے۔ 

مل ےاےا : : اگ رکوئی من سکوئی جائمدا رھ اس افراد شا اپٹی اولاد کے لیے وق فکر رے اور 
ساہواسن جائیدار میس کیٹ باڑی اور شجرکار یکریں اور اس میں منفعت عاص لکریں اور وہ ائی ان 
کے سال بجر کے انخراجات سے زیادہ ہو قے اٹمیس چا کہ زائ دکمائی بر ٠س‏ اواکریں اود اسی طرخ وہ 
ھی رین نے اس جاتوا سے فع ام لکریں خلا اسے می پ رنے دیں انیس چا ےکہ اس لٹ 
کی جو مقار ان کے سال پھر کے اخراجات سے زیادہ ہو اس پر شس اواککرییں۔ 

منلہ 2۹۷۸ا :جو مل کسی فقرنے بیور شس اور زکوۃ اور مدقم مستحبی کے حاصل کیا ہو 
اکر وہ اس کے سال جھر کے اخراحجات سے زیادہ ہو نو جھ مال اسے دہاگیا ہو اس سے اس نے نف کیا ہو 
شلا اس نے ایک ای درشت سے جو اسے لور خس دیاگمیا ہو میوہ حاص لکیا ہو اور وہ اس کے سال پھر 
کے افخراجات سے زیادہ ہو تو اسے اہی ےکہ اس بر ٹس اوارے۔ 

متلہ ۹ےا ٠‏ اگ رکوئی منص ای رقم سے جس کا ٹس اوا نکیا ہو کوئی بیز خریدرے نشی بے 
والے سے ک کہ ' می ہہ جس اس رتم سے نید را ہوں " ظ ظاہربہ ہ ےہ کل مال کے متحلق 
معللہ درست سے اور شس کا تلق نس سے ہو جانا ہے جو اس نے اس رم سے فریدی ہے اور ماک 
شر کی اجازت اور وحن طکی عاعت میں ہے۔ 

سّلہ مےےا : آ رکوئی مخ سکوئی جس نیرے اور معاللہ ٹل کرنے کے بعد ا سکی قمت اس 
رق سے اداکرے جس پر فس نہ دی ہو نز جو معللہ ا ن کیا دہج ہے اور جو برقم اس نے نس 
وان ےکوی ہے اس کے شس کے لی وہ ٹس سے سن مفروض ے۔ 

متلہ .ا ےا ؟ گآ رکوگی شف سکوکی ایا مال خریدے جس پر فس نہ دیاگیا ہو مز اس کا ٹس ہے 
والے کی زنہ راری ے اور خریرار کے زے بھ کن 


مل ےےا: گر کوئی شف سکس یکوکوئ اڑی چززیلور علیہ دے جس پر ٹس او ہکیاگیا ہو ڈ 





توضیح‌المسائل )[ دہڑد ا 


بی جے ( لی ٹس )سی اواشگ ی کی ذمہ داری علیہ ریے دالے پر ہے اود نس شف ن کو 
02 

مل سےا : اگ رکی من سک وکوئی مل کی مافر یا ای مخس سے لے جو فس اداکرٹے بے 
اتقار نہ رکتا ہو 3 اس کے لیے لق جس شف س کو مال لے اس کے لیے ) اس مال بر شس کواکرنا 
راع نہ 

لہ سم یا . ناب پش وارکارتگر اور اسی عم کے دوسرے لوکو ںکو چا کہ وہ جب ۔سے 
نطو گھا رہ ہوں اس پر جب ایک سا لگزر جائے تقو جو اھ ان کے سال پھر کے اتراجات سح زیادہ 
جو ایں بر نخس او1کریں اور جس مس کا شف لکسی پپٹچے سےکائ یکرنا نہ ہہ اکر ا انفاقا“کوئی منفدت 
حال ہو جائے قے جب اے ہہ متفعت عاصل ہو اس وت سے ایک سا لکزرنے کے بعد بش ی مقدار 
اس کے سال پھر کے انخرابات سے زیادہ ہو اتے اہ ےکہ اس پر شس اواکھرے۔ 


مہ ےا : “ث سال کے دوران میں جس وڈ 2 تی بھی کسی مخ س کو نفعت عاصل ہہ وہ ا پ 
فس اراکر کنا ہے ور اس کے لیے یہ بھی جائز ےکلہ سال کے شخم ہو نے تف ا سک اراتا ی بیس ار 
کرے اور وہ ٠س‏ اوائکرنے کے سی تھی سال انقیا رکرے۔ 

مملہ انا ؟ آگ رکوئی مب ما پشہ ور ویر ف٠س‏ وین کے لیے سا لکی مرت مت نکرے اور 
اس سے خفعت عاصل ہو لان سال کے ووران میس مرجائے و اسب کہ اس کی وفلت کک کے 4 
اخراجات اس منفعت میں منراکر کے اتی اندہ پر فس وا جاۓ۔ 

مگلہ با ا رکسی خ سک برض حارت تزیدی ہوتی جن کی مت پڑھ ہاے اور وہ 
اسے نہ ےچ اور سال کے دوران میں ا کی ق گر جا تر جٹئی مقرار میں آبت می اضافہ ہوا ہو 
اس پر فُس واجب نمیں ے۔ 

سیل ےا ؛ اگ ر کی شن سک بزض حیارت شریدی ہوگی ہٹس کی آِت چچھ جاے اور دہ 
اس امید کہ لئھی اس کی قیت اور چڑ ھےگی اس جن سکو سال کے اہ کے بعد تک خروشت نہ 
کرے اورپ ا سکی قی تگر جاے تر جس مقدار میس قبت بڑھی ہو اس پر فُس وی وجب نہیں ہے 








توشیحالسائل ‏ ت ات ے )374ا 


بللہ اصل اور فع کے مجموع سے ف س کی جو ضبت ہو ای بت سے موجودہ مال میں جن پا قب ت کی 
شل میں فس اراکرے۔ 
سیل و ھا ٠‏ اگ رکسی شفصس کے پاس مال تارت کے علاہکوئی مل ہو نس کا ٹس وہ اواکر چکا 
ہو یاٹںس پر فس وادب می نہ ہو فاکوئی اڑسی چز جھ اس نے خر ہے کے لیے نیدی ہو اگ اس کی 
بت بڑھ جائے اور وہ اسے پچ رے ‏ و اسے چا کہ لی مقدار میس اس ہن کی قبت مل اضافہ ہوا 
ہے اس بر فس ااکرنے ای طرع ٹلا اگ رکوئی درشت خریرے او اس میں کل گییں یا کٹ رموئی ہو 
جائے ٘ آگکران پیزو کی گدداشت سے اس کا مقصد ٹع کا تھا سے چا ےکہ ا ن کی قمت می جو 
زیادقی ہوئی خ اں ب پر ٹس اداکرے بہار اس کا مق ٹٹع کا نہ ھی رپ ہو تب بھی اسے چا کہ 
لن پر شس اواکرے۔ 
سمل ۸۴ےا ٠‏ اگ رکوئی نس اس ارارے سے باغ لگائ ےکک جب ا کی قمت بڑتہ جات گی تڑ 
اسے پچ ولے گا اسے چا کہ پھلوں اور درخ ل کر نشووظما اور باغ کی بھی ہوئی قیت پر غس اوا 
کرے لیکن اکر اس کا ارادہ یہ دہا ہوکہ ان درخنوں کے کیل یچ گا ا نکی یت سے نف اٹھاۓ گنز 
چھراسے فا چلوں پر اور درخوں کے بڑھنے پر ٹس وینا چا ہے۔ 
مم ے٢‏ ا رکوئی فص بید اور چنا ویر کے درخت لگائے زز اسے ای کہ ہرسال ان کے 
وص کافس اداکرے اود بی طرح مر لا ان درخ ںکی ان شانوں سے نع کا جو عموۃ ہرسال 
کانی جاتی ہیں۔ اور جما ان شانول کی ھت سے با دوسری منضعضوں سے ط اکر ا ںکی آمدلی اس کہ 
: سال بجھرکے اخراجات سے بوھ جائے تر اسے اہ ا. پرسال کے غات بر اس زان رتم پر ٹس اوا 
رت 
مہ 2۸۳ےا : اگ ری شف سک آدلی کے متحدد ذرائع ہوں لا جائدا کا کراب لت و اور لین 
وین جگ یکر ہو قے سے جا کہ سال کے ات بر جو یھ ا سکی اخراجات سے ڈائکہ ہو اس بر غس اوا 
کرے او اکر ایک ذربیج سے ف, عکھائے اور دوسرے ذرمجے سے مقصان اٹھاقے تذ اعقیلا مسج بکی بنا 
اسے چا ےکہ جو فٹع کا ہو اس پر فس اواکرے لیکن ار اس کے دہ ملف چپ ہوں لا شیارت اور 
زراع ت کر ہو و اں صورت میں اظاط واج کی با یٍ وہ ایک پچ کے نقعمان کا تررال ووسرے 





توضیحالمسائل : فک ا وی 3 
چیہ کے ٹفغ سے مہ کر سال 

مستلہ ۸۳ےا ٠‏ انین جو اخراجات فائدہ عاص لکرنے کے لی کھرے ( ا ولالی پور پاربردارگی 
کی سلسلے میس جو بے خر کرے ) میں وہ فعت میں سے مض اکر سنا ہے اور اتی عقدار ی۔ شس لوا 
کرنا لام خیں۔ 

مکل ۷ےا ٠‏ سوراگمری کے متاخ سے کوئی منص سال بھ رج ج کچھ خوراکف' مپا سک کے 
علان' مکان' تخریداری' بے کی شادی ٹٹی کے چینر اور زیارات وقیرہ پر خر کرے اس بر نفس میں 
ہے بشرطیہ ایے افراجات ا سکی حثیت سے زیادہ نہ ہوں اور اس نے فغول تی بھی دہ کی ہوں 
لہ ۵ا جھ ال انسان نذر او رکفارہ پ تر کرتے وہ سالانہ انخراجات کا حصہ ہے اىی رح 
وو مال بھی اس کے سالانہ اخراجات کا حصہ ہے جو وکس یکو ابطور پریہ یا انعام کے دے دے اش ریہ وہ 
اس کی جثیت پے زیاوہ ٹہ ہو۔ 

تل ۸۹ ےا ٠‏ مر انان ایک لیے شر ہو جماں کے لوگ خھو] ہرسالی رھ نہ ہت :نی رلڈرکیوں 
کے لیے تا رکرتے رہے ہوں اود وہ سال کے دوران می واسی سو لکی انم سے جنر خریرے جو ا گا 
ایت .سے مبٹھ ضہ ہو قڑ ا سک اکر سال کے اندر اندد انی لڑ کی علیت ترار دے دے اور لڑکی ای 
کو استعول نہکرے تو لڑکی پر س واجب سے اور اکر لڑک ی کی قلیت میں نمیں ویا تو وو خس بر مس 
دا واتب ہو گا سب ام یس ور می ہےےکہ ا کی حا بت ویادد ط و آزالرحقیت ے زان 
لڑکی کی گلیت میں رے گا نو جو متقرار نیڈ حثیت سے زیادہ ہوگی اس بر وہ نس خور ٹس اواکرے پاقی ہلل 
مس تصرف نہ کرن ےکی صورت میں لڑکی فس اواکر ےکس کی حثیت کا تین عقداء اور عرف عا مکی 
نظ میں جو ہو وہ مجر 

مل ے۸ا : جھ مال کسی ہنس نے یج اور دومری زیارات کے سرب خر کیا ہو دہ اس سال 
کے انراجات میں ار ہوا ہے جس سال میں خری کیا جا اور اگر اس کا سفرسال سے ڈیادہ ہد تر طول 
تن جائے وھ دہ دوصرے سال مس نر جکرے اسے ہا ےکہ اس کاٹس اداکرےن 

منلہر ۱٤۸۸‏ : جو مخ س کسی پے یا عیارت سے نفعت حاص لکرے اکر اس کے پا سکوئی اور ۲ 


یہ 





توضیحالمسائل ڑرز6رد ا 


مال بھی موس مسررٰ مشیر 
کی ہوگی مخ کو ھ نظ رکھتے ہو ےکر سکتاہے۔ 
مستلہ ۸۹با ٠‏ جو سمی نکی مخصس نے سال پھر استعال کرنے کے لیے ابی تارت کے مزال 
سے خریدا ہو اکر سال کے آخ میں اس میں سے چجھ پچ جائے فو اسے چا ی ےکہ اس کافس اواکرے 
ففس ای کی ی کارفں ‏ روا ربخ فان کا ایك ہن نک 
قبت بی گئی ہو ٹو اسے چا جےکہ اس ما لکی قبمت فرید کے صراب سے غُس اواکرے گال 
مل +۹ے) ٠‏ أک رکوئی محخصس فس ادا کرنے سے پل انی عجارت کے نافع سے کر کے لیے 
عاع خریرے تو جس دبت بھی اس سلا نکی ضرورت شع ہو جائے اط مسب ہہ ہےکہ اس بر ٹس 
او اکرے اور بی صورت زانہ زاورات کی ہے ج بکہ عورت کا انہیں بطور زینت استعا لکرّتے کا 
زان ہگزر جاۓ- 

: , ۶ 7 
مہ (یےا : اگ رکی ‏ سکوکسی سال مس ماع نہ ہو تو وہ اس سال کے انراجا کو آ نرہ 
مہ ٠ ٢۹۲‏ اگ رکی شف سکو سال کے تروع میں مناخ نہ ہو اور سرائے سے خر کرئے اور 
سال کے شم ہونے سے پل اسے نافع عاصل ہو جائے فو اس نے جو کچھ مرائۓ میں خر کیا ے 
پ سو شوہ ایت ترجہ 
تر کیا ہو 
مہ ۹۳٤ےا‏ : اگر سراۓ کا پھ حصہ حبارت دغیرو میس خلف ہو جاۓ نز جلنی مقدار سیائۓے مل 
ےم ہوئی ہو انسان انتی مقدار اس کے تلف ہونے سے خل عاصل شدہ منافع میں سے ما کر سکتا 
0 
مل ۳اا ء: رکسی فیس کے مل سے مماؤے کے عاددہکوئی اور چزز ضائع ہو جائے تز وو ایس 


کہ عاصل شدہ ہنع سے سیا خی ںکر متا لان اکر اسے اسی سال کے ددران می اس چیرکی ضرورت 
پڑ جائے نو دہ اسے اس میں اپنے پچ سے عاصل شدہ متانع سے مم یاکر سا ے۔ 





توضیج‌المسائل )(++3 ]ا 


یل ۵ آک ری شف کو ساراس لکوئی ماع نہ ہو اور اپے اخراہات قرش ل ےکر پورے 
کرے قز وہ آحندہ سالوں کے مناخ سے اپنے حاص لکردہ قرنے کو نما نی ںک رکال لہ اکر سی کے 
شرومع میں اپ اخراجات پور ےکرنے کے لیے قیض نے اور سال شخم ہونے سے پسلہ مننع ماصمل 
کمرے فو ظاہریہ کہ اپنے قر نکی مقر اراس منانع میں سے تما خی کر سکتا ماموا اس ک ےک قرشہ 
ماع حا لکرنے کے بعد لیا ہو الب دونوں صوریں میں دہ ای تر کو اس سیل کے ماع سے اواکر 
سنا ہے اور مناق کی اس مقار سے مس کاکوئی تحلق میں 

متلہ ۹ے ٠‏ اگ رکوئی مخفس مال بدھانے کی خرس سے یا ای اللاک خریدرنے کے لیے جس کی 
اسے فردرت نہ ہو فرش اٹھائۓ پذ وہ پا پچ کے منانحع سے اس قر ضش کی مقدا رکو مرا خی کر سکنل 
ہاں جو مال مبلور قش لیا ہو یا جو چیز اس قرض سے خریدری ہو آگر وہ تکف ہو جائے نز اس صورت مم 
وہ انا زس اس سال کے متائی میں سے اکر کنا ہے۔ 

لہ ےء ا ادن پر چیک فس ای زی شمل میں دے متا ہے اور چاہے تو بقتا سس اس 
کے زسے ہو ا کی قھت کے برابد رت بھی رے مکنا ہے نین اگ کی اور جن سکی شکل میں دنا چاے ٠‏ 
کل ال ہے زاس ک کہ ایاکرنا کم شر کی اجازت سے ہو۔ 

متلہ ۸ےا ٠‏ جس ہنس پر فس واجب الارا ہو اور سال پھرمگز ریا ہو لن ا نے ٹس اوانر 
کیا ہو اور ٹس دینے کاارادہ بھی نہ رکتا ہو وہ اس مل میس تصرف خی ںکر مکنا بکنہ اقیط واجب ہے ہے 
کہ گر وہ ٹس رینے کا راہ بھی رکتا ہو تب بی بی عم ہ کہ (لٹنی وہ تصرف خی ںکر ساد 
مہ 0۹ئ١ ٠‏ جس ھخ سکو س اراکرن ہو دہ یہ نمی کر ستاکمہ اس خ سکو اپنے زے ےلچن 
اپ آ پ کو ٴس کے خحقین ۷ متقروض تو رکرے اور سمارا مال استعا کر رہے اور گر اسقمیل 
کرے اور وہ ال نف ہو جائے تو اسے پا ےکہ اس کا تس اوارے_ 

مل ٭0۸۳ا : جس نو یکو فس اراکرت ہو اھر وہ حاکم شرع سے مشور کر نے اور ف سکو اپ 
زے نے نو سار مال استعا لکر سنا ہے اور تسجھوتے کے بعد کس مال سے جو منانع اسے حاصل ہو دہ 
اس کا انال ہےے۔ 








توضی‌المسائل ہے ہے پل 8ڑ تا 


مستلہ ۱۸۹ ٠‏ جو منص کاروار می ںکی دوسرے کے ساقھ شریک ہو آکر دہ پنے ماع بر ٠س‏ وے 
رے اور اس کا شراکت دار نہ رے اور آتوہ سال میں وو شالت وار اس ما لکو جس کاٹس اس نے 
میں دا شراکلت کے سرائۓے کے طور بر پیش لکرے فو وو شخفس (ننس نے شس اد اکر دا ہو) اس ما کو 
اتیل میں لاسما ے۔ 

مستلہ ۱۸۹۲ ٦‏ ار ببالغ چے کے پا سکوئی سریلہ ہو اور اس سے منانع حاصصل ہو فو با ہونے کے 
پیر اسے اس پر خس اداکرنا واجب ممیں۔ 

متلہ ۱۸۰۳ : جس مخ کو کی ووسرے فیس سے کوٹی مال لے اور اسے کیک ہ وکمہ اس 
ووسرے خفصس نے اس پر ففس اداکیا سے نا خیں فو وہ (یشی لی حاص لکرنے والا ھس) اس مال بش 
تر ف کر متا ہے لہ اکر نین بھی ہوکہ اس ووسرے شنس نے فس اوا خی ںکیاتب بھی اس مل میس 
تر کر سا ے۔ 

تہ ۱۸۴۴ ۰ ا رکوئی مس انی حیارت کے منالع سے سال کے دوران می ںکوئی ایی جائیداد 
خریرے جو ا ںکی سال بھرکی شروریات اور اخراجات میں شار نہ ہو تو اس پر واجب ہ ےکمہ سال کے 
مات بر اس کا فس اواکرے اور اگر شس اوا نہکرے اور اس عائمدارکی قیت پھ جائے ق لاژم تج 
کہ ا کی موجودہ قمت پر فُس دے اور چائیزاد کے علادہ فرش وغیرو کے لیے بھی بی عم ہے 
متلہ ۱۸۰۵ : جس منس نے شرع سے (یشنی جب سے اس پر شف سکی اولشگی داجب بوئی ہ) 
٠س‏ یہ دیا و شال کے طور بر اگکر و ہھکوئی جائرار خریرے اور ا سکی قمت بڑھ جائے نار اس نے ہے 
اداد اس ارارے سے نہ خربدیی ہوکہ ا کی قمت بڑھ جائۓے گی نز بچ ڈالے گا لا نی باڑی کے 
لیے زشن قریری ہو اور ا کی قیت اس ردقم سے اواکی ہو جس پر ٹس نہ دیا ہق اسے چا کہ 
قبت غرید بر ف٠س‏ رے اور لا اکر پینے وا ےکو ود رقم دی ہو نس پر فیس نہ دا ہو اور اہ ےکماہ کہ 
بہ جائیداد اس رم سے فرید ہوں تو اسے چاہچ کہ اس جائیدا دی موجودہ قیت پر فس اواکرے۔ 
صنلہ ۸۰۷ ٠‏ جس مخس نے شررئع سے (لنی جب سے ف کی اداگی ا بے واجب ہو ) 
ٹس نہ ویا ہو اکر اس نے اپنے پش کے منانع س ےکوگی ای تج خریدری ہو جن س کی سے شرورت شہ ہو 





توضیالمسائل _ لإ وہدا 


ار سے منائع کھائے ایک سا یگز گیا ہو ادسے چچاہنے کہ ا پر ٹس اواکرے اور اگر اس نے گ کا 
ساڑوسامان ادر دو ری در ت کی 292 ای میثیت کے مطابق خیری ہوںلں اور چان ہ وکہ اس نے وہ 
یں اس مال کے دوران جس خریدی ہیں جس سال می اسے منانع ہوا ہے ے اس بر شس وینااس کے 
لیے لازم خمیں لان آلر اسے ہہ معلوم نیہ ہ وکہ اس سال کے دوران میں خحبیدی ہیں ما اس سال کے 
ضت ہو جانے کے بعد نیدی ہیں ت قاط وا بک بنا پر اسے چا کہ عاکم شرع کے ساتہ مصالعت 
,2-1 

٢۔-.‏ معدن (کایں ) 

مل ے۱۸۰۵ ڈ اگ کوئی فیس سو نے“ دی“ ہیسے' ہے ہے ' پھر کے کوک فی ز* عق × 
ری یا نم کف کی کان سے یا دوسری مانیں سے کوئی نز حاص لکرے ت مر وہ چززنصاب کے مطاق ہو تز 
اسے چا ےکہ اس کا ٠س‏ اواکرے_- 

مّل ۱۸۸۸ء کن سے لی ہوکی پچ زکا نصاب ۵ا شتالل صعموی مکہ دار سونا سے نشی مر جن سے 
ثال ہوئیکسی چیزکی قجت دا شقال سکہ دار سونے کک کچ جائے نز انا نکو چاہی ےکہ ج وھ اس نے ۱ 
اس پر نر کیا ہو اسے منماکر کے جھ باقی چے اس پر غس اداھرے۔ 

مستلہ ۱۸۸۹ ۰ جس مخس نے کن سے منافع عاصص ل کیا ہو اور اس نے و کان سے لی ہو اگر 
ا کی قبت ۵ا مشقال سلہ دار سونے کک پچ ق2 اس پر فس تب وجب ہو گا جب صرف یہ مال یا 
اس کے روسرے کگاروبار کا متناٹعغ اس ماع سے ملاکر اس کے سال پھر کے اخراجات سے زیادہ ہو 
جاے۔ 

ضتلہ ۱۸ : تج چو خی مل اور سخ یسیو می سے ٹیں یں اور جو ٹس انیں 
زشن سے اائے اسے اس صورت میں فس ویتا جاہے فقط دہ چززیا اس کے دوسرے کاروپار کے مزانع 
سے ملاک وہ راس کے سال پھر کے اخراجات سے بڑھ جائے۔ 

متلہ ۱۸۷ ۰ جو فص بین ےکوی نز حاصص لکرے اسے اہی ےکہ اس کا شس اراکرے خواہ وہ 
کن زین کے اوپہ ہو یا یچ اور خواہ اڑسی زین ہو ج ھک کی علیت ہو یا اڑسی زین میں ہو جس کاکوئی 








توصٰیح‌المسائل )[ 80د 3 





الک شہ ہو۔ 

سیل ۱۸۳ : اگ رکسی مخ سکو یہ سعلوم نہ ہوکہ جو یراس نے کان سے لی ہے ان کی قیمت ۱۵ 
ختال کہ وار سونے کے برابر سے پا خمیں یا اس بر ٹس واجب الاوا میں تر اس کے لیے ضردری خی 
کہ وژ نکر کے پاکسی رت سے اس کی قمت معلو مکمرے۔ 

سیل ۱۸۳۳۰ : اگ رکی مخنس می کر لن سے کوقی یز خیبیس اور اس کی قبت دا مشقال سلہ وار 
سونے کک کچ جائے ارہ ان میس سے ہرایک کاحصہ اس مقدار ےکم ہوا ہو انیس چا کہ ای 
سے ٠س‏ اداکریں۔ 

مستلہ ۱۸۸۳۴ : اگ رکوئی مخصس دو سر ےکی جائداد ےکوتی معدلی چنز نے 7 جو سچھھ اسے دسقیاب 
ہو وہ جاتداد کے مالک کا یل ہے اور چوکلہ جاتداد کے مالک نے وہ معد چز اللنے کے لیے سبھ خر 
می ںکیااس لیے جب ا سکی مقدار نصل بکی عد تک تج جائے اسے (شنی جائیداد کے مان ککو) جاچے 
کہ جو پچھ کان سے لیا ہو اس عمام قز بر ٹس اواکرے۔ 


2 (وفیند) 


سیل ۵ء رفین وہ ال سے تو زٹن یا درشت ڑیا دیوار می چچھپا ہوا ہو او رکوئی اسے وہای 
ہے نت 

متلہ ۱۸1۴ ٠‏ اگر انا نکوکسی ای زین سے وفینہ لے جس کی لیت نہ ہو تو وہ خود اس کامل 
ہے اور اسے چا ےکہ اس پر فس دے لن اکر وہ وغیہ سونے اور بچاندی کے علاد ہکوئی ہجو تاس 
رس کا واجب ہون اق کی بنا ے- 

مللہ ۱۸۷۷١‏ : و فک ظ و ‏ و ان 
کا ناب ۵ا تال کہ دار سونا سے اور مر سونے ا چاندی کے علاو ہکوگی اور چے ہو فو سونے پچانری میں 
س ےکی ای کو اس کے نصاب کا معیار بنالیں۔ 


مل ۱۸۸۸ : ال ری مخ کو زی زشن سے وفینہ لے جو اس نے کی سے نریدری ہو اور اے 


توضیچالعسائل__ 0س0 


معلوم ہوکہ ہے ان لوگوں کا بل نہیں جو اس سے لہ اس زین کے مالک تے فو وہ خوز ایس کا مال ہو جات 
ہے اور اسے چا کہ اس بر فس اواکرے لیکن اکر اس بات کا ال ہوکمہ مہ ان لوگوں میں سے سی 
کال ہے نر اطاط واج بک بنا پر اسے (لٹنی اس شف سکو -ے وفینہ لے) چا کہ سابقہ مان ککو اطلاع 
رے اور اکر چد کہ اس کال یں ہے تو اس شش سکو اطلاع رے جھ اس سے بھی پیل اس زمین 
کا ماک تھا اور اسی ترشیب سے ان تمام لوگو ںکو خ رکرے جو خود اس سے پلللہ اس زشن کے مالک رے 
ہوں اور آگر پعھ کہ وو ان میں سے کسی تَا بھی ملی میں ہے نز بچھردہ خوداس کا مال ہو جا سے اور 
اسے چا یج کہ اس کا شس اراھرے۔ 

متلہ ۱۸۸۸ ۰ اگ رکسی مخ کو ای کی ایک برتوں سے مال لے جو ایک کہ وین کی ہوے 
ہوں اور اس مل کی جھنڑئی قیت ۵را شقال چاندی یا ہا متقال سونے کے برابر ہو تر اسے چا کہ اس 
ک نس اواکرے لن اکر ملف مقاات سے دضینہ میس تو ان میں سے جس دفین ےکی قبت 
ذرکورہ مقدار تک پچ اس پر ٹس وایتب ہے اود جس دفین ےکی قجت اس مقدار تک نہ پیچے اں پ 
یں ۱ 
مستلہ ۱۸۳۴ ٠‏ جب دو اشخا سکو ایا وفینہ لے جن سکی قبت ۵را شقال چاندری یا ۵ا شقال سونے 
تک تچ ہو تر خواہ ان میں سے ہرنیک کے ج ےکی مقدار ای نہ غمی ہو انمیں چا کہ اس پر س 
اداکریں۔ : 

مسئلہ ۸۲۱ : اگ رکوئی نیس بچھ کی طرح کاکوئی مدان خریرے اور اس کے چیٹ سے اسےکوئیّ 
مال لے ت امرچہ اس بات کا اشل ہوکہ يہ مال بائع کا ہے لیکن خریدار کے لیے ضردری نمی ںکہ بائ کو 
ا کی اطلاع درے اور اس مل پر پے سے منائع کا عم لو ہو ہے لکن آکر دہ انور چ یو ں کی تم ک۷ 
ہو ق خریدار کے لیے لازم ہےککہ باقع کو اطااع دے اور اکر وہ ال کی نثائی جا رے فو یل اس کا ے 
ورنہ سے ما و اس کا بے اور اس پر پیٹ سے منانع کا عم لاو ہوا ہے۔ 


۴- وہ عال مال جو ترام مال میس خحخلوط ہو جائۓے ۱ 
مستلیہ ۱۸۲۳ ۰ ار عدل مال عرام مال کے ساتھ اس طرح خلط غطہ ہو جال کہ انسان کے لیئے 








توضیالمسائل ٠‏ 382-1 ا 


انییں ایک ووسرے سے ال کفکرنا ممکن وہ ہو اور حرام مال کے مالک اور اس مال کی مقدار کا بھی عم یر 
ہو اور انسا نکو ہہ علم بھی نہ ہوکہ عام مال کی مقدار ٠س‏ س ےکم ہے با زیادہ ہے تو اسے چاٹ کہ تام 
لی کاٹس دے اور ٹس اداکرتے کے بعد یق بل اس نف پر عطال ہے 

مہ ۱۸۳۳ ٠‏ گر عل یل عام ال سے خط طط ہو جائے اور انسان عرامم کی مقار خواہ وو شس 
س ےکم ہو یا زیادہ ہو جانا ہو لن اس کے پان ککو نہ جاتا ہد قے اسے بات کہ اتی مقار اس مل کے 
ال گکی طرف سے صدقہ درے درے اور اقیاط واجب بے ہ ےکہ عاکم شر سے بھی اجازت لے۔ 


لہ ۱۸۲۴ ۰ اکر عدل ال عرام مل سے غلط ویر ہو جاتے اور انسا ن کو عزام کی متبدار کاعلم نہ 
ہو لان اس مال کے مال فکو پا ہو فو ان دوخو ںکو چا کہ بای رضا مندری سے فیصلہکر لیس لین 
اکر ال کا مالک راضی نہ ہو تر انما نکو چا کہ جچئی مقدار کے بارے میس لقین ہ کہ وہ اس کلال ہے 
وہ اسے درے دے اور بحخرہہ س کہ نس عقدار کے بارے میں اعتقال ہوکہ وہ اس کا یل ہے دو ھی 


اے رے رے۔ 


مہ ۱۸۳۵ ۰ اگ رکوئی شس حرام سے خلا خیز شدہ عدال مال کافس دے ومے ور بعد میں اے 
پتد کہ ا مکی مقدار ٹس سے زیادہ تی تر اسے اٹ کہ ہشنی مقدار کے بارے میں علم ہو کہ 
ٹس سے زیادہ تھی اسے اس کے مال فکی طرف سے صدق ہر رے۔ 

مکل ۱۸۲۷ ۰ اگ رکوئی مخس عام سے غلط غطز شدہ علول بل کا ٠س‏ اد اکر دے یا لیا مال ٹس 
کے مال کو نہ پچامتا ہو ا ںکی خحیت سے (ڑنی اس مال کے ال کف کی میت سے) حمدق کر دے اور پجر 
یس اس مال کا ملک مل جائے تذ ضردری شی ںک ہکوئی چز اسے دے۔ بشر یہ سرت کے طور پر دی 
کے لیے عاکم شرم سے اجازت لی ہو 


مس مے ۱۸۲ ۰ اآگر عل مال حرام سے خلا یز ہو جاۓ اور ترا کی مقرار معلوم ہو اور انسان 
جانا ہوکہ اس کا مالک چند خصوضص افراد کے علادہ او رکوئی خیں نیشن سہ نہ جاہتا :کہ ان میں سے کون 
ما مالک ہے تو اسے چا ےکہ اکر کین ہو قے ان سب افرا کو راعض کرے اور اگر اییاکرنا کن نہ ہو 
قرعہ ڈائے اور نس کے مم 7 0 وہ ال آے رے ورے۔ 








توضیج‌المسائل___ ) حقدا 


۵ حواصی ے عاصل کیئے ہو جواہرات 

لہ ۸ الہ خواصی کے ذریے یڑنی سحندر مم نوطہ ڈگ اکر لولو بن با دوسرے جواہرات 
ڈفانے جائیں تو خوا دہ سی چیزوں ہش سے ہوں ج اق ہیں یا معدیات میں سے ہوں ان پر غس اواکریٗ 
جا بے اور بنا بر اعقاط ان کاکوئی نصاب مقرر نہیں ہے انا جأنی مقداری تھی ہوں اور خواو لے والا 
ایک نس ہو باکئی اشفاصس ہوں ان بر فس اواکراعاہنے۔ 

متلہ ۱۸۲۹ : ار سندر یں ور فی کے بی دوسرے ذرائع سے جوا ہرات نکالے جانھیں قے بنا پر 
اعقیط ان پر فس اجب ہے لین اگ رکوئی مخ سندر کے پا کی جج یا سحندر کے سمنارے سے 
تواببات عاصل کرے آے ان کافس اسے اس صورت مل دی چاینے جب ج وھ اے وستیاپ ہوا ہو 
(شن جاہرات) دہ تھا ما ا کی کاردبار کے ددسرے منانع سے مل کر اس کے سال بھر کے انرا ہت 


سے زیادہ ہو۔ 


مہ ۱۸۳۳۴ ٠‏ چھلیوں اور ان دوسرے حیداعات کا شس جنمیں انیان سحندر میس غوطہ لائے ائیر ٠‏ 
عاصص لک ہے اس عورت میں واجب ہوا ہے ج بکہ ان چییوں سے عاصلکردہ مناخ جم یا معحات 
یس کے کاروبار کے ووسرے منافع سے م ليکر اس کے سال بجھر کے اخراجات سے زیادہ ہو 


مکل ۱۸۳۱ ٠‏ آر انا نکوئی یز ہیالے کا ارارہ یئ بغیرسندر مس خوطہ لگائۓ اور انفاق سے کوئی 
تاہراس کے پاھ آ جائے و قراط واج بکی بنا بر اسے پان کہ اس کا تس اواھرے۔ 

مستلہ ۱۸۳۲ ۰ آآر انان سندر میس خوطہ لائے اور اس میس سے کوئی جانور شال لائے اور اس 
کے یں میں سے ا کوئی جواہر لے فو اکر وہ جانور ج یکی مامند ہوجس کے چٹ میس کموا جواپرات 
ہوتے ہیں تر اما ن کو چا کہ اس پر فس دے اور اکر دہکوئی ایی جافور ہو نس نے اا5“ جوا رٹل 
یا ہو 3اس پر ف٠س‏ اس صورت میں واجب س ےکہ وہ جواہر تھا با انسان کے کاروبار کے دوسرے ماع 
سے ملک اس کے سال بھرکے اخراجات سے ژیادہ ہو۔ 


مل ۳ آ_ رکوئی مس بڑے دریاوں خلا وجلہ اور فرات میس خوطہ لگا اور جواہر لال 
لاے تر اکر اس وریإ ش جواہر دا ہوتے ہوں فو اس شف کو چا ےکہ جو جواہر مھا ان کا خس ارا 





توضیح‌المسائلِ ۱ 1 384 دِ 
یں 

مل ۱۸۳۳۴ ۰ ا رکتی مخنس پانی زین درا با حندر) میس خوطہ لگاے او زسپجھہ خر زیل لائے تو 
اس ہا کہ اس کا شس دے بلمہ لگ پا کی کیج با سحندر کےکزارے سے بھی عاضص لکرے تو اعقاظ 
گی با بر اس پر شس ولجب ے۔ 

متلہ ۱۸۳۵ ۰ جس منص کاٹ خوطہ زنی یا معدنیات وکالنا ہو اکر وو ان کا شس اداککرے اور تر 
اس کے سال پھر کے اخراجات سے سپکھھ پا رہے تو اس کے لیے مازم نمی ںکہ دوبارہ اس کا شس وا 
کرات 

مسیلہر ٠.۱۸۳۷‏ اگ رکوئی پچ کوئی معدل چیزنکائے یا اس کوتی دغین ىل جائے با سمندر میں توطہ لگا 
کر جواہر شال لاے و اس بر خُس واجب الادا میں لن کر اس کے پاس حرام مال یں ملا ہو عطال :ال 
ہو اس کے ول لکو چا ےکہ اس ما لک پا گکرے۔ 

۱ ال خرمت‎ -٦ 

متلہ بے ۱۸۳ : ار مان ام علیہ اسلام کے عم سے کفار ےن گکریں اد رھ یں جنگ 
مس ان کے پاقہ گیوں تو انہیں زیم تکما جانا سے اور ایس ما لکی ات یا ا سکی نفل و تل وغیرو کے 
معیارف ھنماکرنے کے بعد اور جو رتم امام علیہ السلام اپنی مصلحت کے مطابق خر کریں اور جو یل 
و ماس امام علیہ الام کان ہے اسے علید ہکرنے کے بعد اتی ماندہ بر شس اداکرنا ودب ہے اور امام علیہ 
اللا مکی غییت کے زانے می ںکغفاد کے ساتہ جن کرنے میں جھ مال لے ایا ط کی بنا بر دو بھی غیت 
کی عم رکتاے۔ 

ےن دہ زین جو زبی کاف مکی مسلمان سے نریرے 
مہ ۱۸۳۸ ۰ اگ رکافرز یکی ملان سے زشن تیرے پز اسے چا ےکہ اس کا ُس خود 
زین سے یا لپن کسی دوسرے مال سے دے اود گر وہ ملکان اور دکان وخیرو لان سے خریدرے تو 
اسے پا یی کہ ا سک زشن (تئی مکان اور دکلن کی زشن) کافس وے اور ہے فُس دسینتے ہوئے قد 
قیت ضردری ٹیس ہے مہ جو عاکم شرع اس سے (مژنی کافر زی سے) فس نے اس کے لی بھی 


0 








توضیج لحسائل ...3ل 388ا 


ضرورگی یہ ات تصد قرم ترے۔- 

مل ۹ آلر کافر زی ایک ملمان سے خریدی ہوئے زمین دوسرے مسلمان کہ باتھ بج 

زم شس بھی اس ماذرے شض ساخط نیس ہوا ین من ہے یج فڈیری 821 ای وع ا 

اور آی دہ کاغر زی مرجاۓ اور کوئی مسلمان وہ نشن یں کے وارث نگ فور پر حواضن کر ہے حب بھی 

گا نم ےت اور ووٹوں صوربّل میں اگر پفرض وو وس گاغرنے باال ہے ے پل کی دو سے؛ تس ے 
ین ار کیا ہو او اعّاط وادبپ 17 بنا پھ صلان اں زٹیں کا ا 

متا ۱۸۴۳۴ ٦‏ ار کافرزی زین خیدرتے وق ہہ شرط عائ کرس کہ وہ ٠س‏ نی دنے گا یہ 

شرط لان کہ ض پائعغ ے زے ہو گا تر ا کی شرط درست نیس سے اور اسنہ ہاج ۓ کہ سس اوا 

کرے لین آلر وو شرط فلا کہ پل ا کی طرف سے خ سک مقردر فس کے مستمقین کو رے 

دے ‏ بائغ کے لیے ضروری ہے کہ اس خشرطط کے مطابق مھ لکرے۔ 

تل ۱۸۳۱ : اگ رکوئی لان کافر زب یکو بفیر خرید وفرونت زین دے و ے اور اس کا عوض لے 

نے ملا اس کے ساتھھ جو کرے آےکاف رذ یکو چا کہ اس کافس ادا کرے۔ 

مل ۱۸۳۷۲ ۰ ار کازرزی ا باغ ہو اود اہس کا وٹی اس کے لیے نین خر یر ے فو ایا واب ہے 

تِ کہ محالہ کے لے میں اس سے شرط یل کر کی جا ے کیو کا گا دست گ٦‏ 

1 بس 5 

مس امرف 

متلہ ۱۸۴۳ ٠‏ فس بر ہیں میں تی مکرا چاہیے اس کا ایک مہ سادات کا عق ہے جن حاکم 

شر کی ابازت سے کسی ختاع با یم سی دکو یا ایی سی دکو دینا چایے جو سفرییس تا چار ہو سکیا ہو اور اس ٥‏ 

عاطہ میں ہم نے ام مخراور شن پر موق شرعیہ ونب ہیں عال سادا تکو مقردہ مقام بر خر گی 

آجازت نام دے دی سجہ۔ اور دوسرا حصہ امام علیہ السلام کا ہے جو موجودہ زانے میں جامع الشرار بجر 

کہ دینا پاچ یا ایی کام پر خر ج کرناچانے شن سکی دہ تہ اجازت دے مجن اکر انسان ہے چا ےکم امام 

عایہ السلام کا حص کی اییے یت کو رے ج سک وہ تیر نہک ربا ہو فو اعقیاط وان بک بنا یر اسے اج 

کہ ابا کرنے کے لیے اس جم کی اجازت نے ج سکی دہ تی دک ہو ارر اے ىہ اجازٹ اں,عور ٭ 





توصیح‌المسائل 1[ 386ا 
میں دینی ہوگ کہ عرق تقلید یش دد شرٹیں پائی جایں ایک ىہ کہ ولایت نقیہ مطاقہ کا ةائل ہو اذر اپنے 
آ پکو ملمان کے لی ارب الاطاعت سے اور دوسرے ہی کہ وو عم د ےککہ صسم لام ا تک ھا 
جائے۔ اذد ان شرطوں میں سے کوگی ایک بھی رط شخم ہو جائۓ نو ا س کو دوسرے مجتد کو دبینے کے 
لیے پنے مر کی اجازت لی کی ضرورت نہیں۔ ا 

متہ. ۱۸۳۴۰ ۰ جس یم سی دکو فس دا جائے ضردری ہ ےکہ دو تا بھی ہو لیکن جو سیر سنر 
, مم نا چار ہو جائے دہ خواہ اپ وین مس ختاجع نہ بھی ہو تو اسے فس دا جا تا ے۔ 

مل ۱۸۴۵ ۰ بج سر سرمیں ا چار ہوگیا ہو اکر اس کا سغ گناہ کا سفر ہو (لشی اس کا سٹ گنا کی 
خی سے ہو یا اس کا سف رکرناگناہ کا ارتقاب ہو) اقیاط واج بکی بنا پر اے فس شمیں دینا چاۓد 
مل ۱۸۴۷ ء۰ ج سید عل نہ و اسے شس وا جاسکنا ہے لکن ج سید لا کشر نہ ہو اسے شس 
نی دیتا چاے۔ 

سنہ ۱۸۴٤١‏ : جو سر محصیت کار ہو گر اسے شس دسینے سے ا کی محصبیت می رد ہولی ہو 
سے ف٠س‏ نہ وا جائے اور اخوط ہے ہ ےکہ اس سی دکوبھی شس نہ دیا جائے جو شراب پڑت ہو یا نماز در 
پڑہتا ہو یا علاشی گن هک را ہوگو ففس وسینے سے اس کی محصبیت میں برو تہ ظق ہو 

سّلہ ۰۱۸۲۸ و یس جک کہ می سید ہوں اسے اس وقت کک فسس نہ دا جائے جب گگ دو 
عاول اشاص ام کے سید ہون ےکی تلق ن کر دیں یا دہ لوگویں میں اس طرح مخسور نہ ہوکہ نما نکو 
نین اور امینان ہوجائۓےکہ وہ نہر ے۔ 


مل ۸۹ اگ رکوئی ہن اپنے شمری بہ حیقیت سد کے مشمور ہو قز خواہ انما ن کو اں کے 
سیدہونے کے پاارے میں لین یا افمینان شہ بھی ہو اسے فس دیا جاسکتا ہے ْ 
مستہ ۱۸۵+۰ ۰ اگ کی ہن سک بیدی سیدانی ہو تو شوہ رکو اسے اس مقصدد کے لیے فس میں رینا 
چا ےکہ ذہ اسے اپنے ذاقی استعلل جس نے آئۓ لیکن اکر روسرے لوگوں کے اخ راجات اس عورت پھ ٰ 
وب ہوں اور وہ ان اخزاجا تکی ادائی سے تا ہو تو انمان کے لیے جانز ‏ ےکہ سس اس عور ت کو 
دے دنے گگہادہ ان ددرے لوکوں پر خر کرے اور اسے اس خرس سے شس دینے کے بارے میں 





توضیچالمسائل ). +8د ا 


بھی یں 2 سے ہبہ وہ نے رواجب اخراجات ے رف کرے لی ١ں‏ مققدر کے ینہ اے 2 
می دتا چان۔) 

مہ ب۱۸۵ ۰ ا ری مخ بر کی سد کے ما سیدالی کے اخراجالت وجب ہوں ‏ ااظ واجب 
1 نا پر وو ال پر یا سیدالی کے خوراک اور ٹاک بے اتراچات اور تی واجب اخراجات اھ ضس 
سے ارا یی کرس إاں رر وہ اں پر یا سرن لی ہہ ا مقرار ا مقصر نت رے دےَلہ وہ 
واجب اظراجات طر علاوہ ددو ری ضردریات پر تح کرے تو کوئی ض حگ٠یں۔‏ 

مل ۱۸۵۲ء أ ری متاح سیر ےے اخراجت ٗی وومرے مخس بر واتب موںل لور و" خس 
اس سید کے انزابلت ن دے تا ہویا استطاعت رکتا ہو مجن نہ رتا ق3 اس سی کو ٹس جیا جا س تا 


سم 


لہ ۱۸۵۳ :۰ اعقط دادب ہہ ہب ےک صسی ایک مقاج سی رکواسی کے ایک سال کے اخ اجات 
سے زیادہ مقدار شش یع ضر دی جاے۔ 


مستلہ۔ ۱۸۵۳ ۰ اگ رکی نس کے شمرمی ںکوئی سقن سی نہ ہو اور اہ نشین با اشھینان و کہ 
کوئی سید اییا بعد میں پا تقبل قیب میں بھی میں لے گا یا کہ جب ک ککوئی سخ سید سے ٹس 
کی طاط کر محکن نہ ہو قز اس ہن ںکو چا کہ فس دوسرے خشمرلے جا اور کو شیا رے 
اار جائز ہب کہ ٠س‏ دومسرے شمرنے جانے کے اخراجات ٹس میں سے وش عکرمے اور آمر ٹس الف 
ہو جائۓ اور اکر اس نخس نے ا سکی گمداشت مم ںکوتاہی برکی جہو تو اسے جا کہ اس کا عو دے 
اور ا رکو بای نہ برتی ہو قذاس پر چکھھ بھی واجب گئیں۔ 


مستلہ ۱۸۵۵ ؛ جب کسی مخفصس کے اہ شمرمیں نمس کا سفن موجود نہ ہو ,اک رہ اسے نین پا : 
امینان ہ کہ بعر میں مل جائے اور فص کے مسخن نس کے سے مک ش سکی تہ رکشت بھی کن 

ہو تب بھی دوخ ووسرے شمرنلے جاکا سے اور اگر وہ سکی گگرراشت می ںکونای نہ برتے اور وہ 

تطف ہو جاے تو اس کے لی ےکوئی جن دینا ضروری نہیں لین دہ فس کے دوسرے مہ لے جانے کے 

افرایات س سے وضع می ں کر کتا۔ 


صمعصعموومومْٰتویجووجکچججججھجھب‫د ےتحصمسرجدسر‫سمتح 





٦ 388 _.( 5 توضیحالمسائل‎ 


ستلہ ۸۵۹ ۰ اگ رکسی مخس کے نی مر میں فس کا سن مل جاتے تب بھی وہ نس دوسرے 
شر لے اکر سخ کو پنیا سنا سے لیکن اسے ہاب کہ ا سک لے جانے کے اخراجات خوزو اواکرے 
ازر ففس ضائع ہو جائے نز اگرچہ اس نے ا س کی تیداشت می ںکو بی نہ پرگی ہو تق وہ اس کازمہ دار 
ے۔ (لشق اے چا ےک ۶۴ض رے۔) 

مل ے۸۵ : ال رکوتی مس اکم شرع کے عم سے فس ووسرے شمر لے چائے اور وہ تلف 
ہو قڑ دیس کے لیے ودیارہ غس وین لام نمیں اور اکر وو فس ای من کو رے دے جھ عاکم شر کیا 
چنب سے س کے حصول کے لیے وکیل مقر رکیاگیا ہو اور وہ رکیل ش سکو ایک شر سے روسرے شمر 
نے جاے اور اس نقل وتھل ہیں خس جلف ہو جائے ت اس کے لیے بھی بی عم ہے (ش کہ فس 
ریے وا لے کے لیے ددبارہ فس وین ازم شھیں۔) 

مستلہ ۱۸۵۸ ۰پ جائز خ٘ہی ںک کی ری قبت ا سک واقی قبت سے زیادہ اکر اسے لہاور 
فس دا جاۓ اور جیماکہ پہ جیا ہ ےکی دو مرے جن کی شل میں خُس اواکرنا (ناسوا سوتے اور 
پاندی کے موں اور اشی جیھی دوسرے چزوں کے) پرصورت میں تل اشثال ےے۔ 

متلہ ۱۸۵9 : ضس مخصس کو ضس کے مسق مس سے بچجھلینا ہو اور چاہتا کہ انا قرضہ شس 
رق نے سے داد کی ماج اک لن ا فیفخ کے ود 
میں تق مخس اسے وہ یل قر ض ےکی ادائ یکی طور بر لوغا رے اور وہ سہ بھ یکر سنا کہ غخس کہ 
سجن نس کی اجازت سے اس کا کیل ب یکر خود ا کی طرف سے فس لے نے اور اس سے اپٹا 
قرضہ چا لے۔ 

منتلہ ۸۷۴ ؛ مسق حخخصس بہ می ںکر سنہ ففس نےکر اس کے مل کو بنشی رے۔ ہاں ٹس 
مس کے زے تس کی زیارہ مقرار واجپ الاا ہو اور وہ تع ہ وکیا ہو اور چاہتا ہو رہ فس سے صقن 
یں کا مقروض نہ رے نر گر فس کا سن مخ راضی ہو جان ےکہ اس سے شس نےکر پچھراتے 
نشی رے تو اس می ںکوکی مج نمیں ہے۔ 





توضیح‌المسائل 7 ل ف3 ا 


زکوۃ 

زکوۃ 0- اسلام کا ایک ام بی اور نمازاور روڑے کی طرح مڑراقوں پر فرشسش سب فرق 
مرف اتا کہ نماز اور روزہ“ ضسمالی عباوات ہیں اور رَ می عبادت ہے ا کی ایت کا انرازہ ایس 
سے ہو سنا ہےکہ قرآن مجید میں ا کی ادائگ کی کید تقربا جم مقالات برک گی جج اور ۳۲ چا ۳ 
اس کاجگر نماز شی یی اففل تین عبایت کے ساق ھکیاگیاے۔ 

سی نس کا صاحب ناب ہونے کے باجود زکوۃ اوا نہ کرنا خ گنا ہے آرآن مجید میں سورہ 
فزب. کی میں ایت میں ارشاد ہواکہ اے رسول" جو لوگ سونا چانری ج کرت ہیں اور اللہ تما کی راہ 
میں خر خی ںکرتے انیس یک ددد ماک عذا بکی خمردے وتیچن اود انیں با وجچت اک ان کا ئگ کیا ہو 
نا چاندی قیامت کے دن ددزغ کی نگ میں تایا جائے گا اور بچمرا نکی چشائیال' پھاو اور پیٹھیں 
یا ادن ےکم جا گاکہ ہد سد لد ےج ے اہ اب اپ جع کے 
ہورے کا مز نو 
میں آیت میں ؟رشاد ربالی کے مطابق زکوۃ مندرجہ ذیل آئھ تم کے لوگو ں کو 
جری 
ایی فترام 
۴ں ساکین 
×... این زکوۃ نشی دہ کارنرے جو زکوۃ ش کرت ہیں۔ 
٣‏ مولفتہ القکوب می گی لیف قلب مور ہوں 
۵ رقاب شی دہج نک یگردنوں میں نلائی کا پچٹرا ہو۔ 
ا فارین بینی ود مق ررض جو قرضہ ادا خی ں کر سیت 
ںی لالہ 


٦ 








توضیالمسائل ) 30 ا 
زکو نے کے انام 


مہ ۱۸۲ ٠‏ زکو نو چزوں پر واجب ے- 

-١‏ دم ٢‏ جو مور 
ین ی۔- مونا -٦‏ چاندی 

اوٹف ۸۔- گے ۹۔ بھیکری (کوسفخند ) 

. آل رکوئی شض بن :و پیر میں سے کس ایک کا الک ہو غز ان شرائا کے خحت جن کا کر بعد 
می سکیا نان گا اسے پا ےکہ جوزمقدار مقر رک گنی سے اسے ان مرف میں سے کسی ایک ممرف می 
فز نعکزے جن کا عم امیا ہے 
مل ۱۸۰۷۷۰ : نظ دواد بکی بنا یر چا ےکہ سلت پر جوگند مکی طخ ایک غرم اطخ ہے اورجھ 
کی ایت رکتا سے اور خلس پر جوگندم جعیسا ہو با ہے اور منھا کے لوکو ںکی را ہے زکوۃ دی جائغ۔ 


زوۃ واجحب ہون کی شراا 


7 ص/۷ 


۴۳پ رکوہ یں صورت میں واجب ہوقی سے جب مال اس نصا بکی مقدار کک جال بس 
کازکر بعد مم ںکیا جائے گا اور اس مال کا مانک پان عاقل اور آزار ہو اور اس میں تر فکر گیا ہو 
سیل ۱۸۴۳۴ ٠‏ آلر ان گیارہ مینے لئے کو سفند اور اونٹ سونے با چاندی کا الک رہے لز اکرچہ 
اہی مین کی بی تر کو کوۃ اس پر واجعب ہو جا ۓےگی لگن اسے چا کہ گے سا لکی ابتداء کا 
حماب پارہوہیں میینے کے حراتے کے بعر سے کرے۔ 

لہ ۱۸۹۵ ۰ آ رگا او فگوسخند سوتے اور چاندری کا مالک سال کے دوران می با ہو جائۓے 
خلا ال رکرئی پہ بیلی مک پالیاس بھڑوں کا ماک ہو اور دو مین کے بعد با ہو جائۓے تو الرچہ پل 
مم ے یارہ می ےکزر باہیں شن اس پر زکوۃ واجب شمیں ہو گی جگمہ اس کے پالم ہونے کےےیارہ 


7 


ووکجوجوججوکسکھٰٗوجچچجچججوپکسسسٗ1علسمسچجسھت 





توضیحالمسائل ۱ ز حدد ا 
یز نے کے پور راو وی 
مہہ 1۸۷۷۴ ٭ ندم اور جو بر زکوۃ اس وقت واجب ہوقی سے جب انمی ں ندم مور جو کما جائے 


اور شش 44 زأوۃ اں وتت واجپ ہوثی ے جب وہ اگور ہوں او رورپ اں وقت واجب ہوثی ے 
جب رب لے تم کھیں نگندم اور ج وی زکوۃ رۓ کا وق ت کھلیان کاجۓے اور پٹوسے ال٣‏ گکلرے کا 
سے او رجور او رک شکی زکوۃ دی کا وقت وہ سے جب وہ خلگ ہو جایں۔ 

مستلہ ے۱۸۹ : ندم ج “مشش او رحجور پر زلوۃ واجعب ہونے کے وقت جوکیہ سابقہ متلہ مس 
ایا تج کہ مر ان کا الک بالغ عاقل اور آزار ہو اور ان میں تر فکرنے پر قاور ہو زا سے چاب کہ 
ان نکی کو رے اور اکر ہلغ جا عائل نہ جو قذ اس بر زکواۃ دینا وجب تم ے۔ 

مہہ ۱۸۹۸ ۰ آلر گا “گوسفرٴ الونٹ' سوتے اور پچاندی کا مالک پارا مال یا سال کا نیت حصہ 
دوادہ رہے لز زکوة ال پر ویتب نمی چ 

مستلہ ٦ 1۸٦۹‏ ار گا 'گوسفنر' اونٹ' سونے اور پچاندی کا الک سال کاچ حصہ مت یا بے 
ہوش رہے تر ذکوۃ اس پر سے ساقط یں ہوقی او رندم مت او رکیچور او رم کا مالک کو واججب 
ہونے کے موقع پر مست پا بے ہوش ہو جائۓے قواس کے لیے بھی بی عم ہے۔ 

تل ہے ۱۸ ۰ اک رکوئی مال انسان سے غحص بک لیاگمیا ہوا ور وہ اس میں تحرف نکر کے ا 
ال پر زکوۃ واجب نہیں ے۔ 

مل ۱۸۵ : اگ رکوئی مخ سو اور پپلندی با کوئی اود چچزٹس پر وکوۃ دیتا وانب ہی سے 
قرش نے نے اور دہ ایک سال تک اس کے پا رہے تو اسے چا ت کہ ا کی زکوۃ دوے اور تی 
نے فرش وا ہو اس پر ریکھ واجب ٹییں۔ 


ند مج چو اور مشش کی کو 


سیل ۵۶۷ء۱۸ ندم جو“ حور او رحشمش بر زکوۃ اس وت ونب ہوتی سے جب وہ لصاب گی 











ترضیم‌العسائل )392 اہ 


مقرار تک کیج جائیں اور ان کا ناب تتقیا ے۸ کی وگرام ہو ہے۔ 

صییلہ ے۱۸ ٠‏ جس اگورجور اور جو او رکندم پر ززۃ داب ہو ھی ہاگ ہکوگی شفصس خود یا 
اس کے اہل وعیال اکا لیس جا لا وو ہہ اجناں کی عتا کو زکوۃ کے تد کے !فی ردے دے تو 
پا ےک جٹتی مقار صرفکی ہھ اس پر زکوۃ رے۔ 

مل ۱۸۲ : ال رکندمٴج و ؛جور او رشمش بر زکوۃ واحب ہونے کے بعد ان چون کا مالک مم 
پاے تر نی زکزۃ غق ہو وہ اس کے بل سے دبتی چانے لین لم دو نیس کو داب ہونے سے لہ 
مرجائ نز ہراس ور کو ٹس کاحصہ نصاب کک پچ جائے اپنے جصے پر زکوق اراکرے۔ 

لہ ۱۸۵ : جو مخ اکم شر کی طرف سے کو ہم عکرنے بر متی کیاکی ہو و ندم اور 
جو ک ےکھلیان بنانے اور بحھوسہ ان ککرنے کے وقت او رجور اور انور کے نگ +و چان ےکی بیعد (لۃ کا 
عطالہ کر سکتا ہے اور اکر ان چوڑوں کا اک زکوۃ نہ رے اور جس چنی زاۃ داب ہوگئی ہو وہ لف 
ہو جا تو اسے چا ےک اس کا خوش رے۔ 

مصتیلہ ے۸ ؛ گر فی مخصس کے مور اور انگور کے ورخوں یندم اور ج کی زراعحت کا )اف 
ین ے کے بعد ان چو پر کو واجب ہو جا تڑاے چا کہ ان پر زکوۃ درے۔ 

مل ہے۸ 2 اگ رگندم“ جو ور اور ش پر زکوۃ واجپ ہوے کے بع رکوئی تخض زراعت 
اور ورخت ںکو پچ رے نے یچیے وائے پر ان اجنا ںکی زکوۃ وین واعب جج اور جب دہ کو اداکر دے ت7 
خریرنے واے بر یھ وجب میں ےے۔ 

مسلّلہ ۱۸۸ : ال رکوئی مخ سکندم ؛ جو ور اور اگور نخریرے اور اسے ملم ہ کہ یچچ وانے 
نے ا نکی زکوۃ دے دی سے یا ح ککر ےک اس نے کو دے دی ہے یا میں قواس پا نکی ذگوۃ 
واعب شمیں ہے اور آمر اسے معلوم ہوکہ بے وائے نے ان پر زکوۃ خی دی اور عاکم شرع جن کی 
اتی مقار کے سور ےکی ابازت نہ رے جو لور زکۃ دتی ضروری ہو فز اتی مقدار کا سودا اٹل بے اور 
مم ش زکو کی مقرار خریدار سے نے سنا سے اور اگر وہ زی مقددار کے برابر جن کے سمورے 


جمجطإپچجپ_چچ 1 چوحسصسو وھسچمججچوجوجوھجھجوججوس ےہ سس جس 





توضیجالمسائل : ٦آدودا‏ 


کی ابازت وے وے پز سووا گچجخ سے اور خریدا رکو چا کہ اتی مقدا ری قیت عاکم شر کو درے رے 
اور اگمر اتی مقدا کی قبت اس نے یی وا ےکو دے دی جو تر وہ اس سے وائیں لے سا ہے۔ 
مل ۹ رکندم* جو“ حور اور انگو رکا وزژن تر ہونے کے وفت تقربا م۸ کیل وگرام ہو 
ازر ان اجناس کے ٹن ہونے کے بعد اس مقدار ےکم ہو جا نو کو اس پر واجب نمیں ہے 
متلہ ۱۸۸۳۴ ۰ ہئ رکرئی خخ س ندم جو او رجو رکو خلک ہونے سے پل خر خکر لے نو وہ نگ 
ہوِکر قصاب پر ری اترھیں تاس چا ےکہ ا نکی زگ رے۔ 
منتلہ ۱۸۸۱ ؛ چو رکی تین تی ہیں۔ 
5 وو ضے فک کیا جانا سے اور ا سکی زکو ۃ کا عم بیان ہو چکا ہے۔ : 
۲ط وو جو رطب ہون ےکی عالت مم ںکھائی جاتی ہے۔ 
×۳ وج جیب یکھائی جاتی ہے۔ 

روسری مت مکی مقدار اکر نگ ہونے کی صورت میں تقیپا گے ۸ کیلھگرام ہق اس پر زکوۃ 
واجب ہے اور جال تک خمیری تم کا تعلق ہے خاہریہ ہےکہ اس بر زکوۃ ولب میں ہے۔ آکرچہ 
اط سخجب زکوۃ رین مل ے۔ 
سلّلہ ۱۸۸۲ : ج سکندم *ب ور او ریش کی رک ۃنسی معٹں نے اوک دی ہد گر و چھھ 
سال اس کے پا بھی پڑی رین تو انب دبدہ وا وجب تم ہوگی۔ 
سیل ۱۸۸۳ : کرکندم ج کور اور اود بارش یا کے پالی سے ساب ہیں با ری زراعت 
کی لئ انخیں و وت ہس کی کال ڈیل 
وفی ےکی جائے فو ان بر زکوۃ کا بیسواں تصہ ے۔ 
ہیل ۱۸۸۴۳ : ال رکندم ج ھکجور اور اور پارش کے پان سے بھی سلپ ہو اور انی ڈول دنو 
کے پنی سے بھی ذاندہ یچ ق اکر ہہ سنجائی ایی ہہ عام طور ب ہکھا جاک کہ الن کی سجائی ڈول دیو 
ےکی کی ہے نز اس بر زکزۃ کا بیسواں حصہ ہے اود اگر رکھا جال ۓےکہ يہ خمراور بارش کے پالی سے 





توضیحالمسائل )ا وید 


سیراب ہوتے ہیں فو ان بر زکوۃ کا وسواں حصہ ہے اور سال ی کی صورت ہہ ب کہ عام طور پ کما جال کہ 
دوفوں زرائع سے سیراب ہوئے ہیں اس پر ذکوۃ سماڑھھ سات پی صد ہےے۔ 


تل2 ۱۸۸۵ ۰ ا رکوئی فنص خ ککرےکہ عام طور ب رکون سی بت جح بھی جائ گی اور ا 
علم نہ ہوکہ ماگ ی کی صورت اڑسی ہ ےکہ لوگ عام طود ی رکیی یکہ دونوں ذرائح سے ھالی موی یاے 
کی ںکہ ملا بارش کے پانی سے ہوئی سے تو ار وہ ساڑھے سات ید لبطور زکوۃ اداکرے نکی ہے۔ 
منتل2ر ۱۸۸۷ ۰ اگ رکوئی خی ککرے اور اسے علم نہ ہوکہ عموب لوک کت ہہ ںکہ دونوں زرائع سے 
سمائی ہوئی ہے ما ىہ کت ہی ںکہ ڈول درو سے ہوئی سے نواس صورت میں بیمواں حصہ زک1ة رتا کال 
ہے اود گلر اس بت کا اشل بھی ہوکیہ عموب لو گکمی ںکہ بارش کے پالی سے سیراب ہوکی ہے تب بھی 
بی عم ہے 

مہ ے۱۸۸ ۰ اگ رگندم جو او رھجور اور انگور بارش اور ضرکے پائی سے ضیراب ہوں اور اشئیل 

ڈول وظیرو کے پا ی کی عاجت نہ ہو ا نکی سائی ڈول کے پالی سے بھی ببوئی جو اور ڈول کے پالی سس 

آدلی می اضانے مم ںکوئی مددغہ ٹی ہو فو ان پر زکوۃ کا وسواں حصہ ہے اور لہ ڈول وغیرو کے پالیٰ سے 
اتی ہوئی ہو او خراور بارش کے پل کی عاعت شہ ہو شن ماود بارش کے پا سے بھی سیراب 
ہوں اور اس سے آیدلی میں اضانے م سکوئی یددتہ گی ہو تو ان پر زکوۃ کا بینواں حصہ ہے 

متلہ ۱۸۸۸ ۰ آگ کسی زراع تکی سچائی ڈول وغیرہ سے کی جاۓ اور اس سے محقہ زشن مل 

زراعح کی جا اور وہ حقہ زین اس زشین سے فائدہ اٹھائۓ اور اسے ما کی ضردرت نہ رہ 

جس زی نکی سٹاکی ڈول ویر ےکی گی ہے ا کی ذکوۃ کا بیسواں حصہ اور ا کی عق زراع ت کی 

زکو؟ کا رسوال ضرم ے۔ 

۲ متلہہ ۸۸۹ ۰ جو اخرابا کی نس نےگندم جو حجور اور اور پر یے ہوں انئیں وہ نل کی 
کون سے منماکرکے ناب کا صاب نمی لگا سکتا ہنا اکر ان میں سے کسی آیف کا دزن اخراجلت ا 
صاب لانے سے پل تقیبائ مکی وگرام ہو فو اسے جاچ ےکہ اس پر زکو دے۔ اور صاب لگانے 
کے بعد اس کے مارح مض اکر کے کو ورے۔ 








توضیچالمسائل سے ( وو3.]: 


منتلہ ۱۸۹۰ ٠۰‏ جس ہنس نے زراعت میں بے استع لکی: ہو خواہ وہ اس کے پاس موجود ہویا ال 
نے میا ہو وہ نصاب کا حاب اس ؛ کو فص لکی آیرنی سے منمماکر کے میں کر سکتاہے بک اے“ 
چان نےکہ نصاب کا صاب بوری فص لکو برنظررکھت ہوئۓ لئے ۔ 


مستملہ ۱۸۹۸۱ ۰ جو بھہ علوست اصلی مال سے (خس پر زکوۃ واجب ہو ) نے لے اس پر زکوۃ 
وادب میں سے لا آگر زراع تکی پداوار ۵۰ ۸کیا ومگرام ہو اور عومت اس میں سے * ۵کی وگرام۔ 
لور زان کے نے تو زکوۃ فنقظ ۰ مکی وگرا ,بر واجعب ہے۔ 


مل ۱۸۵۸۲ ؟, کسی جس کے لیے بہ واجعب می ںکہ وہ انتظا رکرے لاہ جتو او رگند م کھلیان کی 
عد تک تچ جائیں اور اگور او رحچور لک ہو جانیں اور پھر رکا ۃ رے یہ جوشی زکٰۃ واإٹپ ہو وہ 
ذو کی مقدا رکی قیت زگاکر وہ قبت اطور زکوۃ رے سک ہے۔ 

سنہ ۱۸۹۳ ۰ زکوۃ واجب ہونے کے بعد معواقہ نف بے کر سکتا ہے ہکھڑی فصل کاسے یا 
ور اور او رکو نے سے پھلہ زکوۃ اس کے سقق منص یا ہکم شرع یا ان کے وکی لکو مضہ طور بر 
پٹ یکر دے اور اس کے بعد وہ اخراجات میس شریک ہوں ھے۔ ۱ 


تل ۱۸۹۴ ۰ ج بکوئی خصس زراعت نا جور اور او رکی ذکوۃ عین مال کی شحەل میں عالم یا 

اق متفخق ما ان کے وکی لکو دے دے نے اس کے لیے ضردری خی سکہ بلامحاوضہ مشتزکہ طور پر لن چچڑوں 
کی ال تکرے مہ وہ زراعت ک یکنائی با حجور اور اکور کے ٹنگ ہونے تک مال کو ۃ اپئی نین شس 
ریے کے پرئے اجرت کا مطال ہک سکتا ے۔ : 


ا لہ ۱۸۸۵ : گر ای نکی ایک شمروں می ںگندم “جو ور اور اگو کا الک ہو اور ان شریں 
میں فھیل پگ کا وقت ایک دومری سے مخلف ہو اور ان سب شمروں سے زراعت اور میوے ایک ہی 
وت میں وسقیاب نہ ہدتے ہول اور ان سس .کی چیرادار الیگ دق پیراوار شار ہوکی جو اکر ان میں سے 
و نز پل بک جائے وہ ساب کے مطالق نتنی تقرباے ۸۷رکیل مگرام ہو تو اسے چا کہ اس پہ اس کے 
کن کے وقت زکوة دے اور پا الہ اتا اس وقت ار کآرے جپ وہ وخ اپ ہول اورآگر سے 
کین ول نز نصاب کہ براہر نہ ہوں تو ان بر اتا رکرے لہ بائی ماندہ اجنا کیک جائین پھ کر سب لا 








توضیالمسائل ۱ ( عود ] 


کر ناب کے باب ہو جائیں تو لن پر رکذ واینپ سے اور آلر ساب کے پرابر ت ہوں ے لن پر زکوۃ 


واتب نمیں ے۔ 


مل ۸۸۷۰ء اگ رگچور اور اگور کے ورشت مال میں دو وفعہ مل دیں اور ووثولی ھرئہ گی 
پراوار جم کرنے پر نصاب کے براہر ہوجائے تو اط کی بنا پہ ال پیداوار پر ذکوۃ واجب ہے۔ 

تہ ے۱۸۹ ۰ اگ رکسی مخس کے بس غیر خلک شدہچوریی ہوں پا انور ہوں جھ لک ہون ےکی 
صورت میں نصاب کے اندازے کے مطابق ہوں نے اکر ان کے اذہ ہونے کی حالت میں وہ کو کی 
یت سے ا نکی اتی مقدار نزو ؟ کے محرف میں لے آئے جٹچی ا نکی خلگ ہو نے بے ذکو کی اس 
مقدار کے برابر ہو جھ اس پر واجب سے و اس مہ ںکوئی رح خیں۔ 

نتر ۱۸۹۸ ۰ اگ رکسی منص پر نلن گجور امش ش کی زکوۃ واجب ہو تو دہ ا نکی ذکوۃ نز هحجور 
ا او رکی شل میں نمیں رے سنا ممہ اکر وو لگ کجور ی شش کی نک کی قدت لگائے اور اگور یا 
نز جوریں یا مق اکوئی اور خل فکجوریں اس قمت کے طور پہ درے راس می بھی اشبال ہے اور مر 
کی پر نز ججور یا اگو رکی زکوۃ وجب ہو تق وہ خنگ چور یا کشحش د ےکر وہ وو ادا خہی کر سکتا 
بکنہ کر وہ یت ڈٛاک ہکوتی دو سر ی ور یا اگور بطور رکز درے قےاگمرچہ وہ تزہ ہی ہو اس میں اشثال ےہ 
ین اکم شرع کی اجازت ےکوئی شال مہیں۔ 

مہ ۸۹۹ ٠‏ اگ رکوئی اییا شس مرجاۓ جو مقروضش ہو اور اس کے پاں ایا بل بھی ہو جس بر 
زلاۃ واجب ہو پی ہو ت2 چا کہ جس مال پر زکوۃ واعب ہو گی ہو پل اس ش سے تام زکوۃ دی 
جائے اور ال کے بعد اس کا قرض اواکیا جائۓے۔ 


متلہ +٭٭ا ے اگ رکوئی اییا خی مرجائۓ جو مقروض ہو اور اس کے پا گندم ج مجر اور گور 
بھی ہو اور اس سے پڑگترکہ ان اجناس پر زکو واجب ہو اور اس کے ورمع اس شا رض کسی دوسرے 
بل سے یبا بر دیں فو جس وارٹ کا حصہ تقیباے ۸۳ک وگرام کک بپنچتا ہو اس چا کہ ذکو 3 ورے 
۱ اور گر اس سے پل کہ زکوۃ ان اجتاس پر واجب ہو میت کا قرضہ اوا ضہ ہو اور گر اس کبال فا ال 
تر جا ہو نر روا کے لی سے وجب نمی ںکہ ان اجناس پر زکاۃ ونیں اور اکر مبیت کا بل اس قرے٠‏ 








توضیوالسائل___ تو 


سے زیارہ ہو و چا جۓ لہ ین نین 7 زکوڈاواینپ ہے اسے کل ما لکی نبت سے درکھا جاۓ اوراای 

بت سے اس زکو؟ والی جن میں سے کوک مکر دی جائے۔ اس کے بعد شس بس وارث کا حضہ 

نصا بکی عد تک پچ اس پر زکۃ واجب ے۔ 

سک( |۹ : جس نخس کے اس اتھی او رگھٹیا دونوں تم کی ندم ج جور اور انور ہوں جن پہ 

زکڈ واجب ہوگئی ہو اس کے لیے اعقاط ونب ىہ ہے کہ اٹھی او رگا دونوں ت مکی اقسام میں سے 

الک الگ زکاۃ نانے۔ 

متلر 1۹۰۲ ٦‏ سو نے کے نصاب وو ہیں۔ 

١‏ اس کا پل ناب میں قال شری ہے جب کہ ہرمشقال شرمی ۱۸ نخود کا ہو ہے ہیں 
جس وقت ون ےکی مقدارممیں مشقال شرکی کک (جو رای پند رہ شقال کے برابہ ہوتے میں) 
جاے اور وہ دو سری شرائد بھی پور یکر ہو جو ان گی جا گی ہیں نو انسا نکو جچاج ےکم . 
اس کا چالیسواں حصہ جو ٭ نود کے برابر ہو پا ہے زکوۃ کے طور بر رے اور آگر سونا ای 
مقدار تک نہ پچ فو اس پر زکوۃ واجب نمی ے۔ 

۳ص اس کا دومرا نصاب چار خقال شربی ہے جو ران شال کے برابر ہوا ہے میتی گر 
پندرہ شال پر قین شقال کا اضافہ ہو تو اسے چا ےکہ تام تر ۱۸ شقال پر ڈھائی فصد کے 

١‏ صاب سے زکوۃ وے اور اکر خن شال ےکم اضافہ ہو تر اسے ہا کہ صرف ۱۵ مثقال 

7 زکوۃ رے اور اس صورت میں اضانے پر زکوۃ واعب 2 ہوگی اور جوں جوں اضالہ ہو 
اس کے لیے بی کم ہے لن یک اگر مین مشقال اضافہ ہو نذ تام بر پر زکوۃ دٹی چاچے اور 
اکر صرف تین مشقال سےکم ہو نز جو مقدار بڑگھی ہو اس پ ہکوئی زکوۃ شنیں ہے 


چاندیکاآصاب 


سلہہ ۱۹۰۳ چاندری کے نصاب دہ ہیں۔ 
5 اس کا پا ناب ۱*۵ مشقال رای سے انا جب پاندری کی مقرار ۰۵ا ثقال تک تچ 


مسجھووویسوسچجوووچچچچچچوٹبتکسجحسصصسکعدسأسمسومسوحصححسحجحع سد 








توضی‌المسائل )( وود 1إ 


جائے اور وہ دو سری شرائا بھی پور کی ہو ہو ان کی جاچی ہیں تر انسا نک جا کہ ا 
کا ڑعائی نیصرد جو وو عشقال اور ۵ا نر با سے بطور زکزۃ رے اور آگر وہ ای مقار کک تر ٰ 
ےق اس پر زکزۃ داجب میں ے۔ 

۴ مس کا ودرا ناب ۲٦‏ شقال ہے مجن گر ۵٭ا شفال بر ا شال کاضافہ ہو جائے تر 
انم نک چا کہ بعیساکہ جال جا چا ہے پورے ۱۳۱ خقال پر زکوۃ رے اور اگر ؛٣‏ شقال 
ےکم اضافہ ہو اسے چا کہ صرف ۵+ مشقال پر زکوۃ رے اور جو اضانہ ہو سج اس پہ 
زکوۃ وجب ٹیس ہے اور تقنا بھی اضافہ ہوتا جائۓ بی عم ہے نز اکر اہو مخقال کا اضاق ہو 
تام تر مقدار پر زکوۃ وے اور اگر اس سے کم اضانہ ہو ت٠‏ وو مقرار ٹس کا اشافہ ہوا ۔تے 
اور جو ا٢‏ شقال ےکم ہے اس پر ڈکوۃ یں ہے اس بنا یہ انسان کے پاں جقنا سونایا چاندی 
ہو اکر وہ اس کا چالیسواں حصہ بطور زکوۃ دے دسے فو وہ ابی وک اواککرے گا جو اس بر 
وانب تھی اور اگر و وی وقت واجب مقرار سے یھ زیاددرے دے شا آگ ری کے یں 
*ا مال چاندی ہو اور وہ اس کا چالیسواں حصہ رے دے پر ۰۵ا شقا لکی ذکوۃ دہ ہد گی جو 
ار رر و ار نہ یی زودرے ۶ز ہراب رئش 

متلہ ۹۴۰ا ٠‏ جس شخصس کے پا نصاب کے مطابق سونا یا چاندری ہو کہ دہ اس پر ذکوۃ رے 

دے ین جب کک اس کے پا حون یا چاندی ان چیزوں کے لہ نصاب سے کم نہ ہو جائے اے 

جا کہ پرسال ان پر زکوۃ رے۔ 


مل ۵ہ) : سوئے ادر چاندری پر زکوے اس صورت میں ولتب ہوآی ہے جب ود سکوں میں و علہ 

ہوئے ہو اور ان کی زر یچ لین رین کا راج ہو اود اکم ان کی رٹ بھی کی ہو تب بھی ان پر 

زگۃ واعب ے۔ 

یل 1۹4۷ ٤‏ وو مل وار سونا اور انی میں عورتیں بطور زیو بولق نہوں جب کک وہ 32 

بیں نی سونے اور چاندری کے سکوں کے طور پر ا نکی ذر لی لین دین ہوا * ان کی ذکوۃ وینا واحب 
۱ ہے لین اکر لین رین کے لیے ان کا رداع ہائی شہ ہو ق وو ان پر واجب میں ہے۔ 

مہ ے۹۰ ٠‏ جیہاکہ پل جایاگیا ہے سونے اور چاندری بر زکوۃ اس صورت میں واجب موئی ے 


سسسأس سأ ھت تھتھت تأتت ھت تتتھتتتتتتت. ...تحت جس جٛ‫٘صس.تتستس-ے 





". توضیحالمسائل )[ وود ا 


ٰ ز ویر مہ ناب کی مقدار کے عطابق کسی شف کی عکیت میں رہیں اگ رکیرہ میں کا 
۱ وت سنا اور چانری بط ساب سےکم مو ای ق ان عفس پر زکوق واجاب میں 
إامللہ ۷۰۸ : جس مفس کے پس سونا اور چاندی دوخیں ہوں اکر لن میں سے کوی می پچ 
۱ ریب کے راب یہ ہو خشل اس کے پاس ۰۴ہ شال چانری اور ۴؛ خقال سوٹ و تر ا پ> ور واقب 
یں ے۔ 
مل ۹۰۹ا : ا رکوی مخس جو سو اور چاندی رکتا ہوگیارہ می کے دوران میس اش دوسرے 
سونے اور ای پا ھی زومری چت میں پل لے یا ای کچھلئے تاس پ کو واجب شی ہے کن 
۱ گر وہ زاوۃ سے جینے کے لیے ایاکرے تر اط تخب ىہ ےک زگ دے۔ 
مل ۴ا : ال رکوئی مخ برہدیی مین میس سونا اور چانری کھلاۓے تو اسے جا ےک زکوۃ وے 
پھانے کی وہ سے ین کا ون اق کم و ےل اسے چا ہن یڑک پھلانے ہے 
پیلے جو زکوۃ اس پ راجب تی وہ رے۔ 
مل ۰۹۷ ری مخص کے پا ج سو اور چاندی بد اس میں س کچھ بڑھیا تم الد لیا" 
تم پ وہ بویا کی رک بدع ورای کو مٹیا یں سے رے سا ہے مہ گر سولے اور ند 
سے ناب می ںیھ من گا ہو ق وکیا ہے میں سے ژکوۃ رے کتا سے کن ٹر ہ کہ ماد 
راخ بدا سوئے اور چاندی سے رے۔ 
سیل ۹۷۳ا ؟ سونے اور چچاندی کے کے جن میں مول سے نیادہ دوسرے دحا تکی آمیزشی ہو 
ا میں چاندی اوز مونے کے ےکم جانا ہو اس صورت میں جب وہ نما بک عد تک تی جا 
ان رز اجب ےو ان کا اص حص ناب کی عد تک نہ ےکن اگ یں سونے اور جنگ 
کے بے ھا جا ہز خوہ ان کا خالس حصہ نصاب کے حر تک تھی جائے ان پہ وکا ولب 
۹ ہونا مل ے۔ 
مل 8۳ا ؟؛ کی مخ سنے اور چانری کے جو گے کت ہو کر ان میں روسرے دعا ت کا 
:یش معول سے ماق ہو اگ و نس ا نکی وک سونے اور انی کے یں میں دے جن 


سس سبصصىإ-ص٭(>ب,ٗأکأجججوٗجووحصحصودفمسسحسھیصسٗصت 








توضیمالمسائل " لین :000ف 


دوسری دحا کی میٹ ممول سے زیادہ ہو یا ایے مکوں میس دے جو سے اور چاندبی کے بنا 
ہوئے نہ ہوں لن بیہ گے اتی مقدار یں ہو کہ ا نکی یت ا ذو کی قیتہ کے برادہو چ ای پر 
وہب ہو و ال م سلکوئی رح نمی ہے۔ 
١‏ ۹ ۳۴ " 
۱ اونٹٴگائۓ او رگوسمن رکی زکوۃ 
سی مل ۸۴پ اونث گا او رگوسفن کی زکۃ کے نے لن شرائ کے علادہ اخ ن کا زگ ٢‏ کات دو 
ری اود بھی ہیں۔ 


بی شرط ىیہ ہے کہ جیدان سمارا مال بے کار را ہو اھر مارے سال مل اس تے ایگ یا وہ وون 
بھی کاممکیا ہو نز مب اعقیاط ا سکی کو ۃ راجب ہے۔ 


دو ری شرط ہہ ےکہ وہ جیوان سادا ہہال جک ل کی کیاس برے لن گر ممارا سال یا اس تاس“ 

حصہ کاٹ ہوئ ھا سکھائۓ ىا ای زراعت میں جرے جو خور مخ کی (لجنی حیوان کے مالک کی) بای 

دومرے شف کی یت ہو قو اس حیدان پر ززۃ میں ہے لکن اکر وہ حروان سال رج ایک پا ود ان 

: ال کی ملوک ھا (یا چارا)کھائے تذ ایا ط کی بنا چہ ا کی گر واحب ے۔ 

مل ۵ ] اگ رکوگی منص آپنے اونٹہ' گائۓے او رگوسفند کے سلیے ایک ای جرائاہ نزریرے ؛س 

مکی نے کاشت نکی ہو یا اسے پے بحاص لکرے قز اس صورت میں زک 1ک واجب ہونا مکل 

ہے اکرچہ زکاۃکاویا احوط ہے لیکن اکر وہل جافدر جرانے کا نس اداکرے تر چا ۓکہ زلة رے۔ 

اوٹ کے لصا 

مہ ۱۹۱۹ ۰ اونٹ کے ناپ یارہ ہیں۔ ْ 

١ی‏ بای اون ادر اع کی زا ۃ ایک گمیٹر ہے اور جب تک اونؤں کی تنراد ای مژرار تک ٰ 
نہ گی جائے زکرۃ تی واہعب نمیں۔ : 

٢‏ دس اونٹ۔ اور ا نکی زکوۃ دد بھیڑیں ہیں۔ 

۳ دہ اونث۔ اور ا نکی زکوۃ جن بھیڑی ہیں۔ 

٣‏ میں ااونث۔ اود ا نکی ذکوة ار بھیڑیں ہیں۔ 


عصیسصعسصحصصہححصحصسصضصمٌحٔےمودحجکجوسسدسصججسسسص-- 





یں اون ۔ اوہ نکی ذکوۃ پاچ جھیٹری ہیں۔ 

اج یں اونٹ ۔ اور لن کی زکوۃ ایک اییا لونث ہے جو دوسرے سال میں راشلی ہھ چکا 
ٹیس 

ے.۔. مس وٹ ۔ اور لن کی کا ۃ ایک ایا لوٹ سے جو تیسرے سال میں واشل ہو چا 
ہو 

۸ ..۔ چچھیالیس اونٹ ۔ اور ان کی زکوۃ ایک ایا لوٹ ہے جو چو تھے سال میں واشل ہو چکا 
ہو۔ 

سے امھ اونٹ ۔ اور ا نکی زکوۃ ایک ایا انث ہے جو پانچمیسں سال میں داشل بھ چک وس 

ستچچہخراونٹ . اور ا نکی زکوۃ دو ابیعہ اوت ہیں جھ تیرے سال میں دائل ہو چچ 
آوں۔ 

لئے آیاوے لوینث ۔ اور ان کی کڑۃ دو ایے اونٹ ہیں جو چو تمہ سال میں داخل ہو جچہ 
ہویت 

تک مو ایس کون ۔ کور اس سے اویہ جقے ہوتے جاھیں ان کے سے ذکوۃ رستے 
والے کو چا ین ےکلہ ان کا ایس سے پیوس کک صا بکرسے اور پر چالیس اونوں کے لیے 
ایک ایسا اونٹ رے ھ تسرے سال میں داخل ہو کا ہو ادر جا پا سے بیایں تک کا 
صا بککرے اور پر چیا اوٹؤں کے لیے ایک ایسا وٹ دے جو چو سال میں داش ہو 
چا ہو یا چالیس اور یس دونویں سے حمل بکرے لیکن ہرصورت جس اس رح صا بکرنا 
پا ہے کہ پھھ بق نہ چے یا لگر هئے نزو سے زیادہ نہ ہو ملا آمر اس کے پاس * ما لوٹ 
ہوں تو اسے ہا کہ سو کے لیے دو اییے اونٹ وے جو چو ےہ سال میں واخل ہو گے ہوں 
اور چالیس کے لیے ایک اییا وٹ رے جو تیسرے سال میں داشل ہو چکا ہو اور رت اونٹ 
کو ۃ میں دا جا اس کامادہ ہونا ضروری ے۔ 

لہ سے ۹ا ٠‏ و نماوں کے ررعیان ذکوۃ وا(ب یں سے ابنرا مر ایک مخ جو نونٹ رکتا ہو 


وی ا 


ا نکی ترار پگ نصاب سے ہو پا سے ہج جاںلے تر جب کک وہ دوسرے لصاب تک جو ول ےئد 


سسمسوسجیوٗوپہوسججووچووجصٗججپوتودٌصوسجحسو 





توضی‌المسائل ۱ .3٥ہ‏ ا 

پچ اسے ناب کہ فظط بای پر ذکوۃ دے اور باقی نصبو ںکی صورت بھی اڑی ہی ے۔ 

گے کے اب 

مہ ۱۹۸۸ ۰ گاے کے رو نصاب ہیں۔ 

١‏ ... یس کا پھلا ناب میں ہے جب کی شف کی گائیوں کی تعداتمیں تک پچ جائے اور 

"وہ راک بھی پہری ہوقی ہوں جن کا وک رکیا جا چکا ہے تر اسے چان کہ ایک ایا ڑا جو 
دوسرے سال میں داخل ہو کا ہو زکوۃ کے طور پر دے اور اعقیاطہ وجب ہے ہ ےکہ مھا زز 
ہ۱ و۔ہ 

٣‏ مس کا ددمرا ناب چالیس سے اور اس کی زکوۃ ایک بچھیا ہے جو نیرے سال میں 
دافل ہو پچ ہو اوتمیں اور اس کے درمیان زکوۃ وجب نمیں ہے شا جس منخس کے 
پا اتالیس گاکھیں ہوں اسے اہج کہ صرف تھی ں کی ذکاۃ دے اور آکر ا یکی پاس چا یس 
سے زیادہ میں ہوں تقو جب کک ا نکی تناد ساشد تک نہ بی جاے اسے چا ےکہ مرف 
اس پر زکوۃ رے اور جب ا نکی تحدار ساٹھ کک گی جائۓ تو چوکمہ ہے قدداد نہ نصاب 
سے دوکنی ہے قوذ اس کے لیے اسے جا ےکہ دو اےے کچھرے لور زکرۃ رے جو رومرے 
سال میں داخل ہو گے ہوں اور ای طرح جوں ججوں گائیو ںکی تعداد اھت جاۓ اسے چاۓ 
کہ با تق میں سے خیں تک صا بکرے یا لیس سے پچالیس کک یا حمین اور چالیس رونوں 

کا سا بکرے اوہ ان پر اس رستور کے مطابق زکوۃ دے جو بتایا کیا ہے لیکن اسے جا ہے 

ا کہ ال ططرح صل ب کر ےکہ جھھ ماق نہ چے اور اکر مک چے تو نو سے زیادہ نہ ہو لا گر 
ایں کے پایں خ رگامیں ہوں قز اسے چا ےکہ میں یا چللاس کے مطاق حا بکرے اور 
تمیں کے لیے می ںکی اور چالیس کے لیے لا سکی زکوۃ ر ےک دکمہ أکر وو ممیں کے یا 
سے صا ببکرسے گا دس اف زکوۃ رہیے رہ جای ںگی۔ 


بی رکا نصاب 
مہ ۱۹۹ ٦‏ گوسفند لین بھی رکے پا نصاب ہیں۔ 


کأممسٗوسووموسچچچکککجڈجڑچجوتد- .ہے ےتسس 





رمع سنا لو 


ہے پل ناب : لاس عدد سے اور اس کی زکوۃ ایک جھٹرے اور جب تک گیڑوں 
ترار چالس تل د ف یچ ان پر زکوۃ خیں ہے۔ 7 
۴ے بوعراضب : تک عواگیں ہے ا کی ذکوۃ دو چھیٹریں ہیں۔ 
تانب : دو سو ایک ہے گور ا ںکی ذکوة قین بچھیٹریں ہیں۔ 
..٣‏ تخقا ناب ٭ تین سو ایک ہے ادر ا ںکی ذکوۃ چاد بھیڑریں ہیں۔ 
7 انجواں ساب : پار سو اور ای کے اوبر ہے اور ان کا اب سو سے سو ت٠‏ ک کرنا 
این اور ہرس بھیڑوں پر ایک بحیٹردی جا اور ہہ ضروری ٹم سکہ زگ ۃ اشی ھیٹوں میں ٠_‏ 
سے دی جا بگہ کر کئی ور جھڑیں دے دی ایی یا بیڑوں کی ثت کے ملا خقری 
رے دی جائے کال ے۔ 


پ 


سیل ١1۹۳۰‏ رو نسابوں کے درمیان زکوۃ واعب شی ہے لا یک بھیڑوں گی تنداد نے 
ناب سے جوکہ چالیس سے زیادہ ہو لین دوسرے نصاب کک جو ا۳ا ہے نہ کی ہو تو اسے چپای کہ 
صرف چالیس پر زکزاۃ رے اور جھ تندار اس سے زیادہ ہو اس پر ذکوۃ خمیس ہے او ا کی بعد کے 
نسابوں کے لیے بھی بی عم ہے۔ 
سیل |۹۲ : اوئٹ' گاسیں اور کعیڑیں جب نصا ب کی مقدار کک مع جایں قوخواہ ود سب خر ہوں 
ما مادہ اھ خر ہوں ىاھ مادہ ان پر زکوۃ واجمب ے۔ ۱ 
مل 8۳۳۲ ٠‏ و کے سللے میں مائے اور بھیٹس ایک جس ار ہوکی ہیں اود عبی یش شی مل 
وٹ ایک جنس اور ایس طرع کو کے عفن میں ججری اور بھیٹراور شینتک ایک سال ککایکری کاچ یس 
کوکی فرق نہیں ے۔ 

۱ 

۱ مل ٣۲۳‏ : ال رکوتی نس زکوۃ کے طور بر بھیٹررے تو قاط داہن بک بنا بر چا کہ ددم از 
کم دوسرے سال میں واشل جو ہی ہو او رککری رے تر اعقاطا“ تا کہ تیسرے سال میں وائل ہو گی 


٦ ہو۔‎ 


سزلہ ۹۲۴ : جو بھی رکوئی مخ زکوۃ کے طور بر دے اکر ا ں کی قھت اس کی جھیٹروں سے 


سسمصعے٘سومسسووحسوسوعحعصحصحصحصحسژأ‪تدےح تسد 








توضی‌المسائل ۱ )(. 4۵4 ا 


معول ى یکم بھی ہو توکوئی مج میں لین بھترہےکہ ایی بھی درے جس کی مت ا ںکی پر بھیٹڑسے 
زیادہ ہو اور گے ایر اونٹ کے پارے میں بی عم ہے۔ 

مستلہ ۱۹۲۵ ۰ اگ رککی افرلد مم شریک ہوں تو جس جس کاحصہ پل نصاب کک گی جاتے تو ا کو 
چا کہ زکزاۃ دے اور جس کاحصہ پنلے نصاب ےکم ہو اس پر ذکو؟ واجب نمیں۔ 

مسّلہ ۱۹۲١‏ کے و سرت الو 
برابر ہوں تو اسے چا کہ ا نکی زکوۃ وے۔ 


مہ ے۱۹۲ ذ ال ھی شف کی مئیں او بھیڑیں اور اون پیر اور کیب دار بھی ہوں تر اے 
چا کہ ان کی کر رے۔ 


متتلہ ۱۹۲۸ ۰ اگ رکسی من سکی ساری گنیس اور بھیڑیں اور اونث بار یا یب رار ناو ڑھھ ہوں 
ٰ تو وہ خودائی میں سے ذزکوۃ رے متا ہے لیکن ار وہ سب تندرست اور بے یپ ہول اور جوان ہوں 
: بر ا نکی زکوۃ میں بار با عیب دار یا بوڑھھ بافور نمی رے تا ہے لہ آگمر ان میں سے ب؛ضش 
تحررست اور لض ار ای ایک یپ وار او رگئی ایک بے کیپ رار اور پگ بوڑھ اور پچھھ جوان 
ہوں و افقیاظہ واتب ہہ ہ ےکہ نکی ذکوۃ یش تن رست اور بے عیب اور جوان چائور وے۔ 
متلہ ۱۹۳۹ ٠‏ اگ رکوئی ف س عیارہ صینہ شخم ہونے سے پلہ انی گنی اور بھیڑیں اور اونٹ سی 
ددسری بیز سے بدل نے یا جو صاب دہ رکتا ہو ا۔ہنہ ای ہٹس کے ان بی نصاب سے بدل لے ا 
چس پھیڑیں اد ےکر چلاس اور ھیڑیں لے لے قو اس پر ذکوۃ وانب خمیں ہے۔ 
سیل ہما نس نس پر گائے اور جھیٹراور او ٹ کی ذزکوۃ وادب ہو اکر وہ ان کی ذکوۃ اۓ 
کی دوسرے مال سے دے دسے او جب تک ان جاندرو ںکی تندار ساب ےکم نہ ہو اسے چا ےک 
سال ذکوۃ دے اور اکر دہ زکۃ انی جاندروں میں سے دے اور وہ پھلہ نصاب س ےکم ہو جائیں ت 
زوٰۃ اس پر واجب نمیں سے شلا جھ نس چالیس بھیڑیں رکتا ہو آکر وہ ان یر ذکوۃ اپنے دوسرے مل 
سے درے درنے قے جب تک ا لکی بھیٹریں چللاس کم نہ ہوں اسے چا چ کہ ہرسال ایک بھیٹررے 
اور اکر خود ان بھیڑویں مس سے کوۃ دے ق جب کک ا نکی تعداد چس تک نہ کیچ جائے اس پر 


وےیوجدسعجستکجکعصحکحتسجججو کجچچجججچجچ ےتک چچ جک 





توضیی‌المسائل : ).4051 ا 

نازثرات کس بے 

زکو کا محرف 

مہ ۱۹۳۹ ٠‏ انان زا کو اھ کاموں پر خر کر مکنا ہے۔ 

ہے فتہر عگیں۔ فقبروہ مخفصس ہے جس کے پا ابپنے مود اپنے ای د عال کے لیے سال 
پھر کے اخراجات! نہ ہوں لان جس شف کے پا سکوئی جنریا جانیدادیا صیلیہ ہو ضس سے دہ 
اپنے مال جھر کے امزاجات پور ےکر سکتا ہو وہ نقی میں ہے۔ 

×ے و حخفس ج لام علیہ السلام یا یب ام کی جانب سے اس کم سر مامود ہوکہ زکرۃ جع 
ہس ےس مویہ سر سن سر 
ایام یا قرا کو انف 

... ۲ کفار میں ززۃ دی جائے تر وہ دیون اعلام کی جاب مال ہوں یا نگ میں سلائیں 
نان 

...٣‏ خ؛ن فلدمو ںکو خریدب جو مشکلات سے دو ہار ہوں اور انئیں آزا کرنا۔ 

ھ و مقروض جو انا قرف اوا ےکر سکیا ہو۔ 

٦‏ فی کیل اللہ (ال کے رایت می ) نشی وہ کام جن میں قصد قیت کیا باتک شا سر 
اور ایا پدرسہ فی رکرنا چان مان دٹی علو مکی تعلیم دی جاتی ہو اور ش رکی عفاٹ یکرنا اور سک ںکو 
پلتہ پنان اور انیس چو ڑاکرنا وغیرو۔ 

ابن السسیل مھ وو سافر جو ناچار ہو گیا ہو اور ان کے بارے میں اکام آئندہ 
مسائل مہ مان سے جاتیں کہے۔ 

مستلہ ۱۹۳۳ ٠‏ احتیز وادب بر ےک فقیراور سیون اپنے اور اپنے ال و عیال کے سال بجھرکے 

اخراجات سے زیادہ زئوۃ نر نے اور اگ یھ رم اور نس رکتا ہو تے فط ائتی زکوۃ نے ہنی رقم یا جن 

اس کے سال بھرکے اخراجات کے لی ےکم پڑکی ہو 

مل ۹۳۳۱ : رھ و ھی مہ ھا : 

کروے اور بعد میں خی کفکرےکہ جوسیکجھ باتی پا ہے دہ اس کے سال بجھر کے اخراجات کے لیے کانی 


' 








ترضیم‌السائل - )ڑ۱ ٥ہ‏ )] 
ہے پا نہیں تو وہ زکوۃ نہیں نے سال 
صستلہ ۹۳۴ : جس جخرمعد یا صادب جائیدادما نج کی آیدئ اس کے سال بھمرکے اخراجات سے 
کم ہو وہ اپنے اخراج تک یکی پر یکرنے کے لیے زکوۃ لے تا ہے اور اس کے لین یہ ضروری 
می ںکہ اپنے کام کے اوزار ما جامیرادیا سریایہ اپے اخراجات کے محرف میں لے آسہ 
مل ۴۹۳۵ ٠‏ بس فقی کے پس الل و عیال کے لیے سال بھ رکا حرج نہ ہو نین ای فک مک 
مالک ہو نس میں وہ رتا ہو یا سوار یکی چز رکتا ہو اور ان کے بغی رگزر بس رن ہکر متا ہو وا ہے صورت 
عزت و آبر کی ططاقت کے لیے ہی ہو وہ زکوڈ؟ لے متا ہے او رگ کے ساان اور برتوں او رگرمیوں 
اور سرووں کے مباس اور جن چیزوں کی اسے ضرورت ہو ان کے لیے بھی بی عم ہے (یشنی ان کے 
ہوتے ہو بھی زکوۃ نے سنا ہے) اور جو پقیرہہ چزیں نہ رکتا ہو امر اسے ا نکی ضرورت ہو فو زکۃ 
میس سے خی سکم ہے۔ 
مل |٭ 8۳ع یج جس فقہ کے لیے جنرسیکھنا مشئل نہ ہو اطیاط داع بکی بنا یہ اس چا ے کہ سید 
نے اور ذکوۃ پر زندگی بس رن ہککرے۔ لیکن جب کک جنر یھ میں مشفول ہو زکوۃہ نے سکتا چس 
مل ےك : جو مس پل نقیر رہ ہو یا معلوم نہ ہوکہ دہ نقیر را ہے یا میں اور و ہکتا ہو 
٦‏ کہ میں قب ہوں اگ رچہ اس کے کین بر انا نکو اظمینان نہ ہو پچ بھی اسے ذکۃ رے سنا ہد 
مل ۴۳۸ ٠‏ ج مخفس کہ میں فقبر ہوں اور لہ فقیر نہ را ہو اکر اس کے کن سے 
انان پدا نہ ہو اضیاط واعب سے ہے کہ اسے زکوۃ ض دے جاے۔ 
ستیلہ ۹ ۱۹۳ : جس شخس سپ ڈوۃ اجب ہگ کول فی اس کا سض ہق :فص اس فق کہ 
زکوۃ ریینے ہوئے اپنے قر ےکی مقدار اس ےک مکر متا ہے۔ 
مستلہ ۱۹۴۰۴ : مر فقیر مر جائۓ اور اس کا مال انتا نہ ہو تنا اس نے قرضہ دیتا ہو 7 قش خواو 
رن ےکو زکوۃ میں شا رکر مکنا سے بلہ اکر ممیت کا ال اس پر وانب الاوا قرتے کے براجھ ہو اور اس کے 
وا اس کا قرضہ او ن ہکریں سی اور وجہ سے قرض خواو چا قرضہ والیں نہ لے سنا ہو تب بھی دو : 
انا قرضہ زکوٰۃ میں شا کر سکتا ہے۔ 





توضیبالمسائل ۱ )٥8ہ‏ ا 


مستلہ ۹۴۲ ٠‏ بے ضیری می ں کہ کوئی مخ جو یز مق رکو بطور زکوۃ دے اس کے بارے میں 
سے کے کب و ہے کہ گر فقی ذکوۃ ینہ میں شرمندگی محسوس کر ہو تے ص جب ہہ ہے ک اسے 
لس ذ کی نیت سے دا جاے لکن اس کا زکوۃ ہونا اس پر اہر تہکیاجاۓے۔ 

منتلہ ۱۹۳۴۳۴" أگ رکوئی خخس یہ خیا لکرتے ہو ےک یکو زکوۃ رےکہ دہ فُقیر ہے اور بعد شش 
اسے پعۃ کہ وہ قیرنہ تھا با متلہ سے تاواقف ہون کی بنا کسی ایے شف ںکو زکوۃ رے دے جس 
کے ملق اے عم ہوک وہ فقی میں ہے تو يہ کانی ہیں ہے لن زکو کی کچ ادا نیس ہو ) ادا 
بس نے جو زاس مخ سکو مبطور زکوۃ دی تھی أکر وہ باتی ہو ق وہ اس شس سے والیں نےکر ق کو 
رے متا سے اور اکر کالعدم ہ گنی ہو نذ اکر لیے وان ےکو عم تھاکہ دہ بل ذکوۃ ہے تو انسا نکو اہج کہ 
اس کا عوض اس سے نے نے اور سق کو رے دمے اور ار ینہ وال ےکو یہ عهم یہ تماکیہ وہ مال کو 
ہے اس سے سپھ میں لیا جا سکنا اور انسا نکو چا کہ اپنے مل سے ذکوۃ تق یکو رے۔ 

مل ۹۰۷۳ : جو مخس مقروض ہو اور قرض ارا نکر سک ہو گر اس کے پاش اپنا سال بھ رکا 
رج بھی ہو تب بھی اپ قرضہ اداکزنے کے لیے زکوۃ لے سنا ہے لان ضردری ےک اس نے جو مل 
بلور خر لیا ہو اس ےک ی گناو کے کام میں خرچ ن ہکیاہود 

سنہ ۹۴۴ ؛ مر انزین ایک ای مخ س کو کو دے جو مقروض ہو اور اپنا قرضیہ اوا کر متا 
ہو اور بعد مین اسے پند چ کہ اس مخ نے جو قرضہ لیا تھا د گناہ کے کام بر خر کیا تھا اکر وہ 
مقموض مقیرہو تر انان نے جو چچھھ اسے ویا ہو اسے ذکوۃ می شا رک سکتا ہے۔ 

مل ٥۷۵‏ : جو مخس مقروض ہو اور اپنا قرضہ اوا نہ کر سا ہو ارہ وہ فقرتہ ہو تب بھی 
قرسش خواہ اس جر ےکو جو ا نے اس سے وصو لکرن ہو زکوۃ میں شا رک ستا ہے۔ 

منلہ ۹۴۷ ٠‏ جس ساف کا سنر ترچ شتم ہو جا یا ا ں کی سواری مال استعال نہ رہے اگ اس 
کا سف گناہ کی خی سے نہ ہاور وہ قش ل ےکر یا اپ یکوئی نز فروش کر کے منزل مقصور تک نہ کچ 
تا ہو 3 ارہ وہ اہن وطن میں فقیریہ بھی ہو دہ زکوۃ نے سکتا ہے لیکن اکر وو کی دوسربی کہ سے 
. قش نےکر یا اب یکوگی نز کر سفر کے انراجات حاص لکر متا ہو تو وہ فتط ائتی مقدار میں زکوۃ لے 











توضیح‌المسائل : م 408 
سکتا سے جس کے زرہیے وہ اس مہ تک تچ جاۓے۔ 
مستلہ ے۹۴ ٠‏ جو سافر سفری ناچار ہو جائۓ اور زکوۃ لے اکر اس کے وشن تیچ جانے کے بعد 


سونوت شر کو ورے ردے اور اسے چا دو ے کہ ہے 
مل زکوۃ ے۔ 


سخحقین زک تی شر 


مستملہ ٠.۱۹۲۸۱۰‏ جو مخیس زکو؟ نے اسے حیعہ اشاکشری ہونا چا جن ارگ انما نک یکو شیع گنت 
ہے ارت لرہر ت پا سس اھ مك ھا 

مستلہ ۱۹۴۹ ٠‏ اگ رکوکی حیعہ بہ یا دروادہ ننس فقیر ہو قز انان اس کے مل یکو اس نیت سے زکوۃ 
رے سنا ہےکہ دہ ج کچھ درے رہ ہے وہ سے یا دیوان ےکی لیت ہوگی۔ 


مستلہ ۹۵۰ ٠‏ آلر انان چئ یا داوانے کے وی کک نہ کچ کے اذ وہ خودیاکسی انت دار شخس 
ا یہ ال زکوۃ ان پ نر کر کتا ہے اور جب زکوۃ ان لوگوں کے خر کی جارہی ہو نو زکوۃ ری 
وا ل ےکو چا کہ زکو کی نی تکرے۔ 

مل ہ۹ ٭ جو فق ریھیک اکنا ہو اسے زکوۃ دی جا عق سے لین جو مس مال زکو گناہ کے کام 
پہ خر کر ہو اس زکوۃ نی دٹی چا 

سیل ٥۵۲‏ : جو نس شراب پتتا ہو اسے زکوۃ : نہیں دی جاعلتی بکلہ اگ رکوئی شنس تلم کھ انار 
کیر: کا مب ہو ہو با نماز نہ پڑھتا ہو ( خواہ اس کا ارک نماز ہونا علالیہ شہ بھی ہو) تو اعقال واجپ 
ہے ہب ےکہ اسے زکوۃ نہ دی جائۓے۔ 

ستلہ ۹۵۳ا ٠‏ جو مخس مقروض ہو اور انا قرضہ ازان کر سنا ہو اس کا قرضہ زکوۃ سے دیا جا سکتا 
ہے خواہ اس نس کے اخراجات زکوۃ رسینے والے پر ہی واج بکیوں نہ ہوں۔ بشرلیکہ قرش من نققہ 
اور اخرابات جو اس کو وعندہبہ ولتب ہو ان میں خرق نہ ہوا ہو۔ 


مستلہ ۹۵۳۴ : زان بن لوگوں کے اخراجبات جن کا ترچہ اس پر واجپ ہو لا اولادر کے 








توضی‌المسائل (آومھه ا 


اخراجالت ذو سے ارا خی ں کر تا لیکن اکر وہ خوو ان کا خرچہ نہ رے نز دوسرے لوگ امیں زکوۃ 
دے کت ہیں۔ 

مل 0۵ ؛: گر انسان اپنے بی کو زکوۃ اس لیے رے کہ وہ اسے اپنی چوگی اور ٹوکر اور 
نکرائی پر خر جکرے ٹر اس مم ںکوئی حر نیس ہے۔ 

مستلہ ۹۵۷ : مر بی کو علی بی کتابو ںکی ضرورت ہو تو باپ و کمائیں ذکوۃ سے خری کر 
میں می کے استعال میں رے سکتا ہے.. 

مستلہ ے۱۹۵ ٠‏ جو بپ ہج کی شاد یکی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ یے کے لیے بیوئی مم یاکھرن ےکی 
اط زکوۃ میں سے نر کر سنا ہے اور بنا تھی باپ کے لیے ایماہ یکر سنا ہے۔ 

متلہ ۱۹۵۸ ٠‏ سی ابی عورت کو کا نہیں دی جا تی جس کا شو ہر اسے ن ‏ چہ دتا ہو یا سے 
خوہر خرچہ نہ دنا ہو لیکن نحکن ہوکہ لوگ اسے خرچہ دیے پر مبو رکریں۔ 

مل ۵۹ : جنس عورتٹ ن ےکی نس سے حع ہکیا ہو آھر وہ عورت فقیر ہو تڑ اس کا شوہراورٴ 
دوسرے لوک اسے زکوۃ رے گت ہیں اں اکر عقر کے سلسے میں شوہرنے عم کیا ب وہ اس کا خرچہ 
دے گا بای وجہ سے اس کا خرچہ دینا شو ہر بر واجب ہو فو اکر شو ہراس عورت کے اخراجات دا ہو تو 
ای فور ٹکو ڑکا ین تی جاگگی۔ 

متلہ ۷٣۴+‏ ٭ عورت آپے فقیر شوپ رکو زکوۃ رے تی سے خواہ شوہردہ زگ اس عورت پر ہی 
کیوں نہ خر کر رے۔ 

مل |١۱ء:‏ سید غیرسید سے ڈو میں نے متا لین اگر فس اور دوسرے ران آدلی اس 
کے انراجات کے لیے کانی نہ ہوں اور وہ زکة لیے پر مبور ہو تو غیبرسید سے زکوۃ نے سا ہے۔ 
مہ ۴۹۷۳ : جس منص کے بارے میں معلوم نہ ہوکہ سید ہے با غیبرسید ہے اسے کو ۃ دی جا 
کی ےے۔ 











توضیحم‌المسائل )6ھ ] 
رو کی نیت 

مستلہ ۱۹۳۳ 2ے تنی نک چا کہ زکوۃ ‏ تصد قیت من الد تعالی کے فرا نکی بجاآداری کی 
عیت سے رے اور اپئی میت میں می نکر ےکہ ج ھپھ دنہ را سے وہہ ل کی ز2 فطرو ہے لن شال 
کے طور ب اگ ندم اور ج ھکی زکوۃ اس بر واجب ہو فو اس کے لی می ضروری نمی ںکہ وہ می نککرے 
ک گند مکی ذکوۃ دے را ہے یا ھگی- 

مل ۷۳ד رکسی مخص بر کی چزو ںکی زکوۃ واجب ہو اور دہ مھ کر دے اور ان چڑوں 
میں س ےک کی عمیت بھی نہرے اور جو چتر اس نے دی ہو ا لکی جن دی ہو جھ ان چیوں میس سے 
کی ای فک ہو جن پر زکوۃ واجب ہو فقو وہ ای جن س کی زکوۃ شار ہوگی لین اکر نقری دی ہو جو لن 
پچڑوں میں س ےکس یک ہم ینس نہ ہق وۃ ان سب چزوں پر تی مکی جا گی ملا اگ رکسی پر چالٹس 
بھیڑوں اور چررہ شنقال سوٹن ےکی زکوۃ واجب ہو اور مثال کے طور پر وہ ایک بنیثر زکو کے طور پر رے 
ا رے اور ان چڑوں میں سے (شن پر ذکوۃ واجدب ہے )مس یکی غیت ن ہکرے ق وہ بھیرو ںکی زکۃ شار 
ہوگی شیکن اگ رھ چاندری کے کے اور ٹوٹ دے تو بھیڑوں اور سونے کے سلسلہ یں جو زکوۃ اس کی 
زے سے اس میں تیم ہو جات گی۔ 

مستلہ ۱۹۹۵ اگ رکوئی مخصس اپ م لکی ذکوۃ سے کے لیک یکو کیل بنائے تر جب وہ مل 
واۃ کیل کے سی دکر مرا ہو اعقیلط وع بک بنا یر اسے چا کی فی تر کہ جو ھ اس کا کیل بعد 
میں فق کو رے گا رہ زکزۃ سے اور احوط ہے س ےکہ زکوۃ مق رتک کن کے وقت کک ود اس میت پ قائم 
کت : 

مستلہ 1۹۷۷ ؟ ا۰ رکوئی مخصس قد بت کی بفیر ذکوۃ فقی کو رنے دے اور اس سے ڈشت رکہ وہ 
مکی کالحدم ہو جائۓے زکو کی فی تکرے تو دہ ال کو ۃ مھا جاۓے گا۔ 


زکوۃ ہے ضرق مسائل 
مہ ع۱۹۹ ٠‏ اعقا طکی بنا بر اما نکو پا ےک مندم اور ج کو بھوسے سے ال نے کے موق 
بے او رجور اود انگور کے لک ہونے کے وقت کو ۃ فقیرکو رے رے یا اپے مال سے مد ہکر دے اور 








توشی‌المسائل__ : ).411 ا 


سونے' چاندی' گائے' جمیٹر اور او ٹ کی زکو ۃگیارہ مین شخم ہونے کے بعد فقی کو رے دی چاۓ یا 
اپ مال سے عیحدوکر دی چاجے لین اگر وہ شف سکی خزاص فق رکا ختظ ہو یاکسی ای فق کو زکوۃ ینا 
چاہتا ہو ج وکسی اط سے بر ہو وہ ےکر سلنا ےکمہ ذکوة عبجدہ ن ہکرے۔ 

مستلہر ۱۹۹۰۸ : ز کو عبود,کرنے کے بعد ایک مس کے لیے ضروری می ںکہ اے فورا* 
تن مخ س کو رے ریے۔ میکن گر ا یکی وحتزس کی ای شخصس مک ہو یے زکوۃ دی جا عق ہو ت 
اطاط جب ہہ ہ ےکلہ کو دسیے یں تاتر نکرے۔ 

مستلہہ ۱8٦۹‏ ج جو مخس زوج سقن ھن ںکو پنیا سکنا ہو اکر دہ اسے ذزکوۃ نہ بئچائے اور اس کے 
کو بای پر ےکی وجہ سے ال زکوۃ لف ہو جا و اسے جا ۓےکہ اس کا عوض رے۔ 

مستلہ ے0۹ ٠‏ و مخس زکوہ سخن کک پنیا عکتا ہو آمر وہ اسے زکوۃ نہنجائۓ اور اس کے ال 
زکو کی گدداشت می سکو اہی نرکرنے کے پاوجود دہ مال لف ہو جائے تو اکر اس نے زکوقۃ وییۓ میں 
اتی نی رکی ہوکہ لوگ یہ ن کی ںکہ اس نے فوراگ رے دی ہے تر اسے چاسي ےکہ اس کا عوض رے 
اور ار اتی انی نکی ہو لا دو تن لہ اخ رکی ہو اور اتی دو خی نکھنٹوں میں مال زکوۃ تلف ہوگیا ہو * 
تاس صورت میں اگر تق موجور نہ تھا ق ذکواۃ سینے والے بر لی زی ادگی داب میں ہے اور 
مر تق موجود تھا تو وانب ہےکہ اس ما لکی زکو ۃ کا عوض رے۔ 

مئلہ ۹۱ا : اگ رکوئی مس زکوۃ اس مال سے علحد ہک رے جس پر زکوۃ واجب ہو تر وہ پل باندہ 
الپ تصرف گر کا ہے اکر دہ زکوۃ آپنے دوسرے مال سے ملح دہکرے قو اس سمارے می پر تر کر 
سکتا ہے نس پر زکوۃ واجب ہو۔ 

مستلہ ے۱۹ ٠‏ انان نے جو ال زکو: عجد وکیا ہو اسے اپنے لیے اٹھاکر دہکوئی دو سربی چنا کی 
تمہ نہیں رک سکتا۔ 

مہ سے۹ : گر ٹس بل زکو سے جورکسی شخس نے حلص کر دیا ہ و کوئی منفعت عاصل ہو 
شلا جو جھیربیطور زکوۃ رہ کی ہو وہ بپچہ وے وے نو منقعت مقی رک مال ہے۔ 


مل ۹ا ٠:‏ ج بکائی مخ مال زکوج علبو کر رہ ہو اکر اس وق تکوئی تن موجور ہو فو بر 














توضیج‌المسائل ١.‏ 412ا 


ےا کو اس رے رے بیج زاس صور تک ہکوئی ایا شنس اس کی ننطر میں ہو سے کو دیناکسی وج 
بے جم رہو۔ 

منلہ ے6۴ : اگ رکئی خصس اکم شر کی اجازت کے بفیراس مال کے ساتھ تار تکرمے جھ 
اس نے و ۃ کے لیے علبع ,کر دا ہو اور اس میں فسارہ ہو جائے فو اسے نو قۃ می ںکوت یھی نمی ںکرلی 
ہے نین اکر متابع ہو تو اسے چا ےکہ ت یکو رے رے۔ 

منتلہ ۱۹۹ ؟ نہ رکوئی مخصس ١س‏ سے پشھرکہ زکہۃ اس پر واجب ہ وکوئی بیز طور زکوۃ فقی کر 
رے وے تو وہ ذو تصور نہیں ہوی اور اکر اس بر کو واجب بہونے کے بعد وہ چیہ جھ اس نے مق رک 
دی خی لف ن ہو ہی ہو اور فقیرابھی کک اپے فقرب باقی ہو (ژنی غنی شہ ہدا ہو) نو زکوۃ دی والا 
اس چک جو اس نے فق کو دی شی ذکوۃ میں شا رکر ککتا ے۔ 

سیل ے۱۹ ؛ نگر فقبربہ جات ہو ۓےکہ زکوۃ این شس پر واجب نہیں ہوئی اس سےکوگی جز 
پور زکو؟ کے لے نے اور وہ چز فقبر کے اس ہوتے ہو للف ہو جا پر فقیر اس کا ؤمہ وار چا 
اور جب زکۃ اس شخس بر واجب ہو جائے اور فقی اس وقت تک نگ رست ہو ق جو یزاس شس 
نے فق کو دی تی اس کا عوض کو میں شا رکر سکم ہے۔ 

مستلہ ے۱۹ ؟ اگ رکوتی قیریہ نہ جات ہو ےکم ذکوۃ ایک مخ پر واہدب ٹیش ہوئی ال سے 
کوئی چززطور زکوۃ لے نے اور وہ چزفقیر کے اس ہوتے ہوے تلف ہو جائے تو نقیرؤمہ دار یں ہے 
اور وین والا شخس اس چزکا عوض زکوۃ میں شار نمی ںکر کت 

مستتلہ ۹ے ۹ا : ازان کے لیے سخحب سے کہ ہے“ بر اور اوینٹ کی زکوۃ آبرو مند عناتوں و 
دی جاۓ اور زکوۃ رسیے میں آپے رش دارو ںکو دوسروں بر اور ایل علم و کما یکو ان ٹوگوں پر تو اٹل 
مکی شہ و لک و کے کے کاو شون این و کے لوپ ای 
جائے۔ پل اکر فق رک کسی اور وجہ سے زکۃ وی مترہو نچ رس جب ہے کہ ذو ا يکو دی جائے۔ 
مل ۹۸۸۰ ء: پھر ےکہ زکو ۃ مل مکلا دی جائۓ اور کئی صدقہ خقیہ طور بر دیا جاۓ۔ 


مستلہ ۸۸ ٠‏ ج مخ زکوۃ دنا چاہتا ہو گر اس کے شمرمی ںکوئی سخ نہ ہو اور دہ زکو ۃ کو اس 








توضٰیح‌المسائل تده ا 


کے لیے مین شندہ کسی دوسرے حرف میں بھی نہ لا سکتا ہو نز مر اسے امیر ہوکہ بعد می ںکوئی ستن 
اپے شر میں جلدی مل جا گا تر اسے چا نے کہ زکوۃ ددسرے شمرنے جائے اور زکو؟ کے لیے مین 
محرف میں نے آئے اور اس کے لیے جاتز ہ ےکمہ اس شریٹس لے جانے کے اخراجات مال زکوۃ سے 
وش خکر لے اور اگمر مل زکوۃ تلف جو جائے تو وہ زمہ دار میں ے۔ 

مستلہ ۱۸۸۳ ۰ آر زکوۃ رین والے کے اپنے خمرمی ںکوئی تق منص مل جائے تب بھی وہ مال 
و ووسرے شمرنے جا تا ہے لیکن اسے چپ نے کہ اس شمر مس لے جانے کے اخراجات خود 
پرداشت کرے اور اکر بل زوۃ ضف ہو جا تر وہ زمہ دار سے ہہزز اس صور کہ مال کو8 دو سرے 
شمریں عاکم شرع کے تم سے تن گیا ہوت 

مستلہ ۹۸۳ ۰ جوف سگندم' جو شش او رجور بطور زکوۃ رے برہإ ہو ان اجناس کے تا لے اور 
ناپنے گی اجمت ا لکی اہی زمہ داری ہے۔ 

متلہ ۱۹۸۴ ۱ جن من سکو زکۃ میں ۲ مشقل اور ۵ا نخودیا ایل سے زیادہ بچاندی دی ہو وو 
قراط ممتح بک بنا بر ٢ا‏ شقال اور ہا نود ےکم چاندر کسی فق رکو نہ رے اور اکر ناندی کے علاد ہکوئی 
دوسری نز شا ندم اور جو سینے ہوں اور ان کی قبت ٢‏ خقال اور ۵ا نود چچاندی کک کیچ جائے تر 
انشاط مت بک بنا بر ایک فقی رکو اس ےکم نہ رے۔ 

مستلہ ۱۹۸۵ ؛ انان کے لئے عردہ ہےکہ سفن سے درخواس کر ےک جو کو اس نے اس 
سے کل سے ای کے اھ فروشت کر دے لیکن ار سجن نے جو جزبطور زکوۃ لی سے اسے جینا چاسے تر 
جب ا لکی قیت سے ہوجاۓ تو جس منص نے ف کو کو ۃ دبی ہو اس یکو خریدرنے کے لیے اس 
ابو اہب 

سیل کک اگ ری مخ سکو تک ہوکہ جو زکوۃ اس پر واجب بوئی تھی وہ اس نے دئی ہے یا 
کی ورس مال میس کو ۃ واجب ہوئی شی وہ بھی موجود ہو تو اسے چا ۓ کہ زکو رے خواہ ا کا 
جی فنگمزشعہ سالو ںکی زکو: کے متحلق ہ یکیوں یہ ہو اور نس مال میں ذکوۃ واجب ہوئی تھی اگر وہ ضا 
ہو چکا ہو ام رچہ اىی سا لکی زکوۃ کے متحلق حم ککیوں ظہ ہو کو ۃ دینا واجب میں ے۔ 











توضیح‌المسائل : ..1122-1_ لا 
مل ءےژ۹۸ : فقر ہے لیے ىہ جات نی ںکہ زکا کی مقدار ےکم عقدار پہ سجھوی رکرے پای 
کو ا سکی قبت سے زیادہ قیت بر بطور زکوۃ قو لکر لے یا زکوۃ الک سے لے کر اسے ہن رے 
ٹین اگ رکی مخ پ بت زیادہ زکزۃ واجب ہو اور تیر ہو جان ےکہ وجہ سے دہ زکو او کر سکتا ہو ا 
گر وہ قز کرے تن فق راس سے کو ےکر بچھرا یکو بش کے 


لہ ۹۸۸ : انان قرآن مجید یا دن یکنائیں یا دعاک یکنائیں مال زکوۃ سے نر دکر وق ف کر کتا 


سے خواہ وہ اولاد یا اان لوگوں پر تی وق کرے تن کا ترچہ اں یر واتب ے اور وو وف کا متولی خور 
ھی بن سکنا سے اور انی اوما دک بھی بنا کنا ہے۔ 


مل ۸۹ : انان ال وکوۃ سے جائیداد خی ھکر ابی اولاد ہا ان لوگوں پر وقف نمی ںکر ستا جن 
کا خر سپ واجب ہو کہ وہ اس چاتندا کی تفعت اپنے حرف میں لے کیہ 


. لہ ۹۹۰ ٠‏ سج اور زیارات وغیرو نر جانے کے لیے انان کیل الہک جے سے کو نے کت 
ہے اکرچہ دہ ینہ ہو پاپ مال بجرکے اخراہت کے لیے زک نے چا ہو۔ 


لہ 1۹۹۸ ! ار ایک پک اپنے ما لکی زکوۃ وین کے لی کسی فق کو وکیل بنائے اور اکر فقی رک 
لقن نہ ہوکہ مالک کا ارادہ ہہ تھاکہ وہ خود (لشنی نقی) اس مال سے بچچھ نہ لے و اس عصورت مم وہ 
جقتی مقرار دوسرو ںکو رے اتی متقدار خود بھی لے تا ہے۔ 

مل ۹۹۲ا : اگ رکوتی مق وف عگانھیں' کعیٹریں' سوتا اور چاندی لور زکوۃ حاص لکرے اور ال 
میں وہ سب شرائا موجدر ہوں جو زکوۃ واجب ہونے کے لیے جیا نکی گی ہیں تو اسے (یشن نقی رکر) 
چاجے کہ ان ی زگ رے۔ 


لہ 1۹۹۳ :گر دو اشماص ایک ایس مال می ہام شریک ہوں جس کی ذکوۃ اجب ہو گی ہو 
اور ان میں سے ایک اپنے ج ےکی زکقۃ رے رے اور بعد میں وہ مال تقی کر لیں اور جو شخص زکوۃ 
رے چا سے اسے علم ہوکہ اس کے شریک نے اپنے خل نکی کو ٹیس دی اور شہ ہی بعد میں دے گاتو 
جس مخص ما اہن صے مس تصر فکر بھی اشول رکتا ہے زاس کےکہ اپتے شر فکی وق ا ںکی 
اجازت سے اور اس کے شت عحکرنے پر عائ مکی اجازت سے وہ خوو پامعاوشہ اوا/ر رے۔ 








توضیں‌المسائل ۱ ا ئده ا 


مہ ۹۹۴ ۰ گر ٹس اور زکو ھی ٹس کے زے ہو او رکفارہ اور نزد وخیرو بھی اس پر واجعب 
ہو اوز وہ مقرویض بھی ہو اور ان سب کی ادائگی ن کر سکتا ہو اکر وہ بل جنس پر شس با زکوۃ وجب ہو 
پچی ہو لف نہ ہوگیا ہو تو اس نف سکو چا ےکہ شس اور وکا دے اور اکر وہ بل الف ہوگیا ہو تڑ 
اسے افقیار ےکہ فس با زکواۃ پیل رے باکفارہ اور نزو اور قرضش ویر اواکرے۔ 


مل 0۵) : ٤‏ جس فص کے زنے فس با زکوۃ ہو اور ری بھی اس پر واجب ہو اور وہ مقروض 
بھی ہو مر وہ مرجائے اور اس کا مل ان تام یں کے لیے کنی نہ ہو اور گر دہ بل جس پر شس اور 
ذو ۃ ودب ہو یں لف نہ ہوگیا ہو ٹس با و ری چاے اور اس کا پت مل اور تر 
پر تی مکرنا چایے اور اگلر دو ال جس پر فس اور زکواۃ واجب ہو ھی ہو لف ہوگی ہو فو اس کال رج 
پہ فر خکرنا چابجے اور اک رسپچھ پچ جائۓ فو اسے فس اور زکوۃ اور قریس پر تقی مکر رن چایے۔ 

مل 88۷ا جو مس علم حاص لکرنے میں مشفول ہو اور آکر علم حاصل ن ہکرے تو ای روزی 
دا سا ہو اکر اس عم کا حاص لکرن وجب ہو فو اسے زکۃ دی جاسکق ہے اور کر اس عم کا حاصل 
کرنا ص ججحب ہو نو فنقط کیل الد کے جیے سے اسے کوچ ة دنا جائز سے اور اگمر اس عم کا عاصل لکرنا واحب 
نہ ہواور یہ بی صنفب ہو تاس مخ سکو زکوۃ ریت جائز نہیں ہے 

زکوۃ فط 

مل ے۱۹۹ ء: شب عید الف کو غروب کے وقت جو منص باِغ اور عاقل ہو اور شہ نز فقیر ہو نہ ہی 
کسی دوسرے کا لام ہو اسے چا ےکہ اپنے لیے اور ان لوگوں کے لیے جو اس کے ہ ںکھاتاکھاتے ہوں 
مس ایک صا (جھ تقیبا جن کیلو ہوا ہے) کے صاب سے ندم یا جو احجور اشن یا چاول یا 
جوار وغیر: سخ شف سکو رے اور اکر ان جس سے مصسی ای ککی ھت نر یکی ۴ل میں رے رے تب 
بھی کائی ہے۔ 

مستلہ 1۹۹۸ : جس مس کے اس اپنے اور اپنے ائل و عیال کے لیے سال بھ رکا خرج شر ہو اور 
اس کاکوئی روزگاد بھی نہ ہو جس کے ذرجچ دہ اپنا ادر اپے اب و عیال کا سال بھ رکا حرج پوراکر کے 
وہ فقیر سے اور زکوۃ فطرو کا ینا اس پر واجب میں ے۔ 

















ثوضیح‌المسائل .136.1 ا 


ممملہ 1۹۹۹ :؟ جو لوگ شب عید اافطر کے خروب کے وق تی مس کے ا نکھعاتے والے بج 
جاھیں اسے پچای کہ ان کا خر رے قطع راس س ےکہ وہ پچھولےے ہوں یا پوت ملمان ہوں پا کافر 
ان کا خرچہ اس شف بر واجنب ہو یا نہ ہو اور وہ اس کے شعری ہوں یاکی دوسرے شمرمی ہوں۔ 
ئل ہہ : ال رکوئی خصس ایک ایے مخ س کو جو اس کے ہا لکھا کناٹ والا ہو اور دوسرت 
شمرمیں ہو رکی لکھرےکہ اس کے (لڑنی صاحب خانہ ) مل سے اپنا فطرد رے دے اور اسے انان ہو 
کہ وہ تخس فطرو رے رے گا۔ فو خوو صاہب خانہ کے لیے اس کا فطرو دنا ضروری خمیں۔ 
سیل ۲٭٭ ٢‏ جو سان شب عیدالفظطرکے خروب ے پل صاحب فان كی رشامندگی سے وارہ ٭ 
اور اس کے پا لکھا کھانے والوں میں شار ہو اس کا فطرو صاتب ائہ پر وانپ بج- 
مسیلہ8 ۰۴۲ : جو مین شب عر الفطر کے خدب سے پل صادب نان کی رضامندی کے ابر 
زارر ہو چاۓ اور پلجھ ببرمت صاحب نانہ کے پا رسے اس کے فطرہ کا ساحب خانہ پر واجپ ہونا لی 
ال ہے پکہ اظمرہ ہےکہ واجب میں سے اکرچہ رہ ےکہ صاحب خانہ اس کا فطرد بھی دن اور 
اگر از نکوکی نس کا خرچہ دی پر مجبو رکھاگیا ہو تو اس کے فطرے کے لیے بھی بی مہ 
سیل ۹۰۳۰ : جو صرین شب عیرالفٹر کے روب کے بعد وارو ہو آگر وم صاحب نانہ کے پل 
کھانا کھانے والا شار ہو نو اس کا فطرہ صاحب خانہ پہ اعیاط کی بنا یر واجب وااوقت کین سد خواہ 
صاہب غانہ نے اسے غروب سے پک رعوت دی ہو اور وہ انظار بھی صاحب خا, کے گر ج یککرے 
اور وہ اگر ا یکھممیں را تکو قیام یھ یکرے نو وتوب لازئی ہے۔ 
مستلہ ۰۴*٣٭۳‏ : .؟ رکوئی خخس شب عیدالفطرکے خروب کے وقت دیوائہ ہو اود اس کی دو اگ 
عیرالفط کے رن ظبرکے وقت کک باقی رہے قز زکوۃ خطرہ اس پر وایعب میں حے ورنہ اعاط واجب کی 
بنا یر لازم ہس ےکہ زکوۃ نرہ رے۔ 
متلہ ۰۶۵ ٠‏ خروب سے پھلہ با خیب کے دوران میں اگ کوٹ بچہ ان ہد جاۓے باکوئی دیون 
عاقل ہو جاے اکوئی فقرغنی ہو جاے تے اکر وو فطرہ واجنب ہونے کی شرائا بر کر ہد تر اسے چچاسیڈ 
کہ زکوم فطن رے۔ 2 





توضیإرالعسائل [ د+دروا 

ہ 0 آ کے ہ 5 0 سوا ۶2 
ستاہ ۹٭۹٭ ہ ہنس تخس پر شب عیدالفطر کے خروب کے وقت فطرو واجب نہ جو آگر غیر گا 
دن ظم کے وقتت سے پہ نک فمطرہ واینب ہوئے کی شرائے اس میں موبتود ہو جیاھیں تو اقاط واجپ ہے 
ےل وو زکاج افرہ رے۔ 


سیل سے ٭*٭ ٢ے‏ مگ رکوکی کافرشس عر الفعطر کے غروب کے بعد مان ہو جائۓ قو اس پر فطرو 
وب میں ہے لین الہ ایک ایا سلران جو شیع نہ ہو عیدکا چاند دیکھنے کے بعد شیعہ ہو جاۓ ة اسے 
چا ہے لہ زکوۃ نطو رے۔ 

مل |۰۰۸ ؛ جس مس کے اس صرف انرازا ایک صاع ( ترما ح کیو ندم دقیرو ہو اس 
کے لیے سب کہ زکوۃ فطرہ درے اور آ مر وہ ایل و عیال بھی رکتا ہو اور ان کا فطرد بی رینا اتا ہو 
زاس کے لیے جانو س ےکہ ذل کی میت سے وہ صاع مندم وظیرہ اپے ال وعیال می سعسی ای ککو 
رے رے اور و گی اىی منتصید سے روصر ےکو رے دے اور وہ ای طرح وسینے رہیں تن کیہ دو جٹس 
خانران کے آ خر ی فرد تک کن جا اور بھتر ہ ےکہ جو چز آنٹری فر کو لے ووککسی اییے مخ کو رے 
نو نود ان یں میں سے نہ ہو جخوں نے فطرہ ایک دوسر ےکو دا ہے اور اکر ان ٹوگوں بین ہس کوٹ ی 
لغ وو غز اس کا وی ا کی ہیاۓ فطن لے سکتا ےہ اور ا قاط اس میں ہے کہ بد چا کے بی لی 
جائے وو کسی دو سر ےکو نہ دی جاغ۔ 





سئل. ٣۹۰۹‏ : ار شی عیرلضرىے خروب کے بع کی کے ہاں کہ برا ہو 7 اس کا ظرو رینا 
وادب میں سے لین اعتاط یہ ہ ےکہ جو اشخا غروب کے بعد سے عید کے ون کے وقت نمرکے 
وت سے لہ تک صاحب انہر کے ہا ںکھاکعانے والوں میں جھے جائیں دہ ان سب کا رد رے۔ 
مل م۳ : رکوئی شف کسی کے کا اکھنا کور روب سے پل ا روب کے دوران 
نی سے یک ان کھا ا کھیانے والا ہوجاۓ تو اس کا فطرو اسی شس پر واجب ہے شس کے ہاں 

کرنے والا وہ بی جاۓ شاو گر بے رض تر ا کہ جا زان 
خط لا گرے۔ 


۴ 7 7 7 گی کو کی 
سال ٢۷‏ شس مخ کا فط کی وورے جس پھ واجب ہو ا پٍ انا فطرو نور ریا واجحب 





توضیمالمسائل (اقہا 


نیں۔ 

مل ۲۰۲ : اگ ری ھن کا مطر کی دوسرے پر واجب ہو اور وہ فطرو نہ رے ٹر وہ ٹوو اس 
نس پر واجب نییں ہو 

مل ٢۰۳‏ اگ رکی خخس کا فطر کسی دوسرے نس پر واعب ہو اور دد اپ طز ور رے 
وے تو جس منص پر اس کا فطرد واجب ہو اس بر سے ا سک ادائگی کا وجوب ساقطا خی ہو)]۔ 

مل ٢۰۷۳‏ جس عورت کا شوہراس کا خر نہ رتا ہو آمر و کسی دوسرے کے ہ لکھا کرای 
ہو اس کا فطرہ اس نف پر واجب ہے جس کے ں دو کھااکھاتی ہے اور اکر وہ کسی کے ہا ںککھاتاککھاتی 
ہو اور فقی بھی نہ ہو تو اسے چا کہ انا فطرو خوو اواکرے_ ۱ 
مل ۰۱۵ جو خفصس سیر نہ ہو وہ سی رکو فطرد ٹمیں رے سنا تق کہ آمر سید اس کے ہا نکھانا 
کھانے والوں میں سے بھی ہو جب بھی اس کا فطرد وو مکی دوسرے سی رکو خیں رے سکتاں 

مہہ ٠ ۲۹۱٦‏ جو پچہ میں یا وایہ کا رودھ چا ہو اس کا فطرو اس شنفس پر وجب ہے جو ماں ا والے 
کے اخراجبات پراوش تکرب ہو او اکر مل یا دای کا خر خود پچ کے مال سے وا ہو تو لئے کا فطر کسی 
پر واجب یں ےے۔ 

مستلہ ے۹۱٢‏ انین اگرچہ اپنے الیل و عیال کا خر عرام مال سے دینا ہو اسے با ےکہ ان کا 
نرہ مال ال سے رے۔ 

لہ ۲۰۸ ۰ گر انز نکی جن س کو اق مقر رکرہے اور اس سے سٹ ےکر ےکہ اس کا رخ 
دے گا نو اسے چا نےکہ اس کا فطر؛ بھی رے لین اگمر ہہ لس ےکر کہ اس کے خری کی مقدار ے 
درے گا ملا اس کے خر کے لی نقری نہ دے گا اس کا (لجنی اق رکا) فطرہ اوا کرنا اس بر واجب میں 
ے- 

مستلہ ۲۹8 ٠‏ گآ رکوئی مخفصس شب عرالفطر کے روب کے بعد فویت ہو جائے تو اس کا اور اس 
کے ابل و عیال کا خطرو اس کے مل سے دیا چا جے مجن اکر وہ خروب سے پل فیت ہو جائے تو اس کا 





ووو(وِِوذووہججوسحسسمدہججھوڑدسمےجڈتجھکجستۃ 





توضیالمسائل [ 419ا 


اور اس کے ائل و عیال کا فطٰہ ان کے یل ہے میا راجب ہیں۔ 

کت حطر کا حرف 

سیلہ ٣٣۷۰۴۴‏ ؟ ار کو فطل یکو ان آشیہ مصمارف میں سے کی آیک معرف ہیں لا جائے جن کا 
اکر مل لکی زا ۃ کے ساسلے میں یامیا ہے تو کانی سے لیکن اط واجب ہہ ہ ےک فطرہ فا شیعہ نشی 
فترا کو دیا جاۓ۔ 

مہ ٠ ٢٣۲۲‏ آ رکوئی خی بیہ فقیرہو ‏ انان کے لیے جائز ےکہ فطرہ اس پر خر کرے پا 
اس کے ول یکو و ےکر اسے ےکی گلیت قرار رے۔ 

سیلہ ۷۳۳+ جس فق کو :طرہ ریا جاے ضوری خی ںکہ وہ عاول ہو لین شرل کو فطرہ دینا جائز 
میں اور ڈیا وادب ہے ح کہ ہے نما زکو اور اس نف س کو ج ول مکھلا گناہ کا ح رسب ہوا ہو فطرو نہ دیا 
ہاے۔ 

سیل ۷۷۳۲۳۴ جج رشن فطرہ جا پائز کاموں میں صر کر ہو اسے فطر ٹیں رتا چاچت- 
متلہ ٣۰۳۳‏ . انٹیالا واجب ىہ ہ کہ ایک فقی کو ایک صاع ( جو تقیبا ج یکیو ہوم ہے) سے 
کم فو نہ دیا جائے اہ مر اس سے زیادہ دیا جاے قہکوئی حرج یس ہے نن اس کی ضرورت ے 
نمارہ لہ 9۔ 

صتلہ ۷۷۵ ہب کی جفن ضس کی قوت بی جفس کی معمول تم سے ددکنی ہو کسی ند مکی 
قیت معمول مت مکی گند مکی قیت سے دو ند ہو ا رکوئی نس اس بڑھیا ینس کا آدعاصاع (نس کے 
صن سابقہ متلہ میں بیان سکیے گے ہیں) مور فطرد درے نز ہہ کاٹی خمیں سے جہ اکر دو آدا صاع مطر کی 
رر رہ 

سیل ۷۷۳۷ ٢‏ زان آوحاصاع ایک جنس کا مشلامندم کا اور آدعاصا کسی دوسری جن شا جھ 
کا بطور نطر نمیں رنے سنا جا مر یہ آدھا آدھا صاع فطر کی قب ت کی یت سے بھی رے نز کاٹی نہیں ٭ 


سے 
0 





توضیالمسائل [8٥2ه٭‏ ا 


٦ 


:۰ مستلہ سے ٣٢۶‏ : زین کے لیے سب ہ ےکہ زکوۃ سے مس اپنے تقر قرابت دارو لکو روروں 
پر تی دے اور ان کے بعد ہسایہ فقرا کو اور ان کے بعد ایل عم فقرا کو دوسروں پر مقدم ر کے ان 
ا رکوئی اور لو کی وجہ سے برتزبی رکھتے ہوں قذ جب ہےکہ انیس مقدم رے۔ 
مبّل ۲۱٢۷۸‏ : : گرانن ىہ خیا لکرتے ہو کہ ایک خص مقر ہے اسے فطرہ وے اور در 
بھی نی یہر جچو‌تو یر وت 

کہ واپین ہے نے اور سق کو رے دے اور آمر والیں : ض نے متا ہو تو اسے جا نےکہ خود اپنے ال 
سے فطرد رے اور گر وہ مال کالعدم ہو گیا ہو لگن لیے وان ےکو عم ہو کہ جو کھ اس نے لیا سے وو فطرن 
ہے پر اسے چا ےکہ اس کا عوض درے اور آمر اسے ہہ علم شر ہو قذ عوض وینا اس پر واجب شمیس ےہ 
اور انسا نکو چا ۓ کہ نطرو روپارہ وے۔ 
مستلہ ۲۰۷۹ ۰ اگ رکوئی منص ےکہ میں مقر ہوں ت اسے فطرہ دیا جا کنا ہے لیکن مر انسا ن کو 
علم ہوکہ ہہ فص پیل غفنی ( نین مال دار تھا تر اسے عحض اس کے کن پر فطرہ نہ دا جائے بجزاس 
صورت ک ےک انا نکو اس کے سنہ سے اعفیینان ہو جائۓ۔ 


زکوۃ فطرو کے تق مسائل 

7ج ۴ ٠‏ انا نکو چا نےکہ زکوۃ فطرہ قیت کے قصد سے لان اللہ تالی کے فیا ن کی یا 
آوری کے بلیتھ درے اور اس کے ویے وقت فظر کی نی تکرے۔ 

متلہ ٣۹۳۷‏ 1 اگ رکوتی حفصس رمضان البارک کے مینے سے پل فطرد رے دے نز یہ کیج نمیں 
ہے اور نترب بب ےکہ ماو زمضمان البارک میں بھی فطرو نہ رے التر تن اکر ناو رمضمان البارک سے بل 
ات ےت 
ھ۶" 

مہ ۲۹۳۳۲ ٠‏ مندم باکوئی دوسری چےز جو فطرد کے طور پر دی جائے اس میں کوئی اور جنس پا 
می نمی غی موی چاے اگ اس م سکوئی ای جن بی ہوئی ہو اور خاص مل ایک صاع کک (جو تقہا 
نکیلو کے برابہ ہوا ہے) کی جائے یا جو جن لی ہوئی ہو دہ ات یکم ہوکہ قائل قوجہ نہ ہو وکوئی جرح 





توفیمالمسائلز___ےے۔ ۱ ۱ .4311ا 


ہیں ے۔ 

یل ۷۳۳۳م ؟ ڈگ روک ی مخ سکوتی عیب رار چز فط: کے طور بر رے قز انضیاط واج ب کی باب4 
کی نہیں ے۔ 

مل میں می جس ن سک و کی اشماص کا خطرہ رینا ہو اس کے می لیے ضروری ےک سار فظرہ 
ایک بی نس سے رے عل مر بج ض افرار کا فط وگمنرم سے اور ض دوسروں کا جو سے دے ت کال 
مل ۲۰٢۳۵‏ : عی کی نماز ین وانے شنس کو اعقیاط اہن بکی بنا چا کہ فطرہ عی کی نماز 
سے پل وت ون اگ رکوی خص نراز عیر نہ بس فو فطر کی پت تک ان کر کت 
۳۲ ۷و رکوتی من فط و کی میت سے اپن ما لکی سچھھ مقار بعد ہک دے اور عید 
کے رن نب رکے وج تک مسق کو نہ رے تو جب بھی وہ مال ست یکو رے فطر کی خی تہکرے۔ 
سے ۲۰۳ : ال رکوئی مخس ژکوہ خر کے'وادب ہونے کے وقت فطرو نہ ونے اور الگ می 
کرے تاس کے بعد اوا اور قضاکی خیت گی بقیر فظرو رے۔ 

مت 7۸۴۷۲ ۳م*” مج اگ رکوتی شخس ڈکوج خطرہ ال گکر رے تو وہ ات اپے محرف میں لاہ دوسرا مل 
ا سکی کہ اہلور فط نمیں رھ کتا۔ 

ہت ۲٢۰٢۹‏ : ا کسی نس کے پا ایا بل ہو ج سک قبت فعرو سے زیاہ ہو ,اگر و شس 
فطو نہ رے اور می ت کر ےکہ اس مل لکی کچھ مقدار فطرہ کے لیے ہوگی تو ای اکرنے مس ال ہے۔ 
مل ٢۲۰٢۳۰‏ ٌ سی میس نے جو بی فطرو کے لیے ان کیا ہو اکر و تلف ہو جاے نز اکر وہ 
شس فق تک بنچ سکتا تا اور اس نے فطو دیے میں ایی ہو تو اسے چا کہ اس کا عوش دے اور 
گر فق تک نمیں مج سنا تھا ۃ پھرزمہ داد میں ہے۔ * 

مل ٢٢۰۷‏ ٠آ‏ آم رط وین والے کے اپنے علاقہ میں سفن مل جاۓے تر ایا داجب بر ہب ےکہ 








توضیح‌المسائل 7 ۱ 2._ 


فطرو دوسری كل : نہ نے جائے اور گلر دوسری مہ لے جائے اور وہ گف ہو جائے تق اسے ا کہ 
اس کا عوض روے۔ 


حج 


تہ ٠ ٣۹۴۲‏ بج بھی رین اسلام کا ایک رکن ائعلم ہے۔ اس سے راد مک ہککرمہ میں واتع بیت 
اللہ بیجن خائنکعب کی زیار تکرنا اور ان دوسرے اعمال کا ہیا لانا ہے جن کانعھم دیامگکیا ہے۔ اللہ تی نے 
قرغ رق کے بارے میں مفصل احکام رے ہیں۔ چنائچہ ارشار ہو ہے۔ 

لے ۲۰۴۳ ٠:‏ م اور (اے رسول ! دہ وت یا کے ) جب ہہم نے ابرائیمم کے لیے خانکعب کی 
کہ اہ رکر دی لور اس ےکھاک کسی چیک میا شریک نہ بات اور یر ےگ رکو طواف اور قام اور جود 
کرنے والوں کے لیے صاف سخ ا رکنا اور لوگو ںکو رج کی خ کر دو نیہ دہ تھمارے پاں (توق ور جوقی) 
پیادہ لود پر رع کی ( دی ) سوارلوں پر جو دور درراز راتتے ہٹ ےکر کے آئی ہوں (عوار ہ وکی) آ یں 
کہ دہ (ا و آخرت )کی فالحدوں پر فائز ہوں اور اللہ تعالٰی نے جو چویاۓ انی عنایت فرائے ہیں ان 
پے ز کرت دقت) چند صجحین دنوں میں اللہ توالی کا نام لیس تو تم لوک (قیانی کاگوشت) خود مھ یکھاؤ اور 
بھوکے خناجوں کو بھی کھلاؤ۔ پھر لوکو ں کو چا کہ اپتی اپی (ر نکی کثات دو رکھریں اور اپتی نذریی 
پر یکریں ادد نیم (عبادت) غانہ ان کعبہ کا طوا فکرییں۔ بی معھم ے_* 


کے اظام 


مل و رج خانہ غداکی زیار تکرنا اور ان اعما لکو سر انام رینا سے تن کے وہاں با 
لان کا عم دیاگیا ہے .اود ا سکی ادائی ہراس منخس کے لیے ہو درب زل ٹراگا پر یک ہو تام 
عمرمیں ایک رلمہ والجب ہے۔ 

ایل . ےگہ انان ہلغ ہو۔ 

2 کہ عاقل اور آزاد ( جن ویوانہ بھی نہ ہو او ری کا لام بھی نہ ہو-) 





توضیحالمسائل 75 )( تھیپ+] 


سم کہ جج بے جان ےکی وج سے کی ای ماجائۂ کا م کرنے پر مجحبور نہ ہو جائے جن کا 
تی ککرنا. کرنے سے زیادہ الیم ہو یائکسی ایی وادب کا مکو ترک نکر دے جو رق سے 
زار اکم ہو۔ - 

چمالم : ہے کہ مستطے ہو شی استفاعت رگتا ہو اور مستطیع ہون کئی ایک چڑوں پہ 
حمرے۔ 

١ے‏ بی کہ انان رات کا خر اور سواری رکتا ہو یا اتا مال رکتا ہو ٹس سے ان چو ں کو 
رع 

و تی صحت اور طائت رکتا ہ وکہ مک کرمہ چاکر رج چا لا س٣ت‏ ہو ۶ 

سج جا نحرمہ جارنے کے ہے رات میں کوئی رکاوٹ نہ ہہو اور گر راستہ بر ہو یا انسان کو 
ڈر ہوکہ رات میں ا کی جان نا آبرد ضائع ہو جانۓ گی یا اس کا یل تین لیا جائے گان 
ایس پر یج واجنب میں سے لیکن اکر وو دوسرے رات جا تا ہو ق اگرچہ دہ راستہ زیادہ طول 
ہو اسے ای کہ اس رات سے چلا جاے۔ 

7 اس کے پا انا وقت ہ وک کک دکرمہ کر ری کے اعمال بھالا گے۔ : 1 

فا جن لوگوں کے اخزاجات اس پر واجب ہوں ( لا پیوی اور چچ) اور جن لوگویں کے 
انراجات برداش کنا لوگ اس کے لئے ضروری ھت ہوں ان کے اخراجات اس کے پالل 
موتور ہوں۔ے : 

...ےد بج سے وابی کے بعد وہ ایا بنریا زراعت یا ائیدا کی تل یا حا کا دومرا ذریچہ رکتا 

۱ ہوکہ مور نہ ہو جائۓ اور سے (ندگی ن ہگزارے۔ 

مننلہ ۲٣۰۴۵‏ : ضس مخ سىی حاجت اپ زاتی مکان کے بغیررع نہ ہو کے اس بس ال وقت 

اجب سے جب مان کے لیے بھی تر رکتا ہو ۱ 

مل ۲۰۳۹ء جو عورت کے جا عق ہو ڈکر وائیبی کے بعد ای کے پاس اس کا ان اکوگی مال شہ ہو 

اور شال کے طور بر اس کا خوہ ربھی فقی ہو اور اسے خر نہ دا ہد اور عورت مجبور ہو جاے اور ػق 

سے زندگی بررکرے فو اس پر ری واجب نئیں- 

سیل ے ٠ ٢۷۰۴‏ 1گ رکسی مس کے اس جج کے لیے زاد راہ اور سواری شہ ہو اور دوسرا اسے سے 





توضیح‌المسائل : ) ی34ه ا 


کہ تم جکو جاؤ میں تمارا سفر خر دوں گا اور تمارے بیج کے لیے سفرکے دوران میں تمارے اہل و 
عیا لک بھی حرج رتا رہوں گا تو اکر اسے ایمنان ہو جا ۓےکہ دہ شنس اسے ترجہ دے گا تر اس پر 
واجب ہو جانا ے۔ 

مل ۷۷۰۴۸۷ : اگ رکی مخ کو کہ جانے اور وائیں آنے کا ترچ اور شی برت اسے دا 
جانے اور وائپیں آنے میں گے اس کے لیے اس کے ال و عیال کے اخراجات دے دہے جانھیں اور اس 
کے ساتھ ہہ شر ےکی جال ےک دہ ر جقکھرے گا اور وہ اس شر ذکو قو لکر نے تو اگ رچہ وہ مقررض ہو 
اور وائبی ب رہگزر بس رکرنے کے لیے مل بھی نہ رکھتا ہو اس پر رع داجب ہو جانا ےے۔ 

مل ٣۰۲۹‏ : :, اگ رک یکو کہ جانے اور والییں آنے کا خرچ اور شی برت ت اسے وہاں چاے اور 
والیں کی عو مر وحن نت 
جائےکہ کو جاؤ گن ہہ سب مصارف ا کی گگیت مس نہ دبے جامیں ت اس پر رج وادجب ہو٣‏ 
ے۔ 

مل “۲۰۵۰ : اگ رکی مخ سک انی مقدار میں مال دا جائۓ جو سج کے لیے کائی ہو اور ہے شر 
گنی جا ۓےکہ جس شنص نے مل دیا ہے مل لین والا کہ کے راحتے میں ا کی خدم تکرے گان شے 
لی دیا ہو اس پر رج واحب خی ہوا۔ 

متلہ ٠ ۲٢۵۳‏ اگ کی ھن کو اتی مقدار یں مل دیا جا کہ رع ا پر وب ہو جائے اور وہ 
ب کرے و امرچہ بعد میں وہ خودبھی مال عاص لک نے دوسرارعج اس پر واجب میں ے- 

تل8 ۲۰۵۳ ۰ ا رکوئی مس حجار تک غرض سے مال کے طور پر عبدہ تک جائے اور اتا مال 
اس کے اھ آجا ‏ ےکہ اکر وہاں اسے کہ جانا چاہے تو استطاعت رکتا ہو تق اسے چا کہ ر جکرے اور 
گمر وہ جککر نے تر خواہ وہ بعد میں ابی دوات پیاکر لے کہ خود اپ وطن سے بھی کہ جا سکتا ہو اس پر 
دوسرارج داجب میں ے۔ 

متلہ ٣۹۵۳‏ ۰ آل رکوئی مس اس شر بر ایر ےکہ خود ایک دوسرے خ سکی طرف سے نج 
کرے گا اکر وو فور کو نہ جا کے اور چا ےک کی دوسرے شف کو انی تہ جج رے نے اے 





توضیالمسائل : : )ا د5دپب] 


چا ےکہ جس مس نے سے امبربایا ہے اس سے احجازت نے۔ 


منیلہ ٣٣۵۳۴‏ ۰ آگ رکوتئی خس استفاعت رکتا ہو اور کو نہ جا اور پھر قیر ہو جائۓ و اے 
اسنہ خواو اسے زعمت ب یکیوں نہ انی پا بعد میں بی جکرے اور اکر و ودکسی بھی طرح کو شہ جا 
کنا ہو او رکوئی اسے ‏ جککرنے کے لیے ار بنا فو اسے چا ےکہ کہ جائۓ اور نس نے اس ات نیا 
ہو ا کی طرف سے ر جکرے اور پچھردوسرے سال کک کہ مم رہے اور انار جعککرے لیکن ار تن 
ہوکہ اتیربنے اور اجرت نقز لے نے اور جس منص نے اسے ات بنا ہو وہ اس بات پر رات ہ وکہ 
اس کاچ ووسرے سال بجالیا جا تو ای کو چا ےکہ پیل مال خود انا جج اور دوسرے سال اس مس 
کے لیے رج بھا لا جس نے اسے ات متا ہو۔ 

متلہ ۲۹۰۵۵ ٠‏ انان جس سال ستعذیع ہوا ہو اکر ای سال کہ چلا جائۓ اور مقررہ وقت پر 
عرنات اور مفمرالأرام میں نہ کیچ کے اور بعد ہیں آنے وائے سالوں میں مستطیع شہ جوف ال پر را 
واجب خی ہے لج نکی سال پٹھرسے سستطیع دبا ہو اور سر ن گیا ہو تو بچلرخواہ زحمت ب یکیوں 
نہ اٹھالی پڑے اسے ر ‏ کر جاچے۔ ۱ 
صتلہ ۲۰۵۷ ٠‏ کوئی مخصس جس سمل میس بی دفعہ مستطیسع ہوا ہو اکر اس سال سق نکرے 
اور بعد ٹس بڑہاے' بیاری ناکدر یک وجہ سے ئن کر کے اور اس بات سے امیر ہو جا ۓےکہ بعد 
میں خر کر کے گا اسے چا ےک صسی دوسرےکو اپی طرف سے کے کے لی گی دے لہ گر 
امیر نہ بھی ہوا ہو تب بھی اط واجب ہہ س ےکہ ایک ار مقر رکرے اور آگر بعد میں اس قائل ہو 
جائۓ زز خود بھی ر جکرے اور اکر اس کے پا کسی سال یی وفعہ اتا مال ہو جا ےکہ جورع کے لیے کی 
ہو اور بڑھاپے ىا یاری اکور یکی وجہ سے رق نہ کر کے اور قائاگی حاص لکرنے سے امیر ہو تب 
بھی بی عم ہے اور ان قمام صورقوں میں اقیاط وید بکی بنا پر چا ےکہ ای شف سکو جب بیائے بس 
کاج بر جانے کامہ پھلا موق ہو (لشنی اس سے پل کرنے نیا ہو۔) 

متل ے۰۵٣ ٠‏ جو مخص ‏ کرنے کے لی کسی دوسر ےکی طرف سے ابر ہو اسے چای ےک 
ا سکی طرف سے طواف ناء بھی بچالاۓ اور اکر نہ بھا لاے ق اریہ اپکی عورت جرام ہو جال ۓےگی۔ 


ملہ ۲۰۵۸ ٠‏ ا رکوئی نس طواف شاء کیج طور بر نہ جا لائے ما اس کی ہیا ودای بھول 








توضیحالمسائل : ڑ٤‏ مھا 


جا اور چند دن بعد اسے یار آئے اور راتۓ سے وائیں ہو جائے اور جھا لائے تو ہے جع سے اور آگر 
واپیں ہونا اس کے لیے مشقت کا موجب ہو تر طواف نا کی با آوری کے لیے کس یکو جائب بنا سکتا 


ہے۔ 
۲ 


امر بالمعروف و ٹھی عن المنکر 


ام بامعروف وخی عن النکر ' سے عرادیہ ےک لوکو ںکو اھ کا مکرس کی دعوت دی جاے 
اور برے کاموں سے تم کیا جائے۔ مہ معلیم دی فییضہ ہے جس کا تر فکرناگوناگوں سعاشرتی نخرابیوں کا 
موتب ے۔ 
اللہ تعائی فراا ہے ”تم میں سے ای کگگردہ ایا ہو جھ خی رکی طرف دعوت دے اور براتیوں سے 
مخ ککرے اور بسی لوگ فلاع پانے وائے ہیں۔“ (سورة آل عران ۔ آیت )٠٣‏ 
۱ رسول اکرم تھنڑکٹپچپپیا نے ایک اور موںع بر فرایا ' دہ وت کیسا ہوگا جب تمماری عورتیں 
خراب ہو جامیں گی اور تجمارے جوان فاسق و غاج ہو جاھیں گے اور حم امریالعریف اور خی عن امگر 
پچھوڑ رو گے" 
لوگں تے حر سکیا یا رسول اللہ پاپ کیا ایا وت واتی آنے ولا ۔ے؟" 
آپ شظلم نے آرایا ںہ 
پھر فیا اور وہ وقت بھی آئے ما جب تم مر ہا لانے کا عم دینے لو گے اور محروف انام 
رۓے سے کے کو سر 
پچھ رع ضکیاگیا کیا ایا وقت آنے ولا ے ؟ “ ۱ 
آپ مل نے فرایا ” پں اس سے ھی بدتر وت اور وہ دو وت ہوگا جب تم سری فک ری 
نظرسے دیکھو کے اور بری چزو ںکو فل خی ربکت کو گے * 
آتھم لیم اللام سے روامت ےکہ "ام اروف ے فزائل قائم رہیں کے۔ نراہب قوط 
ہوں گے۔ علا لک کمائی حاصل ہو جال ۓگی۔ خلم سے روک جائے گا۔ زین آبلد ہو جائے گی۔ ظا م اور 
مظلوم کے درمیان عدل و انعیاف مائ ہو جائۓ گا۔ جب کک اموامحروف ہو رہے گا لوگ خیرو برکت 





توضیحالمسائل )1 دی+ا 


میں ہوں گے اور مل خر جا لانے مس ایک دوضر ےکی مردکرتے وہیں کے اور ار اسے بچھوڑ وی کے 
فان کے بیماں سے برکت اھ جال گی وہ ایک دوسرے پر مسلط ہو جاھیں گے اور زین یر اور آسمان 
میس ان کاکوئی پررگار ‏ ہو گا۔" 
ام ر ریف اور خی معن اضنگر کا وحوب' دجو بکفائی ہے ین اکر ایک فرر اسے احجام رے رے 
دوسروں پر سے ا کا وچوپ ساقط ہو چان ہے۔ لین اگ رکوئی بھی اخعیام نہ رے فو کچ یناو گار ہو 
ہیں اہم سے کسی اص مق سے شس نہیں اور اکر وجو ب کی شرائا موجور ہوں (جن کا وکر زیل مم کیا 
جاۓے گا) نز علاء شی رعلام عاول' فاس' حاکمٴ رحیت' امدار اور فقیر سب پر واجب سے 
اگ رکوئی نیک کام تخب ہو قے اس کا 1م رکرا بھی صب سے نشی اگ رکوئی شس اس کا ام رکرے تو 
وہ و اب کا تن ہو گا لین آگر ام رت ہکھرے فو اس پ ھکوئی خاب نیں۔ 
ام پالعروف اور ضی عن اضنکر کے واجب ہون ےکی چند شرائط ہیں جو دسج ذیل ہیں- 
جن ہے کہ انان مروف اور مگر ( نشی ایکھے اور برے سے ) خواہ ابمالی طور پر بی کی“ 
واقف ہو۔ جو نس کصی چ کی اچھائی اور برائی سے وافف ہی نہ ہو اس پر امیالحوف اور ٠‏ 
خی من المنر واجب نمئیں۔ 
۲.. بے کہ موسرے مس کے امرو فی کے قول کرنے کا ال ہو۔ زا جس شخس کے 
پارے میں علم ہ کہ دہ اچھائی اور برائی ہیں کوئی قیفر خمیں کرت سے امرو خی کرنا واعب 
ہیں۔ 
×× یکہ ضص شف سک اپچھا کا مکرنے اور برے کام سے باز رج کا ام رکیا جاے دہ گیل خر 
کو چھوڑنے اور برا فل انام وی بر مھ ہو۔ اکر اس شخصس میس اپھائی اپنانے گور برائی 
پچھوڑن ےکی علامات موجور ہوں تو پل راے اھرو ت یکرنا واجب ۲ی بلہ آگر اس کا اخول تھی 
ہو کہ وہ برائی پچھوڑ رے گا اور ابچھائی انا لے گا تب بھی واجب میں۔ شف اگ رکوگی شس 
کی وجب ما مکو تر ککر وے ‏ کسی عرام فنل کا مرکب ہو جائے اور یہ علم نہ ہ کہ آیا 
وہ انی روش پر قائم رہے گا یا اس سے ندم ہو جائۓ گا اسے امرو ش یکر واجب نمی 
ین ال رکوئی مخس خواہ ایک بای فل خر چھوڑنے اور ٹل بد اغجام رین کا تصد رکت ہو تر 
اے امرو تب یکرناوانپ ے۔ 








توضیحالمسائل لاده ا 


- کہ مروف (لیی کار خیر) ایام دینا ور مر لڑنی ٹل بر سے بز آنا اس مخصس کا نع 
فریضہ ہو ایا اکر وہ مور ہو لا اس کا اعتقاد ہوکیہ جو کم د کر را ہے وہ عرام یں کہ 
مباع ہے یا جھ کم چھوڑ را سے وہ واجب میں قو خواہ اس کا یہ مر ٹن ل کی تین میں اشجہ 
کی ہا بر ہو یا اس کے اجنتا یا لی کااقتضا بی ہو اسے اھرو غ یکرنا ولب نئیں۔ 

9ے یگ امرو خی سے ا سکی تفں' آبرد یا مل وی یکو یا لمانوں کے مفا دک وکوئی ضرر نہ 
پیے ورنہ امرو ت یکرنا اتب نی اور یظاہ رای سےکوئی فرق نہیں پل ناکہ اس ضرر کا لم 
ہو با طن یا اشال قوی ہوکہ اس عم کے خوف کے تال اتا مھا جانا ہو اہم ىہ صورت 
اس وت ہے جب امرو خی کااڑ ہنی نہ ہو اور گر اثر نی ہو تو اس کی اہعی تک پھ نظر 
رکنا ضروری ہے چنائیہ تیض مواٹع پر ضر کا علم ہوتے ہوے بھی ام ربامحوف و تی من 
. اکر واجب ہو جا سے چہ جائیکہ اس کا اق یا طن ہو 

امم روف و تی عن الھنکر کے ورجلت 

ام اروف د تی عن المنگر کے مندرجہ زیل لف درجات ہیں- 

١‏ نضا نگم ازم دل ہی میس مرو فک دوست رگتا ہو اور مر سے نفر تکرب ہو اور ای 
کے وججوو میں آنے بر راشی نہ ہو۔ یز ےکہ مگر چا لانے والے سے ناخوشی کا اما رکرے۔ 
اں سے لاقات اور کلام تر کک رے یا کوئی اور ایا طریقہ انتا رکرے جس سے شمل بد 
کے مرکمب ہونے وانےکو معلوم ہو جا ۓےکہ اس کے فنل بر ناخوشھی اور نفیت کاانلما رکیا جا 
را ہے۔ ىہ اییا ہی محریف سے لیکن صرف نفرت د ل کو ہا اس کی رغب تکی امریلروف در 
خی جن النگر کے عیب میں حا رکرنا حچچ نی ںکیوککہ صرف عبت اور فی کو امراور شی 
می ںکھا جاتا رونوں لٹنی نت شراور خی رکی محبت موازم ایمان میس سے ہے مومین کی ذائی 


صفات میں سے ہے۔ 
ج0 ۳ نل بر اخجام رینے والےکو زبانی وع و شیح تکرے اور ات مات ےکہ اد تھالی لے 


تی ک کا مبرنے والوں ے ڑپ اور نافہاتول سے خاب کا وید ھکر و ے۔ 


7 





توضیح‌العسائل )[ ویو ] 


۳ غلاف ورزی کرنے وا لے کی مار یٹ کے ذریے ملا تاویب کرسے اکہ وہ اتی روش 
سے باز آجائے۔ انسانکو پاٹ ے کہ عالات کو بد نظ رکھتے ہوۓے سب موقع ری اور کت 
ایا رکرے۔ خلا اگمر دی خفرت اور جاراخشی کے انظمرار سے مقصد عاصل ہو کے ق ای پر 
التقاکرے ورنہ زبالی وع و شجحت اور پلاٹر مل ی اویب کا طریقہ انقا رکرے (اور بظاہر 
پل رو طرییق ایک ہی درب ےکی چی ہیں جن مس سے جس کے زیادہ مو ہونے کا ال ہو 
اسے پا اکر من ہو تق دونوں طریقے یک وقت استعا لککرے-) 

جن".. میا طربفہ استعل کرنے کی ضورت اس دت می آلی سے جب پطہ رو طرییقےہ 

: مو عابت نہ ہوں اور بنا بر قاط انا نکو چا نے کہ اس میں بھی تک مکرے لیکن اگ رکم 
نی کے موثر ہوٹ کی امیر نہ ہو تو ابتراء ماسب تق کر کنا ہے۔ 

٣.س.‏ گر رکورہ بالا ری مو عبت نہ ہوں تو ضوال پیا ہوا ےک کیا لاف ورزیی کرنے 
والے کے خارف اس سے تھی زیادہ کی جائے کیا اسے زی یا غ یکر دیا جائے۔ اس 
کے متعلق رو قول ہیں اور زیارہ اقوگی ىہ ےک ىہ طریقہ اتقیار نکیا جائۓے۔ اسی اط حکئی _ 
عو نو ڑم یا سی خف کو حیب را ر کرنا بھی بنا بر ای جائز خھیں۔ لہنرا اکر خطا سے جا عھرآ 
ناوی بکرنے کا سی تہ کہ فو دونیں عصورتوں میں تآوجب کرنے والا خمارے کا ضامن ہوگا 
اور اسے شر ع کی مقر رکردہ مقدار کے مطابق ریت ادا کرٹ ہوگی۔ نام آگر غلاف ورزی 
کرنے دال ےکی غلاف ورزی کا مفدہ اس کے زش یکرنے یا ف یکرتے سے زیادہ نقصان وہ 

ہو صرف اام ما ناب امام سے اقدا مکر مکنا ہے اور ا سک یکوئی دیت نہ ہوگی۔ 

0 انان کو این گر والویں کے متعلقی امر پامرون اور شی معن النگر کے وتوب کے 

بجرے می زیادہ ممید گی ہے۔ چنانچہ اگ رکوئی مخنس دی کہ اس کے ابل خانہ شال کے 
طور بر نماز کے واجات پا شرائطٴ ذکر قرات اور وضو وغیرو سج طور بر انیام میں دی یا 
مارت کے بارے می ںکو تی بر نے مس یا مشلا وہ نل حرام (شلا غیبت بابی عراوت ویرد) 
کے مرک مب ہوتے ہیں ق اس کے لیے لازم ہجےکہ امروضی کے طریقوں کے مطابق آپنے 
فزیغ پ گ٠‏ لکرے۔ 








توضیح‌المسائل : ۱ 2ا 


مروف امور (یتی ای ہیں ) 

وی انان کاالل تھالی ے راہ ہو 

نا ارشار ہوا ہے کہ ” جو اد تالی سے رابطہ رکتا ہے اسے صراطد تق م کی رایت مل 
جاتی ہے۔" 

... حفت اوعہرالفہ ام ہتفر الصاوق علیہ السلام فربات ہیں ”اش تھائی نے حخرت راو 
علیہ السلام پر وتی ناز لک یکہ اے داؤد!میرے بندوں میں سے گی بھی بہنرے نے لو یکو 
چھو ڑکر جھ سے راربا تقائم نمی سکیا ج سکىی مت کا کیہ علم نہ ہو ہکا ہو اور پچھ راگ آسمان اور 
زمین اس کے خلا فک اور تہ کرت ہیں تو میں خودا ںکی مجات کے لیے پچ کی راد بنا 
ووں گا_' ۱ 

۴... انا ن کو چا چ کہ دہ اللہ ثاٹی بر جو ککرے کیوکلہ دہ اتی حلوقی پر مریان اور رغم 
کرنے والا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے مفادات سے باشمر اور ان کی ضردریات پو ری کرنے پر 
تاررے۔ : ٠‏ 

١‏ ... اللہ تعالی کاارشا سے ' جو الد پھر پھر و ہکر پا سے الد اس کے لیے کاٹی ہے۔*" 

.. حخت ابوعبراللہ امام فنفر صاوق علیہ السلام فراتے ہیں ”بے نیازی اور مز ت گردشی 
کرتی رہتی سے اور اکر اڑىی تہ عاص٥‏ لکرنے میں کامیاب ہو جائۓ ہماں فوکل پیا جائے لو 
ا یکو انا ولن ترار دیق ے۔" 

یی انسان اللہ تعالی کے بارے میں حسن خظن رکتا ہو۔ 

0 ... اھرالون الام علی علیہ الام فراتے ہیں ” اس ذات گی م۳ ببس کے سوا کوگی را 
خی ںکائی مومن بندہ الد کے بارے میں حسن ین نہیں رکھتا تر ب کہ ابد اہپنے اس موصینی 
بنرے کے ساتھھ ہوا جے کردکگہ ال" دکریم ہے۔ قام خی راس کے پاقھ میں ہے۔ اسے رم 
آئی سہےکہ اس کا بندہ اس کے بادرے میں حصن خظن رکتا ہو اور وہ ائر, کے جسین نین 
کے غلاف اسے ناامی رکرے۔ الد کے بارے میں سن فحن رکھو اور اسی کی طرف زخ بت 
کو 





توضیح‌المسائل : ) تدھ] 


۳ انان مصیت کے وقت ص رکرے اور افنل مھ م کے محرکات خواہ کت ہی کش رہوں ان 
>چ مقاٹٹا یش استقامت سے کام لے۔ 

)... اللد فقالی کا ارشاد ہے ” الد مب رکرنے والو ںکو بلا صاب اج اور جڑا را ہے_*" 

ا تا رسول خدا ڈیا نے ریا “ ایند نز بر ھہ رکرو ھہ رکرنے میں خ رکیٹر ہے اور 
يہ یاد رک وکہ بی اور کامالی ھبر کے ماتھ ہے راحت' تم اور مشقت کے ساتھ ہے۔ بے 
شک ہپ رق کے بعد آسالی اور آرام ے۔* ٭ 

...ام عی علیہ السلام فریاتے ہیں ” صبر جح اور کادیالی کے بفیر میں ہے اگرچہ زانہ طولالی 
ہو چاۓ " : 

۵ ..۔. مرک دو یں ہیں۔ معیبیت آنے پر ھب رکر: جھ خولی اور وقار ہے اور اس سے بر 
ره رہ ےکہ جھ فنل عرام سے ور رہے میں اسق لک یاگیا ہو" 

7 افان عفت فٹس انتا رکرے۔ 

۵ ... لام او خنفرساوق علیہ الام بات ہیں ” اذنر کے مرک کوئی عباوت عفت مو 
فر سے ہمترفیں ے " ٰ 

ہی ...ام اوعراللہ خنفر صادق علیہ السلام فراتے ہیں۔ “ فنفری شیع وہ سے جس پا مم 

اور فرع عفت رار ہو۔'' 

ا کی شدیدکوشل ہوکہ اپنے خلق کے لیے کا مککرے۔ اس کے فوا ب کی امیر 

رتا ہو اور انی کے عزاب ے غالّف ہو" 

آ انمان علم اور عم کی مفات سے آراسۓ ہو 

ہ... رعول ارم تھننکاٰچپیا کا ارخار ہے * الد تدلی جال کو ہرگز نرتی نہیں وا اور جو 
نس صفت تعلم سے آراست ہو اسے زلیل خی ں کر ۔_* 

ہین ہام علیہ السلام ذریاتے ہیں ” جو شخس علیم ہو سے اس صفت کا پہلا فاکہ ہے سے کہ 
سب لوگ جائل کے مقالے مل اس کے پدوگار ہوں گے_* 

0.... ام ارضاعی الام کا ارار ہے ” جب کک انان عم سے آراستر نہ ہوگا وہ مپارت 
زار نہ ہو کے گال" 


9٥ 








توضیچالمسائل موس تورم ا 


انان مواشح ہو۔ انی صحیشت میں میادہ روی انتیار رے اور عوت کہ زیادہ بد 
آرے۔ 

نو رسل اکم مستڑکال تہ کا ارشر ے۔ ٭ جو مخص تواضع اور ذروتی سے یں آنے الہ 
اس بن کر سے اور جو تب رکرے اللہ اسے ناکرا ہے اور جو ای عیشت میں مان رل 
انا رکرے اش اے رزٹی بث ے اور جو اضول خر یقکرے شر لاے حروم رکتا ہے ١‏ 
جر عو تکو زیارہ یا رکرے اشد اے ورست رگتا ے۔" 

۸ے انان انصا فکرے اور وٹ بھانیوں سے ہد رد یکرے 

0.... ول اگرم منڑکنڈللڑتا کا ارخاد ہے انی طرف سے پوکویں کے ساخظر انصاف سے 
پپئی آنا اور ایند کے لیے ہرعال میس دتی بھاگی سے جید رد یکرنا خمام مال سے اسچھا یں 

پ..ے الما دو مو ںکی عیب جوگی نہ کرے اور اتی مصلا حک یکوشش کر ےن 

ہ۔. -سسل الم منولائیڑ ۷ ا رخار سے ' بثارت ہو اس شف کو و لوگوں کی ہجاۓ خدا 
کا خوف رکتا ہو اور مومین کی عیب جوئی کے ہیا اپ خیوب کے علاع میں مشقول و 
اور سب سے جلد ٹس عحل رکا قذاب کا سے وو حصن سلوک ہے اور سب سے چس ٹس 
برے فل کی سزا لق ہے و. برفعی اور زناکاری ہے انسان کے لی بی عیب کائی لہ 
دوسروں کے عیوب دیھے اور اپنے عیو بپکی طرف ملفت نہ ہو اور سے خود نزک نہیں 
کر سیا اسے ووسروں کے _یئے تک و عار بے اور اپنے ساتت ٹٹھشے والو ںکو صعمو ےہ 
انت ینیاۓے-' 

.... اام علیہ الام زراۓے یں۔ ٭* جو مخس اہبنے بال ن کی اعلا حکرے اللہ اس کے ظاہر 
کی اعلا کر ہے جو اپ دی نکی فاط رام کر ہے اللہ اس کک دلو کم ۶ح 
جو ار کے ساتتھ ابا رازہ رکتا سے ال اس کے اور لولوں کے رواہلہ کی اصلدخ 
سے 

چج-- اڑیان زبر ایا رکرے اور دز سے نگ رب تک اپ شعار ترار ددے- 

...٥‏ ام اوعر اللہ علیہ اللام ذرتے ہیں ' بج مخ ونا میں زبر کو انا شعاد ترار دے لن 
تعالی اس کے و لکو حمت سے مطبو طکر وتا چا سے اور ا سکی زبان سے تس کی بای ججاری 





توضیحالەسائل 7 )( دد3ه]۔ 


کرت ہے اور ا کی آعھو لکو دنا کے عیوب اور درد ددا دی کی تائی عطاکر ہے اور 
اسے امن و امان کے سان دارالسلا مکی طرف لے جاتا ے_“ 

3 ایک مخ نے نام ہنخر صاوق علیہ السلام سے عو کیاکہ مم بائی عرصے کے پور 
بی مکل سے آ پکی غدمت مس عاضر ہوا ہوں۔ آپ بجھ بچھ ومیمت فرا دیں۔ آپ 
نے فرایا۔ ” تھی اتا رککرد۔ پر ویزگار اور حت کش رہو۔ اور جس کک تماری رسائی 
نہ ہو کہ ا کی شع کرد اللہ تھائی اپنے رسول؟ سے فران ہےکہ لوگویں کے مل و تاع 
اور عورنوں پر ثگاو نہ رکھو اور لوگوں کے مال اور اولاو کی طرف تمارادل مائل نہ ہو جاۓ۔ 
رسول اللہ جوکی دوئی پر زندگ یگزارتے تھے علوہ کی تہ خر استع کرت تھے۔ ٣گ‏ ور 
کی شمنیوں سے روش کرت تے۔ معیبت میں رسولی؟ کے مصائ بک با کر دک وکلہ ان کے 
برا ری پر بھی مصاب نہیں ے_× ‏ ۱ 


مگراسور (یشنی بری چیں) 

غصہ اور ممپ 

تا رسول الل بھی کاٹپپپتے ڈراتے ہیں ” غصہ اور غضب ایمان کو ای رع فا دک ے 2" 
ٹس رح سرکہ شم دکو فا دکر رتا ے_" 

...ام تفرصاوق علیہ الام کا ارشاد سے ' خصہ اور خحضمب پر ش رک ی کی ہے۔* 

اتی لام مھ باقر علیہ السلام کا ارشار ہے۔ * جو شس غحصہ اور غضب کر ہے اسے کی 
رات میں ل گی ج کہ جشم میس داغل ہو جاۓ جھ شنفس ابی قوم پر حض بکرے آگمر وو 
کھڑا ہو از بیٹھ جال کیوکمہ ایی اکرنے سے خحیطا نکی پلیدی ای سے دور ہو جائے گی اور جو 
شس زی رتم رش داروں سے خفا ہو جائۓ دہ ان سے قریب ہ وکر اشیں م سکر ےک وک 
وئی رع مو مم سصکرنے سے سکون ا ے۔* 


زی ... مرعول ام تھی نے ایک دن اصحاب سے فیا تم مس بھی گزشنہ امتوں کی 





توضیی‌المسائل ) عد4ہو] 


ض۳ 


ہی 


رح ایک بیاری آکئی ہے اور وہ حصد ہے۔ یہ نار ال لکو شتم خی ںکرتی بکلہ دی نکو شقمکر 
دق ے۔ اس سے مات عاصل کرتے کا طریقہ ىہ ہ ےکہ انسان اپنے پاھ کو روکے اور 
زا نکو بن رکے اور اپنے مومن بھا یکو طعد تہ رے۔"' 

ہام مھ باقر علیہ الطام کا ارشا ہے۔ ' حہز یمان کو اس طر ح کھا جاتا ہے جس طرئح 
ہک کلڑ یکوکھا اتی ہے۔' 


امام بفر الصاوق علیہ السلام فراتے ہیں ' انان جو نز لم کے ذریے حاصل کرے وہ 
فک لین نی نا راد رای نے گی 

بیز ذ اد ہیں۔ "لم سے کاسیالی حاصل کرنے والوں کو پرگز خر خھیں ہے۔ مظلوم کو 
تال جا ہے وہ الم کے رین سے اس ے زیاہ لتا ہے۔" 


شرمکیزی 


نات 


نا 


رسول اگرم بن پیا کا ارشاد ہے '' امت کے رن دا کے نزدیک بد تین انان وہ 
ہے بن کی عزت لوگ اس کے ش رکی وجہ سےکریں۔'' 

نام ہف الصارق علیہ الام فراتے ہیں ' جس شفس کی زبان سے لوگوں کو ٹوف ہو وہ 
بھی ے۔" 

یز فرات ہیں ”* خلق ذرا میں سب سے زیادد بخوض بندہ وہ ہے جس کی زبان سے 
لوگو ںکو خوف ہو" 





تیر وف نت کے لام 


مل ۹ ؛: کارونازتی زی کیل ماب ےکلہ خرید و فروضت کے ساسلے میں تی سال ک 
سام ناکرنا با سے ان کے اعکام سی نے۔ چنانیہ حخرت ایام تعفر صاوق علیہ السلام سے روایت بت کہ 
و مس خریو و فروضشت مت چاہتا ہو اے چا ےکلہ ان کے لام کہ نے اور گر ان ام و کین 
سے لہ ریو فرض تمرے گا بانفل یا مشتتبہ معل ہکرن ےکی وجہ سے بلاکت می بے گا" 

ستل ۳۷۷۳۴ ؟ اگر انان نہ سے تواتفی کی بنا بر ہہ نہ جانا ہوکہ اس نے جو مال ہکیاے وہ 
جع ہے ما ال ہے تو جو مال اس نے عاصص لکیاہو اس میں ترف نمی ںکر ستا۔ 

منتلہ ۷+ اج جس حخصس کے اس مال نہ ہو اور یھ اخراجات ( خلا بیو بہوں ٢‏ ۶ك ف2 


واجب ہوں' اسے چا“ کہ کاروبا رکرے اور تپ کامول کے لیے مل ایل و عیال کے رزق میں 
کغائش بداکرنے اور نتر ءکی کر گے لیے کاروبا رکرناص تب ہے 
ریو فروضشت کے حرات 
رید و فروضت میں چار چیڑیں تب ہیں۔- 
ا ور مس کی بت شس لان ٠یراروں‏ کے درمان رق رظ رات 
۔ کہ جن نکی قیت میں حخل تکیری نہکرے لت زیادہ می نہ جیچے۔ 
٣‏ پ کچھ با 2 زیادہ رے اور جو چن یر بإ ہوک کم نے۔ 
۶س ہي گ أگ کی مس بھھ خردنے کے بعد بشیمان ہذکہ اس چچ کو وائہ کنا چا 


ر5 


واایں لت 


خروم معملات 


منیل. ٣۰۷۳۳‏ ج خاص ناس تھروم معللات 
جنمداہ کا جچنا زاس کےکہ اس رقر سے دوسری جاتداد خقیدى جاۓ۔ 








جج کے یی 


توضیںح‌المسائل )( 6ده] 
...8 قابطجطد 

سے کن بنا 

٣‏ پست لوگوں ے معلل ہکرتا۔ 

ھ سے کی زان سے سور ٹن کے وقت تک معلہکرنل 

٦‏ ۱ ندم جو اور انھیں جیی دوسری چچڑو ں کی خرید وفروش تکو اپناپشہ قرار ریتال 

ھ...۔ نگ رکوئی مخص کوئی ج٠‏ نید ربا ہو اس کے معللہ میں ول اندازی کر کے تریدار 


نے کا انا رکرنا۔ 


تام موللات 
مل ۲١۰۷۳‏ : چد عم کے لین دین ام ہیں۔ 


مین خجامت شا نشہ آور مشروات مر شگاری کت مردار اور سور کی خریر و ٹروضت ان 
کے علادہ دوسری مجاما ت کی خریر و فروضشت اس صورت مج جائز ے جب ان ے طلال 
فائرہ حاص لکنا ہو۔ (مشلا پاخانے سےکھاو بتاٹی ۴و) امرچہ اعقیاط اس میس جب ےکہ ال نکی خی 
و فروشت سے بھی پربیزکیا جاۓ- 

غصبی ما لکی خی و فروشت۔ 

اعاط کی بنا بر ان نو ں کی خرید و غروشت حرام سے جو ع] ال خارت مور نہ ہوٹی 
ہوں شا درندو لکی خریو و فروضت ۔ 

ٹس لین رین مس سوو ہو ۔ 

ابی نکی خرید و ذروشت جس سے عام طور بر صرف عام فنل انام پانا ہو مل ہوئے 
کے آلات۔ 

ائسی رکا ینا نس میں دوسری نکی ماد فک یگئی ہو جب کہ ملاوٹ کا پند پل گے اور 
بی ولا بھی خریدا رکو نہ جا شلا ای ےکی کا یپناس میں بجر ما د کی ہو اور اس مل 
کو مفش* کے ہیں۔ رسول اگرم نپا کا ارشاد ہے ” جو نس کسی چز میں مللو ٹ کر 
کے ملانوں کے :اھ جیا سے پیا مسلماو ںکو ضرر پہتاا ہے یا ا نکی ساتھ کر و جیل کر 








توضیحالعسائل ۱ 37 ف4 


ہے وہ مار ی استں سے میں ہے اور ج بکوگی ہنیس اہے ملران بوائی کے ساتہ فم کر 
ہے و دا تائی ا سکی روزی سے برکت اٹھا لیت سے اور اس کے ماش کے راستوں کو 
مسدد کر دنا ہے اور اسے ا کی عالت پر چھوڑ دیتا ے۔ 
متلہ ۲۹۷۴ ٠‏ جو اک نخس گی ہو اور اے پالی سے دعوکر پا فکرنا غنگن ہو اسے فروشت 1 
کرنے می ںکوئی حرج میں نان آلر خیدار اس چچزکو ایی کم کے لیے خریدے نجس کے لیے اس کا 1 
پک ہونا ضروری ہو خلا وہ ایک مکی خذا ہو سے دوھکھانا چاہتا ہو تو یچچ دانےکو چا کہ اس کے 
جس ہے کے متعلق اسے جا رے لیکن ار ٹیس یلاس ہو نز اس کے نجس ہون ےکی متعلق بناتا 
ضروری خیں خواہ قریدار سے پ نکر نماز بیکیوں نہ پھ کبدکمہ نماز میں بن اور لیا س کی ظاہری 
طمارت کی ۔ 
تل ۲۹۷۵ ٠‏ اگ رکوئی ابی پاک نز شلا تھی اور تل خس ہو جائۓ ضے دعوھکریا ککرن گن ن 
ہو اور اگمر اس نکی ایے ام کے لیے ضرورت ہو جس کے لیے پک ہونا شرط ہو مگ یک یکمانے 
کے لیے ضرورت ہوفز ضروری ہ ےکہ بیج والا ا س کی خجاست کے بارے میں خریدرنے وال کو اطلار] 
رے وے اور گھر اس چیرکی ای کلم کے لیے ضرورت ہو جس کے لیے اس کاپاک ہدنا شیا نہ ہو ا 
غس تل جداۓ کے لیے چا جن ہو مکن امکان اس جات کا ہ وکہ اس سے خریرنے وا لے کی نذایا رن 
س ہو جائۓ گا نز اس کے لیے بھی بسی عم سے اور اس صورت میں بھی یج والے کا تید رک بتا دیتا 
شروری ہب ےکیوکلہ مححاست کھانے کا سجب چنا انز نمیں اور ای طرح بدن کی محجاست کاسبب نا نس 
سے وضو پاسل باطل ہوت ہو جائز خییی۔ 
متلہ ۲٢۷۴۴‏ ؟ ا۰رچہ نس خوردی دواو ںکی فریر و فروشت جائز ہے لگن ا نکی خجاست کے 
متحاقق خریدا رک جا رہن چایجے اور کر وہ دومی ںکھان ےکی نہ ہوں من خریدا کی ایا بن کے خجاست 
سے لوہ ہو جانے کا اندیشہ ہو تب بھی بسی عم ہے۔ 


سیل ے۰۴٣۳‏ : جو تل غیراسلای مالک سے درآد کی جاتے ہیں ار ان کے جس ہونے کے 


پبرے میں علم نہ ہو قز ا نکی خریر و ذروشت می سکوئی حرج میں اود ج ری کسی میدان کے مر جانے 
کے بعد عاصل کی جاتی ہے کر اس کے بارے می اشال ہوکہ ابیے جیوا نکی ہے ضے شرکی ریہ 





توضیح‌العسائل )[ عدہا 


سے ز کیاگیا ہے نز ار اسے کافر سے لی یا غیبراسلابی مالک سے عاص لکریں ن کو وہ خجس سے اور 
ا سکی رید و فروخت چائز ہے لگن اس کاکھانا عرام ہے اور بیجنے دالے کے لیے ضردری ہج کہ ان ںکی 
کیفیت سے بدا رکو مطل کر رے۔ بلیں شر دکہ اس کی ضفعت لال اور علائیٰ ہو۔ 

منیلہر ٠ ٣۷۸‏ گر مومڑی ما اس جیے مانورو ںکو شری طریقہ کے مطق زع :کیا جاۓے یا وہ 
خود مر جائیں ق ا نک یکھا لکی خرید و فروشت عرام اور اس کا معاللہ باٹل حۓہ- 

مستلہ ٠ ٣۴۴‏ جو ڑا غیراعلائی ہملک سے درآ ھکیا جائے یا کافر سے لیا جائے آگر ای کہ 
پارے میس اشل ہوکہ ایک لیے جور ک ہے ضے شری طریقے سے زنک ایا ہے فو ا ں کی خی و 
فروشت جائز سے لین اسے نماز کے سللے میں استعا لکرنا جانز نہیں۔ 


مستلہ ے۰٢  :‏ جھ چرس حوان کے نے کے بعد حاص ل کی جاے با دہ چھڑا جو ملمان سے لیا 
جائۓ اور انما نکو عم ہوکہ اس ملمان نے ىہ چ رکف سے کی ہے لکن سے خی نمی ںک کہ آیا نے ١‏ 
وا نکی ہے صے شی طریقہ سے ز کیاگیا سے یا خمیں و ا سکی خرید و فروشت جائز ہے مین اس 
چھڑڈڑ ےک نماز کے سلسے میں استعا لکرن یا اس جلی کاکھانا جائز نئیں۔ 


.2 
ات 


مل بے ٠ ٢۴‏ نشہ آور مشروبات کا لین وین عرام اور پل ۓے۔ 

مل ے۲ : خصبی مال کا یچنا باطل ہے اور یی وٹ ےکو چا کہ جو رم خیدار سے کی :و 
اے وا لیر رے۔ 

مل سے+٢:‏ گر خیدار خیدگی سے سوداکرنے کا اراوہ رکا ہو لین اس کا ارادہ ہ کہ جو پچ 
خرید را ہے ا سک قبت یں دے گا نو ایں کا رہ ارادد سور ےکی صحخت کے لیے ضرر رسماں نہیں اور 
ضرو ری ےکلہ خریدار ا ںکی قبت یچ را لک رے۔ : 

مل ك۴٢۲٢‏ : مر خریدار ہہ چا ےکہ جو جن اس نے اداد خریدی ہے ا ںکی شھت بعد شش 
عزام ای سے اداکرنے تب بھی معللہ جج ہے البتہ اسے چا کہ جنئی قیت اس کے زتے ہو علال 
مال سے نے ”کہ اس کا اوعار ارا ہو جائۓ۔ 


سیل ے۰٢‏ : لو ولب کے قلات (شلا بر اور ساز )کی خریر و ڈروشت رام ہچے۔ اور 





توضیچالسائلِ [ 439ا 


انا ا کی ا بر چھونے بچھوے ساز جو یہوں کے کھلونے ہوتے ہیں ان کے لیے بھی بی عم ہے مین 
مض کہ آاات للا ریڈھو اور ٹیپ ریکارڈ کی خرید و فروضت می ںکوگی حرج نہیں بشرطیلہ انمیں عرام امور 
میں استعا لی کرنے کا اراوہ تہ ہو 

مل ے۰٢٢ ٠‏ اگ رکوئی زی رض سے جائز فاندہ اھایا جا سکتا ہو اس ارارے سے نچی جائے 
کہ اسے عرام مرف میں لیا جائۓ لا اور اس مقصد سے جا جال ےکہ اس سے شراب تا ری جاے 
ڑا کاسووا ترام جک فیا ط کی ہنا یر اٹل سے لیکن اک رکوئی نس اگور ان ارارے سے شہ سم اور فظ 
جانا ہ وکہ قریدار اور رے شراب تار کے گا نو ظاہرہہ س تکلہ سودرے می ںکوئی رح نہیں۔ 


مل ے ٢۳+‏ : :. جارا ر کا تمہ بنانا جک ں کی نقاش یکر بھی عزام ہے مجن ا نکی خریرد 
فروخت ممنوع خی الرچہ امقاط یہ ہ ےکہ اسے بھی تر ککیا جاغ- 


تل ۸ے ٣۰‏ : سی لی چ کا خریدہا عرام ہے جھ ہوے یا چوری یا بال سورے سے ماص لکی 
گی ہو اور آک رکوئی ای ہنیز خر یرے و اسے جاے اس کے ال مال کفکو لوٹا رے۔ 


مستلہ ۹ی *۳ :نف رکوتی مخصس دیاکی بی ننس میں بل یکی ملاوٹ ہو اور اسے مم نکر رے 
خلا یہ ک کہ میں سے ایک می ن کی یچ رہا ہوں نے اس میں ھن لی سے اس کی مقدار مھت 
اور جو رم ییے وال نے چب ی کی وصو لکی ہے و خریدا رکا ال ہے اور جچتی مل ہو وہ یچ والے 

کال سے اور خریدار ا اص کی کا سلہ ھی جو ا کا جزد سے شک کت ہے من اکر یچ ولا 
اسے شممین نکرے اور ایک می نیک یکی ذمہ داری ےکر یچ اور بعد میس بجر ملا ہواگھی دے دے تو 
قزیدار و گی واہی کر کے اصلیکھی کا مطالہ کر سلتا ہے۔ : 
متلہ ٣۰۸۴‏ ؛: جس بن س کو باپ تو ل کر جا جات سے اگ رکوی ینے والا اس جس کے برلے میں 
بڑھ اکر یچ لا ایک من ممند مکی قیت ڈبھہ م یندم وصو لکرے تو بی سود اور عرام ہے بگلہ گر دو 
جنسوں میں سے ای ککھری اور دوسری عیب دار ہو ہا لیک جنس بڑھیا اور دوسری گھٹیا ہو یا ان کی تقو 
می فرق ہو اکر ین والا جو عقدار ے رہا ہو اس سے زیادہ لے تب ئھی سود اور حرامم ہے۔ لوندا گر 

وہ ایت انا ےلان سے زیارہ نقدار میں ٹوٹا ہوا ادا لے یا ماہت تم کا چپ رد ےک اس سے زیادہ 








توضیح‌المسائل ) موہ ] 


عقدار میس ٹٹا ہوا چتل لے پا گھڑا ہوا سو رے اور اس سے زیادہ مقدار می اق رگھڑا ہوا سوتا نے تڑ نے 
بھی سود اور ترام ہے۔ 

متلہ ۲۰۸۱ ۰ یچے دالا جھ چز زان نے روہ اس بجنس سے مخلف ہو جو دہ یچ را ہے لا اک 
من گند مک ایک م نمندم او رھ نز رتم کے عوض بی تب بھی ہہ سود اور حرام ہے بگمہ کر و دکوئی 

2 چررار و نپ شرط لگا کہ خریدار اس کے لین ےکوئی کا مکرے گا بے سو اور ترام ہو گا 

مستلہ ۲١۸۷‏ :۰ جو ہف سکوئی چنکم مقدار می دے را ہو آمر وہ اس کے ساتھ کوئی اور چیز شال 
کر وے لا ایک م نمگندم اور ایک ردا لکو ڈیڑھ ندم کے عوض یی فو اس می ںکوئی حرجع نہیں 
اور آلر رونوں طرف سے کگی نز بڑھا دی جاۓ خلا اکر ایک منص ایک من ندم اور ایک ردمل کو 
ڈیڑجھ من کندم اور ایک روال کے عوض یچ و اس کے لیے بھی بی عم ہے۔ 


لہ ۲۰۸۳ ۰ ٴ رکوئی منص اڑی چیز بیچے جو میٹراور پاتھ سے ( نا پکر ) نئی جاتی ے خلا 
کڑا) یا اڑی زیچ جو نکر بی جاتی ہے (شلا انروٹ اور ابڑے) اور زیارہ لے خلا ری ابڑے 
دے او رگیارہ نے فو اس میں کوئی حرج میں لین الر شال کے طور پر وس ابڑےگیارہ ایڑیں کے 
عوض بطور زمہ لی مبلور اوہاریچچ فذضروری ےکہ ان میں فرقی ہو مشلا دس بڑے اڈ ےگیارہ درمیائی 
حعائز کے ایڑوں کے عوض بطور زمہ یچ ہہ ػچع ہے کیوکہ قمت اور جن میں اتیاز موجود ہے اگرچہ وہ 
اتیاز ایک نقد دد مرا ارھار ہونے کے سب سے ہے۔ فوثوں کا اھ حدت کے لیے نر در ےکر یھ زیادہ یر 
معللہکرنا بھی اىی زمرے میں آنا ہے شش اکوئی شخ سک یکو سو روپے تقر رے ملمہ مچھ میینے کے بجر ۷۰ 
روپے وصو لکرے ین اکر ان کے درمیان فرتی ہو لاب کہ سو روپے کے فو کسی دوسریی تم سے 
نوڈڑیں شلا ربار یا رنڈ یا ڈاللر کے لیے درے ‏ وکوکی حرج نیس ہے مہ اس صورت میں قھت میں اوت 
ہوتے ہوئے مھ یکوقی اشکال خھیں۔ 

متیلہ. ۲۰۸۳۴ ۰ اگ رکسی بن سکو بیشن شروں میں تو ل کر یا پکر یا جانا ہو اور حض شمروں میں 
اس کالین دی مگ نکر ہوا ہو تر اقیاط واجب ہہ ےک اس جن کو اکر ابی جن کی ساتھ با جاۓ ز 
بڑھاکر نہ یپا جائۓ لان اس صورت میں جب شر ملف ہوں اور ایا خلبہ درمیان میں نہ ہو لق نے :۔ 
کھا جا گے )کہ ٹیشتزشروں میں ہہ جخس ناپ فو لک ربق ہے یا گ نک بی ہے) نت ہر شر میس وی کے 





توضیج‌العسائل [ 141ا 
رواج کے مطالن عم لایا جا گا 


مہ ۲۰۸۵ ۰ ار چی جافنے والی چاور اس کے برلے می لی جانے والی ایک جس سے دہ 
ہوں نز زیادہ لیخ ہم ںکوئی مع یں ہے۔ مس اگ ہکوی فص ایک من چادل یچ اور اس کے برلے 
می دو می یندم لے پو سووا درست ہے 

مل ۲۰۸۷ء ایک مس جو نس تچ را ہو اور اس کے پدلے مم جو ىپچھ لے رہ ہو اکر وہ 
دوٹوں ایک ہی نز سے بی ہوں فو اسے چا کہ اضافہ نہ لے شل اکر وہ ایک من گائے کاکھی یچ اور 
اس کے برنے میں ڈیڑھ مین گا کا جنیر عاصص لکرے تو ىہ سود ہے اور حرام ہے اور اگمر وہ گے میوں کا 
عدا بے میوں ‏ ےککرے ہب بھی اضافہ خمیں لے کت 

مہ ے۲۹۸ ٠‏ سور کے اتبار سےگندم اور جھ ایک ٹس ار ہوتے ہیں ابنرا شثال کے ور پر 
آلر یک مخ ایک من کندم دے اور اس کے بدلے میں ایک من پا سیرجھ نے نو ىہ سود ہے اور 
عرام ہے۔ اور شال کے طور بر آر وس مین جو اس شرطا بر خریر ےک ند مکی لعل اٹھانے کے وقت ٠‏ 
دس مم یندم بدئے میں دے گا کہ جو اس نے فظ لیے ہیں او رگندم ہہ برت بعد رے دا ے 
انی ای طرح سے جیسے اضافہ لیا ہو اس لیے عرام ہے۔ ٠‏ 

مل ۲۰۸۸ ٢‏ ور والا سوار خواو لمران سے ہو پا کافر سے حرام ہے۔ الستہ اکر صفران ایک 
ایے کافر سے جو الام کی بناہ میں نہ ہو یا اییے کافر سے جو اسلام کی پناہ میں ہو اور سور لا اں کی 
شربعت میں جات ہو سور لے لے نوکوگی حرج میں اور اعاط واج بکی ہنا بر باپ با ور مال بیوکی بھی 
ایک دوسرے سے سود میں لے سلت۔ 

سے 0 7 

یچین وانے اور خریرارکی ساط 

مستلہ ۲۹۸۹ : یی وائے اور خریدار کے لیے چہ یں ضروری ہیں۔ ' 
ا بے کہ بل ہوں 

ای ےکہ عاقل ہوں 

جس ب کہ فی لہ ہول اتی اپنا مال بے ہودہ کامول میں صرف ‏ نہکرتے ہوں۔ 





7 توضیم‌المسائل 1 49ل 


×.. بیےکہ تخیدو فروضت کا ارارہ رکھتے ہوں۔ یل آئ رگائی نراق بس کےکمہ میس تے اپنا مال 
بات معللہ اٹل ہو گا ۱ 

۵س کسی نے انی خریدو قروضت پر مجیور ریا ہو۔ 

...٦‏ کہ جو جس اور اس کے برلے میں جو نر ایک دوصرے کو دے رسہے ہوں اس کے 
مالک ہوں اور ان کے پارے میں انْکام آنندہ سال میں جیان سییے جامیں گے۔ 


۶٭ سی بابلغ ہے کے ساتھ سوداکرنا جو آزاوانہ طور بر سوواکر را ہو پلل ہے لیکن اگھر سورا 
اس کے ولی کے ساتھ ہو اور نابالغ پچہ جو برے کھ ےکی تین رکتا ہو فا لین رین کا صیضہ جار یکرے تر 
رف ری رف ا ار ای ا 
طرف سے دہ مل یی یا اس رتم سےکوئی چز فیدرے ‏ ظاہریہ کہ سودا جح ہے لک چہ دہ مز یہ 
آزاوادہ طور بر اس مال یا رق پر تفرف رکتا ہو اور ای طرح اگر پیہ اس ام رکا وسلہ ہوکہ رت یچ 
. وا لن ےکو درے اور نُس خریدار تک پجچاے یا جس خیرا رک وے اور رق یی وا لے کو نے اکریہ 
یہ مییزنہ ہولیی برے بن کی یرنہ رکتا ہو تو وہ سودا کی ہ ےکی مہ دراصل ود باغ افا نے لی 
میس سوداکیا سے اہم یی والے اور خریدا رکو قین اور اٹمینان ہونا اج کہ پہ جن نا رم اس کے 
ال گکو پپیچارے گال 

مستلہ ۲+۷۸ ٠‏ اگ رکوئی شس اس صورت مم ںکہ ایک نابلغ جچے سے سوداکرنا مغ نہ ہو اس سے 
کائی چز خرید لے یا اس کے پاتھکوگی نز بے تو اسے چا ےک جو جنس ما رقم دس ۔چچے سے لے آکر وہ 
خود جیئ کا یل ہو قز اس کے و یکو اور آگ سی اور کا مال ہو نز اس کے مال ف کو دے وسے یا اس کے“ 
ان ککی رضا مندری حاص لکرے اور اکر سووکرنے والا مغیس اس جس یا رقم کے مال فکو نہ جانا ہو اور 
اس کا پت چلانے کاکوئی ذرییہ بھی نہ ہو تر اس شف سکو چا ےکہ جو یراس نے سے سے کی ہو وہ اس 
کے ال ککی طرف سے مظال مکی جابت ( یی لم زیاہتی با پانسانی سے بی کی خاط ر6 کسی مقی رک 
رے رے۔ ' 
ستلہ ٠ ٣٣۷۴۲۴‏ ا رکوئی منص ایک ریچ سے اس صورت میں سوداککرے ج بکمہ اس کے 
سالقہ سوداکرنا جج شر ہو اور اس نے جو جس یا رقم یکو دی ہو وہ تلف ہو جائے تر ظاہرنے ےکہ دہ 





توضییچالمسائل )1 دهہ ] 


الا و می ہت ہہ یىی تو ہت 
روہ مخ مطالیے کمن نہیں رکتا۔ 


مل ۲۰۹۳٢‏ : گر خریدار با یی والےکو سوواکرتے پر مجبو رکیا جائے اور سوا ہو ین کے بعر 
وہ راضی ہو جائۓ اور مال کے طور بر کے کہ میں راضی ہوں قے سودا کچ ہے لیشن اعقاط سب ہہ ہے 
کہ معال کا ینہ روبارہ پڑھا جاے- 


مسنتل9 ٣۹۰۹۳‏ ۔ اگ انان کسی کا مار ا سک اجازت کے بی ربچ دے اور مال کا مالک اس کے ہے 


پر راضشی مہ ہو اور اجازت نہ رے تو سودا ال ے۔ 

مل ۲۰۵۰ : چے کا بپ اور دارا اور نیز لپ کا وصی اور وادا کا وصی چے کا بل فروض تکر سیت 
ہیں آمر صورت عال ک تقاضا ہو فو مجنتھ عاول بھی ویوانہ منص یا عم ہچ کا مل یا ایے شنس کا مل جو 
طائب ہو فروض تکر تا ے۔ 

مستلہ ۶۹۷ : ب رکوئی مس کی کا مل غخص بک نے اور یچ ڈالے اور مل کے بک جانے کے . 
بعر اس کا الگ سور ےگ اجازت ردے درے پذ سودا کچ ہے اور جو نز خص بکرنے وال نے نخریدا رکو 

۱ دبی ہو اور اس چرے جو منانع سورے کے وقت سے عاصل ہو وہ خیدا رکی گلیت ہے اور جو چز 
بب سوج جحمونک تج 
21 ں کا مال خغص بکیاگبا ہو۔ 


سّلہ ےذ۲۹2 : آئ رکرئی مس کسی کا ال غص پکر کے ق8 ودے اور اں کا ارارو 7 ہ وکہ س ال 
ى قبت خوو اس کی گّلیت ہوگی اور اکر مال کا مالک سورے کی اجازت رے رے تو سودا سخ انی 
کی تیت ان ککی اقلیت ہوگی نہ خاصب کی 

نہ و جوم 
لس اور اس کے عو سکی شر 
لہ ۲۰۸ ۰ جو نس بی جائۓ اور جھ یزاس کے برنے یں دی جائے ا سک پا شرا 


۴ 


یں۔ 


میےکہ قول ما ناپ یا کت وی کی ۴ل میں ا سکی مقدار معلوم ہو- 








توضیح‌الەسائل ( یپیی] 


۴ے بی کہ طرفین گن چو ں کو ایک دوسرے کی تحویل میں رسینے سر مقادر ہوں لہا اک ایسے 
گھوڑے کا جیا جو بھا گیا ہو درست نمیں سے لیکن ج و کھوڑا بل گ گیا ہو اکر اس کا یچ 
. والا سے ےکی ڑی نز شا ایک فرش کے ساتھ مل اکر یچ سے دہ نریدار کے سیر دکر سنا ہو نے 
خواہ و کھوڑا نہ بھی لے سودا سچ ہے۔ 

ا وہ خصومیات جو جنس اور عوض میں موجود ہوں اور جن کی وجہ سے سودے میں لوگوں 
کے میلان میں فرق بنا ہو می نکر دی جائیں۔ 

م۳.. بے کہ گگیت غیرمٹروط ہو لنڑا جھ مال انسان نے وق ف کر دا ہو اس کا جینا جائنز نئیں ہے 
ماسوا چند صورتوں کے بتن کا وکر بعد میں آۓ گا۔ 

- ب کہ یی ولا خود اس جن س کو یچ نرکہ اس کی تفع کو۔ میں مال کے طور بر گر 
میا نکی ایک سال کی مضنعت بی جائے نے تچ نہیں ہے مان گلر خریدار فق کی ہجائے اپی 
کی کی مفعت رے شا کی سے فرش خریرے اور اس کے عوض میں اپنے مکان کی 
ایک سا ل کی ضفعت اسے رے دے تو اس می ںکوئی تع خھیں۔ (ان سب کے انکام آسندہ 


مسائل میں بیان سی جامیں گے۔) 
متیلہ ۰۹8۹ : جس جن کا سوداکسی شمرمیں تو لکر یا ا پک رکیا جات ہو اس شمرمیں انما ن کو 
۰ ا کہ اس جن سکو ول یا یپ کے ذربیے ہی ریرے لن جس شمرمیں نس کا سودا اسے دک ک کیا 


جانا ہو اس شرمی وہ اسے دک ھکر فی سنا ے۔ 


متلہ ۲۴۴ ٠:‏ جس ہچ زی خیر و فروضت تو لک رکی جاتی ہو اس کا سودا نا پک ربھ یکیا جا سنا ہے 
وہ اس طر کہ اگر شیل کے طور بر ایک شخصس وس م نکندم بنا چاہے وہ ایک الا بانہ نس ٹیل 
ایک م یگندم عاتی ہو وس عرتبہ پھ کر دے سنا ہے۔ 

مل ۲٢٢‏ : جھ شرائا با نکی گنی ہیں اگ رکسی سووے میں ان می ےکوئی ایک شرط نہ پائی عاتی 
ہو تر سورا باطل ہے۔ اں اکر یج دالا اور خریدار ایک دومرے کے مال میں تحار فکرنے پر راشی ول 
زان کے تر فکرتنے م ںکوئی بحرع شیں۔ 

متلہ ۲۴۳ ٠‏ ج جن وق کی جا پچ ہو اس کا سور اٹل ہے میگن آکر وہ یراس قدر خراب ٭ 





تَرشَو‌السسَائلَ ) 5ھ ] 


جائئے ما خراب ہوتے والی کیہ جس فائمرے کے لیے وف فک یکئی ہو وو حاصل نکیا جا گے۔ شا سید 
کی پنائی اس طرح ٹوٹ پھوٹ جا کہ اس پر نماز نہ پھی جا کے تو اسے پچ بین مج سکوئی حمحع غمیس 
ہے اور جماں تک من ہو ا کی قبت ای سور مس ایی کام پ خر ےکی جائے جھ وف فکرنے والے 
کے مقصد سے قریب تر ہو : 

منتلہ ۰۳ : جب ان لوگیں کے این جن کے لیے مال وت فکیاگیا ہو ایا اختلاف پرا ہو 
جا ن ےکہ اندیفہ ہوکہ گر وقف شدہ ال فروشت ذکیاگیا فو مال ب امس یىی مان تلف ہو جائے گی فو جاتز 
سے لہ وہ مال بی دا جاے اور رک ای کم پ خر کیا جائے جو ون فکرنے والے کے مقعیر ے 
تریب تر ہو اور اکر وقق فکرنے والا ہہ شرط لال ۓےکہ اکر وقف کے پچ وہ میں مصلحت ہو توچ دا 
جائے ق اس کے لیے بھی زی عم ہے۔ 

متلہ ٢٣۴‏ جھ جانیدارصسی دوسرےکو پنے بر د یگئی ہو ا کی خریر و فروشت می ںکوگی من 
نیس ہے لیکن جچنی برت, کے لیے اسے پٹ بر گیا ہو اتی حر تکی آمدلی پشہ دار کا یل ہے اور اگر 
یدا رکا ہہ عم نہ ہوکہ وہ جانیداد پٹ پر دی جا ھی ہے اس مان کے تح تہکہ پ ےکی مرت تھوڑی 
ہے اس جادا کو رید لیا ہو فو جب اسے حقیقت عال کاعلم ہو وہ سور ےکو ش کر کلتاہے۔ 

تخریرو فروض تکاصیخہ 

مستلہ ٣۰۵‏ : فید و قروشت میں ہہ ضردری نمی ںکہ صیضہ علی زان میں مار یکیا جائے ملا اگر 
یے والا اردد میں ک ےکہ میس نے مہ مال اتی رتقم کے عوض یا اور خریدار ک ےہکہ مج نے قو لکیال 
سودا کچ ہے لیکن سے فیری زنک خریدار اور یچچ والا وی ارارہ رک ہوں لین ہہ رو لہ کنے سے 
ا نکی مراد خر و فروشت ہو۔ 

متلہ ۲۴۷ ٠‏ گر سوداکرتے وقت عیفہ نہ پڑھا جائۓے لن بی والا اس ال کے مقاٹلے مس جھ 
:7 خریدار سے نے انا مال ا سکی یت میس رے درے فو سوا کچ سے اور وونوں اشقاص معلقہ چچڑیں 
کے مالک ہو جاتے ہیں۔ ‫١‏ 








توضیح‌المسائل [446 ا 


ہووں کک تخریرو فروضشت 


متلہ ے۲۴ ٠‏ جس مدے کے جو لگر ہے ہیں اور اس میس دانے پڑ ےہ ہیں اس کے تورنے 
سے پیلہ اس کا یناج ہے اور درشت میں گے ہوئے بے انگوروں کے یینے میں بھ یکوئی حرح نہیں۔ 


مستلہ ۲۴۸ ٠‏ جو میوہ درخت سپ لگا ہو اس کے وانہ پڑنے اور پچو لککرنے سے پل بھی اس کا 
ینا جائز ہے اور ییے والے کے لی بعتریہ ہےکہ زین .سے اگے وا لکوگی نز لا سبزیاں اس کے ساتھ 
ملاک نے با نخریدنے والے سے می ٹ ےکر ےکہ وہ دان. پڑنے سے پل میدہ نز لے یا ایک سال سے 
زیادہ کا میوہ اس کے اھ چ رے۔ 

مسا ۲۴۸۹ : ج دجوریں زردیا صرغ ہو گی ہوں ان کے درخت پر گےہ ہوئے تیچ رسینے می ںکوئی 
حرج خی لین ان کا عو اسی درضت کی جوریں قزار نہ دی جاھیں الہتہ اکر ایک خخس اور نا 
درف ت کی ووسرے نخس کےگھریا باغ میں ہو تو گر اس درخ تک یمجوروں کا ینہ لگا لیا جاے اور 
درشت کا ,الک انمیس گھا باغ کے مالک کے پا بج دت اور اس کا عوض اسی درخ تک محچوروں کو 

مل ٢٣‏ : 000909" یں جو سال می کی دفعہ اترکی ہوں گر 

ت۔ س ےکر لیا جا ۓےکہ نریدار انمیں سال میں کی وفع نوڑے گان 
میں بییے می ںکوئی مع نمی ہب 

مل یک مر وانہ نے کے بع ندم اور جھ کے ہو ےک ومگندم اور جھ کے علادہ کسی اڑی چز 
کے برلے یچ دا جائۓ جو خود اس سے عاصل ہوقی ہو نز اس می ںکوئی حرح نیس ہے۔ 

اور اوعار 

مستلہ ۷۳ : اگ رکی جن سکو نتر جا جا نے سودا لے پا جائے کے بعد تخریار اور ج والا اَی 
دوسرے سے جنس اور تم کا مطالہ ہکر کھت ہیں اور اس اپ آ قضہ میں لے لت ہیں اور مکان اور شی 
یو کا جہ رپنے کا طریقہ یہ ہےکہ اسے خیدار کے انظیار میں رے دا چاۓے٤‏ الہ وہ ام ناقرف 








توضیالمسائل ۲ ا گ 22 


کر کے اور فرش اور لپاس وخیر: کا نہ اس طرح یا جا مکنا ہےکہ اس کو اس طخ خریدار کے 
اتیار می درے دیا جال ۓےکہ کر وہ اسے اس مہ سے سی دوسری تہ لے جانا چاجے تو پیچ والا کرٹ 
زوت لوک رت 


صستلہ م۲۸۴۳ ٠‏ ارھار کے سعللہ میں چا ےک برت حیک ٹھیک معلوم ہو تا لک کی شف سکوئی 
جنس اس دعوے بر ےہ وہ ا کی قیت فل اشن پر لے انز چوک ا کی مرت ٹنیک ٹنیک تین 
میں ہوتی اس لیے سوا اٹل ہے۔ 

لہ ٠ ۲٢۷۴۴‏ ا رکوتی شس کوئی جنس ارھار یق جو رت لط ہوئی ہو اس کےگزرتے سے 
پل وو خریزار سے اس کے عوض کا مطالہ نمی ںکر متا اکر خریدار مر جائۓ اور انس کا ا اکوگی مل جو تو 
پیے ولا لے شدہ بر تگزرنے سے پیل ہی جھ رت لینی ہو اس کا مطابہ مرنے واللے کے درھاء ےکر 
کناےے۔ 

مل ٢۵‏ : اکر کوئی مخ سکوتی جنس ارحار ہی فو جو رت آپیں میں لے ک یگئی ہو اس کے 
گزرنے کے بعر وہ فریدار سے اس کے عوض کا مطالہ۔ کر متا سے میان اکر خیدار ازاشگی نکر کتا ہو 
و نے وائے و چاج کہ اسے ممللت درے پا سودا ٹ کر رے اور آگر وہ جلس جو نی ہو سوجور ہو و امت 
7 ۓ 
سنہ ٢۷٣۴‏ ؟ ا رکوئی خخص ایک ا فر کو جو ایک جن سکی قیت نہ جانا ہد ا ںکی بھ مقدار 
ارھار رے اور اس کی قبت اسے نہ جائے تو مووا پل ہے۔ لیکن مر ایے نس کو جو ٹس کی نظھ 
آبت چان ہو ارعار دے اور زیادہ ام جیا شا کہ جو جس میں میں اوعار رے را ہوں ا ں کی 
اس قبت سے جس پر مم ظز جچتا ہوں لیک بی کی رویعہ زیادہ اوں گا اور خریدار نس شیا تو لک 
لے تو ایی سورے می ںکوئی حم نیس ہے۔ ۱ 

مّلہ ٢٣‏ : گر ایک فیس نے ایک جخس اوحار فروض کی ہو اور ا س کی قمت کی اوائگی کے 
لیے رت مقر رک یگئی ہو نو گر ال کے طور پر آمی بر گزرنے کے بعد واجب الادا ٹ مکی مقدا رم 
کر ے اور ہق ماندہ رم نتر لے نے فو اس می يکوی ضحع نیس ہہ 





ترضیمالسالےےے آعیدا۔ 


معللہ ل فکی خشرائر 

مئلہ ۲۷۸۸ء معالہ سلف سے مراد ہہ ہے کہ خریدار قمت دے دے اور اٍگ برت کے پور 
جس اپے ج ہش لے مود آکر خیدار کہ یں ہ رقم دے ربا ہوں مالہ لاچ ینہ کے پیر قاں 
جس لے یں اود بی ولاک کہ یں نے قد لکیا بای ولا رم لے لے اور جک کہ مج تے فلا 
نس پچی تمہ اس کا قضہ بچھ نہ کے بعد روں گانز سودا یچ ہے۔ 


مل ۲۷۹ ء ا رکوئی شش ایے گے جھ سو نے ما چان کی نس سے ہوں بطور علف یچ اور 
ای کے عو چاندی یا سونے کے کے لے ت3 سوا اٹل ہے لکن ا ہکوئی اڑی جحس یا کے جھ سوتے پا 
۱ چان کی جس سے نہ ہوں یچ لور ان کے عو کوئی دودسری جس ما سنے یا چاندی کے کے نے 7 
سد کچ سے اود ال تب یہ ہکم جو جس سیچ اس کے عو مدقم لے او رکوئی ووسری بش نر 
ے۔ ۱ 
مکل ٠ ۲٣۴‏ معللہ سلف میں مات رٹ ہیں۔ 
ا لئ ویک کو ج نکی وجہ سے می جح کی قیت میس فرق بد ہو معی نکر ا جاے۔ 
جن فیاہ ارک بٹی بھی ضددری یں بکلہ اس قدر کی ہےککہ لوگ کھی کہ اس کی 
تصوعیات معلوم ہہ گنیس ہیں۔ 
٢س‏ ماس سے ہگ زکہ خریداہ اور جیچے ولا لیک دوسرے سے جدا ہو جائیں خریدار پہری 
قت یچ دالےکودے دے یا اکر یچ ولا خریدار کا اتی ہی رق کا قوض ہو اور تردا رک 
ای سے جو جھ لین ہو اسے یٹس کی قیت میں صا بکر لے اور یئ والا ای پا ت کہ قبول 
کرے لود اگ خریدار ایں بس کی قج تک کچھ مقدار یچ دال کو رے دے ق اگرچہ اس 
مقدا ری بت سے مودا مج ہے لکن بے ولا سور ےکو ٹم کرسکتا ہے۔ 
۳ ع کو ٹیک ٹیک می نکیا جائے اود گر بی ولا کے کہ کا جن فصل کے پر 
گ3 پگ ا سے مدت کا ین ٹیک ٹیک میں ہوم اس لیے سو ال ے۔ 
ا ٹس کا دہ ری کے لیے یا رت ما نکیا جائے جس دقت وو جن ات نکیل ہو 
کہ نے دنا اں اض نر درے سے 


. 





توضیبچالمسائل_ 1[ 449ا 


ں۱ -سمس ۴ تد ری ےکی کہ کا قی نکیا جا لگن اکر طرفی ن کی باتژں سے تہ نک پند پل 
جائے تر اس کان تا ضروری شئیں۔ 

س جض ک نول پا یپ محی نکیا جائے اور جس چ کو و کر اس کا سوداکیا جانا ہے 
ار اسے مطور حلف با جائے تو اس می ںکوئی حرج میں ہے لنکن مل کے طور پر انئروٹ 
اور ایڑو ںکی بض قموں میں فرق اس ق رکم ہونا چا ۓےکہ لوگ اسے افیت نہ ریں۔ 

..- مج چ نک لور علف جیا جائے اگر وہ ان اجناں میں سے ہو جو قزل کر یا ناپ کر تی 
جاں ہیں نز اس کاعوض اسی نس سے نہ ہو شلاممند مکوکندم کے پرلے مور سلف "یی 
جا جا کل 

موامل. علف کے انام 


لہ ۷۴۲ ٠‏ جو جن ازین نے بطور لف نریری ہو اسے وہ بدت شم ہوتے سے پل الع کے 
لاو کسی کے پپس نمی بچ سنا اور برت شتم ہونے کے بعد اکرچہ خریدار نے اس ہن سکو اپنے آے 
میں نہ لیا ہو اسے یی می ںکوئی حرج میں الیحہ جن خلوں لاممندم اور جھ اور دو ری اجنا کو قز لکر یا 
ا پکر فر دض تکیا جانا ہے انمیں اپے قیضے میں لین سے لہ ان کا ینا جائز میں ہچ ماسوا اس ک کہ 
موی نے جس قبت پر فریدی ہوں ای ثمت پر تچ ڈالے۔ 

سمل ٢۲٢۲٢‏ : سلف کے لین رین میں اکر بی والا بیت شحم ہونے پر وہ ٹس رے دے جس کا 
سورا ہوا ہو قے نخریدا رکو چان کہ اسے قو لکرے۔ می زار یییئے والا نس چچزکا سودا ہوا ہو اس سے بر 
چزرے لیکن جنس کے اقبار جک دونوں ایک کی جاتی ہوں نز خیرا رو چا کہ اے قو لک نے۔ 
مل ۲٢۷۳‏ : آلر یی او جو جٹس دے وہ اس یٹس ےکا ہو جس کاسودا ہوا ہے ت خریدار 
لے قو ل کرنے سے انا دکر سنا ہب 

سل, ۲۷٢‏ : اکر یئ والا اس جن س کی یاۓ جس کا سوا ہوا ہ ےکوئی دو ری جٹس دے اور 
فیدار اس لی پر ہو جائۓ تر معاللہ تع ہہ ۱ 


مل ۲٢۳۵‏ : جو جنس بطور علف یپ ی گنی ہو آگر وہ نزیدار کے حواٹےکرنے کے لی لے شدہ 








توضیحالمسائل [ڑ 8 که ] 


وقت پر نایاب ہو جائۓ اور یے والا اسے میا نہ کر تے و خریدا رکو اتقیار ہے لہ انتظا رکرے ناکہ یج 
والا اس میا کر دے یا سودا کر دے اور جو نز یچ والےکو دی ہو اسے وائپیں لے لے۔ 

سَیّل.. ۲٢٢‏ : گر ایک خ سکوئی نس یچ اور معاہرہکرےکہ پجھ مرمت بعد وہ بلس خریدار کے 
جوانے کر زنے گا اور اس کی ثمت بھی سپھ مرت بعد نے گا ت3 اقاظط واجب کی بنا پر ایا سوا پافل ٠‏ 
ےہے۔ 4 

سونے چچاند یکو سونے چان دی کے عوض بنا 

مہہ ے ۲۴ ٠‏ مر سو کو سوئے سے یا پچاند یکو چاندی سے با چاے قٍ ثواو وہ کہ وار ہوں یا 
کے سک اگر ان میں سے ای کا وژن روہرے سے زیادہ ہو ث ایبا سوو! تام اور انل سے 

مستملہ ۲۲۸ ۰ ار سونےےکو چچاندری سے چاند یکو سوتنے سے لیپا جائے فذ سودا کیج ہے اور ضردری 
شی ںکہ ووٹوں کا وزن پرابر ہو۔ : 
مل ٠ ۲٢۹‏ گر سوتے ما چاند یکو سونے ما چاندی کے عوض جیا جائے نز یپنے دانے اور خریدار 
کو چان کہ ایک دوسرے سے جدا ہونے سے لہ جس اور اس کا عحوض ایک دوسرے کے جوا ےکر 
یں اور ار نس نے کے بارے میں معاللہ سے ہوا ہو ا کی پلھھ متقدار بھی متعلقہ شخنس کے ہوالے نہ 
کی جائے تر معالمہ بالل ہے۔ 

مل +۲۳ گر جیچے وائے ما خریدار بس سے کوئی ایک لے شدہ ال پر برا ددسرے کے 
پر فک دے لن دوس اھ مقدار دوسرے کے سیر کرے اور با وہ ایک دو سرے سے جدا ہو جائیں و 
ال رچہ ای مقار کے متعلق معللہ جع ہے لیکن جن سکو پورا یل نہ ملا ہو دہ سووا تن کر سکنا ہے۔ 
مستلہ ۲۳۱ : گر کل نکی چاند یکی مٹ یکو انس چندری سے اور کا نکی سون ےکی نی کو مالس 
سونے سے یپا جا و سودا اٹل ہے لیکن چاند یکی مٹ یکو سونے سے اور سونے کی مل یکو چاندی سے 
بیچے ہم ںکوئی مع یں۔ 








توضی‌المسائل__ ) چک5ه] : 

میللہ ٹ کی جان کی صورتیں 

نل ۲۰۷۰۳۲ ٠‏ مونلہ نم کرنے کے مج کو خا رت ہیں اور خریوار اور یچ والاگیادہ صورقل 

میں معالہ ش کر گت ہیں۔ 

تج میں میں سورا سے ہوا ہے فرنقین راں سے سدا نہ ہوئے ہوں اور اس خیار 
کو اج لت ہیں۔ 

طخ کہ ب کے سوالے میں خریدار یا جیے والا اور وسرے سعللات مس طرآین میں سے 
کوئی ایک مغین ہو جا اسے ” خار خحین کت ہیں۔ مضین سے مراد وہ ٹنیس ہے جے 
نتمان شیا ہو نی جس کے ساجظھ دجوکا ہوا ہو۔ 

مور تب یک کپ ا ےک ایک مقررہ برت کک دوفو ںکو یاککسی ایک فری یکو 
سودا لی کرنے تا انار ہوک اسے ” ار شر کش ہیں 

مت لقین معللہ میں سے تک فرق آپنے ایک ا کی اصلیت سے بھترجا گی کے 
شر ای او یں مع ا نے مار تلص" 
کت ہیں۔ 

و فمین سعللہ میں سے ایک فیق دوصرے کے ساتھ شر کر ےککہ دہ یک کا سرانحام 
رے عگااور اس شرا بر عمل نہ ہو یا یہ شر کی جا ےکہ ایک فرپق دوسر ےک ایک تسس 
تم کال رے گا اور جھ یل دیا جائۓ اس میں وہ خصویت نہ ہو۔ اس صورت بی شر 
کنر: موا یکو نکر مکنا ے۔ اسے ممخیار طف شر" کت ہیں۔ 

ا دی جانے والی لس یا اازر کے عوض می سکوگی عیب ہو اسے نیا ر عیب کچ یں۔ 

۵- مت نے جس جن کا معلل کیا ہے ا ںک یہ مقدا سی اور نس کا 

مڈشن صورت میں اگر اس ہقدا رکا ملک سودے پر راشی شہ ہو و خریرنے والا داب 
رو تہ نل ای ےن 
رکت' کت میں۔ 
۸ے شمٴمن ینس کہ روسرے قریق نے کہ دیکھا ہو ہو گر ای جنس کا مالک اس لی کی 


7 








توضیح‌المسائل ( ا 2ھده] 


تصوصیات جڑاۓ اور بعد میں معلوم ہوکہ جو خحصوصیات اس نے جائی تھیں وہ اس جن میں ْ 
.نمی ہیں ت3 ود مرا فریق معللہ کر سکتا ہے۔ اسے ”خیار رویت' کت ہیں- ۱ 
ا گر خریدار جن کی قمت دینے یش پت کی شرط شر رے اور تین ون کک قبت نہ رے 
گر جیچے والے نے وہ ٹس خریدار کے ہوالے ش کی ہو قز وہ سودا کر سکتا ہے لیکن جو 
ٹس خیدار نے خریدی ہے اکر وہ حض ای میدو ں کی طح) ہو جو ایک ون بای رہے سے 
ضائع ہو جات ہیں اور رات کف اس کی آبت شہ رے اور ہے شرط بھی ض کی ہوکہ یت 
رینے میں رکرے گا چیچے دالا سوداش کر سا ہے۔ اسے ”خیار ناخی کت ہیں۔ 
"۰ نس مخس نے کوئی چانور خریدا ہو وہ جن دن کک سوا جن کر ستا ہے اور جو پچ الس 
نے بی ہو اکر اس کے عوض مس خریرار نے جافدر ویا ہو قق جندر یی والا بھی مین ون تتک 
سودا کر سک ہے۔ اسے ” خار خوان "کت ؤں- 
ااء۔۔ بیے دالے نے جو پنز ھی ہو آگر اس کا قض نہ رے کے شل جو کھوڑا اس نے ھا ہو وہ 
بنا ککیا ہو نز اس صورت میں خریدار سودا کر مکنا ہے۔ اے ' انار تقزر تیم" گج 
ہیں۔ ان تام اقسام کے بارے میں اعکام آتندہ مال میں بیان سکینے جاھیں گے۔ 
مستلہ ٠ ۲٢۳‏ اگر خریدا رکو جن سکی قیت کاعلم نہ ہو یا سوداکرتے وت غفلت برتے اور اس 
کو عام ھت سے منگا خزیدرے اور انتا ممنگا ریرےکہ عام لوگ اسے ااحیت رین ہوں (لشن بت 
منگا ھت ہوں) و دہ سودا ٹ کر متا ے۔ نیز اکر یے والا جن سکی قیمت کا علم نہ رکتا ہو با مود اکرتے 
وت فلت برتے اور اس یٹ سکو ا کی قمت سے مستا یچچ اور لوک جتنا سستا اس نے با سے اے 
ایت وی ہوں و وہ سووا کر سلتا ہے۔ 


مل ۲٢۴‏ : " بقع شرط ' کے سودرے میں ج بکہ بث لی کے طور پر ہار روپ کا مان وو سو 
ردپے میں بچ دا جائے اور ےکا جا کہ اکر یے الا عقردہدبت تک برقم دای ںکہ دے و سور ےک 
تےکر سکنا ہے و مر تیدار اور یچ والا خریدو فروخ تکی میت رکت نے ول لو سور و جات 

مل ۲٢۵‏ : ”یع شرط ' کے سودے میں اکر ییچے دالنےکو اٹمینان ہو کہ خواو وہ مقررہ برت 
می :رت وابیں نہ جگ یککرے خریدار ملاک اسے وا ںکر درے گا تو سودا چم ہے۔ لگن ال وہ ورت شم 








توضیجالمسائل 7 ( دی ] 


ہونے تک رقم واپیں ذ ہکرے ت3 وہ خریدار سے الا کک وائی کا مطال کرنے کا می نمی دکتا اور اگر 
خریدار رجا فو اس کے ورحاع ے الا کک والی کا مطالبہ خمی ںکرسکتا۔ 

مت ۹۴ ۸ : اگ رکوئی خخس بدھیا چا کو کٹا چائے سے مل اکر بڑھیا چائے کے نام سے نی پز 
تریرار ۔ورا تک رسیم ہے۔ 


سنل ے ۲۳ : أگر خیدا رو پت چ کہ جو مال اس نے خریدا ہے وہ حیب دار ہے شلا ایک 
فور خریرے اور ( خریرنے کے بعد ) اسے پت کہ ا کی ایک آکھ نمیں ہے اور ایما عیب مل 
می سورے سے پکہ ہو اور اسے علم نہ ہو قے وہ سوواش کر ستا ہے۔ اور اس ما لیکو جینے وا ٹےکو وی 
مر مم ہے اور مر واہی سکرن نان نہ ہو لا اس مال می ںکوئی جبدی ہوگکئی ہو یا ایا تصر کر لمیاگیا ہو 
جھ وابہی سے بائع ہو ق ای صورت میں وہ بے عیب اور یب وار ا کی قوت کے فرق کا شی نکر کے 
بے عیب اور عیب وا رکی قبت کے فر قکی ذبت سے رتم نے والے سے والپیں نے نے شل ار ایس 
ن کوئی مل ار روپے میں خریدا ہو اور ات اس کے عیب دار ہونے کا علم ہو جائے تو ال اس مال کے 
بے عیب ہونے کی صورت میں ا کی قبت آھ روپے ہو اور عیب دار ہونے کی ورت ٹیل چھ 
روپے ہو قز چوکہ بے عیب اور عیب وار کی قیت کا فرق ایک چونائی سے اس لیے اس نے ہپنی رتم 
دی ہے اس کا ایک چونھائی نی ایک رویسہ یچ دالے سے وائیں نے ہے۔ 

متملہ ۳۸ ۰ گر ہے والےکو پند کہ اس نے جس چنز کے عو اپنا مال با ہے اس میں 
عیب ہے اور وہ عیب مال کے عوض میں د یی چی میں سورے سے پل موجود ہو اور اسے عم بھ ینہ 
ہو تو وہ سوراش کر سکتا ہے اور جو چھھ اسے اس مال کے عوض میں ملا ہے اسے اس کے مان فکو وپ یکر 
کنا سے اور مر بی پاتر ف کی وجہ سے وایں نکر کے تو بے عیب اور عیب وا ری قیت کا فری 
اس قایرے کے مطابقی حاص ل کر سا ہے جنس کا گر سابقہ لے میں کیاکیا ہے۔ 

لہ ۹م ؛: نر سوداکرنے کے بعد اور قبضہ وین سے پل مال مم ںکوگی عیب پیا ہو جانے و 
خریدار سوا ت کر مکنا ہے اور جو چز ال کے عوض دی جائۓ گر اس میں سوواکرتنے کے بعد اور قضہ 
نے سے پل کوئی عیب پیدا ہو جائے قز بے ولا مور ے کو ش کر سکتا ہے لن ار فرین قیت کا فرق 
ینا ہیں تو ہہ جاتز نی ے۔ 











توضیح‌المسائل ( 54ہ١]‏ 


لہ ٢۲۴۴۸‏ : آ رکسی من کو مال کے عیب کا عم سوراکرنے کے بعد ہو نو ہے ردری می کہ 
وہ پور مور ے کو ت روے لہ وہ بعد یں گی سووا بت چکرنے کا تچ رتا ہے۔ اور دوسرے خیارات 


کے لیے بھی بی عم سے 
ہن : لین اس کو اس قر معالے کے ٹم میں ایر میں کرنی چا کہ دوسری جب کے 
ن لیے ضر رکا پاعحث ہو۔ 


مستلہ. )۰:۸۴ ا رکسی من یک وکوئی نس خرینے کے بعد اس کے عیب کا پت ےق خواو یی 

ولا اس پر تار نہ بھی ہو خریدار ور ے کوٹ کر سکتا ہے اور دوسرے خیارات کے لیے بھی بی کم 

2 

کہ ۳۴۳ ۰ چار صوروں میں خیرار لی میں مب ہوئ ےکی اہ مود می کر سکناورنہ 

بی قیت کا فرق نے سکتا ہے۔ 

اعت پک خریدتے وقت مال کے کیپ ے والف ہو۔ 

...یلق کے حی تب کو قو یکن 

کان خررے رت رز تو رج 
فرق بھی میں لوں گان " 

۳ مورے کے وقت ییجے والا سے " میں اس مل کو جھ عیب گی اس میں بے اس کے 
ساتھ جیا ہوں '' لان اکر دہ ایک عیب کا تی نکر درے اور ک ےک میں اس ما لیکو اس جیب 
کے ساد بی را ہوں اور بعد میں معلوم ہوکہ مال می ںکوئی اور جیب بھی ہے فو جھ عیب ین 
والے نے صمین نکیا ہو ا کی بن یر خریدار دہ مال واہیں کر سکنا ہے اور اکر واہیں نکر 
:کے و قیت کا فرق نے سلما ے۔ 

منیلہ ۲٢۳‏ : اگر خیدا رکو معلوم ہوکہ مال یں ایک عیب ہے اور اے وصو لکرنے کے بعد 

اس مہ ںکوئی اور عیب ظظاہر ہو جاۓ نے وہ سودا ہج خمی ں کر سکتا لیکن بے عیب اور عیب ور کے درمیان 

قھت کا جو فرق ہو وہ نے سکتا سے لیکن اگر وہ عیب دار حیوان خریدے اور ذیارکی مت ( ھکہ تن ون 
ہے )گزرنے سے پچعلہ اس جیوان می ںکوئی اور عیب ظاہر ہو جائے وگ خریدار نے اسے اپ وی شی 











وضیحالمسائل ۱ بی کر رس بک 
7 وا کر کنا سے اور کر فتڈ نخریرا رکو پچھ بدت تک اللہ جکرنے کا عق حاصل 
ایر اس ورت کے دوران میں مال می ںکوگی دوسرا عیب ظاہر ہو جائۓے 


وی میں نے لیے وو وک کے نکر ستاےے۔ 





الرچہ خیرار نے وہ مال اٹ 


سیل ۳۴۳" ج کرت ی ط تحص ایک ایا مال رکتا ہو تے ا س نے خودنہ دیما ہو اورک دوصرے 


نے مل لی کی خصوصیات ات جائی ہوں اور وہ وتی خصوصیات فریدا رکو جرائے اور دہ بل اس کے 
تی مان کفکو) پت کہ وہ مال اس سے ھت رتصوصیات کا عائل سے ئ دہ 





دے اور پیر میں اے 





مور ضر سن بت 


تی مال 

متلہ ۳۴۵ : مر ہیے والا خزریدا رک کی جن سکی قیت خر جاۓ ( اے چا کہ دہ تام 
یں بی اس جاے جج کی دج سے مل کی قجت گھعتی بڑھیق ہے ارچ گی قبت پر (ضس 
غریداے ) پا اس سے بھ یکم قیت پر بیچے۔ شا اسے جانا چا ےک مال فقہ خریدا ہے یا اڑھار اود گر 


ال کی بھ خحصومات نہ جاۓ اور خریدا کو بعد یں علم ہو جانے قوہ سودا کر کا ہے۔ 
مل ۷٦‏ مل مر انان کو1 ی کس یکو دے اود ا کی قیت می نکر رے اور 222 


جقنی قمت وصو ل کرد گے وہ تمارے یچ کی اجرت ہو 


2. 


ںان بت 7 نر اورای ےت زیادہ “ 
ار ں صورت میں وو شخص ای قبت سے زیادہ شچنی قجت بھی وصو لکرے وہ یٹس کے ماک کا می 
ہوگا۔ اور یے والا کک سے فتتطہ ابی من ت کی اجرت نے متا سے لیکن اکر معابرہ لہلور چعالہ ہہو انور مال 
کا میک نے ای کہ ارت نے پہ ہنس اس قبت سے زیادہ بہ نی تق زیادتی جیرا مال ہے فقو اس می ںکوگی ضق 

یں 
صتلہ ‏ ۲۲۴ : گر تداب زر جاور کاگوش تک کر اوہ کاگوشت ہے فو و گنگار ہو گا ہنا ار ود 
ایکوش کو می نکر ے اورک ےکہ می بہ ر جافو رکاگوشت تچ رپ ہوں ت خریرار سودا ش کر ککتا 
ہے اور أکر قصاب اس اش کو معین نرکرے اور خریدا کو جوگوشت ما ہو (لشئی مادہ کاگوشت) وہ 

پ ۱ 


بر راشی نہ :و تقر قصاب ک چا کی ا سے نر جاو رکا اوشت وے۔ 








توضیح‌المسائل ں....۔۔3[ 3458ا 


سنہ ۲۴۸ ؛ مر خزیدار بزاز سے کک ےکہ مج ایاڑا چاینے جس کا رتک زا ل نہ ہو اور بزاز 
ایک اییاکپڑااس کے پاتھ فروش تکرے جس کا رگ زائل ہو جاے و خریدار سودا ش کر مجنا ے۔ 


مستلہ ۲۴۹ ۰ مین رین میں ت مکھتا اکر چی ہو ت کرد ہے اور مر بھوئی ہو از عرام ہے۔ 
خلت کے اجکام 


سنہ ٣۷۵۰*‏ : گر ور مس ہیں میں شرکک تکرنا چاہیں اور ان میں سے ہرایک اپنے ما لک جج 
مظدار دوسرے کے مل سے اس طرح خلط طی کر د کہ دہ مال ایک ددسرے سے میتٹر نہ سییتے 
جایں۔ اور دہ اشفاص عبی باکسی اور زپلن میں طرکت کا صیضہ پڑھیں ‏ اکوئی ایا کا مکریں نس سے پت 
کہ دۂ ایک ددمسرے کے شرک بنا چاچے ہیں نو ا نکی شرکت تع ہے۔ 

مستلہ ٠ ٢۵۵‏ مر چند اشخاص اس مزدوری میں جو وہ انی مخت سے عاصل کرتے ہوں ایک 
دوسرے کے ساتھ رک تکریں۔ شا چند خام آپیں میں خ ےکری ںکہ جو اجرت عاص لکریں گے اسے 
آیں میں تقی م کر لیں کے نو ا نکی شرت تجح نہیں ہے۔ اور اکر ایی کیا ہرایگ انی عاصل شدہ 
اجرت کا مالک ہوگا اور ار دونوں کی تصبیل کردہ اجز کو ممیت زکرنا مشنکل ہو تو آپیں میں مصالص تکریںی : 
اور شس طرحع دوتوں رضا مند ہوںل داب ما لکو تق ی م۔بریں۔ 

مستلہ ٣٣۵۳٢‏ ۰ مر وو اشخاص آہیں میں اس طرح شرکم تکری ںکہ ان یں سے ہر ایک اپی ذمہ 
دای پر نس خریرے اور ا ںکی قی تک ادائجگی کابھی خود ذمہ داد ہو لیکن جد جٹس انموں نے خریری 
ہو اس کے یع میس ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوں نے اڑی شرکت درستت خی البتہ ار ان میں 
ے ہرک دوسریےکو اپ وکیل بنا لہ وہ اس کے لیے اوھار میں جنس تریرے اور بعد ٹل ہر 
شریک کار جا سکو اپنے لیے اور اپنے شریک کار کے لی خریرے جس کے لیے دوفوں ذمہ در ہوں تو 
بھی رت کی ہے۔ 

مسنتلہ ۳٣۵۳‏ : جو شخاص شرکت کے ذرلیے ایک دومرے کے شریک کر ین جاسیں ان کے لیے 
ضروری ‏ ےکہ ال اور عاشقل ہوں اور ارارے اور انار کے ساتچھ شرکم تکریں اور ہہ بھی ضرددی سے 








تَےَالعسائل [ +45 ] 


کہ وہ اپ مال میں تر ف کر سج ہوں لزا چ وہ مغیہ فیس (جو اپا بل میودہ کاموں پر خر جکراے) 
لپن ول میں تصرف کا من میں رکتااگمر وہکی کے ساتھ شک تکرے و وہ شرکت جج نہیں ہے۔ 
مت ۲۵۳ : مر شرکت کے سعاہرے میں ہہ رط لگائی جال ۓےکہ جو من کا مکرے گا یا اپ 
شریک سے زیادہ کا مکرے گا ا سکو منفعت میں زیاوہ نصہ لگا نے ضردری ہ ےکہ جعیساکیاگیا ہو متعلقہ 
کو اس کے مابق ری لین گر ہے شر پائی جا کہ جو فص کام خی ںکرے گا یا ہکم میں 
کرے گا اے منفعت کا زیارہ نصہ لے گان اظمریہ ہ ےک گھ ان لوگو ںکی رات کچج سے لان ہہ شرط 
ال ہے اور ان کے ماٹین منانع ان کے مل کی ضجت سے تقیی مکیا جاۓ کا 

مل ٠ ٢۵۵‏ ار شرکاء یہ ےکی کہ سمادی منفعت کی ایک شنم یس کی ہوگی یا سارا نتصان یا 
اس کا بش رحصہ ان ٹن سے کسی ایک شخ سک برراش تکرنا ہوگا نو شرکت کچ سے ںیشن نفع اور نتصان 
ان کے این ما ل کی حبت سے تقیم ہوگا 

متلہ ۲۵۷ ۰ ار شرکام ہہ سے ن ہکری کہ کسی ایک ری کفکو زیادہ متفعت سل گی اور گر ان 
یس سے ہرایگ کا سریلیہ ایک جقنا ہو تذ نع اور نقصسان بھی ان کے ماٹین برابر تقیم ہوگا اور گر ان کا 
سراب برابر برابر نہ ہو فذ انیں اہی ےکہ لٹ اور نقتصان سریائے کی فبت سے تق مکریں۔ ملا گر دو 
افرار شرک ت کریں اور ایک کا “یل دوصرے کے سراۓ سے دنا ہو تٍ تفم اور نتصان میس بھی اس کا 
حصہ دوسرے سے وکنا ہوگا خواہ دونوں ایک جقنا کا مکریں پا ایک تھوڑا کا مکرے یاکوکی کم بھی نہ 
ےپ 

متملہ ے۲۵ ٠‏ نر شرکت کے ماہرے میں ہہ کے کیا جائ کہ دووں مم لکر تریر و فروشت 
کھریں کے با ہرایک انفوادی طور پر ین ری نکرے گا ما ان میں سے فط ایک مخصس لین زی نکرے گان 
انی چا چنےکہ اس معپرے پہ حم لکریں۔ 

مسنتلہ ۲۵۸ ۰ ار شرکاء مہ مین نک ری ںکہ لن میں سےکون سرائے کے ساتھ خرید و فروخت 
کرے گان ان مس سح ےکوئی بھی دوسرے ےکی 'جازت کے بغیر اس سریائے سے لین وین خی ںکر کلت 
مل ۲۵۹ : جو شریک خلت کے سراے پر انقیار رکتا ہو اسے این کہ شرلت کے 


7 





توضی‌المسائل ( قتدھہ] 


سعاہرے بر عم لکرے ملا گر اس سے سٹ ےکیاگیا ہ وہ اوحار خریدے گا یا نظ یچ گایانکسی نماس تہ 
سے ت یرے گے چا کہ جو سے ہوا ہو اں کے مطابق عم لکرے اور ار اس کے ساتقھ ہہ 
سے نہ ہوا ہو تے اسے ہا کہ صعمول کے مطابق لین ری نکرے الہ رک تکو نتصان نہ ہوں نیز مر 
مین شرکت کا یل اپنے راہ نہ لے جاے۔ 

لہ ۴۶ ٠‏ جو شرک خخرکت کے سرائے سے سوو ےکر ہو جو مھ اس کے ساتھ سم کیاگیا 
ہو گر وہ اس کے برغلاف رید و فروض تکرے پیا اگ رھ لے نہ کیامیا ہو اور مسول کے خااف سورا 
کرے ٹو ان ووٹوں صورموژں خں جمال کک ووہرے شریک کے صے کا تلق بے دہ سواد بے کار ے 
بنا اگکر وہ اس سوو ےکی اجازت شہ دے فو انا حین مال اور ین مال کے "لف ہو جانے کی صورت مل 
اس کا عوضش نے سا ے۔ 

تہ ۲۲۷٣‏ ۰ جو شریک رت کے سرائے سے کاردبا ھکر ہو گر وو فضول: خی ن ہکرے اور 
سیائۓ کی گسداشت میں بھ یکو اہی شہکرے اور پھر انفاۃا“ اس سریائے کی یھ عقدار یا سادا ریہ 
تلف ہو جائے و وہ زمہ دار خمیں ے۔ ۱ 
مکلہ ۲۷۳ ٠‏ جو شریک شرکت کے سریائے سے کاروا کر ہو گر وو کے مہ عریلیہ لف ہوگیا : 
ہے اور اکم شرع کے سا نے مکھا نے فو اس کاکتا مین نت چاہجے۔ لی جو کمتا ہ ےہک مال اف 
نہیں ہوا۔ یا اس مال کے بات رے پ ہگواہ نہ ہوں اور بی عم ہ ےکم دہ ٹری کفکہ جس کے پاھ میں 
لی طراکت ہو اور دوصرے ہا ہم تفق ہوں کے مال تکف ہوگیا ہے لان نس کے قد میں ال نمیں تھا 
وہ دوسرےکو مال کی حفاظت میں کو بای کا الفزام وے اور ہہ صرف اس صصورت میں ہہ ےکہ جب 
ووسرے نخس کے سرا نے س مکھا لے نے اس کاکنا مان لیا چایے۔ 

مستلہ ۲٣۳‏ : مر قلعم شریک اس اجازت سے جو انموں نے ایک دوسرےکو بال میں تصرف 
کے لیے رے بھی ہو پھر جتھیں فو ان یں سےکوئی بھی رت کے مال میں تصرف خی ںکر سکتا اور اکر 
ان میں سے ایک انی دی ہوئی اجازت سے پھرجائے ت دوسرے شرکا کو تصرف کاکوئی مؾ نہیں لیکن . 
جو شس اپی دی بوئی اجازت سے پچ رگیا ہو دہ رت کے مل میں تر ف کر سکتا ہے۔ ٰ 
لہ ۲۹۴ ٠:‏ جب شرکام میں سے کوئی ایک فقع اکر ےکہ شرکت کا سای تقی مکر دیا جائے ے 





عہیشہ تی ہے ہے پل وچ ہا ھا 


توضی‌العسائل [( ڑوج ] 


ألرچہ رکم تکی معینہ مدت مس سے مھ بائی ہو درو ں کو اس ک اکنا مان لیا جاجنے ماسوا اس صورت 
ک ےکہ تیم شرکام کے لیے قائل طاحظہ ضر رکا موجب ہو۔ 

تمہ ۲٢۹۵‏ آمر شکام میں ےکوئی مرجاۓ ىا داوادہ ہو یا بے ہوش ہو جائے و دووسرے شرکام 
شرکت کے مال میس تفرف میں کر بت اور آلر ان میں سے کوئی سغیہ ہو جائے مشنی اپنا مل مہووہ 
کاموں میں صر فکرے تو اس صورت میں بھی بسی عم ہے۔ 

متلہر ۲۷۴ ۰ گر شریک اپ لی کوئی نز ادھار خریرے تو نع اور متعان اس کا ال ہے لین 
گر وو نز شرکت کے لیے خیرے اور ووہرا شریک ا سک اجازت رے دمے ٢لاس‏ ےکمہ میں اس 
سصودرے پر رای ہیں ق پچ نع اور نتصسان میں رووں شٹریک ہوں ور 


متلیہ ے۲۸۴ ٠‏ مر شرکت کے سرائے سےکوئی معلل ہکیا جائۓ اور بعد می پند چل کہ شرکت 
ال تی نز اکر صورت یہ ہوکہ مولل رن کی اجازت میں ریت کے کچج ہون کی قید نہ تھی نی 
7نو غ انا شر و ہی ھی وا ا در کے لق ا رتپ 
راضی ہوتے ز معللہ کچ ہے اور ج وھ اس معالے سے حاصل ہو وہ ان سب کا ول ہے۔ اور گر 
صورت بے نہ ہو فو جو اوک دومروں کے تصرف پر راضی نہ ہوئے ہوں اکر وہ ہی کمہ دی یکہ ہم اس 
معالے پر راضی ہیں ت معاللہ کچ سے ورنہ باطل ہے دونوں صورقوں میں ان مس سے جس نے بھی 
شرکت کے لیے کا مکیا ہو اکر اس نے بلامعاوضہ کا مکرنے کے ارارے سے ن ہکیا ہو تو وو ای نت کا 
معاوضہ معمول کے مطالقی دوسرے شرکامء سے نے کت ہے۔ 


کے ام 


مستلہ ۲۷۹۸ ! مع سے ماد یہ سےکہ اضسا نکی دوسرے مخ کے ساتھ اس جات پر انقاتی 
کر ےکہ آپنے بل سے یا اپنے مال کے ماع سے مھ مقدار دوسرےکو رے دے ما انا رن ماك 
چھوڑ رے اور دوسرا بھی اس کے عوض اپنے مال یا متاح کی مھ مقدار اسے دے دسے یا قر یا جن 
چھوڑ رے بللہ اگ رکوئی نس عوض لیے بی رانا مل ما ما لکی منفعت دوسر ےکو دنے دمے ما تقر یا نا 








توضیحالمسائل ل٥ہ‏ ]) 


تق چھوڑ رے لو بھی مج ہے۔ 

ستلہ ۱۹۹ ۰ جو مخس انا مال ابطور مغ دوسرےکو رے اس کے لیے ضردری ہ ےکم بل ادر 
عاقل ہو اور سح کا تصد رکتا ہو اورسی نے اسے ما بہ پر تبور ن ہکیا ہو ہہ بھی ضروری ہج کہ وہ سفیہ لہ 
ہو۔ 

مل ۰ےا ٠‏ مج ک صیفہ عمی میں پڑھنا ضردری نمی بجلہ جن افاط سے بھی میہ پت کہ 
فین نے یں میں مکی ہے میتی ہے۔ 

متلہ ۱ی٢۲ ٠‏ اگ رکوئی شخصس اپنی بھیٹریں روا کو رے کہ وہ شا یک سال ا نکی گرراشت 
کرے اور ان کے دووج سے استفاہھکرے او رک یکی پکھ قبت ال فکو رے فو آلر چرواہ ےکی حنت اور 
بس کی کے مال لے مم وہ منص بھیڑوں کے رود پیم حکر نے فو معللہ سخ ہے بجکہ اگل بھییں 
جراو ہب ےکو ایک سال کے لیے اس شرط رکراے پر دےکہ دہ ان کے دووھ سے مستفید ہو اور اس کے 
عوض ہچ تھی رے دے تو ىہ بھی جج ےط 

مل ٢٢٢‏ : 6وس سفر سر ارت 
کے برنے اس مخ سے مز کر چاہے و مہ مغ اس صورت میں ضیح ےہ جب دو را اسے قبول 
کرے لین ال رکوئی مخ اپنے قرض یا حؾ سے رستبردار ہون چاہیے قزر دوسرے کا قو لکرنا ضروری 
ہیں۔ 

منیل8 ٠ ۲٣۴٣‏ گر مقروض اپنے قر ےکی مقدار جات ہو اور قرضش خواہ کو عم نہ ہو اور قرل 
وا نے جو پچھھ ینا ہو اس سے ےکم بر بر مم عکرنے شا اس نے پچاس روپے لین ہوں اوز دس روپ پہ 
می کر نے نز باقی ماندہ رتقم مقر وض پر علال شی سے سوائۓ اس صورت ک ےکہ جوسھ اس نے ویتا ہو 
اس کے متحلق خور قرضش خوا کو جنائۓ اور اسے راض یکر نے پا صورت اڑی ہوکہ اکر قرش خول کو 
تر ےکی مقدار کا عم بھی ہوا تب بھی اسی مقدار نشی دس روپے چہ م کر لیتاد 


مسیلہ ٣٤ا٢ ٠:‏ ؟ دو اشنا الی چیزوں سے جو اک بی جنس سے ہوں اور جن کے وزان معلوم 
ہیں آپیں میں م عکریں ت اعقیاط ودب ہہ ہ ےک ایک کا وژن دوسری سے زیادہ نہ ہو۔ اور اکر ان کا 





توضیح‌المسائل ). 461) 


ون معلوم غہ جو ارہ اس بت کا ال ہوھکہ ایک کاوزن دوسری سے زیادہ ہے اور وہ می کر لیں ز 


کک ے۔ 

تہ ۵ے ٠ ٢۱‏ گر دو اشخا س کو ایک شس ے پھھ لینا ہو (لشنی قرشہ ونیرو وصو لکرنا ہو) یا دو 
اشخا کو دوسرے دو اشخائصس سے بھ لیت ہو اور اپی انی طلب پر ایک دوسرے سے مم کر اچ ہوں 
اور دوٹوں کی طلب ایک می جن کی اور ایب ہی وز نکی ہو شل دوخو کو ایک دوسرے سے وس من 
ندم نی ہو ق ا نکی سئ یچ ہے اور اگ ا نکی طل بکی جخ ایک نہ ہو ٹلا لیک نے دیس مین پچادل 
ایر دوسرے نے پادہ صو ندم نی ہو حب بھی مع سج ہے لیکن آمر ان کی طلب ایک بی جن کی ہو 
اور وہ ایی ہو جس کا سوا عموا قو لکر ما ا پک کیا جانا ہے تو گر ان کا وزان یا پعانہ کیساں شہ ہو تڑ ان 
کی مغ یی اثال ے۔ 

متلہ ٢2۷‏ ۰ اگ رکی شح سکو کی دوسرے سے ؟ینا قرضہ مپهتے برت کے بعد وائیں لیت ہو اور وہ 
مرو کے ساقھ مقررہ برتں سے پل مقدار ممین س ےکم پر مز جکر نے اور اس کا مقصد ہہ ہ کہ اپ 
قرتے کا کچھ حصہ بچھوڑ رے اود یا تیماندہ متقدار نر لے لے قو اس می ںکوئی رح نیس اور یہ عم ای ٠‏ 
صورت میں ہب ےکہ قرضہ سونے چاند ی کی شکل میں باکسی اڑی جن س کی شکل میں ہو جھ جلپ یا تل کے 
ذرہیے نی جاتی ہو اور ار نس اس ش مکی نہ ہو نو قرضس خواہ کے لیے جائنز ہےہکہ اپنے تقر ےکی 
مقررض سے بای اور نس ےکترمقدار پہ کر لے یا اس تقر ےہوچ ڈائنے جیہاکہ مُلہ ك۲۳۹ 
میں مان ہوگا۔ 

ملہ ےے٢۲‏ اکر دو اشفائس کی چیزبر آپیں میں مم جک لیس نو الیک دوسر ےکی رضا مندی سے 
اں کو یت یں خزگر سے کے لح می دو کو ای ایک کو سد کرنے کات ایا 
ہو نز جو نیس وہ حی رکتا ہو دہ محر کر سکھا سے۔ 

مہ ۸٤ا٢‏ ؟ جب گگک خیدار اور یی والا اس لس سے جدا نہ ہو گے ہوں یں ہیں سورا 
سے پایا سے وہ اس سووےکوج جکر سک ہیں۔ نیز کر خیرار ایک جاور ہریرے فو وہ قین ون کک سورا 
کرنے کاحی رکتاے اسی طرح اکر ایک خریدار خریدری ہوئی جن کی قمت تن دن تک نہ دے !رر 
جن کو انی حول میں نہ نے فو ییے دال مور ےکوش کر سکنا ہے لیکن جو شنخ س کسی مل بس کر وے 


7 








توضیحالمسائل )۱ 2كا 


وہ ان تییں صورتیں میں صح ت کرنے کاحؾق میں رکتا۔ لیکن ار سخ کا دو سر فرق معرالنت کا یی 
یئ میں فی رمعموی پآاف رکرے یامہ ش2 کھ یگی ہوک مصالعت کال نق دیا جا اور دو سر فی ای 
شی بر مل ی ہکرے قے اس صورت میمش کی جاصق ہے اور سی طرح اتی مصودرتوں میں بی شن 
کاؤکر خی و قروشت کے اظام مم آیا ہے می نکی جاعکق ہد 
مل ۹ا٢‏ : جو ریز ریہ ملح لے گر وہ عیب وار ہو قو ملغ نکی جاسکق سے لین اکر متعلقہ 
مس ہے عیب اور عیب دار کے این قجت کا فرق لیت جاہے تو اس می ال ہے۔ 
۱ لہ ۲۷۸۴ ٠‏ ا رکوئی مخس اپنے مال کے ذریے دوسرے سے سح کرے اورااسں کے ساتھ 
٠‏ اور دو مرا فیس بھی ا سکو قو لکر نے تو اسے چا کہ اس شرط بر ع لکرے۔ 


اجارہ (کرلے) کے اعام 


مل ۲۸۸۷ : کوئی چ کرای پر وینے والے او رکرایہ پر لین والے کے سے ضردری ہ ےکہ بال اور 
عاقل ہوں او رکرایہ لین باکرایہ دینے کاکام اپنے انقیار سے راخام یں۔ اور ہی بھی ضروری ہی کہ 
اپنے می می رف کا مق رکھت ہوں فا چےگمہ سنہ اپے ال میں تر فکرنے کا عق ہیں رت اس 
لیے اکر وکوئی چزرکرکہ بر دے اکرابہ بر نے تو ایا اجارہ جج نیس ہوگل 

مل ٢ا٢‏ : ان دوسر ےکی طرف سے وکیل ب نکر اس کا لکرائے بر دے سنا ہے ما 
کوئی بلی اس کے لی ےراہ پر ئے تا ہے۔ 

میلہ ۲۸۳ :۰ گر پچ کا دی جا سر برست اس کا مل کراے پہ درے نے ا نے نکی 
ووسرے مخ کا اق مقر کر دے ة وکوئی حرج میں اور اکر یچ کے پا ہونے کے بع دکی جھ نت کو 
بھی ار ےکی برت کا حہ قرار دا جائے تبیہ لغ ہونے کے بعد اق اندہ اجارہو کر سکتا ہے کن 
مر صورت یہ ہوکہ اکر یچ کے پاغ ہو ےکی بر تک یھ مقدا رہکو ایارہ کی برت کا حصہ نہ تنا جان 7 
ہج کے لیے قرین مصلحت دہ ہو و بچہ اپے مل کے اجاد کش نمی ںکر سک 





او سے ےا ا ا یم مو جودود شروش 


توضیچالمسائل )( دی ] 


لہ ۲۸۴ ۰ جس لغ چے کال نہ ہو اسے مدکی اجازت کے بغی اق رنیں بنا جاسکتا شی 
عزددری پر میں پا جا سکتا) اور جس شف س کی رسس جنتد کک نہ ہو دہ چند ابی مومن افر کی 
اجازت نےکر جو عاول ہوں اس چچے کو ایبنا سنا ے۔ 

لہ ۲۱۸۵ ۰ اجارہ ریے وائے اور اجارہ نے وائے کے لیے ضروری خی ںکہ صیضہ ع لی زین 
یس پڑھیں پگہ آآ رکسی کا الک دوسر ےو ک کہ میں نے اپنا لی یں ایارہ پر دیا لور دوعر! کے 
کہ میں نے قو لکیا قے اجارہ کچ ہے۔ نیز گر وہ منہ سے سپچتھ بھی نہ کمیں اور مالک اپنا مل اتجارہ کے 
تصد سے متا کے سر دکر رے اور وہ بھی اجارہ پر لین کے قصبد سے لے لے تو انچارہ سپ ہوگا۔ 
مہ ۲۸۲ ۰ اگ رکوئی مخنس پا ےکہ اجارہ کا عیضہ بے ھے اف رکوئی کا مکرنے کے لیے اتی رین 
جاے تر جو خی وو کا مکرنے می مشخول ہو جائے گا اجارہ سج ہو جائۓ گا۔ 

مستلہ ۲۷۸۷۵۴ : جو مخنس بول نہ ستا ہو گر وہ اشارے سے تھا در کہ اس ن ےکوی ا لاک 
اجارے پر دبی ہے یا اجارے پر لی سے تر اجارہ جج ے۔ ۱ 


متلہر ۲۱۸۸ ۰ اگ رکوئی حخصس میین یا ران پاکرہ ابارے شی یکراے پر نے اور اس چائیرار کا 
الک ہہ شر لال ےکلہ صرف وہ خود اس سے استفا کر متا سے و متاجر اسے کی ووسر ےکو انققل .مھ 
کے لیے اجارہ بر خمیں رے سکیا۔ ہج زاس کےکہ دہ نیا اجارہ اس طرح ہورکہ اس کے وائد بھی خور 
متاجر سے مخصوص ہوں۔ شلا ایک عورت ایک مین یاکر ہکرائے پر نے اور بعد میں شاو یکر نے١‏ 
او رکھرد یا مکان اپپی رئش کے لیے کرایہ بر درے دے (مشنی شوہ رک وکرایہ پر رے دےکیوگہ یو ی گا 
رئش کا انام بھی شوہ رکی زمہ داری ہیے) اور اکر مالک ال یکوی شرط نہ لگائۓ تو متاججہ اسے دوسرے 
کوکرائے پر رے کنا ہے لکن اکر دہ ہی اہ ےکہ جت کرائے پہ لیا ہے اس سے زیادہ مقدار کے لی 
کراپے پر رے تو ضروری ہےکہ اس نے مومت اود سفیری وی وکرائی ہو یا اس جن کے عاد ہک 
اور جس کے پرنے اے بر دے جس پر اس نے خود ا ےکرائے پر لیا ہے۔ شا اکر روپ کے پرلے 
کرائۓ پر میا ہے گندم باکسی اود نز کے بدلےکرائے پر دے اور ہنا بر اعقاط واج بکشتی کے لیے 
بھی دی عم سے جو مکان کے لیے ہے۔ 








توضیحالمسائل )ڑل 4164_ا' 


لہ ۲۸۹ ٠‏ مر اج متا سے شرط لح ےکر ےکہ وہ فطا اسی اکا مکرے گا نز مزاس صورت 

کے جس کا کر اہ مکل می ںکیاگیا ہے اس ابق رک کی ووسرے شف سکوابطور اجارہ شی دیا جس در 

مر اق راڑ یکوگی شر نہ لگا اور تاج اسے اسی جنر اجارہ پر درے جو ا سکر: اجرت تقر پائی ہے 

ا (منی متاج رکو) ای ےکہ اس سے زیادہ نہ نے اور آ کی اور نز کے پرئے اجارہ بے دے تو ژیادد 

نے سکیا ہے اور اگ رکوئی مخ خورکی کا اترین جائے او رشسی دوسرے شف سکو ہکا مکرتے کے لیے 

کم اجرت پر رکھ نے قے اس کے لی بھی بی عم ہے لق وہ اس ےکم اجرت پر میں رک سکتا) جن 

اکر اس نے ک مکی کہ مقدار خود صرانام دی ہو تو بچھردوسر ےکوکم اجرت بر بھی رکھ ستاحف 

میلہ2 ۳٣۷۹۴‏ اگ رکوئی مخ مین ران 'کھرے اور اق ر کے علادہکوئی اور چنز لا زی نکراے پہ 

نے اور زشن کا لک اس سے ىہ شر نہکرےکہ صرف دہ خود بی اس سے استفا هک تا ہے قز جس 

مقدار بر ای نے وہ چ کراے پر لی ہو ار اس سے زیادہ پ کسی او رک کرات پر رے دے تب گ یکو 

.حرج میں۔ 

مستلہ ۲۴ ٠‏ اگ رکوتی مخس مکان با دکان مال کے طور بر ایک سال کے لیے سو روپہہ ب ہکرائۓے 
: نے اور اس کا آڑھا حصہ خود اق لکرے ق دوسرا حصہ سو روپ ےکرائے پ چڑھا تا ہے لکن آگر وہ 

چا ےکہ مکان یا رکان کا آرھا حصہ اس سے زیادہکراتے پر چڑھا درے جس بر ا لے خود وہ دکان یا 

کان کرلیہ پر لیا ہے فا ۳۴ روپ کرابم پر رے دے ق ضروری ہےکمہ اس نے اس میں ہمت دخیرہ 

کاکم رانا ویا ہو۔ 

کرائئے پر دپئے جانے والے ما لکی شرائا 

مستلہ ۲۴۳ ٠‏ جو ہل اجارے پر دا جائے اس میس چتھ شرائط بای عالی جاؤں - 

آپ وہ مال معلوم ہو ۔ انا اگ رکوئی ہفص کے کہ میں نے تھے اپنے مکانات میں سے ایک 

کرائے پر ویا نو بھی درست ہے۔ 
و متج لج یکراے پر ین ولا اس م لک دک لے یا بجارے پر دی وال شٹھس اپ لم 
کی خصوصیات اس طرحع جیا نکر ےکہ اس کے بارے میں پوری اطلاع حاضل ہو جاۓ۔ 








ترضیو ال مسائل إ 5یو ) 


ابارد* ہے جانے رائے مل کو دوصرے فرلق کے سیر وکرنا گن ہو لزا انی 
و اچارے پپ دنا جو وم گیا ہو اض۰ل سی 

×ے - یکہ اس می سے احعفاد کر اس کے شتم یا کلعدم ہو جانے پر موقوف تہ جذ ا ردل 
میووں اور دومری خدرنی اشیا مک وکراۓ پر دا درست گال یت 

۵... مل سے وہ فان دہ اھانا مان ہو شس سے صمل سے لیے دے ٣‏ ارہ پر دیا جا را ڈڑی 
زین کا زراعت کے لیے کرائے پردیتا نس کے لیے بارش ک پالی لی نہ ہو اور وہ ض کے 
سے ا بیو وت 

ہج پچ زکراے پر دی جاری ہو دہ کرائے پہ ریے والے کا انا یل ہو اور ا کسی ووسرے 
خا مال را بر دیا جائے نپ ممالمہ ای صورت میں تسچ بر جب اس مال کا الک رضامند 
۳ 

ستل. ۲۴۳۴ جس ررقت میں پلفعل میدہ نہ لگا ہوا ہو اس کا اس مقصیر سے گرا پر ویا کہ 

اآں کے مچل سے استفاد ہیا جاے درست سے اور ایک چاو رکو اس کے وودج کے لئے لیے کرائے بر دیے 

کے ین یھ بی ٤‏ ہے۔ 

تل ٣۹۴‏ عورت اس مقر کے لیے اجیرین تی ہ کہ اس کے دودھ سے فائدہ اٹھاا جا 

(لینی سی دوسرے کے یچےکو اجزت پر دودھ پلائکی ہے) اور ضروری نمی کہ وو اس مقر کے لیے 

شوہ سے اجازت نے لین مر اس کے دودھ پلانے سے وہ رکی مق علفی و وتی ہو غز چلرا کی اجازت 

کے بر عورت ای خمیں بن عق ۔ اور سی طرح ار عورت کا اق نے کے سبب ا يک وگکمز سے یاہرجانا 

ےا کشر ات وگ 

اجارہ سے جانے وانے مال سے اخفادہ کی گراطظ 

متیل. ٠ ۲۲٣۵‏ جس استفارہ کے لیے مال اجارہ پر دا جانا ہے ا سکی چجلہ شرائکا ہیں۔ 

اب تچ امتفاوہ کرنا حول ہو لیا دکان کا شراب چیے دش وکرنے کے لی کرانے پر وینا اور 
وا کو شرا کی مل و نل کے مل ےکر پر دیتا اٹل ہے ۱ 

یکو مل ش کی نفرمیں با معاوضہ سرانمام دی اب نہ ہو ہنا فان بومیہ ما 





توضیخ‌الہسائل ۱ ای-5 


دو ں کی تیٹر کے لیے اتی رجا (شنی اجمت ل ےکر یہ مم سراحجام دہتا) جائز غہیں ہے اور 
اتی دکی بنا پر مجر کہ اس اتفادہ کے لیے تم دنا لوکو ںکی نظرویں میں فضول نر ہوں 
٦‏ جھ پچ کراے پہ دی جائئے گر اس سے کئی فائدرے اٹھائے جا جکتے ہوں تر جو فائرہ اٹراے 
ای متاب کو اجازت ہو اسے مج نکرن چا ہہے۔ لا ایک ایسا جاو رکراے پر دا جائے جس 
سای بھی کی جاعکتی ہو اور مال بھی لادا جا کت ہوق اس کراہ بر دیتے وقت اس ام رک 
ین کر لینا جا ےک آیا متام اسے فا سواری کے لیے یا فخط باربرداری کے ینہ اسقبیں 
کر متا ہے یا اس سے پر شم کا اتفاودکر سکیا ے۔ 
آا انتفادہ کرنے کی مرت کا شی نکر لیا جائۓ اور گر رت معلوم نہ ہو کو او یں 
دا جائے شا درزی کے ساھ معہد ھکر لیا جا کہ وہ ایک مین مہا ایک خنصوسص طرزر 
نے گا ہہ کائی ے۔ 
متلہ ۲۷ ٢‏ گمر اچار کی یرت کے شروع ہونے کا تین نکیا جائے ا اس کے شروع ہونے کا 
وے اچارہ کا می پڑعنے کے عو ے ہوگا_ 
مسلہ ۲٢‏ : شال کے طور پہ اکر ایک مان لیک سال کے لی ھکرائے بر دا جائے اور معاہرے 
کی ابتداک رت میغہ پڑھنے سے ایک ینہ بعد سے مقر رکیا جائے آزاجارہ کی ہے الرچہ جب میذ 
پا جارہا ہو وہ کن کی ووصرے کے پا ںکرائے پر ہو 


مل ۲۴۹۸ء کر اجار ےکی مدت کا تین کیا جاے بک متاجھ نے بی کھا چا ۓےکہ دب تف 
تہاں مان میں رہو گے دک روپ ماہوا رکرایہ رو گے تو اچارہ 3 3 و 


مل ۲۹ ٠‏ اکر مکان کا ملک متاجھ سے کی کہ ہی نے مین یہ مکلن دس روپ مہو رکرائے 
دا یا یہ ک کہ یی کان می نے سج ایک مین کے لی دس روپ کیپ دی در اس کے بعد بی 
م تی مت اس میں رہو گے اس کا کرلے دیس ردپے ماشہ ہوگا ‏ ایم صورت ٹیل جب اہارنے گی 
س کی ایقدا کال نہک لیا جائے یا ا ں کی ابتداکا عم بد پیل مل کا یارہ کیچ ے۔ 


مسا ممو وو جس مکان میں سافر اور زوار قام کر بمول اور ہے و 











وہیں رہیں کے آفر وہ مالک کان سے سے کر لی کہ شک ایگ رات کا ایک رویبہ ہیں گے اور ئگ 
مان اس یہ رانشی ہو جاے فو اس کان سے اتتفاہکھرنے می ںکوٹی مرخ میس سے مین چو مہ اجار گی 
رت سلے نمی کی گئی ابنرا لی مرات کے علادہ اجارہ کچ ضس ہے اور ماک مکان لی رات کے بدر 
نب گی جاہے ائیں ال ۴ ا 


اجارہ (کریے) کے ملف ممائل 


مستلہ ۲٢٢(‏ ؟ جو می متاجر اجرت کے طور بس دے ریا ہو وو مال معلوم || چا ننڑا آمر ای 

پیڑیں ہوں جن کا لین رین قول کر کیا جانا ہے (شلامندم) نز ان کا وزن معلوم ہونا چا ہے ور اکر ایی 

پییں ہوں جن کالین دی نعل نک ریا جانا ہے (شلا راع الوقت کے) تو ا ن کی تعداد تین دن چا 

اور کر وہ چیزیں گھوڑے اور ٹر کی طرح ہوں تج ضریری ہ ےک ھکار 7 لیے والا اتیں 7 2 

متاجرا نکی خصوصیات با درے۔ 

متلہ ۲۲۷۲ : کن زین زراعت کے لیے اجار بر دبی جاے اود ا کی ارت اسی زمین کی یا 

کی اور ٹن گی پراوار ترار دی جاۓ جو اس وت موجور ٹہ ہوث اجارہ چ میں ے اور گر اجرت کا 

مال انار ہکرتے دقت موجور ہو تو پھ رکوگی حرج ملیں۔ ۱ 

سیل ٠: ۲٣۷۰۳۴‏ جس مفس نے کوئی ہچ زکراے پر دی ہو وہ اس ہن ہک وکرلیہ در کی جو پلی مس 

دینے سے پل کرراۓ ک کا *طال ہکرنے کا صن میں رکتا اور اگ رکوگی شس کو لم رانجام دسینے کے لیے 

یہنا ہو نو جب تک وہ کلسم سرانجام شر وے وے اجرت ککا مطال ہکرنے کان نہیں رکتا۔ 

مل ۲٢۷۰۴۳‏ : نگ رکوئی مح سکراۓ ہر گی چ کرلے دار گی تحول میں دے وے 7 زی 

ریہ دا اچ یر قضہ نکمرے پا ق کر نے لان اجارہ ضحم ہونے تک اس سے فائدہ نہ اٹھائۓ پھر 
نے پا کہ مان فک اجررت او ا رے۔ 

مستلہ ۲٢۰۵‏ ٭ آ رکوئی جح سکوئی ککام ایک معید و نکو سر انام رسینے سے لیے اتبرین جاتے 

مشنن ارت 4 وو کا مکنا منظو رکر نے) اور ا دن وہ کا مککرنے 2ت سے تار ؛و جاےء " نس شض 








توضیم‌المسائل )([ 1 وقیا 


نے اسے اق ریا ہے خواد وہ اس ون اس سے کام دہ لے اس کے لیے ضرورئی ہ کہ ا کی احرت 
اس دبے وے۔ ملا اگ کی درز یکو ایک معونہ ون لپاس نے کے لیے اترتا جائے اور درزئی اس 
رن کا مکرتے پر تیار ہو ت اگرچہ مالک اسے سی کے لی ھکپڑا نر رے جب بھی اسے پا کہ را لے 
ا کی مزدوری رے وے۔ فع نظمرای ےکم ددزی پیر ربا ہو یا اس نے اپنا یا گی دوسسرے کا کم 
گیا ہو- 

مستلہ ۲۲۰۷ ٠‏ گر مہا رو کی برت شخ ہو جانے کے بعد معلوم ہوکہ ابارہ بال تھا تو منتاج کو 
چا نے کہ عام طور بر اس پچ رکاج ھکرایہ ہوا ہے مال کے ال فکو رے درے ملا ار وہ ایک مکان سو 
روپ ھکرایہ پر ایک سال کے لیے کے اور بعد میں اسے پد کہ اجارہ ٹل تھا تار اس مان کا 
کرای عام طور پر پچاں روپے ہو اسے چان کہ پچاں روپے رے اور اگر اس کاکراے عام ور پر وو 
سو روہے ہو فو اکر مکا نکرایہ پر رپیے والا مالک کان یا اس کا وکبل ہو ا ضرری نمی ہ ےک مستاجر سو 
روۓے ے زیادہ 0 ان کے علاوہکوئی اور مس ہو متاج دو و رو دے اور اگر اچارے 
کی پھھ ری گمزرنے کے بعز معلوم ہ وکہ اجارہبال تافو جو بر تگزر ہی ہہو اس پر بھی بی عم جاری 
ہوگا۔ 


مستلہ ے۴٢۲‏ : نجس نک اجارہ پر لیاگیا ہو آگر وہ تکف ہو جائۓے اور صتاجر نے اس کی 
گرراشٹ می ںکو بای نہ پرکی ہو اور اس سے فائدہ انٹھانے میں بھی افراط سے کام نہ لیا ہو ٹو روہ اس 
کے حلف ہونے کا زمہ وار خھیں ہے۔ سی طرح مال کے طور ب گر درز یکو دیا گی اڑا نیف ہو 
جائۓ اکر درزی نے بے اعتدالی نکی ہو او رسپ ےکی گدداشت میں مھ یکو باسی نہ برآی ہو فو اس کے 
یئ کپڑے کا عوض ویتا ضروری نئیں۔ 

مہ ۲٢۰۸‏ : جو نکی کارکر نے لی ہو اکر وو !سے ضا کر دے تقو زمہ وار ہے۔ 

مہ ۲٢٣۹‏ ۰ گر قب کی جاور کا س رٹ ڈائے اور سے عراممکر دے تو ڈراہ اس نے 
مزددری کی ہو با با معاوضہ ذی کیا ہو اے پا کہ جو رکی قھت ای کے ال کو وا کرے۔۔ 

ہل مو۲ اگ رکوئی من سکوئی جفو رکراے بر لے اور می نککرے ل ہکتطا ہو ھ اس بر لاوے ۴ا 





توضییچالمسائل ۲ ڑاجمه] 


اکر وو اس بر اس ہدار سے زیاد: پوجھ لارے اور اس وجہ سے اتور مرجاۓ یا جیب وار ہو جائے تو 
متاج زمہ دار سے نیز گر اس نے بوچھ کی مقدار منشن نہ کی ہو اور مممول سے زیادہ وھ جانود پے 
لارے اور چالور لف ہو جائے یا جب وار ہو جاۓے جب بھی متا زمہ وار ہے اور ووولں صورنل ںی 
متاجر کے 22 بی ھی ضروری ےکہ صمول سے زیادہ اتوت ار ا گرے۔ 


سمل ۲٢۷‏ : انگ رکوتی مس جوا نکو ایا علان لارے کے لی ےکرائے 4 وے جو ٹویۓے والا ہو اور 
انور گلسلل جاۓ یا بک کھڑا ہو اور الا نکو قوڑ پچھوڑ رے تو جافور کا الک ذمہ در خمیں ہے ال گر 
الف جو رکو مارے پا ایا بی کوئی اور فف لکرے جس کی وجہ سے جافو رگر جاے اور مرا ہوا سامان لڑڑ 


درے و مالک زمہ رار ے۔ 


مل ۲٢۳‏ : ا رکوئی نس بے کا خقنہکرے اور بچہ ا ںکی وجہ سے مرجائے تو خوآہ ج رگوشت 
کاطا ہو وو صعمول سے زیادہ ہو یا ز. ہو خق کرنے والا زمہ وار سے لکن اکر چے کو ضرد یچ (ششنی بچہ 
رے ہمیں) اکر ممول سے زیاددگوشت کاٹ ہو تو زمہ وار سے من اگر صعمول ستہ زیادو نہ کنا ہو 
پھراس کے ذمہ وار ہونے می اشقال ہے اور احھط ہہ کہ م٦ن‏ کی جااب جو ع کیا جائے لی مامت 
کر لی جائۓ۔ 

متلہ ۲۴۸۳ ۰ جب ایک واکٹراپنے پاتھ سے کی مر کو روا رے تے لکر دہ ططاع میں شی 
کرے اور مری شکو ضرر یپیچے یاوہ مرجاے نے ڈاکٹر ذمہ دار سے ہا ہں اگنر ڈاکٹر جےکمہ فلاں دو فلا مرش 
کے گے مفید سے اور دہ دواکھان ےکی وجہ سے مرین کو رر چیچے یا دہ مرجائے ق (ڈاکڑ) ذمہ داد شی 


ےی 
7 


منلہ ٣۲۴‏ : جب ڈاکڑ مریطش ےکمہ رد ےکہ اگر ےکوی ضرر بات میں ذمہ وار شی ہوں 
زار اتید سے کام لے اور ری می شک ضر پچ ارہ م رجا گر ڈاکڑرنے اسے اچ 
باتھ سے دوادی ہو تا جم وہ لق ڈاک) ذمہ وار خیں ے۔ 

مل ۵ جس مخصس نل ہکوئی چنزاجارے پر دی جو وہ اور متاجر ایک دو سر ےکی رضامندق 
سے اجار ش کر مت ہیں اور اکر انجارے می ہہ شرط عائ دکری کہ دہ دونوں یا لن میں سے ایک موا 





توضیح‌المسائل __. 1-0 
کو کرنے کم رکتا ہے ق دہ معارے کے مطلبق اجرہ نکر یت یں۔ 

مل ۷ اگ مل اجارہ بر رین والے پا متا کو پت پچ کہ دہ گحھائےے مس دہا سے اگر اجار 
گرڈ کر ران اعرکی جانب موجہ نہ ھاکہ دہ گوانے م ہے تو اعادد کر من ہے مین 
ار اچارے کے یی ین سے يہ شرط عائھ کی جا ےکہ اہ ان مس س ےکوی ھا میں بھی رہے گ2 اے 
اجارہ ش کرتے کا مق میں ہوگ نو چلردہ اجار: ش خی ںکر ککت۔ 

لہ ے٢۲‏ : رکوئی مخ س کوئی یز ابارے پر رے اور اس سے چٹ کہ اس کا بضہ متتاہ کو 
دےکوئی اور خی اس چ زکو غس بکر لے بر متاجر اہارہ کر سا ہے اود جو چیراس نے اجارہ یر 
دسینے دا ےکو دی ہو اے والیں نے سکتا ہے یا یچ یکر سا ہےکہ اجارہ کرت ای وت 
وو یز غاصب کے پا ری ہو ا ںکی عام طور پر لی اجرت بے وہ طاصب سے طل ب کر نے۔ لوا گر 
ممتاجہ ایک جیدان کا ایک می کا اجار دس روپے کے عو شکھرے او رکوئی مخ اس جوا نکو وں رن 
چ لیے غص ب کر لے اور عام طور پر ایس کا وی دن کا اچارہ پُررہ روپے ہو او متابر پتارہ روپ 
فاعب سے نے سنا ہے۔ 

مملہ ۲۲۸۸ : بثر متاجر اجار کردہ کو اتی تحویلی میں لے کا ہو اور اس کے بع رکوئی اور 
مس بر ں نزک غصب کر نے متاجر اجار: ٹن نی ںکر سلت ہے اور ضرف ہہ جم رکتا ہج ےکلہ اس چچز 
کاعام طور پر جقناکراہہ غما ہو وہ طانمب سے حاص لکر لے_ 

مل ۲۲٢۹‏ ء: ڈ اکر اجار وکی مرت شقم ہونے سے پل الک اپا مل مستاج کی باجتھ بج ايك ابر 
یں ہوا اور متاج کو چا کہ اس پت زکاکراے مال کف کو رے اور آگہ ام مالک وہ متا ج کی علاوہ سی اور 
نس کے باقھ یچ رے تب بھی بھی عم ے۔ 


مل ٣٣۲٢‏ اکر اجار کی مرت شروغ ہونے سے پل اجار: کمال ای رح خراب ہو جا ےک 
لکل امتفاہکرنے کے ققال نہ رہے یا ال رح اتفادہکرنے کے تاب نہ رہے جے یی ےک لے ےکیاکیا و 
اجارہ باطل ہو جا ہے اور متاجر اجار کی رآ الک ے وایر نے لکنا اور اکر صورت ہے ہوک 
اس مال سے تھوڑاسا اتفا ہکیا جا سکتا ہو ا متاجر یارہ ب کر سنا ہے۔ 











سلہ ۲۲۲۲ ۰ گر نوئی غن کوئی چزدبارہ پر نے اور بچھ بد گزرنے کے بعد ایارہ کال اس 
طرح فراب ہو جا کہ پائئش تال استفادہ نہ رہ پا جو استفادہ لیے کک اکیا ہو اس کے قائل نہ رسس 


5 7 لہ 0۱ بآ 1 1 و 2 7 
: ال ماندہ بدت کے لیے اجار پاشل ہو جانا سے اور متاج لزری ہوٹی یرت کااجارہ ”ابر زاخل ٥‏ اس 
حا 07 رپ ڑے۔ سم 

کت رن وہ نز تما کی کے ور میں گی عام اھت) و7۸ اچارو کوک رما سکاسہ 


مسنیلہ ۲۲۲۲ : ا رکوئی شف سکوتی اییا سکا نکراۓ بر دنے نجس کے شا دو کمرے ہوں اور ان 
میس سے ایک گرہ خراب ہو جا 0 7 را ا یگی رت کرادت اور بی سے جو ڈاکرہ اھایا جا سکم 
ہو اس می ںکوائی فرقی نہ بڑے نو اجارہ پاٹل نیس ہوااور صتاجر بھی اے مخ ۶ نمی کر سکم مین رر اپ 
مر ےکی مرصت میں اتا وضند لگ جال ےکہ متاب کو اس ے جو اتفا کر وو ا گیا: پک منزاز نضالحغ 
ہوبائۓ زاس عقدا رکی حر تک اہارہ باطل ہو جاۓ گا اور صتاجر ساری برت کے لیے اجارہ ش کر کا 
سے اور ج ون استفار گیا ہو ! 7" کی جرۃ الشل' رے کت ے۔ 


مت ۲٢۲۱۳‏ گر ال اجارہ 4 و والا یا ماج مرجاۓ ز اچارہ اٹل یں وا ان آر اچارہ 1 
پر دسیۓ والنے کا مکان اپا ل و شلاکسی دومرے نس نے وصی تکی ہوک جب گنگ دہ (اجارہ پر سی 
وال) زندو ےج مکا ن کی مل ا کاال ہو گا۔ تر وو لمکا نکراۓ 7 دے وے اور ابا ری مت 2 


وس یھ کک مرجاأئے نو ای سک تن کے وقت ے اہارہ پاطل ہو گا۔ اور ار موجود مال اں اجارہ 


کہ پان زکر دے ‏ اجادہ ضچخ ہے اور اجارہ بر وین والے کی موت کے بعد اجادہ کی ج مدت بائی ہو گی 
ا کی اجرت اس شف یکو ےکی جو موجودہ مالک ہو۔ 

لہ ۲٢۳۴‏ : .اگ رکوئی کا مکرانے والو نس کی مما رکو اس مقر سے وکیل بنا کیہ وو ای 
کے لیے کاریگر میا کر وے نے اکر ٭عمار نے جو سپٹھھ اس شنس سے نے لیا ہے کاریکروں کو ان سے کم 
دے و زاند مال اس پر ترام ت اور اسے چاٌۓ لہ وہ رت مل کک وا ںککر وے نیشن اکر مار اق ری 
جا ےک غمار کو عم لکر دے گا اور وہ اہین لیے ہہ انقیار عاص ل کر لےکہ خود بنا ےگا یا دوسرے 
سے موا گا اس صورت می لکہ مھ کم و رکرے اور بای ماندہ دوسروں سے اس ارت سے کم 
ارت پ گرا شس پہ مود ارجا ہے زائعد رم اس کے لیے علال جوکی۔ 


سیل ۲۲۲۵ ٠‏ ج ر ریز اقرا رر ےک شا یڑا نل سے رکے گان لگ دہ خ لکی ہیاے اے 








توضیج‌المسائل ٠‏ بے ا لوا تا 


تی اود یز سے رگ رے تو اسے اجرت لی کاکوئی حم نیں۔ بکمہ اس دو سرے رک سے اگ رکپڑے 
کو ہکھھ نقصان پپتی ہو تو اس کابھی ضامن ہو گا۔ 


بَا کے احام 


مستلہ. ٠ ۲۲۲٢‏ جعلہ سے عرادیہ ہےکہ انان وعد کر ےکہ اکر ایک کام اس کے لیے انجام دیا 
جائۓ گا تو وہ اس کے برئے ایک مین مال دے گا لا ىہ ےکہ جو ا ںکی کمشدہ جز رآ ھکر رے گا 
دہ اے: دی روپ رے گا اور جو عفس اس تم کا اطا ن کرے اسے "باعل اور جھ شخیں وہ کم سر 
انجام نے اسے عائل کت ہیں اور جعالہ اور اچارہ نے باٹین ہے فرق ہ کہ اجارہ مم صیفہ پڑ نے کے 
بعد اترک کام انجام دینا اجے اورجس نے اسے اق تی ہو وہ اجرت کے لیے اس کا متروض ہو جانا سے 
ین بعلہ میس اکرچہ عال ایک مین شنخ ہو ناہم ہو سکنا ہےکہ وہ کام میں مشقول ‏ ہو اور جب 
تک وہ کم انجام نہ رے نر باعل اس کا مق وض میں ہوتا۔ 

مستلہ, سے ٠ ۲٢۲۲‏ باعل سے لیے ضردری ہے کہ لغ اور عاقل بد اور جعالہ کا اعلان کے ارارے 
اور افتار نے کرے اور شرعا“ اپنے مال میں تر ف کر سکم ہو۔ اس بنا یر نیہ نس (جھ شف انا مال 
بیسود دکاموں پر صر فک ہو) کا جعلہ جج نیس ے۔ 

مل ۸ ججوکام جائل لوکوں س کرات چاہتا ہو وہ تام یا بےہ فاحدہ خی ہونا چایۓ اور ۔ 
بھی ان وابات میں سے ہونا چایے جن کا بلامحاوضہ بلانا شا“ مازم بد۔۔ لیا اگ رکوئی ےک جو مخ 
شراب پے گایا رات کے وفت ایک ناریک تجکہ پہ جائئے گا یا اب خماز پڑھے گا ہی اسے دی روپ 
زیں گا تو بعالہ گج نہیں ہے۔ 


صَیل  ۲۲٢۲۹‏ ججائلل جو مال دی کا وعدہکرنے ار اسے ملین کردرے لا بب ےکہ ج وھکوئی مرا 
کھوڑا علاش کر دے گا میں اسے بی ندم دوں گا ضردری نی ںکہ جا ےککہ یندم کم کی ہے اور 
ا کی ق ت کیا ہے شکن اکر وہ ما کو ضتین نکرے لا ک کہ ج وکوئی می امو ڑا رآ ھکر رے گامیں 
اسے دس مم نگندم دوں گا اسے چا ےکہ ا لگند مکی خصوصیات بھی کل طور بر ۰نی نکرے۔ 








توضیی‌المسائل ( دی ] 


مہ ۳۲۳۳۴ ۰ اگر جاع ل کسی کا مکی مزدوری مین ن ہکرے خلا یہ ےکک جو میرا پچ علا شک 
درے گا میں اسے رتم دوں گا نیکن رق کی عقدار کا تین ن کرے نے اگ رکوئی خی اس کام کو سرانجام 
رے تر جائ لکو چا کہ اسے اتی اجرت دے جن ی عام لو ں کی نظروں میں اس عم لکی اجرت قرار 
پاجے۔ 

مل ٠ ۲٢۳‏ ار عئل نے جاعل کے اعلان سے پل وہ کا مکر دیا ہو یا اعلائن کے بعد ا نیت 
سے وہ کام امجام رےککہ اس کے پر لے رت خمیں لے گان روہ ارت کامق نہیں رکتا۔ 

لہ ۲۲۷۳۳۲ : اس سے پٹ کہ عالل مطلوبہ کم شرو عکرے باعل بتعلہ کو مضو غکر کتا 
مسنیل ٠ ۲٢۳۳‏ جال کا مکو اوہورا چھوڑ سنا سے لین اک رکم اوہورا چھوڑنے میں اہ لک وھکوئی 
نان پنچتا ہو نر عا لکو چا کہ کا مک وھ لکرے لا اگ رکوئی شنخیں ب ےکم ج ھکوئی میرىی آگھ کا 
علاخ گر رے میں اسے ائی مقدار یں معاوہ ووں گا اور ڈاگکٹر ال کی آکھ کا آب ریش کر رے اور 
صورت پہ و وکہ اگر دہ علاع عھمل نہکرے تو آگھھ میں عیب پیا ہو جائے تر اسے چا ےکہ انا مل 
تحیل کک پپجیاۓ اور آلر اوہورا چھوڑ رے تو جاکل سے اجرت لیے کا اس ےکوئی طحق نہیں۔ 

منتلہ ٠ ٣۲۳۳۴‏ ار عائل ام ارھورا چھوڑ رے اور وہ کام ایا ہو جیے گھو ڑا علا شک رناکمہ تی 
کے کل کی بفی جع لک وکوتی فائدہ نہ ہو نز عائل جائعل سے کسی چ رکا عطالبہ خی ںکر کت اور جال 
اج کو ما مکھ لکرنے سے مر ذکر رے مب بھی بی عم سے لا جب دہ ےکہ جھکوگی مدکی ۹ 
سی گائیش اسے دس روپے روں گا لگن اکر ا کی مراد ہہ ہوکہ جشنی مقدار میس کا مکیا جا گا ات 
ما رکیل اجوت رے گا نو پھرجاع لکو چا ۓےکہ جننی مقار میں کام ہوا ہو اتی مقدا رکی اجرت عا لکو_' 
رے زے ارچ اعقلا بہ ےکہ دونوں مصالقت کے طور بر ایک دوصر ےکو راش یک ربیں۔ 


مزارعہ بت کی بائی ) کے احکام 


مل ۲۳۲۰۵ 7 مزارعہ سے مرا ہہ ہ ےکہ زری زین کا الک کاشتگار سے اس عم کا مہ ہکرے 





توضیم‌المسائل ).| 474 ] 


کہ ای زشن اس کے افقیار مس رے دے تاکہ وہ اس میں کش تکرے اور یی اوا کی کچھ منقرار الگ 

کو دے دے۔ مزارع کی چند شرائلا ہیں : 

اس ب کہ زشن کا ماک کاشگار سے ک کہ میں نے زعن یں عق بای کے لیے دی سے 
او دشار بھی کہ ہش نے قو لکی ہے یا بنیراں کےکہ ذبنی بچ ھی ملک کاشار 7 
تق باڑی کے ارارے سے زین دے دے اور کاشتگار قول کر لے۔ 

٢‏ زین کا الک اور کشکار دوٹوں بل اور عاقل ہوں اور مزارعد کا معاہرہ اسپنے قمیر اور 
ایار سے مرا حجام دیں اور سفیہ نہ ہوں نشی اپنا مال بیسودہ کاموں میں صرف بر کرتے 
7 

...٣‏ مالک اور کشکار زین کی ساد اداد یں شریک ہوں لزا مل کے طور پر گر وو نے 
شر ٹےکری ںکہ جو پدادار پچ ا آخ میں عال ہو وہ ان مس سے کسی ایک کیل ے 7 
مزارعہ بل ے۔ 

ٹین مش سے جرایک کا حصہ پداوار کا صف ما ایک نتائی ویر ہو بی اگر ملک کے 

۱ کہ ال زشن میں کش باڑ کرد اود جھ تمارا تی چاہے مشھہ نے وینا ہہ درست نہیں ہے 
اور ای ع٣‏ اگر پیدادار کی ایک مین مقرار ملا دس من مانظار با الک کے لیے مقر رکر 
دی جا تس بھی کچ نہیں ہے۔ 

۵ .سد فی مت کے لیے زم اشعکار کے تنے. میں رہتی چاپنے اس مین کر ریں اور 
دی ہج ےکہ وہ حدت ات ہ کہ اس مدت می پیداوار عاضل ہوت مان ہو اور آگر بر ت کی 
اتداء ایک محصوس رن سے اور برت کا انام فل کے عاصل ہو کو عقر رکر دیی کاٹ 


ہے۔ َ 

۷س زین قال زراعت ہو اور گر اس میں زراعت منکن نہ ہو فان :ایا کام کیا چا سلتا ہو 
جس سے زراعت مھکن ہو جائۓ تر ہزارہ سج ہے۔ 

2م اکر دویں کا مقصی کسی تقصوص فصل کی کاشت ہو جھ نز یکا کو کاش ت کرنی چا 
اسے می نکر ریں مین اگ رکوئی تحصوسص زراعت پل نظرنہ ہو با جو زراعت ووفیں کے 
یی نھرہو اس کا عم ہو اسے می نکرنا طردری نہیں_ 











توضی‌المسائل . )دیو : 


۸ ..۔د ہلک کے یئ زین کو ممین کر ضریری ممیں میں اگ رکوئی مخ زین کے چنر تطد 
رکتا ہو جو ایک دوصرے سے مخلف ہوں اور وہ کاششگار سے ک کہ زین کے ان فطعات 
میں سے کسی ایک میں حیبق باڑ کرد اور اس قطع ہکو مین ن ککرے لیکن اس کے اوصاف 
می نکر وت 

۹ ھھ خر ان میں سے پر ای کو برداش ت کر ہو اسے ممی نکر دیں لن اکر جھ حرج ہر 
ای کک وکنا ہو اس کاعلم ہو نو پچھراس کا می نکرنا ضروری نھیں۔ 

متلہ ے۲۳۲۳ : ار ملک باشثار سے س ےکر ےکہ پدراوا کی یھ مقدار ا کی ( مین مان ک کی 

ہووگی ) اور جو اتی ےکی اسے وہ آلیں میں تق یمر لیں کے نے گر انہیں علم ہوکیہ اس مقدا رکو سورد 

کرنے کے بعد کہ ن کچھ تی پا جائے گا نز مزارعہ سخ ہے لن اط تخب ىہ ہ کہ اس سے پربیز 


سے 
سی 
تچ 


مستلہ ۲۲۳۸ ۰ ار مزارع کی برت شخم ہو جا اور پیداوار ابی وستیاب نہ ہو اکر مالک زین 
اس جات پر راضی ہوکہ اجرت پر جا افر ات کے فصھل ا سکی زین می سکھڑی رہے اور کاشنگار بھی ٠‏ 
راضی ہو نکوئی حرج خمیں اور گر مالک راضی نہ ہو نو وہ کاشنکا رکو و رکر سنا ےکم فصل زبین میں 
سے کاٹ نے اور اگمز فصل کٹ لیے سے کاشظکا رک وکوئی خقصان بی نے مالک کے لیے ضروری مممی ںکہ 
اسے اس کا عوض دے لین اکر کاشگار من فک ھکوئی یز دینے بر رای نہو تب بھی دہ مان ک کو اس بات پہ 
ور خی ںکر سناکہ وہ فل اپی زشن بر رپچ رے۔ 

متلہ ۲۳۲۳۹ ۰ ال رکوئی ای صورت بی آجا ۓےکہ زشن میں میق باڑ یکرت محکن نہ ہو شا ٠‏ 
زین سے پالئی منضع ہو جا ل7 مزارع شخح ہو جانا سے اور اکر کاشگار بلاوجہ تق باڑی نہ کرے نو آگر 
زین اس کے تصرف میں رىی ہو اور الک کا اس می ںکولی تصرف نہ را ہو فو کاشتکا رک چان کہ عام 
شرع پر اس مر تک اترت الف ک رے۔ 

مسنزلہ ۲٢۴٣۴‏ : نفر ماک زین اور کاشککار میضہ بڑھ گے ہوں و ایک دوسرے کی رضامندی کے 
یی زارعہ ضنوغ خی کر کھت او بعیر نیں ہ ےکہ اک الک مزارعہ کے ارارے سے زی نکی مخ یکو 


دے دے تب ھی ایک دوسر ےکی رضا منری کے ایوہ معاللہ ٹا کر کی شیکن ار مزارہ کے 








توضیحالمسائل 0 )[ ٤7ھ‏ ا 


ساہرے کے مل میں انموں نے شر ےکی ہوکمہ ان میں سے دوٹو ںکو یا سی ای کو معاللہ مم 
کر کاحؾ حاصل ہ+وگات جھ متارہ انموں ن ےگ رکھا ہو اں کے مطلق معالہ کر کے ہیں۔ 
متلہ ۲۲۴۱ ؛: گر مرھد کے معاہرے کے بعد مالک زین یا کاشگار مر جاے و مزارصہ وخ 
نہیں ہو جانا اور ان کے وارٹ ا نکی کہ لے لیے ہیں لیان اگ ر کاشفگار مرجائۓے اور اس نے سعاہ ھکر 
رکھا ہوکہ خو رکاش تی کرے گا قز ھزارعہ مفسوخ ہو جاا ے اور ار زراعت ہمایاں ہو کی ہو تٍ اس کا 
حصہ اس کے ور اکو رے دا چان اور جو دوسرے حقوق اشنا رکو حاصصل ہوں وہ بھی اس کے ورما مکو 
میرٹ می مل جاتے ہیں لن وہ ان ککو اس بات پر جبوہ خی ںکر کہ ُھمل ا سکی زشن می سکھری 
رص 

ممتلہ ۲۲۲۳ :۰ اگ رکشت کے بعد پنۃ ج کہ مزاوعہ باطل تھا نز آگر جو پچ ڈالا گیا ہو وہ ماگ کا 
یل ہو و جو فصل اہ آن گی دہ بھی اس کال ہ وی اور ا سے چا کہ کاشنکا رکی اجرت اور جو یھ اس 
نے فی کیا ہو اور کاشتکا رکی مملوکہ جن بیلوں اور دوسرے جانوروں نے زین بر کا مکیا ہو ان کاکرایہ 
کشکا رکو رے اور مر پچ انار کال ہو نز پل بھی اسی نال ہے اور اسے چا کہ زین کاکرلیہ اور 
ہج وھ مالک نے خر خکیا ہو اور ان بلوں اور دومرے چالوروں کاکرایے تو پان کے ہول اور جنوں 
نے اس زراعت پر کا م کیا ہد مال گکو درے دے اور دوفو صوروں میں عام وب پہ فرنشین کا جج غا 
ہو اگر ا سی کی مقدار لے شدہ مقرار سے زیادہ ہو و زیادہ مندار ینا ولجب جیں۔ 

مل ۲۲۴۳ ۰: گر بشگا رکا یل ہو اور کاشت کے بعد فرفشی نکو پند چ کہ مزارعہ پاضل تاپ 
أکر مالک اور کاشفکار رضامند ہو ںکہ اجرت بر یا لا اجرت مل زمین م سکھڑی رہے ن دکوتی حم نیس 
سے اگر مالک راضی نہ ہو فصل کے سے چم بی دہ کاشطگا کو مجبو کر سنا کہ اسے کاٹ لے اور 
اگرچہ کشگار اس بات پہ تار ہوکہ دہ ماف فک وکوئی چیزدے دے ہم دہ اسے نل اپنی نشن میس رچے 
دینے بر مور نمی ںکر سکتا اور مالک بھی ساشکا رکو مور نمی ںکر ستاک کرای ہے کہ فل اس کی 
نین ب سکھڑی رپ دے۔ : 

مسنلہ8 ۲۲۴۴ ٠‏ _گمر فص لکی جع آوری اور مزارع کی میعاد شخم ہوئے کے بعد زراع ت کی جڑیںی 
زین می رہ جانیں اور دوسرے سال فصل ری نے اکر مالک نے مار کے ساختھ راع تکی جڑوں مل 





توضیح‌المسائل ( +بی+ا 


اشک کا متلہرہ نکیا ہو ز وسرے مالک فعل پک زین کال ہے ۱ 
مماقات اور مفارسہ کے اکام 


مسنتلہ8 ۲۲۲۵ ٠‏ ار نین اس م کا سوا کر ےکہ میدہ دا درختو ںکو جن کا سیل ود اس کا 
بل ہو پا اس پل بر اس کا انقیار ہو لیک مقردہ برت کے لی کسی دوسرے شنفس کے سپ کر دے اکم 
دہ ان کی ت داش تکرے اور انی پالی روے اور نی مقدار وہ آہیں جںل ےکر اس کے مطاق وہ 
ان ورضنوں کا بل نے نے تو ایا معاللہ ”'مساقات'کھلا]ا ے- 

صبیتلہ ٠ ٣۳٢۴۷‏ جو ورخت پل نیس رت ( خلا برار اور چنار ) ان کے پارے میں مساقلت کا 
زوا گج نہیں سے اور تن درضتوں کے چوں سے استفار کیا جا ہے (شلا ند کا ررشت) ان کے 
بارے میں مساقبات کا معال ہکرنے میں اشال ہے۔ 

منتلہ ے۲۲۴ ۰ سائرت کے موالے میں صیفہ پڑھنا ضروری یں یہ اگر ورشت کا )لگ 
مسائقلت کی خیت سے ا ےکی کے سی یکر وے اور جس شخ سکو کا مکرن ہو دو بھی ابی خیت سے کم ٠‏ 
میں مشفول ہو جائے تر معاللہ جج ہے۔ 

میلہ ۲۲۲۸ زرشوں کا .]لک اور جو ٢نخس‏ درخنے ںکی گگرداش تکی ژنہ داری لے دوٹوں پاِغ 
اور عاقل ہوئے ٢چ‏ اور ہے گی ضردری ہ ےک کی نے انمیں معال دکرنے پر ور ن ہکیا ہو اور لاذم 
ھا مفیہ نہ ہوں نی اپنا مل جیہودہ کاموں میں صرف نہکرتے ہوں۔ 

سزلہ ۲٢۲۲۹‏ : ساہاتکىی یرت متعین ہونی چایئے اور اکر فرین اس بر ت کی ایتاء متتی نکر 
وی اور اس کا انام اس وق تکو قرار یں جب اس سال کال راب ہو نز سولہ حخ ہے جن ال 
میں ضردری ہب ےکہ اتی بدت مین کی جال ےکہ جس میں عائل کے معمل سے لن درخوں کے پھطوں 
میس سپھہ خی رمعموی اضافہ ہوئے کا امکان ہو۔ 

سیل ۲٢۵۰‏ : ہر خریق کا حصہ آدھا یا الیک اتی وظیرو ہونا چایے اور اگر معاہر ہکری یکہ مل سو 
من مد پک کااور بای کا مکرنے وائے کا ہو گا معللہ پل ہے۔ 





توضیع‌المسائل 8 
سمل ۲٢۵٢‏ : فرشی نک چا کہ مساقات کا سعللہ میدہ ظاہر ہونے سے پل ےکر لیں۔ اور 
آگر موہ اہ ہوئے کے بعد اور سے پل مع ہکریں اکر کیچ دی ککم جو ددشت کی پردرشش 
کے لیے ضردری ہو اتی نہ رہ ہو ق معللہ کچ نمیں ہے ارہ میدہ ڑنے اور ا سکی طاظت وغیرو کے 
کا مکی ضردرت بائی ہو جلہ نکر اییا کم بھی باتی ہو جھ درخ کی پرورش کے لیے ضردری ہو تب بھی 
مساقات کے معللہ کی صحت گل اتال ہے۔ 

مکل ۲۲۵۳ ٠‏ خیوزے او رکیرے ویر و کی بیلوں کے بارے میں ساقلت کا حوللہ ورست 
نہیں ے۔ 

مل ٣۳‏ |٭ ہ درشت بارش کے پالی ما نشن کی نی سے استفادہکرا ہو اور سے تی کی 
ضرورت نہ ہو اگر اے دوسرے کاموں شا زین نر مکرنے او رکھاد ڈال ےکی عایعت ہو تڑ اس کے 
پارے میں ان کاموں کے لیے ماقیات کا موالل کر نا مھ ے۔ 


لہ ۴ ۔ٔ دو افراد ہنموں نے مساق تکی ہو بابی رضامندری سے معاللہ کر یت ہیں اور 
اکر ساقات کے معاہرے کے سے میں یہ شرط لے کری یکلہ ان دونو ںکو یا ان میں سے می ایک وہ 
معللہ ہا کرنے کان ہوگا تو ان کے ہٹےکردہ معاہرے ےہ مطابق معاللہ شنککرنے میں کوئی رع نہیں 
اور اکر مساقات کے معالے کے سللے می ںکوئی شر لے کر میں اور اس شرط بر مل نہ ہو تو جس مس 
کے فائرے کے لی دہ شر ےکی ہو دہ مال ےکو کر تا ہے۔ فی نکوتی ایی شرط نہ کری نک 
و ممدا اور رہول کے قران کے غلاف ہو۔ 

مل ۲۲۵۵ : 0ء۲ 9 ۸ ش اس گی 
مہ پت یں۔ ۱ ۱ ٰ 
مل ] دورخحو ںکی پور جس فص کے بر دک گنی ہو دہ اکر مرجائے اور معاہرے میں 
یہ شرط عاحد نہ کی گنی ب کہ دہ خود درخ ل کی پور شکرے گا فو اس کے ورماء ا کی کہ لے لیت * 
ہیں اور اکر وہ ورماء خوو ھی ورخوں کی پرورش کا کم انام شہ دریں اور اس متیر کے لی کس یکو ار 
بھی مقرد نہ کریں تو عاکم شرع عیت کے مال سے کی کو ا مقر کر دے گا اور جھ آدی ہہوگی اے 





توضیچالمسائل_ ہے )۷ ہہ ا] 


بیت کے وراء اور درشنوں کے مالک کے بین تق مکررے گا اور آمر فرنین نے مع ہکیا ہ وکہ وہ 
شس خورورضو ںکی پرور شکرے گا اس کے مرنے کے بعد معاللہ بائل ہو جاۓ گا۔ 


مستلہ ے۵٢۲‏ ۰ ارب شرے لس ےکی جات کہ تحام آمدم مالک کا مال ہوگی قوذ مساقات باطل سے اور 
مید ماک کا مل ہو گا اور جس شفیں نے ما مکیا ہو وہ اجرت کا مطاہ نہیں کر سکتا لن اکر مسانقا تی 
اور وجہ سے بافل ہو فو مال ککو چا کہ جئچے اور دوسرے کا مکرنے کی اجرت درخقل کی وورش 
کرنے وا ےکو صعمول کے مطابی رے لان اگمر صعمول کے مطاب اجرت سے شدہ اجرت ے زیادہ ہو 
فو لے شدہ اجرت تے زیادہ ویتا ضروری ش<یں- 


متلہ ۲۲۵۸ : اگ رکوئی مس زین دوسرے کے پر دکر رے اک دو درخت لگا اور جو پچجھ 
عاصلل ہو وہ دونوں کا ال ہو فو معالمہ ال ہے لنا گر ورخت زین کے مالک کا مال تے ز پرورش کے 
بعد بھی اسی کا بل رہیں کے اور اسے ای نےکہ جس منص نے ا نکی پرور کی ہے اسے اجرت دے 
اور گر ورشت اس شف کا مال ہوں جس نے ا نکی پردر کی ہو فو پرورش کے بعد بھی وہ ای کا مل 
ہوں گے۔ اور وہ انی اک کا ےچ البت درختو ںکو اگھیٹرنۓ کی وجر ے ج وگڑھھے پا ہو جائیں اے 
چا کہ انی پ کر دنے اور ٹس ون درشت لا ہول اس ون زین کاکرانے اتک زیی ن کو رے اور 
الک بھی اسے ورشت این بر جو رکر سنا ہے اور اھر درخ تکو اھیڑے اور اس کے اگھیڑرنے سے ان 
ی سکوئی خرالی پا ہو جائۓ نو مالک زین اس کا ذمہ داد ٹیں ہےن پل اہ مالک زشن خود درخ ںکو 
اگھیزے اور اس کے اگھٹرنے کی رجہ سے ان مم سکوئیْ خرای دا جائے آ اسے چا کہ سال اور 
عیب دار ورخمژ ںکی تجت میں ج فرق ہو وہ درخول کے مال کفکو رے اور ورخنتوں کا مالک زین کے 
ان ک کو ور می ںکر سکتاک کرائۓ پر یا بض رکرائۓ کے درخنو ںکو انی زین پ ہکھڑا رے دے اور ای 
طرح زین کا مانک بھی درشنوں کے ان ککو جبور خی کر سن اک کرات بر یا ای کرائۓے کے ورختو ںکو 
ا کی زشین مش رےے رے۔ 
7 ا ۰- 
وہ نطاص ج نکی اپ مل میں تفرف سرنامع ہے 
مہ ۲۲۵۹ ۰ جو بی لغ نہ ہوا ہو رہ شرہا“ اپنے مال میں تصرف نمی ںکر متا اور بالغ ہون کی 
نان جن زیو میس سے ایک موتی ےس 








توضیمرالمسائل ھ ۲90۵ 


ر... بیدا کے یچ اور شر گلہ کے اروگرد اور اور پلوں کا گنا روگٹوں کا ہونا انی غنمیں۔ 

×..._- نمض کا ارم ہوا۔ 

7 مرکا عمرکے پدرہ تی سال اور عو رت کا عمرکے نو تی سال پور کر:- 

مل ٢٦۷‏ : چرے بر اور ہونوں کے اویر اور جے بر اور ٹل کے یی خخت پالوں کا اُلنا اور 
آواز کا بھاری ہو جانا وغیبرد بلوخحت کی نشانیاں خٹیں ہیں گرب ہکہ ان بات ں کی وجہ نے انسا نک با ہونے 
کا ین ہو جاۓ۔ 

مل ۲۳۷۱ ذ٠‏ ویوانہ' دوالیہ (زشنی وہ منس _ے اس کے قرضس خواہوں کے م اجکی وج سے 
عاکم شرع نے اپے یل میں تر فکرتے سے مع فرا دا جد) اور سنیہ (ڑتی دو شس جو انال کیہودہ 
کاموں میں صر فک رب ہوں ) اپنے پل میں ترف نمی ںکر ستا۔ 

سنہ ۴۳۷۳ ٠‏ جرف کی عاقی او ھی نہ ہو جائے ا کا راگ کی انت می اپے بل 
میں تر ف مرا جج میں ے۔ 

مسنتل2ر ۳۳۴۳ ٠‏ ازا نک انتیار ‏ ےکہ عرض اوت کے عالم مج اپنے آپ پر یا اپنے ال د عیال 
اور مانول ٍ اور ان کاموں بر جو فضول خرتی میں شار نہ ہوں جقنا چا صر فکرے اور اظکمربے بے 
گر وہ انا سپچھ مل یکس یکو نشی دے پاکوئی چیا سکی تجت سے سس بیج دے و اکرچہ دہ اس کے مال 
کے تیسرے جھے سے زیادہ ‏ یکیوں نہ ہو اور اس کے ورماء اجازت نہ بھی ریں تب بھی اس کا ترف 


کر 
وکالت کے احکام 


مضصلہ ۲۲٣۳۴‏ ۰ وکاات سے عواد مہ سےکہ جو کام انسان دو سرے کے بر دکر دے ماکمہ دہ ا کی 
طرف سے وہ عم انام رے شلا ب یک ہکوتی شھ سک یکو انا وکیل تار دے کہ وہ اس کا مان تچ 
دے یاکسی عورت سے اس کا عق دکر دے یں چوکلہ سنہ شنفس اپے مال یس تعز فکرنے کا می نمی 
رھتا اس لیے دہ مکان یے کے لی کس یکو وکیل نہیں بنا مکی 





تونیچالسائل __ )ل :48 !۔ 


ستل. ۳۳۷۵ ٠١‏ وکالت مض میذ بڑھنا ضروری ہیں فور اکر انان دوسرے شن سک تھا ر کہ 
یس نے ا سے کیل مر کیا ہے اور وو بھی تچھائڈ ےککہ اس نے وکیل جن قبول کر لیا ے۔ خ نیک 
فیس اہی روسرےکو ونے ناک دہ اے ا کی خاطریچ رے اود دوسا شس وہ بل لے نت 
ذکات سج نے 


32 


کے ۲۲۷۷ گر انان ات اپے ش سک گیل متقر رکھرے تو وو ضصرے ین 2.727 7 ہو اور 


اس ٤‏ وکاات تاس یی وے اور وم وکالنف نام تقو لکمرے اگرچہ وکاات, تام اس بچجھ عرص بعر ی 


مر نے تک 
لے گمرچھی وکالمت جح ستجد 


سیل ۲۲۷۵٣٢٣‏ : موئل زین وہ ننس جو دوسرے سو کیل بنائے ) اود دہ من جو دی بے لن 

۰7 27 شدری ےککہ وہ وانل ووں اور وگیل بیانے اور ول نے کا الام قصر اور ایار س ےک ریی 

اور موقل میں بلوغ بھی محتجربے۔ 

مل ۲۲۷۸ : جو ام انسان انام نہ رے متا ہو یا شریا“ اس کے لی انام وین جاکز نہ ہولے 

ایام رین کے لیے دد دوسرے کا وکیل میں بن کتا۔ شل جو منص یکا امام باندھ چکا ہو چوک ال 

سے لین تاج کا می بڑھنا انز نہیں اس لیے وہ میفہ لاح پڑ ےہ کے لین دوسرے کا وکیل نیس ین 

سو 

مل ۲۲۷۹ : اگ رکوئی مس اپنے خام کلم عراخحجام رین کے لین دومسرے مخ سک وکیل ترار 

رے تز ٹیم ہے لین اکر اپ کاموں میں سے ایک کا مکرنے کے لیے دوس ر کو کیل بنائے او کا کا 

یں کرے تو وکاات گج خیں ہے۔ 

منیل ے۲۲ ٠‏ آگر مرل وی لکو معوول کر رے مشنی جو کام اس کے پر دکیا ہو اس سے بنا 

رے تر دب وگ لکو اپ معوول ہونے کی خیرم جائے اس کے بعد وہ اس ما مکو مو کی جانب سے 
٦‏ انام ہیں رے کتا ین معزو کی خبرے سے پل ا نے ودک مک دا ود تک ہن 

منیلہ ے٢۲۴‏ : خا, موک زاب بھی ہو رکیل وقاات سےکنارہ رکش ہو کت ے۔ 


ہل ہ۲۲۲ : جو کم بین بس سیر دکیاگیا ہھ ای 22 لئے نی وو کرے سک مل مقر 





توضیالمسائل ۱ ا 2 


یی کر سنا لکن اکر موکل نے اسے اجازت وی ہوکہ تس یکو وکیل مقر رکرے تے نس طرح اس نے 
عم دا بے ىبی طرح وہ عم یکر سکتا ہے میں اکر اس ن ےکھا ہوکہ میرے لیے ایک دکیل مقر رکرو تر 
سے چا پچ کہ ا ں کی طرف سے وکیل مقر رکرے اور دوک یکو اپی طرف سے کیل مقرر خی کر 
سی ١‏ 
لیے ٠ ٣٢‏ اگ وکیل موک لکی اجازت سکس یکو اس کی طرف سے وکیل مقر کھرے تو 
پا وکیل دوہرے وک لکو معزول خی ںکر سکتا اور اگکمر پہلا وکیل سربھی جائے ا موکل اسے مزول بھی 
کر وے تو ووصرے وک لکی وکالت پاٹ ٹمیں ہوتی۔ 

مل ے٢٣‏ ؟.. اگ وکیل موک لکی اجازت سے" یکو خود اپی طرف سے کیل مقر رکھرے تو 
موکل اور پھلا کیل اس کیل کو معز ل کر یت ہیں اور گر پسطا نوکیل مرجائے یا معزول ہو جائۓ تر 
دوسری وکالت باٹل ہو جاتی ہے۔ 

مکل ۵ ے۲۲ : .مر ایک فص ایک کام انجام ریے کے لی چند آدمیو ںکو انا وکیل مقر رکرے 
اور انئیں اجازت دےکہ ان جس سے ہرایک بات خود اس کام کا اقزا مکر سکتا ہے فو ان میں سے ہر 
ایک اس کا مکو امجام رے سنا ہے اور مر ان میں سے ایک مرجائے نز دوسروں کی وکالت باصل نہیں 
ہوتی لین اکر موکل نے ہے تہ کھا ہ کہ وہ چم م لک رکا اخجام ہیں یا اسے تھاکریں یا ہ ہآما ہ وکہ جب 
لک انجام دیں نے ان میں سے کوگی تما اس نا مکو امام نہیں دے سکتا اور نکر ان میں سے ایک مر 
جاے و باقی افرادکی دکالت باشل ہوجاتی ہے۔ 

مستلہ ے٢۲‏ :گر وکیل ا موکل مرجاے نو دکالت بالل ہو جاتی ہہ نیزجصس پچز میں تمرف 
کے لی ےکی من سکو کیل قرار ریا جائۓ اکر دہ چززتکف ہو جائۓ ملا جس بھی رکو یی کے لیے کس یکو 
وک لکیامگیاہو وہ بیز مر جا قو وکالت اطل ہو جائ ےکی اور اکر کیل با موئل میں سےکوئی ولوانہ یا 
ہے ہذش وو جائے تو ا سکی دیداگی ما بے ہوشی کے دوران می وقالت موثر ہیں ہ وی لیکن لمت کا 
ا رع باٹل ہو جا اکہ دیواگی اود وی رود ہو جانے کے بعد بھی اس کے عطابق عمل حرکیا جا" 
یل اشثال ے۔ ا 


مل كضص۲٢۲:‏ لز انا نکی شع رکوکسی کلم کے لیے وکیل مقر رکرے اور اس ےکوئی چزدینا 








توضیحالمسائل : ا 483 1 


ےکرے تز عم کے سراضیام پا جاے کے بعد اسے با ےکہ جس چک وینا کیا ہو دہ اسے دنن 


رے۔ 


مل ۸ے ۳۴ : جال وکیل کے اتیار میں ہو اگمر وہ ا سکی گمداشڈت می ںکو نی ن ہکرے اور 
نس تقر فکی اسے اعجازت دی گئی ہو اس کے علادہ کوگی تصرف اس میں نہ ککرے اور الفاقا“ وہل 
تلف ہو جاۓ ‏ اس کے لیے اس کا عوض دینا ضروری میں 

سیل ۹ے ٠ ۲٣۲‏ جو بل رکیل کے انتیار می ہو اگر وہ ا کی گدداشت می ںکو تی بت ما نس 
قرف یل اسے اجازت وت گنی ہو اس کے عللدہھکوکی تعرف اس می ںککرے اور وہ یل سکلف ہو چائے تو 
وو (ٹشی دکیل) ذمہ داد ہجے۔ بی نس لمباں کے لیے ا ےکما جا ےکہ اسے پچ دد اکر وو اسے کن لے 
اور وہ لپاس لف ہو جاے تو اسے جات کہ اس کا عوض دے۔ 

لہ ۲۳۸۴ * مک وکی لکو ال میں جس تفر فک اجازت دیگئی ہو اس کے علادہ کوئی رف 
رے مھا اسے جس لاس کے نے کے لے کھا جائے وہ اسے یھن نے اور بعد میں وو تر فکمرے 
ج سکی اسے اجازت د گنی ہو قز وو تمرف مجح جے- 


ترضس کے انام 


قش یا مصتب روید سے جس کے متلق قرقن جی کی آیات اور ایت یس مائی یدگ کئی 
ے۔ رسول اکرم صلی اث علیہ وکلہ وسلم سے روایت ہےکہ چون اپنے ملمان پھا یکو قرش رے 
اس کے مل میں اضافہ ہونا ہے اور طانک اس کے لیے رت طط بکرتتے ہیں اور مر دو مقرویش سے 
زی رتے ت بی رصاب کے اور زی سے می ھرلط بر سےگزر جائۓے گا اود اگل کسی شنفں سے اس کا 
مسلان بعائی رض ماکےے اور وو نہ رے تو بھشت اس پر حرام ہو جالی ہچ 

متلہ ۲۸۳۴ ٠‏ تر میں صیغہ بڑھنا ضروری میں مہ اگر ایک نس دوسر ےک کیج قیل 
کی یت سے دے اود دومرائچی اسی غیت سے لے نز قرش ػکجئ ہے۔ ۱ 


مس یل ۲۲۸۳ ؛! جب سترض انا قرض اراکر وے تو قرش فوا کو چا ےکہ ات تو لکرے۔ 








توضیت‌المسائل ا ۱ ل 484ا 


ملہ ۲۲۸۳ ۰ مر رض سے یف میں قر کی وائیی کی مرت مین کر دی جا تو اتا 
وب ہے ہہ ےکہ اس مرت کے شم ہونے سے پللہ قرضس خواہ قر کی ادائگی کا مطالزہ نہ کرے لیکن 
اک ھکوئی بدت مین ضہکی گنی ہوق قریضس خواو نس وقت چاہے ققر کی اوائگی ک عطال کر کلت ے۔ 

مہہ ۲۳۸۳ ذ۰ مر فرضس خواہ اپنے قر ضکی اوائنگی کا عطالہکرے اود اکر نقریش قرض اداکر 
کا ہو و سے چا کہ فور“ اواکھرے اور اھر اراگی میس بات رکرے تو گہگار ہو جا 

مل ۲۲۸۵ : اکر مقرویض کے پا سوائۓ ا سیگ رکے بس میں وہ رہتا ہو او رگھ کے اسہلب 

کے اور ان دومری یں کے جج نکی اسے ضرورت ہو او رکوئی رنہ ہو ت قرسش خواو اس سے تقر کی 
اواگی کا مطارہ خی کر سکتا بکمہ اسے چا ےکہ صب رکرے کہ مقر دض قرض اواکرنے کے قال ہو 


7 


جاۓےن 
متلہ ۲۲۸۷ ۰ جو منص مقروض جو اور اپ قرض اوا کر سک ہو اکر دہکوئی کم کا عکر سکت ہو 
واں پر واتپ ہ ےک کم کا حکرے اور اپنا قرضہ اراگرے۔ 

ملہ دژذ۲۲۸۷ : جخس ہف کو انا قرضش خواہ نہ مل کے اور اس کے ل ےکی ابی بھی شر ہو اے 
چا کہ وہ قریتے کا ال قش خواہ کی طرف سے قی رکو درے دلے اور اضیاط کی نا بر ایا کرنے گی 
اجازت عاگم شر سے نے نے اور اکر اس کا رش فواو سید شہ ہو تر اقیالط صتخب ہہ ہ ےکہ اس کا 
قرضہ سد ثق روز رے۔ 

متلہ ۲۲۸۸ ٠‏ اگ کی میت کال اس کےکنن اور ون کے وادب خرہپے اور قش سے زیادہ 
تہ ہو فو اس کا مال ائی امور پر خر کرنا جچاے اور اس کے وار وہ نہیں لے ما 

مل ۲۷۸۹ء ہکوئی مس سونے با چاندی کے روپ قرل لے اور بعد یں ا نکی تب تکم 
ہو جا از اکر دہ وتی عقدار جو اس نے کی تھی والی ںکر دے تو کال سے اور آکر ان کی قیت بڑھ پاے 
ضروربی ہج کہ اتی ہی مقداد دای کرسے جو کی تھی اں دونوں صورقوں میں اکر مقریض اور تر 
خواہسی اود بت پر رضامند ہو چاٗیں تو اس می ںکوئی حرج میں اور ند ی نووں کابھی بسی عم ہے۔ 
مل ۲۲۰ : اگ کسی شف نے جو ال قرض لیا ہو وہ تلف نہ ہونگیا و اور ہل کا مالک اس کا 


”سے تی ۓج ,2ہ + وچ 





توضیم‌المسائل__ے_ :۲ 2 5 1 


مال ممرے تو اطاط ای 7 سے کت مقروضش وتی مال الف کہ دے رے۔ 


لہ ٠ ۲۲٢۲‏ ار تر رن والا شرط عائ کر ےکہ وہ * شی مقدار میں ہلل رے را ہے ان ے 
زیادہ وائں نے گا خلا ایک من گندم دے اور شطرط عائ کر ےکہ ایک من ای سیرواس نول گا یا رس 
ا و بارہ انڑے وائیں میں گا نے ہہ حور ہو گا اور مرام ہے و رم 
مقروضش اس کے لیے کوگی کا مکرے یا جو نزک ہو دودکسی دوسری جن کی مھ مقدار کے ساھ والپیی 
کرے شا ےکر ے کہ مفروض نے اگ نیک روپیہ لیا ہے فو وا یکرت وقت اس کے ساتہ ایک دیا 
لا ی کی ڈ ہی بھی درے تو ہہ سودہو گا اور عرام ے۔ تیز اکر مق ویش کے سائققھ شرط کر ےکم جو پیزز وہ 
نے را سے اے ایک مخصوص طرییقہ سے وابی ںکرے خلا ا نکھٹرے سون ےکی ىہ مقار اسے رے 
اور شر کر ےک ہگھا ہوا سون وایں کرے گا تب بھی ہہ سود ہو گا اور عرام ہے الہ اکر برای کے کہ 
قرضش خوا ہکوئی شرطا لگاۓ خود مقروض تر ن ےکی مقدار سے کچھ زیادہ والی کر دے ‏ وکوئی حرج نہیں بللہ 
اس کا ىہ فنل تخب ے۔ ۱ 

مہ ۲۲۹۲ ٠‏ سد ویتا سور لی نکی بطرع عرام ہے لیکن جھ منص سود بر قرض لے ظاہریہ ہی ےکہ 
دہ اس کا ملک ہو جا ہے اکرچہ اولی ىہ ہب ےکمہ اس میں تضرف ن ہکرے اور اھر صورت عال ہے ہ کہ 
مر طرفین نے سود کا معاہرہ نہ بھ یکیا ہو تا اور رقم کا ماک اس بات پر راشی ہو تاکہ قرض لی ولا ای 
رق میں تر فکرے و مقرویض بفیرکسی ال کے اس رقم میس تر فکر سکتا ے۔ 

منتلہ ۲۲۷۹۳ ۰ آل رکوٗی ح سمندم ما سی جھ یکوئی چیزسودی قر ے کے طور بر لے اور ایس کے 
ذریے کش تکرے تو ظاہریہ ہج ےکہ دہ پرادار کا مالک ہو جانا سے لکن اس سے جو پیدرازار دمتیاب ہو 
اس میں تصرف نہکرے اس صورت میں قرض وہندہکو سودبی محالے کے باعل ہونے سے آگا کر کے 
کر مصرلنت ہو جا و نعرف مان سے۔ 

سیل ٠ ۲٢۹۴‏ آ رکوئی ح سکوکی لبال خزیرے اور بعد میس ا کی تج ت کے کے مال کفکو 
سودی قرنے پ کی ہوگی رتم سے پا اڑی علال رم سے جو سودی قرت پر یگکئی مم کے ساد غط طول ہو 
گی ہو ادائھرے تو اس با کے نے یا اس کے ساتھ نماز ھن مم ںکوئی رح نمی اور آگمر نییے والے 
سے سےکہ میں بہ مب اس رقم سے خرید رہا ہوں تے اس صورت میں اس لہا یکو نماڑ میس اور نماز 





توضیح‌المسائل (_488] 
کے علاوم شریے۔ 


منملہ' ۳۲۹۵ ٠‏ اگ رکوئی خصس کسی نج رکو کچھ رقم رے اور لیک دوسرے شمرمی انس اجر ےٴ 
کم ز نے ریس سکوئی حرج خمیں اور اے ”صرف جرات “کت ہیں۔ (عاشیہ )کی نج سے توالہ 
لیا بران کات ہے اور صرف برات سے مراد مقدار ےکم لن ہے۔ 

مل ۲۲ ...اگ رکوئی خصس کی دوسرے کو بچھ م اں شرط سے دے کہ چتر دن پیر ایک 
دوسرے شمرمیں اس سے زیادہ لے گا خلا ۹۹۰ روپے دے اور دں دن بعد دومرے مر میں اس کے 
ہد نے یک ار ردپ نے اورے رم (بینی ۹۹۰ روپ اور جار روپے) ڑل کے طور بر سونے اندی 
کی کی ہوئی ہوں تو ہہ سود ہو گا اور عرام ہے لیکن جو نخس زیادہ نے را ہو اکر وہ اضانے کے مان 
کوئی جفس دے نا کوئی کا مکر رے تپ کئی جرج نی مم دہعام رای فیٹ جنیں شا رکیا جا ہو 
مر انیں زیادہ میا جائۓے نو کوئی حر غمیس ماسوا اس صورت ک ےکہ قرض دا ہو اور زیادہ کی اواجگی کی 
شرط لگائی ہو۔ 

متلہ ے۲۲۹ : اگ رکی مس نے ( یت قرض خواہ )کسی نے سیچھہلینا ہو اور وہ یز سونے یا 
انی پا غل ما قب جانے والی ہنس سے نہ ہو نز وہ منص اس چ کو مقروض کسی اور کے پا کم قیت 
پر کر ا ںکی قیت نقہ رصو کر سا ہے۔ ای بنا بر موجودہ دور یں جو چیک اور پنڈریاں قش خواہ 
عقردش سے لیا سے ایس وہ بک کے پا باکسی دوسرے شٹخصس کے اس اس سح ےکم مت پر (یے عام 
اسفلاع میس ”نزو لکردن'' ھی پھاؤگگرنا کت ہیں) پچ سنا ہے اور اتی رقم نقر لے مکنا ہے کیوککہ نعام 
دای ال وق ٹوڈیں کا لین دین نپ اور قول سے نمی ہوناد 


جوالہ ہے کت احام 


مل ۸ . آ رکوئی خص نے قش خوا کو والہ رے کہ وو پا قرضہ ایک اور خی بے 
نے نے اور قریض غواہ اس جا تکو قو لکرے و جب ' حواللہ لن شرائلا کے ساظتہ جن کاذکر بیو میں 
آۓ گا عمل ہو جائۓ نر جس شنفصس کے نام حوالہ دیاگیا ہے وہ مقروض ہو جائۓ گا اور اس کے پور 


۱ 











توضیچ‌السائل__ ۱ )( تق ] 


قش فواہ پیل عقروض سے اپنے قرض کاعطالہہ خی ںکر سکتا۔ 


سیل ٣8‏ ۳۳ج متقررض اور قریش غواہ میں سے ہرآی ککوپالغ اود عاقل :دن چا۔ینے او ررعسی نے 
زنمیں مور بھی نکیا ہوارر انمیں سزہ بھی نمی جونا اج (شنی دو شنس جو انا مل میہددہ کاسوں پہ 
صر فک ہو) اور سے بھی معتبررہ ےکہ مقروض اور قرر خواد دوالیہ ضہ ہوں ہاں اکر حوالہ ایی نس 
کے جاسم ہو جو پل سے حوالہ ویتے وانے کا مقروض نہ ہو ق مر حوالہ رہ الا خواہ واوالیہ تھی ب× نہ کوئی 
صمح خی ہے۔ 
مل ٭٭۲۰ ٠‏ ای مس کے نام حوالہ دینا جو مرو تہ ہو اس صورت میں جج ے جب وہ 
جوا۔ تو لکرے نیز اگ رکوئی شس پا ے کہ جو مخ ایک نس کے لیے اس کا مقروش ہو ا کے نام 
دو ری جنس کا عوالہ کیہ _ شا جو مخ جو کا مقررض ہو اس کے نا مکندم کا حوالہ کہ فو ینب وہ شس 
قول نککرے حوالہ گج یں ے۔ 
مصتلہ ۲۳٣(۲‏ : انان جب حوالہ رے ز شردری ہج ےکہ ود اس وقت مقروض ہو یں آلر و کی 
ے قرزض لین ارتا ہو قر دب تک اس سے قرض عہ لے نے ایاط وا ب کی بنا یہ اسے معسی کے نام کا 
حوالہ خمیں رے متا ناکہ جو قش اسے بعد میں وی ہو وہ پل ہی اس شس سے وصو لکرے۔ 
سز( ۳۳۹۷۰۳ ٠‏ حوالہ رہۓ وائے اور قرض خواہ دونوں کے لیے ضروری ہ کہ ووالہ گی اقدار 
اور ا کی نس کے بپارے میں علم رھت ہوں لیں اکر حوالہ دی والائکسی شنیں کا سی می ندم اور 
یں روے کا مفروض ہو ادد آرشی شا وکو حوالہ و کہ لن وونوں قرضوں میں سےکوئی ایک فلاں مس 
سے ئے او اور ای ڈ کو شمین ککرے تو حوالہ درست یل ک۔ 
سیل ۳۴+"٭ س٣‏ ؛ نر ترض داقی مین ہو نان حوالہ رہیے کے وقت مرو اور قریش وہ کو 
اس کی مار ا جن کا علم نہ ہو تر حوالہ شیج سے شا اگ کسی نس نے دوس رے کا قرش رج میں ککھا 
ہوا ے اور رہنٹر دیھش سے پل حوالہ رے رے اور بعر میں رجٹر سے اور قرض خوا کو ڈر ےکی 
مقار چا رے تپ حوالہ کچ ہو گال 


سیل ۴٣۵۰٭-۳۳ ٠‏ ترض خوا کو افقیار ےک حوالہ قبول نکرے رجہ جس کے نام کا توالہ دا 








توضیحالمسائل 8۶ہ ]ا 


جاۓ وہ فقی بھی نہ ہو اور حوالہ کے اواکرنے می ںکو اہی بھی ن ہکھرے۔ 

مسیل ۵ جو ہفص اس کا مقروض نہ ہو ننس نے حوالہ دیا ہے اگر وہ حوالہ قو ل کر نے تر 
وہ طٰالہ اواککرنے نسے پل حوالہ دیے والے سے حوالہ کی مقدار خیں نے سکتا اور اکر قرض خواو 
تموڑی عقدار پر می لکرے تج نے حول قو لکیا ہو وہ حوالہ دسینے داٹے سے فقط ا کا بی مطال 
رھے۔ 

مسلہہر ٠۲۳٥۷‏ موال کی شرائ ری ہونے کے بعد حوالہ دسینے والا اور جخس کے نام حوالہ وا 
ےق یں کر ںی اض کس کب رت نے 
ہو ارچ ددبعد میں قب ہو جائۓ لیکن قرضش خواہ بھی جوالے کو مضوخ می ں کر سکتا بی کم اس وقت 
سے جب وہ ٹنیس جس کے م حوالہ ریا گیا ہو حوالہ رین کے وق فق ہو اور قش خواہ چاتا ہ وکہ وم 
فقیر ہے لین گر قرضس خوا وکو عم ن کہ دہ فقبر ہے اور بعد مس اسے پند لے قذ خواہ اس وت وہ من 
ماندار بوگیانہو قرض خاہ حوالہ مضسو کر تا ہے اور انا قرض حوالہ وینے وانے سے لے سنا ے۔ 
متلہ ٠ ۲۳٣۰‏ گر مقریض اور قرض خواہ اور جس کے نام کا حوالہ دیاگیا ہو راس صور 

ج بکہ ا ںکی قولیت حوالہ کے کچ ہونے میں مھجرجو) یا ان میں سے کس ای ےب جج 
جوا عضو کرنے کا مہ کیا ہو 3ج معاہہانوں نےکا ہو ا کے عطابق و حوالہ عفر 
یں۔ 

مہہ ۲۳٣۰۸‏ ۰ اگر حوالہ دینے والا خود قرض خواہ کا قرضہ اواکر نے اور اکر ہے کم اس من کی 
خوائش پر ہوا ہو جس کے ام کا خوالہ دیاگیا ہد ججمہ وہ حوالہ ری والے کا مقروض بھی ہو نز وہ جو پچھے 
یا ہو اں سے نے متا سے اور اگر اس کی خوائش کے یر اواگی ہو یا وہ حوالہ وہندہ کا متروش ن ہو تہ 
راس نے جو کچھ وا سے اس کا مطلبہ اس سے نمی کر سکتا۔ 


رن کے احکام 


مل ۹ رین ىہ ہ ےکہ مفروض قرض خواہ کے پاس اپ ما لکی چکجھ مقدار درکھ دے مہ 











توضیج‌المسائل : )[ یه ] 

أر اس کا قرضہ اوا نہ کمرے تو وہ اس مال سے اپنا قرضہ وصو کر تے۔ 

مل ۲۳۴ : رین م ںکوئی خاش معیفہ بڑھنا ضردری خیں ہے لہ گر مروض انا ما لگمروی 

کے ارارے سے قرض خوا کو رے رے اور قرض خواہ ای ارارے سے اسے لے سے تو رگن سج 

متلہ ٢۳۷)‏ : مردی ری والا اور جو منص مال بطورگمردی لے ان کے لیے ضروری ہ ےک با 

اور عاقل ہوں او ری نے ائیں اس معال کے لیے مجبور نہ کیا ہو اور یہ جھی ضردری ےک مال 

نکردی رکنے ولا مفلسن (ویوالیہ شدہ) اور مزیہ نہ ہو۔ مفلس اور سنہ کے مم میان سیئے جاے ہیں 

مل ٠ ٣۳۳‏ بین وہ مل یگردی کے سکتا سے جس میں دہ را“ تصر کر سکتا ہو اور اگ ری 

وو سے کا مال ا سک اجازت سےمگروی درکھ وے نے بھی کیچ ے۔ 

منیلر ۲۳۳۴۳ ٠:‏ جس ہن کرگردی رکھا جا را ہو ا کی خرید و فروخت حجح ہو چا میں گگر 
شرب بااس سے عق ہلتی زکردی ری جانے تو درست یں ہم 

مل ۳۳۷۴ : جس ہن زکدگردی رکھا جار ہو اس سے جو فائدہ ہو وہ اس جن کا مال ہے جس 

ن ےگمروی رکھا ہو 

لہ ۳۵ ٠‏ ترضس خواہ نے جال ابلو رگمروبی لیا ہو وو اسے مقر و کی اجازت کے لغی سی 

ور ےکی عیت میں نہیں رے سا لا وٗہ وہ مل کس یکو بش نہیں متا او رکسی کے پا فروشت 

بھی ہیں کر متا لیکن امہ وہ اس ما لک وکس یکوچخنش رے یا فروض تکر رے اور بور میں مقروض اچازت 
۱ دے ورے و اس می ںکوگی انشقال نہیں ہے۔ 
متلہ. ٣۳۷۴۴‏ ٭ مر قرضش خواہ اس ما یکو جواس نے بطو رگروی میا ہو مرش کی اجازت سے نے 
رے قے وو ما لکی طرح ا سکی قیت بھ یمگردی ہو جاتی سے اور اگر ہقرو کی اجازت کے مغیریچ رے 
اور بعر میں مقروض اس کی تقمدی قکر دے یا کہ خو مقروض اس چ کو قرض خوا کی اجازت سے نا 
ون ناکہ ا کی قی تگمردی ہو جاے تب بھی بی عم ہے (لڑنی اس مل کی جو قبت وصول ہو گی وہ 
رم کی طر حمگردی ہو جا ےگی) اور مقروض اس چچ کو قرض خواہکی اجازت کے انیر تچ نو وہ ہز 


افکعطجول کلےوٴکحختنتصوت+حجیوسچجسیچجیتھسٗمکًٌٌٌُٗٗٗٛٗسجےہتے---۔ 








توضیحالمسائل ۱ .. ,338] 
پرستو رگروی رےےگی۔ 


مملیہ ے٣۲۳ ٠‏ جس وق قرو ض کو قرض اد اکر وہنا ای آکر قرض خواہ اس وقت عطا ےکھرے 
اور مقروض موائگی نکرے تو اس صورت میں چکہ قریضس خواہ ال روش تکرنے کا ایار رکتا ہو وہ 
گمروی لیے ہوئے ما لکو فرویض کر کے اپنا قرضہ وصو لکر سنا ہے اور امہ اخقیار نہ رکتا ہو نز اس کے 
لیے ضروری ہے کہ مقر و سے اجازت نے اور گر اس تک گج نہ ہو تر اسے چا کہ عائم شرغ 
سے اجازت نے اور دوتون صورتوں میں آگر قرتے سے زیادہ قبت وصول ہو ا سے چا کہ زار ال 
مرو فککو رے رے۔ 

مہہ ۲۳۱۸ ٠‏ گر مقروض کے پا اس مان کے علاوہ جٹ میں وہ رہتا ہو اور اس سان کے 
علادہ ج سںکی اسے عاعت ہو او رکوگی یز نہ ہو نے قریضش خواہ اس سے اپنے قرض کا عطالہ نمی ںکر سک 
لین قریض تے جو مال لیلو رگرویی دیا ہو ا نہ وہ مان اور سامان ہی کیوں شہ ہو قرض خاہ اسے ‏ کر 
اپنا قرضہ وصو ل کر سا ے۔ 

تل ۲۳۱۴ ۰ ا رکوئی فص کسی دوسرے کا قرضہ اداکرنے کے لیے امن نا چاہے تو اس کا 

ضامن نا اس نت جج ہو گا جب دو کسی لفط سے (اکرچہ دہ عرلی زین می نہ ہو) یا حل سے قرض 

و اگ ھا د کہ می تمارسے تقر کی اوائی کے لليہ ضاسن ین گیا ہوں اد تقر خوا بھی انی 

رضا مندی کا اظظما رکر ورے اور مقروض کا رضا مند ہوتا شرط ین ہ۔ 

مل رو ضاصین اور خرض خواہ وونوں کے ریہ ضوری ہب ےکہ بالغ ادر عاقل ہہوں او ری 

نے انیں اس معاٹ پر مور ن کیا ہو اور وہ مزیہ اور ولوالیہ بھی نہ ہوں لن ہے شرائا مقروض کے 

بے نہیں ہیں لاگ رکوئی شفس ہے یا دیوانے یا مخیہ کا قرض اواکرنے کے لیے امن بب فو انت 
ے۔ ۱ 


مہ ٠ ٣٣۲٣‏ ج بکوئی فیس ہہ ےک اکر مقووض تمارا قرش نمی دے گا و ہیس دوں گا اس 





”سے 
توضیحالمسائل _۔۔۔ ((:اوه] 


سبسسدی۔۔ 


کو ایک وعدہ تھا جائے گا اور اس پر انت کے اظام جاری خمیں ہوں کے۔ او رکیوگلہ سے وعد ہک ا 
وط لام کے من میں میں ہوا ا ا کی وفا واجب میں۔ 

منیلہ :٠ ۲۳۳٣۳‏ اھر ایک مخ وسرے سے قرض ایت چاسے اور ایک اور مس قرش ویے 

وا سے کے کہ میں قرض کا ضاسن ہوں تق ااسی صورت میں کر قر بی والا ادایی ن ہکرے نو بیر 

نیں سےکہ قرض خواہ ضاین سے اس کا مطال کر گے۔ 


ہبْلز ۳۰ پر انان ای صورتت میں ضامن بن سنا سے جب قرض خواہ اور مقروض اور 
تریس کے طور بر دئی جانے والی جن الواقع مین ہوں انا گر دو اشخاس سی ایک فص کے قرس خواہ 
ہیں اور انیاع سک ےکہ می خم میں سے ایک گ۷ قرض اراکر روں گا ق ج کہ اس نے اس بات کا تن 
نی ںکیاکہ وہ ان میں ےکس کا قرض اواکرے ما اس لیے اس کا ضنامن خنابال ہے نی اگ رس یکو ود 
اشاس سے قرض وصول کر ہو او رکوئی شنفس کے کہ میں ضان ہو کہ ان دو میں سے ایک کا قرضہ 
میں اواکر روں گا تو چوکنہ اس نے اس بات کا تین خمی ںکیاکہ دوخوں میس سے کس کا قرضہ اداکرے 
اس لیے اس کا ضامن بنا پل ہے اور اسی طرح اگ کسی نے ایک دوسرے شی سے مل کے طور 
ادس نکندم اور وی رو پے لین ہوں او رکوئی شخیس کےکہ میں تمارے دوٹوں قرضوں میں سے 
ای ککی اوائی کاضاصن ہوں اور اس ام رکا نین نہکھرےکہ وومکندم کے لین ضاسن ہے نا رونیوں کے 
لی توب انت تمجج یں ہے۔ 

متلہ ۲۳۲۴ : آلر قرضس خولہ اپ قرضہ ضا کو جنشی رے فو ضنامن مقروش سےہکوئی پن نیس 
نے سنا اور اکر وہ رٹ ےکی پکھ مقدار اے بش دے نز وہ (مقرویض سے) اس مقدا رکا مطالہہ نی ںکر 
یں عنا لطاب ا س کو عاض کر می ذمہ دارئی ہے۔ ذمہ داری قو لکرنے والا کئیل جو صاحب خق 


ژعہ داری نے ٢‏ بت وہ کول لہ اور نس شخصس کے حا رکرنے گا زمہ راری دی جاری ے وہ 
وه ا ۵ 
فو لکسلا ہے۔ 
2 مستلہ ۲۳۲۵ : ا رکوئی مخ س کی کا قرضہ ادا کرنے کے لیے ضامن مین جائے پو دہ ضاصی 


ہ+ونے سے انار میی کر سی 


مہ ۲۳۲۷ بر اضط ضاف اور قرض خواو ىہ شر لے خی ںکر کہ خنس وقت پاہیں 


یگےکچچے۔۔۔_ 











توضیحالمسائل 1 ہوو ] 


00ےے ہجعسچد کا 


کی شخص ریانے کے پا سکوئی مل مانت سے طور بر رکھے ا دلوانہ اچا پ سی سے پس اطور انت ۔ 
رر توب 7 سے رر کت 
و کی اجازت ےئپ کسی کے بس لو رابانت رک اور یتر سے ا سکوی جز مات دنم 
سح نر شا 


۲۳۳۶۸ : 7 رر مو جوا 


.رہ رت 
ےم رت 
وا ےکو چچاجے ٦‏ بب 0 
کو یکرے اور دہ ملف ہو جاے و اسے ا ا 
ہے ول نہ ہو جب گی سام تج“ 
ہر |۳۳ رھ ےھ 
ووما ری سوسوست 
کرے۔ 

یل ۲۳۳۰ : یر و وڈ تن 
یں 6ر 96ک ری نے مات 
ہس وت 
جاق تکرے۔ 

مل ۲۳٣‏ : و, ‏ تب سس سسہہہ 
جس مسج 
نون کتڑے۔ 

می ۲۳۳۳ : رس ری مخصس وان تک گداشت یں کر رے بور ودییہ ملسو خکمہ دے کت 
مت و 





سہص-۔ٌٗے۔ے۔ےٹےووچچدت 





توضیج‌المسائل زط دجیوھ] 


الا دے دےکہ وہ ال کی حفاظت کے لیے تار یس ہے اور آگر وہ بط رعذر کے مال اع٘میں کہ 
شیا اور اطلاغ بھی نہ رے تواگر مال تلف ہو جاۓ و اسے چا ےکہ اس کا عوض رے۔ 
سیل ٠ ٣۳۴۳‏ ہجو منص ذانت قو کرے اگر اس کے پا اسے رکنے کے لیے مناسب مہ 
نہ ہو نز اسے چای ےکہ اس کے لیے مناسب تہ حاص لکرے اور اس نکی اس طرح گرداش تکرے 
7 کہ لوگ یہن ہکہی ںکہ ا کی حدداشت میں اس ن کون یکی ہے اور آگر وہ اس چچ زکو اڑسی تہ رھ 
: جواس کے لیے مناسب نہ ہو اور وہ تلف ہو جا فو اسے چا ےہ اس کا عوض دےہ 
سیل ۳۳۴۴ ٠‏ جو شض زمانت تقو لی کرے اگر وہ ا ں کی گگیدراشت م ںکو بی نہکرے اور 
تعدری شی زیارہ روی بھی نہکرے اور انھاق“ دہ مال تکف ہو جاے و وہ مخ زمہ ار خمیں سے لین 
اکر وہ ما لکو الیی تہ رکے جماں وہ اس بات سے محفوظط زہ ہ وکہ اگ رکوئی الم ضرا فو لے جاتے اور 
کر وہ مال تلف ہو جائے تو اسے اٹ ۓےکہ اس کا عوض اس کے مال کفکو رے۔ 
منتلہ ۲۳۴۵ ؟ گر ال کا مانک پنےا لکی عکمداشت کے لی ےکوئی ججمہ ضمی نکر دے گور نی 
مخس نے مات قو ل کی ہو اے جھےکہ کے چا ےکی میں مال کا خال رکے اور گر اس کے ضائع ہو 
جانے کا ال ہو تب بھی مج ا سک وکہیں اور ننیس نے جانا چاہے نو امانت قو لکرنے والا اس سی 
اور چیہ میں نے جا ستا اور ا وہ ما کو کسی دوسری مہ نے جائے اور وہ تلف ہو جائے تو وو خی 
ملین لمات تو لکرنے ولا) زمہ وار ے۔ 
منتلہ ٠٣۳۴۷‏ ار مال کا ماک ! پنے ال کا یں 0 ا 
نس نے امت قو ل کی ہو اسے مم ہوکہ وہ مہ مال کے ال ککی نظری سکوگی خصوصییت نہیں رکتی 
لہ وس کے می نکرنے سے اس کا متقعید مض ما لکی حفاشت تھا تق دو اس ما یک کسی ایی لہ جھ زیادہ 
فرظ ہو یا بپھلی تی جقنی بی مفوط ہو نے جاسکنا ہے اور اھر بال وہاں لف ہو جائے و وہ ومہ دار شمیں 
منتلر ے ۲۳۴ ٠‏ آآر مال کا ملک روانہ ہو جاے نس نیس نے اس سے ایامت تو ل کی ہو 
اسے چا کہ فور ذانت اس کے و یکو پنیا دے پا اس کے و یکو خر پچ رے اور اکر دہ شری عزر 


جج جس ہے يےحے 








توضیح‌العسائل : 1 456 7 


کے یر مال دولنے کے و یکو نہ پہجچاۓ اور اسے خر وسیے میں چھ یکو بای برتے اور مال ضیف ہو جاتے 
ق اس چا کہ اس کا عوضش رے۔ 


منیل۔ ۲۳۴۸۷ : مر مل کا ,لک مرجائے نو ابالت دن کو چا ےکہ ڈس کا اں اس کے وارثٴ: 
پیا دے یا اں کے وار ٹکو اطلاع رے اور اکر وو ال ہت کے وار کو شہ و .سے اور اسے شر دی 
میں کبھ یکوناہی برتے اور مال تلف ہو جا لو وہ زمہ دارے ان گر وہر لی ال وچ ے وارث تم نز 
رے اور اسے خروہیے میں مھ یکو نی برت کہ وہ ہہ جانا چاچتا ہو کہ جو شف س کنا ہہ ےکہ میں میت کا 
وارث ہوں وہ ٹھیک بھی کھتاہے یا خی يا سے جاتا چابتا ہ کہ می کاکوگی اوج دارٹ ہے با شمیں ة 
پھراگکر مال تکف ہو جائے تو وہ زمہ وار یں ے۔ 


لہ ۲۳۴۹ ٠‏ گر بل کا ملک مرجائے اور اس کے کی دارت ہوں تے نس مخ نے ااشیتہ 
تقو ل کی ہو اسے چا ے کہ مال تقام درماءکو دے یا اس شن یس کو رے سے مل وسنے پر سب ورہۂ 
رضامند ہوں انا اکر وہ دورے ورماء کی اجازت کے خی مال فقط ایک وار ٹکو رے درے ت7 وہ وو کرت 
کے عوں کے لیے زم دار ہے۔ 


مل ٣۳۵٣‏ ؛ جس مس نے وت قو ل کی ہو ار دہ مرجائۓ سا دلوان. ہو جائے قے اس کے 
وارث یا و لکو چا ب ےکہ جس تقر جلدی ہو کے مال کے مان فک اطلاع دے یا امانت ا سکو بجپاے۔ 
مملہ ٣۳۵۱‏ ۰ مر مات دار اپنے آپ میں مو تکی نشائیاں دسج تر گر خکن ہو تر اسے چا 
کہ مان تکو اس کے مالک نا الک کے ووکیل کے پاس پیا رمے اور مر ایی اکر غکن شہ ہو تر اسے چا 
کہ بات اکم شرع کے سیر دکر رے اور مر عاکم شرع مہ نہ ہچ سکم ہو نو اس صورت میں جج ب کہ 
اس کا وارث اشن ہو اور ابات کے پارے میں علم رکھتا ہو اں کے لیے ضردری نمی ںکہ دیع تکرے 
درنہ سے چا کہ وعی تکرے اور اس وعیست بر شاہر بھی مقر رکرے اور مال کے ماک کا نام مود مال 
کی نس اور خصوصبات اور اس کا تل وتوع وصی اور شاہر کو نا رے۔ 

مستلہ ۲۳۵۳۲ :گر مات دار اپنے آپ میں موم کی نثانیاں دیعہ اور نس ویفہ کا سمابقہ سنہ 
ہیں وک رکیاگیا ہے اس کے مطابق عمل نرکرے اکر وہ اباعت تلف ہو جالئے ت اسے ای کہ نی ک 





توضیمالمسائل_ تھا 


قرش ذواہ پلے معقروض سے ان تر کا عطابہ نمی ںکر متا 
مل ۲۲۹۹ ٠‏ عقروض اور قرض خواہ میں سے ہرا ککو بالغ اور عاقل ہونا چاینے ادرصسی نے 
یں مجبور بھی نکیا ہواور ائیں مغی کی بین بنا چاجۓ شی وہ مس جھ انا مال یہروہ کاموں 2 
صعرف گرا ہو) اور ہے سی ا لت مقروش اور وض خواہ ریہ ز ہ٭٭ەل اس أگر حرال. لیے مس 
کے نام ہو جو پھلے ے حوالہ رہ وا لے کا مقروضش نہ ہو تو اکر حوالہ رین والا خواہ واوالیہ تھی ہد کوئی 
صمح خمیں سد ۱ 
ہل ۲۳۰ ٠‏ ریہ ٹس کے نام حوالہ رینا جو مقروض تہ ہو اس صورت میں جج سے جب وہ 
حوالہ فو لکرے نیز رکوئی شخس جا کہ جو مخصس ایک جنس کے لیے اس کا رض ہو اس کے نام 
وونمزی بس کا حوال لے شا جو مخس جو کا مقررض ہو اس کے یا ندم کا حوالہ کلھے فو بب وہ شس 
قول ن ہگرے ولچ یں ے۔ 

منتلہ ۲۳٣‏ : انان جب حوالہ دے و ضروری ہب ےکہ وہ اس وقت مفروش ہہو بی ان تی 
سے قرض لینا چاہتا ہو تق ہب تک اس سے قرض نہ نے نے احیاط واون بکی بنا بر اسے ٢ی‏ کے ام کا 
حوالہخمیں رے سنا ناکمہ جو تر اسے بعد می دی ہو وہ یہ ہی اس شحف سے وصو لق گرے۔ 
مل ۳٣۸۲‏ :۰ حالہ رہ والے اور قرض خواہ وونولں 2 ج۳ ری یت وال گی مقرار 
اور ا ںی جس ہے :ا نے جن 2 رکھت ہیں یں گر حوالہ وسیۓ والای س۷ 27 م ندم اور 
27 روے کا مرش ہو اور ترضی خوا کو حوالہہ رےکہ ان وونویں ترضوں یں ےکوگی ایک لان مس 
سے نے مواور اس قر کو تین نہکرے فو حوالہ ورست یں ںہ 


می ۳٣۸۹۳۴‏ ؛ مر رض واقی مین ہو ٹن حوالہ رینے کے وقت مقروض اور فرش خواہ کو 
ا سىی مدار پا جنس کاعلم نہ ہو نے حوالہ تچ سے خلا آگ ری شنفس نے دوصر ےکا قرض رجٹرمیں کا 
ہوا ہے اور رر دن بت 9 حوالہ, رے رے اور حر ٹل رنٹر رے اور رض خوا کو تقر ےکی 


مقرار چا رے تر حوالہ نچ ہو گا 


مل ٭٣۳٣‏ : رض خوا ,کو افقیار ےکہ عوالہ قبول نہ کرے اگرچہ جس کے نام کا توالہ ریا 








ترَسیمانسائن [_ 188 ا 
جائے وہ فقی بھی نہ ہو اور حواللہ کے اواکرنے می ںکو ابی بھی نہکھرے۔ 

مہہ ۲۳۶۵ :. جو حخصس اس کا مقروض نہ ہوجنس نے حوالہ دا سے اکر وہ حوالہ قو لکر لے ت 
وہ .اروا کھرنے نے ی حالہ بی والے ے حوالہ کی مقرار سن لے 2 اور گر رضح وو 
تھوڈڑی مقداد بر لس کرے جس نے حوالہ قول کیا ہو دہ حوالہ سے دالے سے فتط ا کابی مطال 
کر کاے۔ 

مل ۲ - الہ کی شرائا ری پہوئے کے بعر حوالمہ وین والا اور ٹیس ۓے تع حوالہ ویا 
جاۓ حوالہ مضسوغ نہیں کر گت اور جب وہ شنصس نس کے نام حوالہ دیاگیا ہے حوالہ کے وقت قب 
بو آلرچہ ددبجد میں مقر ہو جائۓ لن قرض خواو بھی حواٹ کو مضسوخ نہیں کر مکتا بی کم اس وت 
ہے تب وہ مس 2 کے غم حوالہ دیاگیا ہو حوالہ وی کے وقت ہو اور خر" خواو جانا ہوک وہ 
فقیہ ہے لیکن آمر قرضش فو وکوعلم کہ دہ فقر ہے اور بعد مس اسے پت لے و خواہ اس وقت دہ مس 
مالدار ہوگمیا ہو قرض خٰاو حوالہ مو غکر سکتا ہے اور انا قرش حوالہ دنینے والے سے نے سکتا ہے۔ 
مل ۲۳٢٣۰‏ مر مقروض اور قرضس خواہ اور ٹس کے ام کا حوالہ دیاگیا ہو ( اس صوہ 
جببکہ ا کی قولیت حوالہ کے کچ ہونے میں مجر ہو) ما ان میس سے کن ایک تے ابی" 

حوالہ مو کرنے کا معابر ہکیا ہو تو جو معاہرہ انموں ن ےکیا ہو اس کے علق وو حوالہ مفم 

یں۔ 

مسلہ ۲۳٢۹۸‏ ۰ گر حوالہ ویۓ والا ود قریش خواہ کا قرضہ اداکر رنے اور امہ یہ کلم اس شس کی 
خوائش پر ہوا ہو خس کے ام کا غواللہ دیاگیا ہو جبکہ دہ حواللہ و نے والے کا مقروض بھی ہو ار وہ جو پچ 
ما ہو اس سے نے متا ہے اور اکر ا سکی طوائش کے بغیراواکیا ہو یا وہ حوالہ وہندہ کا مقروض ئہ ہو 
چھراں نے جو چھ وا ہے اس کا مطلہہ اس سے نمی ںکر سا 


ران کے انام 


مہ ۲٣٣۹‏ ۰ رین ہہ ہےکہ مقرو تقر خولد کے پاس اپ م لکیہ مقدار رکھ رے جل 








توضیحالعسائل (ا وھ ] 
اکر اس کا قرضہ اوا نہکرے قو وہ اس مال سے اپنا قرضہ وصو لکر نے۔ 

مہ ۳۳۳۴ ٠‏ رین می ںکوکی خا صیفہ پڑھنا ضروری میں ے بلہ مر مقریض انا مل لکھردی 
کے ارارے سے قرضسی غخوا کو درے دے اور قرضش خواہ ای ارارے سے اسے نے ہے تو رین مخ 
مل ۲٢۳۱|‏ : گمروی رن والا اور جو نس مال بطو رگھروی نے ان کے لیے ضردری ےکس بالغ 
۱ زر عاقل جن از ری تے ائیں الں موالے کے لیے مجبور نکیا ہو اور ىہ بھی ضروری س ےکلہ ال 1 
عردی رن وا مفاس (ویوالیہ شد) اور نہ نہ ہو۔ مفلس اور سغیہ کے معن میان یئ جا گے ہیں۔ 
مل رص انان وہ مل یگروی رک سنا سے جس میں وہ شرعا“ تر فکر سا ہو اور اگ رکسی 
دومرے کا مال ا کی اجازت سے مگمردی رکھ درے و بھی سکع ے۔ 

مل ۴ م۲۳۳۳ : جس ہہ کوکردی دکھا جا را ہو ا ںکی خرید و فروضت تج ہولی چایے میں آمر 

إ٤‏ شب بااس سے مق ہلت چیک ردی ری جا اذ درسصت نی ہے۔ 

لہ ۲۳۲۴ ٠:‏ جس ہچ کومگردی درکھا جارہا ہو اس سے جو فائدہ ہو وہ اس جن کا یل سے جس 
ن کروی رکھا ہوں 

مستلہ ۲۳۷۵ ٠‏ ترض خواہ نے جال بطورگردیی لیا ہو وو اسے مقری کی اجازت کے ای ری 
دوسر ےکی علیت میں میں رے متا خلا وہک وہ م لس یکو پیش نمیں مکتا و ری کے پاس فروشت 
بھی ضییں کر متا لیکن ار وہ اس ما لک وکس یکوپنش درے پا فروض تکر دے اور بعد ٹل مقرورض اچازت 
دے وے و اس می ںکوکی اشکال خیں ے۔ " 

متتلہ ۲۳۷۴۲ ۰ .اگر قرضش خودہ اس ما لکو جواس نے بیو رگروی لیا ہو مقر کی اجازت سے نے 
رے پر خود ما ل کی طرح ا کی تم تب یگمردی ہو جاتی سے اور گر مرو کی اجازت کے بغیر تچ دے 
اور بید میں مقروض ا سکی تحمدی قکر درے یا کہ خود مقروض اس چ کو قرش خوا کی اجازت سے نے 
رنے کہ ا کی قب تگردی ہو جائۓ تب بھی بی عم ہے (یی اس مل کی جو فبت وصول ہوگی وہ 
حور مال کی ططرحگمروی ہو جائےگی) اور نقروضش اس چ کو قرسش خواہکی اجازت کے بغی ریچ نو وہ نر 











توضیح‌المسائل ۱ -1 یل 
پدحتو رگروگی نے یت 


لہ ے٣۳٢ ٠‏ جس وقت مقر و ض کو قرض اداکر رما چا ین اکر قرش خواہ اس وت مطال ےکرے 
اور مقروض اراگی نکرے تر ای صورت میں چیکہ فی خواہ یل فروش تکرنے کا اخقیار رکتا ہو ود 
گمردی لی ہیئے ما لکو فردش تکر کے اپنا قزضہ وصو ل کر سکنا ہے اور آگر اخقبار نہ رکتا ہو ز اس کے 
لیے ضروری ہےکہ مقروض سے اجازت لے اور ار اس کک کچ نہ ہو اس چا کہ عائم شر 
سے اجازت نے اور دونوں صورتوں میں اکر قریتے سے زیادہ قیت دصول ہو ت سے چا کہ ڈاتر مال 
مقرو کو رے رے۔ 

سنہ ۲۳۷۸ 2 گر مخروضش کے اس اس مکان کے علادہ مجن میں دہ رتا ہو اور اس سامان کے 
علاوہ جس کی اسے عانت ہو او رکوگی چیزنہ جو فو قرض خواہ اس سے اپنے قرض کا عطابہ نمی ں کر مت 
ین مقروضش نے جو مال ابلو گردی دیا ہو اکرچہ دہ مکان اور سان بی کیوں نہ ہو تر خواہ اسے پ اکر 
اپنا قرضہ وصو لکر سا ے۔ 


ضاسن ہونے کے احام 


مل ۶۹ اگ رکوئی نخس کسی دوسرے کا قرضہ اواکرنے کے لیے ضامن بنا چاہے تر اس کا 
ضامن نا اس وت حجج ہد گا جب وو کی افظ سے (اکرچہ دہ علی زان میں نہ ہو) یا حصل سے قرش 
خوا ہک مکچھا و ےکہ میس تمارسے قر کی اوائجگی کے سذ ضامن بن گیا ہوں اور ةقریض فواہ بھی ابی 
رضا مندی کا انگما رکر وے اور مقروض کا رضا مند ہونا شرط نہیں ہے۔ 

تہ ٣٢۶۳٣٣‏ 2 ضام اور قرش غخواہ دوٹوں کے ملین ضروری ہب کہ بلغ ادر عاقل ہوں او رسی 
نے ائییں اس معا پر جبور نکیا ہو اور وہ میہ اور واوالی۔ بھی نہ ہوں یکن پے شرائط مقروض سے 
لیے نہیں ہیں لا آ رکوئی مخس پچ یا دیوانے یا مغیہ کا قرض اداکرنے کے لیے ضاسن بے فو انت 


گی ے۔ 


مہ ۲۳٢‏ : ج بکوئی عخفس ہہ ک کہ اکر مقروض تمارا قرش میں رے گا ہیں دوں گا اس 











توضیچ‌المسائل ٠‏ إ !ا 


6 کو ایک وعدہ مھا جائے گا اور اس پر ات کے اکام ججاری شی ہوں گے۔ او رکروگلہ سے وعد کی . 
عقد لازم کے من میں نیس ہوا یا ا کی وفا واجب نیں- 
منتلہ8 ۲۳۳۲۲ : کر ایک مخصس ووسرے سے قرض لیا چاسے اور ایک اور منص قرش ریے 
دالے سے سک ےکہ میں قریض کا ضامن ہوں تو اڑسی صورت میں ار قرزش لن ولا ادائگی ن ہکرے تو بعر 
یں ےکہ قرض خواہ ضان سے اس کا مطالہ کر کے۔ 
مسنیلہ ۲۳۲۳ : ان ای صورت میں ضامن بن کتا ہے جب قرض خواہ اور مقریض اور 
فرض کے طور پر دی جانے وای جن نی ااوائع مین ہوں ابنرا گر دو اشفان س کی ایک فص کے قرس خواہ 
ہوں اور انان کی ےکمہ میں تم میں سے ایک کا قرض اد اکر روں گا نو چوکلہ ای نے اس بات کا تین 
نی ںکیاکہ وہ ان یں سے کس کا قرض اراکرے گا اس لیے اس کا ضامن بنا انل سے نیرک رک یکو دو 
اشاصس سے قرض وصو لکرنا ہو او رکاگی ہنس س کہ میس ضامین جو کہ ان دو میں سے ایک کا قرضہ 
میں اوااکر دوں گا نز چ کہ اس نے اس بات کاتتین خی ںکیاکہ دونوں میں سے کس کا قرضہ اواکرے 
اس لیے اس کاضامن جن ال سے اور ای طرح آگ ری نے ایک دوسرے میس سے مشیل کے طور 
پا می نکندم اور دں روپےہ لین ہوں او رکوئی شی کی ےکہ میں تممارے روئوں قرضوں میں سے 
ا ککی اوائگی کا ضامن ہوں اور اس ام رکا تین نکر کہ دہ گندم کے لیے ضاسن ہے یا روپں کے 
کی یہ انت تج میں ےے۔ 
مل ۲۳٣۷۴‏ : مر قرض خواہ لن قرضہ ضام کو بنش درے نو ضامن مقروض ےکوئی چن نہیں 
نے عم اور اکر وہ قرن ےکی پکھھ مقدار اس بنش رے تو وہ (مقروض ہے) اس مقدار کا مطالبہ خی کر 
سکیا۔ عنرا لعلب ا کو عاض کر مبری زم دارئی ہے۔ ومہ داری قول کرنے والا کفیل جو صاحب تی 
ذمہ داری نے را سے وہ کول لہ اور نس فیس کے عاض رکرن ےکی ذمہ داری دی جادی ہے وہ 
تافو لکملاتا ے۔ ۱ 
سا١‏ ۲۳۲۷۵ ؛ ا رکوئی نس کی کا قرضہ اداکرنے کے لیے ضاسن من عجائے تو وہ ضا 
و و جا 

۱ مستلہ ٣۳۲۷‏ ۰ بب اقاط ضامن اور قرض خواہ ىہ شرطط لے نہی ںکر کہ ٹس دقت چاؤں 


پہپو بہپپتئلںت تہ 











توضیحالمسائل .4921ا 


ضاص کی عزیانت مضفسو کر ریں۔ 

مہ ے۳۲٣‏ ؟ اگر انان ضاصن بنے کے وقت تر خواہ کا قرضہ اداکرنے کے ال ہو تو خراہ 
دہ (ضای) بعد میں قب ہو جائۓے قرض فواہ اس کی حات مضسوغکر کے پلہ مقرویش سے قرض کی 
اائگی کا مطالہہ خی کر متا اور مر ضاسن بنے کے وقت ضان قر اواکرنے بی مقادر نہ ہو لن قش 
ولا ہہ بات جالنے ہوئے اس کے ضامن نے پر راضی ہو جائۓ تب بھی بسی عم ے۔ 

مل ۲۳۲۸ : مر انسان ضاصن نے کے وقت قرض خواو کا قرشہ اداکرتے پر تاور دہ ہو اور 
قرسش خول صورت عال سے لا علم ہوتے ہوئے ا کی دفانت مضسوخغکرنا چاہہ تے اس میں اشعال ے 
نوس اس صورت میں ج بکہ قرزضس خواو کے اس ام کی جانب موجہ ہوئنے سے پل ضنامن قر 
کی ادائگی پر قادر ہو جاے۔ 

متیلہ ۲۳۳۲۹ ٠‏ اگ رکوئی مخ س کی مقرو کی اجازت کے بغیر اس کا قرضہ اداکرنے کے لیے 
۱ ضاصن بن جائۓ تو وہ اس مقرو ض کا قرضہ اداکرنے پر اس سے کیہ نہیں لے سلتان 

مہ ٠ ٣۳۳٣‏ اگ رکوئی خخ س کی مقر سک اجازت سے اس کے قرضل کی اوائگی کا امن بن 
جائے تنس مقدار کے لین ضامن بنا ہو وہ اداکرنے کے بعد مقروضش سے اس کا مطالہہ کر سنا ے 
ین جس جنس کے لیے وہ مخقروض ھا ا کی ججاہۓےکوئی اور ٹس قرش خوا کو رے و جو یز وی ہو 
اس کا مطابہ مقریضش سے نمی ںکر مکنا لا اکر قوش کو وس من گمندم دتی ہو اور ضامن وس می 
ایل درے دے تو وہ مت وض سے وس مین چاول کا مطاہہ خی ںکر متا لیکن اکر مقروضش خود چاول دیے 
پہ رش مند ہو جاے نز پھرکئی مع نہیں۔ 


کفاات کے ام 


مل ۲۳۲۳٣‏ ۰ کفات سے مرا یہ ہے کہ آ رکوٹی عخ سکس یکو ”نقصا دیت یا اپنے جن کی 
طاطر مطلوب ہو اور اس کے بواگ جانے کا خعطرد ہو قے ایک تبرا شٹھس اس با ت کی زمہ واری اور 
کفاللتں تو ليکر ےکہ اس مطاوبہ شف کو چھوڑ دیا جاے۔. 








ْ 
۱ 


۱ 


توضیح‌المسائل ) دوه ] 


مل ٠ ٣‏ کفالت اس دقت کیج ہے جب کفی لکوئی سے الفاط میس خواہ وہ عرلی زین کے 
نہ بھی ہوں یا گسی گل سے صاحب ج کو یہ بات مچھا رےکہ مس ذمہ لیا ہو یکہ جس وقت تم 
مطاوب شخ سکو چاہو کے میں اسے تمارے سیر کر دوں گا اور صاحب تق بھی اس با کو تو لکر لے_ 
مستیلہ ۲۳۳۳ : کیل کے لیے ضروری ہ ےکم پالغ اور عاقل ہو اور سثیہ اور ولوالیہ ہ ہو اور 
ا ےکپیل بے پر یور نہکیاگیاہو اور اس يات پر قاور ہوکہ نس کاکفبل بے اسے حا کر ے۔ 
مل ٣‏ ان ای جیزوں جس ےکوئی ایک کغال تکو کا معد مک دیق ہے۔ 

ا - -کفیں مطلوبہ خ کو صاحب می کے حول ےکر وے۔ 

۷د صاحب تق کات اداکرن کی لاحب تکی صورت میں جن اواکر رے۔ 

۳... صاحب مع آپنے صن سے وردار ہو جاۓ۔ 

- مطلوبہ مس مرجاے۔ 

- صاحب جن کفی لک وکفالت سے آزا در رے۔ 

متل2 ۲۳۳۵ ٠‏ رکوئی مس کسی مطلوبہ شس کو اس کے صاحب مق کے لق سے زبردسی ٴ 
ر اکرارے اور صاحب حم کی تج مطلوبہ نس کک نہ ہو کے فو نس میس نے مطاوہ من یکو رپاکرایا 
ہے اسے جاپ نے کہ اسے صاحب حق کے پر وکررے۔ 


ورلجہ (امات) کے ام 


متلہہ ٠ ٣۳۳۷٣‏ اگ رکوئی شفصس انا مال تس یکو دے اورک ےکہ ىہ تمارے اس ابات رہے گا اور 
دو بھی قو لکر نے یاکوئی لفظط کے بخیر بل کا مالک اس مخ سکو مجچھاد کہ دہ اسے مال گسداشت کے 
لی دے درا جے اور وو بھی گرراشت کے مقصد سے لے لے تو اسے (ل لیے وال ےکو) چا کہ 
ددعہ اور ابانت واری کے ان ایام کے مطابق جن کا بیان بعد میں ہو گا گ لکرے۔ 


مہ ے۲۳۲۳ ۰ انت وار اور وہ شس جو مال بطور اباخت دے رونوں عاقل ہونے پان اپبزا 











توضیحعالمسائل تع ‌9]) 


اگ رکوتی مخ دیانے کے پا سکوئی مل ابات کے طور بر رکے یا دوانہ اپپا ما لی کے پا بطور مات 
رکے قب مجح نیس ہے البتہ ہہ بات جائز ہ ےکم ممہ یہ نی دہ بی جھ اجشہ برنےکی فی دکتا ہو اپنے 
و کی اجازت سے اپنا مل یکی کے پا بطور مات رک اور میترچے کے پا کوکی جن انت رین یں 
کوئی رج ٴمیں خواہ اس کے وٹی نے اس ام رکی اعجازت شہ بھی دی ہو۔ 
سیل ۲۳۳۸۸ ٠‏ رکوئی خص پچ ےکوگی یراس جن کے مان کفکی اجازت کے بی لبطور ابانت 
سے تو ں کر نے تے اس من سکو چچاب ےکہ وہ یراس کے مان کفکو درے ورے گور آئر وہ جنر خود ٹچ کا مال 
ہو اور اس کے وی نے ہج ےکو اسے مبلور مان ت کسی کے پاس رک ےکی اجازت نہ دی ہہو نز ابات لیت 
وا ےکو چا کہ دہ جز چے کے وی کے پاس پشیا درے اود آمر وہ ان ٹوکویں کے پاش مال کنانے میں 
کو یکرے اور وہ مال لف ہو جائۓ و اسے چا کہ اس کا عوض وے اور اکر بات کے طور بر مال 
دسینے وال ویوانہ ہو تب بھی بی عم ہے۔ 
اصلہ ٣۳۳9۹‏ : ج بکوئی مس وات میں دہے مج مل کی اعت نہ کر سکتا ہو گر ابانت 
ہے والا اس امرکی جانب موجہ نہ ہو تر اط واج ب کی بنا بر اس شف سکو چا کہ انت تول نہ 
کین 


مل ۲۳۴٣۸‏ : گر انان صاہب ما لکو مھا کہ وہ اس کے مل کی گمداشت کے لیے تار 
یں اور صاحب مال یھی مال چھو کر چلا جائے اور وہ مال تلف ہو جائے تز جس فیس نے انت 
قول نکی ہو وہ زمہ وار خمیں ہے لن اس کے لیے ایال ص جب ہے ہ ےکہ اکر خحان ہو ت2 اس ما کی 
قاقر تکرے۔ 

منیلہ (۲۳۴ ٠‏ جھ مخس کسی کے پا سکوئی چیللور بات رکے وہ اس قرو جس دقت جا 
والیں لے سنا سے اور جس شنخس ن ےکوی چتہلوراہانت قب ل کی ہو وہ جب بھی چاہے اس کے مان فک 
لوٹ سا ے۔ 

میلہ ۲۳۴۳۲ ٠‏ ا رکوئی شخ مان تکی گمداشت رک کر دے اور ووبہ منسوخ کر دے تر 
اسے ای کہ جس قد جلدی ہو۲ گے مال اس کے الک یا الک کے کیل ما و یکو بہئیادے یا انیس 








توضیچ‌المسائل لا دویو] 


اطلاع درے دے کہ وہ مال کی حفالت کے لیے مار خخیں ہے اور اکر وہ بضیر عذر کے مال انہیں شہ 
جیا اور اطلاع بھی نہ رے نواگمر مال تحف ہو جائۓ و اسے چا کہ اس کا عوض ورے۔ 

مستلہ ٠ ٢۳۴٣۳۴‏ جو مخ مات جو لکرے اگکر اس کے پاس اسے رکتے کے لیے مناسب مکہ 
نر ہو پ اسے پا کہ اس کے لیے مناسب مہ عاص لککرے اور اس چ زکی اس طرح ماش تک ے 
کہ لوگ یہ نکی کہ ا ںکی گمداشت میں اس ن ےکو تا یکی ہے اور آگر وہ اس چ ہکو اڑسی مہ ر تھے 
جواس کے لیے مناسب نہ ہو اور وہ تلف ہو جا تو اسے چا کہ اس کاعوض وے 

مل ٠ ۲۳٢۸۴۴‏ جو خصس ایت قبول کرے اگر وہ اس کی گرراشت مہ ںکو انی نہکرے اور 
تعدی لنی زیادہ روی بھی نکرے اور اناق“ وہ مال تلف ہو جاۓ تو وہ منص زمہ وارخمیں سے لن 
ار وہ ما لیکو ابی تمہ رکے ججراں وہ اس بات سے حفوظط نہ ہوکہ اگ رکوئی الم خرائے فو لے جائۓ اور 
اکر وہ مال تلف ہو جاے فو اسے چا کہ اس کا عو اس کے مال فکو رے۔ 

مسنیلہ ۲۳۳۴۵ ۰ ا۰ک مل کا .الک اپنے ما لکی گدداشت کے لی کوکی لہ می نکر دے اور نخس 
مس نے مات تو لکی ہو اسے کک کے چا ےکی نہیں مال کا خیال رکے اور ار اس کے الع ہو 
جانے کا ال ہو تب بھی کے ا سک وکہیں اور خمیں لے جانا حایے تو مات قو لکرنے والا اسے کی 
ارر مہ میں نے جا سکنا اور آمر وہ ما لکوکسی ددسری بچلہ لے جائے اور وہ تلف ہو جائے نز وہ شخس 
(یٹنی انت قو لکرے والا) زمہ وار ے۔ : 

متلہ ۲۳۴۷ ١‏ آگر مال کا الک اپنے ما ل کی گمداشت کے لی ےکوئی مجکہ می نکرے اور جس 
خصس نے امانت قو ل کی ہو اسے عم ہ کہ وہ کہ مال کے ماک ککی نظھرمی ںکوئی خصوصیت نمیں رکتی 
لہ اس کے می نکرنے سے اس کا مقصد ضس ما لکی فاشت تھا وہ اس ما لک وکس لی لہ جو زیادہ 
وی ہو یا پیلی تا بشتی بی محفوط ہو نے جاسکتا سے اور گر مال وہاں تکف ہو جائے تو وہ زمہ دار مل 


ےہ 
1 


لہ ے۲۳۴ : ار مال کا مانک دوانہ ہو جاۓے نو ضس خص نے اس سے امانت قول کی ہو 
اسے چان کہ فور ات اس کے ول کو پہئچادے پا اس کے و یکو خ رجا رے اور آمر دہ شرگی عذر 











توضیح‌المسائل 7 86ا 


کے یر مال دوانے کے و یکو نہ پجائۓ اور اسے خجروسینے می کش یکوباہی برتے اور مال لف ہو جات 
و ا سے پا کہ اس کا عوض رے۔ 


تل ۲۳۴۸ ۰ ار مل کا مالک مرجاے و ابانت دا رکو چا کہ ای تا اس اس کے وارٹ ٴ؛ 
پنیا وے یا اس کے وار ٹکو اطلاع رے اور آکر وہ مال سیت کے وار ت کو شہ ورس اور اس خر ینا 
میں کھ یکو اہی برتے اور مال لف ہو جاے و وہ زمہ دارے ین اثر وہ ال ال وچ ے وارث ہد 
درے اور ات تر سی میس مھ یکو ابی برت کہ وہ ہہ جاننا چپتا ہ وک جو شف سمکونزا مہ کہ میں میت کا 
دارٹ ہوں وہ ٹیک بھ یککتابے یا خی با ہہ جننا چاہتا ہ وکہ عبت کاکوگی نورشنی وارت ہی پا یں ة 
پچ راکر مال تلف ہو سائے و وہ زمہ وارخیں ے۔ 
2 

مننلہ ۲۳۴۹ ٠‏ اگر مال کا ]لک عرجائے اور اس کے کئی وار ہہوں نز نس شس نے ااشت 
قو ل کی ہو اسے چا نے کہ مال تقام درعاء کو رے پا اس مخ کو رے سے مل دسننے پر سب وہ۶ 
رضامید ہوں انا اگر وہ دوسرے ورا کی اجازت کے اخیر مال فقط ایگ وار ٹکو رے وے لو وہ وو “رن 
کے حموں کے لیے وم وار ے۔ 


مل ۲۳۵۴ : جس مخ نے آمات قو لکی ہو آلر دہ مرجائے یا دبواثہ ہو جا تو اس کے 
وارث یا و یکو چا کہ جس قر جلدی ہو کے مال کے مال فکو اطلارع رے پا مات ا کو جات 
متلہ ۲۳۵۱ .گر ات دار اپنے آپ میں مو ت کی نثائیال دییے تر اکر خمکن ہو ت اسے پا 
کہ مان تکو اس کے مالک یا مالک کے وکیل کے پاس پیادے اور آمر ایی اکرنا فان نہ ہو تو اسے پار 
کہ وت عاکم شرع کے سیر کر دے اور اکر عاکم شرع کے شہ تی سکما ہو ناس صورت میں ج بب لہ 
اس کا وارٹ اشن ہو اور ابانت کے پارے میں عم رکتا ہو اس کے لیے ضرددری نی ںکہ وی ت کر 
ورنہ اسے چا نےکہ وع تکرے اور اس وعیت بر شاہد بھی مقر رکرے اور مال کے مالک کا نام اور ال 
کی ٹس اور خصوصیات اور اس کا گل وتوع وضی اور اہ رو تا رے۔ 

مل ۲۳۵۲ ؟ اگ ر انت دار اپنے آپ میں مو تکی نشائیال دہ اور ضس وف کا ابق سنہ 
میں وک رکیاگیا ہے اس کے مطابق گل ن کرے تر لگ وہ بات کلف ہو جائے ت7 اسے جا کہ جن ک 











لا دوہ ا 





عمش دے الرچ اس نے مالک ھداشت می ںکو بای کی ہو اور اس کا سس بھی دور ۶د چکا ہو یھ 
حدمت کے بعر چان ہوکر ا .نے ومیت بجھ یکر دی ہو۔ 


مار کے اعکام 


مسازلہر ۳۳۵۳ ١‏ مار سے ماد يہ ہ ےکہ انسان اپنا مل دوسری کو د ہے کہ وو اس ہلل سے 
اتڈدہ رے اور ای کے عو می سکوئی مان ےھ ا۔ 


تل ۴۳۵۴ ۰ ماری مس عیفہ پڑھنا ضروری نمیں اور اکر شال کے طور بر کوئی شنو ں کس یکو 
ای عارہ کے تصد سے رے اور وہ بھی اس قصر سے نے 3 عارے کچ سئ۔ 
لہ ۲۳۵۵ ٠:‏ غخصی چز یا اس چزکابطور عاریہ رین جوکہ عاریہ ریے وا لے کال ہو لان اس 
ی تد اس نے سی دوسرنے منص کے سیر دکر دی ہو اس صورت ہیک ہے نپ غصبی پچ رک 
مالک ىا وہ مس ضس نے عاربہ دی جانے وا ی کو لور اچارہو نے رکھا ہو ای کے لناور مار وین پ 


راض ہو ہا 


سنلہ ۲۳۵۸ ؛ مر ہی مخد کی مخ کال ہو شلا وہ اس نے اجارہ بے نے دی ہو اں 
کو وہ اور عارے ددے کنا ۔ بے لین اکر اجارہ یل ہے شط عائ دک یگئی ہ کہ وہ خخس نواس مال سے 
اذا ۂکرے گا روہ شس وہ ما یککسی ووسرےکو اجطور عاریہ شیں رے تا 

مسولہ ے۳۵٣‏ ۰ گر روانہ بیہ دوالیہ اور مغ انا یل عار” دیں رض خی ہے نان اس 
صورت میں ج پکہ لی اس بات میں معصلحت تا ہوکہ جس نس ۷ وہ ولی ہے اس کا مل غارے پے 
رے دے تو اس می ںکوکی ضرج نہیں اور اکر ہہ اپنے و کی اجازت سس اپنا مل عارہتا“ دنن دبےے ف اس 
مصوزریں میں کی بی تم ×0 

ستل ۲۱٢۵۸‏ بس مس نے کوئی پچز عارج“ پی ہو اگر وہ ا ں کی گہداشت یں کونی دہ 
کرے اور اس سے معمول سے زیادہ احتفادہ بھی ح ہرکرے اور اا8“ وہ چیز تب ہو جائے تر وہ شس 
ذہ وار یں ہے لیکن اکر طرفین ہیں میں ہہ شرطا سی ےکری کہ اکر وہ جن تلف ہو جالے نو خات”ا“ لے 











توضیحالمسائل 8 30 


والا مہ دار ذو گا ا جو چنز عاری“کی ہو وہ سون یا چاندری ہو ت عاریا“ لین وا ےکو چا ۓےکہ اس کا عوضش 
وھ ٰ 

مہ ۲۳۵9 2 اگ رکوتی نس سرن یا چاندی عار“ نے اور بب سے ہوکہ آکمر دہ سون پا چاندی 
لف ہوکیان وہ ذمہ دار خیش ہو گان اگر وہ لف ہوگیا نو وہ نس زمہ دار نہیں ہے۔ 

مل ۲٢٢۷۶‏ ۰ ا رکوئی نز عاریا“ رین ولا مر جائے تر عارہتا“ لین والے کو بچای کہ جو چچز 
عاری ”لی ہو وہ ھرنے ذاز لع کے رفا کو وج ڑکج نے 

مل |۲۳۹ : ہر عارتا“ دینے دالے کی کیغیت ہے ہ وکہ دہ شرھا“ اپنے مال میں تصرف ن گر 
سکیاہو سا داوانہ ہو جائے تو عاریتا“ لیے والے کو چا کہ جو مال عابتا“ یا ہو دہ عارتا“ رین وانے 
کے ول یکر رے رے۔ 


مستلہ ٠ ٣۳۷۶۳‏ جس شخیس نےکوئی چنزعارتا“ دی ہو ق دہ جب بھی چا نے اسے والیں نے مت 
ہے اور بس ن ےکوگی نز عاریتا کی ہو دہ بھی جب چا واہی کر سکتا ہے۔ ۱ 
اعل ہہر: کی ایی چ کا عارتا“ ویتانس سے عال اتتقارہ نہ ہو سکتا ہو ڑل و و اپ 
اور تار یازی کے آلات اور استعال کی رش سے س نے چاندی کے جرتن عاریتا“ وینا) باعل سے ہا اگمر 
ان چو کو سچاوٹ کے لیے عارتا“ دا جانے ق جائز سے اکچ اق اس خرس سے عارتا" دی کو بھی 
تر فکرنے مں ے۔ 

مللہ ہی ٠‏ بھیڑو ںکو ان کے دودھ اور میم سے استغاو رن کے لیے اور نر جوا نکو مارہ 
حوانات کے سا مطانے کے لیے عاریتا دیتا سج ہے۔ 

مستلہ. ۴۳۷۵ ٠‏ اگ رکی نک عاریا“ لن والا اسے اس کے مالک پا الک کے وکیل با ول یکو رے 
دے اور اس کے بعد وہ یرف ہو جائۓ قذ اس کا عارچا“ لم ولا زمہ وار خمیں ہے لن آمر وہ ال 
کے مالک یا اس کے وکیل یا ول کی اجازت کے بفی ا لکو ابی کجمہ لے جاے جماں مل کا مالک اے 
وا نے جانا ہو شلاکھوڑےکو اس کے اصطیل میں باندھ دے جو اس کے مالک نے اس کے لیے تیار 
کیا ہو اور بعر م۱ ںتھوڑا تلف ہو جاۓے باکوئی اے تح فکررے از عاریا“* ین ولا زمہ رار ے۔ 











ارضیال ئل [ایوہ ا 


سیل ٢۳۰۳‏ ہگ کی 2 نکی جس ایی کم کے لیے عارتا“ رے جس میں لمات شرط 
ہو ملا جس برتن اور عاریب وت آ کہ اس میں کھاناکھایا جائے نو اسے چا جن کہ نس بی 
مارچ“ رے را ہو اسے اس کے جس ہوتے کے پارے ہی جا درے مین اگر خس یں ماز ‏ 

نے عارتا دے و طرورئ یں کہ ج ین وا ےک ا کے 2 ہونے کے پارے جیل ور 


سیل ۰۴۰۴م ٠‏ بوج کو نس نے عارج ”لی ہو اسے وہ اس کے مان کی اعازت کے فی کسی 

دو سر ےکو بطور اچارہ پا لطور عارپ یا دے کا 

مل ۲۳۹۷۸ جو پر کسی نس نے عاریا“ “لی ہو اگر وہ ا سے مالک کی اجازت ے” کی اور 

ٹخس کو عارتا* رے و کے ا جن نس نے پلہ دہ جنر عارتا“ ”کی ہو وو مم چاے پا واوائ بر ہز جائے لو 

2 وت 

سیل ۳۳۷۴۹ ٠‏ ا رکوئی نس جلتا ہوکہ جو مال اس نے عارتا“ لیا ہے دو ۔خصبی ہز اسے 
شکہ دو مان ای کے جال کک نا رے اور وہ اے عارتا“ دس ول ٹکو جں زے کت جات 


سیل ۷۳ج رکوکی خخصس کیا مل مارح“ نے نس کے مخلقی وہ چاتا ہ وک وہ غصبی 
5 اور اس سے فائدہ اٹھاۓ اوہ اس کے پا ہوتے ہوۓ وو ال تکف ہو جائے تق الک اس مال کا 
عو کور جو زمرہ عارچ“ لی والے نے اٹھایا سے اس کا عحوض اس سے پا ننس نے مال حص بکیا ہو 
الں ے لپ کر کت ےچ اور اکر وو عوضش عارج“ لیے والے سے آے نے تو وہ جو پکھھ مال کو رے 
اس کا مطالہ عارتاٴ ری واالے سے نمی ںکر کت 


منیلہ ۲۷۳۰۵۱ ج ا ری مغ کور معلوم نہ ہوکہ اس نے تو مال عاری“ لیا ے وہ غصبی 

ہے اور اس کے پاس ہوتے ہوئے وہ مال تلف ہو جائۓ تو اکر مال کا ملک اس کا عوض اس سے بے 
ےت وہ بھی جیھ بل کے پل فکو دیا ہو اس کا مطابہ عار وین والے س ےکر کنا ہے یکن ار ایی 
نے جو نز مارتا'“ 7 کے تر ا و ئا 
تلف ہو جائۓ قز وہ اس کا وش دے گا تو بچھراس نے مال کا جو عوض مال کے مان کو دیا ہو نی کا 


م'طالہہ وہ مارتا”“رۓے والے ہت میں کر متا ے۔ 











توضیح‌المسائل )۱ا ممد] 


عنقر اح سی ۱ زروارح 


مل ۲ے ب۲ عقد ازدداج کے زی عورت مد پر ال ہو جاتی ہے اور عم رکی رو تمیں 
ین بی دای اور غیر دای (مقررہ یت کے لیے عقد) عقد دای اسے کت ہیں جس میں ازدواج کی 
رت مین نہ ہو اور دہ بیشہ کے لیے ہو اور جس عورت سے اس عم کا عق کیا جائے اسے دا سیت 
ہیں ۔ اور ٹیر داگی قد وہ ہے جس میں ازددا ج کی مردت ممین ہو لا عورت کے اہ ایک گن پا 
الیک دن یا ایک می یا لیک سال کا یا اس سے زیادہ ہمت کے لیے عق کیا جائے نان اس عق کی برت' 
عورت اور مدکی عام عمرسے عاوا“ زیادہ ٹنیس ہولی چا ہب کیوکلہ اس صورت میں اقیطا“ عقد واگی ہو 
گا ورس عورت سے اس عم کا عق کیا جاے اسے محعہ اور عیفہ کت ہیں 


قد کے احکام ۱ 


مستلہ اك٢۳٢‏ ۲۳ ازدواع خواہ دای ہو یا غی دای ال میں میفہ پاعنا ضردریی ہے۔ کورت اور 
مرکا ینس رضا من ہوناکانی یں ہے ہک میفہ یا عورت اور مد خود اج ہیں یا یکو رکیل مقر 
کر لے ہیں تاکہ دہ ان کی طرف سے پڑھ رے۔ 

مل ص٣۲۳‏ : کل کا مد ہونا ضروری نی لہ عورت بھی عق کا میفہ پڑھنے کے لیج کسی 
دو مر ےکی جاب سے وکیل ہو عق ہے۔ 

لہ ۵ا۲۳ : رت اود م دکو جب کک لین نہ ہو جا کہ ان کے ول نے میقہ پڑھ ویا 
ہے اس بت تک وہ ایک دوسر ےکو مریانہ نظروں سے نہیں دکیہ یت اور اس بات کاگا کہ وکیل 
ے میفہ پڑھ دا ہے کا نی ہے لن اکر دک لکن دس ےکہ می نے میضہ پاھہ دیاہے تن ے۔ 
مل ۲٢9۷‏ : ار عور ت کم یکو وکیل مقر رکرے اور اے ک کہ تم میرا عق دی ون کے 
لیے فلیں نس کے سا پڑھ دو اور رس دن کی ابقداء کو مین نہ کرے تر وو را جن رس رثویں کے 








خماری بچوی بنایا ود 


لت سس 7۲ ڑ۱ ەمدا 


بی پایے دے اس مر کے نہ میں لا سا ہے ان لم کی کو معلو بوکہ عورت کا مقع ہی 


75 ین ۲ 
نا بن پاٹ کاے تق رات چاہ کہ عورت کے تصدکے مطالق میفہ پڑھے۔ 


مل ۲٢۳۵‏ : ٹر ددئی پا نہ خی دائی امھ بج کے لیے ایی مخ رد اشلائ کی 
طرف سے کیل بن سک ہے اور انان ىہ بھ یکر مکنا کہ عورست کی طرف سے وکیل ین جائے اور 
اس سے خودواگی خی وائی حون کر نے لین اط ص٢‏ خب یہ ہےکہ عحقد دد اشفائص پڑھیں۔ 


عق ڑم کا راہ 


مل ۲۳۷۶ اعت اور مد خود ای عقد دای کا میفہ بڑھیں نز پیل عورت سح 


زوستک نفسی علی الصد اق اللمعلوم تنا ٹم جة سس رہ جو نین ہو چا ہے اسپے آ کو 
اں جع سم ناسل کے ور کے قبلت التزویچ یی میں نے ازروا کا قول 


3 : ۰ طرف ہے میخہ عقد پا 

مو ےی ورک سی ور ےکاریل مھ گی کے اکا حمف س٭ 
ڑگر مل کے طور بر موا جاسم اص اور عورت کا جام ڈالمہ ہج اور عورت کا و تہ رانا 
مہوگلک احمد موگلتی فاطمة علی الصداق ائمعلوم اور ا کے إعد زاسا۔ کے برح وکا 


اتی وت 7 
رکیل ے قبلت التزویج زہووگلی احمد علی اثسداق المعلو ز حر جج ہو گا اور اخاط 
ز وہہ ہے سو 
عورت زوجت سے تو م ھی قبلت التزویج کے 
مل ۹ے۳٢۲‏ : زی مو حر شس فراگی عق رکاصیقہ حقرکی عت لوم رشن 
جرے کے بعر یہ جھتے ہیں لیذ اکر عورت کے زورٹک نی فی المنة المعلومة علی 


لا ناصلہ کے از ہمیچ ہے اور گر دوکسی مو شش سک 


ار الوم اور اس کے بد مد 
۷ ہے 011 7س ات 


الملومة علی اتمھر المعلو لاد ال سے ہیر مرز کا کیل جافاصلہ ے قبلت التڑویچ 


0 نت 7 
لموکلی ھحگذ١‏ تو عتر بج 5 














تونی لال[ ا503 !۔ 





عورت سے عق دکیاکیا ہد ال سنہ اسنعتاغ ہو کے و ظاہرطور یر رم ہین کا مقصد عاصل ہو جاۓ گا 
اور آر یر میں معلوم ہوک مقد کے دقت وہ عورت زندہ نہ تی تز عقد باظل ہے اور وہ لوگ چو ور 
بل کی وجہ سے بطاہرحم بن گے تھے ٹاعھرم ہیں۔ 

مسئلہ ۲۷۴۰ نس عورت کے سا تع ہکیاگیا ہو اکر مرد ا سک عولد میں متمی نکی ہوئی برت 

شی رے کر اس نے اس کے ساتھ عامس تک ہو قز اسے (لشنی مرکو اہ ےکہ تام نہیں جن ۷ : 
عو کیایا تھا اسے درے دے اور ار جچامعت تہ کی ہو از اطیاط واتب بے . ےکہ آدھا مررے وے اور 

اعقاط خحب يہ کہ ہارا +راے رے وے۔ 

مل ٠‏ مد کے لیے جائ ہب ےکہ جس عورت کے مات اس نے پل عتعہ کیا ہو اور ای 

ا کی عرت شتر نہ وی ہو اس سے دائی عق ھہکرے یا دوبارہ شع کر نے۔ 5 


کا لے کے اّام 


مل ۲۷۰۲ : مد کے لیے نائھرم عورلوں کے بن پر ڈثاہ ڈالنا اور ای طرخح ان کے پال وکھتا 
ترام ہے خواہ ایا کرنا لت کے تد سے ہو با شہ ہو اور لت کے قد سے ان کے چچروں اور پاتھوں پر 
ٹاہ ڈالنا بھی ترام بے بہ داب ہہ ہی ےکہ لت کے قصد کے اغیربھی ژگاہ نہ ڈالی جائے اور عورت کا 
ارم کے چرے ا تھوں“ سرمگررن اور پا٤ٗں‏ کے علاوہ اتی برن پر ٹلا ڈالنا گی مم ہ۔ 

مل ض۳۲۳ئًْ“" أگ ہکوتی شخفصس لزت کے قصد کے فی کاف عو رتوں کے چچروں اور پاتھوں اور ان 
کے بدنوں کے ان حسوں پر جنمیں وہ عاوبا فیس چپاتیں ٹاہ ڈانے نے اس صورت میں تہ اسے حرام 
جس چنا ہوتے کا خوف نہ ہو ابباکرتے می ںکوٹی حح خیں۔ 

مستلہ ٠ ۲٢۴۳‏ عورت ک چا کہ اپنا بدن ادر بال تا ئرم مرد سے چھپاے مور بحتریہ ہے کہ 
اس لڑکے سے بھی چا جو ہلغ نو نہ ہوا ہو مجن برے تل کی تیر رکتا ہوں 

مستلہ ۲٣۳۵‏ : می شن سکی شرمگاہوں پر خثاہ ڈالتا ت کہ مینز پیہ جھ برے پھ ےکی قیزرکتا ہو 
ںی شردعگاہوں پر مہ ڈالنا جی عرام ہے اکرچہ اییاکرنا شی کے یچچ سے ما کین یں ىا سامہ پالی 








7>دددذژدوجسسٗموھسمبوسسسسسہےےے_۔ 








توضیںالہتائل وو 


ویر میں ب کیوں نہ ہو البتہ میاں یبوی او رکنٹر اور آقا ایک ووسرے کا کا دابدن دک کے ہیں۔ 
مل ٣۲۴۷۹‏ جوم اور عورت آلیں میس رم ہوں آگر وہ لزت کا تصر ے رک ہوں ت 
شرمگاہ کے علاوہ ایگ دو سرے کا پرابرن دک گل میں اور لی الاحوط ان گی نف او رگھثتوں کا درمالی 
حصہ شرمگاہ کا عم رکتا ہے۔ 

متل ۓ ٢۲۳٢۳‏ : ایک خر کو دوسرے مود کا بدن نت کے قصد نے نہیں دسلھنا جاجے اور یگ 
عورت کا بھی دو سری عورت کے بن بر لبزت کے قصد سے ٹگاہ ڈالنا فرام جے۔ 


مل ۲۲۲۸ : مر دکو چا ےکہ نا حرم عورت کا فو نہ نچ اور آر سی نانرم عور ت کو اتا 
ہو ایا کی بنا یر اسے چا ےکہ اس عورت کے فولو یر نظرنہ ڈالے۔ 


ستلہ ۲۲۴۹ : گر ایک عو رت کسی دوسری عورت ما اپنے خوہر کے علدوہتکسی مر کا حقنہ کر 
سے ما اس کی شرمگاہ کو رھ وککر پا ک کر چاہے تر اسے جا کہ اپنے نے پاتھ بر کوئی نز لیٹں نے کہ 
اس کا پا دوسری عورت با مر و کی شرمگاہ تک نہ پچ اود آلرایک مو می دوسرے عرد یا اپٹی وی کے 
علادددکسی دوسری عورت کا حقنہکرنا چامے یا ان کی شرمگا ہکو دہ وکر پا کفکرنا اہی تو اس کے لیے بھی 
بی عم ے۔ 

مئلہ ۲۳۵۰ ٠‏ ار مدکی :حم عورتہ کے علاع کے سللے مس اس پر ڈلہ ڈالیے یا ا سک بات 
الانے بر مجبور ہو قۃ ای اکرنے میں کی رع خمیں لن گر وہ حض بک کر علا جع کر سکیا ہو نو اسے ایی 
عورت کے بر نکو پاپھ نہیں اتا چاجے اور مر صرف پاتھ لگانے سے علا ج کر مکنا ہو ج پھر ات بات 


کہ اس عورت ے نگاو نہ ڈايے۔ 


سنلہ8 ٣۳۵(۲‏ : آمر ازی نکی حخص کا عو جککرنے کے سللے میں ا کی شرمکاہ بر ڈگاہ ڈا نے 
حور ہو تر اضیاط وا ب کی بنا یر اے چا کہ نہ سام ر٣‏ جھہ اور اس میں ر کے قور شر 


اہ ڈالے کے عااد ہکوئی تچارہ نہ ہو تر ابیاکرنے می سکوگی حمح یں 








توضیح‌المسائل : ۱ ا0۲٥5‏ ا 


لیے چان سے اس مر کے نہ می لو سا ہے لیکن اکر کی لکو معلوم ہوک عورت کا مقص کسی 
ناس دن پا کیٹ کا سے ق برا ے چا ہہ ےکہ عورت کے قصد کے مطالق میضہ پڑھے۔ 

سیا ۲۳ : میٹ دای یا عقد خی دای فا صیفہ بڑے کے لیے ایک مخس دو اشفااس کی 
طرف سے کیل بن ما ہے اور ٹنیان ىہ بھ یکر سکتا ےک عور تک طرف سے وکیل بن جائے اور 
اس ت مو دای ا غیردائی عق دک نے لان اتقراط ص٢صخب‏ ہہ ےکہ عقد دو اشخاص بڑھیں۔ 

عق مج ےکا طراقہ 

سیل ۳۱٣ج‏ زلرعورت اور مرد خود اپنے عق دای کا یہ بڑہھیں تر پل عورت بے 
زوجتنک نفدس علی الصد اق الممعلموم نی میں نے اس مر جو مین بد چنا ہے اپ آس 
تمماری بیو ی نایا اور اس کے بود بی ناصلہ کے مرد کے قبلت انتزویح ّن ش ے ازوراخ و ول 
کیا +ر تٌیخ سے اور آگ گر کسی روسرےےکو کیل مقر ہکریںککہ نکی طرف سے سی عق پڑھ دے 
, ہر شال کے طور بر سر دنا نام اص اور عورت کا نام فا مہ ہو اور عورت کا ول ےه زوجہت 
٭ہوگلحک احمد مووگلتی فاطیة علی الصداق المعلوم اور اس کے ابد پاصاہ کے بخر سر کا 


یل ے قبدت التزویج لموگلی احمد علی الصداق اتمملو٤‏ و عار سج ہو گا اور اشْیاط 
داد ب کی بنا بر چا ےکہ مرد جو لفظ کے وہ عورت کے کے جانے داٹے نے لفط کے ملق ہو شل گر 





خورت زوجعت سے تو مریجھی قبلت التزویج کے۔ 


مل 4ی س٣‏ ؛ اکر خر عورت اور مرد چائیس قز خیب ردائی عق رکا یفہ عق کی مدت اود رشن 

کھرنے کے بعد ینہ یت ہیں نذا ار عورت کے زوجتگ نفسی فی المدة المعلومة علی 
لاوزال کبزا کے قبدت ‏ علظد سج ہے اور مر ودکسی اور شن کو 
وکیلی بامیں اور پ پل عورت کا یل مد کے کیل ے ے متمت موکلتی مَُوکلک فی المدة 
ائمسلومة علی المھر المعلوم اور اں کے پر مركا ول باناسلہ ہے قبلت التزویچ 
لیودنگلی ھگڈا عقد گج ہوگگ 








توضیح‌المسائل : ۱ 02 1 


عق دی را 
مل ۴ عق ازددل عکی چند شرائط ہیں- 
اح ہیک ماب قاط داب میفہ عق کیچ عھی حِ پڑھا جائے اور اکر ود مد اور کور 
۱ صیضہ کیج علی یں نہ بڑھھ کت ہوں اکر کن ہو تر اط وایب ہہ ہےکہ جو خخصس شیج 
عملی مش پڑھ سنا ہو اسے وکیل بتکھیں اور اگر ایاکرنا نان نہ ہو نز وہ خود لی کے علدو کسی 
دوسرکی زین ٹس پڑھ گت ہیں ان انیں چا کہ وہ الفاظ کہیں تو زوجت اور قبلت 
۱ کا مغموم اواکر گیں_ 
مر اور عورت پا ان کے تل 7 صیغہ پڑھ رے.ہوں وہ انثاء کا تر رگتے ہوں 
یی اکر خور مرد اور عورت عیقر پٹھ رے ہول ا رت کا زوجتک نقس یکنا ا 
١‏ قصد سے بدکہ دہ خودگ ای موک نیدی تار دے اور مو کا قبلت التزویج کنا تر 
سے ہوککہ دہ اس کا انی وی نت قو لکرے اور کہ مد اور عورت کے وکیل میقہ پا 
رے ہوں 7 زوجت و قبلت لۓ ے ان کا تر ہے ہ وک دہ مر اور عورت جموں نے 
ایس ول بل سے ایک دوسرسے کے میاں ویوبی بن جامیں۔ 
جو خی صیفہ پڑھ دبا ہ* اعقاط کی مار دہ بالغ اور عاقل ہو۔ خواو وو نے لے مز 
پڑھ باکسی دوممر ےکی طرف سے وکیل با یاگیا ہو 
گے آر عورت اور مرو کے ول یا ان کے وی صیقہ ام رہ ہوں تر وہ عیٹر کے وت 
عورت اور م یکو می نکر یں شا ان کے ام لی یا ا ن کی طرف نشار ہکریں پیں جس 
شس کی کی لڑیں ہوں گر دی مد سے کے زوجتک احدی بناتی ُ٘ مِں نے 
انی بیلیوں بش سے ای ک کو قماری یی متا ادر دہ مد کہ قبلت لن مس نے قو ل کیا 
چوککہ عق دکرتے وقت لڑ یکو معن خی س کیاکی کنا عقد پا تے۔ 
۵ مورت اور مد ازرواج پر راشی ہوں ہاں اگ ر بوءرت ظظاہری طور پر اپنددگی سے 
اجازت دے اور معلوم ہوکہ دل سے راضی ہے او عق جج ہے۔ 


۰ 


لہ ۲٢۳۸۱‏ : ہر قد مب ایک مرف بھی غلط پڑھا جانے جو اس کے می بدل رے تر عیٹر 











انل ے۔ 


متلہ ۲۳۸۳ ٠‏ جج نس عمى زی نکی صرف وخ ن جات ہو آگمر اس کی قرالت حچخ ہو دہ وہ 
قد کے ہ کل کے صحی فردا“ ڈردا“ جانا ہو اور جرلفظ سے ا کی عراد اس کے معن ہوں لو وہ عق پڑھ 
جم 


. 


نل ۲۳۸۳ ٠‏ اگ رکسی عورت کا عقد ا سکی اجازت کے بفی ری مرد سن ےکر دیا اور بعد میں 
عورت اور مد ایی عق کی اجازت دے یں و عقد ج ہے۔ 


مل ۲۳۸۴ : ہر ععورت اور مر دوفو لک ے ان میں سے کسی آی فکو اذدوارج سر مو کیا جاۓ 
ابر عقد بڑھے جانے کے بعد دہ اجازت رے ہیں نو عقد جع جے اور بھٹریے کس واپارہ عق ڑھا 


ایا 


ستلِ ۲۳۸۵ ٠۰‏ بپ اور دادا لپن نبال فرزند کا( لوک ہو یا لڑکی ) یا دوانے فرزن گج دلو ای 
عالت ڈں پاِعُ ہوا ہو وق کر یک ہیں اور جب وہ بچہ بل ہو جائے یا ولوانہ عاقل ہو جائے نوا نموں نے 
اس کا جو عق کیا ہو اگ اس می ںکوئی خرالی نہ ہو تر وہ اسے مفسوخغ خم می کر سکنا اور اگ اس می ںکوئی 
خی ہو اس اس عق کو برقرار رک یا شت مکرنے کاافقیار ہے لین اس صورت میں جن نابالغ لڑکے 
اور لڑکی کے اپ ان کے عق کر ریں گر وہ با ہونے پر اجازت نہ دہیں ظر طلاق ا عقد جدیے گی انقیاط 
تک نمیں ہوی۔ ۱ 

سیل ۲۳۸۷ 2 جو لی سد مو غکو کچ کچھی ہو اور رشیدہ ہو ین انی بھلائی برائی جا کت ہو مر 
وو اح کرنا چاے تر نیا حکر معن ہے۔ اور اگ رکنواری ہو احقیاط واجب کی بنا پر اسے اج کہ اپ 
پاپ یا دارا سے اجازت نے اور حوق زوحی تکی اواشگی کا ارد عدار پاپ دادا کی اجازت سے روط سے 
اور کر صرف عرم بنا مقصور ہو قر بغی اجازت کے عقر دائم وق منفٹ کرنا جات اہ ۱ 


می ۔‌ٛژ ۲٢۴۸|‏ : ار لڑک یکنواری ے۔ ہو پا کنواری ہو لن پاپ ہا رارا ہے اجازت لات لن کے 
غاب ہونے کسی اور وجہ سے من دہ ہو نز (غیب سے مراد ش یکوئی ای صورت تحکن شہ ہو کہ پاپ 
پا رارا ے رای گر کے اجازت لی جا کے۔) اور لی ماد ی کی ضرورتٹ من ر گل ٴ4 و ہپ پا رارا دے 








توضیح‌المسائل ۱ ے 82ا 


اعازت لیا ضردری جییں- 

مل ۲۳۸۸ ۰ ا۰ باپ ما دادا اپنے نالغ لڑ ےکی شاو یکر ریں نے لڑکےکو جا کہ ال ہونے 

کے بعد این عورت کا خر رے۔ 

تل ۲۳۸۹ : گر بپ ما داوا اپنے نپااغ لڑ ےکی شاو یکر ہیں ق, اکر لڑکا قد کے وقت مال 

رکتا ہو قز ود عورت کے مرکا مقروض ہے اور آگر وو تشد کے وقت مال نہ رکتا ہو ق ا کے پاپ یا واوا 

کو چا کہ اں عورت کامزییت ے ۱ 

دہ جیوب ہج نکی دجہ سے عقدش حکیاجا سنا 

مل ۲۳9 اکر مر کو عق کے بعد پند کہ عورت میں مندرجہ ذیل سات میبوں میس سے 

کوئی الیک عیب موجود ہے تو وو عق کوٹ کر سنا ہے۔ 

انس اگ ہں۔ 

ا کوڑم۔ 

پر 6 برش۔ 

٠ ×٣‏ معاہں۔ 

ووں جا باقع ہوا اور مخلوح ہونا بھی لاچ ہونے کے عم میں ۓءہ جب کہ عورت کا مفاورخ ہونا 
واج ہو۔ 

...۹٦‏ افضائشی پیشاب اور خی کا حخرح ما یض اور پاخانے کا خرن ایک ہو جائا۔ 

عور تکی شم گلو می ںگوشت ما پکی کا ہدتا جو جار سے مال ہو۔ 


مز |۲۳۵ : اکر عور تکو عقد کے بعد پت کہ اس کا شو ہر عقد سے پیک دلوانہ مرا ہے یا وہ 
عقر کے بعد عیامصتکرتے سے پیل یا میا مع تکر نے کے بعد دلوانہ ود جاے یا اس کا آلیہ مال بی نہ 
ہو یا اس کا آلہ تال عقد کے بعد لیکن میامعت سے پل کٹ جائے با ا : ہکوئی ای بیادبی ہو جن س کی 
وب سے دوہ ہجامعت پر قادر نہ ہو نوا اسے دہ بیاری عقد کے بععد اور خزد یکرنے سے لہ ب یکیوں شر 
تن :ول و ان تام صوروں میں عورت طلاقی کے مشیر عق کو خر کلنق کے ین اس صورت مل 








توشیحالمسائل_____ [ 5٥٤‏ ا 


جب کہ شوہ اعت :کر سنا ہو عورت کے یی لازم ہ کہ عکم شر یا اس کے دکیل سے رجا 
کرے اور وہ اسی کے شوپ رکو الیک سال کی معلت دے رے او گر پ مھ وہ اس عورت بای اد 
عورت ے عیامعت پر اور غہ ہو عورت اس کے بعد تر شت مک رق ہے اور مر مرکا تل ال 
عیا مع تکرنے کے بح رکٹ جائے اور عورت عوقد ازددا کوٹ خکرے قز اس ٹ کرنے کاکوگی اش خی 
ہے چہ ایام مب ہہ سےکہ شوہ راس طلای دے دے۔ 

مل ۴٭ ٣ج‏ اگ عور تک عقد سے بعد پنہ ج کہ اس کے شوہرکے لے ثول بے کئ 
یں اس صورت میں ج بکہ اس ا مرکو عورت سے عئی کھایا ہو وہ قش مکرعحق سے ین اگ 
اس سے عق یہ رکھاگیا ہو فزا قاط ترک نیش ہوی۔ 

مل ۲۳۷۳ : الر عورت اس جا بر عق ش کرد ےکہ مرو عجامعت پر اور ٹیں شوہ رک 
پا ۓکہ اے آرعا مردے لین اکر ان دوسرے نقائس میں سے جن کا وک او کیاکی ہج می ا کک 
بنا بر مرو یا عورت ور ش کر ریں تو اکر مر نے عورت سے موامعت نکی ہو تھکوکی یت ای پ 
راج 6 اور ار امم تکی ہو ڑاے چا ےل پر جراراکرے۔ 

و عورتمیں جن سے ازدواج طرام بے 

لہ ۲۴ ۔ ان عورنوں کے ۔اتچھ جر انان گی گرم موں ازررلج ام ہے۔ مشا میں“ مجن" 
یچ خی ای میں 

مل ۵٭۲۳۰ ٠‏ اگ رکیی مخ سکی عورت سے عق دکرے نو خواہ اس سے عیاسعت نہ بھ یکرے 
اں عورت گی یں انی ابر دادی اور جقنا عاسلہ ادبر چلا جائے سب عورش اس مریکی رم ہو جائی 
ژں۔ 

یل ۲۳۷9۳۳ : ہگ رکوئی حخ سکی عورت سے عق دکرے اور اس کے ساتھ مادص تکرے فو پچھر 
اں عورت کی لڑی' سی ' تی اور خنا ساملہ یچ چلا جاے سب عورتی اس مدکی رم ہو جاک یم 


حُوام وو عثر ہے وقت موجور ہول یا بعد شُل پر ہوں۔- 


مل ے۲۳۹ : ا کسی مر نے نیک عورت سے عق رکیا ہو لن عامعت نکی ہو تو جب تک 











توضپالمسائل .1.35851 


وہ عورت اس کے ععقد میں رہے اعقیلط وجب ہہ ہ کہ دہ اس دق تک ا کی لڑکی سے ازوراج ۔ 
رے۔ 

مل ۲۳۹۸ ۱ انی پلدپھی اور غالہ اور اں کے پاپ کی پھویگی اور غالہ اور وارا کی ۱ 
پھوچھی اور الہ اور ماں کی پچھوچھی اور خالہ اور جال کی یھو تی اید الہ اد بش فرر ہے علسلہ اور چا 
جا سب ا ںکی محر ہیں۔ ً 

سیل ۵۸٣م‏ : شو رک پاپ اور واوا لور جس قزر ہے سلسلہ اوپہ چلا جانے اور شوہ رک پٹ و اور 
امس قر بھی ے سللہ ٹچ لا جائے اور نوہ دہ عق کے وقت نا مود ہوں پا پر میں ےا 
ہوں سب اس کے حم ہیں۔ 

مل م۲ رکوئی شش شکسی عورت سے عق رکرے تو خولو دہ حقد دای ہو یا خی دای جیب 
تک دہ عورت اس کے ععقد مس ہے وہ ا ںکی بھن کے ساتقہ قد خی ںکر تل 

مل م۲ تی شس اس ترحیب کے مایق جس کا وک رکناب علاق ج کیا ائے گا انی 
یو کو لاق رجنی درے دے تے وہ عدت کے ووران می اس کی بن سے عق یں کر متا ہے لین 
لاق با کی عدت کے دوران میں ا کی بین سے محقد کہ مکنا ہے اور نعل کی عرت کے ووران میں 
اعقیلط داب بے کہ عور تک بجع سے عق کرے۔ 

مل ۲٢۰۲‏ انسان اپ بیو کی اجازت کے بفیر ا کی بھاٹی با شچھی سے ازرواع نمی کر سن 
ناک دہ وی کی ابایت کے بفیران سے عق ھکر لے اود بعد ھی بیدی اجازت رے دے لپ رکا 
من یں۔ 

مل ۲ م۲ کہ یوک چ کہ اس کے شو ہرنے ا ںکی نی ما باٹی سے عق دکرلیا ے 
اور خاموش رہے ق اگر وہ بعد میں رضا من نہ ہو تو ان کاء قد پاٹل ے۔ 


مل ۲۲۰۳ گر انسان الہ کی لی سے شاو کرنے سے پھلے نعوز اڈ الہ سے زتاکرے لآ 
چگردہ ال کی لڑی سے شلوی خی ل کر ما ود اقلط ودب کی ہے چو بھی کی لڑکی کے پارے میں بھی 
گا عم ۱ 








ترضیچالمسائل__ ے ۱ ا +0م5 ا 


متیلد ۴۳۰۴ : .ا رکوئی محخفصس انی پھ جج یک لڑکی یا خال کی لڑی سے شاو یکرے اور اس سے 
واصدتکرنے کے بعد ا کی یں سے زناکرے تو سہ جات لن کی جدائی کا موب نمی ہوتی اور امہ ای 
سے میا مع کرنے .سے پطہ ا کی ماں سے زناکرے تب بھی بی عم ہے اکرچہ اط صخب ىہ ہے 
لہ اس صورف میں خلاقی و ےکر اس سے (ٰشن پھوچھ ی کی لڑکی یا خال کی لڑکی سے) جدا ہو جائے- 
مل ٣٣۸۵‏ : ا رکوئی نس ابنی پھونجی با خالہ کے علادہکسی اور عورت سے زناکرے تو احوط 
وہ اولی ہے ہے کہ ا سکی بٹئی کے ساتھ شال کرے بکمہ اگ رکصی عورت سے عق دککرے اود ایس کے 
راہ عامس کرنے سے پلہ ا ںکی میں کے سا زناکرے فو بتریہ ےکلہ اس عورت سے جدا ہو 

نے لان گر ار س سے عچامخ کر نے اور بعد میں ا کی میں سے زناکرے تر لا یہ اس کے لیے 
ہے وت 


متلہ ۷٭ ۲۴ : ملان عورت کا عظ کافر مرد سے نہیں ہو سکتا۔ ملران مر بھی ای لاب کے 
علاوہ کافرہ عورنویں سے ازرواج خی یکر سکت... لان یسودی اور میسائی عورتو ںکی بامند ای کاب عو رل٠‏ 
سے عن ہکرنے می ںکوئی حرج نہیں اور ایا وادب ہہ ہےکہ ان سے عقد دای ن کیا جائے اور لح 
فرتے لا خوارج ؛ لات اور نواصب جو اپنے آ پ کو لمان کھت ہیں کغار کے عم میں ہیں اور 
ملران عورتیں یا عرد ان کے ساتھھ داگی یا خیب رداگی قد خی کر ستے۔ 

مل ے۳۸٢‏ : اگ رکوئی منص ایک اڑسی عورت سے ہچکرے جو طلاقی رض یکی عدت میس ہو نو 
بنابر احطباط وو عورت اس بر ترام ہو ای ے۔ اور آگر ال عورت کے ساس زناککرے جو رہ تتعہ پا 
لاق بائن نا عدہ دفاتہ می ہو ق بعد میں اس کے ساتھ عق رکر سکتا ہے الرچہ اعیاط سب ہہ کہ 


اں ے ازرراع کرے طلاقی رب اور طلاق ہائی اور عرہ عتعہ اور عرت وفات کے می طلاتی کے 
ہام میں جیائۓے جانمیں گی 

سنیڑ. ۰۸۷٭ ۴م ٠‏ أ رکوتی حخس کی ای عورت سے زناکرے جو ہے خوہر ہو اور عرت میں شہ 
ہو ٹر بعر مل ا عورت سے عق دکر مکنا ہے۔ لن اطاظ واجب بے ہ ےکہ أوقئکہ اس عور تکو 
ینک خون آۓ انظا رکرے اور بعر میں اس سے عق رکرے اور اگ رکوئی دوسرا ٹنیس اس عورت سے 








توضییرال 
توضیح‌المسائل ١‏ 588ا 
عق ھکرتا چاینے نے ریہ اعقاط مب ہے۔ 
تل ۲۴۵۹ء آئ رکوئی نخس کی اڑی عورت سے عق دکرے جھ دوسر ےکی عدت می ہو ڈ ار 
رد اور عورت دوتوں یا ان میں سے کُوئی ایگ چانا ہو کہ عور تکی عرت شم میں موی اور تی 
جاۓے ہو یکہ ععرت کے ددران یں عحورت سے عق رکرنا رام ہے رجہ رو نے تو کے ون ا 
سے مجاسعت نہ بھی کی ہو دہ عورت پبیشہ کے لے اس پر قرام ہو جات ےگی۔ 
سلہ ۲٣۳۴‏ : اگ رکوئی خص کسی اڑی عورت سے عق ہککرے جھ دوسررے کی ععرت میں ہہ ا 
اس سے تیامعتکرے خلہ اسے یہ عم نہ ب وکہ دہ عورت عدت شس ہے با یہ نہ پاتاط مہ مرت 
ھ 
کے دوران بی عورت سے عقد رام بے دہ عورت بیشہ کے لی اس پر قرام +. جانےگید 
مل ۲٢۷‏ : اگ رکوئی ہنس ہہ جن ہو کہ خورت شوہر وار ہے اور ال سے ازدداع رام 7 
ہے اس سے ازدوا کرے فو اسے چا کہ اس عورت سے دا ہو جائے اور ہہ بھی پا ےکہ بعد یں 
بھی اس سے حعقد نہ کرے اور اکر ای شی ںکو یہ عم رنہ ہوکیہ عورت شوجر دار سے لنکن ازوواع سک 
بعد ایں سے میاسع تکی ہو تب بھی بی عم ہے۔ 
مئلہ ۲۳۳ : ال شوپردار عورت (اکرے بنا بر اعقیاط وہ زکرنے وانے مد پر ویش کے لی 
عرام ہو جاتی ہے جن خوہر پر ام نہیں ہوتی اور اگر فربہ ضہکرے اور اپنے ُمل پھ باقی رہے لی زا 
دی ترک نہ کرے) و مھتریہ ہےکہ اس کا شو ہراس طلاق دنے دے لیکن ے ہ کو چا کہ ا ک۷ 
پودا ہربھی رے۔ بشرطیہ شوہرنے اس سے ہمامع تکی ہو ورنہ نصف مردتا واجب ہے۔ 


مل ٣‏ رخول کے بعد جس عورس کو طلا م لگئی ہو اور جو عورت عتیہ میں ری ہو اور 
اس کے شوہرنے مع کی برت ہش دی ہو یا دہ برت شتم ہ وگئی ہو اکر ہپ مھت کے بعد دو ما شوہم 
کرے اور بعد می ش ک کر ےکہ آیا دوسرے شوہر سے عق ھرکرنے کے وقت پل شوہ رکی عرت مت 
ہوئی تی یا نہیں تو دہ اپنے ف کک پروا ‏ ہکرے۔ 

مہ ۲۷۴ : جس فیس نے کی لڑکے کے ساتھ اظظا م کیا ہو گر دوہ ( یی الام کرتے والا) 
ا ہو تق اس لڑکے کی میں بھی اور بٹی افلامکرنے وا۔لے پر حا ہیں لان اگ اس گمان ہوکہ وغیل 








توضیح‌العسائل__ ۱ )وه 

ہوا ھا یا کی کر ےک وخول ہوا تھایا ٹمیں نو پچھردہ عرام نمی ہیں- : 

لہ ۲۳۸۵ : ا رکوئی مخ یس کسی لڑکےکی میں یا بن سے ازدوا کرے اور ازدواع کے بعد 
اس لڑکے سے افلا مکرے تر وہ عورتیں اس پر رام شی ہوتیں سواۓ اس صورت کہ دہ ازداج 
لا وفیرو سے وجہ سے شخ ہو جا اور فلا مککرتے والا رویارہ ان سے ازروا ‏ کرنا چاے اور ا 
صورت میں اعٌیاط واتجب ے ےک ان ے ازروع ہکرے۔ 

ستلہ ۲۴۸۴۷ ٠‏ ا رکوئی خخص احرا مکی حالت میں ( جو انھال ‏ میں سے ایک مل ہے تی 
عورت سے ازدوار عکرے تر اس کا عق باصل سے اور اکر اسے علم تھاکہککسی عورت سے اترام کی عالمت 
می عوکر اس پر حرام ہے و بعد مس وہ اس عورت سے عقد خی ںکر سکتا ہے۔ 

سمل <صم ۲٢۷۴‏ : جو عورت اترا مکی حالت میں ہو اکر وہ ایک ای مرو سے ازدوا کرے تو اھام 
کی لت میں نہ ہو ق اس کا ود باعل ہے اور ار عور کو معلاوم تھاکہ اترام کی عالت میں ازوواع 
کر حرام ہے فز اس کے لیے واجب ہ کہ بعد مس اس مرر سے ازرواج :کرے۔ 

مسنل9 ٢۴۷۸۷‏ ۰ ار مر طواف نام (ج جج کے ائدال میں سے ایک عمل ہے ) ہا نہ لائے پو اس : 
کی بیدىی بھی اور دوسری عورتیں بھی اس پر رام ہو جاتی ہیں اور گر عورت طواف نساء ن ہککرے ق ای 
کا شوپر اور دو رے عو اس پر عرام ہو جاتے ہیں لگن کر وہ بعد میں طواف نساء بھالائیں تم پ 
و رںل اور عورت پہ رد علال ہو جات ہیں 

مل ۲٢۹‏ : جھ لڑی باكغع نہ ہوئی ہو اس سے عامع کر حرام سے کن اگ رکوئی شس نان 
لڑکی سے عق رکرے اور اس لڑ یکی عمرنو سال ہونے سے پھلے اس سے مجامع تکرے و اظبرب ہ ےکم 
لی کے پل ہونے کے بعد اس سے مامعت عرام نیں ہے خواہ اسے افضاء ہی ہوگیا ہو ( افشاء کے 
می جا جا کے ہیں ) لان مر کے لیے اجوط ہے ہےکہ اسے طلاقی رے ردے۔ 

سیل ۲٢۲۰‏ : جس عور کو تن مرج لاق دی جائے وہ شوہرپر حرام ہو جائی ہے پل مھ ان 
شرازی کے سا ہن کا زر طال 2 اقام ی سکیا جاۓ گا وہ کورت ( و ہے رد سے ازدوار جکھرے تر 


دوسرے شوہ رکی موت یا اس سے طاقی ٭ جانے کے بعد اور ا کی عد تٹگزر جانے کے بعد ال کا 








_ مسائل ۰و 


پا ش ہر ددہادہ اس کے ساتھ عق کر سکاہے۔ 
رق 
دای تقر کے احکام 


لہ ۲٢٢۲۱‏ : ٹس عورت کا دای عقد ہو جائے اس کے ملیے اعقیاط اس میں ب کہ شوہ ری 
اچازت کے بی سعموٹی کاموں کے لیے بھی سے باہرد کہ خواہ اس کا خلنا وہ کے حع کے ماق د 
بھی ہو اور اسے اہج کہ جس لذ تکی بھی شوہ خوائ لکرے اے دا کرے اور شرگی نر کے ایر 
شوہ رکو میاسعت سے نہ روکے اور جب تک عورت اڈ یز کے کھ سے باہرضہ جائے ال کی مذا لپلں 
اید رإلُٹی کا اتظام شو ہر پر وجب ہے اور اگر وو نے یں سیا نہ کرے تو خواہ ان کے مسیاکرنے بر 
تدرت رکتا ہو یا نہ رکتا ہو وہ یوبی کا مقروض ہو ال 

سیلہ ۲٣۳۳۲‏ : اکر عورت ان کاموں میں جن کا ذکر سابقہ متلہ میں ہو کا ہے اپنے شوہ ری 
اطاعت مہ کرے ت وہ ہم انی کا یں رکھتی اور گار ہے اور قول مشمورکی رد سے وہ ڑا پا 
و رئش کاطن بھی یں تی مگ جب کک عورت شوہ رکے پا ہو ہم کل شال ہے _ ال 
اس می لکوئی شک وشیہ خی ںکہ اس کا مر رکلعدم نی ہوپ۔ 

سیل ۲٣۲۳‏ دک یہ ف خی ںکہ ببد یکو خاگی ندمت پر بیو رکرے۔ 


مل ۲٢٢۲۴۳‏ : یی کے سفر کے اخراجات ار دلن میس رپ کے اخراجنت سے زیادد ہوں ت 
وہ اخراجات شوپ رکی ذمہ داری نہیں البتہ گر شو ہرود اس بات پر مال ہوکہ بیو یکو سفریر کے جائۓ ت 
اسے چا کہ سرکے اخراجات اسے رے ۔ 


مَّلہ ۲٢۷۲۵‏ جس عورت کا خرج ال کے شوہرکے ذمہ ہو اور تو ہراس شر شر درے لوہ 
انا خرؿخ شوہ رک ایازت کے بیراس کے بل سے لے عق ہے اور اگمر يہ کن ن. ہو اور وو مور ہ وک 
اپقیمعائ کا ود بنروبست کرے یس وقت وہ اپکی معاشی کا بنردبس تکرنے میں مشقول ہو اس وتت 
شوہ رکی الطاعت اس پر واجب یں ہے ۔ 


مل ۲۲ : اگ مکی مدکی دہ یں بوں اود دہ لن یش سے ایک کے پا ایک رات رے 











توضیحالمسائل ). ححدا] 


اس پ واجحب ےکہ چچار رانوں جس سےکوئی ایک رات دوسرئی یی کے پاس بج یگزارے اور اس 
صورت کے علاوہ عورت کے پاش رجنا داب نیس ہے پال مہ مازم ہےکمہ اس کے پاس رہن پالل ہی 
ترک گر وے اور او ی اور احوط ہے ہ ےکلہ ہر جار داتوں جس سے ایک رات مد اپنی دای موحہ بوی 
کے پای رہے۔ 

متلہ ے۲۴۲ ٠‏ مر کے لیے جائنز نم کہ دہ انی دای حوان بیو ی سے پار اہ سے زیادہ برت 
تک مجامعت ن ہکرے۔ 

لہ ٠۲۲٢۲۸‏ اکر دای قد میں سر مین نہ کیا جا نز عق کچ سے اور آکر مر عورت کے 
ساتھ جا مع تکرے تو اسے بای کہ اس کا مبراسی جیی عورتیں کے مرکے مطابنی دوے المت گر تیر 
میں مم نین ن ہکیا جا نو عقھ باطل ہو جا ہے۔ 

مستلہ ۲۴۲۹ ۰ ار عقد رای پڑھت وقت ضردینے کے لی یرت معن نکی جائے تو عورت حر 
ین سے پیل شوہ کو جامعتت کرنے سے روک عق ہے قبع ففراسں سےکہ مرد وہ مردسینے پر تقاور ہو 
با نہ ہو لکن اکر وہ ہرلیے سے پنلہ عجامعت پر راضی ہو اور شو ہراس سے عیامصتکرے تر بعد مم وہ ۔ 
شی عزر کے اخ ر شوپ کو معیامعم کرنے نے بی نین تو 


تہ ( ازرواع موهت ) 
مل ٠ ۲٢۳٣۴‏ عورت کے سا متعہ کر اکرچہ لزت عاص لکرنے کے لیے نہ بھی ہو تب بھی 
ے۔ 


متلہ ۲٢۳)‏ ٭ احقاط وادب ہہ ہےکہ شوہرنے جس عورت سے مع کیا ہو اس کے سا ٹہ مچار 
مین سے زیادہ اسب ا ا 

متلہ ٣٣۳۳‏ : جس عورت کے ساتقہ مل ہکیا جارہا ہو آگر دہ عق می یہ طرط عائ رکر ےکلہ 
شو ہراس سے معیامعت نکرے فو عقد اور ا کی عائ دکردہ شرط کچ سے اور خوہراس سے فقط دوس ری 
ازخیں حواصل لکر سنا ہے مین اگر وہ بعد میس راضی ہو جا نو شوہراس سے میامع کر سکتا ہے۔ 
تل2 ۲٣۳۳‏ : جس عورت کے ساتق مع ہکیاگیا ہو خواہ وہ عاللہ ہو جائۓ تب بھی خر ج کاخ 











توضیحالمسائل ...لے 522ا 


میں رید 
مسکلہد ٣۳۴‏ جس عورت کے سا ل کیا گیا ہو وو ہم بستری کا جن نہیں رکحتق اور ہر 
اٹ بھی نمی پاتی اور شوہ ربھی اس سے مراف نمی پات۔ ہاں آکہ انموں لے میراٹ پان کی 

ور ےت تی × وہ ضراف پا اہا نے : 

مہ ٣۲۴۳۵‏ : جس عورت سے سنہ کیاگیا ہو أگمرچہ اسے بہ معلوم دہ ہوکہ وہ حرچ اور 
بسنڑی کا می میں رکتی اس کا عق سج ہے اور اس وجہ کہ وہ ان امور سے تاواقف شی ای کا 

پہکوئی بن پوا تی ہوا۔ 

مل ۲٣۳۷‏ : شش خرن سے تل گیا ود اکر ذو شوہ کی اجازت کش کرت او کے 
اور ال کے باہرجان ےکی وجہ سے شوہ رکی می تلئی ہو نو ا کا باہر جانا ترام بے اور اعطیاط ہے کہ 
اں کے پاہر جانے سے شوہ رکا می تلف زخ بھی ہو :نو دہ شوہ رکی اجازت کے مغ رکھرسے پاہرد 
. جاتے۔ 

سیل ے ٣٢۲۳‏ : ڈ ہگ رکوئی عور تی مر دک وکیل بنا کہ صن رت کے لیے مین رآانك 
عوض اس کا ود این ساتھ متعہ پڑھھے اور وہ شنصس اس کا دای قد اپنے ساق پڑھ لے پا مرت رر 
کے بغی یا رق کا تین کے بقیر عق مععہ بڑھ رے تو ٹس وقت عور ت۷ ان امور کا پند چا گر رو 
اجازت رے درے و عقد سج ہے ورنہ پافل ہے 

ممل_ ۲٣۰۳۸‏ ڈ رم ین جانے کے خرضس سے کی نبال لڑکی کا باپ یا داوا اسے ایک ھن با اس 
سے زیادہ وقتں کے لی ےکی مس کے عقد میں رسے نے ہیں ا ہم ضردری ےہ اس عقد ہیں لڑکی 
کے لیے نضعت ہو لین گر بلاغ لڑکے کا حر بن جانے کے غاطراس زانے مہ جب دو صسی تن مکی 
للزت عاص لککرن ےکی ہالئل صلاحت نہ رکتا ہ وی عورت سے عق دک دیں پر اس قد یں اشگال بے 
۔ اس اشکال کے ازالے کے لیے برت اجی مقر رک دی دبا ےکہ لڑکا بال ہو جائے۔ 

مل ری گر پاپ پا واوا اپنے لڑکے کاو دوسری ہہ ہو اور ہہ “علوم شہ ہ وہ زلدد سيا 
مرگیا ہے رم بن جان ےکی غاطرکسی عورت سے عق کر دیں اور ذوحیت کی بدت اتی ہوکہ جں 











تونیواسال____ یھت 


ثورت سے عمق دکیانگیا ٤و‏ فس نہ ا استمناع ہو کے فو ظاہرطور پر رم نے کا مقصد عاصصل ہو جائۓ گا 
اور آار پور میں معلوم ہوک فقد کے وقت وہ عورت زندہ نہ شی نے عق اٹل ہے اور وہ لوگ چو عظر 
ےو و کو ِ 

لہ ٣٢۴٣۴‏ :جس عورت کے سا مع ہکیاگیا ہو امر رد ا کی عبقد میس مصلی نکی ہوئی برت 
بش رے تو اکر اس نے اس کے ساتتھ عامس تک ہو تر اسے (شنی مر وکو) چا کہ تنام یں تن ۷ 
کر کیاگیا تھا اے دے دے اور اکر عامحت یہ کی جو تو اقیاط واجب ہہ ہج کہ آدھا ممررے دے اور 
اط خحب یہ ي ےکہ سارا +راے رے وے۔ 

مہ ۳۴۴۳۱۲ :مر کے لیے جائز ےک جس عورت کے ما اس نے پل ححیہ کیا ہو اور ایی 
ای ددرت تمہ ہوئی ہوال .ے ای عق دگرے یا دوپارہ ا ار 


نگاہ ڈا لے کے اعام 


سیل ۲۳۷۲۳۲ : عرد کے لیے ا گرم عورتوں کے بدن پر ٹاہ ڈالنا اور ای طرع ان کے پال دیلنا 
عرام بے خواہ ای اکرنا للزت کے تد سے ہو یا شہ ہو اور لزت کے قد سے ان کے چچروں اور پاتھوں پ 
ثاہ ڈالنا بھی عرام ہے مہ داینب ہہ ہی ےکہ لت کے تصد کے مغ بھی ڈگاہ نہ ڈالی جا اور عورت کا 
ارم گ چرے اتھوں' سمگرون اورپاؤں کے علاوو ان باكن پ4 زگاہ ڈالنا تی 7م ہیی 

سر ٣٣۳٣‏ : مگ رکوتی ٹنیس دزت کے تصد کے بغی رکافر عورتیں کے چچروں اور پاتھوں اور ان 
کے بدٹوں کے ان حوں پر جنیں دو عادتا“ ٹنیس چھپاتیں ڈاہ ڈانے و اس صورت میں تا اسے مزلم ٠‏ 
میس تا ہونے کا طوف نہ ہو اییارنے م ںکوئی حع خییں۔ 

مستلہ ۲۲۴۳۴ ٠:‏ عورت ہک چا ج کہ ابنا بدن اور بال ناعحرم مرد سے چھپاے اور ری بج کیہ 
اس لڑکے سے بھی چپاۓ جو بالغ فو ضہ ہوا ہو مکن برے بل کی تیر رکتا وت 

تل8 ۲۴۴۵ و سی مخ سکی شرہگاہوں پر اہ ڈالنا م کہ مز پیر جو برے تع لہ کی قیز رکتا ہو 
اس کی شرمثگاہوں پر نہ ڈالنانجھی حرام ہے اگرچہ ای اکرنا شیٹھ کے تچیچہ سے ما آکینے میں نا صاف پا 











توضیح‌المسائل ہے اف ا 


وی مس ہ یکیوں نہ ہو الب میاں جیوی او رنہ اود آقا ایک دوسرے کاب را بدن دکجھ جکتے ہیں۔ 
منتلہ ۳۴۷ ٠‏ جو مد اور عورت آپس میں محرم ہوں ار وہ لزت کا قصد نہ رکھتے ہوں تر 
شمرمگاہ کے علادہ ایک دوسرے تا برا برن + دکھ سکتے ہر س اور گی الاتوط ان ناک اور گشنوں کا درسالی 
حصہ شرمگا: کا عم رکتا ہے۔ 

میلہ ء۵ ٠:۲٢۳۴‏ الیک مرکو دوسرے عرد کا بدن نت کے قصد سے میں دنا چاجے اور آیے 
عورت کا بھی دوسری عورت کے بدن بر لت کے تصد سے تگاہ ڈالنا قرام ہے 

لہ ۲٢۴۸‏ ۰ مر کو چان ےک نا عرم عورت کا فوفو نہ کے اور آ کسی نائرم عور ت کو بپاننا 
ہو تہ ایا ط کی را بر اسے چا ےکہ اس عورت کے فوٹو بر تظرنہ ڈائے۔ 

صستلہ ۳۴۴۹ ٠‏ کر ایک عو رت کسی دوسری عورت ما اپنے خو ہر کے علادہتکسی مرکا حقنہ کر 
سے ما اس کی شرمگاہ کو دھ گر پا ک کرنا جاہے تو اسے ہاج ےک اپ پے پاجھ بر کوئی تچ لیید یٹ لے کہ 
اس کا اھ دوسری عورت یا مدکی شرمگاہ تک نہ نے ور آکرایک مر“ ھی دوسرسے مد یا ای وبدی کے 
علادہ کسی دوحری عورت کا تق کرنا چاسے یا ا ل کی شرعگا کو دوہ وھکر پا کفکرنا چاہے تو اس کے لین بھی 
بی عم ہے۔ 

مسنلہ ۲۳۵۴ : ار مریسی ما حرم عورت کے علاح کے سللے میں اس پر دہ ڈالنے یا ا کہ باتھ 
نے بر مجبور ہو قز ایاکرنے می سکوئی حرج خمیں لین اکر وہ شض دک کر علا جکر کلت ہو تو اسے اس 
عورت کے بر نکو پاچ خی لگانا چاتے اور اکر صرف پاتقہ لگانے سے علاج کر کنا ہو 7 پھر اسے با 


2 اس عورت ے ناو نز ڈاے۔ 


متلہ ۲۳۵۱ : آر انا نکی ا وی پش رہ 
مجبور ہو تو اعذیاط واج ب کی بنا یر اسے چا کہ تئیہ سان رھ اور اس میں دہ مان ا 
0 ج علاوہ کوئی چارەنہ ×۶ تو ایاکرنے میں کی ححع ٠"‏ ہیں۔ 








فی 27 7 :. ک5 6 
فیس کر بیو ی کے نہ ہو نے گی وج سے مل مراس میں مجنا ہونے کا خر ہو 





اواںے واج ےکہ مار یارے۔ 


مل ۲۳۵۳ ؛ ار خوب عت میں سے 





رط عالد کی ےکر عحورت کتواریی :و اور قد کے ہیر 
*علوم ہو ای اور نی مر نے مامت کی وچ ے اس کا یرم بکارت چٹ : کا سج تو یور 
اتا خوہر وق رک با خی ںکر لزا الہ ہکنواری ہونے او رکنواری نہ ہونے کے مائین مقر رکردہ مرن 


7 ا سی 
جو فرق ہو ور سلما ہے۔ 


لہ ۵۶۳ ×× نام مد اور عورت کا ایس غاوت کے مقام بر ہہون جماں اور لئ کہ ہو اور لہ 
یکوئی آ مکی ہو اس صورت میں جب کہ فساو کا اشال ہو حزام سے مین ال ہکوکی اس تر اسم ہو یا 


وی ایا 4 جو انگ نا کی 2 رتا تر وہاں موتو و یا فاد ک۲ اغال و تو ران عوررت اور مد 





کے وہاں ہو نے می ںکوئی مع 4ھ شس ے۔ 
نل2 ٠ ٣٢۵۵‏ ا ر کوکی مد عورت کا مر عقد میں می نکر رے اور اس کا اراوہ ہے ہو کہ وو پر 
نہیں رے تا عقد یئ ح, لیکن ا۔سے چا ےکہ مصراوالکرے۔ 

ستلہ ٢ ٢۳۵۷‏ جو سفن دای لیر قامت کا مگر ہو پا ان فرقوں سے تحلق رکتاہو بن کہ 
اگ کیاکیا سے با دن 0-22( ضروری تم سے نی وی عم سے ضس مسلمان رین اسلام کا تزو جو 











ھم١‎ 


ہوں ڑ7 ماز اور روزے کا وادب ہونا) ہہ جات ہو ےک لہ دہ دین کا ضردری عم سے اناری ؛ہ جاۓ 


ڈو قس سر سے اور اس بر ان اعکام کا اطلاق ہوگانشن کا زکر بعد می سکیا جاۓ گا۔ 
مل ء۵ :۰ ک0 مم عورت ازووارخ کے بعر ام ں طرح مرن ہو جائۓ خی ےکہ سابقہ متلہ م کر 


کیاکی ہے تو اس کا عقد باشل ہو جاا ہے اور آمر اس کے خوہرنے اس کے ساقہ عیاصعت تہ گی ہہ 


بھی نمیں ےب اور اکر جماسعت کے بعد عرتہ ہو کن یا۔۔ ہو کی ہو جب بھی بی کم 
.. نہ ہہوگی ہو اڈ اسے ہا کہ اس حور کے مطابق نس کا ذکر طلاقی کے امنماصہ ہی کیا 


ہے 














توضیم‌المسائل )[ مدحد5ا] 


جائۓ گاعرت رکے اور مور ہہ ہ ےکہ اکر عدرت کے ووران میس ملمان ہو جائے تر اس کا عقر مائم 
رہتا ہے لن اس عم میں اشال ہے الہتہ اتقط ترک نیس ہوتی او اش کے عق میان بد چچگے ہیں۔ 
مل ۲۲۵۸ : جو خخصس ملمان ک ےگھمی چدا ہوا ہو اکر دہ رت ہو جائے ق ال کی بیدی ال 
بے عرام ہو جاتی ہے اور اس خور تکو چا ےکہ وفل تکی عدت کے باب (شس کا بیان طلاقی کے انام 
ٹیش ہوگا) عرت رکے۔ 


مستلہ ۲٢۵۹‏ ڈ وہ مد جو غی رسلم والدین کے پل جم نے اور بعد جس ملمان ہو جائے گر وو 
ازدواج کے بعد مربر ہو جائے تر اس کا عق باضل ہو جاتا سے اور گر اس نے اپکی بیوی کے ساتھ 
میامعت نکی ہو یا آگر وہ عورت با نہ ہو و اس کے ملین عدت نیس ہے اور اکر وہ مرد مبامعت کے پور 
میق ہو اور انس کی بیو یکی عمران عورتو ں کی ہو جنمیں خون خیش آنا ہے فو اس عور تکو چا ےکہ 
طلا قکی عرت کے برابر نص کا کر اعظکام طلاق میں آئے گ) عدرت رکے اور مشمور ہی ج ےکہ گر اس 
کی یرٹ شم ہونے سے پل اس کا شوہر ملمان ہو جائے و اس کا عق اعم رہتا ہے لن اس عم میں 
بھی اشعال ہے البتہ اعقاط ترک نمی ہوئی۔ 

مل ۹م اکر عورت عق میں مرد بر شر عائ کر کہ اسے ایک مین شر سے باہر نہ 
لے جا اور مرو بھی اس شر ط کو قبو لکر نے فو اسے اس عور تکو ا سکی رضامندی کے ایر اس شمر 
سے باہ نمی نے جانا چالہے۔ 

ہل |۹۷4م۲: اکر عور تکی پل شوہر سے ایک بی ہو فو بعد میس اس کا دوسرا شوپ راس لڑکی کا 
عقد اپنے اس لڑکے سے ےکر سا ہے جو اس بیو سے نہ ہو اور اگ کسی لڑکی کا عقد اپنے بی سے کرے 
بر بعد میں اس لڑکیکی میں سے خود عق دکر سک ے۔ 

لہ ٣٣۷۳‏ ؟ ا رکوئی عورت زنا سے علمہ ہو جائے و اس صورت میں جبلہ وہ عورت یا مرو 
نس نے اس سے دہاکیا ہو وہ ووفیں ملمان ہوں اس عورت کے لیے جائرز ٠ہی‏ ںکہ عمل ساق کھرے۔ 


مل ۲٢۷۳‏ : ا رکوئی خصس کی عورت سے زناکرے فو اگر اس طرییقہ سے استبراء کے پور 
جو ا نکیاگیا ہے اس عورت سے عق دکرے اور ان کا بچہ پیا ہو ٹڈ اس صورت میں ج بک انمیں عم 








ےہ ہر ہے اس ات یف ۵ 2 2 2.ِ_ت-. .كت - 


توضیم‌السائل ([5117 ا 


نہ کہ بچہ عدال مفے سے ہے ا حرام سے ہے دہ یہ عطال زارہ ہے۔ 

سیل ۲۰۴ : اگ ر کی مر یکو ىہ معلوم ضہ کہ ایک عورت عدت می سے اور وو اس ہے 
ازدوا کر لے آے ار عور کو بھی اس پارے میں عم یہ ہو اور ان کا یہ پیا ہو تر وہ عطال ژارہ ہو گا 
اور شرما“ ان رونوں کا فرزند ہو گا لن اکر عور کو تلم تھاکہ وہ معدت می ہے اور عرت کے ووران 
ازروا عگرنا عرام سے 3 ش روا“ دہ کہ پل پ کا نھرزلد ہو گا اور رونوں صورقوں میں اس عورت اور مر کا عظر 
ال ہے اور وہ ایک ددسرے پر عرام ہیں۔ 

مل ۲۲۹۵ : اگ کوئی عورت کے کہ میں یا نہ ہوں تر اس کاکنا قبول میں کرا چاینے لین 
کر وہ کہ میس شوہروار نیس ہوں ق ا ںکی بات قائل قبول ہے۔ 

مستلہ ۲٢۷۹‏ ۰ ار ایک ہنس ایک اڑسی عورت سے ازدوا عکرے جس تن ےکھا ہوک میں شوہر 
دار ٹنیں ہوں اور بعد م سکوئی کک کہ اس عورت کا ایک شوہر پل سے موہود ہے و اکر شردا” یہ شارت 
نہ ہوکیہ ای عورت کاکوئی پلا شوہر سے و اس فیس کا قول (ننصس ن ےکھا ہوکہ اس عورت کا ایک 
شوہر پل سے موجود ہے) قبول نی ںکرنا چاہے۔ 

منلیہ ے۲۴۷ : جب کک لڑکا یا لڑکی دوس کے نہ ہو جانیں ان کا پاپ انیس ا نکی ھی سے 
جدا می ںکر سکتا اور احوط اور اوٹی مہ ہ ےکلہ لڑک یکو مات سال کک ا ںکی ماں سے چا کرے۔ 
مہ ۲۷۸ ٠‏ جب لڑکی من بلو کو تی جاے فو اس کے ازدواج میں مل تکرباب ہے۔ 
رت امام صارق علیہ اللام سے ردایت وارد ہب کہ مدکی خوش نصیہیوں ٹل سے ایك یہ ۓ کہ 
ا لکی لڑکی اس ک ٹگھمریس ماہواری (خون جیش) خہ دیے۔ 

متلہ ٠ ۲٣۷۴۹‏ گر یدی شوہرکے سا اس شرط بر اپے ہرک مداصت کرے (لشن اے ہر 
سے بری الزمہ ترار دے دے )کہ وہ دو ری شادی خی سکرے شاف واجعب ےکلہ عورت مرشہ لے 
اور مرو بھی دوسری عورست: سے شمادی ت ہکرے۔ 


سیلہ مے ٢۲ھ‏ شض وںرائر ہو امہ وہ کسی عورت سے ازدوا عکرے اور اس کا پچہ پیا ہو 
وہ طال زارہ ہوگاے : ٤‏ 














منتلہ ۱ع ۲۴ : اگ رکوئی عصس مہ رمضان البارک کے روڑوں میں با عورت کے حائس ہونے کی 
حالت میں اس سے عوامعت کرے تر وہ گنہگار سے لنکن اکر اس محاسعت کے تچ میس ان کاکوکی بچہ 
پرا ہو وہ لال اوہ ہوگا۔ 


متیلہ جے ۲۴م ضس عور کو نقین ہوکہ اس کا شوہ رسفر میں فوت ہو گیا ہے آکر وہ وفات گی 
رت ( ضس کی مقدار اجّام طلای جائی جاۓ گی ) کے بجر ازروا ج کرے اور بعرازاں اس کا پا 
شوہ رسفر سے والیں تآجائے و اسے اج ےکہ دوسرے شو ہر سے بدا ہو جالئے اور لے شوہر پیر علال :ہگ 
جن گر ووسرے شوہرنے اس سے میامص کی ہو ت عورت کو چاجے کہ ا ا 
وہ رکو چا ےکہ اس شی عورقوں کے مرکے مطابق اسے مراداکرے مین عدرت کے زانے ک تر 
روضرے شوہ رکے سے میں ہے۔ 


رورھ بانے کے٤‏ اام 


مل ممے ۴ ؟ اگ رکوئی عورت ایک چچے کو ان شرائا کے ساتہ دودھ بلاے جو آتندہ مسائل 

مان ہوی گی تر وہ کہ مندرج ذٹل لوکوں کا مم من جایا ے۔ 

گے خوروم عورت اور اسے رضائی ماں کت ہیں۔ 

و."۔ عورت کا شوہرج و کہ دودھ کا الگ سے اور اسے رضائی پاپ کت ہیں۔ دودھ کے بالگ 
سے راد دہ مد ہے نس کی ہم نمی کے اعث عورت ”دودھ پلانے وا کے اپنتانوں میں 
رورھ پر ا ہوا ہو- 

بے نت سس عورت کا باپ اور میں ججماں کک ہہ علسلہ اوہ جائے اور خواو وہ اس عورت کے 
رضائی مں بپ ىیکیوں مہ ہوں۔- 

ا اس عورت کے وہ چے جو چیا ہو گے ہوں یا عرش پا ہوت۔ 

سناس عور تکی اولا کی اولاد خوام ہے علسلہ جس قدر بھی نچ چلا جاے اور اولاد کی اولاد 
خواو تفیقی ہو خولو ای کی اولاو ے ان کو ں کا دودھ پلایا ہے 

ا مس عورت کی کی اور بھائی خواہ وم رضائی بی ہوں لڑنی دودھ پیےہ گی وجہ سے ال 





توم الساطان 


عورت کے بن اور بھالی بن کے ہہوں۔ 





2 یں عورت کا پا لور بھی مولو وہ رضاگی ى یکیوں نہ ہوں۔ 
ا ون سی عورت کاماکوں اور عالہ خواہ وہ رضائی یگ یں لہ کوی۔ 
لا اس عورت ری و شوہ رکی أولاو جو رورھ کا ماک ہو ما گے بھی ٠.‏ سار ت 


جاے اور اکرچہ ا ں کی اولاد رضای ىی کول تہ و- 
۶ا اان عورت نک ا مز یئ ہاں پاپ جو دورجھ کا مالک ہو جماں تک بھی بے لہ اوبر 


پا ہاے۔ 
آ2 اش خورت ات نس خوہر 5 گن بھانی چو روج کا پلک تج خواو وم ال گ ری 
بسن بھاٹی ہی ھا تر ہوں۔ 


×× اس عورت کا شر ہر جو دودھ کا مالک سے اس کے چیا اور جو بخیاں اور ماموں اور 
خالئھیں جہاں تف بر حاسلہ اویہ چا جائۓے اور آکرچہ وہ رضائٹی ہی جول اور ان کے علاوہ کی 
اور اوک بھی رووج پلاے کی وجہ سے عرم ین جاتے ہیں جن کا ذکر آمندہ مسائکی میں کیا 
جائۓ ٹف 
متل ٢۳٢ء۳٢۲‏ :7م رکائی عورت می کو ان شرائ کے ساتجھ دودھ بلاے بین کا زم آصودہ 
مسمائل می ںیا جاے گا نو ای چے کا باپ ان لڑکیوں سے ازادوخ تم می ںکمر کت جنمہیں دہ عورت ڈغم رت 
ین اس کا اس عور ٹ کی رضائی لڑکیوں سے ازدوا عکرن جائز سے آمرچہ انقاط تقب بب بت کہ ان 
کے ساھ بھی ازدواج نہکرے اور وہ ان لڑکیوں سے بھی عوقد نمی ںکر اتا جو اس عورت کے این شوہر 
کی لیاں ہوں جو وووت کا انگ سے خواہ وہ ا ں کی رضای جنیاں ب یکیوں : ہوں اور ان رونوں مورۃّل 
میں ار اس وقت (لڑی اں ۶رت کے کو رورھ پلانے کے وقتہ) ان میں سے کوئی عورت ا کی 
یدئی ہو تر ال کا عقد بافل ہو جاناے۔ 
مل ۵ے ٢۴‏ ۰ ڈگ رکوئی عور ت کسی کو ان شرائط کے سان دودھ ہلا جن کا کر بعد میں 
کیا جاۓ گا نز اس عورت کا وو شوہر جوکہ دوددہ کا مالک سے اس ےکی بنوں کا رم نی ین جانا من 


اثاط ش تہ و ان ے ازرواح نہکرے نیز وہر کے رشتد وار تم یھی اس کے کے بھاگی بنوں 


کے محرم نمی ین عاتم 











توضیح‌المسائل ) مود ] 


مل ۹ے ۲٢‏ : ا رکوئی عورت ایک چےکو دددھ پلائے تو وہ اس کے بھائیو ںکی رم نی بین 
جاتی اور اس عورت کے رشن دار بھی اس چے کے بھائی بنوں کے ہرم نی ین جات 

مل عےء ۲۳ : اگ رکوئی مخ اس عورت سے جس نے کی لڑ کو پورا دددھ پلایا ہو ازرواع 
کرے اور اس سے ہمامع تکرے فو پچمروہ اس لڑکی سے عظد خی ںکر سا 

مل ۷ :۲٢۷‏ اگ رکوئی مخ کسی لڑکی سے ازدوا عکرے تر پھروہ اس عورت سے ازروارع 
نی کر سکتانس نے اس لڑ یکو پررا دودم پلایا ہو- 


مستلہ ۰ ٭ے ۲۴ ٠‏ کوئی مض اس لڑی سے ازدوارع نہیں کر متا سے اس من س کی ماں یا دادکی تے 
دوددھ پا ہو۔ نیزگ ری مخ کے ب پک بیوی نے ( نشی ا ںکی سوتلی یں نے) اس مخصس کے پپ 
کا غملوکہ رود کسی لڑ یکو پیا ہو قے وہ شنس اس لڑکی سے ازدواج خی ںکر متا اور اگ رکوئی منخس کسی 
شر خوار پچی سے عق رکرے اود اس کے بعد ا سکی مں یا دادی یا ال کی سویکی مل اس بگ یکو دودھ پلا 
رے تو عقھ یاطلن ہو جانا ہے۔ ۱ 

مستلہ ۲٢۸۴‏ ۰. جس لڑ قکوکی ہن سىی بین یا بھلی نے پورا دددہ پلایا ہو دہ مخ اس لڑکی 
سے ازدواج خی ںکر کت اور ج ب کی مخ س کی بھاٹی “نی یا بین یا با کی پوت با نواسی نے اس بی 
کو وو بلایا ہواتب بھی بسی عم ہے۔٠‏ 

مہ ۲۳۸۳ ۰ ا رکوئی عورت انی لڑکی کے ےک (یجنی اپنے نواسے یا نوا یکو) دودھ پلاۓ ل 
وہ لڑکی اپنے شوہم پر حرام ہو جا گی اور لگ رکوئی عورت اس ہچ کو دودھ پلاے جو اس کی لڑکی کے 
شوہ رکی دوسری بی سے پیا ہوا ہو تب بھی بھی عم ہے لن اگ رکوئی عورت اپنے نے کے کو 
(ینی اپنے پوت با پر یکو) دددھ پلائے قز ا سکی بد (ج کہ اس رود پیة ےکی ما ہے) لپن شوہر 
بر عرام فی ہوگی۔ 

مل ۲۲۸۳ ۰ اگ کسی لڑ یکی سولی می اس لڑکی کے شوہر کے کو اس لڑکی کے پاپ کا 
مملوکہ دودح پلا دے تو وہ لڑکی اپنے شوہریر عرام ہو جاتی سے خواہ دہ پچ اس لڑکی کے بطن سے جو یاکسی 
دو ری عورت کے لن سے ہو۔ 








رش اشائل ۱ )521ا 


دودھ پان ےکی وہ شرائا جو محرم نے ےکاسبب خقی ہیں 

مل ۲۲۸۳ : ہچ کو جھ دودث پلانا رم نے کا سبب ما ہے ا سکی آطھ شرائط ہژں۔ 

ا بچہ زندہ عورت کا رودھ پیئے۔ نیس اکر وہ مردہ عورت کے پپتان سے دودھ پیج تا کا ٰ 
کوئی فائرہ تیں۔ 

×. عورت کا دددھ فنل حام کا تخجیہ نہ ہو۔ ہیں اکر ایپ پچ کا رودھ جو ولرارنا ہو سی 
دو سرسے چےکو دا جائے قو اس دددھ کے قوسط سے وہ دو مرا پچ کسی کا محرم میں بے گک 

۳د پچ پتان سے دودھ ہین یں اکر دودح ال کے گل یس اعڑیلا جائے تر بیکار ہے۔ 

٣‏ وودھ نال ہو اور بی دو ری پچیزے طا موانہ ہو۔ 

۵ دودھ ایک بی شوہ رکا ہو۔ یں آر شر رار عورت کو طلاقی ہو چائۓ اور وہ پیر مس 
دو مرا شوہ رکر نے اور اس سے عاللہ ہو جا اور بچہ نہ کے وقت کک اس کے لہ شور 
کا دودھ اس می باتی ہو شلا اکر اس چےکو خود پیہ نہ سے پشھرپسلہ شوہ رکا ووزھ ٹیر وفعہ 
اور وع عل کے بعد دوسرے شوہ رکا دددجہ سات دفعہ پلائے تو وہ پچ کسی کا بھی عحرم نہیں ۱ 
بے گا۔ 

اج کسی نجار یکی وجہ سے دودھ کی تے نکر وے اور آگار ت ےکر درے تو تو لوگ وووے 
پٹنے کی وجہ سے اس چے کے محرم نے ہوں اعقیاط ولد بک بنا پہ اننیش چا کہ اس سے 
ازدواع شہگکریں اور اس پر عحریانہ ڈگاد بھی نہ ڈای۔ 

پے دہ مت ما ایک دن رات میں اس طرح جی ےکہ آمندہ صلے میں ذک رکیا جاۓ گا 
ہیر ہوکر دودھ پی یا اسے اتی مقذار می دودط یا جائ ۓےکہ لو ککمی کہ ال وووھ ے 
ا کی پڈیاں مخبوط ہ گنی ہیں اد رگوشت اس کے بدن پر نمودار ہوگیا ہے لہ کر چےکو 
دس مرح بھی دودھ دا جاے پے اس صورت میں ج بکہ اس دس رجہ کے درمیا نکئ : 
پاصلہ ت کہ معام دی کا فاصلہ بھی نہ ہو اعقراط واجب ہہ کہ جو لوگ دودھ پٹ کی وج 
سے اس پچ کے مم نے ہیں اس سے ازدواع نہ کریں اور حرانہ نگاہ بھی اس پر نہ ! 


ژالیں۔ 











- جے کی عر کے دو سال عل نہ ہوئے ہوئی از لزان کی خر رو مل جو سے سک ون 
سے وودت لا جائے تر و وکسی کا عحرم خمیں ذ گگمہ آھر ال کے ہور پ وو عصرگ وو مل 
گل ہوئے تک آٹھ وف اور ای کے نبعد مات وقعہ دودہ پٹ تب بی ود سی ک تر“ 
یں ڑا ین گر روڑھ للائے والی عور تک بے قجے ہوئے رو سالں سے زیادہ کی 
ہو اور اس کا روچ اگ پاقیْ ہو اور وہ لیے کے کو رھ پلاے نز وہ پیہ ان لوگوں کا رم بی 
ا 

متیلہ ۲۲۸۳۴۳ رودھ پنیے گی وجہ سے ؟ سن کی سے ضردری سج کہ ایک دن رات میں مہ 


نہ مز اکھاۓے اور نہ سی دوصری عورت کا رورے کے ٦‏ یکن اگر اتی تھوزی ند ' اعائے وت 0 یں 
کہ اس نے بے می نذاکعائی ہے تے پل رکوئی ص وی ھجد کت 
عورت کا رووھ پے اور ا پدرہ مت رررھ پننے کے درمیا نی دو ری عورت کا رودھ شہ پینه اور پر 
پار ہلا ااصضلہ وودھ یی ں اگر دورہ تن ہو سال ر١‏ ےا تو ڑا سا عب راہ ےتگو پک۷ ٹا اع ین 
بل پار بتان مضہ میں لیا تھا اس وقت سے ےکراس کے سر ہو جاے ماب ایگ وع دورھ چنا نی ثار 
کیا جاۓ تاس می ںکوگی 2 رج گین۔ 

مللہ ۲۲۸۵ : اگ کوک عورت اپے ہ شوہ رکا وز:ب می ےھ جا آحد اڑا رون وم لیے 
اور رو مرے غوہ رکا ودودھ کی اور جٍ کو بلائے تو و وہ دو تچ آپیں میں رم نہیں بین جات ارہ کھتربِ 
ہ ےک وہ آبپیں مس ازدوارج نہکریں۔- 

مستلہ ۲٢۸۷‏ : اگ رکوئی عورت ایک شوہ رک دددھ کئی یو ںکو پلائے نو وہ سب چچے آایں میں 
اور ال شوہ راور عورت کے جنموں نے انی دودھ دا ہو عھرم مین جاتے ہیں۔ 

ضیلےے ۲۴۸ ؛ اگ رکی مخ سک یکن بیویاں ہوں اور ان میس سے ہر ایک ان شرائ کی ساتھہ و 
ان کی گنی ہیں ایک ایک کو رددھ پل رے فو وہ سب چچے آئیں ہیں اور اس مرد اور ان ام و رتو 
کے مم من جات ہیں۔ 

متلہ ۲٢۸۸‏ ۰ اگ رکی شح سکی دد بیویاں شی ردار ہیں ارد ان مس سے ای کسی تچ کو مل 








توضیچالمسائل گََّ 1ے 


کے طور یہ آنھ موجہ اود وو ری مات مرتبہ دوہ پل رے ق سی کائھی عرم نہیں بن 

مل ۲۲۸۹ : ؛ آگ رکوئی عورت ایک شوہ رکا پورا وددھ ایک لڑکے اور ایک لک پلاے تاس : 
لڑکی کے بین بھائی اس لڑکے کے بن بھائیوں کے محر یں بن جاتے۔ 

مل ۲٢۳۳‏ : ؟ کوی شخص اتی بیو ی کی اجازت کے بغیران عوروں سے ازدواج می ںکر سکتا جھ 

رورھ پٹ کی وجہ سے ا کی وی کی بھانحیاں ا بھتیحیاں بن گئی ہوں اور اگ رکوئی شس کسی 

لڑکے سے افلا مکرے تو وو اس ڑگ کی رضائی ٹیس بن“ میں اور رادی سے نشی ان عورتوں سے چو 

دددھ پی کی وجہ سے ا کٹ" من“ میں اور دای ب گنی ہوں عق خی ںکر کتا۔ 

مل |۲۳۹ : جس عورت نے تی شخص کے بھات یکو دودھ پلایا ہو وہ ال سىی رم میں 

بن جاتی آمرچ افاط وت یل اس کے سامجھھ ازددارج ‏ ہکرے۔ 

لہ ۲٣۷۹۴‏ : ازین رو بنویں سے ایک ہی وت میں ازدواج خمیں کر تا اگرچہ وہ رضای 

یں ىی ہوں لی رورھ پٹ ےکی وجہ سے ایک دوصر یکی بنیں ب نگئی ہوں اور اکر وہ دو عورتژں نے 

عن کرے اور بعد میں اسے پت کہ وو آلپیں میں کیٹیں ہیں قے اس صورت میں جب کہ لن کا عقد 

ایک می وقت مس ہوا× اسے اتیار ‏ ےکہ ان مین سے بے چا رکے اور آمر عق ایک بی وقت نہ 

ہوا ہو ٹڈ پسلا عقد کچ اور دوسرا اٹل ہے۔ 

میلہ ۲۴۷۹۴۳۴ ۰ اگ رکوئی عورت اپنے شوہ رکا دودھہ ان اشفا یکو پلائے جن کا لوک یی می ںکیایا 

سے ق اس عورت کا شوہراس بر عرام خمیں ہو تا اگکرچہ مقر س کہ ایا کی جائے۔ 

الم اپنے بھائی اور ب نکو 

ای لے پا اور چو گی اور ماہوں اور ال ہ کو 

٣‏ ات بت اور مامو ں گی أولا رکا 


٣ہ‏ اب کو۷ 


۵ شوہ رکے بھائی ما شوہ رکی بی نکو 


..ں ات بھانئجے یا اپنے شوہ رکے با کو 











تر 





توضیحالمسائل ڑرڑ ھ5 ] 


7-7 اپنے شو|رکے اود وی اور اموں اور خا کو 

۸ھ آپنے ٹہ رکی دد ری یی کے پراسے اور ٹوا یکو 

مل ٠ ۲٣۹۴‏ ا رکوئی عور کی مخ سک چوپھ کی لڑی با خلہکی لڑ یکو وودہ پا تر وہ 
ا دووھ پلانے وی عورت اس شف کی رم نہیں بن جاقی لن قالط قب یہ ہے کہ وہ مخص اس 
نعورت سے ازدوا کبرنے سے ابقتا بکرے۔ 

مہ ۲۴۹۵ : جس شف سکی ود عورمیں ہوں امھ ان یش سے ایک عورت دد مری کے پا کے 


ٹرن رکو رورے پا قو جس عورت کے چا کے فرزن دکو دودھ پلایا گیا ہے وہ اپ 2 پش پر عرام میں 
ید 
دودھ پلانے کے ؟واپ 
مل ۲۲۹۹ ؛ چک دودھ پلانے کے' لے سب عورقوں سے بھترا کی اپی میں ہے اور بھتریے 
 *‏ کہ مں چےکو ددع پلانے کے لیے اپنے شوہرسے اجرت شہ لے اور یہ اٹچھی بات ہ ےک شوہ راے 
اجزت دے اور اکر چے کی ماں داي کے مقالہ میس زیادہ اجرت لونا چاہے فذ شوہر کو اس سے لے 
مل ے۲۴۹ : تب ہے کہ جو ولیہ چچ کے لیے حاص لک جائے دہ شیعہ اثاعٹری* نر 
پک وامن اور خوش شکل ہو۔ او رکرو ہ ےکہ و کم عقل خی رشیعہ اشائشری' بد صورت' بلق یا حرام 
: زادبی ہو اور یہ بھی روہ ہے کہ اس عور تکو ولیہ مقر رکیا جاۓے جس کا دووجہ اس گے سے ہو چو 
ولرالانا ہو- 
دووھ بلالنے کے محخلف مال 
یل ں۸ ڈٴْ صتقب ہےکہ عورٹیں کو روکا جا نے .کہ دہ ہرہچ گو دودھ شہ پل حم 
۱ کن ہ ےکہ مہ ياد نہ رہ کہ انموں نے کک کو دددھ پلایا ہے اور بعد میں ود محرم اشخاس 
وذمرے سے ازدوا عکر یں 


ہہ ۹ . جو اشخاص دددھ پٹ کی وجہ سے آیک ددمرے کے مشتہ وار بن جانیں ان پر 








کہہے ےت ےا فو و جو و اھ جو وکس سس تج رو 
0 


توضیح‌المسائل ) دھی:]: 


یک دوسرے کا ا مکنا تخب ہے لکن دہ لیک دوسرے کے وارث نیس پٹ اور رشنھ داری کے ھ 
توق یں میں یق رشع داروں کے ہو ہیں ان کا اطلاقی رضائی رشنہ واروں پر خیں ہو)۔ 
مہہ ٠ ٢۵۸*‏ مر کن ہو تے صتب ہےکہ چےکو بورے دو سال دودھ پلایا جاے۔ 
مہ ۲۵۴۱ ۰ گر دددھ پلانے سے شوہ رکی ج می نہ ہو فو عورت شوہ رکی ااجازت کے بط رکسی ۰ 
دوسرے کے چک دددھ پلا عق ہے لیکن ہہ جانہ خیں ہےکہ دہدکی ایے بے کو دودھ چا کے ۰ 
دورھ پلانے کی وجہ سے وہ طود اپنے شوہر پر عام ہو جائۓے ملا ار اس کے شوہرئے کی دددھ چتی گی . 
سے عق دکیا ہو نو عور تکو اس ہپ یکو ددڑھ خی پلانا چاہی ےکی کہ اکر اس بن یکو دودت پلائ ےکی تو وہ خور 
شوہ رکی ساس بین جائے گی اور اس پر قرام ہو جال گی۔ 
مل ۲٢۵۰۲‏ : اگ رکوئی ھن پا ےکہ ا سک بھاوج ا ں کی رم بن جائے ت اسے چا ےکر 
کی شر خوار بی سے مشال کے طور بر دو دن کے لین متع کر نے اور ان دونوں میں ان ششرائیا کے 
اھ جن کا ک کیاکیا ہے الک بھاوع اس ہگ کو دودھ پلا وے۔ 
مکل ۲۵۰۳ ۰ اگ رکوی مدکی عورت سے عق دکرنے سے پلہ کہ رضااعت کی وجہ سے وہ 
عورت بھ پر حرام ہے ملا کک کہ میس نے اس عور کی میں کا دودھ پیا ہے تز امہ اس یا تکی تد 
مان ہو نو وہ اس عورت سے عقد غمی کر سکتا اور اکر وہ ہہ بات عقد کے بعد کے اور خود عورت گی 
اس الکو و لکرے نز عق پاطل ہے۔ میں اکر مر نے اس عورت سے میامعت نہ کی ہو یا عجامعت 
کی ہو لن عبامعتب کے وقت عور کو معلوم ہوکہ وہ اس عرد پر حرام ہے فو عورت کاکوئی عم نہیں 
اور مر عور کو ہجامعت کے بعد پند چ کہ وہ اس ھرد بر عرام تھی تو شوہ رکو چاہے اس بیصی عورتوي 
کے سر کے مطان ہروے۔ 


متلہ ۲۵۴۰۴ ٠‏ اگ رکوئی عورت عقد سے پل کمہ در ےکہ رضاع ت کی دجہ سے می اس می 
عرام ہوں اور آمر ا يکی تقربق محکن ہو تو وہ اس عرد سے ازدواج خی سکر تی اور اکر وہ ىہ بت عق 
کے بعد کے تو اس کاکھن اییا ہے شی کہ مد عقد کے بعد ےک وہ عورت اس پر عرام ہے اور اس 
کے متعلق عم سابقہ مستالہ مس بیان ہو چکا ے۔ 














توضینرالمسائل ۱ کے ا مہ 0000س 


لہ ۲۵۰۵ ١‏ ردھ بلانا جو حرم نے کاسبب بب دد چڑوں سے مابت ہو ہے۔ 

١‏ ایک گڑی جاعت کا تریناشنس کے نے کا انسی نک مین آجے۔ 

کو دو عاول مد یا ایگ رد اور وو عورتیں یا چار عورتیں تو عارل نہوں اور اس اسر گی 
شارت دیں لن ضردری کہ دہ دودھہ پلانے کی شرائط کے بارے می بھی چنامیں خلا 
کی ںکہ بحم نے فلاں کو وہر کنل فلاں عورت کے پتان سے دودح پٹ ہوئے دا 
ہے اور ای نے اس ددران میں او رکوئی جے بھی میں کھائی ور اسی طرع لن جای شراز تو 
بھ یکھو لک جیا نکریں جن کا ذک رکیاکیا ےد 

مہ ۲۵۰۷ ٠‏ گر اس بات میں لک ہدکہ آیا ے نے اتی مقدار یں د٤دھ‏ پیا ہے جو عھرم 

ضنے کا سب ہو بالگمان ہوکہ اس نے ائمی مقدار مم دودھ پا سے نو بی کسی کا بھی محر نمی ہجوت لان 

ریہ ہج ےکہ اط کی جاۓ۔ 


لاق ے اصام 


متلہ ے۲۵۴ ٠‏ ج مرد اتی عور ٹکو طلاق دنے اس تک لیے ضردری سن کہ بالغ اور عاقل ٠ہ‏ 
اور اپنے انقیار سے طلاقی دے اور اکر اسے انی عور کو طلاق دینے بر مجبو رکیا جا تر طلاق بافل تے 
اور س بھی ضروری ہےکمہ وہ شخس طلاق کا تد رکتا ہو ہیں اکر وو یل کے مور بپ نداق نراقی ٹش 
لوق کاصیغہ کے تو طلاق سج یں ہے۔ 

متلہ ۲۵۴۰۸ 3٠‏ عور ت کو طلاق کے وقت غیض اور ناس کے خون سے اک ہونا جا اور نے 
بھی ضروری ہب ےکہ اس کے و ہرنے ا کی بای کے دوران اس سے ہبامعت ش کی ہو اور ان دو 
شرطھو ںکی تحنصیل آنندہ سال میں جیا نکی جال گی- 

مہ ۲۵۹۰۹ ؟ جور تکو تی اور نطا کی عالت میں تین صورتوں میں طلاق دینا کچ ت۔ 
١‏ بیکہ و ہرنے ازدواع کے بعد اس سے میاصعت ش کی ہو۔ 

ظا معلوم ہوک وہ عاللہ ہے اور ار نے پت معلرم نہ ہو اور شوہرا۔۔ نہ تی کی حالت میں 











توضیچ‌المسائل__ ١598ا‏ 


طلاق درے دے اور بعد جُل پۓ ج ےکلہ وو عللہ شی تو اعاط خب ے کہ اے ووپارہ 


طلاق رے۔ 7 
د٭ مرکو یب ىا موس ہوے کی وج سے ہہ معلوم نہ ہو سکتا ہوکہ عورت خیش اور 
نی کے خون سے پگ ہے یا تیں۔ 


مل ۲۵۳۴ : ال زکوئی محخس عور کو تیض کے خون سے پک بے اور اے طاق رے دے 
اور بعد میں پن کہ دو فی ضش کی عالت میں خی تو اس کی طلاق پشل ہے اور گر شوہر سے نیش کی 
اع من کو سرت او ا تع کات تق کی قب 
مل ۲۵۷۲ : جس مخ سکو عم ہ کہ ا سکی عورت یس یا نقا کی عالت می سے ار وو شس 
اب ہو جائے خلا ف رانا رکرے اور اسے طلاق دینا چاہتا ہو ق اسے جا کہ اتی مت کے لیے ٹس 
مس موم عورخیں حیض پا نفاس سے پاک ہو جالی ہیں ھب رکرے اور بعد ش اے طاقی دے دے۔ 


مل ۲۵۴ : جو حخصس ناب ہو گر وہ اٹی عور تکو طلاق وین عچاے پر آمر دو اس بارے می 


الع ماصل کر سنا ہوکہ آیا اس کی عورت یض نا فا ںکی عالت مس ہے چا نمی ة3 آکرچہ ا کی 


اطلا عور کی تی کی ایت یا ان دو ری نشانیو ںکی رو سے ہو جو شرع میں مین ہیں اسے چاہچے 
کہ اتی ورت تک ھی مرکرے ہنی ورت مس مرا“ عورتیں می یا نقاس سے پک ہو جاٹی ہیں۔ 
سنلہر ۲۵۳ : ال رکوئی مس انی بیدی سے جو تی ما اس کے خون سے پاک ہو مجاسعت 
گکرے اور پچھراسے طانی دینا چاے و اے چان کہ وہ مب رکرے اک اے رویارہ حیض کا خون ۲ 
اناو و ات و جائے نان اکر اڑسی عور کو مجامعت کے بعد طلاقی دی جائئے ج٘س کے تو سال 
ک نہ ہوئے ہوں (لچنی ا کی عمرلو مال ےمم ہو) پا جو عاطہ ہو واں می يکوتی اشال یں اور ار 
عورت نا ۔ ہو تب بھی بسی عم ہد 

مل ۴ * رکوتی منص ای عورت سے میامع تکرے جو نی اور نلاس کے خون سے 
پک ہو اور ای پئی کی حات میں اسے طلاق رے رے اور بعد میں معلوم ہ وکہ دہ طلاقی دسینے کے 





وتت عا مہ سی او اط واج بکی بنا بے شوہ رکو چا ۓےکہ اے روبارہ طلای دے۔- 











توضیح‌المسائل ( 8دہ | 


مل ۲۵۱۵ ٠‏ اگ رکوئی نیس اڑی عورت سے عیامعت کرے جو تی اور فا کے خون رے 
پگ ہو اود پھر سفراتقیا رکرے ق اکر دہ چا ےکہ سر کے دوران می اسے طلاق رے تر اسے جا ےک 
اتی مدت مصب رکرے چٹ ی حدت مس عور تکو اس پاکی کے بعد صعمول کے مطابق اہواری کا خون نے 
اور وہ ددبادہ پک ہو جاے اور اط وجب ہہ ےکہ دہ عدت ایک میق ہس ےکم شہ ہو۔ 

مل ۷ اگ رکوئی مد بی عور تکو طلاق دتا چاہتا ہو ھے پیدائٹی طور یب ای بیاری کی 
وجہ سے خی کا خون شر آن ہو نے اسے پا کہ جب اس نے اس عورت سے ہمامع کی ہو اس وتت 
سے تن مین کک مجامعت سے اجقنا بکرے اور بعد میں اسے طلاق درے وے۔ 

مل ے٤۵٢‏ ؟ روری ہب کہ طلاق سج عی یذ می افظ طالق کے ساتظہ بڑھی جا اور 
دو عارل عرد اسے سی اور کر شوہر خود طلاقی کامیفہ پڑھنا چا ہے اور ٹل کے حور پر اس کی عورت کا 
نام ال مہ ہو تر اے چان ۓ کہ ےه فذوجتی فاطمة طالق یی میری زوج. فال.. آزار ے اور آگر وو 
ھی ودمرے شف کو وی لکرے ت وک لک وکنا چاچے زوجة موگلی فاطمة طالق اور آگر 
عورت مین ہق اس کا ام لنا ضروری نمیں ہے۔ 

یلیہ ۲۵۸۸ ١‏ جس عورت سے مت ہکیاگیا ہو لا ایک سال یا لیک مین کے لیے اس سے مر 
کیایا ہو اسے طلاق رسینے کاکوی سوال نیس اور اس کا آزار ہوتا اس بات پر تحصرہ ےک یا تن کی 
رت شتم ہد جائے با مرد فت بھ جا یا مرد اسے برت جشی رے اور وہ اس طر حکہ اسے کے "میں 
نے مدت کچھ پش دی" ا رک یکو اس پ گول قرار دی در اس عورت کا تی کے خون سے پک ہونا 
روری میں ے۔ 

طلایکاعرہ 


مل ۲۵۴ : ٹس لڑ کی عمرفو سای ظہوگی و اور جھ عورت یا شہ ہو اس کاکوئی عدہ یں ہے 
نی خواہ شوہرنے اس سے بچامعتکرنے کے بعد لا دی ہو دہ فور دو مرا شوپ رکر کچ ہے۔ 


مل ۵۳۰٢ء‏ جس عورت کی عمرفو سال ہو چگی ہو اور یا نہ شہ ہو اور ا کا شوہراں ے 
بچامع تکرے تار دہ اسے طلاق دے و اس عور تکو چا کہ طلاقی کے بعر عدہ ر کے اور ٢زاو‏ 











توفیچالسائ لے [ا1ویوہ] 


رہ ھا سور سی مڑھازکھا 

عی کر ےک وو وفع می کا خون آنے کے بعد پاک ہو جا مور جو خی اسے تسری وفع می آتے 
اں کا رہ شخ ہو جانا ہے اور وہ شوپ رکر تی ہے لیکن اکر شوہر عورت تہ عیامعدت کرنے سے پسلی 
اسے طلاق درے دے فو اس کے لی ےھکوگی عدہ خی نڑنی دہ طلاقی کے فور بعد وہ رکر مکتی ہے۔ 


مہ ٣۵۳٢‏ ذ٠‏ مس عور کو تی کا خون یہ آن ہو لیکن اس کا می ان عورں جوبرا ہو شنییں 
تی آن ہو گر اس کا خوہراس سے موامص تکرنے کے بعد طلاق رے دے تو اسے چا ۓ کہ طلاقی کے 
بعد قین مین کک عدہ رکھے 

مل ٢۵۲۲‏ خضس عورت کا عدہ تین مینے ہو گر اسے پان کی مجن یکو طلاق دی جاے و اے 
چا کہ جن تی مین تف ٹڑنی جب چاند دیکھا جا اس وقت سے خین من کک مہ رک اور گر 
اس صسی مییفہ کے دوران میس طلاق دی جائے تو اسے چا ےککہ اس مین کے بائی دن اور ای کے بعد 
آنے والے دو مین اور چو تھے مین کے ات دن جن دن لہ مین ےکم ہوں عدہ رکے تاکہ تین 
مین مل ہو چاتھیں شا اکر اسے می کی تییدیں جار کو خروب کے وقت طلاقی دی جائے اور یہ ین 
اننس (۲۹) دن کا ہو تو فو ون اس می کے اور اس کے بعد دو مین اور ای کے بعد چو تھے صیینہ کے 
میں دن عدہ ر کے اور اعقیاط تخب ہہ کہ جوتے مینے کے ایس دن عدہ رھ کہ لہ مین کے 
جقة دن عدہ رکھا ہے اٹیس ملاکر دوفو ں کی تعدادتمیں ہو جاے۔ ‏ 

سنہ ۱۴۲۳ ۰ ار عللہ عور کو طلاق دی جا تو اس کا عدہ چے کے پیا ہونے یا عل ساقط 
ہونے کک ہے نداسثال کے طور بر اکر طلاق کے ایک گنشہ بعد بچہ را ہو جائے تو اس عورت کاعدہ 
شتم جا گا۔ 


مکل ۲۵۲۴ : جس عورت نے عھرکے نو سال کم ل کر لیے ہوں اور یا زہ ن. ہو اگر وہ مثال 
کے طور بر کی خر سے ایک مین یا ایک سال کے لیے جع کر لے تر اس کا شرہراس سے 
بامع تکرے اور اس عور تکی بدت قمام ہو جائۓ یا شوہراسے برت کنل رے ‏ و اسے چاسی ےہ عدہ 
برھے۔ یں اکر اسے خی کا ون آئے اس پای ےکہ دو تیخش کی مقدار کے برابر نعدہ ر گے اور وہر 
یہ کرے اور مر تیض کا خون نہ آنے فو چنتالیس (۴۵) دن شوہ رکرنے سے ایخقنا بکرے اور عامہ 








توضیترالفسائل ز8 د5ا 


ہوٹ ےکی صورت میں اقاط واجب ہہ ہس ےکہ جو حدت وضع تل با پیاٰیس (۴۵) دن جں ے زیارہ ہو 

اقی ورت کے لیے حدہ ر - 

متلہ ۲۵۲۵ ٠‏ طلاق کے عد کی ابتداء اس دنت سے ہوتی ہے جب میفہ لاق کا یھنا تتم ہو 

جا ہے خواو عور تکو پ پت لے یا نہ کہ اسے طلاق دے دئ گی ہے لپ اکر اسے یہ عم ہونے کے 
عد چۃ کہ اسے طلاق رے د گنی ے قز ضروری شی کہ وہ دہ عدہ ر - 


اس عور تکاعدہ ہس کاش ہ رمرجائۓے 


مسملہ ۲۵۲۲ ؛ اگ رکی عورت کا وہر مرجانے و اس صورت مج جب کہ وہ زار ہو آگر وہ 
عاللہ تہ ہو پڑ خواہ وہ با سہ ہو با شوپرنے اس سے تل کیا ہو یا شوہرنے اس سے میامعت نہ کی ہو اے 
چا کہ چار مین اور دس دن عدہ ر کے لڑنی شوہ ررنے سے ابقنا بکرے اور گر عالمہ ہو آڑ اے 
چا ےکہ وضع تل تک عدہ رک مجن اکر بچار مین اور رس ر نگزرنے سے پل پچہ را ہو جال 
اسے چا کہ شوہرکی موت کے بعد ار مین دس ر نگزرنے تک ھب رکرے اور ا عد ہکو یرہ وفات 
نہ 

مل ے۵۲٢‏ : جھ عورت عدہ وفات میں ہو اس کے لیے زیت کے طور بر رک پرنگا مباس پفنا 
و سرمہ لگانا عرام ہے اور ای رح دوسرے ای کام جو زیت میں شار ہوتے ہوں اس پہ عام ہیں۔ 
اسی طخ بفی رکسی خت ددرت کے ا ےھ رسے بھی نمیں فطنا چاجے۔ 

مستلہ ۲۵۲۸ ۰ گر عورت کو نشین ہو جا ۓےکہ اس کا شوہر مرکا ہے اور عدہ وفات فام ہونے 
بر دومرا شوپ کر نے اور پھر اسے معلوم ہ وکہ اس کے شوہ ری موت بعد مم وائع ہوئی سے پڑاے 
ای کہ دوسرے شوہر سے بدا ہو جاۓ اور بنابر اقیاط اس صورت مل ج بکہ وہ عللہ ہو وخ عمل 
تک دوسرے شو ہر کے لیے عدہ طلاقی اور اس کے بعد لہ شوہر کے لیے عدہ وفات رکے اور اکر عاللہ 
نہ ہو او پیک شوہ رکے لیے عدہ وفاتۃ اور اس کے بعد دوسرے شوہ رکے لیے عدہ طلاق رھ 


مستلہ ۲۵۲۹ ٠2‏ جس عورت کا شوہرزاتب ہو ما غانب ہونے کے تم میس ہو اس کے عدہ وفا ت کی 
ایتدام شوہ رکی مو تک اطلاع ضلے کے وقت سے ہوگی ے۔ 








ترسح ارفساہا بی ہے : )د5ا 


مل ۲٢۵۳۰‏ : ال کوئی عورت کک ےکم عبرا غدہ فخم ہوگیا ے وا کا قول وو شرٹوں کے ساتھ 

کے سے پزابر اطلاط ۱ع مرو مت تج ہوے 

5 اسے فلا لے ا نس کے وہر کے مرنے کے بعد انی مھت ہکم نی ہو کیہ اس حدت 

میں عد کا تم ہو مان ہو۔ ۱ 

0٣ وآ‎ 

طلاثی پائن اور طلائی رضتی 

ممستلہ ۲۵۳۲ ۰ ملق بائی کے مع مہ ہی ںکہ طلاق کے بعد مد جن یں رکتالہ انی عدرت 

کی طرف رہو عکرے نڑنی بفیر نفد کے دوبادہ اسے اپٹی یی بنا لے اور اس طلاق کی پاچ یں ہیں- 


ام ان عور کو دب یگئی طلاق ج سکی عرآیی فو سال شہ ہوکی ہو۔ 
ط× اس عور تک دی گنی لاق جو پا نہ ہو۔ 





ند اس عور تکود ی گئی طلاقی تہ شوہرنے عقد کے بعد اس ہے میاصست نہ کی ہوں۔ 

٭..._-سجس عور تکو تین رلعہ طلاق دکیگنی ہو اسے دی جانے والی یی للاتی۔ 

۵ تک جح فور ممارا ت کی طلاقی جن کے امام بعر میں بان گی چانیں گے اور ان طلاقوں 
کے علاوہ جو طلاقں ہیں وہ ری ہیں نس کا مطلب ہہ ہب ےک جب١‏ تک عثورت عدہ یی ہو 


شوہراں سے رتو مر کت ے۔ ۱ 
ستا2 ۲۵۳۲ ٠‏ جس نس نے انی عور تکو طلاق رجمی دی ہو اس کے لیے اسے (ششنی معورت 
ک) ا س مگ سے نول دینانس میں وہ طلاق ہے کے وقت متمم شی عرام ہے التہ عض موتوں پر جن 
می بد لنی با غیرلوگوں کے ساتھ آنا جانا شائل ہیں اس گر سے نال دیے م ںکوکی ح ٹیس زی 
بھی مرام ےک عورت می ضردری کاموں کے لیے ا سگھ سے باہرجاے۔ 


رتو عکرنے کے احکام 


تل ۲۵۳۳ ٠‏ ملق رض میں مرد دو طریتوں سے عور تکی طرف :جو کر ملا ے۔ 











توضیح‌المسائل__ 7 ۱ ا وحہ] 


١‏ معورت سے بات ںکرڑے شن کا مطلب ہہ نما ہوکہ اس نے اسے ددہارہ اتی بیوگی قرار 
یاے۔ 

۳ے موق ی کان نے اور اس کام سے رجوںع کا قص رکرے اور ظاہر ہہ ہہ ے کہ میامحت کرنے 
سے رجوں مابت ہو جا سے خواہ اس کا تیر رجوع معلوم نہ بھی ہوں 


مل ۳۴۳ ] رو کرنے میس مد کے لیے ضرودری خی ںک کس یک وگواہ بائۓے ىا انی بیو یکو 
رو کرنےے کے متحلق اطلاغ درے بمہ اکر بفیراس ک ےک کس یکو یع ہہ دہ طود بی رجو ںکرے تو اس 
کا روغ پچ ہے لیکن اکر عدہ حم ہو جانے کے بعد ھرد ک کہ می نے عدہ کے ددران میس رجو کر 
یا اق ضروری ہ ےکہ اس با تکو ماب تکرے۔ 


مستلہ ۲۵۳۵ : جس مررنے عور تکو طلاق رجمی دی جو آگر دہ اس سے سکھ مل لے نے اور 
ایں سے معالم ت کر لےکہ اب جھ سے رجوع ن ہکروں گا آکرچہ یہ مصالحت درست ہے اور مرد یر 
لام ہ کہ رجوع شککرے لکن اس سے رد کاحؾی رتوع زال .خی ہو اور کر وو رتو عکر لے تز 
جو لاق درے کا دہ جداکی کا موجب نہیں تی 


لہ ۲۵۳۷ ۰ ا رکوئی شخصس انی بیو یکو رو دفعہ طلاقی د ےکر ا کی طرف رجو کر نے ا 

اسے دو وفعہ لاق دے اور ہر لاق کے بعد اس سے عق دکرے یا ایگ طلاقی کے بعد رجور عکرے اور 

دو سربی طلاق کے بعد عق دکرے تو تسری طلاق کے بعد دہ عورت اس عرد پر عرام ہو جائئے گی پل گر 

عوربت تیسرکی طلاق: کے بع کسی ددسرے مد سے ازدوا عککرے لو وہ پاچ شریلوں کے پورا ہونے پر چس 

عرد بب عطال ہ وگی نی وہ اس عورت سے دوبارہ عق کر کے گا۔ 

اہ ي کہ دو مرنے شوہ رکا مقر داگی ہو یں اکر شال کے طور بر وہ آیے مین ا تی عال 
کے لیے اس عورت سے معہ کر لے پ یس مد کے اس سے جدا ہونے کے بعد پسلا شوہم 
اس سے قد خی ںکر سکیا۔ 

۴ یم دوسرا شوہر اس سے عہامصت کرے اور اپنا حضو اتل ا س کی شرہگا میں راخ ل کرے 
اور اعقیاط وجب ہہ ہےکہ عجامعت عور تکی گی شرم گاہ (نژنی نر ) ٹ شکرے۔ 

۔٤ےاجم دز ماش ہراے طلائی دے یا‎ ٣ 








۴ ووسرے شوہ رکا عدہ دق با عرہ وفات شتم ہر جاۓے۔ 
۵...ں نب اطیاظ واجب دوصراش ہربالغ ہو۔ 

لاق خخ 
منتر ے ۲۵۳ ٠‏ اس عورت کی طلا قکو جو اپنے شوہرکی طرف مال نہ ہو اد اپنا مسر ہکوگی اور 
ال اسے بش رے لہ وہ اسے طلاق دے درے اسے طلاق شع کت ہوں۔ ٠‏ 
متیلہ ٠ ٣۵۳۸‏ جب شوہ رر طلاق خی کا صیفہ بڑھنا چاہے نز ار ا کی زبوب کا ام شا فال 
ہو تر عوض لیے کے تع کے زوجتی فاطمة خلعتھا علی مابذلت اور اقاط ”تج بک با 
ھی طالق تھی کے نشی میں نے اتی بی فا لم کو اس مل کے مقائل مس جو اس نے مشچ دیا س 
طلاق خلع رے دی ہے اور وو آزار سے اور اکر عورت مین ہو فو طلاقی شخ یں اور بیز طلاق مبارات 
میں اس کا نام لیا ضروری نئیں۔ 
مل ٣۵۳۹‏ ائر عو ری کی من سکو وکیل مقر رکرے تاکہ دہ اس کا عراس کے شوپ رکو ہنی 
رے اور خوہربھی اسی من سکو وکیں مقر رکرے کہ ہو ا ںکی بیو یکو طلاق رے دے تو مہ شال 
کے طور بر خوہ رک نام مھ اور بیوىی کا نام ناعلمہ ہو تر وکیل صیفہ طلاق ہیں ہے عن موحکلتی فاطمہ2ۃ 
بذلت مھرھا ٹمونگلی محمد لیغاعھا عليه اور اں کے بیز انام کے زوجةۃ موکلی 
خالعتھا علی ما بذلت ھی طالق اور أگمر عور تک یکو وکیل مقر رکر کہ اس کے شوہ رک مر 
کے علاوہکوئی اور کش رے ا کہ وہ ( یی ان عورت کا خوہر) اسے طلاقی دے درے تو وی کو 
پا ےک لفط مھرھا کی ہجائۓ اس کا ام نے لا اکر عورت نے سو روپ دبے ہوں و سے گنا 


چاج بذلت مائة روبيه 
طلاق مبارات 


سیل ۵۳۷۸ گر بی وی اور عو ہر ووثول اک وفضرے و نہ چاتے ہوں اور عورت مر دک یھ 
لس دے تاکہ وہ اے طلاقی دے دے تو اسے طلاق مبارات کت ہیں۔ 











توضیحالمسائل [_534 ا 


مستلہ (۲۵۳ ۰ ار شوہر مبارات کا صینہ بڑھنا چاے نے گر شل عورت کا نام فعلمہ ہو تڑ ا ےکا 
عاۓ بارات زوجتی فاطمة علی مابذلت فھی طاشق مشنی مج اور می یوبی فالم ال عخوض 
کے سقائل میں جھ اس نے دیا ہے (مشنی اس مال کے مقائل میں جو اس نے مشکھہ دا ہے) ایک دوسرے 
سے جدا ہو نے ہیں میں وہ آزاو سے اور گر وہ مخ سک یکو وگیل مقر رکرے تو وکی لک وکنا چا ہے عن 
قبں موگلی بارات زوجتہ' فاطمة علی ماہذلت فھی طالق اور روتوں ضورژں میں آ ٠‏ 
علی مابنذلت کی بجاے اکر بصابذل تکما جاے تب بج یکوئی حرج نمیں ہے۔ 
مستلہ ۲۵۴۲ ٠‏ 8خح اور مبارا تکی طلاق کا صیفہ ضیح عری میں بڑھا جانا این لیکن اکر عورت ‏ 
انا مل شوہ رکو بنٹے کے لیے شلا اردو میں کے ”طلاق کے لیے میں نے مھ فلویں مال با تو اس میں 
کوئی حم نہیں ہے۔ 

مل ۳ . اگ ر کوئی عورت طاتی شی یا طلاق مبارات کے عدہ کے دوران میں اپنی بش 
سے پھرجاۓ فو شوہر رتو عکر سنا ہے اور دوبارہ عق یئ بغیراسے اپ بیوی قرار رے سا ہے۔ 
مستملہ ۲۵۴۴ ٠‏ جو ال خوہرطلاق مبارات دسیے کے لیے کے وہ عحورت کے ممرسے زیادہ نہیں 
ہونا چا ہے لن طباقی خع کے سس میس لیا جانے والا مال اکر سرسے زیادہ بھی ہو فکوئی حرع میں 
مہ ۲۵۳۵ ۰ اگ رکوئی ش سکمی تا حرم عورت سے ا سگمان میں میاسع کر کہ وہ ا کی 
بیوبی سے نر خواہ عور کو علم ہوکہ وہ فیس اس کا خوہرشمیسں ہے۔ یالگمانکرے کہ اس کا شوہہرہے 
اے چا کہ تمہ رےے۔ 

مسنتلہ ۲۵۴۷ ۰ اگ رکوئی مخ س کی عورت سے ہہ جات ہوئے زناککر ےکہ وہ ا س کی بی نمیں 
سے نز خوان عور تکو علم ہولہ وہ رد اس کا شوہ رنمیں ہے یا گا نککر بے کہ وا اس کاخ ہر ہے اس کے 
لیے حعدہ رکھنا ضروری جھیں۔ 


5 


مہ سے ۲۵۳ :اگ رکوئی حرکی عور تکو ورغلا ےکم وہ اپنے شوہر سے طلاقی لے نے اور 








...۱آ ۰۔ح وج 6ھ سرسڈنیٹٹیفییسسہد تھا 


توضیجالمسائل 5951.] 


اس مض سے عق کر نے تو طلای اور عقر جم ہیں _یکن دونویں تے بست ب اتا کیا ج- 

ممتلہ ٠ ٣۵۴۸‏ ار عورت حطر کے سلسہ میں خوہر سے شرط کر ےکم ار انس کا شوہ رسخر 
ایا رکرے پا خلا جچھ نے ات حرج ع دے ت طلاق کا انقار اسے (شنی عورب تکو) عاصل ہو گا تو ہے 
شر افش ہجے۔ یلین گر عورت ہہ شرط لگا ےکم گر عرد سفرانقیا رککرے پا لا چد مسینہ تف اسے 
شرج نہ رے تر وہ نی طلاق کے لیے ا کی (نی شوج رکی) وکیل ہوگی نز ىہ شرط مج ہے لور آکر ای 
صورت پیا ہو جاے اور وہ اپنے آ پکو طلاقی رے دے تذ طلاق گج ہویم 

مل ۵9٥۹‏ مس عورت ت کا شوہ رکم ہو جائے اکر وہ دوسا شوہ رکرنا چان تو استہ چا کہ 
تد عارل کے پاس جائے اود اس کے مم کے مطالق عم لکرے۔ 


لہ *۲۵۵ نے ریا تنس کا اپ اور دارا ا ںکی تید یکو لاق دے کے ہیں- : 


مہ ٣۵۵۱‏ ؟ ار بب یا داوا اپنے حلغ لڑک (یشنی بے ا بہت ) کاکی عورت سے مع کر 
دیں اور تع کی برت میں اس لڑکے کے مکلف ہون ےکی بھ برت بھی شال ہو ملا اپنے چودہ سالد 
لڑکے کاکی عورت سے دو سال کے لیے عل کر بمیں و گر اس میں لڑک ےکی بھلاکی ہف دہ (مشقی اپ یا 
داوا) اس عور ت کی بردت خش یت ہیں لیکن لڑک ےکی دای بیو یکو طلاق میں دے تتے۔ 

میلہ ٠ ٢۵۵۲‏ أ رکوتی مرد دو مو ںکو شر ع کی مقر رکردہ علاما ت کی رو سے عاول سج اور 
اپی بیو یکو ان کے ساتے طلاق دنے دے تذکوگی او رفس جس کے نزدیک ان دو آوڑیو کی عدالت 
ابت شہ ہو اس ععورت کا عدہ شتم ہونے کے بعد ای کے ساتھ خور عق رکر سکتا سے پا اس کی کے 
کے عظد میں رے سے ا رجہ اقاط س خب بہ ہےکہ ال کے س۔اتھ عقد سے ایقناب رنہ اور 
دو سرے کا عق بھی اس کے ساتھ ‏ ہکھرے۔ 


سیلہ ٠ ٣۵۵۳‏ اگ رکوئی مخ س کسی عور کو اسے خلم ہو اضر طلاق رنے دے پز آگر نوہ اس 
کے اخراجات ای طرع رے ضس طرع اس وقت رتا تھا جب دہ ا کی بیدی شی اور لا ایک سال 
کے بعر اسے سے کہ میں یک سال ہوا تھے طلاقی دے پکا ہوں اور اس بل کو شٹرعا بھی ہاب تکر 
رے فز جھ یں اس نے اس برت میں اس عور کو سیاکی ہوں اور دہ اٹمیس اپنے مرف میں نہ لائی 














توضیحالعمسائل ۱ إ1 مد5 2 


ہو انی وہ ان سے واہیں نے سکتا سے لیکن جو چیزیں اس نے صر فہک کی ہوں من کا مطاہ خی کر 
2 


غصب کے ادکام 


لہ ۲۵۵۳ ٠‏ فصب کے ممع مہ ہیک ہکوٹی مخ س می کے مل یا جی یرت مکر کے قابض ہو 
جاے اور یہ بہت بڑے گناہوں میں سے ای کفکناہ ہے جس کا مرگب ہونے والا قیامت کے ون فخت 
عزاب می ںکرفار ہو گک جناب رسول اگرم صلی اللہ علیہ وآلہ وم سے ردایت ہ ےکہ جو مھ ں کسی 
دوسر ےکی ایک بالات زمین خحص بک رنے قیامت کے ون اس زی نکو اس کے مات طبقویں سے لے 
کر لو قکی رح ای ںک یگرون میں ڈال دی جائے گا 

منلہ ۰.۲۵۵۵ آگ رکئی ہس محر یا مدرسہ ما پل یا دوسری ابی ججموں سے جو رقاہ عاممہ کے 
لیے نال یگئی ہوں لوکو ںکو اعتفاوہ نہکرنے دے فو اس نے ان کا می خص بکیا۔ے۔ ای طرع آگ رکوئی 
مس صیر میں اہے لیے کہ مخسوص کرے اور دوسرا اسے اس تہ سے اتفادہ نہ کرنے رے تر وہ 
بھی خاصب ہے 

متلہ ۲۵۵۹ ٠‏ انان جو ہز قرش خواہ کے پا سگھردی رک وو انی کے پا (یشنی قرض خواہ کے 
پا ) دی چاینے کہ اکر وہ قرضہ اوا نہ ککرے ق قرل خواہ انا قرضہ اس یز کے ذرہیجے وصول کر 
نے۔ یا اکر مفرویض قرض اداکرنے سے لہ وہ تر اس سے نے نے فو اس نے اس کا غخص بکیا 


ے۔ 


مستلہ ے۲۵۵ !. جو ما یکی کے پا سگمردی مرکا گیا ہو اگ رکوئی اور نس سے غص بک نے تو 
مال کا مالک اور قرض غواہ دونوں خص بکرنے وائے سے اس مال کا مطال گر نے ہیں اور آکلر وہ چتزاس 
سے وابیں لے لی تق وہکمردی بی رہ ےکی اود اکر وہ لف ہو جائۓے اور وہ اس کا عوض حاصص لکریی 
وہ عو بھی اصلی چچزرکی مطر ح کروی رہے گا 


لے ۲۵۵۸ ٠‏ ام ازا نکوئی نحص بکرے تر اسے جچاچ کہ اس کے مان کفکو لوٹا رے اور 








توضیالمسائل )( 53+7 7 لا 


مر وہ نز ضائع ہو جاۓ نو اسے پچ ےکہ اس کا عوض مال ککو رے۔ 


مستلہ ۲۵۵۹ : جو نز غص بک یگئی ہو اگر اس سےکوئی منفعت ہہ آئۓ شلا غص بک ہوئی 


پیلک پچہ پدا ہو و دہ اس کے الک کا ال ہے یزمشیل کے طور بر اگ رکسی ن ےکوگی کان خص بک گیا ٠”‏ 


ہو تو خواء وہ (اتی خصب) اس مکان می ضز رہے اسے چا ےکہ اس کاکرایہ پان ککو رے۔ 
متلہ ٠ ٢۵۷۹۴‏ اگ رکوئی مس بے یا دداانے سے کوگی یز جو اس کا (یژنی چئے یا دیوانے کا) مال ہو 


غحص بکرے و اسے چا کہ وہ پت ائر. کے ول یکو بے دے اودآگر وہ یف مو جائے لو چا کہ 


اس کا عوض رے۔ 


مل ۲۵۷۱ : و ررش اس اض موس ماد 
اس چچ کو مس بکرنے پر قاور ہو ان میں سے ہر ایک لصف مال کا زم دار ہے۔ 


مستلہ ۲۵۷۲ ۰ اگ رکوئی شخس غص بک +وئی جن کو کی دوسری جن سے ملا دے شا جوگندم 


غس ب کی ہو اسے جو سے ملا رے قز گر ان کا بد اکر غحکن جو تو خواہ اس یس زحت بی کیوں شہ ہو ا 
اسے جات ےکہ انیس ایک دوسری سے مع ہکرے اور خص بکی ہوقی اس کے مال کو وائیں رےح: 


مستلہ ۲۵۷۳ ۰ اگ رکوئی مس شیل کے طور بر کانوں کا آویز ہگوشوارہ بای زور جو اس نے غحصبٰ 
کیا ہو تڑڑ پھوڑ رے تو اسے چا کہ دہ مال اس کے بتان ےکی مزددری کے ساعقھ اس کے مان کو وائیں 
کرے اور اگ مزبوری ضہ رے اود کہ ا کی ہچائے میں اس مل کو پچے سای متا تا ہوں ق اگ 
اس میں بن یک شل کو تقو لکرنے پر مور خمیں. سج سا کو 
چزکو پے یی ہناۓے۔ 


سلہ ۲۵۷۴ : وفع سر رات تھرن 
کی حعالت پل سے مر ہو جائۓ شلا جو سونا غخص بکیا ہو اس کاکوشوارہ بنا رے قے اھر بل کا ماک اسے : 
ے کہ بج مل ای عات میں (لشن یکوشوار ےکی شکل میں) دد ق اسے چا ےکہ اسے دے وے اور چو 
زرحعت اس نے اٹھاگی ہو لن کوشوارہ بنانے بر جو محن تکی ہو ا کی مزردری بھی وو ممیں نے سکتا او گر 
ای رح وو مہ جن ٹنیس رکھتاکہ ان ککی احجازت کے بقیراس چ رکو ان نکی کہگی عالت یس لے آئے اور 











توضیح‌المسائل " ۔ ا ےفہظرار 


گر ا سکی اجازت کے بغی راس چچ زکو لہ جی ساکر رے تر اسے جا ج کہ اس کے جنانے گرشوار: 
وید بیانے )کی مزبدری بھی اس کے مان کگکو رے۔ 


ستیلہ ۵۷۵ ؛ جس مخس ن ےکوی چزخحص بک ہو مر وہ اس میں اڑی تبدٹ کر کہ اس بت 
کی حات لہ سے بہترہو جائے اور صاحب مل اسے اس نکی پپلی حالت میں وی ںککرےکو کے 7 
اس کے لیے داب ےکہ اسے ا سکی کپلی حالت میں لے آآئے اور کر تی کر نے کی وحبہ سے ال 
کی قیت پیل حات ےکم ہو جائے قز اسے چا کہ اس کا فرق مل کو دسے میں آل کوٹ مس 
غصب کیئے ہوۓ سونے کاگوشوارہ بے اور اس سونے کا الک کی کہ تار لی لازم ہی کہ اسے 
پلی شل میں نے آو قز ار پھلائے کے بعد اس سونے کی یت اس سکم ہو جاے بچٹ یگوشوارد 
بے سے پھلے تھی تو غس بکرنے والے کو چا کہ توتوں می جفت فرق ہو اں کے با ال مل کک 


رے۔ 


مہ ۲۵۷۷۴ ۰ اگ رکوئی مخس اس زین میں جو اس نے نحص ب کی ہو زراعم تکرے ہا درضشت 
جائۓ تر زراعحت؟ ورشت اور ان کا ئل خود اس کا ال ہے اور نر زین کا مانک اس جات بر راشی شہ ٭ 
کہ ورشت اس زین میں رہیں قوجٹس نے وہ زمین غص بکی ہو اسے چا کہ خولہ ایی اکرنا اس کہ 
لیے نتصان وہ د یکیوں دہ ہو ود فور] اپی زراعت ىا درخنو ںکو زین سے اھیٹر نے نیز اسے باج کہ 
شی برت زراعت اور ورشت اس زین میس رسے ہوں اتی مت کاکرامیہ زین کے مان فکو دے اور جھ 
خرلیاں زٹن شش پا ہوئی ہوں افمیں ورس تکمرے ملا جماں درو ل کو اھیٹرنے سے زین می سگڑھے 
بے ہوں اس تک ہکوہ ہکرے اور گر ان خرایو ںکی وج سے زین کی قھت پل ےکم ہھ جائے پر 
اسے چا ےکہ قبت مم جو فرق پڑے وہ بھی اداکرے اور دہ زشن کے ان کو اس بات پر ممبور نمی 
کرحاکہ دہ زین اس کے پامقھ بے رے نیز زین کا الک بھی اسے مور میں کر سلتاکہ ورشت یا 
زراعت اس کے اھ تچ رے۔ 


ہل ے۲۵۴ ۰ اکر زین کا ملک اس بات پر راضی ہو جات کہ زراعت اور درضت اس کی 
زین میں رہیں تنس مخ نے زمین غص بکی ہو اس کے لیے ىہ ضروری میں ہ ےکہ زراعت اور 
: ورختو ںکو اکھیڑے لیکن اسے چا کہ جب زین خص بکی ہو اس دقت سے ےکر مالک کے رای 








توضیحالمسائل ۰ ' 9دہ ]۔! 


ہوئے کے وق نف کی ببرت کا زین کاکرارے بیھت 


مسر ۲۵۹۸ ۰ جو ننزکی نے غحص بک ہو اگر وہ تلف ہو جائۓے فو اکر وہ گا اور بھٹرکی 
رح ہو جن کی قیت ا ن کی زاتی خصوصیا تکی با بر عفلا کی ننظرمیں فردا فررا خلف ہوتی سے تو 
ناصب کو چان کہ اس پچ زکی قمت اداکھرے اور اگر اس کی پازا ر کی تبت مخلف ہو گئی ہو تو اے 
چان کہ وہ آیت دے جو اداکرنے کے وقت خی اور اقاط مب ہہ سس ےکہ غحص بکرنے کے وقت 
سے نےکر تلف ہوتنے کے وقت کک ا , چ نکی جو زیادہ سے زیادہ ھت ری ہو وہ رے۔ 

مستلہ ۲۵۷۹ ! جو چزرکی نے خغص ب کی ہو اور وہ لف ہو جائے اکر ووگندم اور جو کی بانٹر ہو 
ج کی فردا فا قجت کا ذائی خصوصیا تک بنا پر جائم فرق میں ہوت تو غص بکرنے وا ل ےک چا ے کہ 
جو نز غص بکی ہد اسی سی چ مان ک کو دے لکن جو جیزرے ضردری ہ ےہ ا کی تم انی خصوصیات 
میں اس نحص بک ہوئی زی ت مکی مامند ہو ج کہ لف ہ وی سے شلا اکر بڑھیا تم کا چاول خص ب کیا 
نا یھٹیم کا میں رے کت 

مل ٭ے۵٢‏ : آ رکوئی خص بیجن یکوئی جن زغس بکرے اور وہ لف ہو جائے فو مر ا کی ٠‏ 
پازا کی قیمت میں فرق نہ پڑا ہو لن جس برت می وو خحص بکرنے والے کے پاش دی ہہو اس بت 
میس شا فریہ ہوگئی ہو نو ذریہ ہونے کے وق ت کی قمت اواکھرے۔ 

مہ ے۲۵ ؛ جو کی نے نحص بک ہو اگ رکوئی اور شخیس ودی زاس سے غص بکرے اور 
پھر وہ تلف ہو جائے قو مال کا مالک ان دونوں میس سے جرایک سے اس کا عوض لے سنا ہے یا ان 
ووٹیں میں ےکی ایک سے اس کے عو کی پکھھ مقدا رکا مطال ہکر سنا سے اور اکر ماک اس کا عوش 
پل خاعب سے نے لے ق پےکے خاصب نے جو پچھ دیا ہو وہ دوسرے غاصب سے کے تا ہے لین گر 
ال کا نک اس کا عوض دوسرے غاصب سے کے کے فو اس نے جو مھ دیا سے اس کا مطالبہ دہ (منی 
دو مرا غاصب) پل خاصب سے نمی ںکر کت 


مستلہ ۳ے۲۵ ٠‏ جس ہہک جا جاۓ الم اس میں معال کی شرطوں میں سے کوگی ایک موجود نہ ہو 
لا جس کی فرید و فروخت وز نکر ک ےکر چاہے گر اس کا معاللہ بفیروزن سی کیا جائے تر موللہ 











توضیم‌المسائل .)548ا 


ال بے اور ار یج والا اور خریرار موللہ سے قح نفراس بات پر رضامند ہوں ایک دوسرے کے 
بی میں تر فکریں'ن کوئی مع میں ہے یہاں خید و فروعت کے اظا مکی ہجاتے جیہ کے احکام 
جاری ہوں گے اور اس عم کے معلل ہکو مصلحعت سے بھی ہے نمی ںکیا جا کلتا۔ ورنہ جو جنر انہوں نے 
ایک دذسرے سے کی ہو وہ خغصبی ما لکی مامن ہے اود نیس چا ےکہ ایک دو سر ےکی چتزیں دای ںکر 
دی اور گر ایک کے ہا ت تار س ھت رد سس سے 
ٹھااے چان کہ اس کا عوض رے۔ 


مستلہر ے۲۵ : جب کوئی شخ سکوئی می کسی سے والے سے اس مقصد سے کہ اسے بے یا 
پچھ مرت اپنے پاش ر کے اکہ اکر ند آئے تو فرید نے ق آکر وہ ال لف ہو جاۓ و اے چان ۓکہ 
اس کا عوض اس کے مان کو درے۔ 


اس مال کے اعکام جو پڑاہوائل جائے 


مل ۲۵2۵٣۴‏ : اگ رکی مخ سک وکسی دوسرے ام شدہ ایا مل لے جو حیوانات ٹس سے کہ ہو 
اور جخ سک یکوئی اڑی نثائی بھی نہ ہو جس کے ذدی اس کے مالک کا پن یل گے اور ا کی قمت ایکف 
درجم (۹/ ۴' نے کہ دار چاندی ) ےکم نہ ہو تو انقیاط تخب ىہ ہ کہ وہ شس اس ما یکو اس کے 
پان کی طرف سے نفقیرو ںکو بطور صدقہ درے رے اور اپتی ظلیت میں نہ لے۔ 

مستلہ ۵ے ٠ ٣۵‏ ا رکوئی اضان اڑ یگری پڑی چیا ن سک قمت ایک ددم س ےکم ہو تو ھر 
اس کا مالک معلوم ہو نین انسا نکو ىہ علم نہ ہوک دہ اس کے اٹھافنے بر راشی ہے یا ٹیس فو وہ اہ ںی کی 
اجازت کے بغیر اس ما یکو نہیں اٹھا سکنا اور اکر اس کے مالک کا علم نہ ہوفز اس قورر سے اٹھا سکتا ‏ ےکمہ 
وہ خود ا کی گلیت ہے اور اس پر وجب ہ ےکہ جب بھی اس مال کا مالک لے ار وہ یل لف تہ ہو 
گیا ہو تر بینہ دتی مال اسے والی ںکر رے اور اکر تلف ہو گیا ہو ق اسے اس کا عوض دے اور لک ای 
ال یکو تھا لکیا ہے قے ا کی اجرت بھی رے۔ 


مس ے۲۵ ٠‏ ا رکوئی نس ایک چزہاۓ ننس بر کوأ, ای نثانی ہو رر کے ذریے اس کے 











توضیح‌المسائل )( حقیہ] 


اڑ 


مالک کا پت چلایا جا سے بز اکرچہ اسے صعا ہہ جال ےکہ اس کا الک سی ہے نا اٌک ایی کافر ہے جس ک, 
مالس زم ہے تا ہم آلم. اس پچ کی قیت ایک در مکی مقدار تک ت جائۓ قز اس مخ س کو چا ےک 
ٹس دن دہز ٹی ہو انس سے ایک سال تک موگوں کے ایاج کی یکلہ یہ اس کا اعلا نکرے۔ 

مل بے ے۳۵ ۰ ار انان خود اعلان کر چاہے تو دہ اه آد کو اپنی طرف سے الا نکرے 
کے لی کہ مکنا بے جس کے متحلق اسے این ہوکمہ دہ الا نکر رے گا 

منلہ ے۲۵ ۰ اکر پزکورہ نس ایک مال تک اعلا ن کرے اور یل کا مالک نہ لے تو ایس 
صورت میں ج بکہ وہ مالی رم مہ کے علاوہ سی تہ سے ملا ہو دو اسے خود لے سا ہے پا اسے اس 
کے مالک کے لیے اپنے پاں رکھ مکنا ہے ناکہ جب بھی دو لے اسے درے دے اور یا بی کے الک کی 
طرف سے فقو ںکو ہلور صدقہ رے متا ہے اور آکر وہ بل اسے عم میں ما ہو از اطاظ واجب ہہ ے 
کہ اسے لطور رق دے دے اور ان دونوں صورول میں اعقمالا جب ہ ےکہ مم ٹر سے اجازت 
نے یا عاکم شر کے سیر دکر رے۔ 


متلہ ۹ ے۲۵ ٠‏ ا رکسی نس کے ایک سال تک اطا نکرنے کے بعد بھی مال کا نک بر لے ” 
ایر جے دہ مال ملا ہو وہ اس کے ماک کے لیے اسے اپے پا رکھ بچھوڑے (نینی جب مالک لے گا اے 
دے دوں گا) اور وہ مال لف ہو جاے تر آکر اس نے ما ل کی گگرداشت م ںکوبای نہ برتی ہو اور تیری 
نی زیادہ روبی بھی نہ کی ہو لو روہ زمہ دار یں ہے اود اکر ای نے خود اپ لیے اسے قضے می ںکر لیا 
ہو و زم دار ہچ اور مہ وہ مال اس کے ال فکی طرف سے مور صدقہ رے چکا ہو تر مال کے مان کو 
اتقیار ےکہ ال صدتے پر راصشی ہو جائے یااپنے لی کے عوض کا عطالبہ کرے اور صرقہ کا تاپ 
صدقکرنے وا ےکو لے گا (ٰشق بی صورت میں مال کے مال ککو اور دوسری صورت میں اس شس کو 
ضے دہ مال ما اور ای نے لبظدر صدقہ رنے دیا) صاحب ما لکو مطالے کا من اس صورت میس ہے کہ 
ال شس نے عاکم شر کی اجازت کے ایر تر فکیا ہو- ۱ 

لہ ۲۵۸۴ ۰ ا رکوئی خفس ج ےک را یڑا مل مل جائۓ اس طریق کے مطابلق ج اریہ بیان ہوا 
یہ اعلان ن ہککرے آذ علادہ اس بات ک کہ اس ن گنا کیا ہے اس پر ہچ ربھی واجب ہس ےکم اعطان 
کرے بش رہ مالک کے نے کا ظاہرا اشول ہو۔ 

















توضی‌المسائل سس لات 6ھ 
مستلہ ۲۵۸۸ ۰ ہگ رکسی دیوانے مس یا لغ چک کو یگری بای نہ سے تو اس کا دی اس ہز 
کے پارے میں اعا نکر سکتا سے اور اس کے بعد (شنی گر اس چ کا الک :. لے ) اسے دوانے ی 
تاالغ ےکی طرف سے لیت میں نے تا سے ما اس بن کے مال فکی رذ سے ہور صدقہ دے گتا 
ے۔ 

سمل ۲۵۸۲ : ,مر انان اس سمال کے ووران یں جس وہ لے گے ال کے پارے ڈں اعلان 
کر را ہو مال کے مالک کے سخ سے امیر ہو جائۓ اور اسے اطور صدرقہ دینا ج چے یا اپکی لیت میں ینا 
جاچے و اں میں اخقال ے۔ 

منتلہ ۲۵۸۳ :.٠‏ مر اس سال کے ووران میں نس ہیں انسان لے ون نے مال کے پاارت میں 
اعلان کر رہا ہو وہ مل عحکف ہوجاۓ اور گر اس ش٢خصس‏ نے اس ما ل کی گمراشت می یکو با ی کی ہو یا 
ری 2 زیادہ رو کی ہو ڑاے چا کہ اں کا عو اس ہے الت لو ہے اور اکر کو ای ا زیادہ 
: روبی ن کی ہو نو بچھراس پر چھ بھی واجب میں ہے۔ 

لد ۲۵۸۳ ۰ اگ رکوئی مل جو نثانی رکتا ہو اور ا سکی قبت ایک درجم تک پچ ہو اڑسی مہ 
سے سے جس کے بارے میں معلوم ہوکہ اعطان کے ذر بی اس کا مالک میں لے گا نے نس شف سک و 
لی ما ہو دہ لہ دن ہی اسے اس کے مالک کی طرف. سے قرو ں کو اطور صدقہ دے ستا سے اور 
روری نمی ںکہ ایک سال تم ہونے کک اننظا رکرے۔ 

مستل۔د ۴۵۸۵ ؛ ا رکی مخ سک وکوئ یگری بڑی جن مل جائے اور اسے اپنا مال کھت ہوئے اتھا 
نے کور بعد میں اسے پت چ ے کہ وہ اس کا انا مال خی ہے و اسے چابٹ نے لہ ایک سال کک اعلِن 
2020 ۱ 

مہ ۲۵۸۹ : جوگری پڑی نی ہو اس کے بارے میں اعلا نکرتے وقت ا کی جن کا با 
شروری خمیں پلہ اگ زرکوئی شف صرف ات اکمہ در ےےکہ بیع لیک جزری ہے تم کائی ہے۔ 


متتلہ ے۲۵۸ :۰ آ رکسی ‏ سکرگکمری بڑی چن مل جاے اور دوسرا شنس کی ہک میا بل بت 
اور ا کی نشائیال بھی جچا درے تو جس نف سکو دہ ہن ٹی ہو اس چا ےکہ وہ یزاس دومرے شف یک 











توضیخ‌المسائل )[ دیو5 ا 


اس وت رے جب اسے اطمینان جو جا ۓ کہ اس کا ملی ہے اور یہ ضروری می ںکہ دو نس ایی 
نشائاں جیا جج نکی طرف عو مل کا الک بی توجہ نی دتا۔ 

مل ۲۵۸۸ ٠‏ کی مخ سک جوگری پڑی چزی ہو اکر ا کی قیت الک درم کک پچ تار 
وہ اعلان نہ کرے اور اس چ کو سور می یاکی دوسری مہ جال لوگ تع ہوتے ہوں رک رے اوہ دہ 
چ تلف ہو جاے پاکوئی دوسرا خصس اسے انا نے تو جس نیس کو روچ پڑی ہوگی لی جو وہ ڈمہ دار 
ے۔ 

مل ۲۵۸۸۹ : رکسی سک وکوئی ای جنز دی ہوئی لے جو رکے رج ے پہ خراب ہہ جاکی ‏ 
سے چا ےکہ عاکم شرع ما اس کے کی لکی اجازت سے اس چت کی قیت می نکرے اور اسے تا 
رے اور جو رقم سے اسے اپنے پا رکھے اوز کر مالک دہ لے تو ا کی طرف سے پور دہ درے 
تد 

سیل ۲۵۹۰ : جوگری دی چک یکو لی ہو اکر وضوکرتے وقت ا مز پڑحتق وت وہ ای کے 
اس ہو ٹڈ اگر ا کا اراوہ ہوکہ اس کے مال ک کو عطا کر کے سے رے ودوں گا تو پلاشبہ اس می ںکولی 
جرح خی ورشہ وہ مخوب کے عم میں آن ےگی۔ ۲ 
مستلہ 8ن۷ ٠‏ ہآ رکسی خخس کا جو اٹھالیا جائے اور ا کہ تج کی او رکا جو رکھ دا جائے اور 
اکر وہ مخ جانا ہوکہ جھ جو رکھا ہے وہ اس مخ کا مال ہے جو اس کاو ل ےی ہے لود وہ ای 
بت بر راشی ہوکہ جو جوا وہ نکیا سے اس کے عوض اس کا جو رھ ےق دہ اپ جوت ےکی بیائے 
وو ا رک کا ے اور اکر وہ جات ہ کہ وو شخس اس کا جو بات اور لم کے طور یہ نکیا ہے تب 
بھی بی تلم سے لن اس صورت میں ضروری ہ کہ اس جوت ےکی قیت اس کے اپنے جوت تک کت 
سے زاود ھہ ہو ورنہ وید قثت کے مفلقی ول لراکک کا عم عیاری ہو گا اور ان دو صورقول کے علادہ 
اس جوتے پر جرول الاک اعم جارنی ہگ اور کم شرع کے عم کے مطابق عم لکرے۔ ‫۱ 


مل ۲۵۹۲ : جو ال انان کے پاس ہو اگمر وہ بول لپالک ہو (یینی اس کے مک اعم شہ ہو 
اور اس پر لف کم شدہ کا اطلاق مہ ہو ہو انان کے لیے ضروری کہ اس کے ان کو تلاش کر ے 











توضیحالمسائل ۱ یل 


اور انل کے مالک کے لی سے اوس ہوئے کے بجی اس مل یکو ایلور رہ وہ ے دے اور اوط پ تچ 
کہ عم شر کی اجازت سے صدقہ دے اور گر بج جم ن مل کا مالک مل جائے نے بھی اس ما کی زم 
وا یکی بر خمیں۔ 


میوائا کو شک رکرنے اور ذ عکرنے کے ایام 


مستلہ ۲۵۹۳ ٠‏ جب ٗی ای جیوا نکو نس کاگوشت عطال ہو اس یی کے مطالق زنم کیا 
جائے ج بعد می ایا جاۓ گا و خواہ حوان جگی ہو یا پت ا کی ان گل جانے کے بعد اس کاگوڈے 
علال اود اس کا بدن پاک ہے لن دہ حیوان جس کے ساققہ انسان نے وی (عاسعت )کی ہو اور وہ بیز 
جس نے سورلی کا دودھ پا ہو اور ای طرح وہ حیوان جو مجاس تکھانے والا ب گیا ا كَّ 
مین کردہ زستور کے عطابق انتبرام نہک یاکیا ہو ٹر اس“ دز کرنے کے بعد اس کاکوشت علال تم 


۱ں 


مستلہ ۲۵۹۳ ٠‏ وہ جنگی حیوان جن کاگوشت عل ہو (شلا ہرن' گور اور پھاڑی کری) اور وہ 
جیوان جن کاگوشت علل ہو اور جھ پہپاتھ رہے ہوں اور بعد میں جنگ بن سے ہوں (شل لت اۓ 
ران ہن ہر ان کا اہ نی کے سس سس وش 

کوک جم ہگ دہ پک اود طول میں لن علا لیکشت دالے پا حوان لا جو کی مر 
اور لا لگوشت والے وہ جنگ حوان جو حمیت کی دجہ سے پل بن جائیں شکارکرنے سے پاک اور 
عطال خی ہوتے۔ 


متلیہ ۲۵۹۵ ٠‏ عا لگوشت والا جنلی حوان شا ر٣‏ نے سے اس صورت مں پاک اور علال ہو٣‏ 
. ہے جب دہ پگ سکتا ہو یا اڑ سکتا ہو۔ را پن کا پچہ جو بھگک < ضہ گے اور چو رکا وہ یہ جو ا شر گے 

شا رکرنے سے پگ اور علال میں ہوتے اور اگ رکوئی نس پر یکو اور اس کے اینہ کو جو با 
نہ گاب ایک ی تی سے شا رکرے ق ری علول اور اس کا پچہ ام بوگں 


لہ ۲۵۹۷ ٠‏ حا لگوشت وال دہ حیوان ( للا لی ) جھ ریگوں میں خوز: نہ رکتا ہو ام شور بر 








72 
5 
اود 


توضیح‌المسائل َ 1 
یا رکیئے بغی مر با ت پک ہے لن اس کاگوشت نہمی ںکھایا جاسکتا 

مسنتہ ے۲۵۹ ٠‏ حا مگوشت والا وہ حیوان ( شا ساپ ) جھ رکوں می خون نہ رکتا ہو اس ککامردہ 
پک ہے لکن ذ کرنے سے دہ علال خیش ہو۔ 

لہ ۸ ×ד کا اور ور و نے اور کا رکرنے سے پگ یس ہو اور ان کاگوش ت تھا 
گی یم ہے اور وہ تا معکوشت والا جوان جو بھھٹرچے اور کی طرحخح چیہ با ڑککرنے والا او ر,گوشت 
9ئ . مس وستور کے مطلق و کیا جائۓے جس کا زکر بعد مم سکیا جاپے ما ا تج وظیرو 


سے کا رکیا جائے تو وو پک ہے لان اس کاگوشت علال ٹیش ہو اور آگر ۱ء س کا ھکار شکاری کے کے 
ذرہی کیا جاے تو اس کاپان پگ ہونے میں بھی اتل ہے۔ 


سَّلہ ۲۵۹۹ : اھ رچچ یر چا ادر وہ حیوان جو سوحا رکی طخ زس زین رجے ول ار وں 
زنکوں میں غون رک ہوں اور اپنے آپ مریائمیں قذ خجس ہیں جن گر انہیں ذ کیا جاۓ یا اسلھہ کے 
ذرجھ شکا رکیا جا فو پگ ہیں 
مل ۷۷۰۴ گر زی ران کے پیٹ سے مردہ بچہ گل یا الا جائۓ تو اس ککاگو شی ںکھانا رام 
ے۔ 
حوائعل کو ڈ رن ےکا طریقہ 
متلہ ۳۷۳۸۴ : حوان کے ز خکرنے کا طریقہ ىہ ہےکہ اگ یگرد نکی مچار بوئی مرکو ٹکو مل 
: ور بر کان جا اور ان میس صرف لاف ڈالنا کن نہیں ہے اور معروف بیہ ہےککہ جب تف جک یگرہ 
کے نے سے تہ کاٹا جا ئ ان چار مرگوں کا عرف باہر سے کاٹ کانی شی اور ود ار رگ مان س کی تلی 
او رکھانے کی نل اور دو موٹی رگیں ہیں جو سان کی لی کے دوفویں طرف ہوتی یں 
مئیل ۳۲٭۷۳ ۳٣‏ : أ رکوکی مخصس پار رگوں میں سے لن کو کائے اور پچ رحردان کے مر نے تک مر 
کرے اور پاقی رگییں بعر میں کاے قے اس کاکوئی فائدہ نمی لیکن اس صورت میں ج بکہ ارول رکیل 
حیوان کی جن لن سے پطہ کٹ دی میں گر سب ممول مسلسل نہ کاٹ جائیں دہ میدان پک اور 
عدال ہوگااگرچہ اعلط مخب ہہ ہ ےک مسلسل کی جائیں۔ 








توضیچالمسائل _ے 7 54٤‏ ] 

سمل ٢۷۳۴۶۴‏ : آگر بھی ریاکسی یرک یکردن اس طرح پچاڑ در ےک ہگھرد نگ ان چاد درگوں ں 

سے ہیں زز کرت وققت کنا چا نے یھ باقی نہ رسے نو وہ جھیٹرحرام ہو جاآ: یہ لکن کر دہگرو نکی 

پان مقرار پھاڑے اور بچار رگیں باقی رہیں یا بدن کاکوگی دوسا حصہ پھاڑے تر اس صورت میں چئمہ پھر 

ای زند: ہو اور اس ری کے مطابق ذز نکی جاۓے جس کا ذکہ بعد میس ہوگادہ علال اور اک ہوگی۔- 

جوا نکوؤ کر ن ےکی رئا 

مسیلہ ۳٣۹۰۴‏ : موا نکو ز رن کی چند رازا ہیں۔- 

ا جو خں کسی حوان کو ز کرے خواہ وہ عرد ہو یا عورت اس کے لیے ضردری ہے کہ 
مسلان ہو اور و مان پیر بھی جو می ہو نی برے مھ کی پان رکتا ہو موا نکو و 
کنا سے لیک نکفار اور ان فرتوں کے لوگ جوکفار کے تم می ہیں ( شا فلات' خوارع 
اور واصپ پمووگی اور مات یکسی جوا نکو نن میں کر سھت۔) 

جوا نکو اس چزز سے ز کیا جائے جو لوہ ےکی بی ہوگی ہو مجن اکر ایہے کی چزدستیاب 
نہ ہو اور صورت ہہ ہ وکہ اکر خوا نکو زیخ ن ہگیا جائۓ نز وہ ہرتنے دالا ہو یاکوئی ضرورت 
اسے ز کر ےکی مقتضی ہو ت اسے ایی تی چز شلا شیشه اور چھر سے بھی ز کیا جاسکتا 
ہے تو ا لک چاروں رگیں جداکر وے۔ 

۳...ں- ز کرت وت موان کا مہہ باج پاؤں اور یٹ قبلہ کی رف ہوں اور جو 2 جانا 
ب رہ ز کرتے دقت جوا نکو روبقبلہ ہونا چایئ اگر وہ ان بوچ ھکر اس کا مہ قبلہ کی 
طرف نہکرے تر حیوان عرام ہو جانا سے لین مر ز کر نے دالا بھول جائے پا متلہ نہ جاننا 
بد یا قلہ کے پارے میں اسے اشاہ ہو یا ىہ ضہ جانتا کہ قبل ہس طرف ہے پا حیوان کا منہ 
قبلہ کی طرف کر متا ہو قے پھ رکوتی حرع خی اور ضط سحجب ہہ ہ ےکہ ڈن ا کرنے والا 
کی رو رتا ہو۔ 

...٣‏ جب کوئی فص کی جوا ن کو ز جکرنا چاہے یا زج کرنے کی نیت سے اس کے گے پ 
چمری رک فو دا کا نام نے اور مر صرف لسم ان کہ رے فو کائی ہے او اھر و رن ےکی 
نیت کے اف دا کا ام نے ت وہ حیدان پک نمیں ہو اور ا کاگوشت بھی حرام ہے لان 








ترخببالسائل____ لا ت۹ 


کر پچھول جان ےکی وجہ سے مد اک عم نہ لے تکوئی حرج ننمیں ہے۔ ۱ ۱ 

۵ زع ہ نے کے بعد میولن کت کرے اگرچہ ال کے طور بر صرف کآکھ یا دم کو 
ترکمت دنے ا اپنا پا شن پر مارے اور نے مم ای صورت میں ہے جب زب آرےے وقت 
خوشن کا زیرہ ہونا مکھاول ہو نیز واجحب ےک جوان کے برن ے انتا نون أ گے بتنا مل 
کے مان نیا ے۔ 

 ..٦‏ کہ بتاحد اقاظ داعب پرندوں کے علاوہ جوان کی ان ٹین سے پللہ اس ما راس کے 
برن سے بدا نہ کیا جا اور خودبہ کلم (مشنی رید کرنا) فی نغسہ بندوں کک میں بی 
تل ایل ہے لیکن اکر غفل تکی دجہ سے یا چھری جز ہو کی دجہ سے سرجدا ہو جائۓے ت 
کائی حرج ہیں اور زججہ عاال سے اور ای طرع جنابر اقیاط اس غید رگ کو جو گردن کک 
مروں سے خیوا نکی دم نک پچ جاتی ہے اور فخا عکھلاکی ہے عد ا تع ن ہکیاجلہۂ۔ 

ھث سد ب کہ جوا نکو فرع نشی ذ رن ےکی تہ سے ز کیا جا اور ا قراط دجولی کی بنا یر سے 
جاتز یں جح کہ پھر یکوگرو نکی پشت ہے انا رکر اکی طرف ایا جایئے اور اس طرح ال 
ک یرون پش ت کی طرف سے کال جاے۔ 

لوم ٹکو ج مکرن ےکا طربتہ 

مستلہہ ۲۷۴۵ ار اون کو رکرن مقصور ہو کہ جان لکن کے بعد دہ پاکگ: اور عدال ہو جات 

ضردری ہےککہ ان شرائد کے ساتھ جو خیوا نکو ز ںکرنے کے لیے جال یی ہیں نپھری یاکودئی ےر جو 

.موی ےک بی ہوئی ہو اور گالے وا ہو اون فک یگرون اور ج کی درمیالیگرائی می کھونپ ریں۔ 

مستلہ ۲۷٣۶۷‏ جب چھری اون فک یگرون میس کھوجنا متصور ہو نو نز ہے کہ اون ٹف ڑا ہو یکن 

نب دہ گن زشن پر کیک دے ای پھلو لیٹ جائے اور اس کے جاز و پنوں اور سیتہ رو لہ ہوں تر 

ری ا ںکیمگرو نک یممرائی می ںکھو ےمم سکوئی جرع فیس ہے۔ 


لہ ب۷٣‏ ! گر او شک یگرر نک یگرائی مم نچ یکھو ےکی عجائے اسے (ن کیا جائے من 
ا کی گررن کی چار رگیں کئی جائیں یا بھی راو گاۓے اور ائیں بے ووسرے جوان تک یگگرد نکی 
رئیم او ٹف کی طخ تر کو ی جائے قو ان کاگوشت حرام اور پرن خس ہو گ لین اکر لین٠ٹ‏ کی 














توضیح‌المسائل ل[. 548 لے 
چار رگیں کی جاھیں اور لبھی وہ زندہ ہو تر پرکورہ طرییقے کے مطابقی ا سک یرد نکی گکرائی بس نچھری 
تھوزی جائۓ تو اس کاگوشت علول اور بدن اک سے اور ای طرح اکر گائے با جھیٹر اور ائیں کے 
حواع تک مکردن ک کرای میس پھر گکھوی جائۓے اور ایی وو زنرہ ہوں پٍ انی ور کر وی جائے لو وہ 
پک ور عل یں 

مل ۸٭*۲۹ : اگ رکوئی حیوان سرکش ہو جائۓ اور اس طرییقے کے مطابق جو شرع نے مقر ھکیا 
ہے نی ہا ھکر خحکن نہ ہو یا لاکنمیں می ںکر جائے اور اس بات کااشمل ہوکہ وہیں مرجائے گا اور 
اس کا شری طرییقہ کے مطلبق ذیع یا ف رکرن کن نہ جو ق اس کے بدن پر جما ںکہیں بھی زشم گیا جاۓے 
اوراں زخغم کے تجچجے میں ا کی ان نل جائے وہ حیوان علال سے اور ا کا روبلبہ ہونا ضروری 
نمیں بے لین ضردری ہےکہ دوسری شرائط جھ مواعاتکو ز کرنے کے پارے میں بتائ یی ہیں اس 
میں موتور ہولں۔ 


حبوانا تکوؤ کر نے کے مسحمات 


مسیلہ ۲۹۸۹ ٠‏ بھھ چیزیں ماب کو ز کرنے مس م تخب ہیں۔ 
اریت کیٹ کو ز کرۓے ونت اں کے دونیں پاتھ اور أِٗ پلآلں بانڑھ دہے جایں اور دوسا 
پاکں کھلا رکھا جاۓ اور گائ ےکو ز کرتے وقت اس کے مچاروں پاؤل باندھہ دے جایں اور 
و مکھلی رھی جائئے اور اون کو ت رکرتے وقت اکر دہ بی ہو فو اس کے دوفوں پاتھ تچ سے 
کیل کک یا بل کے یے لیک دوسرے سے باندھ دے جایں اور اس کے پوں کی رگ 
پاھیں اور جب ہےکہ برنرے کو ز جکرنے کے بعد چھوڑ دا جاتے لاک دہ اپ پر اور 
پا پچٹرپھڑا گے۔ 
۲× جوا نکوذخ ما ف رکرنے سے پل اس کے سائنے پالی دکھا جاائے۔ 
نز ما ھب ںکریں کہ جوا نکوکم لیف ہو شا چھری خوب ج زکر لیس اور موا ن کو 
جبلدی ن غجکیں۔ 





ٹرمیچالمسائل 691یا 


تیوانا تکو زع با ف مکرنے کےھروبت 


مل ۲۰۴۰ تر یں جانا کو ذچ یا مر ت کرو ہیں۔ 


آ و 
ام 


"ایم 


.َ 


موا نکی بان ٹن سے پیل ا سک یکل انارعد 

وا نکو ایی جہ کر ماں دوس 'یولان اس دکھ رہ ہو 

شب بح کویا جحعد کے دن ظمر سے پیل حیوان کا زج کرن۔ ہن اگر ای اکرنا ضورت, کے 
ھت ہو قڈ اس می ںکوئی عیب یں 

ٹس چو پا کو انسان نے پالا ہو اس کا ود اسے زن کرک 


ھیاروں ے شا رکرنے کے انام 


متلہ ۲۹۷۴ ۰ اگ عا لوت جگی حیوان کا شکار جتمیاروں کے ذریے سیا جاے 7 پا شرطوں 
کے سا وہ خیوان عال اور ا کا پدئن پگ ہواے۔ 


ا 


ب کہ شکار کا وتیار چھری اور نوا رکی طرح کے والا جو ییزے اور تی رکی رح تیز ہو 
کہ یز ہونے کی وجہ سے موان کے بر نکو چا ک کر دے اور أمر جوان کا مار ہل یا 
گلڑی یا ربا اتی جن ی چیزوں کے ذری کیا جا تو دہ پک یں ہوا اور اس کاکھانا حرام 
ہے اور آر فیوٹن کا شکار ہندوقی سے کیا جاے اور ان سک یگولی اتی جز کہ تہوان کے پرن 
تفر رھ رھ ون نت 
لہ دہ کے ساتچھ مدان کے بدن میں واخل ہو اور اسے مار دے پا ازلی مر ی کی وچہ سے 
اس کا دن جا دے اور اس کے جن کے اٹ سے میوان مرجاے فو وہ ترام ہے۔ 

شک شاری مسلمان ہوۃ چان یا اییا مسلمان نہ ہو جو برے تھے کو تا ہو اور گر کاڈ یا و 
نس جو کافر کے عم میں ہو (شلا لات“ خوارج اور نواصپ حیسائی“ بیودی) " 

شا رکرے نو دہ شکار عدال خمیسں ہے۔ 

شکاری تیر کو شکارکرنے کے لیے استعال کرے اور اکر شا کوئی نی کی نک کو 
نشانہ بنا را ہو اور انفاق“ ایک حیوان مار دے فو وہ میوان پک ٹیس ہے اور اس اکھانا تھی 


عم ے۔ 








توسیتالمسائل : )[ میا 


۴×.۔ جضیار چلات وقت غثاری الد منام نے اور اکر نیین بوج ھکر اللہ تھالی کا غم نہ لے تو 
ار بزول ہیں ہو لن اکر بعول جائے ت دکوئی حرج نیس ہے۔ 

‌..- گر غعاری حیوان کے پاس اس دقت پچیچ جب وہ مرا ہو با گر زندہ ہو ق ذ کرنے 
کے لیت وقتتں نہ ہو یا ز حکرنے کے لیے دقت ہوتے ہوئے دہ اسے وع ککرے خی کہ وہ 
مرجائے تز وہ یوان عزام ہد 

مل ٢۷۷۷‏ اف ر وو اشخاص ایک جوان کا ا رکری اور ان میں سے ایک ملیان اور دوس را کافر 

ہو یا ان روٹیں میں سے ایک اللہ تفالئی کا نام لے اور دوصرا مجان پوج ھکر اللہ تعال کا نام شہ لے تو دہ 

جوان عطزل خی ے۔ ۱ 

مل ۳۷۳ ٠‏ گر ج گے کے بعد یل کے طور پر حیوان پئی می کر جائے اد انسا نکسم ہو 

کہ خرن گے اور لی می سکرنے سے مرا سے تقو وہ حیوان عزال میں ہے بک لک اسان کو ہی عم نہ 

ہوکہ وہ فی تیر گے سے مرا ہے تب بھی وو حیوان علال نی ہے- 

لہ ۳۷۳۴ ٠‏ ا رکوتی فص غصبی کت با غصبی چتمیار سے کسی میوان کا شکارککرے تو 

شکار علزل ے اور خود مشکاری کا مل ہو جاتا سے لان علاوہ اس بات ک کہ اس نے گن کیا ہے اوراے 

چا ےکہ ہعبار یا کت کے اجرت ا کی پل کک دے۔ 


صیتلہ ۳۷۹۷۵۰ ٠‏ گر مگوار بای دوسری کے ساہ جس کے ساتھ کا رکرنا کچ ہو لن شرائ 
کے ساتھ نشی کا ؤک کیا کیا ےکی حیوان کے دو ککڑ ےکر وبے جائیں اور سر او رگردن ایک می میں 
ہیں اور ایان اس ذئت شکاز کے پاس پچ جب ا کی ان لی ہی ہد ق ددفیں مد علال ہیں اد آمر 
حواغ زنزہ وو ٹن انس ز خکرنے کے لیے وقت یہ ہو تب بھی بی عم ہے لان اکر ذ کرنے کے 
لیے وقت ہو کوز خحکن,ہ وکہ حوان چتھ دب زندہ رہے تو وو ححعہ ٹس شل راو رگرون ہوں اگ "سے 
شر کے می نکروہ طریچے کے مطابق زن کیا جاے نو عدال سے ودنہ دہ بھی حرام ے- 


متیلہ ‏ ۳۷۷۴۴ ٠‏ ا رکلڑی یا چھیاکسی دوسری چنز سے جن سے ا رکرنا سجع نہیں ہے کسی میدن 
کے وو کر ےہر و ہے جا یں فز وہ حصہ جس میں مراو رگردن نہ ہوں عرام ہے۔ او اک حیدان زندہ ہو 








١...‏ ہوسیویسعسوئییسریٹیٹییڑڑٹسھڑھھڑ 


توضیح‌الەسائل ( 551 5 


اور ان ہ کہ یتھ ے زرہ ب- اور اے 2 سر شقن طرییق بک ون کیا جا لوم ہے 
نس میں راو رگرون ہوں طال ہے ور وم ے بھی حرام گت 

مل ے۳۹ : جب ئٗی جدان کا شگا رکیاجاۓ یا اسے گیا جاے اور ااں کے پیٹ سے زئرہ 
پچ لے گر اس چے کو شون کے می نکردہ طرییق کے مطلبق ذ کیا جاے نز علول بے ورنہ مرام 


صّل ۲۷۷۸ : کسی مان کا شک کیا جائے پا اسے ون کیا جائے اور اس کے پیٹ سے مردہ کچ 
لہ اکر اس ےکی بناوت مل ہو اود بل ىا ادن اس کے یدن بر اگ ہو ےہول آ وہ کہ پل اور 
عطال بج ۱ 

شکاری کت سے ظا رکرنا 


مستلہ ۲۷۴۸ ۰ مر شیار یکا کی عدا لگوشت وائے ہنی حیدان کا شکا رکرے تر اس مدان کے 

پا ہو اور مژال ہدئے کے 2 1 ریس ہیں۔ 

ام کت اس طرح سدھاا ہوا ہوکہ جب بھی ثار پڑنے کے لیے بییھا جا پا جالے اور 
جب اسے جانےےہ سے دوکا جاے نے رگ جا اور یہ بھی ضردری ہچ کہ ا کی عادت الی 
ب وک جب کک مالک نہ نچ کا رکون ہکھا ےلین اکر اسے شکار کا شون پیے کی عات ہو یا 
انفا ا“ شکار میں سےکھا لے وکوئی حرج خ٠ییں۔‏ 

۴ مس کا ملک اسے شر کے لیے کییجے اور اکر دہ لپن آپ ہی شکار کے مچچہ جائے اور 
سی جوا نق کو شیا رکرے تے اس جوان کاکھاا عرام ہے جگمہ آگ ہکا نے آپ ار کے یچ 
نگ جاۓ اور بعد بیس اس کا ماک باتک لاۓے ناک دہ جلری شکار کک بپیچے ‏ اکرچہ وہ مالک 
کی آوا زکی وجہ سے تجز بھاگے پچ ربھی اقیاط واج ب کی بنا بر اس کا رک وکانے سے اواب 
کا چاہے۔ ۱ 

پک جو فیس كت کو شکار کے چیہ لئے اس کے لیے ضروری ہ ےکر مسلران ہو یا لان 
کا پچ ہو جو برے ج نل کی قیٹر رکتا ہو اور اکر کافریا وہ شنس جو ای اور خمارای اور ناضصی کی 
طرح کافر کے عم میں ہیی ایا مس جو رسول ارم صلی اللہ علیہ ولہ وسلم کے ال بیت 








ي0 ص ےت 


توضیحالحسائل___ے )اتا ا 


نے رشنی کا الما کر ہو کک کو شکار کے ج یہی کی فو اس سیت کاشار عرام ہے۔ 

م.. کت کو ہر کے جیچہ جیجت وتت الد تال کا عیم لے اور لگ جان بوجھ کر اش تعالی کا نام 
نے و و‌ گار عرام ہے اور آکر بھول جائۓے تذکوی رع نیش ہے۔ 

۰ ا رک کے کے کامھے سے جو زشم آئے وہ اس سے مرے ہیں اگ کنا شکار کا گا نٹ 
درے ہا گار دوڑنے ما ڈر جات ےکی وجہ سے مرجائے و علال نی ہے 

۷.. مس مخصس نے ک کو ار کے چیہ یا ہو گر وہ شکار کی گن میدان کے پاں اں 
وت نچ جب وہ مرکا ہو با گر زندہ ہو ق2 اسے زع کرنے کے لیے وت نہ ہو اور مہ ایے 
وت یچ جب اسے ز عکرنے کے لیے وقت ہو لیکن دہ جیوا ن کو زع نککرے ش کہ وہ 
مریاے فو وہ حیوان عطال خی ہے۔ 

میلہ ٭۷۴۳ ۳ ٠‏ جس مس نے کس کو خنارکے چیہ میا ہو آگمر وہ شکار کے پاس اس وت پچ 

جب وہ اسے زی کر سکتا ہو ٹلا مر پچھری ہیالے کی وجہ سے باکسی اور ای بی نت ل کی وجہ سے وت 

گزر جاے اور حیوان مرجائے و وہ عدال ہے لکن گر اس کے پا ڑ یکوگی چزز نہ و اس سے میوان 

کو ز کرنے اور وو مرجاقے فو وہ علال شمین ہوا لکن اس صورت میں ئق کو لگا دے تاکہ وہ ای 

جوا نکو مار ڈائے نو وہ حیوان علال ہو جات ہے۔ 

متیلہ ۲۷۴۲ ٠‏ اگ رکی کت ار کے یہ کیچ جا اور وہ سب م لک رکسی میوان کا شک رکرمیں ل2 

گر وو ہب کے سب ان خرائکو پور اکرتے ہوں جو جیا نک گنی ہیں تذ شکار طال ہے اور آکمر ان میں 

سے ای ککتا بھی ان شرائ کو پ ران ہکرے و گار ام ہے۔ 

سیل ۷۳۴۲ ۷ط ٠‏ اگ رکوئی مس ک دک وکسی حیوان کے دشار کے لیے یییے اور د ہکن اکوئی دسا 

عیوان کا رکرنے فو وہ شکار علال اور پآک ہے اور اکر جس حیوان کے تچہ یہ کیا ہو اسے بجی اور ایک 

اور جوا نکو گی شکا رکر نے تو وہ رووں علال اور پاگ ہیں۔ 


مل ۳٣۳٣‏ : گر چند اشنا مل کر ایک کو شکار کے تہ جھتیں اور ان میں سے ایک کافر 
ہو ما جان بوج ھکر دا کا ام نہ نے تے وہ نار عرام ہے نیز جو کے ار کے چیہ کیج سے ہوں اکر ان 
میس سے ای ک جما اس رح سدرعاا ہوا نہ ہو جیساکہ معلہ میں جاپاتگیا سے نو وہ شکار حرام ہے اور پ 








؛ے“' لے ے ے ٭٭۔ "۔ جو جووسو وس جک وٹ ژو 


توضیحالعسائل ( ا حدید5] 
معلوم نہ ہوک دو شگار مس سکتے سے ہوا ہے۔ 


میلہ ۲۷۷۴۳ : 2 ا رو ھا کر 
حول نہیں سے لین ا رکوئی اس وقت اس خوان کے پاس کچ جا اور وہ ابی زندہ ہو اور الس طریٹے 

کے مطابق جو شرع میں مین ہے اسے ذز کر نے نو روہ عطال ہے۔ 

مچھلی اور یڑ یکاشکار 

مل ۳۷۳۵ ۰ گر چککوں دای مھ لکو پانی میں سے زندہ یڑ لیا جاۓ اور وہ پالٰی سے باہ ھکر مھ 
جائے نز وہ اک سے اور اس کاکھانا علال ہے اور کر وہ پانی میس مرج و پک ہے لین اس کاکھانا 
عرام ہے اور اکر وہ نچیہرے کے ال کے اندرپانی میں مرجائے تو اس کاکھاا حرام ہے اور جس مھلی کے 
کیک نہ ہد وہ حرام ہس 

ستلہ ۲۷۳٣‏ ۰ گر بھلی اہ ل کر پانی سے باہ رآکرے ما پا یکی اراسے باہرپینک دے باپالی ا .-.. + 
جا اور لی شی بر رہ جائے ے مر اس کے مرنے سے پیل ھہکوئی منس اسے شک 2200 

سے باکسی اور زریجے سے کھڑنے فو وہ مرنے کے بعد عطال ہے۔ ٰ 
سنلے ٢۷۴۷‏ جو خس پچھلی کا نا رکرے اس کے لیے ضردری خی ںکہ ملران ہو یا مل یکو 
پڑت وقت خندا کا ام نے لین ىہ ضروری ےک مسلرانع نے اسے کڑتے دیکھا ہو اکسی اور طریق 

سے اسے زی صلرن ک) ین وگیا کہ بی انی سے زند پل کی ہے۔ مود چای کہ ھی کا 

شکا ررنے والا عر ا“ ھ ر کے اسلای اکا مکی خلاف ورزی کر ہو 

مل ٠ ٣۷۰۸‏ زنہ بچھلی کاکھانا جائہ ہے لکن اط داب ہے کہ اسے زندهکھانے سے پرہیز 
کیاجاے۔ 


مل ۲۷۹ : آگر زنہ پل یک بھون لیا جا یا اسے پل کے باہر مرنے سے پچ کردا 
جائے پر ا کاکھاتا جاتز ہے اور بے ےکی ا ےکھانے سے پر زکیا جاۓ۔ 


سیل ۲۷۳۰ : از زنک رک کو و ئک ا 











توضیحالمسائل ) دہ ا 


زہ ہوف ےکی عات می پالم کر جائے تو جھ کڑا پا سے باہر رہ جاے اے کھاتا جائز سے اور اطرابا 
مقب. یہ کہ اس ےکھائنے سے پرنیزکیا جاے۔ 


مل ۲۳۱ : 00000 
بعد عال ہے اور یہ ضروری نی ںکہ اسے کپڑنے ولا مان ہو اور اسے کلڑتے وت الد تھی کا یا 
نے لین کر مرو نڑی کاف ر کے پانقھ میں ہو اور ىہ معلوم زہ ہوکہ اس نے اسے زندہ ڑا تھا یا نہیں ل7 
آلرچہ دہ ک کہ اں نے اسے زندہ پلڑا تھا وہ عرام ے۔ 


ہل ی۲ جس نڑی کے پ بھی تک نہ اگے ہرں اور اڑ نہ تی ہو اں کاکھانا ترام ہد 
یئ گی چینویں کے احکام 


متلہ ۳۷۳۳ ٠‏ یلو مر او رکوت اور لف ش کی چڑیوں کاگوشت عدول ہے۔ یل سار 
(ھنا) ادر ڈول چڑیوں ی کی میں ہیں۔ پگاوڑ مور اور کے کی ملف اتمام اور ہراس پرنرے کا 
گوشت جو شاین“ عقاب اور با زکی طرح ٹن رکتا ہو اور اڑتے وقت پپو لک مار ناکم اور بے ہکرت 
زیادہ رکتا ہو عرام ہے۔ اسی رح ہراس برندرے کاگوشت 7 ۶ ں کا پٹ منگرآدِ اور پاوں کی پشت کا کان 
شہ ہو خرام سے ماسوا اس کے جس کے پارے میں معلوم ہہ وہ وہ اڑتے وقت پرو ںکو مار زیادہ اور ےۓ 
ہک ت کم درکتا ‏ ہکیدکمہ اس صورت مم دد عال ہے اور ئل اور پر کاگوش تکھاغجکرود ہے۔ 


ملہ ۲۰۷۳۴ ُر میوان کے بدنع کے اس جی کو ٹس میس روخ ہو زندہ میوان سے چداکر لیا 
جاے شا زندہ بھیٹرکی چچتی ماگوش ت کی بک مقدار کٹ کی جائے تو وہ جس اور حرام ہے۔ 

مل ٠ ۲١۹۳۵‏ حا لگوشتے حیدانات کے سپکھھ اتزاء بلا اشگال ترام میں او رھ اتا وب کی 
ناپ مام یں اور ان ۲۶م اجزاء کی تیرار پور ے۔ 


الس ُین۔ 
۲ ففہ (افاد) 
۳س ففضرتئل۔ 











توضیحالمسائل اکھد ا 


... فرت(شرئگہ) 

۵ کہ رای ۔ 

رہ مرو جنمییں (فاری میں ) وشول کت ہیں۔ 

یجن ہیں دننلان کے ہیں۔ 

۸ و زج بی میس ہوٹی ہے اود نے کے دن ےکی ش لکی ہوتی سج 
جا ۶م مغزرجھ ریو ھکی پڑی میں ہو ےے۔ 

کے وزرآ صڑھ اڑل ک. رونیں: طرف ہوثی ہیں۔ 


اا یھ 


ئ×.ے تج ی۔ 


۳... ثدہ۔ 
××... گ ھ کاڑمیاہ 

نین ناہرب ہےکہ جن چننوں کا زک رک ایا ہے پرنروں میں ان میں سے خون' فلے“ نے“ کی 
اور شحبشن کے علادہکولی چزوجود خیں رکھتی۔ 
مل ۳۷۳۷ ۰ اونٹ کا شاب پیا علال ہے اور باقی طا لگوشت حیداعات کے یجاب سے اور 
اسی طرح دوسری قرام چڑوں سے جن سے طیدتت نفرتکرے ابقنا بکرن احوط اور اوٹی ہے۔ 
مل ے۳٣٢‏ : می کاکھانا عرام ہے البتہ علا کی خی سے گل وا تن اگل ارمنی کے 
ککرانے مس کوکی حرج میں اور حول شفاء کی رض سے سبداشدداء امام نیشن علیہ السلام کے مزار 
ہار ککی مل نینی ناک فا کی تھوڑی سی مقدار کاکھاا جائز ہے اور تریہ ہ ےکمہ اک خفاکی بچتھ 
مار پلی میں ع لک کی جائے ]کہ دو لئ میں یی پا میں م لکر شتم ہد جائے اود بعد یں اس پلک 
لباجلگک 
مل ۲۷۷۸ : ئک کا پائی اور ین کی عم یر جو منہ میں آجاۓ اس کا لن رام یں ہے 
برا کے نے میں جو خلا لکرتے وقت وانؤں ہک ریوں سے کک ہکوگی اشکال نمی ہے۔ 


مل ۹٭ ۷۳ ؟ کس اڑی چ رکاکرتا رام ہے جو موت کا سبب بے پا نسان کے لیے خت نتصان 








توضیج‌المسائل ۱ _) 558 ا 


ور ہر۔ 


متلہ ۲۹۴۰۹ ؟ تکھوڑےہ چاو رگ ھے کاگوش تکھا نا کمردہ ہے اور اگ رکوکی ٹنیس ان سے وی 
(عیامعت )کرے نو خود وہ حیوان.اور اس کی نل عرام اور لن کا پیشاب اور لیر خُس ہو جاتی ہے اور 
اٹییں شمرسے باہرنے جانا جا اور دوسری جلہ بی دتا چاسچے اور ون کرنے دائے کے لیے مازم ہے 
کہ اس جوا نکی قیت اس کے مال ککو وے اور اگ رکوتی منص حعلا لگوشت دانے حیوان شلا ما یا 
پھیٹر سے موا مص تکرے تو ان جوانوں کا شاب او رگوہر جُس ہو ات ے اور ام کاگوش یکھاتا اور دووے 
پیا جرام ہے اور بی عم ا نکی نسل کے لین ہے اور ای حیوانکو فورا ذ گر کے ططا دیتا ای اور 
جس نے اس کے ساتھھ وٹ کی ہو وہ ا کی شھت اس کے مال کو رے۔ 


مستلہ ۲٢۷۴۷‏ ؟ ار بیٹریابجکری کا رددھ پا یہ سور کا دودت اتی مقرار میس پیج کیہ اس کاگوشت 
اور پڈیاں اس سے قوت حاص لکریں فو خود وہ اور ان کی ضسلیں عام ہو جاتی ہیں اور اکر وو اس سے کم 

. مقدار میں دددت پیئے فو ضردری ہج ےکہ ان کا استرا کیا جاے اور ای کے بعد دہ عطال ہو جاتے ہیں اور 
ان کا استبراء ىہ ری ےکہ سات دن بھیٹریاجکری کے نقھنوں سے دددھ ہیں اور اکر انخیں دور ھک عاجمت <ٴ 
ہو ڈ سمات ون گا سکھانیں اور حجاس کھانے والے مبوان کاگوش تکھانا بھی مم ے اور اگ اس ٢ا‏ 
اسبرا مکیا جائۓ تو عثال ہو جانا ہے اور اس کے استبراء کی غیت میا نکی جا کی ہے۔ 


تہ ۲٣۰۴۳۲‏ : شراب بنا تام سے اور مض اعاویث یں اسے گنا کی ومگرواناگیا ہے اور اکر 
کوئی نس اسے حول تھے تر کافرہے۔ حضرت لام تنفرساوق علیہ السلام سے روایت ہب کہ آپ نے 2 
ڈرایا شراب بدیو ںکی جڑ اورگناہوں کا شع ہے۔ جو مس شراب ہپہیے دہ اپ ”ن لکھو بٹتا سے اور ا 
وقت دا تا یکو نمی پپچات کوئی بھ ینا ہکرنے سے اجناب می کن می فص کا ایام میں ک۳ 
پت قریی رشتہ داروں کے حز قکی رعایت نمی ںک رب تع م کا برال یکرتنے تے بھی منم نیس یرتا اور 
ایان اور مد شنای کی روح اس کے بدن سے گل جائی ہے اور نان حبیٹ رو جو مرا کی رمت 
سے دوہ ہوثی ہے اس کے برن میں رہ اتی ہے۔ خمدل ذرشت“ اخمیا اور مومنین اس پر صن یج ہیں' 
چالیس دن تک ا سکی نما قبول ٹیس ہوتی' قیامت کے دن اس کا چرہ سیاہ ہو گا اور ا ں کی زبانٰ منہ 
سے باہر لی ہوگی ہوگی؟ اس کے منہ کا لمعاب اس کے سنہ کرے گا اود وہ چیا کی فریاد بلند کرت 








ا کیإ۔ ‏ وھ وہ ا و ود موس ڑچ رر رس جو ژست 


توضیح‌المسائل [(8 +55 ا 
گ۴۔ 


مل ۲۷۰۳ : :ۓ جس وسترخوان پر شَتب لی جا ری ہو اگر اس پر ٹچ سے انسان شراب پیے 
والوں مم سے ایک فرد شار نہ بھی ہو فو اس وستزخوان بر بھنا ام ہے اور اس پر چنی ہوئ یکوگی چنکھاا 
بھی بابر اط واعب حرام ہے۔ اور شراب کے لیے اسقعال ہونے وائے بربتوں کا استل بھی هرام 
ے۔ 

مستلہ ۳۷۴ ۰ بر لان بر ونب نی کہ اس کے نزدیک ( اڑدس پڑوس مش ) جب کوئی 
مان پھوک با اس سے مر ہو تو اسے رو اور پالی در ےکر موت سے مات دے۔ 


کھا کھانے کے آواپ 


مسنتیلہ ۵ ۲۹۴ ؟ کا کھھانے کے آواب میں چند چزیں شال یں۔- 

..١‏ کھاکھانے سے پل هہکھانے والا دونوں پاتھ درعوے۔ 

ج- کھا کھا سی کے بعد آپنے ا دو بے اور ردال سے نل گکرے۔ 

۳.. مزین سب سے پل کھانا کھانا ری کرے اور سب کے بع دکھانے سے اق مین اور 
کھانا شرو عکرتنے سے تل میزین سب سے پل پپتقھ وہوۓ اس کے بعد جو مخ ای 
دامیں طرف با ہو ود ہو اور اسی طرح سلسلہ وار پاتھ دجوتے ہیں ج کہ نیت اس 
خصس ک آ جائے جو اس کے پان طرف جیما ہو او رکھاکھا سیک کے بعد جو شنصس میزیان 
کی بامیں طرف با ہو سب سے پطہ وہ پنھ دھوئے اور سی طرح دعوتے لہ میں عق 
کیہ فویمت بن ک تچ جاے۔ 

ا کنا کھاںغے سے پھلہ مہم اللہ سے ین اکر ایک دستر خوان بر کئی مک یکھانے ہوں ت 
نے پہ رای گکھا کھان ےکی ابتدا مکرنے سے پھلے مہم ازند وہنا جب ہے 

۵... کات دائی اھ ہے ےکھائے۔ 

اٹ ٹین یا زیارہ انگیوں ےکھا کھائے اور رو انگیول سے تہ ے۔ 

ے.. گر چند اشاس وسر خوان بر شنھیں تو ہرایک اپ ساضنے ےکھااکھاے۔ 








توضیح‌العسائل ۱ 1 9ئ) 


۸ہ 





پچھو نے چچھوے سے ب ناک رکھائئے۔ 

کھاا ابی طرح چب اک رکھاگے۔ 

رس رخان پ زا بے او رکھائے کوطول وے۔ 

کھا کھا کے کے بعد انشر تی کا شک چا لاے۔ 

نگیو ںکو چا 

کان کھانے کے بعد داتوں میں خلاللکرے اہتہ ران (لشنی خوشبددا رگھاس) کے کہ 
اور کے درخت کے تچتے سے خلال ط ہکرے۔ 

جو مزا رس خوان سے پاہرگر جائۓے اس بجع کرے او رکھا لے لان گر جنگل می ںکھاتا 
کھاۓ و مسب ہ ےکہ جو چم ہگرے اپسے پرندوں اور پانورول کے لی پچھوڑ رے۔ 

ون اور رات کی ابتدام میں کھانا کھائے اور بن کے درمیان میں اور رات کے ورمیان 
میں ھکھائے۔ 

کھا کدانے کے بعد بی کے بل لی اور وایاں پل جامیں پل بر رگا۔ 

کھانا رو عکرتے وقت! او رکھا کے کے بعد نک کے 

لکھانے سے پسله انیس پائی سے دو ئے۔ 


وہ ہافیں جو نزاکھاتے وقت نموم ؤں 


مستلہ ۲۹۴۷ ٠‏ کھاتاکھاتے وقت چند با مر موم ہیں۔ 


مہ 


یٹ پجارے ب رکھانا ھاتا۔ 

بست زیادہ کھاتا اور رولیات میں سے کہ غراانو 0 کے نزدیک بھت زبادہکھاتا سب سے 
بر یز ے۔ 

کنا مکھواتے وقت دو سر ےکی طرف د گنال 

گر مکھا اکھاا۔ 

انان ہو چرکھایا پا رہا ہداس پھوک ارت 

ہرزان رکھانا گ٦‏ چلئے کے بعر سی اور کا خنظرہویل 








توضیچالمسائل_. __ے ۓے (اقید ا 


گا وی تھے سے کانا۔ 

 ...۸‏ رو یکوکھنمے کے مرن کے بئچے کھت 

۹... ڑی سے نی ہو ےکوش تکو بیں صا فکرتاکہ پڑی ب رکوئ یکوشت بائی نہ رہے۔ 

٭..- تل کاھدااارنا۔ 

...ات سمل را کامانے سے پل پھیتک ریتا۔ 

پالی پینے کے آداب 

مل ے٢٦۲‏ : پنینے کے آداب میں چند چیڑریں شائل ہیں۔ 

ا پا چسےک 1ب ہیجے۔ 

۴... ون م سگکھڑے ہوکرپلی ہیے۔ 

×.. پان نے سے پیل لم اللہ اور پینے کے بعد مد لد پڑھے۔ 

-- " "ھ2 

۵ پان خوابل کے مطلق بے 

۹ پا بے کے بعد عرت ابو عپراللد (آام تین) علیہ السلام اور ان کے ال ؛ . 
الام 7 ا کرے اور ان کے تا ول بر تن کی۔ 


وہ اس جو پے کے وقت نہوم ہیں 5 


سنہ ۲۷۴۸ ٠‏ زیادہ بای بنا اور مرف نکھاکھانے کے بعد پیا اور را تک وکھڑرے ہوکر چیا 
نموم ہے علادد یں لی یں پاتھ سے پیا اور سی عم یکو ڑ ےکی ٹوٹ ہوئی چہ سے اور ال تہ سے 
بنا ہما ںکوزے کا دستہ ہو مر موم ہے 


)ے 


نزراور خ نز کے اٴام 


مستلہ ۳۷۷۹ ۰ مبزر سے مادىہ ہے کہ انان اپنے آپ پر واید ب کر کےکہ الد تھا کی 
خوخنودی کے لیے کوگی ابچھا کم کرے گا پاکوئی ایا عم جس کان ہکرنا ممترہو اللہ تعا کی خوشنود ی کی 








توضیم‌المسائل ___ ([-568 ا 
خاط رتر ککردرے گا 
۱ مل ۳۹۵۴ ٠۰‏ نزر کا عیفہ پڑھنا چاجے مود یہ دی خی سکہ عم ہش می بپڑھا جات لا کوتی 
فیس ےک اکر مرا مرییض صحت یاب ہوگیا فو اللہ تع لکی ماطرجھ پر لازم ہ کہ یس دس روبے فقر 
٠‏ کودوں تو ا کی نذر جج ے۔ 
مہ ۲۷۵ ٠‏ نذ رکرنے وائے کے لیے لازم سح کہ بالغ اود عائل ہو اور این اقرار اور مد 
کے ستھ نذ رکرے ہنزاکسی ابیے منص کا نز رکرنا کچ نہیں ضے مجبد رکیا جائے ىا جو جذباتی ہوککر لے 
اقیار نز رکررے۔ 
مستلہ ۲۷۵۳ : کی مفلس شس یا سزیہ انان (جو انا مل بیسودہ کاموں پر صر ف کر ہو) اگمر لا 
وا نز رکر ےک کوئی چیزفقی کو دے گا و ا کی نذر جج ہیں ے۔ 
مل ۵۳ ار شوہرعور تکو نز رکرنے سے دوکے اور عورت کا نز رکو پوراکرنا شور کے 
2 کے منانی ہو نز وہ نز خمی ںکر تی بکلہ اس صورت میں فو شوہ رکی اجازت کے برا کی نذد قزار 
ہی نہ پا ےگی۔ 
سلہ ٢۵٦۲ء‏ اکر عورت شوہ رکی اجازت سے نذ رکرے قے شوہرا کی نزر شع خی ں کر سکتا 
اور یہ ھی اسے نذر پہ مع لکرنے سے روک متا ہے ہلاس کےکہ نذد پپر یکرنا اس پر مل کے ْ 
٠‏ وقت شوہ رکے جن کے منانی ہوکیوکلہ اس صورت میں اگر وہ نز رکو ش مکر کے وھ بعیر ننہیں۔ 
مہ ۲٦۵۵‏ ؟ گ٠ر‏ فرذتھ با پ کی اجانت کے بخیر یا اس کے اجازت سے نز رکرے ٹپ اے 
چا ےکہ اس پر ئگ لکرے جن آگر باپ یا بھی ا سکو اس عمل سے ج کی اس تے مذ دکی ہو مت 
کریں فو ظاہریہ کہ ا کی نذ رکا معدم ہو جائۓگی۔ 
مل ۲۹۵۷٣‏ ۰ انا نکی ای ے کا مکی مز رکر سنا ہے سے انیائم دنا اس کے لیے خکن ہو اڑا 
جھ نس شلا پیل ج لک رکریلا نہ جاکتا ہو اکر وہ نذ کر ےکہ وہل پیدل جائے گا ا کی نذر مج 
ہیں ے۔ و9" 
مل ے۵٦۲‏ : رکوئی شخفس نز رر ےکک ہکوگی عرام یا حھردہ کلم انام دے گا ا کوئی وجب یا 





تب کلم نر ککر دے گان اس کی نذد کچ نی ہد 

متلہ ۴۹۵۸ ١‏ اگ رکوگی شف مز رر ےکک کسی مب کا مکو انام رے گا یا تر ک کر گا اور 
لم 1ر رکم کا بج لانا اور ترک گرا پ رفحاظ سے مماوی ہو قے ا کی نذر تع میں سے اور اکر اں تام کا 
انمجام ریا می فھاظ سے بھھر ہو اور انسانع نذر بھی ای فاظ ےکرے علا ناڈ رکھر ےک ہکوگی ڑا جات گا 
ا ے2 سے قوت عاصل ہو تے ا يکی نذر سخ ہے اور آلھ اس کام کا تر کرای 
یا سے بھتز ہو اور !نمان جذر ھی اسی لھاطا ہے کرس کہ ال کا مکو تر ف کر دے گا شل چو کہ تمراکو 
اتمان رد تک ےکلہ اے اسقول می سکرے گا نا کی نذر جم کڈ 





مہہ ۲۹۵۹ ۰ اگ رکوئی مس من رر ےکہ واجب نماز اڑی مہ بھھ گاچہاں ججانے خود مز 

پچین نا اب زیادہ ٹمیں شا جذر کر ےکہ نما زکھرے میں پڑھے گا ار دا نماز پڑھتا می لاطا رے . 
کر ہو ا چوکہ ہیں ذ زت ہے اس لیے ازان ور قلب قلب پداکر سا ہے لی ضٹوغع نحذورع سے 

خماڑ اوک کنا )تو ا س کی تر ے۔ 2 

لہ ٣۴۷۴‏ آ کی مو سکوئی مل جھا لن نکی ن رکرے تو ان چا ےکہ وہ مل ای طرح 
با لے نس طرح نز گرب فی اگ مز رکر ےکمہ می کی می رو کو صدرقہ دے گا با روز رن گا 
ا مین کی نی مرن کو اول ماہ کی ناز پڑھھے گا ار اس ون سے پل یا بعر میں اس ف کو چا لا تو 
انی میں ہے ای رح اگ رکوئی خفصس نز رر کہ جب اس کا مرییض سحمت یاب دو ہائے گا ق وہ 
صدثہ دے گان امہ اس مریفش کے ححت یاب ہونے سے کہ صدقہ رنے رے کات نمی ہتے۔ 

مستلہ ۲۷۷۱ ٠‏ اگ رکوئی عنس ردزہ رک ےکی نذ رکرے لیکن روزول کا وفت اور تعدار “مجن 
ھرے فو اگ أِک روڑو رھ کھنی سے اور اکر نمماز پڑھنے کی نز رکر کے اور نماڑوں کی مقار اور 
خصوویات مین دہ کرے ق اگر ایک دو رک نماز بڑھ لے ت3 کانی ہے۔ اور آلر ظط کر ےک صوقہ 
دے گا اور صدب ڈ کی جس اور مقدار تین نہ کرے ق اگ اڑی نز وٹ کہ لونک کہیں کہ اس نے 
صدقہ دا ہے فو زاس لے اپئی نز کے مطابق ئ لکر دیا ہے اور اگھز نذ کر ےل ہکوئی کم اڈ تال گی 
خوشنوری کے .لیے ہیا لئے گان اکر ایک نماز پڑھ لے یا ایگ روزہ رکہ لے اکائی چراطور صرتہ رے 


و نے آو ایی نے ای نذ رکاپ راکریا بب 





-0002‌جئ_مم2یپ۹9٭ٌس-سسسٗوجٗوحسمسمعمت 








توضیمالمسائل ۱ 562ا 


متلہ ۲۷۴۷۴۳ .۰ رکوئی مخ مز رکھرےکہ ایک مین د نکو روزہ رکھے گا تو اسے چا کہ ای 
وین روزہ رکھے اور اکر مان بو ھکر روزہ نہ تھے نو اسے چا ےکہ اس ون کے روزے کی ضا کے علاود 
کفارہ بھی ہے اور اظمری ہم ےکہ اس کاکفادہ تم کی عزاللکرنے تاکفارہ ہے جعیس اہ بعد میں بیا نکیا 
ہہ جانے گا اں اسی دن دہ انار ب کر متا ےککہ صسافر تکرے اوز روز شہ کے اور مر سفر میں ہو تب 
ٰ ضر ذری خی ںکہ اقامت کا قص رکر کے روزہ کے اور اس صورت میں ج ب کہ سط رکی وج سے یاسی 
دوسرے عار ملا بیاری ما خی کی وجہ سے روزہ نہ و کے و ضروری ہ ےکہ روز ےکی ققامرے۔ 
ستلہ ٠ ۳۷۷۳٣۴‏ مر انان اقیاری طور بر انی نذر بر عل نہ کرے ت اسے چا کہ کفارہ 
رے۔ 
مستلہ ۳٣۴۳۷۴‏ : اگ رکوئی حخص یں مین وت ک ککوئی عل تر ککرن ےکی نذ رکرے تو ات 
چا کہ ٦ں‏ آوقت سک ےگزرنے کے بعد اس عم لکو جا لا سنا ہے اور اھر اس وقت کے گزرتے سے 
پیل بھو لکر یا ہہ ام رجیوری اس عم لکو انام رے و اس پر بچھھ ودب خمییں ہے لین پچ ربھی لازم ہے 
کد وو وق آنے تک ان عھ ل کو جا نہ لا اور مر اس وقت کے آنے سے پل بط رطزر کے ا 
لیکو دوپارہ انام رے تو چا ۓک ہکقارہ رے- 
مستلہ ۲۷۹۷۴۵ : جس حخفصس نے کوئی عمل ر کفکرن کی غخذرکی ہو اور اس کے لی کوئی وقت 
معین نکیا ہو اکر وہ پھو لکر یا بہ ام ربجبوری ما فحفل ت کی وجہ سے اس گل یکو انام رے تو اس بر کفارہ 
واب میں سے لگن اس کے بعد جب بھی بہ عاات انقیار اس عم ل کو ہیا لاۓ اسے چا کہ کغارہ 
رے۔ تب 2 
متلہ ۲۷۷۴۴ ؟ اگ رکوئی منص نز رکرےکہ ہریت ایک مین دن کا لا بت کا روزہ رکے گا 
مر ایک مض کے رن عید فطریا عید قیان پٹ جائے ما بقع کے دن اسےکوئی اور عذر شلا سخریا یش 
لاق ہو جاۓ ڑا سے چا کہ اس دن روزة ضر ر کے او اس کی قضا یا لاۓ۔ 


منلہ ٠۰٢۷۷۴‏ اگ ھکوٹی م١س‏ نذ رر ےکہ ایک مین مقار میں صدقہ رے گان آر وو صدتہ 


وسینے سے پل مرجاے فو اس کے مال میں سے انی مقدار میں صدقہ دینا ضردری شی ہے اور مرن 





حح<تہّ5.۹1*9.2×عەضںضصصسےسٍٍِِ۰“٣”ِ(‫إ‫ک‫ِ‏ ُ ھ ھچ آڑزا'ں؛یتتت- 





سن ا بت 2 ورماء ضراث مل ے آپتنے ات ہے اگ میرار سیت گی طرف سے ٹور رد 
سے نیںی۔ 

تل9 ۳۷۳۴۷۸ ٠‏ ہر کوئی نس ہز رکرے کہ ایک مین فق رکو صدتہ رے ان ور دوضرت 
اق کہ نہیں رے متا اور آلر وہ مین کردہ فقی مر بانۓ نو بنابر اتقاط اس شن یکو چا کہ صرق نل 
کے و رما کر رے۔ 

مستلہ ۴۷۷۴۹ 2 آل رکائی غخس جزرکرے ات میم السلام میں سے کسی ایک کی ملا حخرت الی 
خبداد ام تین علیہ السلام کی نات ہے انی ال وی و رن لا مکی ذیارت کے سا 
جات لو ہے فلی نہیں سے اور کر کی عذ گی وج سے ان اما مکی زیارت تہ کرے ن ال پر ہُو بی 
واجب نہیں ےے۔ 

مل ھا اہ و مس نے زیاد تکی نذر کی ہ٭ جن مل زیارت اور اس گی نما گی نذر 
نکی ہو اس کے لیے انیس بالات ضردری ٹنیس ہے۔ 





مستلہ ٣۷۱‏ رکوئی شن کسی ام علیہ السلام یا لمام زارے کے عرم کے ملین کسی ما لکی مذر 
کر ے فو اسے چان کہ اس ما لکواں ض مکی عرمصت اور روش اور فرش ویپ عر فکرہے۔ 
مہ۲۷۷ ٠‏ اگ رکوئی مخ س کی لام علیہ السا مکی ذات کے لیے کوتی جن جز کر نو لگ رکسی 
مین مصر فک می کی ہو ف چا سی کہ اچ زکو ای معرف میں لاۓ اور گر بی ملین مر کی 
نیت نہ گی ہو ق تبیہ س کہ اے کھت ا سا ا کے 
کو درے دے پا - كاغ 2 کو ہے مصارف لا ہزات دید ی تقر کرے اور آ رکاتی چڑ کی لم 
ڑاے گے 7 نز رککرے تب بھی بی عم ہے۔ 

سیل ٠۱ے‏ ۷۷ ؛ جس بھوٹ کہ صدق کے لفے ای ایک امام کے لیے مذ رکیا جائۓ اکر وو نر کے 
کربت میں لائے جاتے سے پش دوڑھ درے یا کہ پیہ جے نو وہ (شنی دودھ ما بچ) اس کا ال سے بس کت 
اس بھی رک نز رکیا ہو لن بیڑکی ان ادج مقدار می وہ فریہ ہو جائے ند رکا تزو ہیں۔ 


مل ۶۳٦۲ء‏ جب کاکی لس کا ملظ تنررست ہو جائے یا انں کا مرا ۰ 
۱٠ ۱‏ 1 ب 1 








توضیم‌المسائل )541ا 


والپیں آجاۓ نو وہ فلاں کا مکرے گا نز اگر پت ل کہ فذ رکرتے سے لہ می جفدرست ہ وکیا تھا یا 
سافر وا آگیا اق پھرنزرپہ ‏ لکرنا ضردری شمیں۔ 

مل ۵ء۷٢‏ : آلھ پاپ یا بھی نذ دکری ںکہ انی جن کی شادی سید سے کریں قذ لغ ہوتے کے 
بعد لڑکی اس بارے میں خود مقار ہے اور وامدی نکی نذ رک یکوئی ایت تیں۔ 

منلہ ے۹٢ ٠‏ ج بکوئی مخنس اللہ تال سے عو رر ےکہ جب ا لک یکوئی “تین شی عبت 
پری ہو جال گی نے فلاں اپچھاکام انجام رے گا جب ا کی عاحت پوری ہو جاۓ اسعا چا ۓکہ وہ 
کام اخجام درے اور اسی طرح اکر د ھکوئی عادت نہ ہوتے ہوئے عم کر ےککہ فلاں اتچھا کام انام وے گا 
و کا مکرنااں پ> واجب ہو چا ے۔ 

مستلہ ے۳۴ ٠‏ عمد مس بھی نذ رکی طرح عیفہ پڑھنا ضروری ہے اور منمور ہے سے کہ کوگی 
مس جس ام کے انام ری کا عی رکرے اسے ما فو واجب اور جب نما کی لح عبایت ہو جائکے یا 
ایا کام ہو جس کا اخجام وینا اس کے تر ککرنے سے بھترہھ لنشن اط واج ب کی بنا بر اس صورت مل 
چ پکہ بس کا م کا ع رکیا ہو وہ شر ما وائل تیاد ز0 اں کا مکو انجام دے۔ 

مل ۷۷۸ : اگ رکوئی مخص اپنے عمد پر عمل نہکرے ت اسے پاپ ےک کفارد دے لڑٹنی سال 
قرو ںکوکھناکھلاۓ پا دو میننے مسلسل روڑے رکے یا ایک ظظام آزا دکرے۔ 


کھانے 2 اصام 


مہ ۹ے۹٢۲‏ : ج بکوئی عخس ت مکھا کہ فلیں کام اخجام رے گا با تر ککرے ما مل تم 
کھا کہ روزہ ر کے گا یا راو استعال نی ںکرے ما نز اکر بعد میں جان بوجچ کر اس ضحم کے غلاف 
گل کرے ز اسے چا کہ کفارہ درے شی ایک غلام آزا رکرے یا دس نغیرو ںکو ببیٹ بجھ رک رکھانا 
کلاۓے یا یس قرو ں کو شاک پہنائۓے اور ار ان اعا لکو ہا نہ لا کنا ہو اسے جات نےکہ من رن 
ون اور ہے گی مور ےکہ روزے پے در رھ جائیں۔ 


مقر ۲۷۸۴ : تی چند شرانطیں۔ 











توضیالمسائل_ إ1 565 _ 


ات جو خخس تم کا اۓ اس کے لیے ضروری ےک بالنم اور عائل جو اور ارارے کے ساتھ 
ت مکھاے ہیں ہے یا دیہان پا مصت پا ار مخص کا مکھانا ‏ بیو رکر د گیا ہو درست 
میں ہے اود آ رک نس جڑذہاتی ہون ےکی عالت میں بارارہ 0+007 سے لیے 
بھی بھی عم سج 

+ےے حش مکھافے والاضص کس کے انام دی کی تم کھائے دہ عرام نمیں ہونا چا نے اود نس 
عم کے تن ککرن ےکی ش مکھائے وہ وادب نمی ہونا جاچے۔ 

حم م کھانے والالف لق کے جاموں میں سے کسی ایے عم کی تم کھانے جو ١‏ 
مرس تی کے سوا سی کے لیے اتال نے ہو ہو لا ندرا اور ایڈد اور اگ 7۶2 1 
کھاۓے جو اللہ تزالی کے علاوہ کسی اور کے لیے بھی استعل ہوت ہو لان اللہ تعالی کے 
ام کک وی وچ جو وی 
نی زین میں آکتی ہو شلاکوئی خلق اور راز قکی ت مکھائے تو مم جج سے لہ ا قاط واینب 
ےکہ مر یہ صورت نہ ہو تب بھی تم بر عم لکیا جاے۔ 

×۳ مت مکھوفے والا تم کے لفاط زین پر لے بنا ار ش م کو کیہ یا دل میں اس کا قد 
برے بر تم جج میں سے لین اگ رگوڈا خخنس اشارے سے تم کھائے فی ہد 

کت کے رے سے لیے تم بر مگ لکر مین ہو اور اکر ت مکھانے کے وقت اس کے 
ہس بر عح ل کر ممکن ہو لیکن بعد می ماب ہو جائۓ تو جس وقت سے عائبے ہو گا ای 
وق سے س کی تم بل ہو جا ۓگی اور اکر ند با شم جا عید بے حم لککرنے سے ات 
مشقت اٹالی بڑرے جو ا یکی برواشت سے پاپ ہو قے اس صورت میں بھی بی عم ےد 

متلہ ۲۷۸۳ ٠‏ اف جب فرزن ھکو یا شوہر وو یکو تم کھانے سے موک تو ا نکی مم حجچ میں 


ہے۔ 


ج2 : 


تہ 


مہ ۲۷۸۳ : اک فزند اپ کی اجازت کے بی را بیدی شو ری اجازت کے پیش مال ےر 
پاپ اور شوہ ران کی نتم ٹن کر یھ ہیں جگکہ ظاہرریہ ہب ےکہ باپ یا شوہ رکی اجازت کے مہ را نکی“ 1 
منعقق ہی تی ہولی اور آتاکی فبت سے فلام او رکنی رکے لی بچی عم ہہے۔ 


مل ۲٦۷۸۳۷‏ : مر انان بحو لکر یا مجیور یکی وجہ سے یا غمفل تکی بنا بر مم بر عصل نکرے تو 








توضیر‌المسائل ا سا 


انس پکفازہ داب شمیں ہے اور کر اسے مججو رکیا جا ۓکہ شمم پ مل نہ کرے حب بھی بی تم ہے 
اور آر وسوای مس لت مکھائے شلا ہے سے کہ واہ میں ای نماز میں مشقول ہو ہوں اور وسوا ں کی 
وچ سے مشخول ند ہز نز اگر اس کا وسواس ایا ہ کہ ا ںکی وجہ ےا مبور ہوک تم بر عحل نہ کرے ت 
اس کفادہ خیں ے۔ 

ضیل_ ٣۷۸۴‏ :. اگ رکوئی منص مت حم کھائ کہ میں جھکمہ ربا ہوں پ کہ ربا ہوں نو ار وو کچ 
کصہ رہ ہو بے اس کا تم کھاا روہ ہے اور گر بھوٹ بول رہ ہو پو حرام ہے او رکیبرہ عمناہوں میں سے 
ہے مین آگکر وہ اپے آ پک یائصسی دوسرے ملا نکوکی خالم کے مر سے مجات ولانے کے لیے 
جعونی تم کھائے قباس می ںکوئی حرع + یس بللہ بض اوقت اڑسی عم کھاا واحب ہو جا ہے پآ ہم گر 
من ہ کہ ری ٹکرے لچنی ‏ مکھاتے وقت اس طرح نی تکر ےک بھوٹ گی نہ ہو تو ھعطریہ ےک 
تورم ککرسے لا آآ رکوئی ا مس یکو ازیت دنا جاہے او رکسی دوسرے مخس سے پ چڑھے کہ کیا تم نے 
فلاں شخ سکو دیھا ہے ؟ اور اس نے اس مس کو ایک مخنہ پل دیکھا ہو نے وہ کہ میں نے اے 
میں دیکھا اور قصد یکر ےکہ اس ات سے پا نٹ چچھ میں 000٦‏ 


: ولف کے احکام 


منتلہ ۲۷۸۵ ۰ اگ رکوئی مخ س کسی ہچ زکر وق ف کر دتے تق وہ ا ں کی گیت سے خارع ہو جاتی 
ہے اور وہ خودیا دوسرے لوگ شی وہ کسی دو سر ےکو بنش جک ہیں اور نہ ہی اسے پچ نت ہیں 
اور نہ کوئی شنفصس اس میں سے کچھ بطور میراٹ لے سکتا ہے لن بس صوروں میس ہن کا رک رکیاگیا 
ہے اسے یچ مہ ںکوکی حرح میں۔ 


مل ۲۷۸۷ ء بی ضردری می ںکہ وفف کا صیفہ علی میں پڑھا جانے کہ عثال کے طور یھر 
گوئی شف جےکہ میں نے اپنا عکان وق فکر دیا ہے اور وہ نس جس کے لی مکان وق فکیاہو پا اس 
کا دی یا بن کا دلی کم د ےکہ می نے قو لکیانذ وقف کچ ہے بکلہ عمل سے بھی وقف عابت ہو 
جانا ہے شل آگ ہکوئی خخفصس وف فکی نیت سے جمائی سد می ڈال دے یا سد بنان ےکی نیت ےکوئی 
کہ تق ررے اور اسے نمازیوں کے اخقیار می دے تر ولف ہابت ہو جائۓ گا اور موتوفات وا شا 











توسوالسائل_۔_ے وڑے لی تا 


0 0ر یں جو عاسم لوکوں کے لیے وف کی جاییں یا شا فقراء اور ارات کے لیے وتف 
کی جس ان کے وف کے بجٌچ ہونے کے لی کسی کا قبو لکرنا ضروری نیس ہے۔ 


مل ے۲۷۸ ؛ اگ رکوئی مخس دن ی کسی چ کو وق فکرنے کے لیے صلی ن ککرے اور میف وقف 
من سے پل چنا ا مرجاۓے فو وقف تو پڑم نی ہو 


مستلہ ۲۹۸۸ ۰ جو ٹن سکوئی مال وق نب کرے اسے چا کہ صیفہ نے کے وقت سے اس مال 
کہ یہ کے لیے وق فف کر درے اور شال کے طور بر گر وہ ک کہ ہہ مال میرے مر نے کے جد ولف ہو 
گا جو مہ وہ مال مضہ پڑ سے سے وقت سے ا کے مرنے کے وق تک وتف میں راس یت وف 
سح خیں ے اور اگر ک کہ وہ بل دس سال تک وقف رہ گا اور بچھرونف میں ہوگا یا یہ کک گہ ہہ 
مکی دس سال کے لیے وقف ہو گ ریچ سال کے لیے وقف نمی ہوا اور پھر دوپارہ ولف ہو جاے گا 
ار او و 

لہ ۲۹۸۴ ۰ وقف اس سورت میں کیچ سے جب وق فکرتنے وال وقلف کا مال اس ففمس کے 
تصرف می رے دے ژس کے لے دہ وق فکیاگیا ہو یا اس کے لویل یا وی کے تشرف میں رے دے 
نان ال رکوئی مخ س کون پیزاپنے :با بوں کے لیے وق فکرے اور اس نیت سےکہ وق فگردہ ران 
کی کی ہو جاۓ لو کی طرف ہے ا کی گیدار یکرے تو وف گی ےہ 

مل ۴٦۹۹۴‏ : ظاہریہ سے کہ عام اوقاف شا پدرسوں اور ساجد رئیو مش ّض شرط ٠ہیں‏ سے 
لہ صرف وق فکرنے سے می ان کا وتف ہونا مابت ہو جا ہے۔ 

متلہ )۳۷۵ ؟ ضردری بےکہ وق فکرنے وانا پالغ اور عاقل ہو اور قصد اور انار رگتا ہو اور 
شرما“ اپنے مال میں تصر فکر متا ہو نذا گر سنہ (یشنی وہ شخص جو اپنا مل بیسودو کاموں میں صرف کر 
ہی کوئی پچ وق فکرے تو پوت وہ پے مل میں تر فکرنے کاخ میں رکھتا اس لیے اس کاکیا ہوا 
ونف یج میں ے۔ 


مستلہ ۳۷۴۳۴ .ا ری شخس کسی ما لکو ابی ہے کے لین وف فکمرے جو میں کے چویٹ یں ہھ 
اور ای چیا نہ ہوا ہو قز اس وف کا جج ہنا کل اشول ہے اورلازم ہے کہ انقاط تو بھی جاے 





توضیحالمسائل )[ ھ5ا 


ین آ رکوئی نال نیے لوگیں کے لیے وق ف کیا جاۓ جو پلفتل موجود نہوں اور ان کے بعد ان لوگوں 
کے لیے وق فکیا جاے جو بعد میں پیا ہوں نز امرچہ وقف کے عق ہونے کے وفقت وہ ناں کے پیک 
یس بھی عہ ہیں دہ وقف کیج ہے (شلاکوئی ن سکوئی چیزاپی اولاد کے لیے وق فکرے اور ان کے پور 
اولا مکی اولاد کے لیے وق کر دے اور اومار کے پ رگروہ کے حر آےے وا گروہ اں ولف ے اتقاوہ 
کرے و وتف جج ے)۔ 

مستلہ ۲۹۹۳ : ا رکوئی خی می کو اپنے آپ پر وق فکرے لا کوئی دکان وق ف کر رے 
مہ اس کی آمدلی اس کے مرنے کے بعد اس کے مقبرے پر خر کی جائے نیہ وقف تج میں سے 
جن ثول کے طور پر دہ کوئی مال فقراء کے لیے وق ف کر دے اور خور بھی فقیر ہو چائے نز وتقف کے 
مانع سے استفاردکر سکنا ہے۔ 


مسنتلہ ۲۷۹۷۴ ۰ جو کی من نے وف فک ہو اکر وہ اس کا متول بھی مین کر رے پر متول یکو 
چا کہ وا فکی بدرایات کے مطابق عم لکرے اور اکر واحف متوی مین نہکرے اور مال مخقصوص 
افاد بر لا انی اولاد یر و فکیا ہو قر وہ افراد عقار ہیں اور اکر دہ لغ شہ ہوں و مرا ن کا و مقار ے اور 
وقف سے استفاوہکرنے کے لیے حاکم شر عکی اعجازت ضروری خھیں۔ 

متلہ ۲۷۹۵ ۰ مر شژل کے طور ب رکوکی ھن لی ما یکو نقراء یا ماوات پر و کرے یا اس 
مقصید سے وفیف کر ےکہ اس مال کا منالحع اور خیرات صر فکرے فو اس بصورت میں ج ب کہ اس 
وقف کے .لیے اس نے متوی مین نکیا ہو اس کا انقیار عاکم شر کو ہے۔ 


متلہ ۳۷۹۷ ٠‏ اگ رکوئی مخ س کی للا فکو خصوص افراد پر خلا اپی ادلا پر وق فکرے "کہ ہر 

ایک بے کے بعد دومرا طبقہ اس سے اتتفاوکرے قر اکر وقف کا متولی اس مل یکاکراے پر رے رے 
اور ای کے بعد ھرجائے قے اچارہ پیل نی ہوا لین اکر اس الاک کاکوئی متول خہ ہو اور جن لویں پر 
وہ للاک وتف بوئی ہے ان شش سے ایک طقہ ا ےکراے پر رے دے اور ارہ کی برت کے ووران 
می وہ طلبقہ مرجائے اور جو طبقہ اس کے بعد ہو وہ اس اجار ےکی تصمدلق نہ ککرے تر اجارہ پاطل ہو 
جائے گا اور اس صورت میں ج بک متاجھ ے اجار ےکی بوری حدت کاکرایہ اکر رکھا ہو ھرنے 
دالے ٹچ کی موت کے وقت سے اجار ہکی برت کے ات کک کاکرایہ اس طبق (یٹنی مرنے وانے 








توضیمالمسائل ۱ إ(ا ویج ] 


مستلہ ے۲۹۹ ؛: مر وت فکردہ الاک خراب بھی ہو جائے ق اس کے وق فکی حثیت میں بدلتی 
ہراس صورت ک ےکہ وق فکرنے والے ن ےکوئی چ کسی خاص مقر کے لیے ون ف کی ہو اور وہ 
متقصبد فوت ہو جائۓ ش کسی ہنس ن ےکوئی باغ سر کے لیے وق کیا ہو نذ گر دہ باغ خراب ہو جائے تو 
ولف پاظل ہو چاۓ گا اور وق فکردہ مال واقف کے وازٹو ںکی گلیت ہو جاۓ گال 

مل ۲۷۹۸ : ا ری ملا کفکی بھھ مظرار وتف ہو اور پچھے مقرار وف ئہ ہو اور وہ لاگ 
تقیم نکی گی ہو نز عاکم شرع ما وقف کا موب با خ رلوگوں کی رائے کے مطابق وقف شدہ حصہ چداگر 
کاے۔ 

مستلہ ۲۹۹۹ ؟ مر وقف کا مولی خیان تکرے اور اس کا منانع مین مصارف می نہ لائے قے عم 
شرع اس کے ساتقہ کسی این شپ سکو لگا رے کہ وہ متو یکو ضیالت سے روکے اور مر ہے کن تہ ہو 
فو عاکم شرع اہ ںکی تج ہکوئی دیاخترار موی مقر رکر سکتا ہے۔ 

مل *+ہ ے٢‏ ؟ جو فرش مام باڑہ کے لیے وق کیاگیا ہو اے نماز بے حنے کے لیے سید میں نہیں : 
نے جیا جا سنا ہے خواہ وہ مسج مام باڑے کے قریب بی کیول تہ ہو۔ 

مل ا م٢ ٠‏ ا رکوئی الاک کی ور کے مت کے لیے وق ف کی جائۓے ے اگر اس مس رکو 
رص ت کی ضرورت نہ ہو اور اس جا ت کی نع بھی شہ ہوکہ یھ عسے کک اے ہہت کی ضرورت 
با لات ان ئ ‏ اوا ك جرت ا شزت ۸ 


مستلہ ٢‏ ے٢‏ ۔ ن۰ رکوئی مخ سکئی اعلاک ون فکرے لہ ا ںکی آعدلی مصچ کی ہمت پر خر 
کی جائے اور امام جماع کو اور سد کے موز ن کو وئی چائۓ اور ای صورت میں ج بکہ عم ہو یا 
اٹمینان ہوکہ اس مخصس نے ہرایک کے لیے کی مقدار ممی نکی ہے ت آمدنی ا سکی مطابق خر کم 
چایئے اور لہ اس پارت. میں شقین یا المینان نہ ہو تو پل مسو رکی مرس تکرالی چان اور پچ راک رھ یچ 
اسے لام جماعت اور موزن کے ورمیان برای برابر تقسی کر وتتا چایے اور نتر ہے سے کہ ہے روول 
انخانس تیم کے متعلق ایک دوسرے سے مصرالص تک رلیں۔ 








توضیم‌المسائل _.( 578 ا 


وت کے ادکام 


سیل ۳۹ے : وصنت سے وا بی ےکہ انان ال دکرےکہ یں کے نے کے بعد ای 
کے لی فلاں ملیں کام سراغجام دپے جامیں یا یہ کےہکمہ اں کے مرنے کے بعد ای کے مال میں سے 
و کی من کات وی جا کن سے ےکر جک سے 
دی جائۓ یا خرات کے طور پر اور امود تیرب صر ف کی جائنے یا اپی اولاد کے لیے اور جو لوگ اس گی 
یس میں ہوں ان کے لی ھکس یکو گگراں اود ھریرست مقر رکرے اور نس شس کو وعید کی جاے 
اسے وص کت ہیں۔ 

متلہہ ۰۴ے٢‏ ۰ ہو خی پول نر کت ہو ( لت یگوڑا ریو ہو یا بوج نقاہت یہ بول سکیا ہو) اکر وو 
اشارے سے انا مقصد ھا درے تو دہ ہ رکام کے لیے وعیہ کر سا ہے لہ جو شخصس ول نک ہو اھر 
دہ بھی اسی طرح اشارے سے وی ت کر ےکہ اس کا مقصد مہ میں آجاے تر ومیت جج ہے۔ 
مل ۵٢٠۸م‏ ای رن مل جائے ہنس ء عؤے وا لے کے رط یا مرخ ہو تو اگر ای 
تر سے اس کا متصد مھ ہیں آجاے اور پن تل جا ےک بین انل نے وص ت کی خرض سے کسی 
ہے زاس کے مطابق عم لکرن چاہچے۔ 

مل ۹۹ے٢‏ : جو خیش ری تکرے اس کے لیے ضروری ہ ےکہ عائل ہو اور اپنے انقیار ے 
ومیم تکرے اور دی سال کی عھرکے پچ کا پنے ارعام کے لیے وصی تکرنا جائت: ہے اور وعیت کے 
نفاز کے لیے سنہ کا انقپار ہونا کل اتال جے اور اعقیاط واہدب ہے ہب ےکہ ال کی وحیت بر مل ترک ر 
بابش 


مل ے١۴ے‏ : جس محخفصس نے شیل کے طور حر اپنے آ پکو زش یکر نیا ہو یا زہ رکھالیا ہو 
سکی وجہ سے اس کے مرنے کا لقن یا گمان پیرا ہو چا نے اکر وہ وی ت کر ے لہ اس کے مم لک یھ 
مقدا ری مخصوص معرف میں لائی جائے قز ا کی ومیت ٠‏ درصت میں ے۔ 

مل ۸ أ رکوئی خخصس وعیست کر ےکہ ا ںکی الک میں سے کوئی ج کسی دوصرے کا 








ترفیوالسائل ہے سے . -.5232.1_!۔ 


انی ہو گی فو اس صورت میں ج بکہ وہ شخص اس وعید کو قو یکر نے ٹوا اس کا تو لکرنا وعیت 
گرئے وا گی زلدگی میں بیکیوں نہ ہو دہ چ مو یکی موت کے بعد ا کی لیت ہوگی۔ 


متلہ ۸۹ے ۷ ٠‏ جب انان اپنے آپ می مو کی نظائیال دکہہ لے تر اسے این کہ وگوں کی 
امانتیں فورا ان کے کو ںکو والی کر دے یا اض اطلارع رے رے اور آگر وہ لوگوں کا مقروض ہو اور 
تقر ےکی اوائگی کا وئت آگیا ہو تق قرضہ اداکر رے اور اکر وہ خوو تقرضہ اداکرنے کے تقائل نہ ہو یا ای 
قر نکی ارائگی کا وت نہ آیا ہو تو اسے چان کہ وی تکرے اور وعییت پگواو مقر رکرمے البطہ آئر 
اس کے ققرنے کے پارے میں معلوم ہو تو وصییس تکرنا ضروزی میں 

لہ ۱۴ے٢۲:‏ جو عنفس آپنے آپ میں مو تکی نشانیاں دکھ رہا ہو گر مس زکوقۃ اور ما م اس 
کے ذنے ہوں تو اسے چا کہ فورا اداکرے اور آگر اوا ن ہککرے گے مین اس کے پاس مال ہو یا اس 
ات کا اشال ہوک ہکوئی دو مرا نیس ىہ یں اد اکر دے گا اسے چا ےکہ ریت کرے اور اگ اس پر 
واجپ ہوقز اس کے لیے بھی بی عم ہے۔ 

متلہ اضے٣ ٠‏ جو مخصس اپنے آپ میس ٭و تکی نظائیال دکچھ را مو آکر ا کی نمازی اور روڑے ' 
تضا ہوئے ہوں ار اسے جا ےکہ وحیع تر ےکہ اس کے مل سے ان عبلدات کی ادائگی کے لیے کسی 
ابق جتایا جاتے لہ اکر اس کے پاس مال نہ بھی ہو گن اس بات کا ال ہ وھک کوئی مخ بلامحاوضہ 
سھ عبارات انجام دے دے گا تق پچ ربھی اس بر وجب ہ ےک" وص٥‏ تکرے اور گر اس کی نمازول اور 
روزو ں کی قفا اس کے بڑے ے پر واہجب ہو (جعیساکہ نماز قفا کے جاب میں پلتحیل جایاگیا ے) ت 
اسسے چا ہچ کہ بڑے بی کو اطلار] رے با وید تکرےکہ وہ یہ عبارات اس کے لیے با لائے۔ 


مہ ٢۱٢‏ : ہٹس اپنے آپ می مو ت کی نشائیاں دکچہ رہ ہو اکر اس کا می کسی کے پا ہو 
با می تہ چھپا ہو نس کا ورما کو معلم نہ ہو تر اکر لا عل ی کی وجہ سے لن کا (یچنی ورغاء ک) من تلف 
ہوا ہو تر اس چا کہ اشمیں اطلاع دے اور ہہ ضروری شی ںکہ وہ اپنے تال بوں کے لیے گھران 
اور صریر سی مقر کر لان اس صورت میں جج پکہ گگراں کے بی ان کا بل "لف ہو ہو یا دو شور 
ضائع ہوتے ہوں اسے چا ےکہ ان کے لیے لیک این گران مقر رکرے۔ 


مسنلہر ے٢‏ ن: رص کو عائل ہونا چان اور احوط ہہ ےک پان بھی ہو اور ضردری ے کہ 








توضیالمسائل ۰ ئوک 


ملین کا وصی بھی مسلران ہو اور جو امور موصی کے ساتہ تلق نہ رت ہوں ذبوری ہ ےکہ وصی ان 
کے لیے تال انان ہو۔ 

سیل ۳مے ٠: ٢‏ ن۰ رکوئی منص اپ کی وصی می نکرے نے اکر اس نے اجازت دی ہ وکہ لن 
می سے ہرایک تھا وبیت پر گل ل کر سکتا سے فو ضرورنں نمی ں کہ وہ وعیت انام دسینے میں ایک 
دوسرے سے اجازت لیس اور اکر وی تکرنے والے نے ای یکوئی اجازت تہ دی ہو فو خواہ اس نے کما 
ہوکہ دوفوں مل کر وعیت بر عم لکریں ما ایما نہ کھا ہو انیں چا ے کہ ایک دوسرے کی رائے کے 
مطابق وحیت بر گم ل کر اور مر وو مل کر ویت برع لکرنے پر تیار نہ ہوں نز عاکم شرع انی اییا 
کرنے بر و رکر سکتا ہے اور اکر وہ اکم شر کا عم نہ ابھیں فو دہ ان میں سے ای فکی مگ ہکوئی اور 
وصی مقر رکر سکتا ہے۔ 


می ۵ا٢ ٠‏ اگ رکوئی نس انی وعیت سے خرف ہو جائے شلا لہ دہ ہی کہ اس کے 
.ال کا تیر حصہ فلاں نف ںکو دا جا اور بعد مس ےک اسے نہ دا جاے ق وصمیت پٹل ہو جاتی سب 
اور اگ رکوئی شخیس اپپی وعیت میں تبدٹ یکر وے شلام ہکہ چنلہ ایک مخ سکو اپنے بچوں کاگراں مقرر 
کرے اور بعد میں ا س کی تہ کسی ووسرے شن س کو گران مقر کر دے تو ا ںکی بی وصیت پاشل ہو 
اتی ہے اور ا سکی دوسری وصیت پر عم لکنا چالج- 

مل ۹ے٢‏ : ا رکوئی شخ سکوکی ایا کا مککرے جس سے چت کہ دہ انی دمیت سے خرف 
ہو گیا سے خلا نس مکان کے بارے می دی تکی ہ کہ دو کسی کو دا جاے اس یچ دے یاصی 
دوسرے خ سکو اسے بینے کے لیے وکیل مقر رکر رے نو رمیست باضل ہو جاتی سج 


مل ے۱ے٢‏ : اگ رکوئی مخ وعی کر ےکہ آیف ممین کسی نس کو دی جاۓ اور بعر 
میں وی کر ےکہ اس چچ کا نصف ححص کی اور شخ سکو دیا جاۓ و اس نز کے دو ج ےکرنے پائیں 
اور ان دونوں اشخاصص میں سے ہرآی ککو ایک حصہ دبا چا بت- 


تل2 ۱۸ے ٠:‏ ۰ رکوئی مخ ایے مر ضلکی عالتں میں جس مرض سے وہ مرجائے اپنے ما کی 
سپچھہ مقدا رکی شخ س کو بش درے اور وعیع تکر ےکلہ اس کے (یڑنی مرییش کے) مرنے کے بعد مال کی 











توضیح‌اٴلمسائل )[ دہیا 


پھھ مقدا رکسی اور من کو بھی دی جا تین بل اس نے جا ہو نے اصمل نرکہ میں سے ار عکر 
دنا چاچنے (جیی ےکہ مان ہو چا ہے) اور جس مل کے بارے میں اس نے وصی تکی ہ٭ اسے تیسرے 
صے میں سے انا چاجے۔ 

مستلہ ۹اے٣ ٠‏ ا رکوئی خس وصیی کر ےکہ اس کے مال کا تر حصہ نہ با جائے اور اس کی 
آ دی ایک مین کام میں خر جکی جا و اس کے کے کے مطابق عم لکرنا ضردری ہے۔ 

مل ٭٢ے٢ ٠:‏ اگ رکوئی مخس ایے مر ضىی حالت میں جن مرش سے دہ مرجاے نیہ ک کہ ۔ہ 
تی مقار مہ ںکی مخ کا مقروض ہے اکر اس پر ىہ مت ائی جا کہ اس نے یہ بت ورماء کو 
نتدان پپنپانے کے لی ےکی سے نو جو مقدار قر ےکی اس نے می نکی ہے دہ اس کے مال کے خیسرے 
جے سے دی جائے گی او اھر ال پر یہ مت 2 ثائی جا تر اس کا اترار نافذ سے اور قرضہ اس کے 
ال مل سے اواکرت جاجے۔ : 
متلہ ٠ ٣|‏ ضس مس کے لے انان ریس ت کر ےک کوئی چنزاسے دی جائۓ اس کے لیے 
یہ ضدری ٠ی‏ ںکہ وعیع تکرنے کے وت وجود رککتا ہو۔ نذا اگ رکوکی انسان وصیس کر ےکمہ نس چچے ۱ 
کا ضس کن ہے فلاں عورت کے پیٹ میں ٹھورے اس چےکو فلاں چزدی جائے نو اکر وہ پچ موص یکی 
موت کے بعد پا ہو قز ضردری ہ ےکہ دہ چزاسے دی جائے لیکن اکر وہ موص یکی موت کے بعد موجور 
نہ ہو لی پا غہ ہو تو اس ما لکوکسی ایس ووسرے معرف میں صر فکیا جائے جو موصی کے ارارے 
کے مطبق وعیت کے متقصد کے زیادہ قریب ہو۔ ہل اکر موصی وعیع کر ےکلہ اس کے مال میں سے 
کوئی بن کسی مخ کا مل ہوکی فو اکر وہ شخصس موص یىی موت کے وقت موجود ہو تر وصیت سج ہے 
ورنہ پاطل ہے اور نس نکی اس مس کے لیے وصی تک یکئی ہو وصیت باطل بہون ےکی صورت مل 


وہ میت کے ورماء میں ہک ماتی ے۔ 


مستلہ8 ٢۴٢۴‏ ۰ گر انا نکو پی ہک سی نے اسے وصی بنا سے نے اکر وہ وصی تکرنے والے 
کو اطلاع رے د ےک وہ ا سکی وعحیت پر عم لکرنے پر آمادہ یں ہے قو ضروری نمی ںکمہ دہ اس کے 
مر کے بعد اس ومیت پر عم لکرے لین گر وصی تکنندہ کے مرنے سے پیل انسا نکو مہ پچ 
کہ اس نے اسے وصی ہیا ہے پا پن یل جائے لیکن اسے ىہ اطلاع شر د ےک وہ (ششنی سے وصی مقرر ٠‏ 











توضیح‌المسائل 





کیائیا ہے) ا کی (شنن موصیکی) وصیت پر گ لککرنے ب تمادہ نمیں 7گ ومیت پگ لکرنے 

جو حر مہوت نی کے ےت لے 

دص ی کی وقت اں ١‏ اع رکی جاب موجہ ہ وکہ هن لکی شد کی وجہ ے اگ کی اور عذ ری بایرس ضی 
اعد لوت 77 ایر نے رح و ےس 

ٹر کس یکو ومیت ناف زکرنے کے لیے مت نکرے گا۔ 

مستلہ ٢2۲۳‏ : جس مفنس نے وصیع تکی ہو آگر رو مر جائے ‏ وصی پہ نئیں کر ماک میت 

کے کام امام یے کے لی کسی زوسرے مخ کو می نکر رے اور خوو ان ۷ ں سے کنارہ کل ہو 

جائۓ لین اکر اسے علم ہوکہ مرنے وانے کا مقصود ہی ضییں تھاکہ خود وصی ان کاو ںکو انام درے بل 

اس کا متصود فقطا ىہ تھاکمہ کام کر دسیے جاھیں تے وہ تی وع بھی دوسرے شف س کو ان کاموں کی امیام 

دی کے لیے وکیل مقر رکر سا ے۔ 


مل ٢٣۳‏ ۰گ رکوئی فص دو افرا کو اکنٹھے وص بیائۓے قز کہ ان دونوں میس سے ایک مر 
جا یا دوانر نہ یا کافر ہو جائے ق عاکم شع انس کی تہ ایک اور مخ کو وصعی مقر رکرے ا اور آئر 
دوفویں مر جائیں یا کافریا دبوانہ ہو جائیں تو عاکم شرع دو ورسرے اشفا کو ا نکی تمہ می نکرے تا 
ین امر ایک مس ریت بر عم لکر سکتا ہو تر رو اشلاص کا ممی نکرنا ضروری نییں۔ 

مہ ٢٢۵‏ _گر وصی عحمامیت کے کم اغجام نہ دے کے نو عاکم شر نا ا کی بدد کے لیے 
ایک اور منص مقر رکرے گا 


مل ٢٢‏ ؟ ار میت کے ما لکی چھھ مقدار دصی کے پا ہوتے ہونے تلف ہو جائے ت اکر 
دی نے ا کی تکمداشت می ںکو نی یا قندی کی ہو لا آلہ میت نے اسے وعیس کی ہو کہ مل کی اتی 
مُرار ظطاں شر کے فقو ںکو دے دے اور وہ می وصی ما لیکو وو سرے شرنے با اور وہ راتے می 
تلف ہو جائے تو دہ زمہ وار ہے اود اکر ال ت ےکوی یا قدری ش کی ہو ا مہ وار مت 


لہ ے۔.۲۷ے٢‏ : ڈ گر انا نکی شن سکو رصی مقر رکرے ور کی کہ گر وہ نم ںكص)ہ 
جائۓے تر پھر فلاں ہنس دصی ہو گا جب پ لا وصی مرجائے ‏ ہد مرے وص یکو چا کہ عیت سے کے ام 








توضی‌السائل___ ہ‫ ا .نز تا 
اجام رے۔ 

متلہ ٢۷٢۸‏ : جو میت پ وآ ہو اور قرضہ اور حخوق شلا ٹیس زکوۃ اور مظالم جن کا اوا 
کر واجب ہو انمیں عیت کے اصل مال سے اواکرنا چاہجے خواہ ممیت نے ان کے لیے وعیت یہ بھ کی 


ہو 


مبکیلہ ٠ ٢۲۹‏ ار میت کال قرےے سے اور واجب رق سے اور ان وق ے بو اس ٍ واجپ 
ہو (شلا خس زکوت اور الم سے ) زیادہ ہو تو گر اس نے وصی ت کی ہوکہ اس کے مال کا تیسرا حصہ یا 
تیرے ج کی مھ مقدار لیک تین صعرف می لائی جاے تے اس کی وعیت پر عم لکرنا چاجے مور آمر 
وعیعت نکی ہد قوج بھ چے وہ درماء کا مال ہے۔ 


ملہ ٭۳٢ے٢‏ 3ے جو معرف میت نے می نکیا ہو اکر وہ اس کے ما لکی تسرے سے سے زیادہ 
ہو ال کے میسرے جے سے زیادہ کے بارے میں ا سکی ویت اس صورت میں کچ سے جب ورثاء 
کوئی اڑی جا تکمی ما ایعاکا مکریی نس سے معلوم ہوکہ افعوں نے وعیت کے مطابق عم ل کر ےکا 
اہازت دے ری ے اور ان کا صرف راضی ہوتا کانی خییں سے اور گر وہ موصی کے مرنے کے چھ حرصہ 
بعد گی اجازت ری 3 ے اور ار بل ورعاء اجازت درے دیں اور اض وی تکو ردکر دی 
جنموں نے اجازت دی ہو ان کے تو ں کی حر تک ومیت جج اور بیز ے۔ 

لہ ے٣ ٠‏ جو معرف میت نے می نکیا ہو آگھر اس پر اس کے مال کے میسرے جے سے 
زےدہ لاگت آکی ہو اور اس کے مرنے سے لے ورغاء اں محر فک ایازت دے دیں (شئی ہے اجازت 
رے دی ںکہ ان کے جے سے وععی ت کو کم لکیا جاسکتا ہے) و اس کے مرنے کے بعد دہ اپ دی ہو 
اجازت سے خرف میں ہو سل۔ 


سنہ ۳۲۴ ے٢‏ :۰ گر منے دالا وم٥‏ تر ےکہ اس کے مال کے تائی جے سے خُس اور وق یا 
کوئی اور قرضہ جو اش کے زے جو وا جائے اور اس کی تا گمازیں اور روزوں کے لیے ار مقر رکیا 
چان او کوئی صتب ام (نشلا فقو ںک وکھاا لاہ بھی اخام دبا جائۓ نے لہ اس کا قرضہ قائی مل سے 
ما جائۓ اور اک ریچنہ نچ جائے فز نمازوں اور روزوں کے لیے ا رمقر رکیا جا اور آگر پھ ربھی مھ پا 








.بٹی ‏ رر _ ےت رت 
توضیحالعسائل )وہہ ا 


جائۓ و جو جب کام اس نے مین کیا ہو اس پر صرف کیا جاۓ اور آلر اس کے مل کا شائی ج 
صرف اس کے تےے برابر ہو اور ورماء کی تمائی لی تہ زیادہ خر گرتے کی اجازت شہ دی ا نماز 
اور روژوںل اور سنج ی کاموں کچ لج ےکی گی و0ھیت اٹل سے 


مل ٣۳٣۳‏ ۰ اگ رکوئی نس وعیست کر ےکہ ال کا قرشہ اواکیا جاے اود اس کی نمازول اور 
روزوں کے لیے اق مقر رکیا جا او رکوئی س جب کام بھی انام دا جائے و اکر اس نے ىہ وحوت: نہ 
کی ہوک مہ یں مال کی تھائی سے دی جانھیں تو اس کا قرغ اصل مل سے دناچ ہے اور پھر بی پچ 
جائے اس کا تسا حصہ نماز ارر روزہ اور اع جب کاسوں کے معرف ٹل مایا جاۓ اور ال صوررت 
یں ج بکہ وہ تیبرا حصہ کائی نہ ہو اگر ورغاء اجازت دہیں نز ا سکی وعیت برع لکرنا چا اور آگر وہ 
اجازت نہ یں فے نماز اور روزوں کی تضاکی اجرت مال کی ننائی سے کی ای او. اکر اس میں کبھھ یع 
جائے فز ومیت کرنے والے نے جو تخب کام می نکیا ہو اس پہ تر کرنا چاجے۔ 


مل ۴م۹۰ے٢ ٠‏ ا۰ رکوئی میس سے ر مرنے واڑے نے وصص ت کی تی لہ اش رقم ھی 
جائے 3 آلر رد عال مرو اس کے قول کی تقمدی قک. دیں یا وہ تم کھاے اور ایک عارل منخیس اس نُا 
قو کی تمدبق بج کر دے یا لیک عادل مرد اور دو عایلہ وہ یں یا پھر پار عادلہ .ٹیس اس کے قول کی 
گوای دی لز جشنی مقرار و مکتا ہھ وہ اس درے وٹ چاجے ور اکر ایک عالہ عور جگوای رے ق تی 
رکا وہ مطال کر رہ ہو اس کا چتھا حصہ اسے دا جائے اور آکہ رد عارلہ عورنتیں گوادی یں پا ا ا 
نصف دا جائۓ اور اگر ین عارلہ عو رت ںگوادی دیں تو اس کا تن چوٹھائی دا جائے بزاگر دوکمالی کافر عرر 
جھ اپنے برہب میں عاول ہوں اس کے قو ل کی تقمدی قکریں تو اس صورت شی جب کہ مرنے دانا 
وھیم تکرنے پر ور ہ وگیا ہو اور عارل مد اور عورتیں گنی ومییت کے موحع یہ ماج شر ری مو وہ 
شس میت کے بل سے جس چزکامطابہکر را ہو دہ اسے دے دتی چاہے۔ 

مت ۵ سے ٠ ٢‏ اگ رکوئی ہن کےکہ میں عیت کا وصی ہوں تا کہ اس نل می کو فداں ضرف 
لے آئں یا یہ ےکہ میت نے مھ اپنے پچوں کا گراں مقر کی اق اس کا قرل اس صورت مم 
تقو لک چاپے ج بک دو عاول مرد اس کے قو لکی تصدی قککریں۔ 


مل ۳ے : اہ مرنے والا وصی کر کہ اس کے مال کی اتی مقدار خیں من کی ہ گی 














٤‏ جب تب اں کے ورہام وھیس تکو رو 





دا مر دی نواں 7 تل رت تطل بی ۳ .- ری خورت ڈل سے کہ وقبیعت گمرتے والا ۲1 


وسیت سے تحرف نہ ہو جاۓ ورن وہ (لُٹن ر می ما اس کے و رٹاع) ا جن کی من نہیں رد 


ات ( نک کی تیم ) کے احکام 


یں لا فروہ مرے وا تا ایب اور اض اور اولاد اور اولاو بی 5 +ونے گی ضورت ڈں ارلار 
0 اولاد تج جماں کک بے ساملہ بت پلا جاے۔ ان یں سے  <‏ کوئی بیت سے زیادہ قریب 


ہز 7 3 
نس میں وتور ہو مر روہ لہ 





- 1 

لے برا اروم وارا اور دای اور بن اور بنائی اور بھاٹی اور سن لہ ہوٹنے گی صورت ٹل 
١ 7‏ و مت ٣‏ 

ان بی اوماد سے ان میں سے جو کول ی یت سے زہادہ یب ہہ 7۰ کہ پا سے اور دب تک 


ا ڈرو ان نے ا ننس بھی موبور ہو تی 2-2 گی پاا۔ 


از کے مسر روم 7 اور پچ ھی ا اور ماہوں اور خالہ اور ان گ ارلا' مت اور جب تک تک یت 2--. 


اون اور پچھو پروی ازر ماہووں اور خالاوں میں سے ! یگ مض "یی “وڈرر ہو ان گی ارلار 
نز مہ خیں پاقی مان مہ مرنے والے کا با پکی طرف سس بتچا دی پدری؟) در باپ اور مل 
7 طرف سے چچچا کا لڑکا (بص رم دی پردی ومادردی) صوہدد ہل تو ترکمہ باپ اور ما ں کی طرف 
سے چا کے لڑکے (صر ممدی بددی و ماددی )کر لے گا ندد جاپ کی طرف سے پچ (عموی 
دی )و خہیں نے گاد 


مل ۲۲۳۸ گر پور میت کا پک اور موی اور پاصول اور الہ اور ان گی اولار گی اولار ئ : 
ہوںل بای کے ہاب اور مال کے پا اور و گی اور ماہوں اور خالہ کہ بانگ رن9 اور امو وہ کہ موں لو 


ان گی اولاد 2 





7 ا سے رگا 7٦‏ رک جا 2 ف سر“ ُْ 
سای ےر حم ےج بر اتا خبت سے رش راری ا تا کہ باتے ہیں ان کے ین نکر نت 


سن مہ پا 7 : ۱ 
پا ی ہے اور اکر وو ھی نہ ہو و میت کے وارا اور واری گے کا اور چو تی اور بکوںض اور 


272 








ووظوو‌الفتائل پیر سی سے ے0 2000 ا 

٠ 7۲‏ خالہ شرکہ جات ہیں اور اکر وہ بھی نہ ہول فو ان کی اولاد تزکنہ پالی 

ا ٰ 

ا - . 
اازمللہ ۴۳9۹ :؟ بدی اور شوہ جس اکہ بعد میں تقصیل سے ما نکیا جاے گا ایک دوسرسے سے 


کہ پا ہیں۔ 
یل مرو کی عبراتٹ 
اتہر * ے٢٠‏ اگکر پگروہ میں سے صرف آیک مس می یت کا وارث ہو اپ یا میں یا ایگ 


یا ایک بٹی ہو ز میت کا قام ال ا سے سا ہے اور اگر اور جڈیاں وارث ہوں أر مال کو اوں یں , 
کیا جا کہ پربنابی سے دوکنا حص پاے۔ ۱ 


امط ا٣ے٢ ٠‏ آریے کے وارٹ فقط اس کا باپ اور ان یکی مل ہیں نر مال کے جن نے سے 
جات ہیں من میں سے دو جے پاپ اور ایک جع ماں لی ہے مان ار میت کے دو بھائی یا ار ہنی پا 
ایک بھائی اور وو یں ہوں توب کک یں ہد آزار اور پرری ہوں ‏ نی ان کا اور یت کا 
آپ اک ی و خواہ ان کی اور یت کی میں ایک ہو یا نہ ہو ریہ وم ممیت کے پاپ اور ملیی کے 
ہوتے ہو تکہ خیں بات لان لن کے .0 سے ما ںکو ال کا چنا حصہ انا ہج اور ہاتی میں 
پک1 ے۔: 
مستلہ ۱۳ے٢ ٠‏ جب مت کے وارٹ فقا اس کا باپ اور ماں اور لیک بی جووں ےل اس نے 
دو پردی بعائی با چار پرری نیس نا ایک ری بھائی اور دو ری کینیں نہ ہدں آز مل کہ پا بھ مین 
جالتے ہیں۔ پاپ اور مال ان میس سے ایک ایک حصہ لیت ہیں اور بی من جے لی ے اور کر می 
کے دد پدری بھائی چا پر ی کی ما ایک پپدری بھائی اور دو پ ری یں بھی ہوں فو مشسور ہہ سج کہ 
بی جح کی جات ہیں۔ باپ اور ما ںکو ان میں سے ایک ایک حص کت وک 
سلے ہیں اور جو ایک حصہ باتی چے اس کے پھر چا جح کے جات ہیں ہن میں نے ایک <-ہ با پک 
اور ین جے ب یکو لے ہیں۔ نیج کے مور یر ا ون لو و ا 
۵ا یے بٹ کو اور ٣‏ صے ما ںکو اور ۵ جے با پکو لے ہیں۔ _ 


سذ ٢۶۴۳‏ اھر میت کے وارث ففط اس کا باپ مور مال اور ایک بنا جوں از مال کے مھ 








توضیچ‌المسائل )( وہ5 ا 


0 سس 
بیت ک ےکی فدے نے بای بٹیاں ہوں ا نوم ان پار تو کو آپپیں میں مساودی لور پر تقی مک یی ہیں اور 

رظ رضم و کو وف نت ات کات 

بی سے روکتا حصہ لت ےے۔ 

لہ ۴۴ھ٢‏ : اکر میت کے وارث فقط ہلپ ما ماں اور ایک اکئی ہے ہوں نو ال کے جچھ جے 

کیے جاتے میں جن میں سے ایک حصہ پاپ اود یا کو اور پاچ یہ بی کو لے ہیں اور اک کی ہوں 

ق3 وہ ان پا تو ں کو آپیں میں مماوی طور بر تخی مکر لیت ہیں 

مل ۴۵ء٢۲‏ : ؟ اگر پ ما میں میت کے بیوں اور ہیٹیوں کے ساتھ اس کے وارث ہوں تر مل 

کے چھ ضے کے جاقے ہیں جن میس سے ایک حصہ باپ یا یکو ا سے اود تی و ںکو ہیں تی کیا 

جانا ےکہ ہر ےکو بئی سے وکنا حصہ لا ہے۔ 

سیل ۳۷ء٢‏ : مر میت کے وارت فظط بپ پا میں اور ایک بٹی ہوں فو مل کے چار ص کے 

جلتے ہیں جن میں سے ایک حصہ پاپ با ما لکو اور بای جن جے جن کو لے ہیں۔ 

مل ٢٢۷‏ : گر میت کے وارٹ فظط باپ ىا ماں اور چن یں ہوں ق مال کے پا جن کیئے 

ہے ہیں۔ ان میں سے ایک حصہ باپ ہام ں کو متا ہے اور چار سے لیا آلیں میس مساوگی ور پ 

تی مکربیق ہیں۔ 

مل ٢٢۸‏ : ڈ. گر مین کی اولار نہ ہو قڑ اس کے ٹ کی اولاد خواہ بی بھی بیکیوں شہ ہو ممیت کے 

سے کاحص پا سے اورک ود خولو وو پیا یکیں ن ہو میتی بی اص انا ہے۔ خلا میت 

کا ایک فوما ار ایک پوتی ہو تل کے جن صھے سییے چاھیں گے جن میں سے ایک حصہ فواس ےکواور 


درو سے پت یکو میں تے۔ 
: دوصر ےگرو ہکی میراث 


مل ۳۹ء٢‏ : جو لوک رشح داد یکی بنا بر اث پاتے جو ہس ان کا دوس اگگروو میت کا وارا“ 
وی ن“طل* بعائی اور میں ہیں اور اکر اس کے بھئی میں یہ ہوں نز ان کی اولاد میرلٹ پا ہے- 





توضیجٍ‌المسائل ٢‏ ل[ 580 ] 
مل مھے٢‏ : اکر سیت کاوارث فظ ایک بھائی یا یک بن ہو سارا مل ا کو جا ہے اور گر 
کقا نے (پدری و لوری ) بھائی کی گی( پدری ما ادری )یں ہوں نز ال ان میں برا تقیم ہو جا 
ہے اور اکر گے بھائی بھی ہوں اود یئیں بھی تز پربا یکو بین سے وکنا حصہ متا ہے مٹل اکر میتں کے 
دو گے بھائی اور ایک گی بین ہو ق مل کے پاچ سے جاکھیں کے جن میں سے پر بھی کو در جے 
لیس گے اور بھ نکو ایک حصہ لے گا 

مل ہے٢‏ : اکر میت کے گے بین بھائی موجدد ہوں قذ پرریی بھائی اور نی جن کی میں میت 
کیا سوپکی یں ہو میرلٹث لی ہاتے لود اکر ای کے گے بین بھائی ضہ ہوں اور فظ ایک پرری بھائی پا 
ایک پرری بین ہو تو سارا مل ا ںکو متا سے اور اگر اس ک کیا پداد بھائی یا نی پدری کی ہوں ت 
لی ان کے درمیان مساوی طور پر تیم ہو انا ہے اور اھ ای کے پددی پھائی بھی ہوں اور پدری 
پیئیں بھی نے پربھائ یکو بین سے وکنا حصیہ متا ہے۔ 

لہ ۵۳ے٢۲‏ : اکر وارٹ میت فظ ایک ماود رن یا ایک مادری بھی ہو( جھ پاپ کی طرف 
سے سیت کی موی بین ما سوا بھائی مت سارا بل اسے متا بے اود کہ چچد ای بھائی ہوں ىا چتر 
دی بیس بوں یا چ ابی بھائی اور میں ہوں نو لی ان کے درسیان مساوی طور پر تیم ہو اتا 
ہہ۔ 

مہ ۵۳ے٢۲:‏ اکر میتہ کے سے ( پدری د اورک ) بھائی بی اور پدری بھائی بٹیں اور ایک 
وی بھائی ما ایک ماوری ین بھ و پدری بای یتو ں کو ترکہ یں متا اور ال کے چھ جے کے جائے ہیں 
جن میس سے ایک حصہ مادری بھائی یا ادری بی نکو متا ہے اور اتی صے سے (پ ری د ماری) بھائی بنوں 
کو لے ہیں اور پر بھائی دو بنوں کے برابھ حصہ پانا ہے۔ 

مہ ۵۳ے٢‏ : گر میت کے مک ( پددی د اوری ) بھائی نیس اود پرری بھائی بئیں اور چند 
ری بھائی یں ہوں قھ پددی بھائی یو ںکو نرکہ یں متا اور ال کے تن ھے یئے جاتے ہی مجن میں 
سے ایک ح ماددی بھائی یں ہیں می جرد راہ تل یکرت ہیں اود تی دو سے نے (پدری د 
ادی) بھائی بتو کو اس مرح ہے جات یں ہر بھائی اح بین سے دنا ہوا ہے 





توضیم‌المسائل سو و 5 ۰( 5631 ] 


لہ ۵۵ے ٢‏ : ار یت کے وارث صرف یددی بھائی ہنی اور یا۔٠‏ اددی بھائی یا جس ماددی 
بن ہوں تو مال کے بیہ ضے یئ جاتے ہیں ان میں ے ایک حح از یق کی ما ای کا نک کا سے 
فور اق ری نان بھائیوں میں ای طرح تقم یئ جات ہی ںکہ بھالی کو بن سے گنا <صہ کا 


ے۔ 


لہ ۵ے ے٢ ٠‏ ار میت نے وارث فقط پرری بعائی ینیں اور چند ماددری بھائی نی موں اذ مل 
ہے مین جن کی جات ہیں۔ ان میں سے ایک حصہ مادری بھائی یں یس می رکید برا کر کے 
ہیں اور پاتی دو ے پر ری بسن بھاتیو ںکو اس طرح لے ہی ںکہ ہر بھائی کا حصہ صن ستہ وکنا وو ما پچ 
سیل ے۵ے٢ ٠‏ ار میت کے وارٹ فقط ای کے بھائی نی اور بیدئی ہوں و چیویی اہنا ظکمہ انل 
نتمیل کے مطابق لے گی جو بعد می بیان کی جائے گی اور بھائی یں انا شرکہ ال طرع لیس بُ کہ جیے 
کہ مزشن مسائل می تی ا گیا ہے زا کی عورت مرجانے نود اس کے وارث فا اس کے بل 
بئیں اور شوہرہوں تے صف مال ہہ رکو لے گا اور یں اور بھائی اس رب لہ سے جرکہ پاھیں بش نس 
کا رک نحزشتہ سائل می ںکیاگیا ہے یکن ہیوىی یا شوہ رکا کہ پان ےکی دج سے ماددی بھائی زہنوں سے 

ہی ںکوئ یی نمیں او کی سے پل ری و مادری بھائی نوں یا پددئی بھاگی نول 22 ا 
کسی میت کے دارٹ ا کا شجراور مادری بین بھائی ارد کے (پرری و ماددی) بن بھائی ہوں لاف 
ال شوہ کو لے گا اور اصل مل کے تین حموں میں سے ایک حصہ مادری من بھائو ںیکو لے گا ور چو 
کچھ جج دہ گے (یردی دادری) بن بھائیوں کا بل ہوگا۔ ہیں اکر اس کائئل مال بچھ ردپے ہو تق شی 
رو شوہ رکو اور رو روپ دی بن بھائیو ںکو اور لیک روپیہ گے - (ی بی و ماددی) ین بھاتو یکو 
لے گا 


میل ۵۸ے ٠‏ گر مبت کے بھائی بنیں نہ ہوں نز ان کے ترکے کا حم ان کی (لڑئق بای 
نو ںکی) اولا کو لے گا اور مارری بھائی بنوں کی اولار کا حصہ ان کے مائین برابر کا نیم ہو ہے اور :و 
جصہ یہ ری بھی بنوں کی اولاد یا نی (پد ری و مادری ) بھائی جو ں کی گول دک ماما بے اس کے کے نار ہے یی 

مور ہے کہ چرلڑٗ رو لڑکیوں کے برابر حصہ پا ہے لیک ن ہہ بعیر خمیں ہی کہ ؛ن کے ماڑین بھی رہ 
برابر برا تیم ہو اور اط ہے ہ ےکہ وہ مال تکی جانب رج حکریں۔ 





اوت یت کر ہر رک 


توضیح‌المسائل ۱ [,2ھد5ا 


سمل ٢۵۹‏ از میت کاوارث فط ورای فقط راری یا فط ا یا لی ہو تو میت کا قام پل اے 
لے گا اور اگر الہ میت کا رارا با با موجود ہو تو ان کے پاپ (شی میت کے پر داد یا بر ناڈ )کو تکہ میں .نت 
اور آلر یت کے وارث فظ اس کے داوا اور دای ہوں تل کے ٹن جی سیئے جاتے ہیں جن یس سے 
وو تی رارا اکو اور نیک حصہ داد یکو .ہے اور گر وہ نت اور ل بھوں فو دہ مال یکو برابر برای تق کر 
ہیں۔ ۱ 
مل ہے آلر سیت کے وارث فقط داد یا داوبی یس سے ایک اور جا اور بل میں سے ایک 
میں 7 لی کے جن ےکی یں کے جن میں سے رد داویا او کو یں کے اور ایک حصہ نایا 
ال یکو گا۔ 
مل ااے ١ ٢‏ ار میت کے وارث رارا اور رای اور انا اور بل ہوں نز مال کے تین حے کے 
: جاتے ہیں جن می سے ایک حصہ ہنا اور لی آپیں مین برابر برابہ تقی مکر لیے ہیں اور پالی دو جھے وارا 
اور راز یکو لے ہیں من میں وارا کا حصہ دو تمائی ہوا ہے۔ 
مل ۲2۷۷ ٠‏ ار میت کے وارث قٹط یں گی بیو اور داد دادی اور تن" نالٰی ہوں تر ووٹی اپنا 
حصہ اس نیل کے معلبق لی سے جو بعد ہی بیان ہوگی اور اص بلی کے تن حوں میں سے ایک 
حص نا اور ا یکو متا ہے جو وہ آلپیں میں برابر برابر تلی مکرتے یں اور باقی ماندہ لق بیوی اور ب)* ال 
کے بعد ھھپچھ یچے) دادا ویر داد یکو کا ہے جس میں سے داد دادری کے متا میں وکنا اتا نے اور گر 
میت کے وار اس کا شوراود چد زواوا یا )اود جدہ (ودی اود ائ) ہوں نز شو کو نف بل ىا ے 
اور واوا اور نان اور اری'اور لی ان امام ریچ مان کہ پاے یں ہشن کا ز رگزش مائل و چا 
ے۔ 
مہ ”ا ے ٠ ٢‏ بھائی' صسس' بھائیوں' ہنوں کے سام وارا وارگی پا 6“ ثلٰ اور رارے“ وارلول با 
نان انیوں کے اہ کی ند صورتیں 
ایی ڈ کہ ننا ما علی اور بھائی ىا بسن ہاں کی طرف سے ہوں۔ اس عصورت میں مال ان ٌ2 
درمیان مسادی طور پر تق ہو جات ہے امرچہ دہ مرکر اور موش ث کی جثیت ے لف ہوں_ 





توضیحالمسائل ك0" ۱ .ل583 لہ 


توم : 


ہے کہ وارا لا دادی < کے ساتھ بھائی ما بن میں کی غرف سے ہو۔ ال صورمت میں لی 
ان کک این مال ماودی ط ود بے تیم ہم سے بے رہ وہ سب * برریاحب گور ہوں اور 
اکر خلف ہوں 7 مر ہر سرد ہرعورت کے ما میس وگنا حصہ لڑنا تی 

7 کہ وارا ما وادٹی کے سا بھائی ما صن ماں اور پاپ کی شرف سے ہول ال صورت 
ٹیس گئی تی ۶ ےچ : ورگزش صورت ِں 2 اور ے جانا چا۔زئ کہ ار بیت کے گی 
بھائی پا بن“ گے بائی پا بن کے ساقھ خع ہو باھیں فو جھا پردی بھائی یا صھن میراٹ “ 
پاتے (یکہ بھی پان یں) 

یکن وارے واویں اور نائے' بانیاں ہوں۔ خواو وو سب کے سب مو ہول با 
عورتیں ہوں پا ملف ہوں اور ای طخ بادری و پددی بھائی اور کبئیں ہوں۔ اس صورٹ 
من جو مادری رش دا ہوں تر کے میں ان کا ایک اتی حصہ ہے اور ان کے ذرمان برایر 





تیم ہو جا ہے خراہ وو مرو اور عورت کی حثیت سے ایک ورسرے سے لف ہوں اور 
ان میں سے جو پدری رشتہ دار ہوں ان کا حصہ دو قمائی ہے جس میں سے ہرم کو ہر عورت 
کے متائے میں نا اتا سے اور اکر ان ہی ںکوئی فرق نہ ہو اور سب مد یا سب مور تی 
ہوں ت روہ تکہ ان میں برابر تیم ہو جات ے۔ 

7 کہ داوا پا دای ماں کی طرف سے بھائی بھن کے ساقہ تع ہو جاھیں اس صورن 
می گر بین پا بھائی پلخرض ایک ہو تو اس مال کا چنا حصہ متا ہے اور آگ ہکئی ایک ہوں تر 
تا حصہ ان کے درعیان براب برابر تیم ہو جانا سے اور جھ ہام جچے دہ دارے یا داد ینا ال 
ہے اور مر واوا اور رادی روخوں ہوں تپ واداکو دادیی کے مفاٹےہ میں وکنا حصہ اتا ہ۔ 

بی کہ نا ما تال باب کا طرف سے بعائی کے ساتتھ جع ہو جانھیں.. اس بصورت مل نان 
یا الیکا تسرا حصہ بت خوا ان میں سے ایک دی ہو اور دو تمائی بھاگی کا حصہ سے خواہ وو گی 
ایک بی ہو اور اکر اس بن یا لی کے ساتھ با پکی طرف سے ین ہو اور وہ ایک بی ہو نو وہ 
آڑھا حصد. لی سے اور اگ رک یں ہوں قے دو تمائی لیقی ہیں اور ہرصورت مج وادے یا 
٣چ*هھ‏ 9 رت ا ٹا 





تچ جححجد 
توضْیٍالمسائل : )584 
: : حصہ پچ جا ما ہے اور اس کے بارے میں اط واجب معدالحت میں ے_ 
2 ای وت دارے یا واویاں ہوں اور یھ جانے اور جنیاں ہوں اور ان کے سار پدری بھائی 
ا بن بھ او وہ لیک هی ہ مکی لیک ہوں اس صورت میں نائنے یا بل کاحعہ ایک الہ 
ہے اود گر وہ زیادہ ہوں تو ہہ ان کے این مساوی طور پر تیم ہو جانا سے خواہ وہ مرو اور 
عورت کی یت سے مخلف ہی ہوں اور پاتی ماندہ دو تما دادے یا دادی اور پر ری بھائی یا 
۱ بجن کا ہے وآ وو مرو اور عور تک معیثیت سے ملف ہوں نز فی کے ماق فور گر 
لف نہ ہوں ت بابہ ان میس تتقیم ہو جانا ہے اور اگ ان وادیں' نوں یا دایوں جنییں کی 
ساتھ ادریی بھائی ما ھن ہوں تر ننا ا نالی کا حہ ادرک بھائی ما بین کے ساختھ لیک نائی سے 
ھ لن کے ودمیان پرابر تیم ہو جانا ہے الرچہ وہ بہ جثیت مرد اور عورت ایک دورے 
سے تقلف ہوں اود داا ا دا کہ دد قائی ہے جھ ان کے ان اتوف کی صورت میں 
شی پر حثیت مردادر عورت اختطا فکی صورت می) فرق کے اھ ودنہ برا اھ تقیم 
۶ جااے۔ 

2 یہ کہ بای اور کش ہوں مجن مج سے بیھ پددی اور یھ باورتی ہوں اور ان کے 
ساتھ داوا یا دای ہوں۔ اس صورت می کہ مادری بھائی ما بن ایک ہو تو ترکے میں اس کا 
چنا حصہ ہے اور مر ایک سے زیادہ ہوں تو تیرا حصہ ہے جوکہ ان کے ماڑین بر بر 
تیم ہو جانا ہے اود بل کہ پددی بھائی یا بن اود داداا داد کا ہے جو کیثیت مرد اور 

۱ عورت ملف نہ ہوٹ ےکی صورت میں ان کے مین باب ابر تیم ہو جاا سے اور لف 
ہون ےکی صورت میں فرق سے تیم ہوا سے اور کہ ان بھائیوں یا بہنوں کے ساعق با یا 
لی وں لز ٹا بل اور ری بھائوں اور نو کو لاکر سب کا حصہ ایک تی ہو سے جو 
ان جس پھیت مرد اور عورت انتلاف کی صورت میس فرق سے اور انتلاف نہ ہونے کی 
صورت مل ہراب برابر تیم ہو جاتاہے۔ 


مہ ۷۷ے٢‏ : اکر میت کے بھی یا یں ہوں ق بھائیوں ما و ں کی اولا کو را نہیں لی 
ین اک بای کی اولاد ود نکی ولاک میرلٹ پا ھائوں اور ہنو کی میرلٹ سے ملم نہ ہو 3 پھر 
ا عم کااطلاق نہیں ہو نم مشلا اکر سیت کا پرری بای اور تا جو ق ری با کو میرٹ کے وو جے 





۔. ‏ ۔ ‏ ۱ ., . . _. سس ری کیپکھوئیییئییٹیز رجا 
7 


توضیب‌المسائل__ [ احقہد] 


اور ناناکو ایک حصہ لے گا اور اس صورت میں اکر ممیت کے براور مارری کا با بھی ہو نو بھائی کا بنا اتا 
کے ماق یت نمی مجن شیک و ہے 

ٹیس ےگرو ہیی مبراٹ 

تہ ٤۷۵‏ ۰ مراف پانے والوں کے تیسر ےمگروہ میں پنیا پچھوججی' ماموں اور خالہ اور ان کی 
اولاد ہیں۔ اور جع اکہ بیان ہو چکا ہب ےکہ اکر پللہ اور دوسر ےمگمروہ میں سےکوئی وارث موجوو شہ ہو لو 
ریہ لوگ کہ پاتے ہیں۔ 

لہ ٢۹۷‏ ؟ ار میت کاوارٹ فتۃا لیک پپچا یا لیک پچھوچھی یا ایک ماموں پا ایک نحالہ ہو نو خواو 
وو سگا ری و ماری) ہو ششنی وہ اور مبیت کا والد ایک ہیں پپ کی اولاد ہو ىا پر دی ہو یا ماددکی ہو 
سارا مال اسے “تا ہے اور اکر چند پچ یا چند بچھو عییاں بہوں اور سب گے (پدری د مادری) یا سب پدری 
ہوں نے مضمور ىہ ےکہ پا کو پھوبجھی سے وکنا حصہ کا ہے لا اکر دو چا اور ایک پھوبھی میت کے 
دارث ہوں فو مال پاچ جموں میں تی مکیا جا ہے جن میں سے ایک حصہ پھوجھ یکو متا ہے۔ اور باتی 
ائدہ چار تو ںکو دونوں چا آپیں می باب برا تق مکر یں گے لن بعیر خی ںکہ ان کے بائین (شن 
پچاؤں اور پھوچھی کے بائین) بھی تقییم براب برا رکی یادبہ ہو اور اقیاط اس یس ہ ےکہ سب آہیں مل 
مسالشتکرلیں۔ 

متملہ ے٢‏ ۰ گمر میت کے وارث فتۃا پچھ مادری ا یا نیہ مادری یھو ہبمیاں یا باددی پتچا اور 
ادری پھوئھی دوفوں ہوں نے ظاہریے ہ ےکمہ میت کا ال ان کے باین مساوی طور بر تیم ہوگا۔ 


تل ۲۹۸ ٠‏ ار میت کے پچچا اور یو بعییاں اس کے وارث ہوں اور لن ٹس سے بکھ پددی 
اور پھ مادری مہ گے ( پرری و مادری ) ہول و پرری ول اور پھو بعری ںکو ٹرکہ نمی متا اور مور 
یہ ہےکہ آگر می تک ایک اوری پا ا ایک بادری بچوبھی ہو قز بل کے چھ یئ جاتے ہیں جن میس 
سے ایک حصہ ماددری کیا یا مادری پچھوجگ یکو دیا جانا ہے اور باتی صے گے (پرری ا ادری) اون اور 
یو بعیوں کو لئ ہیں اور پذرضس گر گے چیا اور پھو عھیاں نہ ہوں نو وہ سے پرری پھاؤں اور 
چو عو ںکو لت ہیں اور اکر میت کے مادرئی پچچابھی ہوں اور مادریی بپھو کھیاں بھی ہوں نے مال کے جن 





توضیں‌الەسائل [ گعق8ہ إ] 


ے کے جات ہیں جن میں سے دو جے گے (پدری و مادری) چاؤں اود چو نی ںکہ لے ہیں اور 
پلفرضس ار وہ نہ ہوں 3 وہ جے پدری پنچاؤں اور یھو بحبوں تو لے ہیں اور ایک تمہ ماددیی پچاوں اور 
چھھ بھبو ںکو تا ہے لن بعد نیس ہ کہ دونوں صورتول میں مادری چیا اود پچ بخیاں بھی دوسرے 
یں اور ھو بعبو ل کی مامند مقار ہوں اور مبیت کا ال اں کے قام پچاؤں اور مو ببھیوں کے در مین 
ماوی طور پر تقیم ہو 

ملہ ٢۷۹۹‏ : ہر سیت کا وارث فک اموں ی ا ایک خالہ ہو تسار مال اسے مزات اور اھر 
نی ایک باموں بھی ہوں اور خالاٗیں بھی ہوں اور سب کہ (پددی و ماددی) یا چادی یا ماددی ہوں 7 
مال ان سب کے این مساوی طور پر تقیم ہو گا 


لہ ہیدسے ٠ ٢‏ گر عیت کے وارت فا ایک ال مادری ماموں اور غالٰلیس اور گے (پرری و 
ماددری) ماموں اور خالانمیںی ہوں نو پددی ماموؤل اور خالاؤ ں کو ترکہ نمیں متا اور بعیر نہیں ہ ےک بات 
ورام تی میں مساوی حصہ رت ہوں۔ 

سلہ ےے٢‏ : مر میت کے وارث ایک یا چند ماموں یا ایک ىا چند غالائیں یا اموں اور الہ اور 
ایک نا جن با ا ایک یا چند چو بممیاں یا پچ اور پدچھی ہوں نز یل تین تصوں میں تقیی مکی جانا ہے ان 
میں سے ایک حصہ ماموں یا خللہ یا دوفو ںکو ما ہے اور باتی دو ضے ٹیا یا پھوچھی یا دونو ںکو لے ہیں۔ 
متلہر ے٢‏ ٠۔٠‏ خر میت کے وارت ایک ماموں یا ایک ما۔ . اور چا اور پھو ھی ہوں نر اکر پیا 
اود پھوھی گے ( پدی و مادری ) یا ری ہوں نو بل کے تین صے کے جاتے ہیں۔ ان جس سے ایک 
ح ماموں یا الہ کو متا ہے اور بنا پر مور باقی ہس سے دو اہ پچاکو اور ایک حصہ پھو یھ ی کو متا ے 
ال کے فو جھے ہوں ھے جن می سے جن جے ماموں با خالہکو اور چار جے جیے ہاو اور دو جصے پھو ھی 
کو میں مے کن اط پیا اور پموچھی کے درمیان تیم سسادی ہونے میں ہے۔ 

مسلہ تس۳ےے٢۲‏ : کر میت کے وارٹ ایک ماموں پا الیک غالہ اور ایک مادری با یا ایک بادری 
پچ پھی اوہ نے پدددی د مردری نا پدری پا اور چو بھیاں ہول نو الکو تو حصوں میں تقی مکی جانا ے 
شن می سے ایک حصہ ماموں با خال ہکو دیا جانا ہے اور بائی اندہ دو جھے دوسرے دراء آپیں می سسادی 





توضیمع‌المسائل )[7+ق5 ]. 
ورپ تققی مکرتے یں۔ 

منتلہ مھ ے٢ ٠‏ اریت کے راوگ چنر ماموں اور چتر خالاتں ہوں جو سب 2 (پرری د 
ماددی) با پیددی با مادری ہوں اور اس کے ا ادر مو بییاں کی ہویں نز مال کے تین جیے کیئے جاۓے 
ہیں ان می سے دو لہ اس رستور کے مطالق جو بیان ہو چا ہے پچ اور یھو بیو ںکی بین تیم ہو 
جاتے ہیں اور باقی ماندہ ایک حصہ ماموؤں اور خالاؤں کے ورمیان مسادی طور پر تقیم ہو جانا ہے۔ 
مستلہہ ھ“مےے٢ ٠‏ ار میت کے وارث مادری ماموں با خالانیں اور چند گے ببرری یا چند یاموں اور 
لایس (فتا اس صورت میں جب کے ماموں اور خالامیں نہ ہول) اور پتچا اور مو عیاں ہوں تو ال 
کے ین جے کییے جاتے ہیں۔ ان مس سے رو ے اس وحتور کے مطالی جو ان ہو کا سے پتھا اور 
پھوتبھی آپیں میں بانٹ لیے ہیں اور بعید خی ہے کہ باقی ماندہ قیسرے ج ےکی تقیم میں باتی درھاء کے 
پراپر ہوں۔ 

مل بےے٢‏ : خر مت سے چا اور پچھو بھییاں اور ماموں اور غخلائیں شر ہوں لو لی چو 
مقدار پچاؤں اور چھو یو یکو سلنی چا وہ ان کی اولا کو اور جو مقدار ماموول اور نمالاؤو ل کو ملنی اچ“ 
دہ ا نکی اولا رگ دگی انی ہے۔ 

مستلہ سےےے ۲ : ار میت کے وارٹ اس کے پاپ کے پیا ادر پچھو بعییاں اور ماموں اور خالانمیی 
اور ا کی میں کے پچ اور پھو بمیاں اور ما ول اور خالائھیں ہوں تقو بل کے شین صے سی جات ہیں۔ 
ان میں سے ایک حصہ می تکی یل کے پاوں اور پچھو بعھیدں اور ماموؤں اور الال کے درمیائن برار 
پرابھ تی مکیا جا ہے اور بائی دو حصوں کے ننن جھے سی جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک حصہ میت کے 
لپ کے ماموں اور الامیں آپیں مس برابر :راب پاٹ لے ہیں اور باقی دو صے مماوی طور پر میت کے 
باپ کے پنچاؤں اور چو بی کو لے ہیں۔ 


٭ ببدی اورشوہ ری میراث 
مسر ے٢‏ : آگ رکوتی عورت مر جا اور اس کیکوئی اولاو نہ ہو تز اس کے سارے بل کا 
آصف حصہ اں 2 شوہ رکو اور پالیٰ ماندہ ائر: کے دوسرے ورما کو متا ہے اور اکر اس عورت کی ال 








5 8 . ٠ توضیحالمسائل‎ 


شوہرسے ای اور شور ے اولاو ہو ثوٗ ارے مال کا رقائی حصں۔ شوہ کو اور 7 ٭ندہ دو رے ورثاء کو 
ار ڑے۔ 


مل ۵ےے٢‏ : اگ رکوئی سرد مرجاۓ اور ا کی اولاو نہ ہو ف اس کے مل نا چو تھائی دہ اس کر 
بو یکو اود باقی دوسرے ورماء کو متا سے اور اکر اس مدکی اس بیوی سے پ اتی اور بیو ی ے اولاد ہو 
ق3 مال کا آظھواں حص. ببدب یکو اور بای دوسرے درا ءکو مم ہے او رح رکی زین اوہ پا اور زراعت اور 
دو سی زمینوں می سے عورت نہ خور زین لطور میراث حاص لکرکی ہے اور نہ تی ا سکی تمت میں 
ےکوئی کہ پاتی سے یزوہگھعرکی فضا میں قائم چزوں شلا عمارت اور درضتوں سے ترکہ نمی پاتی من 
ا نکی تج تکی صورت میں نرکہ اتی ہے اور جو درخت اور زراعت اور مارٹیں یا کی زین اور مزرھ 
زین اور دوسری زمینوں میں ہوں ان کے لیے بھی بی جع ہے۔ 

مہ ۸۴ے۲ : جن ہیں میں سے عورت تکہ نی پاتی ( شا رای مکا نکی زین ) اکر وہ 
.ان میس تر فکرنا چاینے و اسے پاٹ کہ دوسرے ورہاء سے اجازت لے اور ورماء بتب تک عورت 
کا حصہ نہ یں ان کے لیے جائز میں ہ کہ ا کی اجازت کے بغیران چیڑوں میں (شلا مماروں اور 
ورضتں میں) تقر کریں ہج نکی قیت سے وہ تک پاتی - 

تل ۷ ے۲ ٠‏ خر ممارت اور ورشت وغیر کی قمت لانا مفصود ہو ساب لگانا چا کہ اگر وو 
بی رکرائ ےکی زشن میں رہیں ع کہ تلف ہو جائمیں قو ا نک یکیا قبت ہ وی ور عورت کا جعیہ ال 
تی سکردا قبت میں سے ریا جاۓ۔ 

مہ ۸۷۴ے۲ ٠‏ خوں کا پالی جیے کی ملہ وغیرو زین کا عم رکتی ہے اور انٹیں اود ددسری 
یں جو اس میں لال گنی ہوں وہ عمارت کے عم میں ہیں۔ 

مستلہ ۴۰۷۸۳ :ار مرنے ول ےکی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں لن اولا دکوکی شہ ہو تر مل کا 
چوھا حصہ اور اکر اولار ہو نز پل کا آنھواں حصہ اس تقعبیل کے مطابق جس ؟ میان ہو چکا ہے سب 
یوبیں میں ساوی طور بر تیم ہو جانا ہے غواہ شوہرنے ان سب کے ساتہ یا ان میں سے مض کے 
ساتقھ میامعت نہ بھی کی ہو لان اگر:اس نے ایک آیے عرش کی ات میں نس عرش سے اس کی 








نوضیح‌المسائل 7 بے ) 5 ا 


+وت واقح و جا ٗی عورت سے عق کیا ہو اور اس سے اعت ےکی ہو رہ قورت ا سے 7گ 
میں پاتی اود وہ رکا تی بھی نہیں رھتی۔ را 

لہ ۸۰۴ے۷ ٠‏ اف رکوی عورت هر شفکی جات میں تی مد سے شاد یک رتے اور ای عرش 
میں مرجائے فو خواء عردنے اس سے میاسعت نہ بجھ یکی ہو وہ اس کے کہ میں حصہ دار ہے۔ 

لے ۸۵ء٣ ٠‏ گر عور تک اس تحیب سے طلاق دجی دی جائۓ یس کادکر طلاقی کے انام 
ہ سکیا جا چا ہے اور وہ عدرت کے دوران میں مرجائے و شوہراس سے کہ پا انت اور ای طرع آگر 
شوہرای عدت کے ذوران میں فوت ہو جاتے و بیوئی اس سے کہ پاقی ہے لین عد تگزرنےہ کے بعد 
یا لاق بائ کی عدت کے دوران میس ان میں س ےکوئی ایک مرجاے فذ دوسا اس نے ترک خمیں باتا۔ 


متلہ ۸۹ے ٢۷‏ : ار خوہر مر کی عالت میں انی بیو یکو طلاق دے دے اور بارہ آمری می 

محزرنے سے لہ مرجابئے فو عورت تین شمرٹیی پپود یکرنے پہ ا ںکی مرا سے مرکم پاکی ہے- 

ای ب کہ عورت نے اس جرت میں دوسا شوہر نہ کیا ہو اور اھر دوسرا شوہ رکیا ہو نو اعقیاط سے 
ہ ےکم کر لیس (شی میت کے ورماء عورتں سے مال تکرش ) 

رن خور عورت نے الس نہ ہو کی وجہ سے خوہ رک وکوئی مال ویا ہو کہ وہ طلاقی دس پہ 
راضی ہو جائۓ لہ اگ رکوئی چز شوہ رکو نہ بھی دی ہو نان طلاقی عورت کے تقاضاکرنے ‏ 
ہوئی ہو تب بھی اس کے میریف پانے میں اشال ہے۔ مترہ ےکہ اس کے اور باقی ددشا کی 
درمیان مصحالت ہو جاۓ۔ ۱ 

×.. شوہرنے نس مرض میں عور کو طلاق دی ہو اس عرش کے دوران میں اس مرخ ش کی 
رجہ سے ما عسی اور وجہ سے مرگیا ہو۔ یں اکر وو اس مر سے شفایاب ہو جانے او ری 
اور وجہ سے مرجائے نز عو رت اس سے میرات نمی پاتی۔ 

مستلہ ے٤۵۸٢ ٠‏ جو لاس مرد نے انی بد یکو پننہ کے لیے مس یاکیا ہو اک رہ دہ اس مبا کو ہن 

پھی ہو پھ ربھی شوہر کے مرنے کے بعد وو شو ہر کے مل کا حصہ ہوگا۔ یا اھر ای نے بیو کی علیت قرار 

دا تماق وہ بیوىی کا ہی لک ہو گا 





توضیحالمسائل : 59٤_[)‏ .۱ 
میراٹث کے محخلف مسائتل٠‏ 


مہ ۲۸۸ ٠‏ منے وانے کا قرآن ید اگوی وار اور جو شاک وہ ھن چا ہو وہ بے“ 
بی کا مل ہے اور مر ھی تین چیزوں مس سے میت ن ےہکوئی چز لیک سے زیادہ چھوڑی ہو لا اس نے 
قرآن ید کے دو نے یا دو انگوٹھیاں پچھوڑی ہہوں ذ اعقاط واججب ہہ ہ کہ اس کا با بنا ان کے پارے 
یس دوسرے ورماء سے معرالص کر نلے۔ 

متلہ ٣١۶۸۹‏ ؟ اگ زکی منے والے کے بڑے بے ایک سے زیادہ ہوں شا دو یوپوں سے رو 
بے بیک وقت پیدا ہوں فو انمیں چا کہ عیت کالپاش اور قرآن بجید اور انگو تھی اور تکوار آلیں میں 
مساوی طور بر پانٹ لیی- 

مہ ٭۹چ ے٢‏ : گر منے والو مقرض ہو :_ اکر اس کا قرضس اس کے مال کے برابر یا اس سے 
زیادہ ہو ق ان تار یو ںکو بھی جھ بڑے بی کال ہیں اور جن کا زکر سابقہ لہ می ںکیایا ہے اس کے 
قرن لک ادائچگی کے للیئے رے دنا جا اور گر اس کا قرض اس کے مال سے تھوڑا ہو تز ان چار چڑوں 
سے بھی جو پڑے ہی ےکوی ہیں تر ےکی بت سے ادا یکرنی چاہے۔ لا کر میت کا تام مل ساٹ 
وو و پت ہے 
وپ قرشل بد بے پیک جا کہ لن جا چےوں مس سے دس ردپ کی مقرا مر کے برا می 

ری بے لے ین رنب 

مہ ے٢‏ . ملان کافر سے ترکہ پانا ہے لان کافر خواہ وہ لان مبت کا پاپ پا بڑا ہ یکیوں 

ثہ ہو اسں سے خکہ ہیں پاتا۔ 

مستلہ ۹۴ے٢ ٠‏ اگ رکوئی منص آپنے رح داروں میں سے کس یکو جان بوجھکر اور نام تق یکر 
درے تہ اں سے موکہ خی پان پل اگکر وو خخص لی سے مارا جاۓ شل اگ رکوئی منص ہوا میں پھر 
بی اور وہ فا9“ اس کے کی رشن دا رکو تک جاے اور دہ مرجائے ق دہ مرنے والے سے تزکہ پاۓے 
گان اس کاویت کل میس سے شرکہ پنا(جص کازکر بعد میں آنے گل) مشکل ہے۔ 


ہل ے۲ : ج بکی میت کے ورام کہ تقی مکرنا چایں نو وہ اس ہچے کے لی ج بھی 








توض شرعرااع سائل 





اں کے چیٹث ہیل ہو اور آگر نف پیا ہو ق مبراث کا تی رار ہوگا۔ اس صورت شش ھکار اَی 
نادہ ون 72 پرا ہوۓ کا ایت +۲) ایک لڑکے کا جص ید کر دیی اور مال ای سے زاائد بی وم 
ان ون تیم کر میں ین گر اں بات کا اتال ہو لہ عورت کے چٹ می وی جن نت یں وہ 
درماء ای بات پر داش شہ ہو ںگہ جن ہوں کے پا نت ل اضول :و دی فا تہ کاو کریں 7 
جائ بے لہ ایک ست زانکد ححل کے صے کی تطاقلت کرت کے یارے ڈں دق اور ا ینان جا+ل 


کرنے کے بعد ایک لڑک کے جن سی نبت سے جو مال زائم ہو اے رت اریںں 
ہے2 5 . ۱ ۰ 7 ہے 0 
بس انامرای سے خ یی گی کی صد (ع ری ء۔) 


مس مل ٢ذ‏ اگ رکوگی شخس سی ابی مرح عو رت سے زناکرے جو ای سے ماس گر بصن کی 

رح قراات ر تی ہو 2ے سکم شرع کے تم حم سے قح یکر دینا چاہجے اور ا کوئی کافر مر“ ی مان 

عورت سے زناکھر نے تو اس بے لیے بھی بی عم ہے اور بہت کی روئیات یل وارہ ہوا ےم ایک مد 

(شری حا) کا جاری ہوڈ اس ام رکا پانٹ ا ہب ےکہ لوگ یر شرکی ام پچھوٹ یں اور شرگی 027 : 
ونیا اور آخر گی ماق ت ارتی سن اور اس میں لوکوں کے لیے چالیاس دن بارش پر کے کے فاندوں رے 
2 زیادہ فاننرے ہیں۔ 

ئل ۵۵ے٢‏ : مر ایک زار مرد زناکمرے تو اے سو نازیانے لاپ جار سی اور ار وہ من وامہ 
زنا کرے اور پر رفعہ اسے سو ازیانے لا جانیں تو چو شی وق زناکرنے پر ا ۳أ گر با چان 
زی کس سے ان ا را ورڈ مال ار آرار وت مت طوان 
سے عیاصع ت کر چک ہو اور جب جں بابے اس سے عوامصت کر سا ہو نے اکر وں مس اس کے پاوتیر اک 
نہ ادر عالہ عورت سے زنامرے فو اسے سا رکر دنا چا۔چ- 


لہ ۹۷ ے٢‏ :مور ہگ اگ رکوئی فص کم کو انی بیدی سے زنا کرت ہونے دی مز آلر 
اسے اپنے آ پکوکوئی ضر کت کا خرف تہ ہو وہ دو ںکو لن کر عاتے لین رکم کل اڈ سز 





برعی اس کی بیو ی لا لم نیس ہوگی۔ 


مس بے ٠۰ ٢‏ آئ رکوئی عاقل پان مدکی روسرے عاقل و بل فص سے غلا مکرے تو دوتوں 











توضیحالمسائل ز وود ا 


کو تل یکر دنا ای اود عاکم شرع افلا مکرنے والےکو موار سے قت کر سکتا ہے یا تک میس زندہ جلا 
کنا ہے ما اس کے پا پائؤں باند ھکر اسے بلنعد تجلہ سے گرا تا ہے اور ان شرائلا کے سائھ جو 
مفلہ ۹۵ءے ٣س‏ جیا نک یگئی ہیں اسے سکمسا رک سکتا ہے۔ 

مل ۲۸ء ؟, آل رکوئی مخ صس کسی ووسر ےکو عم و ےکہ و بھی کا نا7 خ ال ررے وی 
صورت میں ج بکہ تال اور وہ طس جس نے اسے عم دا ہو دوٹوں با اور عانل ہوں تز ا کو فی 
کر دیتا چا یئ ار ٹس نے اسے قن کرنے کا عحم دیا ہو اسے عربھ رک نل قیدکر دبا چانے بیہاں تک 
لہ وہ مرجاۓ۔ ۱ 

متلہ ۲2۹۹ ٠‏ آمر فرزنھ ببپ ما یں کو جن بوچھک رف یکر دے نے ات تن یکر دینا چاجے لین 
کر بپ اپنے فرزن کو جان وج ھکر ف یکر دے تو اسے چا ےکہ اس وستور کے مطابقی جو یت کے 
انام میں جایا جا گا دیت دے اور عاکم شر عکو اتقیار ہےکہ اسے اتی مان سزادے جٹٹی طاسب 
کے۔ 

مل ۲۸۰ :. مگ رکوئی مخس کی لڑکے کاشموت سے بوسہ لے نے عاکم شرع نہیں سے ننانوے 
آازیانیں کک جقے مناسب جھے اسے مار کتا سے اور روایت ‏ ےکہ خداوند عالم اس بوسہ لین والے کے 
منہ میں فکی لام رے وا ہے اور کسمان اور زین کے فرش اور رعمت اور مب کے فرشتے ای 
بر لع کییے ہیں اور اس کے لیے جنم ار ہو گا المتہ آکر وہ فو کر نے فو ان کی توبہ قبول سے 
مہ ۲۸۹۱ ٠‏ مگ رکرئی کسی مرد اور عور ت کو زا کے لیے یاکسس مرد اور ل ڑکے کو الام سے 
لیے لہس میں ملائے تو اسے پچھیترنازیانے لانے بچائئیں اور مشمور ہہ حج کہ پچتر مازیانے لگا کے بعد 
اس کا سرمنڈواکر اسے گ یکوچوں میں چئیرا جائۓے اور جس تمہ اس نے ىہ کا مکیا ہو اس مہ سس اس 
ول دا جائے لکن ہے عم عابت نیں ہے۔ 

منلہ ۲۸۰۲ : ہج بکوئی مخ س کی جورت سے زناکرن چاہتا ہو فز أمر اے قتقل کیے ب_یراس نل 
سے رونا ان نہ وو اس کان یکر جات ے۔ 


سیل ۲۸۰۳ کر ور مس ا تی آزار ہو زنا 








توضیب‌المسائل___ ٦٥٦دود]‏ 


ا افظام مفسو بپکرے پا سے ودنا سے نز اسے لاس کے اوبر سے اسی (۸۰) ازیانے لگائے جاھیں- 


مسلہ ۲۸۴۷۰۴ ٠‏ جو مخس عاقل اور بالغ ہو اکر دہ انقیار رت ہوئے شراب کے حراس ہونے کا عم 
ہدنے کے پاوجود شراب پے ق ا کی بی اود دوسری دفعہ شراب پیے پر اسے ائ (۸۰) آزیانے 
نے چائیس اور اگر تہری رفعہ ہیے قز اس ق٠‏ یکز ریا چاچے اور اگر وو شس مرد جو قز لام ہےکہ 
ازیانے ڈگاتے وفت ا سکی شرم گاو کے علادہ اس کا پاقی جن برجن کر دا جاے۔ 

سیل ۴۸۷۵ ۰ جو مخس لغ اور عاقل ہو اھر وہ ساس چار خود کہ دار سوناباکوگی ور جیٹس 
کی یت اس کے باب ہو را نے ت گر وو شرمیس جو شرع میں می نکی کی ہیں اس میس پاکی جای ہوں 
پپلی چور یکرنے بر اس کے دای پاقھ کی چار ائلیاں جڑ سے کٹ دب چائیس اور کی اور انورھے 
کو چھوڑ دینا این اور مر وو دوسریی دنعہ چور لکرے و اس کا بایاں پنوں درمیان سے کلٹ دینا چاچے 
اور مر وہ تیسری وفع چور یکرے فو ا یکو با حیات قی دکر ویتا چاے اور اس کا خر عبت الال سے را 
جائے اور اس صورت میں ج بکہ وہ قد خانے می با سی اور کہ چ تی باد چور یکرے تو اسے تق یکر 
رما جاجے۔ 


ریت کے احام 


سیل ۲۸۸۷۰ : اگ رکوئی خص جو عائل اور ہلغ ہو ع1 اور جاج کسی ملا نک وف یکر وے تواں 
صورت میں ج بک مل مو یا لڑکا ہو اس کے ول یکو اختیار ‏ ےکہ قائ یکو موا فکر دے پا اے تل 
کر رے لیکن مر مقتول کافر ہو اور ای یق صلران ہو بر اس تا یکو فی می ںکیا جاسکتا اور اگر 
ود لن عورت پا لڑکی ہو فق اگمرچہ اس کے مسلرین تقاتی کو قن کیا جا سکتا سے مان اکر قاتل مد 
:و اس مل کی آ وھی ویت اس کے وٹ یکو دی جائی اج اور گر قائل ویوانہ با لغ ہو تق صرف 
یت دی تاج گور ا سکی ریت عاللہ بر سے جس کے مق بعد میں جائے جائھیں کے۔ نیز دی کے لیے 
چانز ہب ےکہ شٹنی مقدار پہ طرفین راضی ہو جانیں اتی دیت قائل سے کے نے اور اس صورت مل 
ج بکہ وہ اس ویت پر رضامند ہول جو شرع میس می نکی گئی سے کہ شمرغ میس دی تکی مقداریں 
عخلف ہیں ویزا اس ریت کے تین کا انقیار قان یکو ہے اور وہ دی ت کی لف مقداروں می سے جو بی 








تضیب‌الحسائل اڑود5 ا 


دحت مردکی دعت کے باب ہد گی اود اس صورت میں جب دہ کی دی تک الیک تائی جک 
جائے دہ مرد کے وانو ںکی دیت کا نصف ہ وگی_ 
کوئی شف شع کے ددوں پاقھ جوڈ سے جداکمدے 20 پہری وت دیق وگ ) اور ار 


7 دی کا ایک ہا جوڈ سے یداکر درے تو اسے چا کہ ا جیے منص کے تق کی رہ 


کے نصفب کے پرابر دیت رے۔ 


کوگی بجی کی کی دس الال کٹ دے ( 3 پوری ویت دیق ہو گی ) اور جس کی 


انئیاں کٹی ایی اس کے اگوھ کی دیت پاشھکی وی کا تیر حصہ اور ووسری را کی 
یت اس ک چنا حہ گی اور عورت کی دعت اکر لی دیت کے تیرے جھے جک بی 
جائے ت مر کی دیت کا لصف ہوگی_ ۱ 

کوئی شس کی عورت کے دڈوں پان کٹ رے (7 ری ریت وق گی اور اھر 
لیک پتان کالے ت3 اسے چا ےکہ ال نٹصی عورت کے تی کی شف ریت رے۔ 

گائی شس کی کے دونوں پاوں جوڑوں تک ما ال کے پاؤ نکی دی ںکی دس انیاں کٹ 
دے ( ری مت ٹا ہو گی ) اود او نکی ہانگ یکی دیت بی بصی بات ىی انی سے 
برابر ہے۔ 

کوئی خس کی مر کے شی ال دے (ت چ ری یت ری ہگ )۔ 

ٹیس مھ ی کہ ایی طلیف پیا کہ اس کی فی زان ہو جاے ( ری 
حصت وٹ ہو گی ) لو اگ دہ کی چھکو ا رم تڑ ےکہ دہ پھر درعت نہ ہو گت 
اسے چا پچ کہ دی دیت دے ارچ احوط ہے ہےکہ اس سے مال ت کر نے_ 


مسئل. ۲۸۰۹ء رر و کیک تی کر ےی ےک رن ا 
ٹس کا گر مہ ۸۳۰ کیاکیاہے خود لی الیک خلام آذ رکرے اور گر لام آزد کر کے رد 
می کل روڑے دک اود گر سے بی ہک مقر سماٹھ فو ں کر ہیں پھر کے کوک 
کو بس یکو ما“ لوبگ کر ےھ یایت بل کی ور می یی ار ول ےرود 
اس معا ف کہ دیں یا دیت لے لی 3) دے ا نے کہ دد مین روزے رککے اور ساٹھ فقبروں کو کنا 
کھلال اور ایک لام کو زا رکرے۔ 

















توضیڈالسائں_۔ےے 9 9 9 
سیل ۲۸۷۳۴ ٠‏ جو مخ سکس حدان بر سوا ہو آکر روکوئی ایا کا مککرے جس کے جج میں میوان 
مم یکو ضرر نیشھائے تو وہ شخفس یق ۔دار ومہ وار ہے۔ اىی طرع اگ رکوئی روس را نی ایم کا مکھر نے ننس 
لی ود ے چان خور عوا ر کو انی اور منص سک ضرر کنیا و بھو حس ای اك مآرے وہ ا ضر ر کا 
ور رع 

سیل ۲۸۷۲۷ : اگ رکوئی مس اہاکم نے یس کے تج میں عللہ عو رت کا صحل سافط ہو جات 
اور اھر ساقط ہوے وا ی چر آزار اور اسلام کے : یں گر وو طف ہو و اس لی بعک یں سال 
2 ری لہ دار سونا بت یں کا ہرثقال ہا فور کا ہوا ے اور گر مان می خون کال و تھڑا ہو تا گی ریت 
لس منقال اور آر من مز وش کا کگڑا ہو تر ا سکی دیت سائحھ خقال اور للھ ا لکی پا جن کی 
ہوں نز اس کی ویت اسی متقال اور اکر پڈڑیوں یر گوشت بھی 1 آئکیا ہو شان اس میں روح داخل نہ ہوئی 
ہو با یکی ویت سو متقال اور اکر اس میں روح بھی راخل ہو ھی ہو اور لڑکا ہو تو اس کی دعت ایک 
زار نال اور اگلر لڑکی ہو ا سکی دیت پاچ سو شقال شرگی سلہ دار سونا ہے اور ان قمام صسوروں شل 
ور ہرایک خقال سونے کے عوض دس درہم جاندی دے دی جائے تو کا بج 

لہ ۴۸۳ ۰ نگ رکوئی علطہ عورتکوئی ایام مککرے جس کے تیچ میں اس کا تل ساقط ہو 
جا ق ا یکو چا کہ ان کی دیت چے کے وار کو اس تتصیل کے مطابق دے جو سابقہ مل میں 
ان ک گی سے اور خورای حور کو اس میں سے اھ یں لماک 

سیل ۲۸۷۳۰۴ ٠‏ اگ رکوئی مخ س کسی علطہ عور تک وف کر رے قو ات پاٹ کہ عورت اود چ 


دونیں گی میدرے۔ 


مل ۲۸۷۳۴ ۰ اگ رکوئی خ کی کے سر باچر ےکی کال مس خراش ڈول رے تو ات چا ہے 
کہ انا نکی جو دیت مہ می بیان کی گنی ہے اس کا ٭۰ا دے اور گر ضر بگرشت تک تی جاے 
ا کی و و ےو +۵ رے اور اگ رگوشت زیادمکٹ جاے فو ٭٭۳ دے اور نکر تم گی 
کے ناک بررے تل ناج جا نو ۲۵ا اور لک پڑی نمایاں ہوجاے و ۳۰/ا ار رگم پڈڑی ٹوٹ جاے او * 
ا اور اکر پڑی کے مض ریزنے اپٹی گجمہ سے باہ رآ جاھیں ق ہلمح کو راگر فرب مخ زی چھلی تک ا 








ئن ات نیشن ڈ6 .<۰۰۰ 
توضیم المسائل ۱ ) 38 3 
انراز ہو ۳٣/۳۰‏ رے۔ 
مل ۲ڈ" رکوئی نس کی کے چرے پر تحیٹراکوئی اور جن اس طر مار ےکمہ اس کا چرہ 
رخ ہوجائۓ تو مارنے وا ےکو چا ےکہ ڈیڑھ خقال ججری سلہ وار مونا رت دے تس کا پر شقال ۱۸ 
ود کا ہو ہے اور آگر اس کاپرہ خلا ہو جائے نو جن مشقال اوراکر ساہ ہو جائے قذ لام ہے کہ پچھ خخقال 
ری سک دار سوا رے لان ار مارت کی وجہ سے کی کے پدن کاکوئی حصہ مرخ یا یلا با سیاو ہوجاے 
فو مازنے دالے کا اچ ےک جو دعت چچرے کے لیے جات یگئی سے اس کا نصف رے۔ 
منلہ ۲۸۷۹ ۰٠آ‏ رکوئی نس کی علا لکوشت وانے حیوا نکوزش یکر سے یا اس کے پدن کاکوئی 
حصہ کاٹ نے پو اسے چا کہ بے عیب اور میب دار جوا نکی آبت میں جو فرق ہو وہ خیوان کے 
ال گکو اواہرے۔" ۱ 
مل ے۲۸۳۷ ء: رکوئی مخ یس کی شعاری کت یا گھعرکی حال تکرنے دالے یا بھیڑوں کے گل 
یی تام تکرنے والے یا زراعح ت کی پاسبا ٰکمرنے وا لے کے کو مار رے ڑاے چا کہ نکی خبمت 
اواکرے.اور کر شکاریٰ ھت کی قبت چالیس درم ےکم ہوقر اس کے لیے لازم ہے کہ بالیس درہم اوا 
اف یی 
مستلہر ۲۸۸۸ ؟ اگ رکوئی جوا نک" یکی زراعت مال نل فکر رے نز آگر حیوان کے مالک نے انی 
یداش می کون یکی ہو ا اسے جات کہ خیوان نے جشئی مقدار یں نال یا زراع ت کو نتصان مٹیا 
ہو اس کا پرجانہ مال ما زرالعت کے مال کفکو اواکھرے- ۱ 
متلہ ۲۸۴ ٠۰‏ اگ رکوئی پچ کس یکمیر ہکن کا رما بکرے تو اس کا لی یا ٹلا اس کا “عم میں کے 
ولی کی اجانت سے اسے اتا مار سنا ےکہ بچہ عودب جو جائے لیکن مارتے کی وجہ سے ویت واجب ن۔ 


ہو جائے۔ 


متلہ ۲۸۳۴ ۰ اگ رکوئی جن کی چےکو انا مار ےکہ دیت واجب ہو جائے نز دیت کے کابل ٭ 
ہے اور اکر بچہ مرجائے ونس بر یت واجب ہو وہ اس کے ورما کو دے اور اکر شال کے طور یر پلپ 
اپنے چے کو اس تر مارےکہ دہ مرجائے تو دیت بے کے دوسرے ورماء لیس کے اور خود با پکو رعت 








سے بپجھ نہیں نے گا۔ 
تو سائل 


سیل ۴۸۳ ؛ اظر جساہے کے ورض تہ کی ج ےکی شخ سکی جاندار میں گی جائیں فو دہ انمیں 
ور ۴ت ےت او راگر اش ورضت کی جڑرں سے ا ےکوگی ضرر 2 ۳ وو ورشت 2 مالک سلک ہرجانہ 
نے سک ہے۔ 

تل8 ۴۸۳۲۲ ٠‏ بب بٹ یکو جو جینزرے اگر مال کے طور بر سچھوتت با شش کے زربیقہ دو ای 
کو بٹ کی علیت میں رے وے ت اس سے واٹیں یں نے عکتا اور اکر ا کی لیت میس شہ وا ہو تر 
اس کے وااپیں ین مم ںکوئی حع میں 

سیل ۲۸۲۳ ٠أ‏ رکوئی حخصس مرجائۓ تو ان کے ہلغ درماء اپنے یے سے می تکی رم عزاکا 
رج برداشت کر یت ہیں لن نا پلفوں کے صے میں ے اس مقصد کے لیے وھ خی لیا جانکتا۔ 
سیل ۲۸۷۴ ۰ مر ازی نکی ملا نکی فیب تکرے ت اقیاط صس مب ہہ ہ ےکہ اکر فساد چیا نہ 
ہو اس لران سے ک ےک وہ اسے موا فکر رے اور اکر یہ کن نہ ہو ق اسے اچ کہ جس شس 
کی غیب کی ہو اس کے لیے اللہ تعاٹی سے تخش ش کی دعالکرے اور اکر اس غیب ت کی وجہ سے ا 
ملا نکی تین بوئی ہو لاس صورت ٹل ج بکہ مین ہو اسے چا ےکٴہ ایں نزو نکو وو رارے۔ 
مہ ۲۸۲۵ : من کے لیے ہہ جاتز نمی ںکہ اکم شر کی اجازت کے افی ری ابیے شس 
کے مل ضص کے پارے میں اسے علم ہوکہ اس نے ففس نمیں دی ٠س‏ جال نے اور سے عاکم شر کو 
روے رے۔ ٠‏ 

ستلہ ۲۸۳۷ ؛ ج آواز و و احب اور پازیگمر ی کی کفلوں سے مخصوص جو دہ نا ہے اور ام 
ہے اور اکر امام ین علیہ السلام کا فوحہ یا جلس یا قرآن یر خنا کے لیج میں پڑھا جاتے و دہ بھی عام 
ٰ ہے لان اکر انمیں نی خوش الا سے بڑھا جات جو خنا کے زمرے میں شہ آتی ہو ہکوگی مغ خمیس 


ت۔ 


سسجبپبپتتہہیت-ت-۔-۔-۔ٗے۔وس_ت-ھ۰ھ2:-- 








توضیحالعسائل ٥٥٤ا‏ 


سیل ے۲۸۲۰ ان پاتوروں س کار رۓ سکوئی مم ینا جر ازمت رسال ہوں او ری کی 
لیت بجی ئن ٤ول)۔-‏ 


مل ۲۸۲۷۸ : جھ انعام پیک اپنے ہنس کعات دارو ں کو دیتا ہے دہ دہ اتی مرتی ے لوگوں 
سے لوک ںکو شوق ولانے کے سلیئ ویتا ہے اس لیے عطال ہے۔ 

لہ ۲۸۷۹ ۰ اگ رکوئی چت کی کاری ہکو درس تکرتے کے ج دی جائے فور اس کا اک اس 
لی نہ آے و اکر کاریکر علا شکرے اور مالک کے لے سے ناامید ہو جائۓے تر اسے جا کہ اس ج کر 
مال ککی ٠نیت‏ سے عطدق کر دے اور احوط ہہ ہب ےةکہ عاکم شرع سے اجازت لے 

مہ ۴۸۳۴ ۰ کوچہ اور بازار میں ین پ مات مکرتے م ںکوئی حرج خی خواہ وہاں سے عورتیں 
کیوں نہ گذرتی ہوں لیکن بنا پر اعقط بات مکرتے والوں کو پیض چے ہوئے ہونا چا اور اکر مائھی 
رستوں کے آگیے کے عم وغیر" نے جائے جاتھیں نو کوئی عمفعت نہیں لیکن اہو و اب کے لات 
اتیل می ںکرنے چازپن اور ای طرح زنیوں سے با مکرنا یا تھ زی کرنے می ںکوئی حرج میں گر 
شر زل ما زجھرزل سے موت کا یا شدید ضر ب کا نوف نہ ہو۔ ۱ 
مہ ۲۸۳۱ ٠۰‏ سونے کے دات آوانے اور دانتوں پر ون بڑھان ےکی مرو اور عورت کے لیت 
کوئی عمانعت نی خواہ اس کاشار زہنت میں ب یکول شہ ہو یا ہو۔ . 

لہ ۲۸۳۲ : ؛ن سے لیے استصنا کر لی انی دی بای رکے علاوہ جن سے ہماع 
کر جائز اپ پاتھ یا اع کے لف رکسی اور کے ساقھ کوئی ایا کم کرنا جس سے می نمارخ ہو 
نو مج 

مل ۳ ڈڑاڑصی موطنا ما مین وغیرو سے اتی باری کٹا دیناکہ منڈی ہوگی کی مائند ہو 
جاے مرام ہے اور ڈاڑھی موعڑن ےکی اجرت بھی حرام ہے۔ 


مل ۴ ] اتعقظ داقب ہہ ہ کہ چچے کا دی اس کے با ہونے سے پل اس کا خق ہککرا 
رے اور آلر وہ اس وقت تک اس کا ختنہ ن ہکرائے قز لغ ہونے کے بعد مود ےی بنا خق کرات واب 








رت 
22 
لف 


توضیج‌المسائل 1 
ٌ۔ 


مل ۲۸۳۵ : مر پاپ اور میں قب ہوں او رکوئی کا مکر کے کا نہ گت ہوں ےھر ان کے 
فرزیر کے لیے عمکن ہو اسے چا ےکہ ان کا ےچ رے۔ 

منیلہ ٢۸۳۷‏ ...اک رکوئی منص فقیر ہو اور ما مکر کے کا بھی نہ سکتا ہو تو اس کے با پکو چان 
کہ اس کا خرچہ اسے دے اور آگر اس کا پاپ نہ ہو یا اسے خرچہ نہ دے متا ہو اور اکر اس کا کوٹ 
فرزن بھی ن ہو جو ا سے رچہ دے کے نز مضمور ہے ےکہ اس کا واوااں کا خچہ رے او ر ار وارانہ 
ہو یا اسے نرہ نہ دے متا ہو تق ا ںکی ما کو چا ےکہ اسے خرچہ دے اور اکر یں بھی نہ جو یا خرچہ 
رر سپ و پک وس کر وق ا ران کا خی وآ کون 
سے للض نہ ہوں نا رجہ شہ رے گت ہوں نز لام ہ کہ ددسرے نی جو باتی ہوں) اس کا خرچہ دیی 
اور قول مشمور ایا کے مواقن ہے۔ 

مسنیل ے ۲۸۳ ۰ اگ ایک دیرار دو آرمیوں کا مال ہو (ئنی ا سکی علیت میں دوفوں شریک ہوں 
)ذ ان میں سےکوئی بھی من میس رکتاکہ دوسرے شری ککی اجازت کے ایر اسے ہنوائے یا اس دوار, 
پر اتی ارت کا شوتہ یا پا رک یا اس می ںکوئی مغ گاڑے لن ای کا مکرنے می کی حم نیں جن 
کے بارے میں معلوم ہوکہ شریک ان بر راضی ہے (شلا دیوار سے تیک نا اور اس بر کپڑڑے ڈاتا) 
لن اکر وسرا شریک کی کہ میں ان کاموں کی اسبازت بھی ٹمیں وتا ق ان کاکرنا بھی جائز یں ہے۔ 
مل ۲۸۳۸ : مان یا انمان کے پرے بدن کی نقاشٹی خواہ دہ محسمہ نہ بھی ہو حرام ہے من 
فو کرای کے زر یہ اقصومہ بلانے می ںکوئی حرج نیں۔ 

متلہ ۲۸۳۹ ۰ جب کی غیدہ دار درخت کی شائیں با کی دیوار سے باہر نل چایں تو آمر 
انان ىہ نہ جانا ہ کہ درشت کا الک راضی ہے یا میں قز وہ ہار اط اس کا کچل شمیں فزڑ ست اور 
اکر اس درخت کا بل زین برا ہو تا بھی نہیں اٹھا کت 





توضیحالمسائل لے ا ۱.۶92 


:رولوٹ کر احام 


وپیٹ اور دکان وغیرہ کی گی کے معللات لوگوں میس برا ہیں اور حرام النا کی ذینی شش 
کش کا موجب بے ہہوے ہیں اور ان کی شی جواز کے مععلقی سوال ہوتے رے ہیں اس لیے جم نے 
شدری مچھکہ اس موشو پر کائی وضات سے مگھیں اور اس رساے کے آ خر میں ایس رس مت 
امام در خگر کے عام لوگوں جک جیا ریں۔ 


سیل ۲۸۳۷۰ : علام شور کا ارشماد ہے کہ جو معاللات معاوہ ( ٹین دین )کی شکل میں ہبوت 

ہیں لن مس لازم ہ ےکہ معاو ےکی تقائل یں قبت کت ہو ںک وگ آر دونوں میں سے مکی ایک 

چک یکوئی قیت نہ ہہوگی تو معللہ سنیمانہ اور انل ہو گا ملا اگ رکوئی نس جو کا ایک دانہ کی کوئی 

پاب ری یہ سے پیک 

کرے وہ پاطل ہے اور ا ںی تتحیل جم اس کے مقام پر تاگے یں۔ 

مسلہ ۴۱ .مم کی ای کی دو میں ہیں۔ 

اہ ھی بی کہ مال بذات خود اڑی ضفعت اور خواص کا عائل ہ کیہ لوگ ا کی اس نات پا 
خائی تکی وجہ سے اس سے رغفبت رھت ہوں اور اس بنا پہ وہ یتال بن جائے لا کراۓے 
پننے گا چاریں' فرش برتی اور خلف عم کے جواہرات وخیر 

۴ مہ ئی مک مل ذاتی طور پر کوگی قمت اور تفعت نہ رکتا ہو بگلہ اس کی آبت انتیاری 
ہو شلا ڈلک کے ملٹ اور ایے بی حخلف روسرے اسصسب جج نکی قبت کومرتی نے 
می نکر رکھی ہے جھ ایک روپ یا ای سح ےکم یا اس سے زیادہ ہوقی ہے انمیں ڈاک ماے ْ 
میں لوط کے لی کم مور عدانں میس عبینوں پر پان کے لج رہٹرار ونٹزیں 
معاللا تکی رجٹری وظیرو کے لیے قو لکیا جانا ہے اور ای وج سے وہ قبت کے عائل ہو تے 
ہیں اور جب علوست ا نکی قمت ش مکرن اتی ہے تقو لن پر کی مرنا دق ہے اور 
انیس ناقایل قول منارق ے۔ 


سیل ۳۲ جن چیزویں کا ین دی نکیا جانا ہے یا جھ لور قرش لی یا دی جاتی ہیں ا ن کی دو 








نمیں یں۔ 
ایت یں اور ٭٭زون (٤ی‏ جاے وا یٰ اور وزژ نکی جانے وا ی۔) 
ظا 2 یں اور غمموزونں۔ 


پلی تم وہ سے ج سکی قیت ا پکر یا وز نکر کے معلو مکی جائی سے لا چلول ندم ہو سو 
پندری دفیرو دوصری تم وہ سے جس کی قیت شا رکر کے معلوم کی تی سے لا مرٹی کے انڑے پا 
فنوس اورگزوں وخیر کی صورت میں معلو مکی جائی ہے مشلاکپڑا در فرش۔ اب صورت سہ ےکلہ یسا 
کہ قرض سے سلبلہ مل جو ج سکسی روسرے من سکو بر قزضش دیی جائے اکر اس سے زیادہاوائ یک 
شر ہو قر خواہ وہ ناپ ىا لے وای چز ہو پا نہ ہو وو سور ہے اور ایی قریض حرام ہو گا اور لین دین کے 
سلیل میں بھی ہر جہن پا ول ےکی چزکو ا سی ہم جح چ کے عوض خرییں لود یں زیادہ دای 
کی شر دسی صورت میں معللہ اٹل ہو جا گا" کن جو چز لی یا قول نہ جاتی ہو کر اس ا معللہ ای 
سی ہم جنس جز ےکر تر فو زیدہ اواگی کی شر ہیں ود سو میں ہو گا نا تج می ہہ لہ 
برآھ ہوا ہےککہ ج بکوگی مس می کے سو ایڑے ووسرےکو لا دو ممیتوں کے نے یک سورں 
دیڈیں کے عوض قرض رے تر سور ہو جانا سے لین مر می کے سو ابڑے دو ممیوں کے جیے ایک سو“ 
دس انڑوں پ تچ دے ل گر شن اور مضسن کے درمیان فرق ہو (شنی یچچ ہو اور حریرے ہوئے 
ایڑوں میں فری ہو) نز سود نمیں ہو اور سعاللہ کیج سے چنانیہ صرف زات معاطہ میں فرقی سے اور اخ 
ایک ہی سے اکر قش سے تسود سے اور اکر خرید و فررشت ہو تر سودخیں سے اور یہاں ہے معلوم ؛دٗا 
اہ ےکم قر کی حقیقت قرش کی حقیقت سے ملف سے اور وہ اس معن می کہ قش اسےہکھ جا 
ےکہ اما سی ووسر کو اس قد سے مال کہ وہ مل لیے وانے کے زمہ ہو جاے اور فوشت 
کہ عطلب ہ ےکہ ایک یل کے پرلے دوسا ا لک یکو دا جاے لا ذردشت میں لازم ہے کہ جا ہوا 
ای اس کے برنے میں لیے ہو مل سے تطلف ہو او اس رح سے معلوم ہوتا کہ اگ ہکوئی ٹس 
یل کے طور پر عرفی کے سوابڑے ایک سو یی کسی کے و کر کے یچ ین بی کے پا سو انڑے 
یچ اورا سے کےکہ ایک مو رس ابڑے تتمارے سے ہیں ق ان دویں اطروف کے انف میں فر 
ہن ضروری سے لا رک ہکوگی خصس مرفی کے سو بڑے ابڑے ایک سو دس درمیانہ سائۃ کے پلقال 
وہ میں یچ کہ گر ان سے ورمی نکی کا فرق نہ ہو ق نکی ب عبت نمی ہوتی جمہ دہ 





توضیم‌المسائل ۱ [_ 6:۵4 0 
دریقت ت کی شکل میں قرضس ہوگااور سی وج سے موللہ مرام ہو شا گان 


مل ۲۸۰۳ ؟ نام کلفدی فوٹ مل عواتی دیتار اکریزی ون امرکی ڈالر یا امرانی یل وخیرو 
یٹ کے عائل ہی ںکبوکلہ پر حوم کی طرف سے کانذی نوفو ں کی تیت نین کی گنی سب چو مارے 
تک می قو لکی جا ہے لور را ہے اور ای وجہ سے ہہ فو قیت رھت ہیں اور حکومت جب بی 
چپ ائیں م فو کہ عق ہے اور ا ن کی ہلت کو کالنرم تاد دے تلق ہے اور بھی معلوم ہ ےکی 
وٹ ٹاپے یا نو لے نی جا کم اور ای وجہ سے ان نوٹوں کا معاوضہ ان کے ہم جنسوں کے متایے میں 
زیادہ یا جاے فو وہ سور شییں ہے اور اسی طرع ار ان نوٹوں کی ادائگی مبلور قیض کسی کے زے ہوم 
ای کا نہ کے عوض معلل ہکرنا خواء و وکم ہو ا یادہ ہو سود نیں ہے۔ خلا اکر ایک من کو وومرے 
سے دس ہرار رو لیے ہ+ول اور وہ ان کا و مار روپے قد پر سودا گر لے و وہ سور خی ہوگا جا 
ہرعوم آیت اش بیادی اعلی الشد مقلمہ نے محقات دہ کے سئلہ 9 مم رع فرائی سے اور وو فریاےۓ 
ہیں لمعفوٹ معدود ہیں (یشنی اشمی گنا جا ہے ولا اود با ٹیس جاا) اور نترین (سونا اور چاندی )کی جن 
سے ٹیش ہیں اوہ لیک ینہ قیت رھ ہیں لود فقین کا ام ان پر جاری می ہو ]۔ لنراان میں ے 
٠‏ ٹن وو سروں کے عو کم لور زیدہ پر بنا جا ہے اود ای طرح ان پر وی عرف کا عم چاری نہیں 
ہوا ‌ سکی رو سے میٹ مس تج کر واجب ے''۔ 
مل ۶۴ ] :میں کے جم پروزووں ٤6‏ معللہ نوکیں مس ہوا ہے دراصل وہ پروئوٹ خور 
البت رکت ہیں اور معالم ان کا( می[ ان پروفوڈس ک) ہو ہے جن کے مو تکی سے پرولوٹ مد ہوتے 
ہیں شا زی ندم کا ایک خمدار دد جزاء روپ مل پچ دے اور اس کے لی رو مین کی مرت کا پرووٹ 
گھوانے_ چرچ رکم اس نے نی ہے اسے می اس پروفو ٹکو دہ ایک سو ردپ کم یہ نی ایک زار 
لس روپے فق کے عوضی پچ دے 3 پروللٹ اس بات کے وت کے لے ہے کہ دو بزار روپ 
پیا لود پروفوٹ کے پلیت کا عائل ہون ےکی دمل یہ ہ کہ جب آ پ ندم کا ایک تردار دد ہزار رو 
میس میں تار شریدار آ پ کو ال کی فقہ قیت دے دنت قز وہ بی للزصہ ہے لن اکر پروئٹ گے 
دے قرا یذ داری غم ہو جال ہے اور وہ دد جرد ردپ کامخوض می ہہ اود ار رٹ گر 
۱ ہو جائے یا جل جائے خریدا رکی ذمہ دای بر قرار نیس رہ گی ا ںگندم فریرنے دا ٹکو از ےک 
ن کی بت نوس می ادائکرے آ اس صورت میں پروئوٹ خ او جائے گا یا نمندم یی والا پرووٹ 


" 
آ 


ۓ) 








توضیحالمسائل ۱ ٍْ 7 5 





لے را 

مل ۲۸۷۵ : و کی بک مین یک تح کی سی ار 
روفیٹ یقت رکتا ہو ھی سج ہو اور اس می ںکوئی تمہ خال نہ ہو خلا کوئی مخ س کوی سی 
دوسرے کے پا نے اور جو ایک لاکھ روپے اس کی قمت کے طور بر لن ہوں ان کا پونوٹ لے لے 
ارد وی ایک لاکہ روبلہ (لشنی جو پروفوٹ اس نے لیا ہے) بینک کے پا کسی اور کے پاش معاے اور 
انقال جن کے نوان سے یچ اور اس کی قیت میں رت م کی داکذاری کی رت کی غیت ےکی کر 
رے آو اس مہ ںکوگی حح نہیں ہے۔ 

مستلہ ۲۸۴۷ : جس بروفو ٹک یکوئی حقیقت نہ ہو اور مج لھا میں کاھاگیا ہو اگ رکوئی ٹنیس 
اس کا سالہ کسی غیر گی بیک سےکرنا چاہتا ہے نر جوم رتم بیک اسے دے وہ اسے لے متا ہے۔ 
روف کی قیام تم ا س کی خوائش سر ما ممول کے مطابق اس کی خوائش پر ا سک وانبی پر پرولوٹ 
ریے دالے سے وصو لکرے تو وہ پروفوٹ وین وال ےکو تمام تم اراکرتے کا زمہ دار ہو جانا ہے اور ہے 
ان دوٹوں کے لیے سو کی شکل انتا رکرنے کا موجب نمیں بے گا اور اکر وہ شخنصس کھی یک سے معالہ . 
کرنا چاہے تر سود سے تچ کے ری ہیں 

مستلہ سے ۲۸۴ ٠‏ عدے دالے پروفر ٹکو جب جییگ یائکسی اور کے پاس جیا جانا سے تق موا نر 
بت کے مقال ےہ میں جا جا سے اور اسے ار ارحار اور وعرے کے عقالے میں جا جائے و اس شمم کے 
موالے کا گج ہوتا شیک نہیں ہے۔ 


مل ۲۸۷۸ : جھ پرونٹ سے جاتے ہیں ان کے بارے میں علومت نے ایک قانوں وض کیا 
سے جس کے مطابق مر بروفوٹ کین ولا مقررہ برت شقم ہونے پر رقم اوا نہرے ق ینک پا دویسرے 
خریدار اس جات کا انقیار رکتے ہی ںکہ یی دالے (یٹنی جس نے پروئوٹ کھو اک رکسی کے اتھ پچ دا 
)یا پروڈٹ پہ وخ ککرنے والیں سے رہوع کریں اور ان سے پرولوٹ کی .ر7 عطالہہ ۷ری اور 
پروڈو ٹکو ال مل ور شدہ رم کے عو ( اور اس رتم می ںکوٹ یکھی سیئے بغیر) دائی ںکر دیں اور یچ 
ولا ما ح لککرنے وائے بھی اس بات کے پائند ہی ںکہ بینک یائصسی ددسرے خریدار کے عطالیےہ بر مم 
اخیں اواکری اور ای انی سے تماما یشٹریروفٹ کے والے پا ان یر وخ کرئے والے واقف 








00ا0فییو ور انت ُُْْڈ ڈ6 ہہ س....۔ 


: توضیحالعسائل ۱ ). نتت‎ ٦ 


ہیں۔ اور بروٹوفوف کا لین رین اور ان پر عملدرآنھ ای شرط کے مطالق رض شرط ضمن یکھا حا ثت) ہو 
سے لذان بروفوٹیں بب اس شرط کے مطابق مل ہوا ہے ان کے بارے میں جماں تک ان نوکوں کا 
تعلق ہے جو ان کے لاڑبی ہونے سے واقف ہیں ے رط مصمفھر ہے اور ا کی رعای تکرنا ضروری ستت 
اور ہے شرط جانیداو خی رمقولہ کے لین دی کی رجٹر ی کی طرح ہے کبونگمہ علوصت مبانداو غی رممقولہ کک 
ہراس لین وی ن کو جن کی رصٹری کرائی جاۓ تقایل اجراء نہیں تھی مور سب لوگ لین دین میں 
رمعٹڑی کرانے کے پابعد ہیں اور کوئی شس رصٹری کرانے سے انکار خمیں کر اتا کیوجہ سدوت پ 
عحلد رآ ھکی یاد دی ای شرط بر ہے اور جیساکہ ایا جا چا ہے اڑسی شرشیی جن کے مطالق معائے پر 
عملرار آحد انام پا نا ہے عھنی شرنی ںکاتی ہیں۔ 

مستملہہ ۲۸۴۹ .: بکوں میں رسحتور ےکہ ایک جا والا پرونوٹ میں خریدتے گن بض 
اشفاص ہیں جو ایک وط دالے بوفوٹ کا لین رین بھی کرتے ہیں اور جک خھوا ای اشنا قبت 
دے ریے ہیں اور پرونوٹ خریرتے ہیں اور موب ایا معاللہ بیطور قرش میں ہوا چیہ اس پرولوٹ کی 


خریر و فروفت ہولی ے۔ 
دن وی کی پلڑی کے احکام 


معروف معللات میں سے ایک معللہ نچگڑی کا ہے نس سے اکٹ نوگو ںکو سابقہ بنا ہے لبنا اس 
گی تر ەل چلے۔ 

گچڑی جو کاروار میں معتمل مہ سے تعلق رق ہے جنیادی طور پر اس سلہ لی کی وج ىہ سن 
کہ کاروپاری تقام کاکرکی دن بدن بڑہتا جے او رکرائے بے دس والاک یکرلیہ داد کو ال کہ ست ثقال 
میں سکتا اور شہ ب یکرایہ بڑھا سنا ہے اور بھی ایا ہو با ہ ے کہ ایک دکان یا کاروپار گی کہ ساماسال 
تک ای ابتقدال یکراۓے ب رکرابیہ دار کے قیف میں رنتی ہے او رکراے میں ایک رو بے کا اضاقہ بھی ٠ہی‏ 
ہو ایوہ گرایہ :- و والا ری وا رک ال ۰5 ے اور نہ گرلے پڑھا کت ے ہلاگ ای تی 
چیہ ک گناہ زیادہکراے پر اٹھ اتی ہیں۔ 


لہ *۲۸۵ ٠‏ اس عم کے ماروبار کے مقاما کی جن مض میں ہیں ان میس سے ایک ش مکی جک 








رفا ۱ .2٥ا‏ 


یل نک کی آجازت اور ری او یقی رکاروپا رگرنا اور اس کی پلڑی لیت ۶ ہسے اوہ دوس رکی وو قہوں گل 
جو ں کی پڑی انا چائمز سی کر جائز اور ناجائز ہوۓ کا معیار ہے ہ ےک ذمب تعلو بت سے و وگیہ ین کرای 
بہ سے دالا غال یکرانے او رکرایہ ہڑھائے کا می رکتا ہو او رکرلیہ داد زیردستی کرتے ہوئے نہ لو کرای 
بڑھ ا ہو اور نز ہی تہ خل کر ہو و اڑسی صورت میں اس ہل ہکی پگڑی ہنا اور مان کف کی رضامتیی کے 
بغیر وہاں فاردبار کرنا جاتز یی معفرلم بج اور ہر ای صورت میں ج بک جائمرار نا الک ترایہ بڑہادئے یا 
.فان کرا نے نفاعجق ون کنا ہو فو رحب وا زی وسر کی کین وو میک ہتفای کے کا شون رکز 
الف کی رضامندی کے بفی ڑم دنا مطالق شرع اور واں کاردبا رکرنا جات ہے اور آسندو مال میں لن 
توں اتا مکی وائع میں دی جامی ںی ناکہ مطلب روشن ہو جاے۔ 


لہ ۲۸۵۱ ڈ٠‏ جہ کوئی اللوک ابیے زانے میں کراب پر دی گی ہو جب گلڑی کاکوگی سوال نہ تھا 
اور مال فکو انقیار تھاکہ جب بھی اجار ےکی برت تم ہو تہ خال یکر نے با کرلیہ بدھا رے او ر کرای 
رار کے ۔أیے کی ضردری تھاکہ مہ خا یکر دے یا زیادہ کرای درے اور معاہرے میں ران بڑھاتے اور 
اجار کی مدت میں نس رن ےک یکوئی شرط نہ شی اور بعر میں لوت نے ایک قانون و ض کنیا نس 
گی رو سے الا وت بڑھافنے نا کرایہ وا رکو بے دخ لکرنے کا ضن پائی نہ رانا اگر اڑی صورت میں 


کراب رار نقافون کا سمارا لگ تی بھی خالی ن ہکرے امو رکرامیہ بھی نہ بڑھا ئے جس کہ ای شی ہیں 





جو قانین نافپز ہونے کے بعد کراۓ پر دی گی ہوں ان کاکرلیہ کک ی گنا زیادہ ہو اور ای وج 5 
لین کا مومع پرا ہوا ہو تاس صورت می ںکراے وار کاکچلڑی لیتا جائز خیں کت اور مالک گی رضامندیی کے 
بنیراں کا اس مہ می اتضرف بی عرام ہے۔ 
ل۳۰ ۲۸۵٢۱٢‏ وگ کرئی رکان بنا در موں اور ال پر رم خر کر رت ہوں اور ای 
دن کاکراہ مال کے طور بر دس ہار رویسہ ابانہ ہو ہو لن نقز ی کی ضرورت کے باعث وہ لیگ 
آپنے زا رت اح ون کات ضا کے کیک بر رت ماشہ اور اس کے عااوہ لغ با 

لاک رویسہ نق کراۓے 77 دے دی اور اس شحن میں ہہ شر ا کری یکہ جب ت فکرلیہ دار اس جا 
رسے گا سال بہ سال سی ایک ہار ردیسہ ابانہ کے کران ےکی یدید بہوقی جائے گی اور لا ن کر کرلے 
بڑھھائے کاکوگی انفتیار ت, ہو گا اور اگ رکرلے دار چاے گا کرای بر کی جاے وا ی چک کی دو سرے شس کر 
مت ل کر دے گا اور مالقان ایس سے بھی دج یکرایہ ٹیل کے جو ھکار وار ے کے 32 ای آیںل 





توضیح‌العسائل ا 0( ا 


راد روچ بابانہ سے میں بڑھاھیں کے اور سال نہ ساں ای پچطہ کرائۓے کے معاہر کی تحبدید ہوتی 
رہ ےگی فو اس صورت می ںیکرایہ وا رکو انقیار ہے کہ وو کسی دوسرے کو عق لکرے اور وہ ئل خالی 
کرنے اور اس میں سحوخت تر ککرنے کے بدلے میں جس مخ کو وو تہ ختق لکمرے اس سے جقنی 
ری خود دی ہو اتی بی ما اں سے ےکم ما اس سے زیادہ وصول کربے اور پائیداد کے بالیا نکو اس پر 
اتا ضکرنے کاکوئی جم نمی ںکیدکلہ جو شم میں یک یمئی ہیں ان کے مطابق دہ کزی لین اور دو کل 
دوسر ےکو شحف کرتے کامی رکتا ہے اور جوکچگڑسی اس نے کی ہو دہ شریا“ چائز ے۔ 
مہ ۲۸۵۳ ٠‏ جب لو ککوئی دکلن ہتامیں اور اس پر رقوم خر خ کر اور اسے عام شرع کے 
ماب قکراۓ پر دیں اور گچگڑی بھی یہ یں شیک نکرایہ نامہ میں شرط انی یکہ سب ت٠‏ ک کرلی دار وہل 
صکوفت پذہ ہے اٹئیں انی الکا نکو دکان خال لکرانے او رکراہہ بڑھانے کا تن خمیس ہے اور سال پہ ال 
مارے من سنج کرت برنیں کے از ش ےگ تا مراتیاس ج کی ما وو اڈ 
کرایہ وار اس کی دوسرے نس کو خق لکرتنے کا من نمی رکتا او رکراے پر ونینے والے کے لیت 
ضروری خی ںکہ وہ اسے کی دوسرے کو شعخ لکرنے پر رضامند ہو نین اگ رکوئی تیسرا مخ وہ جج 
کراۓ پر لین چاہے او رکرایہ دا رکو شلا ىہ لا د ےکہ اگر خم ہہ مہ خا یکر دو ار میں تمیں ای لئ 
روپ ٰوں گا اور پھر پیک کے پا چاکر اسے ای بات پر رای کرت ےکہ دہ اس سے یٹھے رم نےکر 
وہ تہ اس ےکراۓ پر رنے وے اور روہ شف پل کرایہ وا رکو ایک لاکھ روپےہ در ےکر ال سے وہ 
مہ خا یل کراے اور بعدرازاں خود مالک سے جس رت کاوعددکیا ہو وہ اسے د ےکر وہ ہکراے پر لے 
نے تو جو ایک لاکھ روپل پل کراہہ دار نے لی ہیں دہ اس پر علال ہی ںکیونگہ اس نے پرکورہ مہ کے 
انال کے عو کی اڑی چنز میں کی جس کا اسے مق کک نہ پچچتا ہو جکنہ اس نے ئحض وہ تمہ خال 
کرنے کے عو رکم ہے جس کے بادرے میں وہ ہقرار تھاکہ مالک کے سن کرایہ وا کو سیر دکرنے 
کے لیے خالی نکرے ہنا داع ہ ےککہ اس صورت میس کڑی تمہ خا لکرنے کے لی لی گنی سے اور 
اس نچک ہک وکا بر اس کے مالک نے دا ے۔ 


متلہ ۲۸۵۳۰ ۰ اگ رکوئی ‏ سکوتی تک ہکرکیہ پر نے اور ماک کے ساتھ سی شر لن کر ے کہ 
ا کو اسے ڈالے اور مہ خلیکرنے کاعن نہیں ہوگا جک وہ ال یہ سال ىا مہ بماہ فط عام شر پ 
کرلیہ دار ےکراہ وصو لکمرے گا اور ہے شرطا بھی سط ےکر ےک ہکرایہ وا رکو ہہ جن ہو ٹاہ دو اس نگ 





توضیحالمسائل )( ووہ] 


میں اپنا می حکوعت کسی ووسر ےکو معحف کر رے نو اس صورت میں کھ یکرایہ داد سلگڑہی دوسرے کے 
اھ سکنا سے نیشن سی سے رتقم ےک انا اسے ف یکر سکتا ہے۔ 


یس کے ایام 


مستلہہ ۲۸۵۵ ۰ ہہ ( یی رن ) سے یہ عرادر ےک کوئی ٹیس ہر سال مھ رقم بلامحاوض ہی 
فرد پا کسی گھیت یکو دنا رسے اور اس من میں ہہ شرذ سم ےکر ےکہ خلا اھر اس کی وکان یا موٹرکار یا 
کا نکو یا خود اے کسی تم کا طرر پچ تو دہ کپتی یا فرد اس ضر رکی طالیکرے گا یا اس ضر رکو دور 
کرے گا با ا ںکی بناری کا علاع کرائۓ گا اور ہے معللہ جعالہ میں واشل سے اور اگر اس ش سکو یا اس 
کی متعلقہ ملا کک وکوگی ضرر نچ تق مشروط علیہ بر واجب سے سے شدہ شرائط کے مطابق اپنی ذمہ واری 
بی کرے اور خس مخس نے بی ہکرا رکھا ہو اس کے لیے رقم ویو وصول کرنے میں کوئی ص 
نہیں 


صرافہ اور یک ۱ 


سرائے کے اط سے بی ککی تین صورخیں ہو عتی ہیں۔ 
عوای جپیک جن کا سملہ ایک شخخفص یا زیارہ اشفا کی عگیت ہو- 
۳ں سراری یک 
×۳ سرکادی اور عوائی مضترکہ بیک 
مستلہ ۲۸۵۷ ٠‏ ا بییک سے سودی قرضہ لین جائز نمیں ہے اور منانع لین بھی حرام ہے لن 
اس عرام سعالے سے بے کے لیے مندرجہ زیل طریقہ انقیا رکیا جا سکنا ہے۔ لا قرضس لیے ولا جک 
کے الک ما اس کے وکیل سےکوئی چز بازاری بھاو سے ب۶ا یا ہ٢‏ زیادہ بت پر فریدے اہ ٹیک 
اسے کچھ رتم بطور قرتش دے دے یا بی کک وکوئی چنزبازاری بھاؤ ےکم ققمت پر یچ اور اس معالے 
کے من میں شرط س ےکر ےکہ اتی رقم فلاں وت کک بییک اسے قرض رے گان الس صورت مل 








توضیم‌المسائل إ 08 ا 


قش لیا جاتز ہہ اد ہے سودقی کارویار بھی ٹیس ہے ای طرعکوئی چہ ور ننخش رمر بھی شربد نی 
جا ہےکہ شش دسینے وال کو فلاں وقت تک اتی رقم لور قزش دی جائےگی۔ لین ایک رآ و 
اں ے زیادہ دم کے بد لے کی چ کے ساتہ شا لک کے یجے بر مت زائل میں ہو علق شل ٭.ر 
ردپ کو ایک مایس کے ساتقہ ایک ماو بعد اوا کے جانے دالے ۴ا روپے کے برنے فروشت کرت تم 
4 ہےکیوکلہ دراصل یہ سودی قرض ہے اکرچہ ا سو بظاجر خریر و فروض ت کی صورت دے دی گنی 
ے۔ 

مل ۵2 حود عاص لکن ےکی غخوط سے نک میں رم ش ع کر( سبیوتگ افاؤنٹ ہو یا 
کرنٹ اکاونٹ) جائز نہیں ہے۔ 


مل ۲۸۵۸ : اکر سرکاری بینک سے کھ مل لیا جائے قز اس میں تر فکرا چائز ے۔ 


مل ۹  ]‏ ہرکاری یک سے سود پر قرضس لونا بھی عرام سے خواہکوئی مل رین رک کر یا 
.دن رکے بفیرلا جائے جیمہ قر لوالا جانا ہوک دہ چاہے یا نہ چاہے' بک اس سے اضائی رت 
دعب کرے گا اور جس وت بک اس سے اضا رگم کم ہکرے ق3 سے اضال رت لاک و 
سا 
مستلہ ۲۸۷ ٠‏ مرکاری بیک میں سود عاصل کر کی غرضش سے روپیہ رگن جات می' ہل اکر 
پیک کا مالک نی رسلم یا واصھی مخ ہو یا فی رسلم عومست ہو اق روپ ےکی استنفاذ کی فرشل سح ےکوئی 
روہ دکھا جا کوٹ حر ٹیل خی لم عکومت سے مزد ہرود حکوصت سج کہ جو دن اسلام کہ اظام 
مل ارد رے۔ ایس کے سے اس بیک کا عم بھی ظاہر ہو جانا سے جس کا رای حکوصت اور خوام 
مین مضرک ہو۔ فو اگ چردو مالک علومت اور ا کا شرکم تکنندو مسلمان شہ بہوں تو مال کے است اذ 
کوئی حم نیں اور اکر دوٹیں مسلمان ہوں اکر پیک سو دکھا] ہو تو عاصل شدہ ماع اکم شرع یا 
ای کے دکیل کی اجازت ہے جائز ہو جاھیں گے :اور سی عم ہے کہ دوڈیں یں ایک مساران اور ووعرا 
کافریابٹی ہو۔ یہ تھا عم اسلائی ٹیگوں کا لن غی رمسلم لوگوں کے بینک سے قرش لیے کا قم کی دی 
اود اکم شر کی اجازت کے بفیرھی مل لیا جاسکنا ہے نام ابی پیک میں رویہ رک کا عم ددی ے 
جھ اسلائی بیگ کا ے۔ 





ترمیوالدسائتے )ہہ ا 


ا می (لیٹ رآ ف کریڑٹ) 


لہ ۴۸۹۱ ؟ برق اود در آھد کے لیے بییک سے ال سی 1,76 ) حاص لکرنا ور سیک کا یشن 
بے زدمباولہ مس کرنا نچ ہے مور میشن (:< 0810 ذ ۸< ہ0) لین بی بظابر جائز ہے (کوگی اس تم کا 
میش فی اقیار سے یا پر ارتتہ۔ کیوکہ اج ایک خاص کام کے لیے ینک کو کرات پر تا ۔پس) 
کھلاۓ گا یا بعالہ (ششیکوگی کام نام دسیے بر لہ مال دی کا وعدوکرنک) اورپ کی عون ہج ےکلہ ا سے 
رید وفروخت میں شا رکیا جا کوگہ بیک دوصرے مک ک یک ری ( ۵۸۱۰۷ ۸۶۴)) سے مال کی قبت 
او اکر ہے اس لئ ہو کا ہے کہ بینک د رآ کنندہ کے ذے دوسرے لک کی رض ١‏ اڑی بت 
فروضت گار ےکہ اس میں سے اس کا گیشن بھی ڈنل آۓ اور چوک دو ناف چیزوں کا سودا ہوا یچ ا 
کین معللہ کھج ہے اس تن میں ایک صورت یہ بھی ہو مت ہہ ےکہ برکمد اود د رآ ھکرنے وا کی بک 
کے وس سے معلوبات ماص لکرمں اور اس کے بعدایلی کی یاد بر یک مال کی فرادی اور آیت کی 
ازائگی کان مک را رہے۔ اس صورت میں یک کا خعل بھی جاتز ے۔ 


متلہ ۲۸۷۳ ۰ مر بتک الیل سی اص لکرنے دائے سے بھ لیے بغیر اس کے سک پر درآید 
شدہ مال کی تببت نے اور ای کے زے قرض ار نہ ککرے اور اس شرط یر د رآ کنتدہ ہت بیکتھ 
ناندہ عاصن یکر ےکلہ ایک معموص یرت تک اس نے اکن شبت کا مطالہ خی ںکمرے کت بظرے 
معالہ جائز ہے لیو گا د رآ دکاندہ بر اس بنا یر ڈے داری عاکد ہوگی ہ ےک ای نے جنگ ے گن ارا 

کرنے کو کھا تھا مجان اکر اس نے یک سے قرض لیا ہو اور بینک قرض پر اس سے سود لے تو ای 
صورتہ میں آلر پک ال می ما یکرنے والنے کو قرض د ےکر فائدہ لیے کی شر مکرے ود اس کی 
طرف سے وکیل می نکر ددآع قام انحیام درے فو ذائدہ کیا جائز میں ہے ای طرح ان ناجروں کا جھی بی 
تم ہے بھ یکم نیا یں۔ 


تل2 ۲۸۷۳ ۰ سمل کی اطت گر بیک درآمد کنندہ کی زے دای پر مال کہے اسور جج 
(٥۵ج07ا8)‏ اور اڑا )050۷۵1٥(‏ دی 26 جارنے ا کام انجام رے خلا اجروں میں ممالمہ لیے 
ہو عا ود یک مال ی کی بت ارا اکرے اور مال کٹ یر خریدا رکو کانمزات پچچادے اور اگر خریزار 











توضیحالمسائل )۱2ہ ا 


ال وصو لکرتنے میں و بکرے فو ا کی خخاطربال اسٹور میں ر ہے اور ہہ کام خریدار سے اجرت نےکر 
با فروضت کرنے وا ل ےکی ذمہ داری ب رکرے شا دو ناجروں کا آٹیں میں معلللہ ہونے سے پ سے یی کو 
مل بی ولا لٹ (اہزت وخ کے اور یلت ہہ حسٹ جو ںکو وکھائۓ اور اکر انیں ال پنر ہو لت 
معاللہ ہو جائے اور بینک اپئی مدمات کے عوض مال وانے سے اجرت لے تو وونوں صورقوں میں پیک کا 
یک مکرن انز ہے اور ا کی اجرت لی بھی جائز ہے بش کہ عقد کے من می اس بات پ انا ہ وگیا 
ہو یا عام روا عکی ہنا بر اجرمت کل جاتی ہو ما مل یچ وانے با خریدار کے نے پہ یک سیکا معکرے الین 
اکر یہ شرائا ری نہ ہوں نو بی ککو اجرت لین کاحی میں ہے لیض اوقات خریدار بل وصول تمس 
کر اور جنگ اسے اطلاع وینے کے بعد وقی مال دوسرے کے پائقھ فروض تکر ویتا سے اور فروطت شدہ 
ما ليکی قجت سے ابنا جن نے لیا ہے کہ اس صورت میں جینک مال وائے کا وکیل شار ہوا ہج اور 
پامهوم دونویں فریقی (خریرار اور مال جچے وال) رضامند بھی ہوتے ہیں لنذا لی رید و فروشت چائز اور 


گے 
بن کک یکفالت 


اگ رکوئی نس کی سرکاری با خی سرکادری ارارے کی خاط رکوئی میا مکرنے کا حیکہ لے اور کلم 
سب شرائا برا نہ ہونے پر ایک مین رتم اطور پرجانہ رینے کا وعدہککرے اور بینک اس جرجانے گی 
اوائُ کی ات دے فو ہہ بین کک یکفلمتکھلائ ےگی۔ 
۱ں بے کفالت اس وت ػچچ سے جب بیک اس بت کا انلمار لفلوں میں یا کسی انل کے 
ذرىیے (جو اس با ت کو ظاہ رکر ہو)ککرے اور مالک اس با ت کو قام لے شدہ شرائد کے 
ساتتھ قو لکرے اور اس سے کوگی فرق نمی کہ بیگک اس با تکی ذمہ داری کہ 
اس نے ن سک یکغال تکی ہے وہ انا فرض اداکرپگا یا سے شندہ شرط پور یکرے گا 
×.. کل مکی ذے داری اٹھانے والے پر واعب ‏ ےکہ کلم بورا نہ کرن ےکی صورت مس سے 
دہ شڈ بر ع لکرے بشرطکہ اس نے ہے شر کسی عفد کے صن میں قجو لکی ہو۔ آمرچہ ا 
وہ معالہ دی محیکہ ہوکہ جس کے پو دا کرن ےکی کفالت بک دتا چاہتا ہے۔ اور اس کے 











توضیح‌المسائل___ د۵ۃ ا 


رط ری ہف ہتپ نے یی نک سے مطای ہکرنے کا 
جترار ہو گا اور جو تمہ یک 0 0 و کن پر اس کی کخالت دی تی یزاس 
یس بی ککو جو نقان ہو وہ بیدا رکو ادا کرنا ہ وگ 

کا چوکمہ لات کرنا یک محتزم کام ہے لا پیک کے لیے جات سے کہ اس نے جس مخخس 
کی لفاا تکی ہو اس سے اجرت نے اور فقدی اط سے بناہر“ بعالہ“ ار ہوا نور بے بھی 
امو ید امرس تش رسفا رئا 


بح سک قروخغت 


تل9 ۲۸۹۳۴ : ۰ر بجی فک کسی نی کے جحے راروں کے تص فروخت کرنے اور ان کے 
کائزارت حر کو می تی انقیار سے بے معالمہ یا 
اجارہ (چوکہ کپنی کے صے دار بی کک وگویا ىہ کام انجام دسینے کے لی کرائے پر لت ہیں۔) میں اٹل 
ہے یا جعلمہ می اور آلر بابھی قزافن بر پیک اجرت لے نو معاللہ سخ ہے اور ینک اجرت کنا تقرار ہے۔ 
منتلہ9 ۲۸۷۵ .سی طرع تمس اور کاخذات کے جاونے اور فروشت کرنے میں بھی کوئی مخ 
نہیں ے ابع اکر جیے راروں کے معللات میں سور کا شائہ ہو تو پھر تحص اور کاخذزا ت کی خریر و 
وت گچ ' میں ہد 


دای اور نمارگی ڈرائٹ 


امم کر بیک ڈرازد کان مکرے جس کے جج میں وہ نس نس نے یک ا سر را سے 
تی دوسری نچکہ انا پیہ وصو کر لے تو خمان ہب ےکہ بی ہکما جاک ہکہ کہ جن ککو یہ من 
عاصل ہ ےکہ افاؤنٹ والے کا روپعہ وہیں اداکرے بجراں اس نے شع کیا تھا برا دو سری جج 
اواپنگ یقککرنے کے لیے دہ روہہہ گ حکرنے دالے سے کچھ اجرت نے سکتا ہے۔ 

×... ۰ر بیک ابی مخ سک ڈرائٹ دے جس کا جک میں ااؤنٹ نہ ہو چو گل یک نے اس 











توضی‌المسائل 614 


نخس کے لیے وسیلہ متعی نکیا ہے کہ دہ دای یا خارتی لوکیل سے قرضہ حاص لکر گے اور 


ىیہ مد وکرنا اس کے لیے خدمت ہے فلفدااس کے بدنے بییک اجرت نے سنا ہے۔ اس کے 


علاوہ آلر پیک نے ار یکرنی دی ہو تر اسے ہہ جن بھی عاصل ہے کہ نارق کرٹی سے 


ارائگی 71 اصرار کھرے ہنا اس جن سے رحبردار ہونے ‏ تق از کیک بجاۓ دای 


ا کرٹمی قو لک نے کے برلے میں بھی وہ اجرت لے سنا ہے اور اجرت کا چیہ مل اکر مقروض 


(ب) 


سے قام رم وصو بر تا ے۔ 

(الف ) اگ ر کوئی مخس کسی یک کو دی روپ رے گر دوسری جلہ لگ کے اندر یا 
یرون تک میں حوالہ دی کو کے اور اس کلم کے انام دسینے بر بینگ اجرت لے تو یہ کام 
ہائۓ خود کچ سے اور اکر یرون ملک کا حوالہ ہو تو محکن اہ ےکہ اسے خریر و فروشت شا ر گیا 
ذجاۓ بج وکہ شرنا کچ ہے اور اس رت مکی خرید و فروخت کے لیے پیک اجرت کے طور پ 
ىپھہ وصو لکرسکتا ہے۔ ا 

کن سے بیک کچھ رتقم بطور قرش لے کر دوسری کہ ہی قرل اواکرے اور چو کہ 
قرضش کے معالے میں سور اس وقت وجود میں پا سے جب قرض خواہ مقروض سے اطافہ لے 
زا اگر مروض قرض خواہ سے اضافہ لے و وہ سوو خی ںکھلاا۔ اور برکور صورت عال میں 
خود رض دپے وا اجرت اداکر را سے لا اس می یکوئی رع مییں۔ 

لگ ر کوئی نس بیک سے بھھ ررقم قرزش: نےکر ووسری تہ اس کا حوالہ رے اور ینک 
اس والہ پے رضامند ہوکر اقرت نے تب بھی مندرجہ ذل طرییےہ ایا رککرنے کی صورت 
میں اجرت ینا جاتز ے۔ 


۰ خاری کرنی کی صورت میں خزیر و فروشت کی جائے یجنی بییک کسی مس سے نارتی 
: کرٹی اور پھ برقم زیادہ فریدے اہ اسے داش یک نمی رے دے۔ اس صورت میں اجرت 


ینہ می ںکوئی ایل میں ہے۔ 

چوکلہ بیک کو یہ من عاصل ہےکہ جماں روس تقر دا : دہیں بر وائیں بھی نے اڑا 
اکر وو دوسری مہ واہی ںکرنے بر رضامند ہو فو اس کے مفا۔ یه بس اجرت لی میس حالہ 
کے ملق مقدم اززکر صورتیں اور انام بینک کے علادہ عام لوکوں میں بھی جاری ہو کت 











ہیں۔ نی آگ رکوئی شخس کس یکو رقم رے اور اس سے ک کہ کی ددصرے مس کے نام 
ای شرمیں بای دوسرے شمرمیں اس کا توالہ رے نو حوالہ تو کرنے والا نس ایس کقام 
کے ہرئے کچھ اجرت تھی نے نے فوکوئی حر خنمیں ہے۔ اس طرع ا رکوئی مس بس سے 
کی 7 نک او ذاش کی زوہرے شش سر خوالہ کو کرای رت ن۸ وصول کرے آ 
نس مخ پر حوالہ :کیا ہے دو حوالہ رینے والے سے اجرت وصو لککر سنا ہے 
مہ ۲۸۷۹ ۰ زکورہ پلا حم میں اس بات سے کوئی فرق شمیں و ناکہ سی مقروض من پر 
جوالہ دا جا یا ےکہ ملق ہس مقروض نہ ہو لین والہ اواکرئے پر رضا مند ہو جاۓ۔ 


نیک کے انعامات 


تل ٠۰۷۸۹‏ از یکن خو ال عرکاری بر جا وی جا دزن جین مضتف ہز قزیہ تعدازی نگ 
ریت مہو ںکو شوق ولا۔ نے یا دو مرے اشفا سکو رغبت ولانے کے لیے امدام دے فو اس می ںکوئی رح 
نہیں اور جس نس کے نس کا انعام للا ہے وہ عاکم شرع یا اس کے بوکی لکی اجازت سے ول الماکک 
ال کے خنوان سے وہ انعام نے سنا ہے میگن اکر ینک کسی کا زاتی (یرائیبیٹ) ہو نز عاکم شرع یا ای 
جی یکن کی اعازت کے بقیر اندام ینا جاتز سے الع گر نیک میں ضاب رکٹ والوں کے و و 
معالے می ںکوئی رما ذگاکر بوری ہونے پر افعام دیا جائۓ شلا قرض کے سعالے مم ںکوئی شرما نال ی جاۓ 
انعام دینا اور نا جائز ہیں نیت 


ہنڈڑی کے امام 


مستلہے ۲۸۷۸ ۰ ار بیک اپنے ماک کے لیے ہن کی رم دصو لکمرے اور سعینہ برت سے پل 
پنڑی بر رن ا کرنوالنےکو اطلاع دے دے پا خلا اگ ہکوئی شنس چیک کے بدلے فقری وصول نہ کرے 
اور پیک ا کی طرف سے پچی ف کی ش کردا تو بینک کا بی کا مکرنا اور اس کے لیے اجرت لینا جائز 
ہے لین اکر ینک بن کی رتم کا سور بھی وصو لکرے و جائز نیس اور ھی صورت میں فقی لالط سے 
اس موال کو جعلہ شا رکیا جاسلا ے۔ 














توضیح‌المسائل .1.6351 
لہ ۲۸۷۹۹ ۰. اگ رکسی کا پیک می ںکرنٹ افاؤنٹ ہو اور دہ مک یکو ہنی و ےک فلال مردت کے 
بعد یک اس کے ائزٹ سے جیڑ یکی قیت اداکرے ىا م کہ بییک قرش خوا ہکو نق برقم اداکرے تو 
چوکہ ہے حوالہ سے نا یک کے لیے اس حوالہ کے قبو لکرنے پر اجرت لھا بانز نہیں ہے چ کہ بیک 
ہنڑی وی وائے کا مقروضش ہے ہنا یک اکر حوالہ قبول ‏ ہکرے حب بھی حوالہ ناف ہوگا اور گر ینک 
پ حوالہ ن ایا ہو لین بٹی لوالا پیک کو ا کی قیت اواکرنے کو ے ما ہنی دیے والے ک 
پیک می اکاؤئنٹ ہی نہ ہو اور ینک ا سک ہن یکی مت اداکر درے فو دونوں صورقوں میں بینک اہجرت 
نے سکتاے۔ 


نا ری خیرو فوخت 


سنہ ے۲۸ ٠‏ بک ہار یکرضی کے ہازار مع وافرہونے کے لیے اور ا نکی خرید و فروشت پر 
نع نے کے لیے ان کا محل کر رہتا ہے۔ اکر بینک اس تم کے زرمباولہ کاکا مک را ہو اود دوسرکی 
کرٹ یکو تید شدہ قجت سے زیادہ قبت بر فروشتت کر کے نع کھاے تر جائز ہے اور اس سے ےکوی فرقی 
میں پا ماکہ معاللہ قر کی صورت می ہو یا نظ ہو۔ 


کرفنٹ اکائنٹ 


منتلہ ے۸٢ ٠‏ یک سے پر مخ ک اتی رت بے کا می ہے شقنی رم ا کی بیک میس موجوہ 
زی نکبھی ىہ بھی ہوا س ےک یک می ںکسی مخ سک رقم دہ حوب بھی دہ رقم اکا مکنا ہے چنا نہ اکر 
بی کی پر اع رکرتے ہو اس کا بیک میں اکاؤنٹ نہ ہونے کے پاوجور اے رم دے اور ال پ 
مزافع ماص لکرے تو ىہ سور والا رض ہوگا جوکہ حرام اور ناجانز سے نام پیک کے ساب الذکر مسائ لکی 
رو نے اس مال کو جائز شکل بھی دىی جاسکق ہے۔ (دیکھے سنلہ ر۲۸۵۹) 








توضیحالمسائل 75 رک تھے 


ہنڈ یی وج 

متلہ ۳۷ے ۲۸ :سی ہنی ملیت مرف انقباری ہوتی ہے جیےے کرنی فوتٹ قرش اور 
خر رفروشت وظیروں فرق ہے ہے کہ فروضش کی صورت می کی ل کو ایک خائص قیت کے عوض 
دوسر ےکی عگلیت بنا جات ہے اور قرض میں ما لک وکس یکی ڈے داری بر ا سک علیت بتایا جاتا ہے بجی 
قر وار اس جن سکی اس مقدا رکو ادا /رنے کا زے دار ہو جانا ہے یا اکر قمت پر تاولہ ہو فو ا کی 
قبت اواکرنے کا زے وار ہو ہے۔ دوسا فرق ہہ س ےکہ فروش تکرنے میں فروشت شدہ چی اور اس 
کی قبت کے درمیان فرق ایا جانا ضروری سے لگن قرش کی صورت میس ضردری نی لا ار سو 
ایڑے ایک سو وس ایڈڑوں کے عوض فروشت گیئے جامیں فو ان انڈوں جس فرق پیا جانا ضروری سے (شل 
چھونا بڑا ہونا) ورنہ أمرچہ بظاہر خریدوفروشت کی صورت میں عاولہ ہوا سے لن واقا“ بہ قر سے اور 
اس میں سور ہون ےکی وج سے معللہ عرام ہےں تسرا فرق ہہ ہ ےک قرض میں اکر اضان ےکی شرائا 
دکی جاھیں تو سودکی بنا یر معللہ عرام ہو جات ہے۔ اور اس بات س ےکوی فرق نمیں پجاکہ مقر بے 
دب یگ ی چززان اشیاء میں سے ہو ج یکو نہ پککر ما نو لکر با جانا سے یا ان مس سے تہ ہو لکن فررشت 
کرنے میں ایا نہیں سے بکہ گر ان چیزوں کا معالمہ جو چیانہ اور وزن سے فروش تکی جائی ہیں ای جن 
کے برنے اضانے کے سائق کیا جاۓ فو سود سے ورنہ سوو خمیں ہے لا اگ رکوئی منص سو ابڑے ایک 
سو دس ایڈوں کے پرنے قرض دے قو جائز شی ہے لین گر ا نکو ایک دوسرے کے ہرلے نچ تو 
سعللہ گجح ہے۔ چوتھا فرق قش اور خرید و فروخت میں ہہ ہےکہ سود کے سام فروشت کرنا تام 
موا کو باف ل کردا ہے لن سودی قرضش میں صرف اضائی بل کے متعلق معلمہ پل سے اور اصل 
تر درست ہےے۔ 

مہ ے۲۸ ؟ کرنی پوٹ چوکہ وزن اور چیانے سے میں فروخت ہوتے اس لیے قرض رینے 
الا انا رش نتر ی کی صورت میس اصل رقم ےکم مت پر فروش تکرستا ہے شا دس روپلہ کے 
قز کو فو روپ ےکی تی اود و روپے کے قح کو نوے روپ کی نقدی کے عوض بے کنا ہے۔ 


مئلہ ے۲۸ ٠‏ جوں میس رای بنڈڑیوں کی خ دکوئی قجت شی ہوتی بکلہ بنڈڑی ایک ش مکی 








اھ نیڈ گُرڈْ70'ھ س0ا اڈ ---۔. 


توضیحالمسائل ...1 538ا 


د کے طور پر استعل لکی جاتی ہے کیدگہ ہنی دننے بر یل کی قمت گاا ٹم ہوتی اور ہنی اکر غالِ 
ہو جائۓ خب تھی مال تیر وار کا ہے اور وہ قبت او اگرتنے کەڑے دار سے مین آ مہ مال کی قب ری 
فی کی شکل میں دی جا اور وہ ٹوٹ یی والے کے پاش سے ضائع ہوجافے فو ریرار ددبارد قت گرا 
کرئے کا زمہ وار خنیل ہے۔ 


لہ ۵ ے۲۸ ۰ ہیڑی کی وو تمیں ہوتی ہیں۔ 
(١)‏ وہ جو واقئی قرض کا غبوت ہو 
)٢(‏ وہ جو غیرواتنی قرض کا وت ہو۔ 


اع 





پیلی صورت میں قرض ری والا عندا لطاب قرخ شک وکم مقدار نتر پر فروشت کرستا سے 
شا ایک ماہ بعد کے سو (۹٭) ردب ےکو ای (۸۰) روہے نر کے وش فوخ تکرستاے۔ 
اش ابع ہہ جائز خی کہ اس ہند یکو بھ مدت پر فروغت کر دا جائے اور پھر یگ یا دومر! 
شخصس قرضس پر ریے وائے سے مطاہ ہکرے (کیوجلہ قریض پر فروض تکرن جات ہے۔) 

دوسری صورت میں جیلہ بنڈی یر واتی قرض کا شوت ہو تقرضہ وسینے والا ا یکو نقر رکم 
کے عوض ذروشت می ںکر سن اکی وک اس صورت میں ہنڑی دسینے وانے کے ذے لی الوائخ 
کئی قرزضش نہیں ہے بلمہ مہ اس ہوا ل ےکی مامند سے جو غیرمقروض ہنس پر دیانگیا ہو کی نہ 
اس ضورت میں پنڑی رین والا در تقیقت مقروش نہیں جب بک اس نے پو شی بنڑی حاصل 
کرنے وائے کا نام حوالہ بینک کے اوپر دیا ہے کہ دہ ینک سے قرض وصو ل کر کے چک 
اس ٹے خود بنڑی پر دحل سینے ہیں ابنرا وقت آنے بویا بینک اپتی رم حوالہ کے طور پر 
یں سے بنڑی ینہ دالے کی طرف سے وصو ل کر لے مگ اکرچہ بنڈڑی وین والا اس کاپ 


یس قروض خمیں ہے۔ اب گر پیک اس ش مکی جنذ کی قیت وصول کرنے بے احرت لے 


نے نو جائز ٹیں ہے کیوللہ ہے سور ولا قرضس ہو گا لین اس سور سے خجات حاص لکرنے کا 
ایک طریقہ يہ ہو سنا کہ ہنڑی کی قوت وصو لک رن ےکو فروش تکرنا شا رکیا جا شلأا 
بنڈری دسینے والا بی لیخ وال کو کیل بنا ےکہ ہن یکم قبت پہ فرش تکرمے او ال 
بات کا اط رکھا جال کہ مباولہ ہونے والی چزوں مس فرق ہو شلا بندی پر بج سکرنی ک کر 
سے قبت میں بھی ود یکرٹی نہ ہو لیکن آکر مباولہ والی چینوں میس فرق شہ ہو تز ریہ طریقہ 





توضیح‌المسائل قد ا 


بھی مفید خھیں سے ین اکر پیک جھ مقار بنڈ کی قیت ےہک رک رما ہے اسے اپکی خدات 
کی اجرت شا رکرے اود ہنڈری دسینے والا بعد مس پنری لن دالے سے ای ںکی پادی قبت 
وصو ل کر لے لو چاتز ہے۔ 


بنا کا کاروپار 


مستلہ ے۲۸ ؟ ینک کے کاربارہکی دو یں ہیں۔ 

....١‏ ایک شم ‏ سود وای ہے جس می براخل ت کر اور شریک ہونا جائز نہیں سے اور اس میں 
کا مکرنے وانے بھی اجرت کے فترار نیس ہوتے۔ 

ںہ ٔ9 899 یم دہ ہے جو سودی یں سے اس میں حصہ لیا اجرت پر کا م کرنا جائز ہے۔ سور 
کے معائے میں اس معالے س ےکوئی فرق نہیں بے ناکہ بییک لان کا ہو ما خی رسلم کا ووئوں 
ٹس فرق صرف یہ ہہ ےکہ مسلم بییک میں سود مول الاک مال تقمور ہو گا نس میں تحرف 
کے لیے عاکم شرع یا اس کے دک لکی اجاز تکی ضردرت ہوگی اود خی رسسلم ینک کے سوو ٠‏ 
میں تصرف کے لیے اجاز تکی ضرورت نیس ہےکیوکہ وہل سے استنقاذ لین روچے ان 
کے پاتھ سے نال ےکی میت سے مال لیا جا سکتا ہے۔ 


بل آف اگیخ یا ول 


مہ بے ۲۸ذ مقروض کو بجی حاصل ہےکہ اپنے قرض وہندہکو اس بیک بر حوالہ دے ٹس 
می اس کا ااونٹ ہو یا ہ کہ مقروض بی ککو تی طور بر ج ےکہ اس کے قرض کا چیہ قش نے 
دا ل کو تق لکیا جائۓ۔ بیک بھی مجاز ہےکہ اس شف ں کو مارح (ہیرون لک ) یا داخل (اندرون تک) 
وا ول ےکروان رکم وو کر کا کے اوغا دیپ وت لہ 
معالہ جو دو حوالوں بر مشقل ہوا ہے۔ ایک مقرزض کا حوالہ جھ پیک کے ہام اور دوصرا پیک کا 
حوالہ کسی مارگ یا داش برای بر بر صورت عالہ سخ ہے اس سللے میں بیک جو اجرت لا ہے اس 








اڈوڈتپتکستشٹڈڈش رہہ 


توضیح‌المسائل : ۲ 1 20" ا 


کے چاتز ہونے کے پارے میں فقضی نقطہ نظرسے بی ہکھا جاسکنا ہےکہ ین فک مہ عق ہکم دہ غارلی با 
واشل براچ بر حوالہ ر نے کی فص داربی اپنے صرنہ لے میا ىہ کام اخیام دی سر وو اجرت لے صلتا سب 
پں اکر حوالہ وین والے نے بی ککو دوسری مہ حوالہ ری کے لیے نہ کما ہو ینہ ہ کنا ہو کہ نگ 
می اس کے موجودہ اکاؤنٹ سے اداکرے قے پھر ینک ہجزت نمیں لے مت اوک مقر ض کو اپ شر 
میں انا قرض اراکرنے ‏ رھ لین جائز ہیں سے الہتہ اکر پیک میں اس کا اکاوٹ نہ ہو اور ینک حرالہ 
قو لکر کے رقم اواکر وے اود اس پر اجرت لے لے کوئی حمع نیس ہے۔ 

مل ۸ے۲۸ ؟ سابق الزکر سائل میں اس بات سے کوئی فرق خی بٹ کہ یگ عوای ہو ہا 
عکومت کا ہو یا مضترل ہو 


انٹورٹس بابیہ 


لہ ۹ے ۲۸ : ار عومت بای بی ہکپنی ار پلیسی ہولڈر کے در یان ىہ لے و جا کہ وہ 
ہراہ یا ہرسل ایک غا رت دنا رہے گا ناکہ اے اگ رکوئی نتصان پنچے فو عکومت با کپنی ایس ك٢‏ 
ترار ککرے تو یہ بی یا امٹ رن سکھلاا ہے۔ نبھی جے۔ زندگی کا ہو نا ہے کبھی مل کا “بھی شک کین کا" 
کبھی ہوائی جماز کا کبھیمشتی وغیرو ک بیمہ کی دوسری اقمام بھی ہیں جن کا دسی عم ہے جھ ا کی برکودہ 
امام کا ہے بنا ان کازک رکرنا ضردری شئیں۔ 

مل ۲۸۸۴۶ ۰ اس مال کے مندرجہ ڈنل اجزاء ہیں۔ 

د۔ ۱-سمی کی چڈڑگل۔ 

اٹہ پالٹی ہولڈ رکا قو لکرنا۔ 

تا دہ یرٹ کا ج ےکیاگیں (یٹنی زندگ دخ ) 

.. - اط جو بای ہونڈد ہرسال نا ہرناہ اداکرا رت گا۔ 


مہ ۲۸۸۳۱ ٠‏ ےہ ضریری ےکہ جس چن کا بی کیانگیا ہو دہ مین ہو اور ہے تھی بیان لیا جانا 
پان ے کہ عحومت با بی کمچتی کس شم کے نتصان کا نرار ککرن ےکی ذمہ داری اٹھائگی۔ ملا خرتی 








ا سس گگسسسصهععحہوؤسأٛوسسسس۰|پوڈژڈسحٰتت 


توضیمالمسائل ۱ )ا چدی] 


ہوک کہ چوری ہو جات“ مرلیض ہو جانا مرجانا“ وغیرہ اذر ىہ بھی معلوم جونا چا ےکہ ق ماک یکیا مقدار 

ہو ایی۔ سا ابتدا اور انتا کے لحاظ سے بی کی حرت بھی نصتین ہولی چہے۔ 

مستلہ ۲۸۸۳ ۰ ہی .کی ققام اقا مکو مشروط بش قرار ریا جا سکنا ہے نشی بای ہونڈر یہ کیٹ یکو 

اس شرط بر اقسا ا کی صوررت میں ایک مین رتم بش (برھیم) کے طور بر اداکرے کہ معالے کے 

تن میں ذکورہ نقصاعات اکر بی آنھیں نے کی ان کا رار کف کر ےگی۔ اس صورت میں کپیئی یہ 
۱ واب ہ ےکہ اس شر بر گ لکرے۔ پپیں می کی تام اقسمام ذرکورہ طریقہ پر شرعاھ“ مجح ہیں اور ای 

طرح ا کو جعالہ بھی قرار وا جامکتا سے جس کے ا مکی نوشع باب بعالہ میں ہو گی ہے۔ 

متلہر ۲۸۸۳ ذ۰ ار علومت ما ہی ہکپنی شرط بر عمل نکرے فو پایسی ہونڈ رکو جن حاصل ہو گا 

کہ موا ےکو ش کر کے اقساط وائیں لے لے۔ 

متلہد ۲۸۸۳ ۰. ار بالیی ہولزر اط پابنری سے ارا نکرے تو ہی کپنی کے لیے واجب نہیں 

کے لہ وہ ا نے کی صورت میں اسے پرچالہ ازاکھرے اور نہ پاشی اولڈر ای اقماط واپیں لے کتا 

متلہ ۲۸۸۵ : عفر بی کی صحت کے لیے کوئی خاص برت ممجرنمیں ہے لہ ہی پپنی اور 

ایی ہولزر جشنی بردت بر تطن ہو جاھیں ررست ہے۔ 

مل ۲۸۸۷ء ت2ا ا ا ا ا 

17 ماس نتصان پشچائز کپنی اس کا تر ار ککر ےکی وکپنی بے لاڈم ہ ےہ اس شرط بر گ لکمرے۔ 


کی 


ان دنوں کگڑی کا معللہ اج اور کاسب لوکویں کے درمیان عام سے اس کے جح ہونے با ضہ 
ہونے کا قاعدہ ہہ ہے اگ ال ککو ہہ ضم ہوکہ تہ کاکرایہ بڑھائۓ یا وقت آنے پر خا یکرائۓ او رکرکیہ 
دا کرای رین پا تمہ ا یکرنے پر مجبور ہو ق اس صورت میں کی لھنا جائز نیں ہے اور الک کی 
احجازت کے اف رکرایہ پر پی ہوئی تمہ بر تر فکرنا عرام ہے۔ اکر مال فکو ىہ عق نہ ب وک ہکرایہ بڑھائے یا 





توضیح‌المسائل : ( 22ص ] 


کرای وا ر کو بنائے تر اس صورت میں اس کے لیے گی ینا عانز ہے چنان آعندہ زکر ہونۓ وانے 
مسائل میس صورت عال وائج ہوگی۔ 

مہ ے۲۸۸ ۰ اگر علومت کے اس قانین سے پل کہ مالک نہ کر ڑھا سنا ہے اور نے کرار 
پہ دی ہوئی تہ کو خل یکرا سکتا ےکی تے مکا نکرلیہ یر وا ہو اور وت 
شر بھی ش کی گئی ہو تو صاحب مکان شرعا کرای یہ بھی بڑھا سکنا ہے اور کان خی بھی کرا مکنا ے 

راب اج نے ری ود و ارز کات ار 
کی ببھ چا ہو تب بھ یکریہ داد شا کسی دو سرے سے دی لیے داد میں اور اک کی ابازت 
کے بفیر اس کا مکان بر تر فکرنا فصب اور عرام ہے۔ 


مہ ۲۸۸۸ء وہ عکابات جو پرکورہ حلومتی قانون کے بعد کرام پر ہے گے ہوں اور ان کا 
سالانہ کرای ایک ہزار روپ ہو لیکن مالک نے کی وجہ سے رو سو روپ کراہ مقر رک کے دس ہزار 
روپ کراۓے دار سے کلڑی کی ہو اور عق کے اساتھھ بی بھی لیے کر ےک پر ما لکرایہ کے عق د کی 
۱ تجرید ا یکرایہ پہ ہوگی خواہ پسلاکرالیہ دار ہو یا ش کو وہ مکان پر دکرے تے گر کرای دار دوسرے شس 
سے اس رح کا معالل ہکرے جس طرحع اتک نے اس کے ماق کیا تھا انح سے دقبردار ہو کر 
نی مان فا لکرنے پہ ددسرے کرای دار سے سابقہ گی کے برا یا اس سن کم یا زیادہ رت گر 
مان ای کے سیر کر سکتا ہے اور ماک بھی لے شدہ شرائط کے مطابق مع نہیں مر سی 


مل ۹ پ ‏ مض اوت عکاات گگڑی لیے بی رکرایہ یہ دپئے جات ہیں او رکریہ وار کہ 

ساتھ عقد کے تن می منددجہ ذیل شرائطا ٹ ےکی جاتی یں۔ 

ا ملک مان' مکان خالی شی ںکرا سکتا او رکرایہ دار مسیان یں رہہ کا جترار ہو گاں 

۴ ملک بجر سل بی بای شرح کے مطل قکرحر کی تجبدید کرے تا۔ اس صورت میں ار 
کوئی ہنس کرلیہ دا ر کو اس کے مجؾق سے رسقہ قبردار ہونے پر کہ روچ دے گر مکان خالی 
کمداۓ اور پھر مالک مکان سے کراہہ پر لے تو کراہے وا ر مان سے دسبردار ہونے کے لیے 

زی لے ما ہے لکن سن وسر ےکو ذینے ور تق کرنے کی خاط زی ہیں لے ے‌ 

کا 








تایرہ راو سن فروعلات 


تاعدہ ارام (عاشیہ ) خلا فقہ کے مزدیک اس اعطلاح کے ہہ معن ہہ نک می فقہ کے ما 


وا لٹ ےکو ا کی اپتی فقہ کے :ابق مسائل پر فص لکرن واینب ہونا بے اور دوسرضی فقنہ کے مان والوں پر 
ىہ عم عحد غمیں ہو سنا قعدہ لزا مکی چند مشالیس ہہ ہیں۔ 


لی منص کے یں ہہ ضرودی ہے کہ عظد ناج ددگواہوں کی سوجودگی میں بڑھا جاے 
جن شیعوں سے یما ا لی کی ضرورت شس بے ھا اگ کرت کی بلاگواہہوں کے عتقکمرے 
اس کا عقد کا ان کے عقیرے کے اط سے باضل بے لھا ایک شیعہ اڑسی خورں کے 
ساٹ عق کر سکماے۔ 

می منص کا انی بیو ی کی موجودکی مم ا کی نپئی با بھانھی کے ساتقہ نا ح ریا ای سات 
کے نزدریک پٹل ہے لان شیعوں کے مزریک ار عورت اجازت دے تر چائز ہے۔ الا گر 
کوئی سی می عورت کے ساتھ ساتھ اس کی عپٹی یا بھاٹی اد یکرے تر وتد باعل سے 
اور شیعہ ای عورت سے شماد یکر سا ہےے۔ 

ال سنت کے یہاں نرددی ےکہ یس اور فالغ کے سا گر دخول ہو1 ہے ت عورت 
طلاق کے بعر عدت رکے لیکن شیجوں کے یں ا کی ضردرت نیس ہے ند اگ کسی سی 
امہ یا خلا .بن کہ کی شوہ رجمی طلاقی دے اور وہ عورت شیعہ ہو جالئے تق وہ اس سنی 
شوہر سے عرت کے ایام کا ففقہ طلب کر عتی ہے۔ ای طرع اک ر کسی سی عورت کا وہر 
شیعہ ہو جا و اس کی عدت کا لحاظ سے بی را کی بن دغیرو سے شادیکر سلتا ے۔ 

اگ رکوئی نی شنس دوواہو ں کی موجودگی کے بخیر اپ بیو یکو طلاق دسے یا ابی بیوی کے 
بن کسی جذ شلا الگی وفیرن پ طلاق رے تر ان کے نہب می لاق سج ہے لیکن قڑہ 
خعظریہ میں دوٹیں صورتوں میں طلاق باطل ہے دا قانوین الام کی رد سے شیعہ ابی سطاہ 
غورت سے عد ت گا مد تگزرنے کے بعد شاو یکر کنا ے۔ 

آلر کی حر عورت کی عات خیش میں یا خیش سے پاک ہونے کی حرت میں (نمہ وہ 





توضیالعسائل )1 یہ ] 


یھم مستری کرچکا بو) اپنی بیو یکو لاق درے و ان کے انقبار سے طلاق کغ ہے الا نین 
اقزا مکی رو سے شیع اس عورت سے عدم تگگزرنے کے بعد شاد یکر کلت ے۔ 

صرف ابوخیفہ کے فریب میں اجباری لاق ضع ہے لندا قانین الزام کی رو سے خی نھد 
کی انباری لاق شدہ عورت سے حیعہ نیا حکر سنا ہے : 

گل سنی ہہ تم کھا لے کہ اکر اس نے فلیں کام انام دیق اس کی وی ما موی 


اس کام کے اخیام وی ےکی صورت میں ا نکی فقہ کے مطابق اس کی جیدبی مطاقہ ہو جاۓ گی 


اور شمیعہ ال سے میا کر سکتا ہے اسی طرح ا نکی یہاں تی طلاق دی جائے نے بھی مم 
ہے اور فقہ ہعطریہ میں خلا وکنایت کے ذرہیے طلاق نہیں ہو عق ہیں جس عورت کو 
تی طور پر طلاق دی گئی ہو حیعہ اس سے عق کر کت ے۔ 

شانق نذبب کے مطاق اکر سی جن کو اس کے اوصاف بجاے جانے پر تخریدا جاے اور 
بعد یں اسے دیکھے پر اس میں جائے ہوئے اویصاف پاے بھی جاتے ہوں جب بھی ”نار 
ریت کے تلیدہ کے تحت سعاللہ ش مکیا جا کنا ہے ہیا عدہ الزام کے مطالق اکر شی 
کی شاف شفس سےکوئی نز ری دہکر دی کے بعد تام اوصاف بھی اس میں پائے تب بھی 
معللہ شخ کر مکنا ہے۔ 

اف رہب کے خطابق ار معالے میں خریدار ما یی والے کو نقصان ہو جاے آز وہ 
موللہ ش کرنے کا نمی رکتا لیکن ای صورت میں فنقہ بنفریہ کے مطبق 'ضیار غ٥‏ 
کے قافو نکی روسے معالٹ کو شقمکیا جا سکتا ہے لونرا گر ایک فرن شاف نہب کا ہو" دو مرا 
تعفری ہو اور شاف یکو معاٹے میں نقصان ہو جاے اور فری معللہ ش مکرنے پ تار نہ ہو 
قاعدہ الزام کے مطلابق بمفر یکو معاللہ ش مکرنے پر یور نمی ںکیا اسنا 

ث لم (شن پچ ہوئی کہ لیک مرت کے بعد خریدار کے سی دکرپ) ک عقد سج ہونے 
مس ابوعطیفہ کے قول کے مطبق ہہ شرط ہ ےک وہ یز مدجود ہو اور فقہ ٹنفریہ میں اس کی 
ضرورت ٹمیں بنا ہعفری گ رکسی شقی سے ذکورہ طرییقہ سے کوئی ہز ٹریرے اور ود نز 


رموعود نہ ہو ق جٹی کو معللہ ش مکرنے پر بیو رکیا جانکتا ہے سی طرع اکر دوفیں ذریق نقی 


ہوں لن ان میں سے ایک بعد میں جعخری ہوگیا ہق وہ مل یکو اس پر بیو رکر مکنا ےک 








توضیح العسائل___ ت کے ےعہ - ۱ 25 


معلظہ گُ مککرے۔ 
ہے گر می اپنے بعد اتک لڑکی اور بھائی چھوڑے اکر پفرض بھائی حیعہ ہو جاۓ چس کے 
مرے کے پور ڈ شیعہ ہوا ہو ق میراث میں کہ لڑکی کا نصف مال ہے باتی ائل سن ت کی پت 
کے مطان قانون نعصب. کی رو سے بھا یکو لے گا مان فقہ پنفریہ میں ار می تک اولاو 
ق کے بھا یکو کچھ نمیں تا چجھ لہس ہت 
پا ہہ ۳۰ پا خحفرو کی ہو یا ای سی کے مرتے کے بعد شیع ہوگیا ہو ت قالون نحص ب کی 
زع دغیوا تق جنگ ارے زین اہ اھ سکم ے ہے (اکرچ آتے مرن کل قاون ئیصیے 
پا لی )اور نعصبب کے دوسرے موارد کا بھی بی تم ے۔ 
×.... ابی حنت کے ملک کے ملق زوجہٴ شوہر کے کل منقول اور یر منقول ترک ے حص 
پالی سے اور فقہ فی میں روج نہ خود زشن سے اور نہ ہی ا کی قیت سے حصہ پاتی 
ہے من کمارت اور درش ت کی قوت سے اسے حصہ دیا جانا سے اڑا گر زوج شیعہ ہو نو سی 


شو پر کے خامم نہ سے میرات شل عق ہے کیوکلہ ان کے یماں مضہ یبای ے۔ 
1 
وسٹ مدرم کے اجکام 


لہ ۲۴پ ےمان مب کی تنقرمع (بوستٹ مار م )کرنا جائ نمیں سے ار اس کی قشع کی 






نو ۰ 


27 4ش ج راو زج را را ران ہے۔ 


جائۓ دہ کے امکام کے مطالقی 
مل ۲۸۹ ٦‏ عبت کاف ری ترجح جائز تج ارز اعت 7 کا کان ہ+ونا ملول ہو وذ ھی سی عم 
ہے خواہ ‏ منلہ اعلائی لک میں بی آئے یا می اعلابی لک میں اس سنہ کے عم می ںکوٹی فرق 


کات 





ھ4 


لہ ۲۸۷۰۲ : گر ٗی صا نکی زعدگی ملمان می تکی تر کرنے پہ موقوف ہو جاۓ اور یر 
ری مھلول الاعلام آرئی کا تقر خکرا بھی نان ہو او رگوئی وو مرا طری یی ال ںی جان کچاے کا 


نہ ہو فو ملمان میی تکی شر کرت جامذ ہے نان اس پر دمت واجب ہوگی- 








یرگن کے اعکام 


لہ ۲۸۷۹۳۴ ٠‏ ملین مت کے کی عفصہ شا کہ وغیر وکو اس رت سے کا کہ اے 
زیدں نس کے ضحم سے مج کر دیاجائے' جانز میں ہے۔ الہتہ اگ کسی مسلما نکی زندگی اس خفمو سے 
کے پر موتوف ہو کاٹنا جائز سے مگ رکلٹے وائے پر دہ داب ہوگاہ آ ‏ کوئی مس عفسو کو ید اکرنے 
کی بنا بر مرام کامرگب ہو نر بنا بر ظاہراس عفدو کا زندو شٹس کے نم سے الھاق جائحد بت اور و کہ وہ 
رہد مس کے شی کا جزو ی گیا ہے اس لیے لفاق - کے بعد اس پر زندہ مم کے اظکام مان ول کے 
یہاں ہہ عوال پیدا ہوا کہ گر مرنے والا الین خفحمو کے کاٹ ےکی وحیس کرت تو کیا صورت ہوگی۔ 
ا لی کی دو صوزیں ہیں بتابر ظاہر ای اکرنا جائز ہے اور کا۔ نہ والے پر د وت ہد گی خر رز مان کی 
وع 
نمتلہ8 ۲۸۹۴ :۰ اگ رکوئی مس راضی ہوکمہ اس کا لوئی حفسو ا کی زندکی میں کاٹ کر دوصرتٹ 
کر 2 یس نا دیا جا اس کے ملق میرپ زل تعیل ید 

اکر پر عضو“ اعضاۓے رکیسہ میس ہو یس آگی؟ ) طھ اور ےر وفیر ( از ہے اور اکر یہ اا٤‏ 
کے سے 
بھی جائنز ہے۔ 
تل2 ۲۸۹۵ ۰ می مری ض کو ابنا خون و ےکر اس کا عوض لیا جس اور یی اع مل کو انا 
ون مفت وینا بھی جائز ہے۔ 








نی کے ل0 ضف کا عوس برا 


مل ۲۸۹۷۹ :ن٣م‏ میت کے اور اس ممیت کے اخضام کل کر نس کا مسللمان ہوا ساوک 
ہو؛ صلمان کے مم میں آپرنشن کے ذریجے لان جانز ہے فور کی عم ننس میوان کے اعضاء کے لیے 
سے مین آگ ری مخ سک وکس جس خیوان کاکوکی خفو کان فکر لگادیا جا نے وو کک کےہ بعد اس کا جزو 
بدن ار ہو گا اور اس جزو کا ہون نماز کے لیے مانع نہیں ۔جہ۔ 













توضیحالمسائل پ۳ ماما ا و 


مصنوگی زرلیہ ویر 


منیلہ ے۲۸۷۹ ئ٠‏ ای می می اشن کے زری کی عورت کے رم میس تنا جات نہیں 
ہے اودسے کم خود اس کا شوہراخیام رے پاکوئی ائٹی انام دے اس سےکوئی فرق نمی بنا ہے۔ ال 
طرع اگ رکوئی یہ را ہو گا تو وہ سادب نطفہ انی شنس کی اولاد ار ہد گا۔ سے بچہ ارت اور سب کے 
ام ایام میں اس کی پلی لاد کی ند ہو گا۔ ارٹ سے دہ پچ می رتا سے جو زنا سے پیا ہو لکن 
بل منلہ اں سے بدا ہے اگرجہ نففہ نعق رکرنے کاہہ گل حرام ہے۔ عورت ای چک مں قرار 
گی اود تقام اعکام نب اس پر اتد ہوں گے۔ اس کے ویک چوں میں اور اس سی می ںکوگی فرقی ند 
ہگ ای طرح اکر عورت ابنے شوہ کی مض یکسی دوسری عورت کے رم میں کسی طرح ( شا ساحقہ 
کے زریہ) پشاے اور وو عورت عالمہ ہو جائے قز دا ہونے والا بچہ اس شس کا ہد گاج کی مہ سی 
ہے۔ میں اور گے پر وہ تام اجکام لاک ہوں کے جو موب میں اور چے بے ہوئے ہیں۔ 

ا سیل ۲۸۹۸ ۰ ا رکسی مرزکی می معندی طور بر مصنوی بپچہ ران میس (ضے بے لی ٹیو ب کت 
ھں) پچہ ید اک ےکی خر سے رکھ دی جائے ق می کم انز ہے اور ہبہ اس کا گا ش کی مھ ہو 
اور ان کے ورمیان وہ تام احام جاری ہوں کے جو ایک پاپ اور ی کے درمیان ہوتے ہیں۔ اں تم 
کے ہے اور ووصرے بچوں میں عرف ہہ فرق ہ ےہ ا کی میں میں ہے لکن مٹ یکو طال طریقہ سس 
عاص لکیاجاۓے۔ 

مل ۲۸۹۹ : شوہ ری می زوجہ کے رم میں معنوی طرییقے سے بنا جاتز میں سے اور ال 
سے پیا ہونے والا پچہ عام اولادگی رح سے ین مر انحنشن لانے والا اجٹی ہو اور اشن عور ت کی 
شر کو رین با چھونے کاسبب ہو زی کام جئز نہیں ہے لہ اییشن شر کاو میں لان رام ہے یھ ۱ 
نے وا شرم گا نہ دس اور نہ ہی بھوئۓ کہ اکر خود شوہ رب یکیوں ش ہ9- 











توضیعالمسائل_ لآ ٹ3 


. 
جو 


لوس تکی عام مڑکوں کے احکام 


بل ۲۹۳۸۰ لووں کے زاکی مکان اور جانداد یرہ منمد مکر کے عکومت جو مڑکیں بناتی سے از 
پر لنا اہر جائز ے کیدگمہ اب وہ یس لف اور ضائع شدہ ال کے عم می ہو ں گی جس ٹوٹ ہوا 

کا برتی دغیرو۔ گر و سن نے 
لوک نضر فکریں بھی جائز ہے اور مرک نے کے بعد ہوکم و می جی ےک کی زین کے باقی رہ میئے 
ہؤں آئر ا نکو حاردت خحص بکر کے بچ ڈالےے فو ا نکی خری و قروخت جائز نہیں ہے۔ ۱ 






0 


تل ۲۹۰۱ :ا رکوئی شارع عام بناتے ہو ۓےکوئی سور بھی زد میس آجائے اور اسے تزڑ دیا جاے 
اور ڑگ بن جانے قز اس پر الام سج جاری یں ہوتے لا جناہ کی ات می وہاں جانا یا ایس کل 
کو خ سکرنا وظیرہ ترام میں ہے اگریہ اقیاط ہہ ہ ےک صجر کے اجکام کا فا ط کیا جائۓ۔ چوک سر 
وتف شی لندا اس کی با ارہ پیوں پہ تفر فکرن اور خرید و قردض تکرن جانز یں ہے گرب کہ عاکم 
شا یا ای کے دب ل کی اجازت عاصل کی جائے اور ہہ چزیں ال کے قریب دای سج بر صرف کی 
' جاہیں۔ کورہ مہ سے ان برارس اور مام پاڑوں کا عم بھی معلوم ہوا ج کسی وت عگ بنائے میں 
خال سی جاہیں۔ 

یہ ۲۹۹۳ ۰ جو مڑکیں مد با مدرسہ یا ضینی کی زین سے نا گنی ہوں ان بر چلنا جائز ے۔ 


متلہ ۲۹۰۳ : مد مکی گنی سجد سے اگ ربکھھ حصہ باتی ر ہدیا ہو اور نما و دنر عبادات کے لیے 
اس سے فدہ انا جا سنا ہے تو اس پر سر کے اطظام اری ہوں گے لین اگ رکوئی نام شخصس اس بائی 
انذہ جی کو اس طرح برل درےکہ اس سے ص ہکا فائدہ نہ اٹھایا جا کہ لا (ا کو دکان یا تجارت خائ 
اگھربناے و اکر اس پر تصرف اور اس سے فائدہ اٹھاا اظکام سر کے خلاف نہ ہو مل کھا نا اور سونا 
ویو بپاشیہ اس شم کا فائدہ اٹھانا جائز ہے چھکمہ ا لیکو مسر ہونے سے خاصب نے روک ہے اس لیے اب 
ول عبارت ٹیس *و عتی لن دوسرے تصرف تکرنے می ںکوئی حر یں ہے۔ فلا ا ںو کاش ت کی 
کی ہا را جائے۔ 














توضییمالمسائل : _1_ 5239 !۔ 
سیل ۲۹۰۴ ٠‏ یں کے برنتان سے اکر مڑک بای جائۓے نز اکر وہ زمی نمس یکی لیت ہو تر 
اس کاعلم دی ہے جو با ن کیا جا کا سے اور اکر وف ہو ق اق ف کا عم ہو گا بشرفیکہ ہیں س ےکر 
اور عیز کر مسلران ینز ںکی بے جرمتی کاسجب نہ ہو ورنہ وہای سےگزرنا جائز نیس ہے۔ اکر قرتان 
کی زین وقف ہو او رک ی کی قگیت نہ ہو اور یں سےگزر بے جرمتی کا بھی بث نہ ہو تو یو کر 
انز ے۔ ران کے اس پائی اندہ ج کا دی عم سے جو زک رک چک ہے۔ 


نماز اور روڑہ کے چری سا ہ 


مل ۲۹۰۸۰۵ : ا رکوتی نس ماو رمضان میں انطار کے بعد بوائی جماز یر مغر کی مت مغ رکرے 
اور واں بیج جماں ائگی مغخرب کا وت نہ ہوا ہو قز بظاہر اس دن واں کے انقبار سے مغرب تفگ 
اسا کفکرنا واجب میں ےک وگلہ اں کا روزہ لے شر پرا ہو چنا ہے جیساکہ آی ت گر ثم 
اتمو الصیامالی اللیں ے اہرے۔ 

سیل ۲۷۹۰۷  :‏ رکویی مس س کسی از اہن شرمیں ہو کر مخ بکی طرف لا جائے اور لی 
تج جاۓ جراں اھی طلوع رنہ ہوا ہو اور اسی طرع اگمر ظمریا مخر کی نماز پ کر سف رکرے ادر 
کسی ریہ حقام حر نے ہیں لی خم ری مغرب کا وت نہ ہوا ہو ق ان تام صورقں میں ددارہ مز ادا 
رن ےکی ضرورت خی اکرچہ بجطور اط “تب ردیارہ جا لے 

مل ے۲۸۹۰ ئۓ اگ رکوتی مس سورج شلنہ کے بعد با سورج خغروب ہونے کے بعد اپے شمرسے 
لہ یہ زار بج پا رین اوا نہ کی ہوں اور ای مقام بر بے جریں وع آفاب نہ ہوا ہو یا سورن نہ 
ژوپا ہو ال صورت میں نماز دوپارہ اواکرنا لام نمی اور بہت ری ےکہ احقیاط پالاۓ- 


سیل ۲۹۰۸ : ار مرائی جماز شش زی ےکی سصت معلوم ہو کے اور بائی شرائط نماز بھی میا ہھ 
یں 3 نماز ھا پان ہے ورنہ اکر وت میں دسعت ہو اور شاو یانہ ہوں 3 ان یں ہے مک نام 
ریت تک ہو اور جماز سے اتزت ےکی فرصت نہ ہو نز اگر تیل کی سعت معلو مکر کے نز فیک دنہ شس 
طف ممان ہو اسی جانب نماز پڑھے اور آگر زی کاعلم نہ ہو کے اور کسی خاص طرف قلہ ہونے ٢‏ 








توضیحالمسائل )ا مدیا 





گمان ہو قز پچھرنس طرح چا نماز پھے اگرچہ اس صورت میں اط لی ہےکہ بچاروں مت خر 
پڑھے مرکورہ حم ال وقت کے مي ے جب روبقبدہ ہوٹ من ہو ورد قبلے کا لاظ ساتط ے۔ 
مستملہ ۲۹۹۹ ؟ اگ رکوئی دی بوائی جماز سے سفرکرے مج سکی حرعت زی نکی رعت کے برا 
ہو اور وو شرق سے مخرب کی سے جس کرت 
تفنٹوں میں پاچ خمازیں اواگھرے۔ 

ٌومفصھمش ات 
یس روزہ واجب ہوتے ک یکوئی یل میں مت نان اکر جما کی مرعت اتی ہ کہ بار گینٹوں میں زین 
ک ےگرد پچکر ا بد ت پرنماز کا وقت آنے پر تین نماز کے واجب ہون کو شی ولیل سے ہاب تکرنا 
مکل ہے بمہ ہنا بر اعاط ہرچو می ںگنٹوں میں پایچ نمازیں اواکی جانیں۔ 

۱ اکر جماز مغرب سے مشر کی طرف پہوا زکر ربا ہو اور ا کی صرعت زی نکی سرعت کے برار 
ہو یا ال ےکم ہو تے ظاہربیہ ےک چو ہیں گنو ل کی برت میں پان نمازیں وادب ہو ںگی لین اگر پر 
کی مرعت رر زین سے زیادہ ہو لا جن کٹ یا اس ےکم حرت میں ایک بار زین ک ےگرد پر لگا۔ 
ہو فو ا ںکی نمازوں کا ع مگزشن یکلہ سے داشمح ہو ما 
مستلہ ۲۹۴ : اگر ساف ان سفرکرنے دالوں مس سے ہو جن پر روزہ واجب ہوا ہے اور وو سی 
روزہ رکوکر ب دای چماز سے سفرکر کے وہاں پیچے جماں ابھی کک لع نہ ہہوئی ہو نز بظاہر اس کے لیے( 
روزہ سے رہنا راب یں ہ ےکی وککہ شب میں روزہ دنا جائز ہیں ہے۔ 
لہ ۲۹۱ ١‏ اکر روزہ داد زوال کے بعد اپے شمر سے سفرکر کے وہل نچ جماں لبھی کک سور 
شہ روا ہو (شکہ اس ہے شمرمیں سورح ڈوب چنکا ہو) فو بنابر ظاہراس کے لیے اسر ف کر کے روڑےٴ 
قا مکرن واجب ہوگاکیوگکہ اس کے لیے جو اپنے شمرسے بعد از زوال کل عم ہے س ےکہ رات تک روز 
۔ ۱ 


مل ۲۹۳ : سوا ات ت جچھ می ےکی ہو 
رف رک سن 7 ا ازاککر سکتا ہو تو بجر ےکر واجب 








ور ور پتابر اط ہر یر کھائویں میں 3 مازسی اواکمرے اور تن وت کے لیے اس قرتی جک د کی 


5 و 
طرف رتوخغ نرے جماں کے ٹپ و روز عادگق ہوں۔ 
4 ہہ ٤‏ 


الین ازائی) کے اف 


ضس اونات ' ٤‏ کی طرف سے ملکرں فروضت گ٤‏ جاۓے یں اور ٦‏ مج و 





جر اندا“. دی جائۓ گا اس کے لی تریراروں ھتان نر گنمازنگی گی ئن کے 
رم زل چا 
سی ۷۵۷۳۴ مر اندی لٹ کوئی اس احال کی بن بر خریر “لہ انام میرے ہم بر ماک گا 
باتک بلٹ نر ینا ترام پالفرض اکر یس شل عرام پر اقعام نل آے ات از ول 
3 کی حلوصت کی طرف سے ہہ ے اگر حکومت فی الا ہو تو ان کافس ڈکالا جا گا اور ض علانہ 
فس میں ے حاب میں ہوٹا زا اس کانٹس خا لے کے بعد سای کے آخھ میں ا :تی مال میں سے 
5 ای ہو نز ای ک کا دوبار ُں ڈیلتا ہہوگا اور اگ رکپنی تلوستی نہ ہو تار اس کا مالک ملمان نہ ہو تو گی 
بی تلم ہے اور اکر عکوصت اسلابی بھی ہو نڑتی بظاہر سبراہ عومت پہ دجوکی رھت ہو یگ ان کی ٠‏ 
حلوبت اسلای ہے انی کسی مسا نکی ہو نے اگ رکمپٹی کا مالک خواہ حکوست بکوگی اور نع ں ؛ر برعال 
یس رای بھی ہو نز ار ینہ انم میں تر فکریا اشول سے خالی میں۔ ار ککرٹ نے والا آآنٹ کا 








ببیہ مفت رے شا تر ہوک سی ری عم میں شرکت ہو اور افعام را لکرنا قد :۔ ہو تدم آر 
وی کی ممپنی کی طرف سے ہو تقر اس صورت میں بھی گزشد ضیل رنظر بھی جالۓ آمر گر 
تریرنے والا مک ٹہ کی قت قر کی خیت سے دے اور اسے ہہ ہوک فرع اندازی کے ہم دی ہوئی 
رآم واپیں لے لے لان اس قش کے دسیے مم سے ہہ شرط ہوک ہی سے ایک گکٹ بھی خریر نے شس 
کے وے سے اکر قرعہ اندازی میں اس کا نام کنل تو اسے افعام دا جائے ‏ مدالمہ ام رت 
دا قرف میں ار ودنا ہے۔ اور اگھر ا یکو لہ راز دا نے شا حرف مارک نظرمیں ٹر گمہ 

ایک ہاقبت اور لیت رار مجھا جا اور کٹ پا بانڑ جار قکرنے والا یہ کے جو جوشنصس بہ مخ بدہیں جے 
تہ اندازی کے بعد جس کا ہم قرھہ میں گلے کا اسے افعام دبا جائے مات اس می کوٹ حرج نہیں ہے 


توضیالمسائل رت : 22 


نزورات 


مل ۲۹۰۴ ٠:‏ جو اوک شی خی کے بفی انی نذودا تکی روم منبریا شی صندوق میں ڈالیں ان 


کے لیے صب ذیل صورقیں ہیں۔ 


نر دسیتے ولا خوو سے اعلان کرے کہ ہے دق می گی یجس عم پر صرف کی جائے یا سی 
خاس کام بر مر ف کی جاۓ۔ 

ریا صندوق جس مخ س کی توب میں ہو دہ رق مکی اوائگی سس پل یا اس کے ہیر اس 
بت کا انار ککرےکمہ یہ دق مکی بھی یک کام پہ خر کی جائے گی یاعی خائص کام یر 
استعال ہوگی ایر نز رکرنے والا شفس اس بہ رضامنری کا اما رکرے پا خاموش رے۔ 

کہ نذا کرنے والا کسی ایک امام یا حخرت عاں' کے لیے شری می کے لیر نزر 
کرے یا ان کے نام کے صندوق میں بفی کی غیت کے رتم ڈالے اور تقر فبکرنے والے کو 
افقیار ر کہ سے چا ہے صر فکرے جا ہکہ اس کا تحرف بعد مج ن ےکرے۔ 

یرک شر یذ کے لقیر چادر ویر معلم پر بڑھاۓ اور بعد میں تحرف کرنے والے کہ 
اجازت بد کہ دہ ایں پ کو گل عزاء وغیرد میں اسقعا لکرے۔ 

مندرجہ بالا خصوروں میں نس جس عمل کازک رکیاکیا ہے دہ جاتز ے۔ 


ضط پولید اور استقاط مل 


مل ۵ ؟ ‏ عورت کے لیے اڑری ماع عل چز رکا استعال جائز سے جو زیادہ نقصان دو شر ہو خرا 
اس کا شوہراس چز کے استعال پر رائضی نہ بھی ہو مان اس کے لیے اسفلط مل جاتز نہیں خوام وہ لالہ 
کی عالت میں بی ہو۔ 





مرحافائ انس ری سب [ 33ع 


و رآعرگروہ 7 اور جوا 


مل ۲۹۷۴۹ : جو ڑا ما جو کسی غیراسلای لک سے و رآ رکیاگمیا ہو یا کسی کافر سے لیاگیا ہو ےٗ 
یہ ملران سے لاگیا ہو ٹس نے وو کسی کافر سے عاص لکیا ہو اور یہ علم نہب کہ یی نی ایی خیدان 
۷ے ضے شرع کے مطلاق ذ کیاکیا ہے ما یں ق وہ ڑا یا جو ٹس ہے اور اس کی تری جن سے 


حی ا و 


مم اڑا خُس ہو جائۓ گا اس بی نماز پڑ رما لئے گی 


انل یااسرٹ 


لہ ے۲۹۳ ٠١‏ جو انل ما ایرٹ گھڑی ما می اور جز سے عاص٥‏ لکی جائے وہ خجس ہے اسی طح 
خوش ووئیات (برلوم) اور پاش ین مال وہ موم بھی خس ہیں من میں اگل ہوے 
اشاط 


مسئلہد ۲۹۸ ؛: جب ا لکی نت اور ارھار ٹیتیں ایک ووسری سے ملف ہوں اور بل خریرتے اور 
جج یقت ہی عم ہوک سے ودا تر ہو را سے یا ادھار اور کحتی قمت پر ہو رپا سے نز ایا سعلمہ یی ہے 
ذواہ قر کی اوائگی مش تکی جائے یا ساط م سکی جائے۔ لین ہہ جائز خی کہ ادحارکی صورت ٹیل 
قبت کا پھ تصہ مال کے عوض کو رھ حصہ پیر کے عوض ہو۔ 


سوےے کے وائت 
مل ۲۹۴۹ ٠‏ مر کے لیے سون ہنا ( شلا اڑیی زیر لٹ“ او ش یکھڈ کی تین با میک کا فریم 


استما لکرنا تو سو سے بنا یو) جائز یں اور مم سے لین واثت 4 سوئے کا خول چڑھانے می ںکوئی 


حرج ٹیس خوا وہ زینت کے لی سی ہو۔ 


صسب-صسےت- سح ٣‏ سب .9-ٌ-- -- 





توضیعالمسائل 





داز می کا میڑُوانا 


: سیل ٭ ۵۲‏ ً راڑ منڈدانا عرلم ہے اور ای ط رع داڈ شی منزوا۔ تی اج ہیں أینا ؟ بی رام سا 
لن اکر واڑی نہ منڈدانے والے کو اس بنا پ ماق کا نشانہ جناا جا اور یھ ایی مخ زات افرال 
بڑ سے ہجو مقلاء کے مزدیک ناقائل برداشت ہو فو ای صور سید میں اس ٢ ٢‏ را ڈشی مٹڈواتا جات سا 


2 شوعرعوانی زوح وا لن ہے 


سلہ ۲ آگر ایک شوہ رظکم* نفرت' بد دیاٰتی ىا اقمادی برعال کی بے پر ای زوج کو نان ران 
نہ دے اور اسے طلاق بھی نہ رے فو عاکم شرع یا اس کہ ہیل ا مان و مفنہ دیے ىا طلاقی دی کی 
٠‏ سے کی ایک عمل کا عم رے سکتا ہے اور اکر وو اس تل مکی تقبیل سے انا دکرے 3 عاکم شرع یا ای کا 
کیل لق کا میضہ جار یکر سک ہے۔ بی عم اس عورت کے پارے میں ہے جو علم' جا جاٹ پا 
مخت مشقت کے خوف سے شوہ ر کے گمرنہ جائۓ اور ای سے مان ر فققہ طلس کر ےب اگر شوہر سے 
ین و نققہ نہ رے فو اکم شرع ما اس کا کیل اسے جن و فققہ وی قا نم دے تا ہے اور اکر وو اس 
مکی تقیل - کرے ت طلاق کاصیغہ جار یکر سکتا ہے 








افتقاس سور: فا تھداۓ ام رشن 


)سن 

علا مگ 

س۳ )ام اظ سن 
۳)علامسید اگ 

۵ مکی ماگل رفری 
)٦‏ دم ٰرفری 
ے )یم صیدر ضا بھ 
۸ہی لج رض 
۹نی سید سز 

*۱ میم ید دا ن مت نفری 
ا۱یم صیدارنین 
۱۴) میم زا حدٹلی 


ا سیا ناع با فرصت 
۴ ئیکم ہیل رفری 
اسان نیل 
)٦‏ یر ماذبرہ 

عا) سد رفریخان 
اد ماس 
۷۹)ىدبک,نا 
۳)سرتجیت یدراى 
۷ یرام ٹم 
۴سد تفر 
۳مد راس نین 


۳ید فا ننیدرفوری 


٥۵‏ ئی دا خلا ق سن 
)٦‏ سید تا رشن 

ےی میم صسیداخ ماس 
۸ یگل 

۹) سد مرخ لطان 
۰٭٣۳)سمطفرضین‏ 
)٣‏ ہہ کونزىی 
۳۳۴) فلا می الد بن 
۳۳۴ سیدنا مر نما 
۴۳ مسیددز ‏ جورزیدگ 
رر 
٦۳)خضتم‏